اسلامی لباس

اسلامی لباس

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

یبنی آدم قد انزلنا علیکم لباساً یواری سوآتکم وریشا
ترجمہ: اے اولاد آدم! ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جو تمہارے ستر کو چھپاتا ہے اور زینت بھی ہے۔
آیت شریفہ میں حضرت حق جل مجدہ نے تمام اولاد آدم کو خطاب فرمایا کہ تمہارا لباس قدرت کی ایک عظیم و بیش نعمت ہے اس کی قدر کرو۔ صرف اہل اسلام کو یعنی دین سماوی اور قانون الہٰی کے ماننے والے کو خاص نہیں کیا بلکہ پوری انسانیت کو شامل فرمایا۔ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کیلئے کہ لباس اور ستر پوشی انسان کی فطری خواہش اور ضرورت ہے۔ مزید آیت کریمہ میں اس طرف بھی اشارہ موجود ہے کہ ہم نے تمہاری صلاح وفلاح کیلئے ایسا لباس اتارا ہے جس سے تم اپنے قابل شرم اعضاء کو چھپا سکو۔ اور ستر پوشی کے علاوہ ایک مزید فائدہ لباس سے اور حاصل ہوتا ہے کہ انسان اپنی ہیئت اور حالت کو مہذب و شائستہ بنانے کیلئے لباس سے زینت و جمال حاصل کر سکتا ہے۔ دوسری آیت میں ارشاد باری تعالی ہے:
یبنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد
ترجمہ: اے آدم کی اولاد! لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت۔
حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئی جو کعبہ کا طواف برہنہ ہو کر کرتے تھے اور اسے پرہیزگاری اور اللہ سے قریب ہونے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اللہ رب العزت نے ان کو بتلایا کہ یہ کوئی نیکی نہیں اور نہ اس کا تقوی سے کوئی تعلق ہے۔ خدا کی دی ہوئی پوشاک جس سے تمہارے بدن کا ستر اور آرائش ہے وہ اس کی عبادت کے وقت دوسرے اوقات سے بڑھ کر قابل استعمال ہے تاکہ بندہ اپنے پروردگار کے دربار میں اس کی نعمتوں کو اثر لے کر حاضر ہو۔
(تفسیر عثمانی الاعراف: 31)
پس دنیا کی ہر مہذب اور باشعور قوم سترپوشی اور لباس کو لازم قرار دیتی ہے اور لباس کے بغیر ستر کھول کر رہنا پسند نہیں کرتی۔ اطراف عالم میں شاید کوئی انسان، آبادی اور بستی ایسی ہو جو اس فطری قانون اور ضابطہ حیاتِ انسانی سے انحراف کرتی ہو۔ البتہ جنگلی اور وحشی قوموں کے بارے میں ضرور سنا ہے جو انسانیت سے عاری ہوتی ہیں اور ان کا بود وباش اور رہن سہن بالکل جانوروں جیسا ہوتا ہے۔ وہ لباس کیا؟ کسی بھی تہذیب عمل اور قانونِ انسانیت سے واقف نہیں ہوتیں۔ لہٰذا ان سے بحث ہی نہیں۔ بات تو باشعور اور خرد مند معاشروں کی چل رہی ہے۔ وہ سب اس فطری خواہش وضرورت کا لحاظ رکھتے ہیں اور ہر مہذب معاشرہ وماحول مردوں کی بانسبت عورتوں کی سترپوشی پر زیادہ توجہ مذکور کرتا ہے۔ لیکن آج تہذیب وتمدن اور ترقی وشائستگی کا مفہوم بدل کر دجَّالی قومیں اور شیطانی ذریت فطرت سے بغاوت کر رہی ہیں۔
رب کائنات کا پسند فرمودہ لباس:
اللہ رب العزت کا کوئی نبی اور رسول کسی معاشرے اور تہذیب سے متاثر نہیں ہوتا۔ بلکہ ہرہر مسئلے اور حکم میں مامور من اللہ ہوتا ہے۔ اسی لئے حضرات انبیاء کرام اپنے ماننے والوں اور پیروکاروں کو فطری ضروریات اور مواقع پر بھی خدائی ہدایات اور قوانین الٰہی کی روشنی میں راستے اور طریقے بتاتے اور سکھاتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سونے، جاگنے، کھانے، پینے اور بول وبراز جیسے معمولی اور چھوٹے امور میں بھی خدائی احکامات سے ہدایت جاری کرتے ہیں اور خود بھی عمل کرتے ہیں۔ اسی لئے آقائے مدنی نے جب اپنے جانثاروں کو یہ باتیں تعلیم فرمائیں تو دشمنانِ خدا نےمذاق اڑایا تھا کہ لو دیکھ لو یہ کیسا خدا کا پیغمبر ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں سکھاتا ہے۔ ان عقل کے اندھوں کو یہ کہاں معلوم تھا کہ دین اور مذہب ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہوتا ہے۔ انسانی زندگی اور حیات کے کسی شعبہ اور گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا جاتا۔ بلکہ ہر مسئلہ کا حل بیان کر دیا جاتا ہے۔ جب نبی اور رسول تمام امور میں مامور من اللہ ہوتا ہے تو لباس اور سترپوشی جیسے اہم مسئلہ میں کیوں نہ خدائی حکم موجود ہو گا۔ ایسا ہونا کہ لباس کے حوالے سے کوئی غیبی اشارہ اور الہام باطنی نبی کے پاس نہ ہو اور وہ اپنی قوم وملت کے معاشرہ اور ماحول سے متاثر ہو کر انہیں کا لباس اپنا لے اور اپنی امت کو بھی اسی کا حکم کرے۔ ایسا ہونا عقل ونقل دونوں اعتبار سے بعید معلوم ہوتا ہے۔ نقلاً تو اس لئے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ان ھذہ من ثیاب الکفار فلا تلبسھا (مسلم شریف اللباس والزینۃ) (یہ کافروں کو لباس ہے اس کو مت پہننا) جو انسان ماحول ومعاشرے سے متاثر ہو کر لباس استعمال کرتا ہے وہ ایسا جملہ کیسے کہہ سکتا ہے؟ جب عام آدمی اور انسان اپنے قول وعمل میں ایسا کھلا تضاد نہیں کرسکتا تو نبی اور رسول سے ایسا معاملہ کیونکر ممکن ہے؟ اسی طرح زخیرہ احادیث میں بکثرت ایسی روایات موجود ہیں جن میں رسول اللہ نے فرمایا کہ: یہ لباس جائز ہے وہ ناجائز ہے، فلاں بہتر ہے اور فلاں غیرمناسب ہے، کہیں تشبہ بالکفار کی ممانعت فرمائی تو کہیں یہود ونصٰاری اور مشرکین کی مخالفت کا حکم فرمایا۔ جو نبی اور رسول ایسے احکامات اور ہدایات بیان فرمائے وہ خود کافر معاشرہ اور مشرکانہ ماحول سے کیسے متاثر ہو سکتا ہے؟
اور عقلاً اس لئے کہ جو نبی اسلام اور پیغمبر برحق معاش اور معاد کے تمام شعبوں میں غیبی اشارات اور باطنی الہامات سے سرفراز کیا جاتا ہو، جو نبی حیات انسانی کے ہرہر گوشہ پر انسان کی ہدایت ورہنمائی، خدائی پیغامات اور آسمانی ہدایت کی روشنی میں کرتا ہو وہ سترپوشی اور لباس کے مسئلہ میں موجودہ معاشرے سے کیسے مرعوب ہو سکتا ہے؟
لہٰذا معلوم ہوا کہ جو سترپوشی کا طریقہ اور جو لباس خالق کائنات کو پسند تھا اور ہے وہی اس کے حبیب نے اختیار فرمایا اور جیسے حبیب رب العالمین قیامت تک کے نبی ہیں ایسے ہی قیامت تک اللہ تعالی کا پسندیدہ لباس بھی وہی ہے جو سنت لباس ہو۔ چناچہ ان لوگوں کی بات کوئی وزن اور حیثیت نہیں رکھتی جو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ کوئی لباس شرعی نہیں بلکہ پیغمبر خدا اگر یورپ و امریکا میں مبعوث ہوتے تو وہاں کے معاشرہ اور تہذیب کے مطابق لباس اختیار فرماتے اور اسی لباس کو شرعی لباس کا درجہ دیتے۔ یہ سب سراسر جہالت وگمراہی پرمبنی باتیں ہیں۔
لباس نبوی:
آنحضرa کا لباس مبارک نہایت سادہ اور معمولی ہوتا تھا۔ فقیرانہ اور درویشانہ زندگی تھی۔ زیادہ تر اور عام طور پر آپ کے لباس میں تہہ بند اور چادر، کرتہ، جبہ اور کمبل ہوتے تھے اور فقر ودرویشی کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مبارک لباس میں پیوند لگے ہوتے تھے۔ رنگت میں آپ کو سبز لباس پسند تھا۔ البتہ نبی رحمت اور ہادی برحق کی پوشاک عموماً سفید ہوتی تھی۔ آنحضرت کے پاس ایک یمنی چادر تھی جس پر سبز اور سرخ دھاریاں تھیں وہ آپ کو بہت پسند تھی۔ لہٰذا تقریب وغیرہ کے موقع پر آپ اس کو استعمال فرماتے تھے۔ وہ برد یمانی کے نام سے مشہور تھی۔
فائدہ: آنحضرت نے خالص سرخ لباس استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
ٹوپی:
نبوی لباس میں جہاں ٹوپی کا تذکرہ ملتا ہے تو ایسی ٹوپی کا ملتا ہے جو سر سے چپٹی ہوئی اور حضرات صحابہ کرام کے حوالے سے بھی اسی وصف کی ٹوپی کا استعمال ثابت ہے۔ صحابہ کرام کی ٹوپیاں سر سے لگی ہوئی ہوتی تھیں۔
عمامہ:
حضور پگڑی اور عمامہ استعمال فرماتے تھے اور دونوں شانوں کے درمیان اس کا شملہ لٹکایا کرتے تھے۔ البتہ کبھی دائیں اور بائیں جانب بھی ڈال لیتے تھے اور کبھی تھوڑی کے نیچے لپیٹ لیا کرتے تھے۔ آنحضرت عمامہ کے نیچے ٹوپی ضرور استعمال فرماتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے کہ: ہم میں اور مشرکین میں یہی فرق وامتیاز ہے کہ ہم پگڑی کے نیچے ٹوپیاں استعمال کرتے ہیں اور وہ نہیں کرتے۔ (ابوداؤد شریف کتاب اللباس) حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا کہ حق تعالی شانہ نے غزوہ بدر اور حنین میں میری امداد کیلئے جو فرشتے اتارے وہ عمامے باندھے ہوئے تھے۔
لنگی:
ہادیِ انسانیت کے تمام کپڑے ٹخنوں سے اوپر ہوتے تھے اور بالخصوص تہہ بند نصف پنڈلی تک ہوتا تھا۔
پائیجامہ:
حدیث پاک میں ہے کہ نبی دوجہاں نے منٰی کے بازار میں پائیجامہ بکتا ہوا دیکھا، دیکھ کر پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اس میں ازار کی بہ نسبت ستر زیادہ ہے۔ آنحضرت سے پائیجامہ خریدنا بھی ثابت ہے البتہ استعمال کرنا ثابت نہیں۔
(سیرت مصطفی ج3ص281وفتاویٰ دارالعلوم ج16ص155)
موزے:
محبوب رب العالمین سے موزے استعمال کرنا بھی ثابت ہے اور آپ موزوں پر مسح فرماتے تھے۔
خرقہ:
لباس نبویa میں خرقہ یعنی کملی کا تذکرہ بھی بکثرت ملتا ہے بلکہ خرقہ تو تمام انبیاء کرام کا لباس رہا ہے۔ روایت ہے کہ:
قال ابن مسعود: کانت الانبیاء یرکبون الحمر ویلبسون الصوف ویحتملون اشاۃ (رواہ الطیالسی)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ: حضرات انبیاء کرام گدھوں کی سواری فرماتے تھے، اون پہنا کرتے تھے اور بکریوں کو دودھ پیتے تھے۔
وعنہ صلی اللہ علیہ وسلم: کان علی موسی یوم کلمہ ربہ کساء صوف وکمۃ صوف وجبۃ صوف وسراویل صوف وکان نعلاہ من حمار میت۔ رواہ ترمذی وقال غریب والحاکم صحہ علی شرط البخاری
(سیرت مصطفیج3، ص283 بحوالہ زرقانی)
اور آنحضرت نے فرمایا: جس روز موسیٰ کو حق تعالی شانہ سے شرف ہمکلامی ہوا اس روز ان کا کمبل اون کا تھا، ان کی ٹوپی، جبہ اور پائیجامہ سب اون کے تھے اور جوتے مردار گدھے کی کھال کے تھے۔
حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صاحب حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے حوالے سے لکھتے ہیں: حق تعالی شانہ نے اپنے حبیب کو یایھاالمزمل سے خطاب کر کے ایک پوری سورت مبارکہ خرقہ پوش درویشوں کیلئے نازل فرمائی جس میں ان کیلئے بہت سے شرائط ولوازم ذکر فرمائے ہیں۔ (ترجمہ شیخ الہند تفسیر سورۃ المزمل)
شیطانی حملہ:
انسانیت کا دشمن اور حضرت آدم اور اولاد آدم کا ابدی مخالف لعین مردود کا سب سے پہلے جو انسان اور مٹی کے پتلے پر حملہ ہوا اور کا اثر اور بُرا انجام ننگا اور برہنہ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوا کہ جنت الفردوس اور جنت بریں میں ابوالبشر اور خلیفۃاللہ فی الارض حضرت آدم اور حضرت حوا بڑے سکون وقار کے ساتھ رہ رہے تھے۔ انسانیت اور بشریت سے ابدی حسد رکھنے والا ملعون اس کو پسند کہاں کر سکتا تھا۔ چناچہ اس نے وساوس اور تصرفات کرکے دونوں کو بہکانا شروع کیا اور زوجین اغواء شیطانی کا شکار ہو گئے اور بھول ہی بھول میں خدا کی نافرمانی سرزد ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں ننگے ہو گئے اور قابل شرم اعضاء کھل گئے جن کو درختوں کے پتوں سے چھپاتے پھرتے تھے۔ کیونکہ ان کے اعضاء کا دوسروں کے سامنے کھولنا یاکھل جانا انتہائی ذلت ورسوائی اور نہایت بےحیائی کی علامت ہے اور مختلف النوع شروفساد کا مقدمہ ہے۔
فائدہ:
بعض خودساختہ دانشوروں اور فلاسفروں کا یہ کہنا کہ ابتداء انسان ننگا پھرا کرتا تھا پھر ارتقائی منازل طے کرنے کے بعد اس نے لباس ایجاد کیا یہ سرتاپا بےاصل اور نادانی وجہالت ہے۔ کیونکہ حضرت آدم اور حضرت حوا کے مذکورہ واقعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ستر پوشی اور لباس انسان کی فطری خواہش اور پیدائشی ضرورت ہے جو روز اول ہی سے انسان کے ساتھ ساتھ ہے۔
دورِ حاضر کی حالت زار:
عصرِ حاضر فتنہ وفساد، اخلاقی پستی وتباہی، اسلامی اور مذہبی اقدار وروایات کی پامالی اور بےراہ روی وغلط کاری کا ہے۔ آج کل جہاں اور بہت سی خرابیاں اور خرافات نسل انسانی کی پستی کا سبب ہے وہیں ستر پوشی اور لباس میں بھی انسانیت، حیوانیت سے ہم آہنگ ہے۔ شیطان اور اس کی ذریت اولاد آدم اور بنات حوا کو برہنہ یا نیم برہنہ کر کے انسانیت کو شرمسار کرنے پر پوری طاقت وقوت صرف کر رہی ہے۔ کبھی تہذیب وشائستگی اور ترقی وخوشحالی کے نام سے بنات حوا کو برہنہ یانیم برہنہ حالت میں گلی، کوچوں، سڑکوں اور چوراہوں میں لے آتے ہیں اور کبھی آزای نسواں کا دلفریب اور خوش نما نعرہ دے کر پارکوں، نائٹ کلبوں، ہوٹلوں، کھیلوں کے میدانوں اور فلمی ڈراموں میں عورتوں اور خاص طور پر نوعمر بچیوں کو ننگا نچاتے ہیں۔ کبھی اس شیطانی مشن کو ترقی کا لبادہ اوڑھا دیا جاتا ہے تو کبھی روشن خیالی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ انسان وہ بھی دین ومذہب کا پاسبان اس طاغوطی چال اور شیطانی جال کے دام فریب میں بڑی آسانی سے پھنس جاتا ہے۔ آج مغربی تہذیب وتمدن، بودوباش اور کاٹ چھانٹ کو نوجوان نسل خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں دوڑ کر اختیار کر رہے ہیں۔ نوجوان لڑکیوں نے ان کی نقل کرتے ہوئے اپنے مستور جسم اور باپردہ بدن کو برملا کھول ڈالا۔ سر سے اوڑھنی اور دوپٹہ بالکل غائب ہو گیا۔ باقی لباس بھی یا تو پورے جسم کو چھپانے والا ہی نہیں ہے، دونوں ہاتھ اوپر تک کھلے ہوئے ہیں، دونوں پائوں رانوں تک کھلے ہیں اور تو یہ حد ہے کہ پیٹ اور پیٹھ بھی کھل گئے ہیں اور یا بہت زیادہ باریک لباس ہے جس سے جسم چھپتا ہی نہیں بلکہ صاف نظر آتا ہے۔ ایسے لباس کا مقصد سترپوشی نہیں محض زینت ہوتی ہے اور اگر لباس میں مذکورہ دونوں کمی نہ ہوں تو تینوں باتوں میں سے کوئی بھی ہو اس کو پہننے والی عورتوں پر اللہ کے نبی نے لعنت فرمائی ہے۔ لہٰذا نبیa کی لعنت اور بددعا سے بچنے کیلئے مذکورہ لباس کو استعمال نہ کریں۔ یہی حال نوجوان لڑکوں کا ہے کہ مغربی اقوام کے ساتھ قدم بہ قدم اور شانہ بہ شانہ چلنے کی دوڑ اور ہوس میں ہمارے نوجوان اپنی تہذیب، اپنا خاندانی تمدن اور اسلامی روایات کو بالائے طاق رکھ کر ایسا لباس زیب تن کرتے ہیں جو جسمانی خدوخال کو چھپانے کے بجائے اور زیادہ نمایاں کرتا ہے۔ حالانکہ دوسری قوموں سے مرعوب ہو کر ان کی تہذیب، ان کا طرز زندگی اپنانا تشبہ میں آتا ہے جس پر احادیث میں سخت ترین وعیدیں آئیں ہیں کہ جو انسان دنیا میں جس قوم کی شباہت اختیار کرے گا وہ کل قیامت میں انہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور اس کا حشر انہیں کے ساتھ ہو گا۔ اللہ تعالی شانہ تمام امت کی حفاظت فرمائے۔ آمین
فریضہ سترپوشی:
مذہب اسلام اور شریعت محمدی نے تمام شیطانی راستے اور دجالی شرور وفتن کے دروازوں کی طرح اس راستے اور دروازہ کو بھی بند کرنے کیلئے ایمان کے بعد سترپوشی کو فرض قرار دیا۔ نماز، روزہ اور تمام ارکان اسلام بعد میں لباس پہلے فرض وواجب ہے۔
لباس کے آداب:
(1)۔ نیا لباس پہنتے وقت اللہ تعالی کی تعریف اور حمد بیان کرے(دعا پڑھے) خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نیا لباس پہنے تو اس کو چاہیے کہ رسول اللہa کے ارشاد کے مطابق یہ دعا پڑھے: اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیْ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ (اللہ تعالی کا شکر واحسان ہے جس نے ایسا لباس عطا فرمایا جس سے میرا بدن بھی چھپ جاتا ہے اور میری زندگی میں زیبائش بھی حاصل ہوتی ہے) (معارف القرآن ج3، ص534، 535)
(2)۔ نیا لباس بنانے کے وقت پرانا لباس فقراء اور مساکین پر صدقہ کر دے کیونکہ نبی کریمa نے ارشاد فرمایا: جو شخص نیا لباس پہننے کے بعد پرانا جوڑا غریب ومساکین کو صدقہ کر دے وہ اپنی موت وحیات کے ہرحال میں اللہ تعالی کی ذمہ داری اور پناہ میں آگیا۔ (ابن کثیر عن مسند احمد بہ حوالہ معارف القرآنج3/535)
(3)۔ ایسا لباس ہرگز استعمال نہ کیا جائے جس سے تکبر اور غرور ٹپکتا ہو کیونکہ کسی بھی انسان کو تکبر اور گھمنڈ زیبا نہیں اور اگر کوئی نادان اور بےوقوف اپنی حماقت کا ثبوت دیتے ہوئے غرور کا ارتکاب کرتا ہے تو حدیث ہے: کل ما شئت والبس ماشئت مااخطاتک اثنتان سرف او مخیلۃ ( صحیح البخاری ج 2، ص860)
ترجمہ: جو چاہو کھاؤ اور جو چاہو پہنو(البتہ)دو چیزیں تمہیں خطا اور گناہ میں مبتلا نہ کر دیں: (1)۔ فضول خرچی(2)۔ تکبر اور گھمنڈ۔
(4)۔ لباس اختیار کرنے میں تنعم اور اسراف سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ۠ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ( بنی اسرائیل: 27)
ترجمہ: فضول خرچی اور اسراف کرنے والے شیطانوں کے چیلے ہیں۔
(5)۔ دشمنان اسلام یہود ونصٰاری اور کفار ومشرکین کے لباس سے اجتناب کلی ہونا چاہیے کیونکہ اس کو اختیار کرنے میں ان کی مشابہت ہو گی جس سے بڑی شد ومد کے ساتھ باز رکھا گیا۔ اللہ کے نبیa نے فرمایا:
من تشبہ بقوم فھو منھم (مسند احمد ابن حنبل ج2، ص50)
جو بندئہ خدا کسی جماعت اور قوم کی شباہت اپنائے گا وہ اسی میں سے ہے یعنی قیامت میں اسی قوم کے ساتھ اٹھے گا۔
(6)۔ تہہ بند یا اس کی جگہ استعمال ہونے والا کوئی بھی کپڑا(پائیجامہ وغیرہ)نصف پنڈلی تک ہو یا کم از کم ٹخنوں سے اوپر ہو کیونکہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانے پر بڑی سخت وعید ہے ارشاد نبوی ہے:
ماسفل من الکعبین من الازار فی النار(بخاری شریف)
ٹخنوں کو جو حصہ ازار کے نیچے رہے گا وہ حصہ جہنم میں جائے گا۔
(7)۔ ریشمی کپڑا مردوں کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے اس سے بچنا چاہیے۔ حدیث نبی ہے: قال رسول اللہ
انما یلبس الحریر فی الدنیا من لاخلاق لہ فی الاخرۃ(بخاری ومسلم)
فرمایا جو شخص دنیا ہی میں ریشم کا کپڑا پہنے گا کل قیامت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔
(8)۔ خالص سرخ وزرد لباس مردوں کیلئے غیرمناسب اور مکروہ ہے۔ فتاوی شامی میں ہے کہ: کرہ لبس المعصفر والمزعفر الاحمر والاصفر للرجال
(فتاوی دارالعلوم، ج16، ص174 بحوالہ الدارالمختار مع ردالمختار)
(9)۔ مرد عورتوں کا لباس اور عورتیں مردوں کا لباس استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے والے نبی کریم کی بدعا کے مستحق ہوں گے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ:
اللہ کے رسولa نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی شباہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ: اے مسلمانو! تم ایسے لوگوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔ (بخاری شریف رقم الحدیث 5547)
(10)۔ ایسا لباس جو بدن اور جسم سے چپکا ہوا ہو اور بہت زیادہ چست ہو ایسے لباس سے مردوں اور عورتوں دونوں کو بچنا چاہیے بالخصوص عورتوں کو۔ کیونکہ حدیث پاک میں ایسے لباس والی عورتوں کو لباس سے عاری اور برہنہ کہا گیا ہے جن کیلئے دوزخ کی وعید ہے۔
نِسَاءَ کَاسِیَاتٍ عَارِیَاتٍ (مسلم شریف رقم2128)
دوزخ میں ایسے ایسےلوگ جائیں گے جن میں وہ عورتیں بھی ہیں جو کپڑا پہننے کے باوجود ننگی ہوں۔
(11)۔ اتنا باریک لباس جس میں جسم کے اعضاء نظر آتے ہوں عورتوں کیلئے ایسا لباس بالکل جائز نہیں اور مردوں کو لنگی یا پائیجامہ ایسا پہننا جائز نہیں۔ البتہ دوسرے کپڑے باریک ہوں تو مضائقہ نہیں کیونکہ مردوں کا ستر صرف تہہ بند یا پائیجامہ سے چھپ جاتا ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم، ج16، ص148)
(12)۔ مرد اور عورت ہمیشہ ایسا لباس وملبوس استعمال کریں جو ان کی جنس کے اعتبار سے خوبصورتی اور زینت کا سبب بنے اور ایسا لباس ہرگز اختیار نہ کریں جس میں بیہودگی اور حماقت ٹپکتی ہو۔ کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے:
یٰبنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد
کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ اس آیت میں لباس کو زینت سے تعبیر فرمایا جس سے ایک مسئلہ یہ بھی نکلتا ہے کہ نماز میں افضل اور اولیٰ یہ ہے کہ صرف ستر پوشی پر کفایت نہ کی جائے بلکہ اپنی وسعت کے مطابق زینت اختیار کی جائے۔ نواسہ رسول حضرت حسن کی عادت تھی کہ نماز کے وقت اپنا سب سے بہتر لباس پہنتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی جمال کو پسند فرماتے ہیں اس لئے میں اپنے رب کیلئے زینت وجمال اختیار کرتا ہوں پر یہ آیت کریمہ تلاوت فرماتے۔
(معارف القرآن ج3، ص537)
اور خود رب کائنات نے لباس کو سترپوشی کا ذریعہ اور سبب بتاتے ہوئے آرائش اور زینت فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِيْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِيْشًا١ؕ (الاعراف :31)
مسائل:

(1)۔ مرد کا ستر جس کو ہرحالت میں چھپانا فرض ہے ناف سے گھٹنوں کے نیچے تک ہے۔ اس حصہ بدن میں سے کوئی عضو حالت نماز میں کھل جائے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے اور عام حالت میں کھل جائے تو گناہ ہو گا۔ (معارف القرآن ج3، ص544)
(2)۔ عورت کا تمام بدن ستر ہے البتہ چہرہ، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم ستر سے مستثنیٰ ہیں۔ یعنی حالت نماز میں یا عام حالت میں ضرورت سے ان کو کھول دیا جائے تو نماز درست ہو گی اور کوئی گناہ بھی نہیں ہو گا لیکن یہ مطلب نہیں کہ چہرہ وغیرہ کھول کر عورت غیرمحرموں کے سامنے بےروک ٹوک نکلے اس کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم، ج16، ص186)
فائدہ:
حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس گھر میں عورت ننگے سر ہو اس گھر میں نیکی اور فرشتے نہیں آتے۔ (معارف القرآن ج3، ص544)
(3)۔ ایسا لباس زیب تن کر کے نماز پڑھنا مکروہ ہے جسے پہن کر انسان اپنے دوستوں اور عوام کے سامنے جانے میں عار اور شرم محسوس کرتا ہو۔ جیسے صرف بنیان پہن کر نماز پڑھنا۔ (معارف القرآن ج3، ص544)
(4)۔ نماز میں پردہ اور سترپوشی کے علاوہ زینت اختیار کرنے کا بھی حکم ہے پس ننگے سر نماز پڑھنا، مونڈھے یا کہنیاں کھول کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ (معارف القرآن ج3، ص544)
(5)۔ کوٹ پتلون پہن کر اگرچہ نماز ہو جاتی ہے مگر تشبہ بالکفار کی وجہ سے ان کا پہننا مکروہ وممنوع ہے۔ (فتاویٰ دارالعلوم، ج16، ص154)
(6)۔ جس علاقہ میں جس لباس کا رواج ہو عورت کو اس کے پہننے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ کوئی بھی لباس ہو یہ ضروری ہے کہ کشف عورت اس میں نہ ہو اور عورتوں کیلئے افضل وہ لباس ہے جس میں ستر(پردہ)زیادہ ہو۔ جیسے کرتا، پاجامہ اور اوڑھنی۔
(فتاویٰ دارالعلوم، ج16، ص158)
(7)۔ سر پر توپی کی جگہ کوئی چھوٹا سا رومال یا کپڑا باندھ کر نماز پڑھنا مکروہ اور بےادبی ہے۔ (معارف القرآن ج3، ص544)
(8)۔ جس لباس میں واجب الستر اعضاء کا حجم اور بناوٹ نظر آتی ہو مرد اور عرت دونوں کیلئے حرام ہے اور اس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے۔ اور مروجہ لباس میں اس قباحت کے علاوہ کفار کے ساتھ مشابہت بھی ہے اس لئے جائز نہیں۔
(احسن الفتاویٰ، ج8، ص82 کتاب الخطر والاباحۃ)
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply