184

اسلام میں نکاح کی اہمیت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠o (الروم:21)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

تخلیقِ خداوندی باعتبارِ جفت
اللہ ربّ العزّت نے کائنات میں ہر چیز کا جوڑا جوڑا بنایا ہے۔ اللہ ربّ العزّت فرماتے ہیں:
سُبْحٰنَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا (یٰسٓ: 36
ترجمہ: ’’پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے پیدا کیے ہیں‘‘۔
چناںچہ انسانوں میں اللہ ربّ العزّت نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے کا ساتھی بنایا ہے۔
حضرت حوّا کی تخلیق کا مقصد
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا فرمایا۔ حضرت آدم جنت کی بہترین نعمتوں میں تنہا تھے۔ جنت میں رہتے اور اس کی نعمتوں سے مستفید ہوتے تھے۔ اللہ کا قرب بھی حاصل تھا، لیکن اس کے باوجود بھی تنہائی کا احساس تھا۔ پھر اللہ ربّ العزّت نے اُن کی تنہائی دور کرنے کے لیے اماں حوّا کو پیدا کیا جس سے اُن کی زندگی میں ایک نئی بہار آگئی اور جنت کے اندر خوش وخرّم رہنے لگے۔
معلوم یہ ہوا کہ انسان کے پاس اگر جنت جیسی نعمت بھی ہو اور خود تنہا ہو تو زندگی ادھوری ہے، اسے ایک ساتھی کی ضرورت ہے۔ جب میاں بیوی ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور ایک دوسرے کی قدر کرتے ہیں تو پھر زندگی کا مزا کچھ اور ہوتا ہے۔ شریعت میں میاں بیوی کا اکھٹے ہوکر ایک دوسرے سے ملنا یہ اللہ کے یہاں عبادت ہے۔ اسلام کی خوبی دیکھیے! حُسن دیکھیے! حالاںکہ یہ انسان کی معاشرتی ضرورت بھی ہے اور جسمانی ضرورت بھی ہے۔ جب وہ اپنی اس معاشرتی وجسمانی ضرورت کو شریعت کے مطابق پورا کرتا ہے تو اس پر اسے عبادت کا ثواب ملتا ہے، اور ایمان کی تکمیل کی بشارت ملتی ہے۔
فطرتِ انسانی کی ضرورت
اسلام دینِ فطرت ہے۔ انسانی زندگی کے جو تقاضے ہیں اور جو ضروریات ہیں، اللہ تعالیٰ نے وہ سب کے سب اس دین کی پیروی میں پنہاں کر دی ہیں۔ اسلام ہی نے انسان کو ایسی زندگی گزارنے کا حکم دیا جس کے تحت وہ اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرسکتا ہے چاہے اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہو، یا حقوق العباد سے۔ اسی لیے اسلام نے مجرّد زندگی یعنی تنہا زندگی گزارنے کو قطعاً پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ حدیث شریف میںآتا ہے:
لَا صَرُوْرَۃَ فِی الْإِسْلَامِِ. (سنن أبي داود، کتاب المناسك، عن ابن عباس)
ترجمہ: اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔
دینِ اسلام چوںکہ معاشرتی زندگی گزارنے پر زور دیتاہے، اسی لیے اس میں ازدواجی زندگی کی ترغیب دی گئی ہے۔
تین صحابۂ کرام کا واقعہ
صحابۂ کرام میں سے تین ایسے صحابی تھے جو بہت خدا خوفی رکھنے والے اور بہت زیادہ عبادت کا جذبہ رکھنے والے تھے۔ ایک دن انہوں نے فیصلہ کیا یا یہ سوچا کہ ہم رسول اللہﷺ کی عبادات کے احوال معلوم کرتے ہیں، پھر ہم بھی ویسے کریں گے۔ چناںچہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ یہ تین حضرات نبی کی کسی زوجہ مطہّرہ کے پاس آئے۔ انہوں نے اماں جان سے نبیﷺ کی عبادات کا پوچھا، احوال معلوم ہوئے تو دل میں اسے کم جانا۔ کہنے لگے کہ وہ تو نبی ہیں ناں! اُن کا مقام ویسے ہی بہت بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلی پچھلی سب ہی خطائیں (ویسے ہیں نہیں، اگر ہوں بھی تو) معاف کر دی ہیں۔ اب ہم ڈٹ کر عبادت کریں گے تا کہ قیامت کے دن سب سے آگے جنت میں ہوں گے۔
ایک نے کہا: میں اب ساری رات نماز پڑھوں گا، آرام ہی نہیں کروں گا۔
دوسرے نے کہا: میں ساری زندگی روزے رکھوں گا، کوئی دن ناغہ نہیں کروں گا۔
تیسرے نے کہا: میں زندگی بھر شادی نہ کروں گا۔
تینوں نے اپنے اپنے فیصلے کرلیے۔ نبی تشریف لائے تو آپ کو بتلایا گیا کہ یہ حضرات اس طرح کہہ رہے ہیں۔ نبیﷺ نے اُن سے فرمایا:
أَمَا وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ، وَأَتْقَاكُمْ لَهٗ ، لٰكِنِّيْ أَصُوْمُ وَأُفْطِرُ، وَأُصَلِّيْ وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَّغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ. (متفق عليه)
ترجمہ: ’’خدا کی قسم! میں تم لوگوں کے مقابلے میں اللہ سے ڈر اور تقویٰ میں بہت آگے ہوں۔ لیکن میں روزہ رکھتا ہوں، اِفطار کرتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں، سوتا ہوں اور عورتوں سے شادی کرتا ہوں، پس جو کوئی بھی میری سنت سے منہ موڑے وہ مجھ میں سے نہیں ہے‘‘۔
حضور نبی کریمﷺ نے دونوں باتیں ارشاد فرمائیں کہ تقویٰ بھی میرے اندر زیادہ ہے اور خوف بھی میرے اندر زیادہ ہے۔ تو اکیلے زندگی گزارنا، معاشرے سے فرارہوکر زندگی گزارنا اسے پسند نہیں کیا گیا۔ اسی طرح ایک اور صحابی کا واقعہ ہے۔
نبی کا عثمان بن مظعون کو منع فرمانا
حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون نے رسول اللہﷺ سے اجازت طلب کی کہ آیا وہ عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرلیں؟ رسول اللہﷺ نے انہیں منع فرما دیا۔ اگر انہیں اجازت مل جاتی تو ہم بھی اسی طرح کرتے۔ (صحیح بخاری: رقم: 4786)
صحابۂ کرام یہ چاہتے تھے کہ بس اپنے آپ کو اللہ کے لیے خالص کرلیں۔ نبی کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے انہیں منع فرما دیا۔
تنگ دستوں کی شادی کروانے کا حکم
لہٰذا قرآن مجید میں نکاح کرنے کا حکم فرمایا ہے:
وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ وَالصّٰلِحِيْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَاِمَآىِٕكُمْ١ؕ اِنْ يَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ يُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌo (النور:32)
ترجمہ: ’’تم میں سے جن (مردوں یا عورتوں) کا اس وقت نکاح نہ ہو، اُن کا بھی نکاح کراؤ، اور تمہارے غلاموں اور باندیوں میں سے جو نکاح کے قابل ہوں، اُن کا بھی۔ اگر وہ تنگ دست ہوں تو اللہ اپنے فضل سے انہیں بے نیاز کر دے گا۔ اور اللہ بہت وُسعت والا ہے، سب کچھ جانتا ہے‘‘۔
ایک سے زائد نکاح کی اجازت
ایک اور جگہ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْا o (النساء: 3)
ترجمہ: ’’دوسری عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں، دو دو سے، تین تین سے، اور چار چار سے۔ ہاں! اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ تم (ان بیویوں) کے درمیان انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو، یا ان کنیزوں پر جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ اِس طریقے میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ تم بے انصافی میں مبتلا نہیں ہوگے‘‘۔
اس مقام پر بہت سارے ساتھی پوچھتے ہیں کہ قرآن نے گنتی دو شروع سےکی ہے، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ انصاف تو ہم ایک کے ساتھ بھی نہیں کر رہے، پھر دو کے ساتھ کیا کریں گے۔ بہرحال! یہ الگ بات ہے، انصاف کرسکو تو اجازت بھی دی ہے۔ قرآن میں چار شادیوں تک کی وضاحت ہے کوئی اس میں مسئلہ والی بات ہی نہیں۔
نکاح کی سنت زندہ کرنا
نبی کا ارشاد ہے:
اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ . (مشکوٰۃ: کتاب النکاح)
ترجمہ: ’’نکاح میری سنت ہے‘‘۔
نکاح کرنا انبیاء کی سنت ہے، نبی کی سنت ہے۔ آگے ایک اور عجیب بات ارشاد فرمائی:
فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ. (مشکوٰۃ: کتاب النکاح)
ترجمہ: ’’جس نے میری سنت سے اِعراض کیا وہ مجھ سے نہیں‘‘۔
جو نکاح میں ٹال مٹول کرتا ہے، بلا کسی شرعی عذر کے دیر کرتا ہے، یا نکاح کرنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا۔ اس کے لیے سخت وعید ارشاد فرمائی کہ یہ میرے طریقے پر نہیں، میری اُمت میں سے نہیں۔
اب بتائیے! نکاح کی اہمیت بتلانے کے لیے اس سے زیادہ مزید کیا کہا جاسکتا ہے؟ کتنی Strong statement ہے۔ اس کے بعد تو بات ہی مکمل ہو جاتی ہے۔
نکاح کرنا آدھا دین ہے
ایک مرتبہ نبیd نے یوں ارشاد فرمایا:
إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدْ كَمُلَ نِصْفُ الدِّيْنِ ، فَلْيَتَّقِ اللّٰهَ فِي النِّصْفِ الْآخَرِ.
(الترغيب والترھیب: 1916)

ترجمہ: ’’جب بندہ نکاح کرتا ہے تحقیق اس کا آدھا دین پورا ہو گیا، باقی آدھے کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرے‘‘۔
اب ایک کنوارا آدمی ہے۔ تجرّد کی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ جتنی مرضی چاہے نمازیں پڑھ لے، نیکیاں کرلے، روزے رکھ لے، اُس بیچارے کا ایمان آدھا ہی رہے گا جب تک کہ شادی نہ کرلے۔ شادی کرے گا تو ایمان مکمل ہوجائے گا۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ اللہ کے حقوق بھی ادا کر رہا ہوگا اور حقوق العباد بھی ادا کر رہا ہوگا۔ نکاح کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے ایمان کو مکمل کریں گے، اور اس کی عبادت کا Rate بھی بڑھا دیں گے۔ اس کی عبادت کی قیمت کچھ اور ہوگی۔
چار مسنون اعمال
ترمذی شریف کی روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیںکہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: چار چیزیں انبیائے کرام کی سنت میں سے ہیں:
اَلْحَیَاءُ، وَالتَّعَطُّرُ، وَالسِّوَاکُ، وَالنِّکَاحُ. (سنن الترمذي: 1080)
(1) الحیاء: تمام انبیاء با حیا تھے۔ سبحان اللہ! اللہ ہمیں بھی حیا عطافرمائے۔ اگر ہمیں حیا مل جائے تو ہمارے اکثر مسئلے تو حل ہوجائیں۔ یہ بے حیائی ہی ہے جو ہمیں جہنم کی طرف لے جا رہی ہے۔
(2) والتعطر: تمام انبیاء خوش بو پسند فرماتے اور عطر لگایا کرتے تھے۔
(3) والسواک: تمام انبیاء مسواک کیا کرتے تھے۔
(4) والنکاح: تمام انبیاء ازدواجی زندگی بسر کیا کرتے تھے۔
بعثتِ انبیائے کرام
دیکھیے! قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً١ؕ(الرعد:38)
ترجمہ: ’’اے میرے محبوب! ہم نے آپ سے پہلے کتنے ہی انبیاء کو بھیجا اور ہم نے ان کے لیے بیویاں بھی بنائیں اور اولادیں بھی بنائیں‘‘۔
کیا معلوم ہوا اس بات سے؟ دیکھیے! تمام انبیاء دین کی دعوت دینے کے لیے مبعوث ہوئے تھے۔ یہ بات تو ہم مانتے ہیں، مگر ساتھ ہی ازدواجی زندگی بھی گزارا کرتے تھے۔ یعنی بیویاں اور اولاد اُن کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنتے تھے، معاون بنا کرتے تھے۔ یہ تو بات ہوگئی شادی کے بارے میں۔ اب کوئی انسان شادی کے قابل ہوچکا، جوان ہوچکا اور وہ شادی نہیں کر رہا اسے حدیث شریف میں سمجھایا گیا ہے۔ نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ اس بات کو سمجھیں۔ ویسے تو آج کل کے سارے نوجوان تیار ہیں الا ما شاء اللہ۔ ان کے والدین کے مسائل ہوتے ہیں کہ پہلے جی فلاں کا ہوجائے، فلاں کا ہوجائے۔ اب چلیں والدین بھی اس بات کو سن لیں۔
مسکین کون شخص ہے؟
حدیث شریف میں آتا ہے حضرت ابو نجیح فرماتے ہیں جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جس لڑکے یا لڑکی کی شادی نہ ہوئی ہو اور وہ جوان العمر ہو، وہ مسکین ہے اور ایسی لڑکی مسکینہ ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اگرچہ مال ودولت بھی ہو تب بھی یہ مسکین ہوں گے؟ فرمایا کہ ہاں! تب بھی یہ مسکین ہوں گے۔ (شعب الایمان: ۴؍۳۸۲)
گویا یہ لوگ قابلِ رحم ہیں کہ عمر کے اس حصے میں پہنچ کر بھی غیر ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔ تنہا زندگی گزار رہے ہیں جبکہ یہ شادی کے قابل ہوچکے ہیں۔ مسکین اس کو کہتے ہیں جس کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو، تو اس عمر میں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
شیطان کے بھائی
ایک دن ایک صحابی حضرت عکّاف ہلالی آقا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی نے پوچھا: تم نے نکاح کیا ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ پوچھا: کوئی شرعی باندی ہے؟ عرض کیا: نہیں۔ پوچھا: کیا آپ کے پاس مال ہے، استطاعت ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! (یہ تمام باتیں معلوم کرکے) نبی نے ارشاد فرمایا:
فَأَنْتَ إِذًامِنْ إِخْوَانِ الشَّیَاطِیْنِ. (إعلاء السنن: باب وجود النكاح إذا اشتدّت …)
ترجمہ: ’’پھر تو تم شیطان کے بھائی ہوئے‘‘۔
یعنی بے نکاح انسان شیطان کے بھائیوں میں سے ہے۔ واقعی جو جوان ہو اور ساتھ آج کل کا میڈیا بھی ہو، انٹرنیٹ، فیس بک پر پہنچ بھی ہو، موبائل فون ،واٹس اَپ بھی اس کے ہاتھ میں ہو، اور جگہ جگہ لگے ہوئے سائن بورڈز گناہوں کی دعوت دیتے ہوں، بازاروں میں پھرنے والی بے پردہ عورتیں گناہ کی دعوت دیتی ہوں، تو شیطان کے لیے یہ جوان بہت ہی آسان ٹارگٹ ہوتا ہے۔ اس جوان کے لیے اپنی پاکدامنی کو بچائے رکھنا بہت مشکل ترین کام ہے۔ شیطان اس کو بہت ہی آسانی سے کسی نہ کسی گناہ میں مبتلا کروا دیتاہے۔ اور اگر کوئی پاکدامن رہنا چاہے، اور کسی کے دل میں خوفِ خدا بھی ہو، ممکن ہے کہ وہ زنا نہ کرے۔ مان لیتے ہیں! لیکن ذہنی خیالات کے اندر جو گناہ ہیں اُن سے وہ بچ نہیں سکتا۔ وہ خیالات کی دنیا میں کہاں کہاں گھومتا پھرتا رہتا ہے اُس سے تو یہ نہیں بچ سکتا۔ اب اس کاحل کیا ہے؟ حل یہی ہے کہ ایسے شخص کی شادی کروائی جائے۔
اور یہ بھی یاد رکھیں کہ جب بچے اور بچیاں جوان ہوجائیں اور والدین اُن کے نکاح میں غیر ضروری تاخیر کریں، اور اس کے بعد وہ اولاد گناہ کرے چاہے پریکٹیکل کرے، چاہے خیالات کی دنیا میں کرے، دونوں صورتوں میں اولاد کو بھی گناہ ہوگا اور ان کے بوڑھے والدین کو بھی گناہ ہوگا۔ اسلام کی تعلیمات ہر طرف سے مکمل ہیں۔ پورا نظام دیا۔ پورا طریقہ بتایا۔ پوری ترغیب بھی دی۔ درجات بھی بتائے۔ اب اگر نہ کیا تو پھر بتایا کہ دیکھو! تم والدین بھی گناہگار ہوگے، تمہاری اولادیں بھی گناہ گارہوں گی۔
نبیﷺ کی حضرت علی کو تین نصیحتیں
محمد بن عمر اپنے والد عمر سے اور وہ اپنے والد حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہٗ سے نقل کرتے ہیں کہ مجھے میرے محبوب حضرت محمدمصطفیٰ اَحمد مجتبیٰ سرکارِ دوعالمﷺ نے ایک موقع پر تین نصیحتیں ارشاد فرمائیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا، جلدی کرنا: (سنن الترمذي: باب ما جاء فی الوقت الأوّل من الفضل)
(۱) نماز ادا کرنے میں جلدی کرنا جب اس کا وقت ہوجائے۔
(۲) جب کوئی آدمی مرجائے تو کفن دفن میں جلدی کرنا۔
(۳) جب بیٹے یا بیٹی کا مناسب رشتہ مل جائے تو نکاح کرنے میں جلدی کرنا۔
اور آج دین سے دوری کا یہ حال ہے کہ بچیاں 18,15,10سال سے گھروں میں جوان بیٹھی ہیں۔ عام طور سے 11,10,9سال کی عمر میں بچیاں جوان ہوجاتی ہیں۔ اب ایسے ماحول میں جو بے حیائی کا ہے، ایک بچی گیارہ سال کی عمر میں بالغ ہوگئی۔ آج اس کی عمر بائیس سال ہے، یا پچیس سال ہے، یا اٹھائیس سال ہے۔ خدا کے بندو! سوچنے کی ضرورت ہے کہ ایسا ماحول جس میں ہر طرف گناہ کی دعوت دی جارہی ہو اور خود آپ نے ان کو انٹرنیٹ اور موبائل دیے ہوئے ہوں تو کیا بنے گا؟ 15,10سال ان کیفیات کو اور اندر کے جسمانی تقاضوں کو کیسے روکا جائے گا۔
گناہوں سے کون بچ سکتا ہے؟
حضرت جی حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ اس ماحول میں یا تو ولیہ بچے گی یا غبیہ بچے گی۔ یا ولی بچے گا یا غبی بچے گا۔ کیا مطلب؟ ولی کہتے ہیں اس کو جس کے دل میں نورِ نسبت ہو، اللہ کا خوف ہو، یہ تو گناہ سے بچے گا۔ یا پھر غبی بچے گا۔ غبی پاگل کو کہتے ہیں۔ عام آدمی کے لیے بچنا بڑا مشکل ہے۔ بہت مشکل ہے۔ والدین اس کا بالکل خیال نہیں کرتے اور اولاد کے گناہ میں شریک ہوتے ہیں۔ کرتے وہ ہیں، لیکن گناہ ان کو بھی پورا ملتاہے۔ جو کچھ مسلمانوں کے گھروں میں ہو رہا ہے سب کو پتا ہے۔ الحمدللہ! نوجوان توبہ کرتے ہیں، اس کے بعد نیکی کی زندگی شروع کرتے ہیں، زندگی تبدیل کرتے ہیں۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے، اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے۔
نوجوان جب اپنے حالات بتاتے ہیں تو وہ حالات ایسے عجیب ہوتے ہیں کہ زبان سے بولے بھی نہیں جاتے۔ ایک سترہ اٹھارہ سال کا نوجوان دوکان پر آیا اور کہنے لگا: مجھ سے ایک ہفتہ نہیں گزرتا، گناہ ہوجاتاہے۔ اُس کی کوئی اکنامک کنڈیشن بھی ایسی نہیں کہ کسی امیر گھرانے کا ہو۔ ابھی میٹرک میں ہے اور کوئی جاب بھی نہیں۔ میں عام طور سے نہیں پوچھتا اور نہ ہی الحمدللہ! مجھے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کی عمر اور حالت نے پوچھنے پر مجبور کر دیا کہ آخر کرتے کیا ہو؟ کہنے لگا: بس گھر میں کزن ہیں، اُن سے۔
آپ اندازہ لگائیں کہ اس کی ابھی داڑھی نہیں ہے اور ہم اس کو بچہ کہتے ہیں کہ بچہ ہی ہے۔ وہ جتنا زمین سے اوپر ہے، اُس سے زیادہ زمین سے نیچے ہے۔ یہ بچہ نہیں ہے۔ شریعت کی نگاہ میں جو بچہ نہیں رہا، آپ کے کہنے سے بچہ کیسے ہوگیا؟ شریعت نے جسے بالغ قرار دیا ہے۔ جس پر فرائض کو انجام دینا ضروری قرار دیا ہے، ہم کیسے اُسے بچہ کہہ رہے ہیں؟ اور آج کل تو چھوٹے 7,5سال کے بچوں کے بھی ایسے ایسے Cases آگئے ہیں کہ بیان نہیں کرسکتا۔ بس جتنی جلدی ممکن ہو، شادی کر دینی چاہیے۔
ذات اور جہیز پر نکاح میں تاخیر
ابھی چند دن پہلے کی بات ہے۔ ایک صاحب کی بچیاں ماشاءاللہ عالمات ہیں اور عمر بھی کافی ہوچکی۔ میں نے ان کو دو تین رشتے بتائے۔ کہنے لگے: آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ دین دار ہیں، اور یہ خوبیاں بھی ہیں۔ گارنٹی بھی دے رہیں ہیں۔ بس جی! ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ہماری ذات کے نہیں ہیں۔
اب بچیوں کو بٹھاکر بوڑھاکر دیں گے۔ رگڑ دیں گے، اگر وہ ذات نہیں ملے گی تو ذات پات کے پیچھے شادی بھی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاں پڑھ لیا ہے کہ ذات اتنی ضروری ہے کہ بچیاں بوڑھی ہوجائیں تب بھی باہر دوسری ذات میں نکاح نہ کریں؟ اور اگر خود یہ آج دنیا سے چلے گئے تو پیچھے بھائیوں نے کس کا خیال رکھنا ہے؟
اس کے علاوہ ایک اور بہت بڑا مسئلہ شادی دیر سے کرنے کا جہیز بھی ہے۔ ہم نے اپنے لیے خود ہی بہت مشکلات کھڑی کرلی ہیں۔ شریعت نے تو ایسی کوئی چیز نہیں کہی۔ ضرورت کے مطابق، اپنی سہولت کے مطابق باپ اپنی بیٹی کو کچھ دے دے توٹھیک ہے، لیکن اس کی تیاری میں اتنی تاخیر کرنا بھی ٹھیک نہیں ہے۔
کیا پہلے بہنوں کی شادی ضروری ہے؟
چند دن پہلے ایک نوجوان دوکان پر آیا۔ 32سال اس کی عمر ہے۔ کہنے لگا: میری شادی نہیں ہوئی، کوئی رشتہ ہو تو بتائیں؟ میں نے کہا کہ بھئی! دین کی نسبت سے تو ہمارے پاس کئی رشتے ہیں۔ آپ آئیے گا، مدرسے میں بچیاں پڑھتی ہیں ان کے والدین کہتے رہتے ہیں۔ جیسا مناسب ہوگا، بات کر لیں گے اِن شاء اللہ۔ اُن کو گزشتہ اتوار بلایا، خیر وہ نہیں آئے۔ دوبارہ کسی اور موقع پر بات ہوئی تو کہنے لگے: میری بہن ہے 29سال کی، جب تک اس کی نہیں ہوگی میری بھی نہیں ہوگی۔
اگر یہ اپنی شادی کرلے تو کیا کسی کی بہن لے کے نہیں آجائے گا؟ یہ کسی کی بہن لے کر آئے گا، اللہ اس کی بہن کے لیے بھی آسانی کر دیں گے۔ تو یہ سوچ کہ جب تک بہنوں کی شادی نہیں ہوگی، بھائیوں کی بھی نہیں ہونی، یعنی بیٹوں کی شادی نہیں ہوگی۔ یہ سوچ بے انتہا غلط ہے۔ جس کی شادی جس وقت ہونے لگے کر دینی چاہیے۔ بلکہ اگر 3بیٹیاں ہیں، اور چھوٹی بیٹی کا رشتہ پہلے آجائے تو اس کا بھی کر دینا چاہیے۔ روکنے کی کیاضرورت ہے؟ کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ کے حکم پر پورا پورا عمل ہو۔
آج کل تو کہتے ہیں کہ مال ہوگا تو کریں گے۔ پیسہ ہوگا تو کریں گے۔ دین کیا چیز ہے؟ اس سے روٹی تھوڑی ملتی ہے نعوذباللہ! اس کا کیا کرنا ہے؟ یہ تو ہمارے لیے فالتو ہے، کوئی قیمت ہی نہیں۔ بے دین ہو، داڑھی بھی نہ ہو، نمازیں بھی نہ پڑھتا ہو۔ مال ہے تو بس سب ٹھیک ہے، پھر کوئی مسئلہ نہیں۔ عجیب حالات ہیں۔ دین کی بنیاد پر آج ہماری زندگی میں فیصلے ختم ہوچکے۔ ہمارے اکابرین کیا کرتے تھے جب گھر میں بچی جوان ہوجاتی، بالغ ہوجاتی تو فوراً رشتہ تلاش کیا کرتے تھے۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا جواب
ایک مرتبہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کسی کے گھر گئے۔ معلوم ہوا کہ اس کے گھر میں بچی جوان ہے اور یہ شادی نہیں کر رہے۔ شاہ جی نے گھر والوں کو سمجھایا کہ اس بچی کی شادی کر دو۔ گھروالوں نے کہا کہ ابھی تو اس کے دودھ پینے کی عمر ہے۔ فرمایا کہ دیکھو! اس کی شادی کردو، ایسا نہ ہو کہ کہیں دودھ پھٹ جائے۔ پھٹے ہوئے دودھ کو تو کتا بھی منہ نہیں لگاتا۔ کیوں پھٹنے کا انتظار کرتے ہو؟
ہمارے اکابرین اس کا اتنا خیال کرتے تھے کہ گھر میں جب بچی جوان ہوجاتی اور جیسے ہی کوئی مناسب رشتہ مل جاتا فوراً شادی کر دیتے تھے۔ اور اگر پتا لگتا کہ فلاں لوگ ہیں جن کی بچی گھر میںجوان ہوچکی اور وہ رشتہ نہیں کر رہے۔ رشتے آتے ہیں لیکن وہ کر نہیں رہے تو اُن کے گھر جانا بند کر دیتے تھے کہ یہ تو اللہ کا حکم توڑنے والا ہے، نبی کی سنت کا چھوڑنے والا ہے۔ اس کے علاوہ اگر پتا لگ جاتا کہ فلاں نے قرض لیا ہوا ہے، ادا کرسکتا ہے لیکن کر نہیں رہا۔ اُس کے یہاں بھی نہیں جاتے تھے کہ اللہ کے احکامات کو توڑ رہا ہے۔ جب ہم شریعت کے مطابق زندگی گزاریں گے تب ہم گناہوں سے بچ سکیں گے۔ جب ہم شریعت کو نظر انداز کر دیں گے تو گناہوں میں پھنسیں گے۔ آج حالت یہ ہے کہ ابھی بڑی بیٹی کے نکاح کا فیصلہ نہیں ہوتا پیچھے 4,3بچیاں اور تیار ہو رہی ہوتی ہیں۔ ان حالات میں نبی کی بات کو سمجھنے کی اور عمل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
لڑکوں میں بنیادی صفات
ہمارے یہاں خاندان میں ایک رشتہ آیا۔ لڑکی کے والد نے لڑکے کے بارے میں پوچھا کہ کیسا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ لڑکے والوں نے بتایا کہ بھئی! قورمے اور کڑاھی گوشت کا تو ہم وعدہ نہیں کرتے، دال روٹی ملتی رہے گی۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ دو باتیں اور پوچھیں۔ ایک تو یہ ہوئی کہ دال روٹی ملتی رہے گی، کافی ہے۔ دوسری بات پوچھی کہ لڑکا بیمار تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، صحت مند ہے اور ٹھیک ہے۔ تیسری بات پوچھی کہ محنت کا عادی ہے یا گھر بیٹھنے کا عادی ہے؟ کہا کہ محنت کا عادی ہے۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ یہی 3باتیں ہمارے لیے کافی ہیں۔ محنت کرنے والا، صحت مند ہے، دال روٹی ملے گی۔ باقی اب بچی کا اپنا نصیب ہے۔ اگر ہم اس معاملے پر آجائیں تو پریشانیوں سے نکل جائیں گے۔
ہم نے آج نکاح کو بہت مشکل بنالیا ہے جس کی وجہ سے زنا آسان ہوگیا۔ یادرکھیں! جس معاشرے میں نکاح مہنگا ہوگا وہاں زنا سستا ہوگا۔ اور جس معاشرے میں نکاح آسان ہوجائے گا، اس معاشرے سے اِن شاءاللہ زنا ختم یا کم ضرور ہوجائے گا۔ یہ جو معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی ہے، اُس میں ایک حیثیت سے والدین کا بھی پورا پورا کردار ہے۔ جو اپنی اولاد کی شادیاں نہیں کرتے، وہ ان کے گناہوں میں برابر کے شریک ہیں۔ دیکھیں! یہ میری بات نہیں ہے، یہ قرآن وحدیث کی بات بتائی جا رہی ہے۔ جو کچھ بے حیائی دوسرے لوگ کر رہے ہیں، اور جو کچھ حالات پیش آرہے ہیں وہ اپنی جگہ، لیکن ایسے والدین جو اولاد کی شادیاں نہیں کر رہے یہ اولاد کے گناہوں میں برابر کے شریک ہیں۔
کافروں کا نکاح سے فرار
یاد رکھیے! آج کا معاشرہ  کفر کا معاشرہ بنا ہوا ہے، اور نکاح سے راہِ فرار کافروں کی عادت بن گئی ہے۔ لہٰذا وہاں جنسی تسکین کے لیے کتنا Proper انتظام ہے۔ Club بنے ہوئے ہیں۔ کیا کچھ وہاں نہیں ہے؟ شریعت نے اس بات کو ناپسند کیا کہ انسان گناہوں والی زندگی گزارے۔ کہا گیا کہ تم نکاح کرو تاکہ تمہیں پاکباز زندگی گزارنا آسان ہو جائے۔ اگر نکاح کا حکم نہ دیا جاتا تو مرد عورتوں کو فقط ایک کھلونا سمجھ لیتے۔ اور ان کی بالکل بھی قیمت نہ ہوتی۔ اور آج ہماری سوچ کیسی اُلٹی ہوگئی ہے۔
مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا ایک ملفوظ پڑھا۔ اُس کا مفہوم یہ ہے کہ ہماری عورت گھر میں اپنے ماں باپ، ساس سُسر، بچوں کا خیال رکھے تو یہ دقیانوسی سوچ والی ہے۔ اور یہی عورت جہازوں میں نامحرم مردوں کا خیال رکھے تو یہ بڑی اَپ ٹو ڈیٹ ہے۔ کام گھر میں کرے تو یہ دقیانوسی ہوگئی، اور وہی کام نامحرموں کے پاس کرے تو بڑی اَپ ٹو ڈیٹ ہوگئی۔ ہوٹل میں ریسیپشن پر بیٹھے، لوگوں کی نظریں بھی برداشت کرے  اور اُن کے نخرے بھی اُٹھائے تب تو وہ اَپ ٹو ڈیٹ ہے، اور اگر شوہر کی بات مان لے تو وہ دقیانوسی ہوگئی۔ آج ہماری سوچ ہی اُلٹی ہوگئی۔ بات کو سمجھنا چاہیے کہ نکاح کے ذریعے ہی عورت کو مقام ملتا ہے۔ آگے بات کرتے ہیں کہ زنا اور نکاح میں کیا فرق ہے؟
نکاح اور گھریلو ذمہ داریاں
زنا فقط ایک تقاضے کو پورا کرلینے کا نام ہے جبکہ نکاح میں عورت کی پوری پوری ذمہ داری لینی پڑتی ہے۔ مہر کی ادائیگی، بعد از وفات عورت کا وراثت میں شامل ہونا، رہایش کی ذمہ داری، زندگی بھر نان نفقہ کی ذمہ داری، اولاد ہوجائے تو ان کی دیکھ بھال کرنا۔ نکاح سے یہ ساری چیزیں وجود میں آتی ہیں اور اس سے ایک حسنِ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ لیکن آج کل کے جو کافر لوگ ہیں وہ ان ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں، اور ہم چوںکہ اُنہی کا میڈیا دیکھ رہے ہیں اسی لیے دن رات اُنہیں کے پیچھے ہیں۔
نوجوانوں سے ایک سوال
ان نوجوانوں سے ایک بات تو پوچھوں۔ میرے بھائیو! کافروں کی زندگی میں، اُن کے طرزِ عمل میں، اُن کے لباس میں، رہن سہن میں، بود وباش میں، آخر آپ کو کونسی ایسی چیز نظرآئی ہے جس کے پیچھے آپ بھاگتے ہیں؟ اور جنابِ رسول اللہﷺ کی زندگی میں کون سی کمی ہے جس کو چھوڑتے ہیں؟ اس بات کا پورا جواب مجھے دے کر کبھی مطمئن کیجیے گا۔ ان کے پیچھے جانے کا ہمارا مقصد کیا ہے؟ یا تو ہماری عقل ٹھیک نہیں ہے، یا پھر نعوذباللہ! دوسری بات کہ جی! اُن کی زندگی پوری ہے اور یہاں خدانخواستہ کوئی کمی ہے۔ کوئی ایک بات تو ماننی پڑے گی۔ تو ہم یہی مانیں گے کہ ہماری عقل کا قصور ہے ورنہ ثابت تو کریں کہ نبی کے چہرے میں، آپ کے مبارک طریقے میں، مبارک لباس میں، مبارک زندگی میں کیا کوئی کمی تھی؟
دو اَہم کتابیں
حضرت جی دامت برکاتہم کی کتابوں سے ہی یہ تمام باتیں اَخذ کی ہیں۔ اس عنوان پر دو کتابیں حضرت جی دامت برکاتہم کی ’’مثالی ازدواجی زندگی‘‘، ’’شادی خانہ آبادی‘‘۔ ان دونوں کتابوں کو لے کر اگر ہم پڑھیں توہماری زندگی میں خوبصورت تبدیلی آجائے۔ اور ازدواجی زندگی میں برکتیں آجائیں۔
یورپ میں عورت کی حیثیت
کفر کے ماحول میں آج عورت کی کیا حیثیت ہے؟ اس سے پہلے اپنے ماحول اور معاشرے میں دیکھیں تو ہماری عورت دوپٹہ اُتار چکی، کپڑے اُتار چکی، ٹخنے ننگے مردوںکے ہونے چاہییں جبکہ ان خواتین کے نصف پنڈلی تک ہوچکے۔ اور آگے 20,10 سالوں میں جتنا ابھی تھوڑا بہت ہے یہ اور کم ہوجائے گا، کیوںکہ جن کے پیچھے ہم چل رہے ہیں وہاں تو یہ بھی نہیں ہے۔ آگے آنے والی نسلیں اور ہوں گی۔ کفار کے ہاں عورت کا مقام کتنا ہے سمجھ لیں۔ بے شک یہ باتیں اس لائق نہیں کہ کی جائیں، لیکن چوںکہ ہم نے اُن لوگوں کا طرز اپنا رکھا ہے جو بے حیا ہیں اس لیے کرنا پڑتی ہیں۔ شاید کسی دل میں یہ باتیں اتر جائیں۔
فرانسیسی انجینئر کا قول
فرانس کا ایک انجینئر تھا۔ وہ کسی فیکٹری میں (Inspection)کے لیے آیا۔ وہاں اسے ایک مہینہ یا دومہینے لگ گئے۔ وہاں جو دوسرے انجینئرز اُس کے ساتھی تھے، مذاق کرنے لگے کہ بھئی! تم ایک مہینے کے لیے یہاں آئے ہو تو تمہاری بیوی کا کیا حال ہوگا؟ تمہارے لیے رکی ہوگی یا نہیں؟ فرانسیسی انجینئر نے جواب دیا: کوئی بات نہیں۔
Women are like buses. If you miss one, just wait and there will be another one along in a few munutes.
’’عورتیں بس کی مانند ہیں۔ اگر ایک بس آپ سے چھوٹ جائے تو تھوڑا انتظار کرلیں، دوسری بس تھوڑے ہی وقت میں پیچھے آرہی ہوتی ہے‘‘۔
جان لیجیے کہ وہاں عورت کا یہ مقام ہے۔ یہ عورت کو آزادی کا نعرہ دینے والے، مرد کے برابر کھڑا کرنے والے، فقط اس کے جسم سے فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں دوسری کوئی بات نہیں ہے۔ اگر عقل ہو تو اس کو ٹھنڈے دماغ سے سوچ لیجیے گا۔
برطانوی انجینئر کا قول
حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ انگلینڈ کا ایک انجینئر ملا۔ بات چیت ہوئی تو اُس نے حضرت سے پوچھا کہ آپ کے کتنے بچے ہیں؟ حضرت نے بتا دیا۔ پھر حضرت نے پوچھا کہ آپ کے کتنے بچے ہیں؟ تو کہا کہ میں نے شادی ہی کوئی نہیں کی۔ حضرت نے کہا: آپ کی عمر تو بڑی لگتی ہے۔ اس نے کہا: ہاں! 52سال میری عمر ہے۔ حضرت نے کہا: پھر شادی کیوں نہیں کی؟ تم انجینئر بھی ہو، شادی کے قابل بھی ہو، پڑھے لکھے بھی ہو، پیسے بھی ہیں، رکھ بھی سکتے ہو، پھر کیا بات ہے؟ کہنے لگا؟
If you can find milk in the Market, there is no need to have a cow in your House.
’’جب تمہیں بازار سے دودھ مل جاتا ہے پھر تمہیں گھر میں گائے پالنے کی کیا ضرورت ہے‘‘؟
یہ بہت بڑا فرق ہے نکاح اور زنا میں۔ زنا فقط وقتی تسکین ہے اور کچھ بھی نہیں۔ اور نکاح پوری زندگی کسی کا ساتھ دینے کا، ساتھ نبھانے کا نام ہے۔ اُس کی ذمہ داریاں اُٹھانے کا نام ہے۔ جس معاشرے میں یہ معاملہ ہو اور طلاق کی شرح 90%٪سے زیادہ ہو اُس معاشرے کے پیچھے چل کے ہمیں سکون کیسے مل جائے گا؟
’’حیا‘‘ اہلِ ایمان کا نور
حضرت امی عائشہ صدیقہk فرماتی ہیں کہ حضورِ پاکﷺ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار تھے۔ (صحیح بخاری: باب الحیاء، رقم ۶۱۱۹)
اب ٹی وی دیکھنے والے، فیس بک پہ بیٹھنے والے جو اِن چیزوں کا غلط استعمال کرتے ہیں،  اُن کی آنکھوں میں حیا نام کی تو کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اب اس بات پہ غور کریں! کنواری بچیوں میں پھر بھی حیا ہوتی ہے۔ 100 سال پہلے کی کنواری بچی میں آج کی بچی سے زیادہ حیا تھی۔ 1400 سال پہلے مدینہ طیبہ کے اُس پاک ماحول کے اندر بچیوں کے اندر بہت زیادہ حیا تھی۔ اور امی عائشہk نے کیا فرمایا کہ اُس زمانے کی کنواری بچی میں جو حیا تھی اُس سے زیادہ نبیd میں حیا تھی۔
نکاح ایک مکمل معاہدہ
مردوں کے لیے سر پر پگڑی رکھنا سنت ، ٹخنے ننگے رکھنا سنت، لباس سنت کے مطابق پہننا سنت، آنکھوں میں حیا کا ہونا بھی تو کوئی سنت ہے۔ یہ کب پوری کریں گے ہم؟ ہماری آنکھوں میں حیا ہونی چاہیے، پھر نبیd کے ساتھ نسبت کامل ہوگی۔ شریعت نے کہا کہ اگر تم زندگی کا ساتھی چاہتے ہو تو تمہیں Long Time Dicision کرنے پڑیں گے۔ تھوڑی دیر کے لیے ساتھی بہت مل جاتے ہیں، اصل یہ ہے کہ ہمیشہ ساتھ چلنے والا کوئی مل جائے۔ اسی لیے شریعت نے حق مہر کو، اور نکاح کے وقت جو شرائط نامہ لکھا جاتا ہے اُس کو اہمیت دی ہے۔ نکاح اصل میں ایک معاہدہ ہے جو میاں بیوی کے درمیان طے پاتا ہے۔ اس معاہدے میں کوئی عورت اپنی طرف سے کوئی شرط رکھنا چاہے تو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہے کہ مجھے الگ مکان کی ضرورت ہے۔ یا ماہانہ اتنے خرچے کی ضرورت ہے، یا میرا مہر اتنا ہوگا۔ اس قسم کی باتوں کا شریعت نے عورت کو حق دیا ہے۔ اور مہر کے بارے میں تو خاص طور سے کہا ہے۔ اب ہم نہ ان چیزوں کو سمجھتے ہیں، نہ معلوم کرتے ہیں، نہ ان کو اہمیت دیتے ہیں اور پھر بعد میں پریشان ہوتے ہیں۔ تو جتنی اجازت دی گئی ہے اس کو اللہ کی رضا کے لیے مناسب درجہ میں استعمال کرنا مناسب ہے۔
حق مہر کی تین سنتیں
اب مہر کے بارے میں تین باتیں ہیں۔ تینوں ہی سنت سے ثابت ہیں:
ایک مہرِ فاطمی ہے۔ یعنی سیدہ فاطمہk کا حق مہر، یا پھر سیدہ عائشہ صدیقہ k کا مہر جو نبی نے ادا کیا۔ اگر اس کو مقرر کرلیا جائے تو یہ بھی سنت ہے۔
دوسرا مہرِ مثل ہے۔ یعنی جس لڑکی کی شادی ہو رہی ہے، اُس کے قریب کی رشتہ دار لڑکیوں کا جو مہر رکھا گیا ہے، وہی مہر اس کا بھی رکھا جا رہا ہے تو یہ مہرِ مثل ہے۔ اس کی بھی شریعت نے اجازت دی ہے۔
تیسرا مجوّزہ مہر ہے۔ جو لڑکی کی دانش مندی، نیکی، تقویٰ، حیا کو دیکھتے ہوئے فریقین کی باہمی رضا مندی سے طے کیا جا رہا ہے تو یہ بھی جائز ہے۔ آج مہر کی اہمیت ہی کوئی نہیں رہی۔
مہر لڑکی کا حق ہے
کئی مرتبہ ایسا ہوا نکاح پڑھاتے وقت نکاح فارم لے کر آئے۔ میں نے پوچھا: بھئی! مہر کتنا ہے؟ کہنے لگے: جی! آپ خود ہی رکھ لیں۔ کئی جگہ میرے ساتھ ایسا ہوچکا ہے۔ سن لیجیے کہ یہ لڑکی والوں کا حق ہے۔ یہ لڑکے والوں کا حق نہیں ہے۔ یہ لڑکی والوں کا حق ہے کہ وہ بتائیں اور پھر لڑکے والے اُسے ادا کریں۔ باہمی رضا مندی سے طے کرنا ہے، اس میں کوئی لڑائی نہیں کرنی۔ یہ طے کرنا نکاح خواں کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ کام آپ نے خود ہی کرنا ہوتے ہیں۔
اسی طرح نکاح کے وقت جو مہر ہوتا ہے مُعـَجـّل اور مُؤجـّل۔ دولفظ بولے جاتے ہیں۔ مُعـجل کا مطلب یہ ہے کہ فورًا، عجلت جلدی سے نکلا ہے، یہ کہ فورًا ادا کردیا جائے۔ اور ایک ہوتا ہے عندالطلب کہ لڑکی کے مانگنے پر ادا کردیا جائے۔ بہر حال! مہر کا معاملہ اچھے طریقے سے نمٹانا چاہیے۔ ہاں! اگر بیوی اپنی مرضی سے مہر کی کل رقم یا کچھ اس میں سے واپس کر دے اپنی مرضی سے تو خاوند کے لیے واپس لینا جائز ہے۔
مہر ادا نہ کرنے والا
اگر خاوند کے دل میں یہ ہے کہ میں نے مہر ادا کرنا ہی نہیں، تو یہ قیامت کے دن مقروض اُٹھے گا اگر مرنے سے پہلے ادا نہ کیا ہو۔ اور ترکہ میں سے پہلے مہر کی رقم منہا کی جائے گی، کیوںکہ یہ اس کے ذمہ قرض تھا۔ جب شوہر کی نیت میں کھوٹ ہوگا تو اس کا معاملہ بڑا خراب ہے۔ بہترین عمل یہ ہے کہ معجل فورًا ادا کردیا جائے، دیر کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ باقی عندالطلب کی بھی گنجایش شریعت نے رکھی ہے، لیکن اس آس پر بیٹھ جانا کہ یہ مانگ نہیں رہی تو میں نے بھی ادا نہیں کرنا، یہ غلط ہے۔ بسا اوقات حیا کی وجہ سے، شرم کی وجہ سے وہ نہیں مانگتی تو مرد کو چاہیے کہ خود ادا کرے۔ بہرحال مہر ادا کرنا بہت بڑا معاملہ ہے، ورنہ قیامت کے دن حقوق العباد کا سوال ہوگا
اب نکاح کیسے کیا جائے؟ نکاح کے بارے میں نبی نے ارشاد فرمایا کہ تم نکاح کی خوب تشہیر کیا کرو۔

(سننابنِ ماجہ: رقم ۲۷۶۷)
اس کا خوب لوگوں کے اندر اعلان کیا کرو تا کہ لوگوں کو پتا لگے کہ آج سے فلاں لڑکا اور لڑکی دونوں میاں بیوی کی زندگی گزاریں گے۔ یعنی چھپ کر نکاح کرنے سے منع کر دیا۔ بعض اوقات یہ جو مال والے لوگ ہوتے ہیں، اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے چھپ چھپ کر بہت سے کام کرلیتے ہیں۔ چند دن پہلے بھی ایک نوجوان آیا FSC میں پڑھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ ہمارے یہاں تو یہ معمولی بات ہے کالج وغیرہ میں۔  لڑکے نے لڑکی کو پسند کیا، دوگواہ بنا کر نکاح کرلیتے ہیں۔ اپنی زندگی گزارتے ہیں، بعد میں چھوڑ بھی دیتے ہیں۔ ماں باپ کو پتا ہی کچھ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ نہ خود دین پہ آنا ہے، نہ اولاد کو دین پہ لانے کی فکر کرنی ہے۔ دل روتا ہے، پریشانی ہوتی ہے کہ اللہ! کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ TV ہم نے گھر سے نہیں نکالنا، Musicہم نے سننا نہیں چھوڑنا، تو بے حیائی ہمارےگھروں میں نہیں آئے گی تو پھر کہاں آئے گی؟ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین۔ اس لیے شریعت میں چھپ کر نکاح کرنے سے منع کیا گیا اور اسے پسند بھی نہیں کیا گیا۔ جب دیکھیں کوئی چھپ کر نکاح کر رہا ہے تو پھر درمیان میں کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہوتی ہے۔
مسجد میں نکاح
نکاح کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسجد میں ہو۔ اگر جمعہ کا دن بھی ہو، نمازِ جمعہ کے بعد یا نمازِ عصر کے بعد تو یہ بہترین وقت ہے۔ جمعہ کے دن عصر کے بعد نکاح پڑھانے کی حضرت جی دامت برکاتہم کی ترتیب ہے۔ اور فرماتے ہیں کہ سنت بھی یہی ہے۔ تو جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد مسجد میں نکاح ہو خیر وبرکت کی نیت سے۔ یہ لازمی نہیں ہے، کسی بھی دن، کسی بھی جگہ نکاح کی مجلس منعقد ہو جائے تو اِن شاء اللہ خیر ہی کا ذریعہ ہے۔
مسجد میں نکاح کرنےمیں خاص بات ایک اور بھی ہے۔ شادی ہال، کلب وغیرہ میں جو شادی ہوگی تو دل اللہ کی یاد سے غافل ہوں گے۔ لوگ آپس میں گپیں مار رہے ہوتے ہیں۔ کوئی سگریٹ پی رہا ہوگا، کوئی تصویریں بنا رہا ہوگا۔ کوئی اِدھر ہوگا کوئی اُدھر ہوگا۔ غرضیکہ ساروں کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہوں گے، کسی کا دل اللہ سے نہیں جڑا ہوگا۔ اس کے بالمقابل مسجد میں کیا معاملہ ہوگا کہ سب لوگ تقریباً باوضو ہوں گے اور سب کا دل اللہ سے جُڑا ہوا ہوگا۔ کوئی تصویر نہیں بنا رہا ہوگا، اور اگر کوئی سگریٹ پینے کا عادی بھی ہوگا تو کم از کم مسجد میں سگریٹ نہیں پیے گا۔ یہ وہ وقت ہے کہ جب دو انسانوں کے درمیان نئی زندگی کی بنیاد پڑ رہی ہوتی ہے۔ اس بنیاد میں ان دونوں کو دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے لوگوں کو زیادہ جمع کیا گیا کہ ایک تو انسان شر سے بچے اور دوسرا ان دونوں دولہا دلہن کو دعائیں ملیں۔ جو مسجد میں ہوگا وہ تو دعاؤں میں شامل ہوگا۔ جب امام یا نکاح پڑھانے والے والا بعد میں دعا کرائے گا، وہ دل سے آمین بھی کہے گا۔
میرج ہال میں نکاح کا مشاہدہ
میرا ایک تجربہ ہے کہ شادی ہالز میں بیان کیا جائے تو کوئی متوجہ نہیں ہوتا، دعا کروائی جائے تو بھی کوئی متوجہ نہیں ہوتا۔ ہر کوئی اپنے اپنے قصوں کہانیوں میں لگا ہوتا ہے۔ اگر مسجد میں نکاح کیا جائے تو وہاں کسی کو کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ توجہ کیجیے۔ یہ تجربہ ہے، اس سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ بتانے کا مقصد کسی کی برائی کرنا نہیں ہے۔ ہمیں بھی سمجھنا چاہیے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ نبی کی سنت تو قیامت تک کے لیے بہترین نمونہ ہے جو ہمارے لیے راہِ نجات ہے۔ نبی کے ہر عمل میں حکمتیں ہیں، ہمیں سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر چیز سنت کے مطابق کرنے کی کوشش کریں، ساری حکمتیں خود ہی مل جائیں گی۔
بابرکت نکاح
سب سے زیادہ برکت والا نکاح کون سا ہے؟ آج کل جتنے بکھیڑے ڈالے جاتے ہیں۔ مہندی، مایوں، بینڈ باجہ، مکلاوا، ڈانس اور پھر مکس گیدرنگ اور پتہ نہیں کیاکیا؟ ان تمام چیزوں کا حاصل یہ ہے کہ آنے والی برکت کے لیے ہم دروازہ بند کر دیتے ہیں کہ ہمیں برکتوں کی ضرورت نہیں۔  نبی کی بات سنیے! آقا نے فرمایا:
إِنَّ أَعْظَمَ النِّکَاحِ بَرَکَۃً أَیْسَرُہٗ مُؤْنَۃً. (مشکاۃ المصابیح: رقم ۳۰۹۷)
ترجمہ: ’’سب سے برکت والا نکاح وہ ہے جس میں تکلف کم ہو‘‘۔
مشقت کم ہو، خرچہ کم ہو، آسان ہو۔ جس نکاح میں جتنی آسانی ہوگی، جتنا کم خرچ ہوگا اُتنی برکتیں زیادہ ہوں گی۔ اور جتنی ہم فضول خرچیاں کریں گے، جتنے ڈرامے کریں گے اُتنی برکتیں اُٹھ جائیں گی۔ کتنی جگہ آپ نے دیکھا ہوگا ماشاءاللہ معاشرہ کے پڑھے لکھے سمجھدار لوگ موجود ہیں۔ کتنی دفعہ ایسا دیکھا ہوگا کہ والدین نے لاکھوں روپے نکاح اور ولیمے پر لگادیے اور مہینے، ہفتہ بعد لڑکی واپس آگئی۔ یہ عام چل رہا ہے کہ اِدھر شادی ہوتی ہے اُدھر لڑکی واپس آنے کے لیے تیار، کیوںکہ برکت کو ہم نے خود کہہ دیا کہ ہمیں نہیں چاہیے۔ جان لیجیے کہ جتنی سادگی ہو، جتنا کم سے کم خرچ ہو، اُتنی برکتیں آئیں گی۔ آج کے نوجوانوں کو یہ سمجھانا بڑا مشکل کام ہے۔ کسی کو کہہ دو کہ بیٹا! شادی نبی کے طریقے کے مطابق کرلو! کہے گا: یہ نہیں ہوسکتا، میری ناک کٹ جائے گی۔
ابھی نکاح تو ہوا ہی نہیں
حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ لاہور میں ایک صاحب کی شادی تھی۔ دونوں طرف سے ایک سال پہلے ہی پلاننگ شروع ہوگئی کہ شادی کا فنکشن کیسے کرنا ہے۔ بہترین کارڈ بنوائے اور لڑکی والوں نے ہر باراتی کو نوٹوں کے ہار پہنائے۔ کھانے کے برتن خاص طور سے پتھر کے برتن بنوائے جن میں شادی کی تاریخ اور نام لکھوایا۔ پھر سب باراتیوں کو یہ اجازت دی کہ دیکھو! جو بھی چاہے اس برتن کو لے جا سکتا ہے۔ اور بہت ساری چیزیں کیں۔ اُدھر لڑکے والوں نے کیا کیا؟ چڑیا گھر سے ہاتھی کرائے پہ لیا اور دُلہا میاں ہاتھی پہ بیٹھ کے آئے جیسے جنگ کرنے چلے ہوں۔ اور بہت ناچ گانا، ہنگامہ سب ہوا۔ غرض رُخصتی ہوگئی اور لڑکے والے دلہن کو لے کر اپنے گھر لوٹے۔لڑکی کا والد گھر آیا تو عورتوں نے پوچھا کہ حق مہر کتنا رکھا؟ والد سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ ہم نے نکاح تو پڑھوایا ہی نہیں۔ پھر وہاں فون کیا، بارات کو واپس بلایا کہ ابھی نکاح تو نہیں ہوا، نکاح کرکے پھر لے جانا۔ نئے گھر میں جانے سے پہلے نکاح تو کرلو۔ یہ ہماری حالت ہے، یہ ہماری دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔
تعلیمی اداروں میں کیا سکھایا جائے؟
ہم نے طرح طرح کی رسوم ورواج کو شادی کا حصہ بنا لیا ہے۔ یاد رکھیں! جہاں نکاح سستا ہوگا وہاں زنا ختم ہوجائے گا، اور جہاں نکاح مہنگا ہوگا وہاں زنا سستا ہو گا۔ شریعت نے کہا کہ تم نکاح کو عام کردو، آسان کردو تاکہ بے حیائی کے راستے بند ہوجائیں۔ اور یہ باتیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے کالجز، اسکولز اور یونی ورسٹیز کا اخلاقی اعتبار سے جنازہ نکل چکا ہے۔ ہم کسی کو کالج، یونیورسٹی بھیجنے سے پھر بھی منع نہیں کر رہے، ہم تو بس یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو دین کا ماحول تو دیں، ایمان تو سکھائیں، اخلاقیات کی کیا حدیں ہیں؟ یہ تو مستقبل کے معماروں کو بتائیں۔ اُن کی حیا وپاکدامنی کی حفاظت تو کریں۔ اُن کو مدارس میں دین کے لیے بھی بھیجیں۔ مرنا تو ہے ناں؟ آخر اللہ کے پاس جانا تو ہے۔ پھر کیا ہوگا؟ انجام کو سوچتے ہی جھرجھری آجاتی ہے۔
حضراتِ صحابہ کی سادگی
ایک مرتبہ ایک صحابی نبی کے پاس آئے۔ نبی نے اُن کے کپڑوں پر کوئی نشان دیکھا۔ خوشبو کا نشان لگا ہوا تھا۔ پوچھا: یہ کیا ہے اے عبدالرحمٰن؟ عرض کیا کہ سونے کی ایک گٹھلی کے مہر پر نکاح کیا ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا: اللہ تجھے برکت عطا فرمائے! ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔ (صحیح البخاری: باب الولیمۃ ولو بشاۃ)
دیکھ لیجیے! نبی کو بھی خبر نہیں دی کہ نکاح کر رہا ہوں، پڑھانے بھی آپ ہی آئیے گا۔ آسانی والا معاملہ دیکھیے!
ایک اور صحابی کا نکاح کرنے کا ارادہ تھا۔ انہوں نے اپنے دوست کو جو کہ خود بھی صحابی رسول تھے، کہا کہ بھئی! فلانی جگہ میری طرف سے رشتے کا پیغام لے کر چلے جائیں۔ ان کے دوست کہنے لگے کہ ٹھیک ہے، بہت اچھا۔ چناںچہ وہ تشریف لے گئے اور وہاں جاکر اپنے دوست کی طرف سے پیغامِ نکاح دے دیا۔ گھر والوں نے کہا کہ دیکھو! بات یہ ہے کہ اُن سے نکاح پہ تو ہمارا دل نہیں کر رہا، آپ کا ارادہ ہے تو آپ سے کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی ٹھیک ہے۔ پُرخلوص لوگ تھے، نیتیں اچھی تھیں۔ اسی گھر میں جو مرد موجود تھے وہ گواہ ہوئے، وہیں نکاح ہوا، وہیں سارا کام پورا ہوگیا۔ دوست کے لیے پیغام لے کر گئے تھے، اپنا نکاح اُس سے کرکے آگئے۔ جب نکاح کرکے واپس آئے اور  دوست سے ملے تو اوّل اُس سے معذرت کی کہ میں آپ کا پیغام لے کر گیا تھا، مگر اُن لوگوں کی رضا مندی آپ کی طرف نہیں تھی۔ انہوں نے مجھے کہا تو میں نےنکاح کرلیا۔ میں آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ جنہوں نے بھیجا تھا، وہ کہنے لگے کہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ اللہ نے مقدر تو آپ کا وہاں رکھا تھا اور دل میں میرے بات آرہی تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو برکتیں عطا فرمائیں۔
جب خلوص ہوتا ہے، للہیت ہوتی ہے پھر بڑے بڑے مسئلے بھی آسان ہو جاتے ہیں۔
مولانا احمد علی لاہوری کا ایک واقعہ
ایک واقعہ اور بھی سنیے! آپ کو معلوم ہوگا کہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں دفن ہیں۔ سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ پھر قبولِ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ درجات عطا فرمائے کہ جب اُن کی تدفین ہوئی تو قبر سے خوشبو بھی آئی۔ لوگ مٹی تک اُٹھاکے لے گئے۔ ایک صاحب میرے پاس کچھ دن پہلے آئے تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ مٹی آج تک میں نے اپنے پاس رکھی ہوئی ہے۔ بہرحال اتنی برکت والے بزرگ تھے۔ ابتدائی جوانی میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور دارالعلوم دیوبند میں پڑھنے کے لیے آگئے حتّٰی کہ پڑھتے پڑھتے دورہ حدیث میں پہنچ گئے۔
حضرت لاہوری خودفرماتے تھے کہ جب میرے سسر کو معلوم ہوا کہ گھر میں بیٹی جوان ہوچکی ہے، تو وہ پنجاب کے مدارس میں نکلے کہ بھئی! کوئی نوجوان طالب علم نورِ نسبت والا مل جائے تو اپنی بیٹی اُس سے بیاہ دیں۔ فرماتے ہیں کہ وہ دارالعلوم دیوبند پہنچ گئے۔ دارالعلوم کے مہتمم اُن کے دوست تھے۔ چناںچہ انہوں نے مہتمم صاحب سے کہا کہ حضرت! میری بیٹی جوان ہوچکی ہے، کوئی اچھا بچہ ہو، نیک شریف ہو تو میں اُسے دینا چاہتا ہوں۔ مہتمم صاحب نے کہا کہ سامنےحدیث کے طلبہ کی کلاس ہے، اس میں وہ طلباء ہیں جو فارغ ہونے والے ہیں۔ اُن میں جا کے دیکھ لیں۔ سُسر صاحب جب آئے تو انہوں نے مجھے دیکھا اور پھر واپس جا کر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن سے کہا کہ یہ نوجوان مجھے پسند ہے۔ کیا یہ نکاح کرے گا؟ حضرت شیخ نے کہا: دیکھو! یہ ایک سکھ گھرانے کا نوجوان ہے، اور اپنے گھر سے الگ ہو کر ادھر آیا ہے۔ اب اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے، نہ مال، نہ خاندان، نہ گھر، کچھ نہیں ہے۔ یہ تو یہیں پڑا رہتا ہے۔ جیسے اصحابِ صفہ کے صحابہ تھے اور ان کے پاس بھی بالکل کچھ نہیں تھا۔ پھر کہا کہ اچھا! اسی سے پوچھ لیتے ہیں کہ شادی کے لیے تیار ہو؟ چناںچہ ان کو بلا کر پوچھا: ہاں بھئی! آپ شادی کے لیے تیار ہیں؟ کہنے لگے: میں بالکل اکیلا ہوں، آگے پیچھے کوئی بھی نہیں۔ نہ مال ہے، نہ کمائی ہے تو میں کیسے رکھوں گا؟ دوبارہ پوچھا کہ تم تیار ہو؟ کہا کہ ہاں! اگر کوئی بیٹی دینے کے لیے تیار ہے تو میں سنت ضرور پوری کروں گا، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ میرے سسر نے کہا کہ کل عصر کے بعد پھر آپ کا نکاح میری بیٹی کے ساتھ طے ہوگیا ہے۔
وہ لوگ پیشانی کا نور دیکھا کرتے تھے۔ آج ہم بہت کچھ دیکھتے ہیں، بہت کچھ کرلیتے ہیں، اور پھر بھی سکون نہیں ملتا۔ جو دین دیکھنا ہوتا ہے اس کی طرف تو نظر ہی نہیں ہوتی۔ اسے بالکل گیا گزرا سمجھتے ہیں۔
حضرت لاہوری فرماتے ہیں کہ میں طلباء میں گیا تو انہیں پتا لگ گیا کہ کل میرا نکاح ہے۔ احمد علی کا نکاح ہے۔ اب سب نے اپنے اپنے مشورے دینے شروع کر دیے۔ بہر حال دوستوں کا آپس میں مذاق تو ہوتا ہی ہے۔ کسی نے کہا: دیکھو بھئی! کل آپ کا نکاح ہے اور آپ کے پاس کوئی صاف جوڑا، نیا جوڑا نہیں ہے۔ اب آپ ایسا کریں کہ ایک دن کے لیے، نکاح کے لیے کسی سے جوڑا قرض لے لیں بعد میں اس کو واپس کر دیجیے گا۔ کہنے لگے: نہیںبھئی! میری عزّتِ نفس یہ گوارا نہیں کرتی کہ میں قرض لے کر نکاح کروں۔ میں جیسا ہوں بس ویسا ہی ہوں، مجھے قرض نہیں لینا۔ کسی طالب علم نے کہہ دیا کہ بھئی دیکھو! نیا جوڑا نہیں لیتے، چلو کوئی بات نہیں، لیکن اس کو تو دھو لینا تاکہ ذرا صاف ستھرے جوڑے کے ساتھ بیٹھو۔
فرماتے ہیں کہ میری تو بدبختی آگئی کہ میں نے اس بات کو قبول کرلیا۔ اگلے دن میں نے دھوتی باندھی، کپڑے اُتارے اور کپڑوں کو دھونا شروع کر دیا۔ اُدھر سے موسم بھی ٹھنڈا تھا اور بادل بھی آگئے۔ اِدھر ظہر کاوقت ہوگیا اور عصر کے بعد نکاح ہونا تھا۔ وقت قریب تھا اور میں کپڑے سکھا رہا تھا، لیکن وہ نہ سوکھے۔ میں بڑا پریشان ہوا کہ یہ میں نے کیا کرلیا۔ الغرض وہی گیلے کپڑے پہن کر مسجد گیا اور نکاح کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ کپڑے گیلے تھے، اور کوئی تھے بھی نہیں۔ میرے سُسر نے مجھے دیکھا کہ وہی کل والے میلے کپڑے ہیں، اور آج تو گیلے بھی ہیں۔ میرے سُسر کو اللہ تعالیٰ نے سونے کا دل دیا تھا۔ اسی وقت پہچان لیا کہ اس کے پاس کوئی دوسرا جوڑا بھی نہیں۔ ایک ایسے بندے کو جس کے پاس صرف ایک جوڑا تھا، خاندان بھی کوئی نہیں تھا، اپنی بیٹی دے دی۔ بہرحال اس وقت نکاح ہوگیا اور فراغت کے کچھ عرصہ بعد رُخصتی بھی ہوگئی۔
فرماتے ہیں کہ جو ابتدائی چند دن تھے، کام کاج توکچھ تھا نہیں اور طالبعلمی کا زمانہ ابھی ابھی مکمل ہوا تھا۔ کبھی کھانے کو مل جاتا، اور کبھی کچھ نہ ملتا فاقہ ہوجاتا۔ میری بیوی کچھ عرصہ تو میرے ساتھ رہی، اُس کے بعد کچھ دنوں کے لیے والدین سے ملاقات کے لیے چلی گئی۔
دنیا کی زندگی جنت کا نمونہ
جب پہلی مرتبہ گئی تو والدہ نے پوچھا: بیٹی! تو نے اپنے نئے گھر کو کیسا پایا؟ فرماتے ہیں کہ میری بیوی اتنی تقیہ، نقیہ، نیک اور پاکدامن عورت تھی۔ اُس کی نظر میرے تقویٰ پر، میری دین داری پر تھی۔ چناںچہ اُس نے میرے دین کو سامنے رکھتے ہوئے کہا: اماں! میں تو سمجھتی تھی مرکے جنت میں جائیں گے، میں تو دنیا میں ہی جنت میں پہنچ گئی۔ حضرت فرماتے تھے کہ میرے سسر نے مجھے اس وقت پہچان لیا تھا جب احمد علی احمد علی نہیں تھا۔ آج تو احمد علی احمد علی ہے۔
جی ہاں! یوں بھی نکاح ہوا کرتے تھے۔ ہمارے اکابر نکاح کو دین اور تقویٰ کی بنیاد پر کرتے تھے۔ اور آج ہم نے کتنے جھمیلے اکٹھے کیے ہوئے ہیں، اُس کے باوجود بھی برکتیں نہیں۔ برکتیں تو آسانی میں ہیں یعنی سادگی سے ہم کریں گے تو برکتیں آئیں گی۔ یہ 2 + 2 4=کی طرح باتیں ہیں۔ کسی کو سمجھ میں آجائیں تو کرکے دیکھ لے، نہ سمجھ میں آئیں تو پھر ٹھیک ہے جو ہو رہا ہے وہ تو سب کے سامنے ہے۔ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔ بہت کم شادی شدہ ایسے ہیں جو یہ کہتے ہوں کہ ہماری زندگی میں محبتیں ہیں، سکون ہے، اطمینان ہے۔
نکاح آسان یا دو رکعت نفل آسان
شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب فرماتے تھے کہ میں نے اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد جیسے پوتے نواسیاں وغیرہ ہوتے ہیں، ان کے اپنی زندگی میں سترہ نکاح کیے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ دورکعت نفل پڑھنا آسان تھا یا نکاح کرنا آسان تھا۔ اتنا سادہ اور آسان عمل ہم نے اتنا مشکل بنایا، اپنے ہاتھوں سے بنایا۔
جہیز ایک ہندوانہ رسم
ہم یہاں ہندوستان میں رہے ہیں تو ہم نے ہندوؤں سے بھی بہت کچھ لیا ہوا ہے۔ نبی کی سنتوں کو تو چھوڑ دیا ہے اور ہندوؤں سے بہت کچھ لے کر ہم نے اپنی شادیوں میں شامل کرلیا ہے۔ جہیز کا جو معاملہ ہے، یہ اصل میں انہی سے لیا گیا ہے۔ ورنہ سعودیہ میں بھی شادیاں ہوتی ہیں، عرب ممالک میں بھی شادیاں ہوتی ہیں۔ وہاں جاکر پوچھ لیجیے۔ امید ہے کہ آپ میں سے ہر ایک جانتا تو ہوگا کہ وہاں پر جہیز کی ذمہ داری لڑکے پر ہوتی ہے، لڑکی پر کچھ نہیں ہوتا۔
حضرت فاطمہ کے جہیز کی حقیقت:
یہ جو مہرِ فاطمی اور جہیز کا ذکرکرتے ہیں کہ نبی نے بی بی فاطمہ کو دیا تھا۔ وہ پیسے تو حضرت علی کے تھے جوزرع بیچی گئی تھی۔ (مسند ابی یعلیٰ، سبل الھدٰی: 38/11)
حضرت عثمان غنی نے زرہ کو خریدا، قیمت ادا کی۔ بعد میں وہی زرہ تحفہ میں حضرت علی کو واپس بھی کردی۔ ان کے اندر اتنی محبتیں تھیں۔ وہ جو سامان آیا تھا وہ حضرت علی کے پیسوں سے آیا تھا۔ جناب! جہیز کی اگر یہ والی سنت آپ نے پوری کرنی ہے تو لڑکے والوں کو چاہیے کہ وہ لڑکی والوں کو پیسے دے دیں کہ جہیز خرید کے دو۔ مزا تو تب ہے! کوہاٹ سے آگے کرک کے علاقے میں ابھی بھی یہ چیز باقی ہے کہ لڑکی والے کچھ نہیں دیتے، لڑکے والے دیتے ہیں۔ یہ جہیز والا معاملہ تکلیف دہ معاملہ ہے۔
نکاح کے بعد عبادات کا جروثواب
اور جب انسان نکاح کرلیتا ہے، شادی کرلیتا ہے تو اس کی عبادت کا اجر اللہ ربّ العزّت بڑھا دیتے ہیں۔ چناںچہ علماء نے لکھا ہے کہ انسان نکاح سے پہلے جو نماز پڑھتا ہے ایک نماز کا ایک اجر ملتا ہے۔ اور نکاح کرنے کے بعد ایک نماز کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اَجر بڑھا دیتے ہیں کہ پہلے یہ صرف حقوق اللہ کو ادا کرتا تھا، اب ساتھ میں حقوق العباد کو بھی ادا کر رہا ہے، لہٰذا اس کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ چناںچہ خوش قسمت انسان وہ ہے جس کو ایک اچھا جیون ساتھی مل جائے۔ اس میں مزید کچھ باتیں ہیں، وہ اِن شاء اللہ آیندہ پیش کی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خوشگوار ازدواجی زندگی عطا فرمائے۔ یہ حقیقت ہے کہ جس کو اچھا جیون ساتھی مل جائے وہ یقینًا خوش قسمت انسان ہے۔

وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں