78

اللہ بہت بڑا ہے حصہ اول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط (الروم: 27)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

تخلیق کا شاہکار انسان:
انسان اللہ ربّ العزّت کی تخلیق کا شاہکار ہے۔ انسان اپنے اوپر جتنا غور کرتا چلا جائے گا، اتنا ہی اللہ ربّ العزّت کی عظمت اس پر کھلتی چلی جائے گی۔ اللہ ربّ العزّت نے انسان کو بےشمار نعمتیں دیں۔ بعض نعمتیں تو ایسی ہیں جو اللہ ربّ العزّت نے انسان کو بھی دیں اور دوسری مخلوقات کو بھی دیں۔
انسان اور دیگر حیوانات کی بینائی میں فرق:
مثال کےطور پر اللہ ربّ العزّت نے ہمیں آنکھوں کی نعمت سے نوازا، ہم آنکھوں سے دنیا کو دیکھتے ہیں، لوگوں کو بھی دیکھتے ہیں۔ دوسری مخلوقات کو بھی آنکھوں سے نوازا۔ جیسے سانپ کو اللہ ربّ العزّت نے آنکھوں سے نوازا ہے، لیکن سانپ اس طرح کلیئر نہیں دیکھ سکتا جس طرح ہم ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ سانپ جب دیکھتا ہے تو اس کو بس اتنا محسوس ہوتا ہے کہ سامنے کوئی جاندار ہے۔ اسی طرح ہاتھی،شیر اور دیگر جانور بھی دیکھ سکتے ہیں، لیکن یہ چہرے کی لطافت اور باریکیوں کو نہیں دیکھ سکتے، ان کو صرف ایک خاکہ سا نظر آتا ہے کہ یہ انسان ہے، یہ جانور ہے۔ لیکن انسان کو اللہ ربّ العزّت نے جو آنکھیں دی ہیں یہ کلر میچنگ بھی کرسکتا ہے۔ یہ رنگ کے اندر فرق بھی کر سکتا ہے۔ اور یہ چہرے کی لطافت، باریکیوں اور چہرے کے اتار چڑھائو کو دیکھ بھی سکتا ہے اور محسوس بھی کر سکتا ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے انسان کو بینائی میں کمال عطا کیا ہے۔
انسان اور دیگر حیوانات کے ہاتھوں میں فرق:
اس طرح اللہ ربّ العزّت نے انسان کو دو ہاتھ دیے۔ جبکہ اکثر مخلوقات کو ہاتھ نہیں دیے۔ لیکن بندر وغیرہ کو اللہ ربّ العزّت نے ہاتھ تو عطا کیا، لیکن انگوٹھا نہیں دیا۔ انگوٹھا نہ ہونے کی وجہ سے وہ اُن چیزوں کو نہیں پکڑ سکتے جن کو انسان بآسانی پکڑ سکتا ہے۔ جی ہاں! اللہ ربّ العزّت نے انسان کو ہاتھ کی نعمت بھی دی، اور اس کے ساتھ گرفت کی قوت بھی۔ اللہ اکبر کبیراً!
انسان اور دیگر حیوانات کی گویائی میں فرق:
قوتِ گویائی یعنی بولنے کی طاقت۔ یہ قوت بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے جو اللہ پاک نے انسان کو بھی دی اور جانوروں کو بھی دی۔ لیکن جانوروں کی زبان میں فصاحت وبلاغت نہیں ہوتی۔ وہ اشاروں میں بات کرتے ہیں، یا اپنے کسی خاص انداز میں بات کر لیتے ہیں۔ اُن کے پاس انسانوں کی طرح کی فصاحت نہیں۔ انسان جب بات کرتا ہے تو جس سے محبت ہو اس سے اظہارِ محبت کے لیے، کبھی اپنے احساسات کے جذبات کو کھولنے کے لیے، کبھی وضاحت کرنے کے لیے اپنے کلام میں مختلف کلمات اور تعبیرات لے آتا ہے۔ بھلا کسی اور حیوان کے پاس بھی ذخیرہ الفاظ، مثالیں، محاورات، اشعار ہوتے ہیں؟ جواب میں نفی میں ملے گا۔ سوچیے کہ اس رب تعالیٰ نے انسان کو قوتِ گویائی کی کتنی بڑی نعمت سے نوازا ہے۔
انسانی عقل:
اللہ ربّ العزّت نے اور بھی بےشمار نعمتیں انسان کو عطا فرمائی ہیں۔ اُن نعمتوں میں سے ایک عقل ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے انسان کو عقل عطا فرمائی اور جانوروں کو بھی عقل عطا فرمائی، لیکن ان کے پاس اس طرح کامل عقل نہیں ہے، فقط نفع نقصان معمولی درجے کا وہ اپنی زندگی کی حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن انسان کو جو اللہ پاک نے عقل عطا فرمائی اس کے اندر بہت گہرائی ہے۔ اس گہرائی کی وجہ سے چھوٹی سے چھوٹی بات کو، جذبات کو انسان سمجھتا ہے ۔
سمندری لہریں:
اب جو یہ ساری نعمتیں انسان کو ملیں تو یہ سمجھنے لگا کہ مجھے جو چیزیں ملی ہیں، اس وجہ سے میں کائنات کی سب سے بڑی چیز ہوں۔ یعنی انسان کے اندر بڑائی کا ایک احساس پیدا ہوگیا۔ لیکن پھر کبھی ایسے لمحات بھی آتے ہیں کہ انسان یہ سوچتا ہے کہ نہیں مجھ سے بڑا بھی کوئی ہے۔ اگر انسان کبھی سمندر کے سامنے کھڑا ہو اور پندرہ پندرہ فٹ کی اونچی لہریں (ہائی ٹائیڈز) آرہی ہوں تو غورو فکر کرنے والا یہ سوچے گا کہ ضرور اتنا اونچا پانی اُچھالنے کے لیے قوّت کی ضرورت ہے۔ اتنے پاور ہائوس ہونے چاہیے۔ اربوں کھربوں ٹن پیچھے قوت ہونی چاہیے جو لہروں کو اچھال سکے۔ انسان جب اس کو دیکھتا ہے تو غوروفکر کرتا ہے، محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ یہ سوچتا ہے کہ کوئی ہے جو اتنی بڑی طاقت کا مالک ہے۔ وہی اللہ تعالیٰ ہے۔
زمین کا رقبہ اور اس کا چکّر:
اگر انسان کسی ہمالیہ کےنیچے کھڑا ہو تو وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ واقعی ہمالیہ ایک بڑی چیز ہے، پھر کیا اس سے بھی کوئی بڑی چیز ہے؟ جواب ملتا ہے کہ ہاں! اس سے بڑی چیز اللہ ربّ العزّت کی بنائی ہوئی زمین ہے جس کے اوپر ہم رہ رہے ہیں۔ یہ کتنی بڑی ہے؟ اس کا کُل رقبہ 5.342 فیصد ہے۔ ستّر اعشاریہ آٹھ فیصد پانی اور اُنتیس اعشاریہ دو فیصد خشکی پر مشتمل ہے۔ پھر اس کے اندر بھی بڑی عجیب باتیں اللہ ربّ العزّت نے رکھی ہیں۔ زمین اپنے محور پر چوبیس گھنٹے میں چکّر لگاتی ہے تو سورج کے گرد ایک سال میں۔ اسی طرح چاند زمین کے گرد اپنے مدار پر ایک مکمل چکّر 27.3 (ستائیس اعشاریہ تین) دن میں پورا کرتا ہے، جیسا کہ زمین سے مشاہدہ ہوتا ہے، جسے سائڈیریل sidereal مہینہ کہتے ہیں۔ اور چاند زمین کی سورج کے گرد گردش کی وجہ سے خلاء میں اپنے مقام پر واپس 29.5 دن میں آتا ہے۔ اب کیا کسی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ زمین چکّر لگا رہی ہے یا چاند چکّر لگا رہا ہے؟ گاڑی چل رہی ہے تو پتا لگتا ہے کہ چل رہی ہے۔ لیکن یہ نظام کائنات گردش میں ہے اور کسی کو محسوس بھی نہیں ہو رہا، اتنا پرفیکٹ کا نظام اللہ ربّ العزّت نے بنایا ہے۔
مثلاً آپ چند دوستوں کے ساتھ گاڑی میں موٹر وے پر جارہے ہیں۔ ایک سو بیس کی رفتار سے گاڑی چل رہی ہے۔ اچانک سے ایک ساتھی کہتا ہے کہ یار! تمہاری گاڑی کا بیلنس صحیح نہیں ہے، گاڑی وائبریٹ کر رہی ہے، جھٹکے لگ رہے ہیں، مزہ نہیں آرہا۔ آپ اس کی بات سن کر خاموش ہوجاتے ہیں۔ جب اپنی جگہ پر پہنچتے ہیں تو مکینک کے پاس جاتے ہیں، اس کا وِیل نکالتے ہیں، مکینک اس کو مشین پر چیک کرکے کہتا ہے کہ آپ کی گاڑی کے اندر چند گرام کا فرق ہے جس کی وجہ سے یہ گاڑی وائبریٹ کر رہی تھی۔ ان چند گراموں کے فرق نے پوری گاڑی کو ہلا دیا۔ اب غور کریں کہزمین کا بیلنس کتنا شاندار ہے کہ جب سے ہم لوگ پیدا ہوئے ہیں ہمیں کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی کہ یہ زمین گھوم رہی ہے اور اس کی وجہ سے ہم آگے پیچھے گر رہے ہوں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا۔
اسی طرح اس دنیا کے اندر دیکھیں تو ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں نہیں، بلکہ غالباً اس سے بھی کئی زیادہ تعداد میں ٹرک مال لے کر اِدھر اُدھر جا رہے ہیں اور بھی کئی وزنی چیزیں اُٹھائے ہوتے ہیں جو اِدھر سے اُدھر ٹرانسفر کر رہے ہوتے ہیں، لیکن اُن کے اس موومنٹ کی وجہ سے زمین کے بیلنس پر کوئی فرق نہیںآرہا۔ تو یہ کس نے بنایا؟ یہ اللہ ربّ العزّت نے بنایا۔
انسان کی روزی:
پھر اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے اندر ہماری روزی رکھ دی۔ اب غور کریں کہ جسم کو اللہ پاک نے مٹی سے بنایا اور جسم کی تمام ضروریات اللہ تعالیٰ نے مٹی کے اندر رکھ دیں۔ قرآن مجید میں اللہ ربّ العزّت فرماتے ہیں:
وَبٰرَكَ فِيْہَا وَقَدَّرَ فِيْہَآ اَقْوَاتَہَا فِيْٓ اَرْبَعَۃِ اَيَّامٍ (حم السجدۃ: 10)
چار دن کے اندر ہم نے اس میں برکتوں کو رکھا۔ کیا برکتیں ہیں؟ کوئی انتہا ہے اس کی برکتوں کی؟ حضرت آدم سے لےکر آج تک انسان اس کو استعمال کرتا چلا آرہا ہے۔ ذراغور کریں کہ جسم کی جو بھی ضرورت ہے وہ زمین سے پوری ہو رہی ہے۔ پانی زمین سے، گندم زمین سے، لباس اور کاٹن بھی زمین سے، مکان بنا تو پتھر بھی زمین سے، لکڑی زمین سے، شیشے کا مٹیریل زمین سے، لوہا زمین سے، کھانے پینے کی چیزیں زمین سے، میوہ جات زمین سے، سبزیاں زمین سے، گّنا زمین سے۔ غرض یہ کہ ہر وہ چیز جو انسان کی ضرورت کی ہے وہ زمین میں رکھ دی۔
اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ جب زمین سے اتنا کچھ لیا جارہا ہے تو خزانے ختم ہو جانے چاہیے، لیکن حضرت آدم سے لیکر آج تک فصلیں ہیں، کھیت ہیں، پودے ہیں، اور یہ سب زمین سےنمکیات لے رہے ہیں اور یہ نمکیات ختم نہیں ہو رہیں۔اللہ ربّ العزّت نے کتنی برکتیں رکھی ہیں۔ پھر یہ نمکیات کتنے بیلنس سے آرہی ہیں کہ اگر یہ نمکیات کسی بھی چیز میں زیادہ ہو جائیں تو وہ کھائی نہ جائے، اور اگر یہ نمکیات بالکل بھی نہ ہوں تو بھی نقصان کا باعث ہو جائیں۔ بے شک ہر چیز اپنی ضرورت کے مطابق چلی آرہی ہے۔ اور یہ جو نمکیات ہیں ان میں بھی کیمیکل رکھے نہ تو اتنا زیادہ رکھے کہ فصل ہی نہ اُگ سکے۔ بعض زمینیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ اس کے اندر فصل نہیں اُگ سکتی، ایگریکلچر والے لوگ یہ جانتے ہیں۔
اور اب زمین سے ماربل بھی نکل رہا ہے۔ ہزاروں لاکھوں نہیں، کروڑوں انسان ماربل انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ پہاڑ کاٹتے ہی چلے جا رہے ہیں اور ماربل نکل رہا ہے۔ جگہ جگہ لگا ہوا ہوتا ہے۔ جتنی ہمارے یہاں پنجاب کی آبادی ہے، اتنی آبادی انڈیا میں صرف ماربل کا کام کرتی ہے۔ کچھ لوگوں کی روٹی اللہ ربّ العزّت نے ماربل کے ساتھ جوڑ دی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا رزق اللہ تعالیٰ نے پیٹرول کے ساتھ جوڑا ہے جو نکلتا چلا جا رہا ہے۔ کچھ ہیرے نکالتے ہیں اور وہ نکلتا ہی چلے جا رہا ہے۔ اور کوئی اس سے کیا حاصل کر رہا ہے، اور کوئی کیا حاصل کر رہا ہے۔ ہر ایک کی روزی اللہ تعالیٰ نے اس زمین سے وابستہ کی ہوئی ہے۔ کسی کی بالواسطہ اور کسی کی بلاواسطہ۔ اللہ اکبر!
زمین سے بڑے سیارات:
زمین کے اندر اللہ پاک نے اتنی برکتیں رکھی ہیں کہ سات ارب انسان کھاتے چلے جا رہے ہیں، ان برکتوں کو مختلف انداز میں صبح دوپہر شام استعمال کر رہے ہیں اور یہ ختم نہیں ہو رہیں بلکہ بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔ جب انسان زمین کی ان کیفیات کو دیکھتا ہے تو یہ سمجھتا ہے کہ شاید زمین ہی سب سے بڑی ہے۔ اونچائی میں پہاڑ انسان سے بڑا ہے، اور زمین پہاڑ سے بھی بڑی ہے۔ اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زمین سے بھی بڑی کوئی چیز ہے؟ آج کی دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی پر بہت اعتبار کرتی ہے۔ سائنسدان ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت بڑے بڑے سیارے ایسے ہیں جو زمین سے کئی گنا بڑے ہیں۔ ہماری زمین کا ڈایا میٹر غالباً چوبیس ہزار میل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اتنے بڑے سیارات بنائے ہیں کہ اُن میں سے اگر ایک میں ہماری زمین جیسی ایک ہزار زمینیں رکھ دی جائیں تو اس سیارے کے ایک کونے میں آجائیں۔ معلوم ہوا کہ زمین سے بڑی بھی کوئی چیز ہے۔ پھر خیال آتا ہے کہ اس ربِّ ذو الجلال کی اور کیا نعمتیں ہمیں میسّر ہیں؟
نظامِ شمسی کا سرتاج سورج:
یہ سورج جو دن میں ہمیں نظر آتا ہے یہ ہمارے نظامِ شمسی کا سرتاج ہے۔ سورج سے ہم حرارت لیتے ہیں، توانائی لیتے ہیں، ریڈیشن لیتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید سورج زیادہ قیمتی ہے۔ اب سورج سے ہمیں کیانعمتیں ملتی ہیں؟ سب سے پہلے تو روشنی۔ اگر سورج نہ ہو تو زمین پر روشنی بھی نہ ہو، اور اگر روشنی نہ ہو تو نہ ہی درخت اُگیں گے اور نہ ہی کھیت اُگیں گے، کیوںکہ جس جگہ سورج کی روشنی نہیں پڑتی وہاں درخت پھل نہیں دیتے۔ معلوم ہوا کہ یہ روشنی ہماری ضرورت ہے۔
سورج کی روشنی:
ایک عجیب سوال یہ ہے کہ یہ روشنی ہمیں کیوں نظر آتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ روشنی ہمیں اس لیے نظر آتی ہے کہ ہماری زمین کےگرد ایک ہوا ہے، اور اس ہوا کے اندر مٹی کے بےحساب ذرّات ہیں۔ جب سورج کی روشنی آتی ہے اور ہماری ہوا کے زوم میں داخل ہوتی ہے اور مٹی کے ذرّات اس میں ریفلیکٹ ہوتے ہیں تو ہمیں یہ روشنی نظر آتی ہے۔ بالفرض ہم سورج کی رو میں جانا شروع کر دیں اور زمین کا جو ہوا کا اِیریا ہے اس کو بھی کراس کر کے آگے چلے جائیں، خلا میں پہنچ جائیں تو سورج کی روشنی آرہی ہے لیکن اس روشنی کے باوجود وہاں گھپ اندھیرا ہے، کیوںکہ وہاں مٹی کے یہ ذرّات نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورج کے ذریعہ سے زمین والوں کو بہت بڑی نعمت دی جو روشنی دیتا ہے، اور حرارت پہنچاتا ہے۔
سورج کی حرارت:
اور یہ حرارت بھی بہت زیادہ ضروری ہے۔ اگر یہ حرارت نہ ہو تو کام نہ ہوں۔ اور حرارت کے اندر اعتدال بھی بہت ضروری ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے سورج کو جتنے فاصلے پر رکھا، اگر اس سے آدھے فاصلے پر رکھا ہوتا تو سب جل کر مر جاتے، اور اگر فاصلہ اس سے ڈبل ہو جاتا تو قلفی جم جاتی اور سب مر جاتے کوئی بھی نہ بچتا۔ ہاں! اللہ ربّ العزّت نے فاصلہ بھی ایسا رکھا، ٹیمپریچر کو بھی ایسا رکھا اور اس انداز میں رکھا کہ کئی ملکوں میں عام طور پر ٹیمپریچر سردیوں میں زیرو ہو جاتا ہے، اور گرمیوں میں پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو جاتا ہے۔ اتنی سردی اور اتنی گرمی دونوں ہی ایسے ہیں جو آدمی کے لیے قابل برداشت ہیں، اور صرف انسان کے لیے نہیں، بلکہ جانوروں کے لیے بھی، اور ساتھ ہی ساتھ درختوں کے لیے بھی۔ اور اگر یہی ٹیمپریچر گرمیوں میں 100 ہو جائے تو درخت ختم اور انسان بھی نہ بچیں، اور یہی مائنس بیس تیس چلا جائے تو درختوں میں سے کچھ نکلے ہی نہ تو وہ بھی معاملہ ختم۔ اللہ ربّ العزّت نے اتنا بیلنس اس کو دیا کہ ہر چیز کے لیے مناسب ہو۔ اور آپ جانتے ہیں کہ کچھ جگہ گرمی بہت ضروری ہے۔ کچھ پھل اللہ ربّ العزّت نے ایسے بھی پیدا کیے ہیں جو سخت گرمیوں میں ہی پکتے ہیں۔ اور اسی طرح اللہ ربّ العزّت سردیوں کے لیے میوے جات رکھے۔ سردیوں میں میوے کھاتے چلے جائیں۔ اس وقت اس کا مزا آتا ہے۔
ایک سفر:
حضرت جی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کسی سرد ملک میں تھے۔ اس ملک میں اتنی سردی تھی کہ خود کو گرم رکھنے کے لیے پتا نہیں کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ تبلیغی جماعت کے ساتھیوں کی تشکیل اس ملک میں تھی۔ ساتھی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے۔ گاڑی راستے میں کسی جگہ خراب ہو گئی کوئی بھی مدد کے لیے نہ آسکا۔ ان ساتھیوں نے سویٹر، جیکٹ، ساکس، جوتے سب پہنے ہوئے تھے۔ ان تمام انتظامات کے باوجود ادھر مدد پہنچ نہ سکی تو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے فریز ہو گئے اور شہید ہوگئے۔ اللہ اکبر! وہاں اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا تھا۔ پس اگر ٹیمپریچر اتنا ڈائون ہو جائے تو بھی انسان کے لیے مشکل۔ اللہ ربّ العزّت نے اس میں بھی بیلنس عطا فرمایا ہے۔
دھوپ:
تیسری چیز جو سورج سے حاصل ہوتی ہے وہ یہ کہ سورج ہمیں دھوپ دیتا ہے۔ اور یہ بھی ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر جو لوگ دھوپ میں بالکل بھی نہیں نکلتے تو ڈاکٹرز انہیں بتاتے ہیں کہ دیکھو! تمہارے اندر وٹامن ڈی ختم ہو گیا ہے، اب وٹامن ڈی کھائو۔ وہ گولیاں دیتے ہیں، دوائیاں دیتے ہیں۔ سورج جو دھوپ دیتا ہے اس سے ہمیں وٹامن ڈی ملتے ہیں،ہماری جلد کو خوراک ملتی ہے۔ اللہ پاک نے سورج کو بالکل ہمارے مطابق بنایا ہے۔
گرم گیسوں کا فٹ بال:
یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ یہ سورج ہمیں روشنی کیسے دیتا ہے؟ اور کیا یوں ہی ہمیشہ دیتا رہے گا؟ سائنس دان کہتے ہیں کہ سورج گرم گیسوں کا ایک فٹ بال ہے جس میں بلحاظِ کمیت 71% ہائیڈروجن، 28% ہیلیم، 5.1% کاربن، نائیٹروجن اور آکسیجن ہے جبکہ 5.0% دوسرے عناصر پائے جاتے ہیں۔ سورج کی عمر کا اندازہ ساڑھے چار اَرب سال لگایا گیا ہے۔ یعنی اتنے سالوں سے سورج مسلسل اتنی بڑی مقدار میں توانائی خارج کرچکا ہے۔ اور اس میں موجود ہائیڈروجن کی مقدار سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ مزید ساڑھے پانچ اَرب سال تک اسی مقدارمیں توانائی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اللہ ربّ العزّت کا نظام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وَجَعَلَ فِیْھَا سِرَاجًا (الفرقان: 61)
ترجمہ: ’’اور ہم نے سورج کو چمکدار اور چراغ کی مانند بنایا ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا چراغ چل رہا ہے اور دنیا کو روشن کر رہا ہے۔ اور پھر ایک دن اس ہائیڈروجن کی مقدار آخر ختم ہو جائے گی اور پھر توانائی کے پیدا ہونے کا عمل رُک جائے گا، پھر سورج آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہوتا جائے گا جس سے اس سے خارج ہونے والی روشنی بھی بتدریج کم ہوتی جائے گی، اور پھر ایک وقت ایسا آئے گا جب سورج بے نور ہو جائے گا۔ اسی کو قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہے ہیں:
اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ o (التکویر: 1)
ترجمہ: ’’جب سورج بے نور ہو جائے گا‘‘۔
انسانی تفکر:
انسان سوچتا ہے کہ اس کے پاس اعضا وجوارح ہیں جس سے وہ اپنے کام کرتا ہے۔ اور اس طاقت پر اسے اس قدر ناز ہوتا ہے کہ شاید وہی بہت کچھ ہے۔ پھر جب وہ سمندر دیکھتا ہے تو اسے پتا لگتا ہے کہ نہیں مجھ سے بھی کچھ بڑا ہے، یہ زمین کتنی بڑی ہے۔ یہ آسمان کتنا بڑا ہے۔ اللہ کی مخلوقات زمین میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جسامت میں ایک سے بڑھ کر ایک۔ خوبصورتی میں ایک سے بڑھ کر ایک۔ جب یہ چیزیں کھلتی ہیںتو اس کو پتا چلتا ہے کہ مجھ سے بڑا کوئی موجود ہے۔
اللہ اکبر کا مطلب:
ہم کہتے ہیں ’’اللہ اکبر‘‘۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اللہ اکبر یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ کتابوں میں یہی ترجمہ موجود ہے کہ اللہ بہت بڑا ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں۔ کائنات کی تمام چیزیں اگر کسی کو مل جائیں تب بھی اس کی کوئی حد ہوگی۔ مثلاً آسمانِ دنیا کی ایک حد ہے، اس کے اوپر دوسرا آسمان ہے اس کی بھی ایک حد ہے، اسی طرح ہر آسمان کی ایک حد ہے۔ زمین کی ایک حد ہے، اس کے نیچے دوسری زمین کی بھی ایک حد ہے، اسی طرح ساتوں زمینوں میں سے ہر ایک کی حد مقرر ہے۔ جنت، عرش، کرسی ہر ایک کی کوئی نہ کوئی حد ہے۔ ایک اللہ ربّ العزّت ہی کی ذاتِ عالی ہے جو لا محدود ہے۔ دیکھیں! یہ کہنا کہ ’’اللہ سب سے بڑا ہے‘‘ یہ کہنا غلط نہیں ہے۔ واقعتاً اللہ سب سے بڑا ہے۔ ہماری سوچ، ہمارے الفاظ اس کی تعریف بیان کرنے سے عاجز ہیں۔اس کی بڑائی اور کبریائی بیان کرنے سے عاجز ہیں۔
انسان اپنی زبان میں بڑا کس کو کہتا ہے؟ کوئی کہتا ہے کہ جی یہ بلڈنگ بہت بڑی ہے، کوئی کہتا ہے کہ فلاں کالونی بڑی ہے۔ ہر ایک کا اپنا معیار ہے، مگر یقین کریں کہ کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی بڑی نہیں ہے۔ ہم نے کراچی سے لاہور تک کا سفر کرنا ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جی بڑا سفر کر لیا ہے، بڑا ہی دور ہے، جبکہ یہ مسافت تقریباً بارہ سو کلومیٹر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو دعوت دی ہے کہ اوپر نظر اُٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو:
اَفَلَمْ يَنْظُرُوْآاِلَى السَّمَآءِفَوْقَہُمْ كَيْفَ بَنَيْنٰہَا وَزَيَّنّٰہَا وَمَا لَہَا مِنْ فُرُوْجٍ۝۶ (ق: 6)
ترجمہ: ’’بھلا کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اُسے کیسے بنایا ہے؟ اور ہم نے اسے خوبصورتی بخشی ہے، اور اس میں کسی قسم کے رخنے نہیں ہیں‘‘۔
آسمان کی وسعت میں ذرا غور تو کریں۔ مگر کیا ہے کہ ہماری نظریں محدود ہیں، کائنات کی وسعتوں کا ادراک نہیں کر سکتی۔ بس ہمیں اس کا اندازہ ہو جائے کہ جس نے اتنی بڑی کائنات کو بنایا ہے، وہ بنانے والا خود کتنا بڑا ہوگا۔ اللہ ربّ العزّت نے کائنات میں اپنی قدرت اور وجود کے شواہد بکھیرے ہیں تاکہ انسان اس کی عظمت کو پہچانے۔ یہ بڑے بڑے سمندر، اونچے اونچے پہاڑ، اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔
چاند:
زمین سے قریب ترین سیارے ہی کو لے لیجیے۔ وہ سیارہ چاند ہے۔ اس کا زمین سے فاصلہ تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو کلومیٹر ہے۔ چاند زمین کے اردگرد 3.27 دن میں چکر لگاتا ہے۔ اس کے راستے کو ’’چاند کا مدار‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد آگے چلیں تو خلا میں ہماری گلیکسی یا کہکشاں سے قریب ترین سیارہ مِرِّیخ ہے۔
مِرِّیخ:
اس کو زمین کی بہن بھی کہتے ہیں، اس لیے کہ یہ زمین کے بہت قریب ہے۔ خلائی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 31 جولائی 2018 کو زمین سے مریخ کا فاصلہ تین کروڑ اٹھاون لاکھ میل تھا۔ مریخ کا زمین سے فاصلہ اس وقت کم ترین ہوتا ہے جب مریخ، زمین اور سورج گردش کرتے ہوئے ایک قطار میں آ جاتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہناہے کہ ایسا ہر 27 ماہ کے بعد ہوتا ہے جب زمین اور مریخ سورج کے گرد گردش کرتے ہوئے ایک قطار میں آ جاتے ہیں۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ دونوں کے درمیان ہر بار فاصلہ بھی کم سے کم ہو۔ فاصلے کا تعلق ان کے مدار سے ہوتا ہے۔
مشتری:
اور تھوڑا سا آگے چلیں تو اپنے ہی سولر سسٹم میں ایک سیارہ مشتری ہے۔ یہ نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں تیرہ سو زمینیں سما سکتی ہیں۔ یہ زمین سے 318 گنا بھاری ہے، اور سورج سے 2.5 فلکیاتی اکائی (AU) کے فاصلے پر ہے۔ اب ذرا بتائیں کہ زمین کے فاصلے کہاں گئے؟ لاہور سے کراچی تک کا فاصلہ، پاکستان سے امریکہ یا افریقہ تک کا فاصلہ کیا حیثیت رکھتا ہے۔
سورج:
زمین کا بادشاہ سورج زمین سے ایک 109 گنا بڑا ہے۔ یعنی جس طرح ہماری زمین ہے اس طرح کی اگر 109 زمینیں ہوں تو اکیلا سورج بنے گا۔ ہمارے نظامِ شمسی میں یہ روشنی اور توانائی کا مرکز ہے۔ سورج کا زمین سے اوسط فاصلہ تقریباً 000،98، 95،14 کلومیٹر ہے۔ اگر زمین سے سورج کو دیکھتے ہیں تو وہ دو فٹ پر نظر آجاتاہے۔ مغرب سے دنیا کو دیکھنے لگیں گے تو زمین نظر نہیں آئے گی، وہاں سے تو ذرا سا نقطہ نظر آئے گا۔
نوری سال:
ہم نے اپنے سفر کو اور بھی جاری رکھنا ہے تو اب ہمیں کلومیٹر کا لفظ ہے چھوڑنا پڑے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ چیزوں کے مختلف پیمانے ہیں۔ کپڑا ناپنا ہو تو گز یا میٹر لیتے ہیں۔ اگر کوئی ایریا ناپنا ہو تو گز یا فٹ یا مرلہ یا کنال یا مربع ہوتا ہے۔ جب سفر آتا ہے تو کلومیٹر کی بات آتی ہے۔ اور جب کائنات کی بات آتی ہے تو کلومیٹر کا معاملہ بھی ختم ہو جاتا ہے، اب کلومیٹر سے کائنات کو کچھ نہیں سمجھ سکتے۔ وہاں کے میٹرنگ فارمولے کو نوری سال کہتے ہیں۔
نوری سال کیا ہوتا ہے؟ مثلاً روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ تیز رفتار گھوڑا بھی ہوتا ہے، عقاب اور چیتا بھی ہوتا ہے، ہوا کی رفتار بھی تیز ہے۔ ان تمام چیزوں میں ہم نے دیکھا کہ روشنی کی رفتار سب سے زیادہ تیز ہے۔ اور یہ کتنی ہے؟ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ یعنی ایک سیکنڈ میں زمین کے تقریباً سات چکر لگا لے گی۔ چوبیس ہزار میل کی زمین ہے اور روشنی کی اسپیڈ ایک لاکھ چھیاسی ہزار فی میل، تو ایک سیکنڈ تو بولنے میں ہوگیا اور یہ جملہ بولنے سے پہلے ہی وہ کئی چکر لگا چکی ہے۔ اللہ اکبر! اتنی اسپیڈ ہے روشنی کی۔ اور اگر کلومیٹر سے حساب لگائیں تو تقریباً تین لاکھ کلومیٹر پَر سیکنڈ بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس کائنات کو مکمل طور پر تو ہم سمجھ نہیں سکتے، لیکن اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے روشنی ایک سیکنڈ کے اندر تین لاکھ کلو میٹر کا سفر طے کرتی ہے۔ اب اگر یہ روشنی ایک سال چلتی رہے تو ایک سال بعد جہاں یہ پہنچے گی اس کو ایک نوری سال (لائٹ ائیر) کہتے ہیں۔ ایک منٹ میں 60 سیکنڈ ہوتے ہیں، اور ایک گھنٹے میں60 منٹ، ایک دن میں چوبیس گھنٹے، اور ایک سال میں ہوئے تین سوپینسٹھ دن بنتے ہیں۔ اب کوئی کیلکولیٹ کرتا چلا جائے تو ایک نوری سال کتنے کلومیٹر بنے گا؟ نو ہزار چارسوساٹھ کلومیٹر۔ سبحان اللہ! یہ ایک نوری سال بنتا ہے۔ اور سورج کی روشنی آٹھ منٹ، اُنیس سیکنڈ میں زمین پر پہنچتی ہے تو اندازہ کر لیجیے کہ سورج ہم سے کتنا دور ہے اور اس کی روشنی کتنا ٹریول کر کے ہمارے پاس آتی ہے۔ یہ اللہ کی شان ہے۔ اگر اللہ ربّ العزّت اس کو قریب کر دیں تو ہم جل کر مر جائیں، اور دور کر دیں تو بھی مر جائیں۔ یہ محض اس کی رحمت اور شان ہے۔
یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ سورج بہت بڑے بڑے ستاروں کے گروہ کا حصہ ہے جسے ہم ملکی وے کہتے ہیں۔ بڑا ہونے کے باوجود بھی اس ملکی وے کا درمیانی حصہ کہلاتا ہے۔ یہ ہماری کائنات سے قریب ترین سیارہ ہے اور اس کی روشنی ہم تک پہنچنے میں چار نوری سال لگتے ہیں۔ اور اللہ کی قدرت دیکھیے کہ یہ روشنی صرف آٹھ منٹ اور اُنیس سیکنڈ میں ہم تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح اس کائنات میں کئی ایسے سیارے ہیں جو خاص آلات کی مدد سے دکھائی دیتے ہیں۔ اور ان کی روشنی کو ہم تک پہنچنے کے لیے کافی وقت لگتا ہے۔ اس میں سے ایک وہ سیارہ بھی ہے سائنسدانوں کے مطابق اس کی روشنی چودہ ارب سال پہلے وہاں سے نکلی تھی، وہ اب یہاں پہنچ رہی ہے۔
کہکشائیں:
کائنات کی وسعت کا اندازہ ہم اس بات سے بھی کر سکتے ہیں کہ محدود مشاہدات کے بعد انسانی عقل بھی بےبس ہو جاتی ہے کہ اس سے آگے کیا ہے سمجھ نہیں آرہا۔ یہ ایک کہکشاں ہے جس میں ہم لوگ رہ رہے ہیں۔ اور اس طرح کی بہت ساری بڑی بڑی کہکشائیں ہیں۔ ہماری کہکشاں میں دو ارب ستارے ہیں۔ ہم زمین سے دیکھتے ہیں تو ستارے ہمیں نظر آرہے ہوتے ہیں۔ یہاں سے دیکھنے میں لگتا ہے کہ چھوٹا پُل بنائیں تو وہاں پہنچ جائیں، حالاںکہ ایسا نہیں ہے۔ وہ ستارے آپس میں بھی کافی دور ہیں۔
ہماری کہکشاں سے بڑی کئی کہکشائیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر روشنی کی رفتار سے حرکت کرنے والی خلائی گاڑی سے سفر کیا جائے تو کہکشاں کے ایک کنارے سے دوسرے تک جانے میں 2 لاکھ نوری سال لگیں گے۔ کہکشاں میں ستارے بھی ملین اور ٹریلین ہوتے ہیں۔ جب بےشمار کہکشائیں جمع ہو جائیںتو پھر اس کو کلسٹر کہا جاتا ہے۔ ایک کلسٹر کے اندر ہزاروں لاکھوں کہکشائیں ہیں، اور ہر کہکشاں میں اربوں کھربوں کی تعداد میں ستارے اور سیارے ہیں۔ اور جب ان کلسٹر کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو ان کو سپر کلسٹر کہا جاتا ہے۔ سائنسدان اسے ہائپیرین کہتے ہیں۔ ایک بات یہ واضح رہے کہ ابھی تک ہم آسمان سے نیچے نیچے چل رہے ہیں، آسمان پر نہیں پہنچے۔ سائنسدانوں کے مطابق تقریباً ایک کروڑ کے قریب کائنات میں سپر کلسٹر ہیں۔ سپر کلسٹر سے نیچے آئیں گے تو کلسٹر، اس سے نیچے آئیں گے تو کہکشاں، اسی طرح یہ سلسلہ پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو ختم نہ ہونے والا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ ربّ العزّت فرماتے ہیں:
وَالسَّمَآءَ بَنَيْنٰہَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۝۴۷ (الذّاریات: 47)
’’اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا ہے، اور ہم یقیناً وسعت پیدا کرنے والے ہیں‘‘۔
بلیک ہول کیا ہے؟
اسی طرح کائنات کے اندر ایک چیز اور بھی ہے اس کو بلیک ہول کہا گیا ہے۔ یہ بلیک ہول کیا ہے؟ پوری کائنات کے اندر کچھ جگہیں ایسی ہیں جہاں صرف اندھیرا ہے، اس کے بارے میںانسان کو کوئی تفصیل معلوم نہیں۔ آج تک سائنسدانوں نے نہ اس کو دیکھا ہے، اور نہ کبھی دیکھ سکیں گے۔ اتنا معلوم ہے کہ جو بھی چیز اس کے سامنے آتی ہے وہ اس کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ سورج، ستارے بھی اگر سامنے آجائیںتو یہ ان کو کھا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اندھیرا کیوں نظر آتا ہے؟ اصل میں بلیک ہول میں تھوڑی جگہ پر انتہائی زیادہ مادے کی وجہ سے اس کی کشش اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ روشنی، جو اب تک کی تحقیقات کے اعتبار سے اس کائنات کی سب سے تیز ترین چیز ہے، بھی اس سے فرار نہیں ہوسکتی۔
چناںچہ بڑی ریسرچ کے بعد سائنسدانوں نے چند باتیں بلیک ہول کے بارے میں بتائی ہیں:
سائنسدان پہلے یہ کہتے تھے کہ ختم ہو جانا کچھ بھی نہیں ہے، مادہ نہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ ختم کیا جا سکتا ہے، البتہ یہ اپنی صورت بدل لیتا ہے۔ لیکن اب وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ بلیک ہول سے تو ہماری فزکس اور کیمسٹری کے سارے قوانین ختم ہو جاتے ہیں۔ انسان پریشان ہو جاتا ہے، عقل مائوف ہو جاتی ہے، لیکن انسان چاہتا ہے کہ مجھے رہنمائی ملے۔ جب وہ پریشان ہوتا ہے اور رہنمائی ملنا بند ہو جاتی ہے تو معلوم یہ ہوتی ہے کہ انسانی علم کی حد و انتہا بس یہیں تک کی ہے۔ آگے اس کے پاس سوچ ہی کوئی نہیں تو وہاں تک پہنچنے کی بات تو بہت دور کی ہے۔
اب جو انسان اپنے آپ کو بڑا محسوس کرتا ہے وہ جان لے کہ کچھ اور بھی بڑا ہے۔ یہ پہاڑ، یہ زمین، یہ سیارات، یہ گلیکسی، یہ بلیک ہول وغیرہ۔ قرآن مجید صداقتوں کا مجموعہ ہے۔ سچائی سے بھری ہوئی کتاب ہے۔ اس میں اللہ پاک نے فرمایا:
وَالسَّمَآءَ بَنَيْنٰہَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ۝۴۷ (الذاریات: 47)
’’اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا ہے، اور ہم یقیناً وسعت پیدا کرنے والے ہیں‘‘۔
اگر ہم اس آیت پر غور کریں کہ اتنی بڑی بات کوئی خود ہی اپنے منہ سے نہیں بول رہا، اپنی عقل سے نہیں بول رہا۔ یہ بات تو اللہ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔جو لوگ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ کائنات ایک ایکسیڈینٹ ہے جس سے یہ وجود میں آئی۔ اس کے بارے میں ایک سادہ سی مثال یوں سمجھیں کہ ایکسیڈنٹ ہمیشہ تباہی لاتا ہے جہاں بھی ہو، لیکن یہ کونسا ایکسیڈنٹ تھا جس نے پوری دنیا بنا دی۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ایک پاک ذات ہے جس نے اس دنیا کو بنایا۔
اللہ پاک ہم سب کو اپنی ذاتِ عالی کا یقین و استحضار عطا فرمائے آمین۔

وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں