12

اللہ بہت بڑا ہے حصہ دوم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ لَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط (الروم: 27)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

امام ابو حنیفہ کا دہریے کو جواب:
علمائے کرام اور دیگر لوگ منتظر ہیں کہ امام ابو حنیفہ تشریف لائیں گے۔ پھر اس دہریے سے مقابلہ ہوگا، بات چیت ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے وجود کا منکر ہے۔ اللہ کی شان کہ امام صاحب نہیں آئے۔ دہریہ خوش ہونے لگا اور اس نے مسلمانوں کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔ مسلمان بڑے پریشان ہوئے کہ یا اللہ! یہ کیا ہو گیا۔ جب کافی دیر گزر گئی تو آواز آئی کہ امام صاحب آ گئے ہیں۔ شور ہونے لگا کہ امام ابو حنیفہ آگئے، امام ابو حنیفہ آگئے۔ جب امام صاحب تشریف لائے تو ان سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی گئی۔ اس دہریے کے سامنے امام صاحب نے فرمایا کہ دیکھو! میں جب دریا کے کنارے پہنچا تو کشتی کوئی نہیں تھی۔ پریشان ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ایک درخت ہے وہ خود بہ خود کٹا، اس کے تختے بنے، پھر وہ تختے خود ہی پانی میں آگئے، پھر کیلیں بھی خودبخود لگ گئیں، اور کشتی بن گئی، پھر وہ تیر کر میرے پاس آبھی گئی،میں اس میں بیٹھ گیا،اور وہ مجھے دریا کے پار لے کے ادھر آگئی۔ بس اس سارے معاملے کی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی۔
وہ دہریہ کہنے لگا کہ مسلمانو! تم ان کو عقل مند کہتے ہو، اس سے بڑا تو پاگل کوئی نہیں۔ (نعوذباللہ) ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ خودبخود ہی درخت کٹ گیا، اور تختے جڑ گئے، اور ان کو بٹھا کر چپو بھی چل گئے اور یہاں لے بھی آئی۔ جب اس نے اس بات کا کافی مذاق اڑایا تو امام صاحب نے سادہ سی بات فرمائی کہ دیکھو! جب ایک چھوٹی سی کشتی خود نہیں بن سکتی تو اتنی بڑی کائنات بغیر کسی کے بنائے کیسے بن سکتی ہے؟ اس کائنات کا بنانے والا بھی کوئی ہے۔ (شرح الطحاویۃ في العقیدۃ السلفیۃ)
سات آسمان:
ابھی تک جتنا بیان ہوا وہ کائنات سے متعلق تھا۔ اس میں ایک اور بات بھی سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ ذرا غور کریں کہ اس کائنات کا اربوں نوری سال کا ڈایامیٹر ہوگا۔ اور یہ بڑھ رہی ہے، پھیل رہی ہے۔ اور ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں ہمارے ناقص خیال میں اربوں نوری سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ یہ انسان اپنی زندگی میں یہ فاصلہ طے کرہی نہیں سکتا۔ لیکن یہ ساری کی ساری کائنات پہلے آسمان کے نیچے ہے۔
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا (النبا: 12)
اللہ تعالیٰ نے سات مضبوط آسمان بنائے ہیں۔ اور ان میں ستاروں کو سجا دیا ہے۔
وَلَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ (الملک: 5)
دیکھیں! ہم جہاں بیٹھے ہیں یہ ایک بڑا ہال ہے۔ اس میں قمقمے لگے ہوئے ہیں۔ بتائیے کہ یہ چھت بڑی ہے یا قمقمے بڑے ہیں؟ لازمی سے بات ہے کہ چھت بڑی ہے، اس کے سامنے قمقمے چھوٹے ہیں۔ اگلی بات کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ سی مثال پیش کی۔ یہ جتنی بھی یونیورس کی ایکسپنشن ہے، اور جتنی اس کی یہ گلیکسیز، ستارے، یہ کلسٹرز، سپر کلسٹرز ہیں یہ سب کے سب پہلے آسمان کے نیچے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ پہلا آسمان کتنا بڑا ہوگا؟ اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ نہ سائنسدان لگا سکتے ہیں، نہ اس بارے میں ہم کوئی بات کرتے ہیں۔ اب پہلے آسمان سے دوسرے آسمان تک کا فاصلہ 500 سال کی مسافت ہے تو دوسرا آسمان پہلے سے بڑا ہے۔ وہ کتنا بڑا ہے اور درمیان میں کیا کچھ اللہ نے بنایا ہو گا، وہ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ اور تیسرا آسمان دوسرے سے بڑا، چوتھا اس سے بڑا، ساتواں ان میں سب سے بڑا۔ ان کے رقبہ کا اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔ ہم تو اس کائنات کا اندازہ نہیں کر سکے۔
کائنات کا اختتام:
اور یہ کائنات وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے لپیٹ دینا ہے۔ ایک دن اسے ختم ہو جانا ہے:
یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ (الأنبیاء: 104)
ایک دن یہ ساری کائنات ختم ہو جائے گی۔
آسمان اور زمین کی ساخت:
اس کائنات کا ہلکا سا ایک اندازہ ہمیں ہوا۔ اس کے بعد پہلا آسمان،دوسرا اس سے بڑا، تیسرا اس سے بڑا، اسی طرح ساتویں آسمان تک یہ سلسلہ چلتا ہے ۔ اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان کے درمیان 500 سالوں کا فاصلہ ہے جیسا کہ حافظ ابن کثیر نے سورۃ الحدید میں روایت ذکر کی ہے۔ جس طرح یہ زمین مٹی کی اللہ تعالیٰ نے بنائی۔ سورج آگ کا گولا ہے۔ اسی طرح آسمان کی اپنی مختلف ساخت ہے۔ اور ہر آسمان کی ساخت الگ ہے، سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ قرآن پاک کے مطابق سات آسمان ہیں، اور سات زمینیں۔ لیکن سات زمینوں کے لیے قرآن میں ارض کا مفرد صیغہ استعمال ہوا:
اَللّٰہُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ ط (الطلاق: 12)
ترجمہ: ’’اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے، اور زمین بھی اُنہی کی طرح‘‘۔
نیچے ساتوں زمینوں تک کیا کچھ ہے؟ جس طرح ساتوں آسمانوں کی وسعت کا ہمیں اندازہ نہیں، اسی ساتوں زمینوں کی تہ اور گہرائی کا بھی ہمیں اندازہ نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔
وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَج وَسِعَ كُرْسِيُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَج
(البقرۃ: 255)
ترجمہ: ’’اور وہ لوگ اُس کے علم کی کوئی بات اپنے علم کے دائرے میں نہیں لاسکتے، سوائے اس بات کے جسے وہ خود چاہے۔ اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے‘‘۔
جنت کی وسعت:
حافظ ابن کثیر کی روایت کے مطابق ساتویں آسمان کے اوپر اللہ ربّ العزّت نے جنت کو بنایا ہے۔ ابھی عرش کی بات نہیں ہو رہی۔ ابھی بات ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان کے اوپر جنت کو بنایا ہے۔ اور یہ جنت کتنی بڑی ہے؟ اوّل ایک تمہیدی بات سمجھیں۔ امام بخاری نے حدیث شریف بیان کی ہے کہ جنت کے 100 درجے ہیں جو مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے ہیں، ایک درجے کا دوسرے درجے سے فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا فاصلہ۔ (صحیح بخاری: رقم 7423)
اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں وہاں پہنچا دے، پھر ہی بات سمجھ آسکتی ہے، ابھی تو ہم ایک اندازہ لے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کمی بیشی معاف فرمائے۔
ان سو درجات کو یوں سمجھیں جیسے 100 جنتیں ہیں۔ اور ہر ہر جنت اس کائنات سے بڑی ہے۔ وہ کیسے؟ دیکھیں! جنت آسمانوں کے اوپر ہے حدیث شریف کے مطابق۔ اور ہر اوپر والا آسمان نیچے والے سے بڑا ہے، تو ساتواں آسمان سب آسمانوں میں بڑا ہوا، اور پھر پہلی جنت ہے جو ساتویں آسمان سے بھی بڑی ہے۔ کیا کوئی اندازہ کر سکتا ہے کہ جنت کا سب سے چھوٹا درجہ وہ اس کائنات سے کتنا بڑا ہوگا۔ اللہ اکبر! جنت کی وسعت کا اندازہ کرنے کے لیے پہلے ایک اور بات جان لیجیے۔ پیمایش کے لیے پہلے کلومیٹر کی بات ہمارے سامنے آئی، پھر میل کی، اورپھر نوری سال کی بات ہمارے سامنے آچکی ہے۔
حضرت جبرائیل کی رفتار:
حضرت جبرائیل کی رفتار کا اندازہ کیجیے۔ ہم اس وقت کیلکولیشن نہیں کر رہے ہیںکہ پوری رفتار ہمارے حساب سے جان سکیں، اور یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ بس مثال کے ذریعہ سے بات سمجھائی جا رہی ہے۔ آسمان کا جو سب سے دور ستارا ہے وہاں سے زمین تک آنے میں اربوں نوری سال کی ضرورت ہے۔ وہ ستارا جو کسی اور گلیکسی میں ہوگا ہماری گلیکسی میں نہیں ہے وہ پہلے آسمان سے نیچے ہے۔ پھر پہلا آسمان، پھر دوسرا، پھر تیسرا، اسی طرح چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں آسمان، پھر اس کے اوپر جنت۔ اب دیکھیے کہ حضرت جبرائیل کی رفتار کتنی تیز ہے؟ اللہ اکبر! اِدھر کے بھائیوں نے انہیں کنویں میں پھینکا، حضرت یوسفd نیچے نہیں گرے تھے کہ حضرت جبرائیل کو عرشِ مجید کے مالک کی طرف سے حکم ہوا کہ جائو اور میرے یوسف کو سنبھالو۔ حضرت یوسف کے نیچے گرنے سے پہلے حضرت جبرائیل پہنچ گئے اور ان کو سنبھال لیا۔ اب اس کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟
حضرت ابراہیم چُھری پھیر رہے ہیں، حکم ہوتا ہے جبرائیل! جائو مینڈھا لے جائو، اسماعیل کو نکالو اور مینڈھے کو نیچے لگائو۔ اب حضرت جبرائیل نے جنت سے مینڈھا لیا اور منیٰ کے مقام پر پہنچ گئے۔ اندازہ کرسکتے ہیں کہ کتنی تیز رفتار ہوئی۔ یہ تو لمحوں کی بات ہوئی۔ یہاں نوری سال گئے، نوری سال کی کیلکولیکشن بھی ختم ہوگئی۔ جس طرح خلا میں جا کر کلومیٹرز زیرو ہو جاتے ہیں، وہاں نوری سال بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ خود قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب معراج کے لیے آقاﷺ کو بلایا گیا:
سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِہٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا
(الإسراء: 1)
ترجمہ: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی‘‘۔
نہ کوئی راکٹ ہے، نہ کوئی خلائی لباس ہے، آقاﷺ وہی سادہ کرتا اور تہبند پہنے ہوئے ہیں۔ اسی لباس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اپنے پاس بلا لیا اور سارے سفر طے کروا دیے۔ اب ان پیمائشوں کو کون ناپ سکتا ہے، رفتار کو کون سمجھ سکتا ہے۔ حضرت جبرائیل کے 600 پر ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 3232، صحیح مسلم: رقم 174)
دو پر کھولتے ہیں تو مشرق ومغرب ڈھانپ جاتے ہیں۔ مشرق و مغرب کا اتنا بڑا فاصلہ اور اس کو صرف دو پَروں سے ڈھانپ دینا انسان کی عقل،شعور،اِدراک سے دور ہے۔ انسان محدود ہے، اس کی عقل اس وسعت و رفعت کو نہیں پہنچ سکتی، مگر جسے اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔
جنت کا درخت:
آپ کسی فقیر سے مانگیں وہ 10 روپے دے دے گا۔ ملک کے وزیر سے مانگیں وہ50 ہزار سے لاکھ دے دے گا۔ سعودی عرب کے بادشاہ سے مانگیں وہ ملین بلین میں دے گا۔ ہر دینے والا اپنے حیثیت کے مطابق دیتا ہے۔ سعودی عرب کا بادشاہ10 روپے نہیں نکال کر دے گا، اگر دے گا تو کوئی بڑی امائونٹ دے گا۔ تو پروردگار کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اب اللہ کی دَین کا ذرا سا نظارا کیجیے۔
حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے ایک مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھا، اس کے لیے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جاتا ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 3464)
دوسری حدیث حضرت ابوسعید سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے: جنت میں ایک ایسا درخت ہے کہ بہترین تیز رفتار گھڑ سوار اس کے سائے میں سو سال تک دوڑتا رہے، لیکن اس کا سایہ ختم نہ ہوگا۔ (صحیح مسلم:کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ)
یہ ایک درخت کی بات ہے، اور ایسے نہ جانے کتنے ہی درخت اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے وہاں رکھے ہیں۔ اب اس کی ذرا سی کیلکولیشن ہم کرتے ہیں۔ ہم ایوریج لے لیں کہ جو بہت اچھی نسل کا اعلیٰ گھوڑا ہے، یہ اگر 70 کلومیٹر ایک گھنٹے میں دوڑتا ہو تو 70 ضرب 24 ، یہ ایک دن میں 1680 کلومیٹر بن گیا۔ اور ایک مہینے میں 30 دن ہوتے ہیں تو اس طرح ایک مہینے میں 50400 کلومیٹر کا سفر ہوا۔ اور زمین کا کل رقبہ 24 ہزار میل ہے تو ایک مہینے میں ہی زمین کی مسافت سے زیادہ ہو گیا۔ پھر سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں تو 12 کو ہم ضرب دیتے ہیں 50400 سے، حاصل جواب 604800 کلومیٹر ایک سال میں۔ اب اگر اس حاصل جواب کو ہم ضرب دیں ستر سے تو یہ بنتا ہے 42336000۔ یعنی 4کروڑ، 23 لاکھ، 36 ہزار کلومیٹر ہوا۔ اور یہ صرف ایک درخت کا سایہ جہاں تک پڑ رہا ہے، اتنے حصے کی بات ہوئی ہے۔
جب جنت کے ایک درخت کا رقبہ اتنا بڑا ہے تو وہ درخت خود کیسا ہوگا؟ اللہ کے نبیﷺ نے یہ بات بھی اُمت کو بتائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں ہے جس کا تنا سونے کا نہ ہو۔ (سنن ترمذی: رقم 2461)
دنیا اصل نہیں ہے:
اب جو اللہ اللہ کرتے ہیں، لوگوں کو اللہ کا نام اسمِ ذات سکھاتے ہیں، ان کا قیامت کے دن کیا ہی مقام ہوگا۔ اور جن کو سارا دن وقت ہی نہیں ملتا اورکرو بات ساری رات۔ اِدھر سے بھی حرام باتیں، اُدھر سے بھی حرام باتیں۔ ذرا سوچیں کہ قیامت کے دن کتنے نقصان اور افسوس کے اندر ہوں گے۔ لوگوں کو سمجھایا جائے کہ چھوڑ دو حرام گفتگو، اور گالیاں دینا چھوڑ دو۔ یہاں تو ہم اِنچوں کے لیے لڑتے ہیں۔ سگے بھائی، ایک ماں باپ کی اولاد، ایک گود میں کھیلنے اور پلنے والے، ایک دوسرے سے بچپن میں بہت محبت کرنے والےسگے بھائی بہن انچوں کے لیے لڑتے ہیں، مرلوں کے لیے لڑتے ہیں، مربعوں کے لیے لڑتے ہیں، کنالوں کے لیے لڑتے ہیں۔ ان چھوٹے موٹے حساب کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔ اور یہ دنیا ہم سب نے چھوڑ کر جانی ہے۔ بس اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی کا یقین دل میں اُتارنا ہے، اور اس کی رضامندی والے اعمال کرنے ہیں۔ جس سے وہ راضی ہوگیا، اس کے وارے نیارے ہوگئے۔
اعمال کی حیثیت کو پہچانیں:
جو نمازی ہر نماز کے بعد 33مرتبہ سبحان اللہ،33 الحمد للہ، اور 34 اللہ اکبر پڑھتا ہے تو اس کے لیے بڑا اجر ہے۔ وہ یہ کہ ان تسبیحات کا پڑھنے والا کبھی ثواب سے یا بلند درجوں کے حاصل کرنے سے محروم نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم: رقم 596)
اور جو تینتیس، تینتیس مرتبہ ان کلمات کو پڑھے اور ایک مرتبہ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ.
پڑھے، اللہ تعالیٰ اس پڑھنے والے کے سارے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم: رقم 597)
ان تسبیحات کے پڑھنے میں کتنا معمولی وقت لگتا ہے، اور اَجر کتنا بڑا ہے۔ سارے ہی نمازی اہتمام سے اسے کرنا شروع کردیں تو اللہ تعالیٰ سب کو دیتے چلے جائیں گے اور اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
گھاٹے میں کیوں پڑے ہیں؟
آج ہم نامحرموں سے تھوڑی سی گفتگو کے لیے جنت کا سودا کر لیتے ہیں۔ بھائی سے لڑائی کر کے 10،20،50 ہزار،لاکھ،کروڑ (مال) کے لیے جنت کا سودا کر لیتے ہیں، اپنے اخلاق کا سودا کر لیتے ہیں۔ ہم کتنے بڑے گھاٹے میں ہیں اور حقیقی نفع سے دور ہیں۔ ایک مرتبہ سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ پڑھنے کا کتنا بڑا اَجر ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس کے لیے وضو کی شرط بھی نہیں ہے، اور ہم اسے نہیں کر رہے۔ ایک سُبْحَانَ اللہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ کا حساب ہم سے پورا نہیں ہو رہا، تو نماز پہ کیا ملے گا؟ اچھے اخلاق پہ کیا ملے گا؟ دوسرے کو معاف کرنے پہ کیا ملے گا؟ دین کا کام کرنے پہ کیا ملے گا؟ نبی کریمﷺ کی سنت کو زندہ کرنے پہ کیا ملے گا؟ دین کا کام کرتے کرتے شہید ہو جانے پہ کیا ملے گا؟ اس کو کون کیلکولیٹ کر سکتا ہے؟ کسی انسان کے اندر قوت ہی نہیں۔ جنت اللہ نے اتنی بڑی بنائی ہے، تو جنت کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ دنیا کی چھوٹی بڑی سب چیزیں ختم ہو جانے والی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں، اور بہت بڑے مہربان ہیں۔
عرشِ عظیم:
انسان جب اپنی قوت و طاقت کو کچھ سمجھنے لگتا ہے کہ میں کچھ ہوں، پھر جب آگے دیکھتا ہے تو اس کو بڑی سے بڑی چیز نظر آتی جاتی ہے۔ ایک بڑی کائنات، پھر ساتوں آسمان، پھر جنت۔ اب جنت کے اوپر اللہ ربّ العزّت کا عرش ہے۔
ھل تدرون ما فوق ذلك؟
ترجمہ: ’’کیا تم جانتے ہو کہ اس (ساتویں آسمان) سے اوپر کیا ہے؟‘‘
قالوا: اللّٰه ورسوله أعلم.
ترجمہ: ’’عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) بہتر جانتے ہیں‘‘۔
إن فوق ذلك العرش. (مشکاۃ المصابیح: باب بدء الخلق وذكر الأنبياء)
ترجمہ: ’’اس کے اُوپر عرش ہے‘‘۔
عرشِ الٰہی جنت سے بھی بڑا ہے۔ وہ کتنا بڑا ہو گا؟ ایک حدیث شریف میں ہے:
أن عرش الرب جلّ وعلا هو سقف جنّة الفردوس.
(فتاوى نور على الدرب: 2/4)
ترجمہ: ’’یقیناً اللہ تعالیٰ کا عرش، وہ جنت الفردوس کی چھت ہے‘‘۔
ایک مرتبہ حضور پاکﷺ نے حضرت بلال سے پوچھا کہ اے بلال! کیا تمہارے پاس (خرچ کرنے کے لیے) کچھ ہے؟ حضرت بلال نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میرے پاس سوائے ایک مٹھی کے بقدر (کسی چیز) کے اور کچھ نہیں ہے۔ فرمایا: خرچ کرو اے بلال! اور عرشِ عظیم کے مالک سے کمی کے متعلق نہ ڈرو۔
(فوائد ابن حیان: رقم 90)
پریشانی سے حفاظت کا نسخہ:
اور ہم عرشِ عظیم کے مالک سے کیا مانگتے ہیں؟ یہ پریشانی ہے، وہ پریشانی ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے پریشانیوں سے بچنے کے لیے ایک عجیب نسخہ بتایا۔ سورۂ توبہ کی آخری دو آیات عجیب اکسیر ہیں۔ انسان جس پریشانی میں ہو صبح و شام 7،7 دفعہ پڑھیں اللہ تعالیٰ اسے نکال دیتے ہیں۔ اس دعا میں بھی عرشِ عظیم ہی کا ذکر ہے:
حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ o (التوبۃ: 129)
ترجمہ: ’’میرے لیے اللہ کافی ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی پر میں نے بھروسہ کیاہے، اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے‘‘۔
وہ عرشِ عظیم کا مالک ہے جس نے اتنا کچھ بنا لیا، وہ میری چھوٹی موٹی ضروریات کو کیسے پورا نہیں کرے گا، وہ ضرور پورا کرے گا۔
کرسی:
عرش کے اوپر کرسیہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( البقرۃ: 255)
ترجمہ: ’’اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے‘‘۔
اس کی مثال ہم نہیں دے سکتے۔ حضرت امام مالک سے کسی نے اس طرح کا سوال پوچھا کہ عرش، پھر کرسی، پھر استواء علی العرش کا کیا مطلب ہے؟ امام صاحب نے بہت بہترین جواب دیا اور یہی اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ ہے۔ فرمایا:
الاستواء معلومٌ، والكيف مجهولٌ، والإيمان به واجبٌ، والسؤال عنه بدعةٌ.
ترجمہ: ’’استواء معلوم ہے، کیفیت معلوم نہیں ہے، اس پر ایمان رکھنا واجب ہے، اور اس کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے‘‘۔
یہ سب عنداللہ ہیں، اور جو اس کے شایانِ شان ہے ویسا ہے مَا یَلِیْقُ بِشَأْنِہٖ۔
پھر آگے ستر ہزار نور کے پردے ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔ اللہ ربّ العزّت کی ذاتِ مبارک لامحدود ہے۔ زمین بھی محدود،آسمان بھی محدود، جنت بھی محدود، عرش بھی محدود۔ یہ سب اس کی مخلوق ہیں، چاہے یہ جتنے بھی بڑے ہوں لیکن کوئی نہ کوئی ان کی حد ہے۔ پروردگارِ عالم تو لامحدود ذات ہے۔
اللہ تعالیٰ کی محبت:
ایک سنداً کمزور حدیث قدسی میں ہے کہ ساتوں زمین اور ساتوں آسمان اس کی طاقت نہیں رکھتے کہ میں ان میں سما جاؤں، لیکن اس مؤمن بندے کا دل اس کی طاقت رکھتا ہے جو پرہیزگار اور نرم خو ہے۔ (الزھد لابن ابی عاصم: ص 18)
اور جس دل کے اندر نامحرم کی محبتیں ہوں، حرام محبتیں ہوں، انسانوں کے لیے بغض ہو، غصہ ہو، رشتہ داروں کے لیے نفرتیں ہوں۔ ایسے غلیظ اور ناپاک دل کے اندر کیا اللہ پاک کی ذات آسکتی ہے؟ مثلاً ایک چھوٹا سا پیالہ لیں جس میں کوئی نجاست لگی ہوئی ہو، اور اپنی سگی، محبت کرنے والی ماں کے آگے رکھیں اور کہیں کہ ماں! مجھے پیاس لگی ہے، بھوک لگی ہے، دودھ آپ کے پاس ہے، ذرا اس میں دودھ ڈال دیں۔ ماں کہے گی کہ میاں! جائو، پہلے پیالہ صاف کر کے لائو، پھر جتنا مرضی دودھ لے لینا۔ کون عقلمند کہے گا کہ ماں نے دودھ دینے سے منع کر دیا؟ استغفر اللہ۔ بات یہ ہے کہ دودھ منع نہیں ہے، لیکن گندے پیالے میں نہیں دیتی۔ برتن صاف نہیں ہے۔ کیا خیال ہے کہ جس دل میں نامحرموں کی محبتیں ہوںگی، کیا اللہ کی محبت وہاں آجائے گی؟ اللہ آ جائیں گے؟ اللہ غیرت والے ہیں۔ اللہ غیور ہیں۔ یہ دل ایک ہے، اور ایک اللہ کے لیے ہے۔ وہ شخص بڑا خوش نصیب ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے نواز دے۔
خوش نصیب شخص:
جو انسان نیکی وتقویٰ اختیار کرتا ہے، وہ ایک بڑا مقام اللہ کی یاد کے ساتھ حاصل کر لیتا ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے حدیثِ قدسی مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا بندہ نوافل (کی ادائیگی) کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،میں اس کے پائوں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ جب وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اس کے سوال کو پورا کرتا ہوں، اور جب وہ مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں، اور جب وہ مجھ سے کسی (شر) میں پناہ مانگتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں۔ (صحیح بخاری: رقم 6502)
جو اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے طریقوں کے مطابق اپنی زندگی ڈھال لیتا ہے، اس کی کتنی عظمت ہے۔ یہ چھوٹی بات نہیں ہے بہت بڑا مقام ہے۔ جب ہم اپنے دل کو غیر سے خالی کریں گے، اللہ کی یاد میں وقت گزاریں گے۔ پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کیسے آتی ہے۔
ایمان اور شکر گزاری:
اتنا بڑا پروردگار،اتنی عظمتوں والا پروردگار وہ اپنے قرآن میں کیا فرماتا ہے:
مَا يَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط وَكَانَ اللّٰہُ شَاكِرًا عَلِيْمًا۝۱۴۷
(النسآء: 147)
ترجمہ: ’’اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنوںمیں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا؟ اللہ بڑا قدر دان ہے، (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے ‘‘۔
ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں الحمد للّٰہ! ہم شکر کرنے والے بن جائیں، سابقہ کوتاہیوں سے معافی مانگنے والے بن جائیں پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کیسے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اَلَيْسَ اللّٰہُ بِكَافٍ عَبْدَہٗ ط (الزمر: 36)
ترجمہ: ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟‘‘
اللہ ہمارے لیے کافی ہیں،اللہ ہمارے لیے کافی ہیں۔ اب اللہ کے غیر کو چھوڑ کر اللہ کے در کو پکڑ لیجیے۔ اللہ کو منا لیجیے۔ اللہ راضی ہونے کے لیے تیار ہیں۔ آج دل میںارادہ کر لیں کہ اللہ! آج کے بعد تیرے غیر کو محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔ ہم بےحیا نہیں ہیں۔ ہم بےحیائی والے نہ دن منائیں گے، نہ راتیں منائیں گے، نہ بےحیا لوگوں جیسا لباس پہنیں گے، نہ ان جیسے اعمال کریں گے۔ اللہ! ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے دل میں آجائیں، آپ ہمارے دل میں سما جائیں، آپ ہمارے دل میں چھا جائیں۔ یہ دل اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کے لیے ہے، اور اس کی صفائی کی ذمہ داری ہماری ہے۔
انسانی دل کی چابی:
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ گھر کی صفائی ستھرائی میزبان کا کام ہے، اس کی ڈیوٹی ہے۔ مہمان کا کام نہیں کہ وہ کسی کے گھر آئے تو اس گھر کی صفائی ستھرائی میں لگ جائے۔ اسی طرح اس دل کو صاف کرنا ہمارا کام ہے، کیوںکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی محبت آنی ہے۔ دیکھیں! اللہ تعالیٰ نے مختلف چیزیں بنائیں اور ان کی چابیاں مختلف لوگوں کو دیں۔ بیت اللہ شریف اللہ تعالیٰ نے بنایا مگر اس کی چابی قبیلہ بنوشیبہ کے پاس ہے۔ وہی اس کا سارا انتظام دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم بنائی، اور اس کی چابی جہنم کے داروغہ مالک کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت بنائی، اور اس کی چابی جنت کے داروغہ رضوان کے پاس ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کا دل بنایا، اور اس کی چابی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھی۔
غور کیجیے کہ کسی کی چابی فرشتوں کو دی، کسی کی اپنے بندوں میں سے کسی کو پکڑا دی؟ اور انسان کے دل کی چابی اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھی۔ حدیث شریف میں ہے:
إِنَّ قُلُوبَ بَنِي آدَمَ كُلَّهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ كَقَلْبٍ وَاحِدٍ يُصَرِّفُهُ حَيْثُ يَشَاءُ. (صحیح مسلم عن عبداللہ بن عمرو بن العاص: رقم 4804)
ترجمہ: ’’بے شک تمام بنی آدم کے دل رحمٰن (اللہ تعالیٰ) کی دو انگلیوں کے درمیان ایک دل کی طرح ہیں، وہ جیسے چاہتے ہیں پھیر دیتے ہیں‘‘۔
جہاں بندوں کا دل چاہتے ہیں موڑ دیتے ہیں۔ اس کی قدرت ہم پر کس قدر ہے اللہ اکبر۔ ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں کہ اے اللہ! ہمارے دل کی چابی آپ کے پاس ہے، آپ ہمارے دل کو ہدایت کی طرف موڑ دیجیے، استقامت دے دیجیے۔ قیامت تک، آخری سانس تک، موت تک اے اللہ! ہمیں دین پر استقامت عطا فرما دیجیے۔ مذکورہ حدیث شریف کے آخر میں ہے کہ جنابِ نبی کریمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کی:
اَللّٰهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ .
ترجمہ: ’’اے اللہ دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو آپ کی اطاعت کی طرف پھیر دیجیے‘‘۔
حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت میں رسول اللہﷺ سے ایک اور بھی عجیب دعا منقول ہے۔ حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جب کسی بندے کو پریشانی اور غم لاحق ہو تو وہ یہ دعا مانگے، اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی کو دور کر دیں گے اور اسے خوشی عطا فرمائیں گے۔ حضراتِ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! پھر تو ہمیں اس دعا کو سیکھنا چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں، جو بھی اس دعا کو سنے اسے چاہیے کہ سیکھے (یاد کرے)۔ وہ دعا یہ ہے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ، وَابْنُ عَبْدِكَ ، وَابْنُ أَمَتِكَ ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ ، أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيْعَ قَلْبِي ، وَنُورَ صَدْرِي ، وَجِلَاءَ حُزْنِي ، وَذَهَابَ هَمِّي. (مسند أحمد: رقم 4167)
آج کے حالات میں کیا کریں؟

یہ جو آج دین کا کام کرنے والے ہیں۔ طلباء وطالبات، معلّمین ومعلّمات۔ چاہے کوئی دین کے کسی بھی شعبے میں کام کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں نعمتیں عطا فرمائیں گے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں خالی نہیں رکھیں گے، لیکن اللہ آخرت میں انہیں خاص دینا چاہتے ہیں۔ وہاں جو کچھ ملے گا اس کا اندازہ میں اور آپ نہیں کر سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دین کے لیے ادارے قائم کریں۔ دین کی محنت کریں۔ اور ان لوگوں کے ساتھ جڑ جائیں جو ہمیں حیا اور پاکدامنی کی تعلیم دیتے ہوں۔ آج وہ وقت آچکا ہے کہ بے حیائی کے اڈے کھولنا آسان ہے، اور حیا کی دعوت دینا مشکل کام۔ کافروں نے تو ہمیں اپنا دشمن بنایا ہی بنایا، ایمان والے روشن خیال نئی روشنی اسکول کے پڑھے ہوئے لوگوں نے بھی ہمیں دقیانوسی کہہ کر اپنے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں آجائیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بلاتے ہیں:
يٰٓاَيُّہَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ ۝۶ۙ (الانفطار: 6)
’’اے انسانو! تم اپنے کریم رب کو چھوڑ کر کدھر جا رہے ہو؟‘‘
فَفِرُّوْآ اِلَى اللّٰہِ (الذاریات: 50)
تم سب اللہ کی طرف لوٹ آئو۔ یہ لوٹ آنا انتظار کا معنی دیتا ہے۔ آجائو یہ ایک معنی ہے۔ ایک ہوتا ہے لوٹ آئو یعنی میرے پاس واپس آجائو۔ دونوں میں فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے انتظار میں ہیں۔ جو توبہ کے لیے تیار، سچے پکے ارادے کے ساتھ توبہ کے کلمات پڑھ لے، اللہ تعالیٰ کو منانے کا ارادے کر لے ان شاء اللہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے یہ نعمتیں عطا فرمائیں گے۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں


Notice: Undefined index: HTTP_CLIENT_IP in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 296

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 298

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 300

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 302

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 304

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں