175

اللہ کے مقبول بندوں کا لباس

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِo
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِo
(وَلِبَاسُ التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرٌ) (الاعراف:26)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔ وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

بہترین لباس:
لباس کے بارے میں بات چل رہی تھی،تو لباس اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے آسمان سے نازل کیا تاکہ ہم اس سے زینت حاصل کریں۔ اور بہترین لباس حیا اور پاکدامنی اور تقویٰ کا لباس ہے۔
اللہ کی رضاوناراضگی جاننے کا آسان طریقہ:
کل مجھے کسی کا فون آیا تو وہ کہنے لگے کہ اللہ مجھ سے دور ہوگئے ہیں۔ پہلے ذکر میں مزہ آتا تھا، اب اللہ کو یاد کرنے میں مزہ نہیں آتا اور اب بیماریاں بھی ہوگئی ہیں۔ یعنی لوگ ادھر اُدھر کی باتوں کو اللہ کے قرب اور دوری کا ذریعہ سمجھتے ہیں، مگر اس عاجز کے نزدیک جو اس نے اپنے بڑوں سے سیکھا ہے، وہ یہ ہے کہ اللہ رب العزت کی رضا کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اس کی زندگی کتنی سنت کے مطابق ہے۔ اگر ہماری زندگی سنت کے مطابق گزرہی ہے تو اللہ راضی ہیں اور اگر ہماری زندگی سنت کے خلاف گزررہی ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ناراض ہیں۔ کیونکہ حضورِ پاکﷺ کی اتباع کی توفیق اللہ اسی کو دیں گے جس سے اللہ راضی ہوں۔
نبیﷺکا ایک معجزہ:
ایک گدھے کی بات یاد آگئی کہ نبی کے پاس دوگدھے تھے۔ان میں سے ایک کا نام یعفور تھا۔ اس گدھے کا قصہ بھی بہت عجیب ہے کہ جب آقاﷺ خیبر تشریف لے گئے اور مال غنیمت تقسیم کرنے لگے تو گھوڑے، گدھے اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو بھی تقسیم فرما رہے تھے، کہ ایک گدھا از خود آگے بڑھا اور آقاﷺ کے پاس آکر کہنے لگا: یارسول اللہﷺ! آپ آخری رسولﷺ ہیں اور میں اپنی نسل کا آخری گدھا ہوں۔ اور میری اوپر والی نسلوں پر انبیائِ کرام نے سواری کی ہے۔ آپﷺ کی بڑی مہربانی ہوگی اگر آپﷺ مجھے اپنے لیے قبول فرما لیں۔ اس گدھے کی بات پر آقاﷺ نے اس کو اپنی سواری کے لیے قبول فرما لیا۔ آپﷺ اس پر سوار ہوئے۔ اللہ کی شان! کہ اس گدھے سے نبی کا ایسا تعلق تھا۔ اور وہ گدھا اتنا سمجھدار تھا کہ نبی نے کبھی کسی کو بلانا ہوتا، مثال کے طور پر صدیقِ اکبر کو بلانا ہوتا، یا عثمان، علیکو بلانا ہوتا اور کوئی انسان سامنے نہ ہوتا یعنی صحابہ کرامموجود نہ ہوتے تو نبی اس گدھے کو فرما دیتے کہ جاؤ! فلاں کو بلا کے لے آؤ۔ تو وہ گدھا دوڑتا ہوا جاتا اور جس کو بلایا ہوتا، وہاں جا کر اپنا سر مارتا یا مختلف طریقوں سے دروازہ کھٹکھٹاتا، وہ صحابی باہر تشریف لاتے اور نبی کے گدھے کو دیکھتے تو فوراً آقاﷺ کی خدمت میں پہنچ جاتے کہ آقا کی طرف سے پیغام آیا ہے۔ اس گدھے کو نبی سے ایسی محبت تھی جو بیان سے باہر ہے۔ اللہ اکبر کبیرا۔
جس دن نبی پاکﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے تھے، تو گدھے کو بھی پتا چل گیا کہ نبی اب دنیا میں نہیں رہے۔ تو وہ گدھا چیخنے، چلانے لگا۔ مدینہ کی گلیوں میں بے چین دوڑنے لگا۔ وہ گدھا چیختا رہا، چیختا رہا اور دوڑتے ہوئے کنویں کے اندر گرگیا یا چھلانگ لگادی۔ کنویں کے اندر پانی تھا، جس میں وہ گدھا ڈوب کر مرگیا۔
اب ایک گدھے کو نبی سے اتنی محبت اور اتنا تعلق ہو، ہم تو پھر انسان ہیں، کلمہ پڑھنے والے ہیں۔ ہمیں تو بدرجہ اولیٰ نبی سے اور ان کی سنتوں سے محبت ہونی چاہیے۔
تو لباس کے بارے میں ہم تشبہ تک پہنچے تھے کہ لباس کی شبیہ کیسی ہونی چاہیے۔
مشابہت کا مفہوم:
تشبہ کسے کہتے ہیں؟ اپنی ہیئت اور وضع کو تبدیل کرکے دوسری قوم کی وضع اور ہیت کو اختیار کیا جائے۔ کافروں کی معاشرت، ان کا لباس اور ان کا طرز زندگی اختیار کرنا اصل میں یہ ان کی برتری کو تسلیم کرناہے۔
اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دعویٰ ایمان کا، اللہ اور اس کے نبیﷺ سے محبت کا، اور لباس کافروں کا۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے
فاروق اعظم کی دور بینی:
فاروقِ اعظم کی نظر بڑی دور تک جاتی تھی ، بہت گہری تھی۔ جب ان کے دور خلافت میں مملکت اسلامیہ بہت پھیل گئی، تو ان کو خطرہ ہوا کہ عجمی لوگ (جو کہ غیر عربی ہیں)ان لوگوں کے ساتھ میل جول ہوگا، تو ان لوگوں کا رہن سہن اور ہے اور نبیکا اور ہے۔ تو اس کے متعلق انہوں نے کفار کو الگ نصیحتیں فرمائی اور ایمان والوں کے لیے الگ حکم جاری فرمایا۔ مسلمانوں کو یہ تاکید کی کہ تم غیروں کی مشابہت ہرگز اختیار نہ کرنا۔ اور دوسری طرف غیروں کو کہا کہ وہ اپنے طور طریقے پر ہی رہیں وہ اسلام والوں کی وضع وقطع اختیار نہ کریں۔
ہمیں کیسا لباس اختیار کرنا چاہیے؟
چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ عمر بن خطاب نے فارس (ایران) میں مسلمانوں کو حکم بھیجا کہ وہ مشرکین اور کافروں کے لباس سے دور رہیں۔ اور الفاظ یوں ادا فرمائے۔ اما بعد!
’’اے مسلمانو! ازار اور چادر کا استعمال کرو۔ جوتے پہنو۔ اور اپنے جدِ امجد حضرت اسماعیل کے لباس کو لازم پکڑو۔ عجمیوں کے لباس یعنی غیروں کے لباس، ان کے وضع قطع اور ان کے طرز سے دور رہو۔ موٹے کھردرے اور پرانے کپڑے استعمال کرو یعنی عاجزی اختیار کرو۔ تو اس طرح کے فرمان انہوں نے دونوں طرف بھیجے، تو معلوم یہ ہوا کہ ہمیں وہی لباس اختیار کرنا ہے جو رسولِ پاکﷺ کا لباس ہے۔
(شمائل کبریٰ جلداول صفحہ 198 )
پاجامے کا بیان:
پاجامہ پہننا سنت ہے۔ اگر عورتیں پہنیں تو نبی کی طرف سے وہ دعائے رحمت میں شامل ہوتی ہیں۔
آپﷺ کی پاجامہ پہننے والی عورتوں کے لیے دعا:
حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ بارش کے دنوں میں بقیع غرقد (جنت البقیع) کے مقام پر موجود تھا۔ نبی بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں گدھے پر سوار ایک عورت گزری، جس کے اوپر کچھ بوجھ بھی تھا۔ جب وہ نشیبی جگہ پر پہنچی تو بارش کی وجہ سے وہاں پھسلن تھی، لہذا وہ عورت گر گئی، جب وہ گری تو آپ نے اپنا چہرہ مبارک پھیرلیا کہ کہیں بے پردہ نہ ہوگئی ہو۔ تو صحابہ کرامنے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! یہ عورت پاجامہ پہنے ہوئے ہے(کیونکہ اس زمانہ کی بعض عورتیں لنگی بھی پہن لیا کرتیںتھیں) تو یہ سن کر آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’یا اللہ میری امت کی ان عورتوں کو جو پاجامہ پہنتی ہیں بخش دیں۔ (مغفرت فرما) پھر فرمایا: اے لوگو! شلوار (پاجامہ)کا زیادہ استعمال کرو۔ یہ تمہارے کپڑوں میں زیادہ پردہ کی چیز ہے، اور اپنی عورتوں کو جب وہ باہر نکلا کریں، تو ان کو پاجامہ پہننے کی ترغیب دو۔ اور بعض روایات میں ہے کہ آپ نے تین مرتبہ رحمت کی دعا فرمائی۔
(بزار، آداب بیہقی صفحہ378، مجمع کنز)
ممنوع لباس:
اب جو عورتیں پتلون پہن لیں تو اس کو علمانے منع فرمایا ہے یا اور کوئی آڑھا ترچھا پاجامہ پہن لیں تو (جن کی عقلیں آڑھی ہوتی ہیں، وہ پاجامہ بھی آڑھا پہنتی ہیں) اس کی بھی شریعت کے اندر کوئی گنجائش نہیں۔ ایسا سادہ پاجامہ پہننا چاہیے جو باریک بھی نہ ہو، اور انسان کے پردے کے کام بھی آئے۔ تو اس کے پہننے والے کے لیے نبیکی دعائے رحمت ہے۔ اب جو خواتین ٹراؤزر پہن لیتی ہیں یا کچھ اور غیر شرعی چیزیں پہن لیتی ہیں، جو فیشن کے مطابق تو ہوں، مگر سادگی سے دور ہوں تو وہ خواتین بھی نبی کی دعاؤں سے دور ہوجاتی ہیں۔ تو اب نبی نے جس کی ترغیب بھی دی ہو کہ اس میں ستر پوشی بھی ہے اور رحمت بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ماحول بھی ایسا ہو جہاں نبیکی سنتیں مٹ رہی ہوں، تو اب کوئی سنت کی وجہ سے پاجامہ پہنے گی، تو سو شہیدوں کے ثواب کی حقدار ہوگی۔ اور یہ بڑی خوش نصیبی کی بات ہے۔
عورتوں کا مسنون لباس کیا ہے؟
عورتوں کے مسنون لباس کے متعلق علمائِ کرام فرماتے ہیں کہ ان کا لباس موٹا ہو، جس سے ان کا بدن، ان کا رنگ ظاہر نہ ہو، بال بھی نظر نہ آئیں اور ڈھیلا ڈھالا ہو چست بھی نہ ہوکہ بدن کے جو ابھار ہیں وہ بھی ظاہر ہورہے ہوں۔ اور مردوں کے ساتھ مشابہت بھی نہ ہو، غیروں کے لباس کے مطابق بھی نہ ہو۔ ’’تشبہ بالکفار‘‘ سخت منع ہے۔
اور آج ہماری خواتین ٹی وی دیکھ کر بازار جاتی ہیں کہ فلاں فلم میں فلاں ایکڑیس (فاحشہ عورت) نے جو لباس بنایا تھا، میرے لیے بھی ویسا ہی لباس ہونا چاہیے۔ یہ بات نبی سے کتنی دوری کی بات ہے۔
باریک لباس کا حکم:
اور باریک لباس کے بارے امی عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابی بکرایک مرتبہ آقاﷺ کے پاس تشریف لائیں تو انہوں نے باریک لباس پہنا ہوا تھا۔ تو نبی نے بے رخی برتی۔ (آنے والے کا تو اکرام کیا جاتا ہے مگر نبی نے بے رُخی برتی)۔ اور فرمایا کہ اے اسماء! جب عورت بالغ ہوجائے، تو اس کا جسم ایسا نہ ہو کہ وہ نظر آئے۔ تو اس سے پتا چلا کہ بالغ عورتوں کے لیے باریک لباس پہننا حرام ہے۔
آپﷺ کا باریک لباس بارے حکم:
حضرت عبداللہ بن عمرiفرماتے ہیں کہ نبی کے پاس ایک لباس کا جوڑا آیا اور ساتھ میں شامی کپڑا بھی تھا۔ جوڑا تو آپﷺ نے مجھے دے دیا۔ اور شامی کپڑا جو کہ بہت (باریک تھا) وہ حضرت اُسامہ کو دے دیا۔ جب میں جوڑے میں ملبوس ہو کر گیا، تو آپﷺ نے حضرت اسامہ سے پوچھا اے اسامہ! آپ بتائیں کہ آپ نے اس کپڑے کا کیا کیا؟ تو حضرت اسامہنے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ! میں نے وہ کپڑا اپنی بیوی کو پہنا دیا۔ تو رسولِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہو کہ اس کے نیچے کوئی موٹا کپڑا لگالے، تاکہ اس کا حجم وہیئت، وضع، قطع جسم کے اعضا ظاہر نہ ہوں۔ (مسنداحمد، مجمع جلد5 صفحہ 264)
تو اس سے ظاہر ہوا کہ اگر کوئی باریک کپڑا ہو، تو نیچے استر لگانا ضروری ہے۔
امی عائشہ کا باریک دوپٹہ پھاڑدینا:
آج کل دوپٹہ تو ان خواتین کو منوں بھاری محسوس ہوتا ہے۔ حضرت علقمہ نے اپنی والدہ سے یہ نقل کیا ہے کہ حضرت حفصہ بنت عبدالرحمٰن، حضرت عائشہ کے پاس آئیں۔ تو انہوں نے باریک دوپٹہ پہنا ہوا تھا۔ (جائزہ لیجیے! یہاں عورت، عورت کے پاس آئی ہے۔ یہاں (Mix Gadthring)اور کو ایجو کیشن (CoEducation) کی بات نہیں ہورہی، بلکہ ایک عورت، عورت کے پاس آئی ہے۔ وہ عورت تھی بھی صحابیہ اور آئیں بھی ام المؤمنین حضرت عائشہ کے پاس تو حضرت عائشہk نے ان سے دوپٹہ لیا اور اس کو پھاڑ ڈالا۔ انہیں گاڑھا اور دبیز کپڑا پہنا دیا۔
(مؤطا امام مالک، مشکوٰۃ صفحہ 377)
باریک کپڑے میں احتیاط:
حضرت دحیہ قلبی فرماتے ہیں کہ آقاﷺ کے پاس ایک قبطی کپڑا آیا (جو باریک بھی تھا اور سفید بھی تھا) تو نبی نے یہ کپڑا مجھے دے دیا اور فرمایا: اس کے دو ٹکڑے کرلو ایک کی اپنی قمیض بنا لو اور دوسرا اپنی بیوی کو دے دو تاکہ وہ اس کا دوپٹہ بنالے جب وہ صحابی اس ہدیہ کو لے کر جانے لگے، تو نبی نے فرمایا: اے دحیہ! اپنی بیوی سے کہہ دینا کہ وہ اس کے نیچے دوسرا کپڑا لگالے تاکہ بدن نظر نہ آئے۔
(مشکوٰۃ صفحہ 376)
تو نبی کی سنت اور طریقہ تو یہ ہے۔
مہاجر صحابیات کے دوپٹے:
امی عائشہk نے بالکل ابتداء کی مہاجرین عورتوں کے بارے میں فرمایا: اللہ ان پر رحم فرمائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی۔
وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّ (النور:31)
تو ان عورتوں نے اپنی موٹی چادروں کو کاٹ کاٹ کر دوپٹے بنالیے۔
(بخاری جلد2 صفحہ 700)
پہلے عرب کے اندر عام باریک دوپٹہ بھی استعمال ہوجایا کرتا تھا مگر حکم ربی آگیا تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ ڈالا اور اپنے دوپٹوں کو موٹا کرلیا۔ ذرا سی بھی پس وپیش سے کام نہیں لیا جو اللہ اور اس کے حبیبﷺ نے حکم دیا اس کو فورًاپورا کردیا۔
زمانہ جاہلیت اور آج کے فیشن:
ایّامِ جاہلیت میں صرف سر پر دوپٹہ ہوا کرتا تھا۔ سامنے کی گردن اور سینہ وغیرہ ڈھکا نہیں ہوتا تھا۔ مگر اللہ کا حکم آتے ہی صحابیات نے پورے جسم کو بڑی چادر سے ڈھکنا شروع کردیا۔ آج نت نئے فیشن اپنانا اور اہل یورپ کی اندھا دھند تقلید کرتےہوئے اپنےجسم کو ظاہر کرنا تہذیب بن گیا ہے۔ مگر افسوس نبی کا طریقہ یہ نہیں ہے۔ آج ہم اللہ رب العزت کی نظر سے کیوں گرگئے ہیں؟ اس لیے کہ ہم نے نبی کی سنتوں کو اپنی نظر سے گرادیا ہے۔ جبکہ اللہ رب العزت کے نزدیک سنتوں کی بڑی قیمت ہے۔
سنت کی اہمیت بارے عمدہ مثال:
اب چونکہ لباس کی بات چل رہی ہے تو لباس کے متعلق اللہ ایک بات دل میں ڈال رہے ہیں کہ اگر ہم کوئی کپڑا پہنیں اور اس کپڑے کا کوئی ایک دھاگہ نکل جائے تو ہم لوگوں کے سامنے جانا پسند نہیں کرتے۔ ایک دھاگے کے نکلنے سے کپڑے کی قیمت کم ہو جاتی ہے۔ تو میرے بھائیو! کیا آقاﷺ کی سنت کی قیمت ایک دھاگے سے بھی کم ہے؟ نہیں نہیں! بلکہ اللہ کے دربار میں سنت کی بہت بڑی قیمت ہے۔ جس انسان کی زندگی سے ایک سنت نکل گئی اس کا درجہ اللہ کی نظر سے گرتا چلا جاتا ہے۔ جتنی سنتیں نکلتی چلی جائیں گی۔ تو یوں سمجھیں گویا قمیض سے دھاگے نکلتے جارہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک قیمت ختم ہوتی جارہی ہے۔
جہنمی لوگوں کے دوگروہ:
باریک لباس والوں کے لیے ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبینے ارشاد فرمایا: دوزخی لوگوں کے دوگروہ میری امت میں ظاہر ہوں گے جنہیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا (بعد میں ظاہر ہوں گے)۔ ان میں ایک جماعت تو ایسی ہوگی کہ جن کے پاس بیلوں کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے، جس سے وہ لوگوں کو ظلماً ماریں گے اور دوسری جماعت ان عورتوں کی ہوگی جو (ظاہر میں تو) کپڑے پہنتی ہوں گی مگر اصل میں ننگی ہوں گی۔ مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہوں گی اور ان کی طرف مائل ہونے والی ہوں گیں، ان کے سر اونٹ کے کوہانوں کی طرح اونچے ہوں گے۔ ایسی عورتیں جنت میں داخل نہ ہوسکیں گی اور نہ اس کی خوشبو سونگھ سکیں گی حالانکہ جنت کی خوشبو تو پانچ سو میل دور کی مسافت سے آرہی ہوگی۔ (مشکوٰۃ، مسلم صفحہ 205)
یعنی باریک کپڑا پہننے والی عورتوں کے بارے میں بتایا کہ جنت میں داخلہ تو بڑی دور کی بات ہے، یہ تو جنت کے قریب بھی نہیں ہوسکیں گی۔ کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوںگی۔
حدیث کی وضاحت:
اس حدیث میں دو باتیں قابلِ غور ہیں۔
(1) وہ کپڑا اتنا باریک ہوگا کہ جسم نظر آرہا ہوگا۔
(2) وہ کپڑا اتنا ٹائٹ اور چست ہوگا کہ جسم کے ابھار نظر آرہے ہوں گے۔
اسی طرح فراک، جانگیہ، آڑا پاجامہ، ساڑھی اور اس طرح کی تمام چیزیں جو نبی کے طریقے کے خلاف ہوں وہ اس میں شامل ہیں۔
تو مائل کرنے والی ہوں گی اور مائل ہونے والی ہوں گی۔
اس کا مطلب ہے کہ عورتیں فیشن کرکرکے، اپنے آپ کو اس نیت اور ارادے سے تیار کریں گی کہ لوگ ہمیں دیکھیں اور خوش ہوں۔اور خود بھی مائل ہوں گی، یعنی خود زنا کریں گی اور زنا کی دعوت دیں گی۔ اور ان کے سر اُونٹ کی کوہانوں کی طرح اونچے ہوں گے۔ یعنی فیشن کے طور پر بال اونچے اونچے بنائے ہوںگے۔ اور اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں یہ عورتیں سر ہلا ہلا کر فیشن سے مٹکتے ہوئے کیٹ واک (Catwalk)کریں گی۔ اور یہ ساری باتیں جس وقت نبیd نے ارشاد فرمائیں اس وقت یہ فتنے ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ مگر میںاور آپ اس زمانے میں ان فتنوں کوہوتا دیکھ رہے ہیں۔
ناجائز زیب وزینت:
آج جس فیشن پر ناز ہورہا ہے وہ تو ہماری ماؤں بہنوں کو جہنم کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان عورتوں کا پیٹ بھی کھلا، پیٹھ بھی کھلی، پنڈلیاں بھی اور ایسی عریانی سے مردوں کو لبھایا جارہا ہے گویا زنا کی دعوت دی جارہی ہے۔ ان عورتوں کو اس وقت معلوم ہوگا جب دنیا سے جانا ہوگا۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم چند دنوں کی زندگی کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم مول لے رہے ہیں۔ اللہ ہمیں اس سے بچا کے رکھیں۔ گھر کے اندر رہتے ہوئے شوہر کے لیے زیب وزینت اختیار کرنے کی اسلام میں اجازت ہے۔ مگر نامحرم کے لیے تیار ہونے کی شریعت کوئی اجازت نہیں دیتی۔
ریشمی لباس:
ریشمی لباس کے متعلق بھی احادیث میں تفصیلات آئی ہیں۔ حضرت عمر بن خطابفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ریشمی لباس نہ پہننا جو اس کو دنیا میں پہنے گا وہ آخرت کے ریشمی لباس سے محروم ہوجائے گا۔
(شمائل کبریٰ جلد1صفحہ 201)
جنت میں مردوں کو سبز ریشمی لباس پہنائے جائیں گے مگر ان مردوں کو جنہوں نے دنیا میں سادہ لباس پہنے ہوں گے۔ اللہ ان کو یہ لباس عطا فرمائیں گے۔
مردوں کے لیے ریشم اور سونے کا حکم:
حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ دائیں ہاتھ میں ریشمی کپڑا لیے ہوئے ہیں اور بائیں ہاتھ میں سونالیے ہوئے ارشاد فرمارہے ہیں: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ (ابو داؤد، نسائی، ترغیب جلد3 صفحہ 96)
ہلاکت وبربادی کے پانچ اسباب:
اس حدیث پاک کو بہت غور سے پڑھیں گے تو بہت فائدہ ہوگا اور پھر موجودہ حالات کے تناظر میں بھی دیکھیں۔
حضرت انسفرماتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب میری امت پانچ چیزوں کو حلال سمجھنے لگے گی (یعنی اُن کا ارتکاب کرنے لگے گی) تو ہلاکت اور بربادی ان کا مقدر بن جائے گی۔ وہ پانچ چیزیں یہ ہیں۔
(1) جب لوگ ایک دوسرے پر لعنت کیا کریں گے۔
آج شوہر کو دیکھو وہ بیوی پہ لعنت کررہا ہے۔ اور بیوی کو دیکھو تو وہ شوہر پر لعنت کررہی ہے۔ بھائی بھائی پر لعنت کر رہا ہے۔ رشتے دار اپنے رشتے دار پر لعنت کررہا ہے یعنی لعنت عام ہورہی ہے۔ تو نبی کے ارشاد کے مطابق جب یہ عمل ہوگا، تو تباہی مقدر بن جائے گی۔
(2) جب شراب عام ہوجائے گی۔
میں آپ کو ایک واقعہ بتاتا ہوں کہ ایک نوجوان آیا اور توبہ تائب ہوا تو کہنے لگا: میں ایک جگہ جاب Jobکرتا ہوں تو وہاں 35قسم کے مختلف ناموں سے الکوحل والی چیزیں دستیاب ہیں۔ وہاں نوجوان آتے ہیں اور شراب لے کر جاتے ہیں۔ وہاں واضح طور پر شراب کا نام نہیں لکھا ہوا، مگر اندر شراب پائی جاتی ہے۔
(3) ریشمی لباس عام ہوجائیں گے۔ (مرد پہنیں گے)
(4) گانے والی باندیاں اختیار کی جائیں گی۔
(5) مرد اور عورت اپنے آپ کو کافی سمجھنے لگیں گے یعنی مرد اور عورت کے نزدیک شادی کی اہمیت گرتی چلی جائے گی۔
بدقسمتی سے یہ پانچوں چیزیں آج اس امت میں نظر آرہی ہیں۔ بے حیائی پھیل چکی ہے۔ (شمائل کبریٰ جلد1 صفحہ 202)
مکس ریشمی کپڑے کا حکم:
مکس ریشمی لباس وہ ہوتا ہے جس میں ریشم کم ہو اور باقی قسم کا کپڑا زیادہ ہو، تو اس کی گنجائش نکل سکتی ہے اور صحابہ کرامنے اس کو استعمال بھی فرمایا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباسفرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: ریشمی کپڑے جس میں ریشم کی مقدار زیادہ ہے اس کو نہ پہنو۔ باقی اگر مقدار کم ہو تو جائز ہے۔
(ابو داؤد ، مشکوٰۃ صفحہ 377)
عمران بن حصین ایک مرتبہ تشریف لائے تو انہوں نے ایسی چادر پہنی ہوئی تھی جس کا کنارہ (Border) ریشمی تھا۔ تو جب نبیd نے ان کو دیکھا تو فرمایا: اللہ جس پر انعام فرمائے (یعنی مال عطا فرمائے) تو اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے پر نعمت کا اثر بھی دیکھنا پسند فرماتے ہیں۔ (مشکوٰۃ صفحہ 377)
اب بعض صحابہ کرامjاس قسم کا ریشمی لباس استعمال فرماتے تھے جس کا کنارہ (Border) ریشمی سا ہوتا تھا اور باقی چادر سادہ ہوا کرتی تھی۔
لباس کے متعلق چند مسائل :
مردوں کے لیے ناف سے گھٹنوں تک چھپانا ضروری ہے۔ ناف کو بھی چھپانا ہے اور گھٹنا بھی چھپانا ہے۔ اتنا ستر چھپانا ہر مرد پر ضروری ہے۔ اس سے کم کی کوئی گنجائش نہیں۔
سوئمنگ (Swimming)اگر کرنی ہے، تو شریعت اس کی اجازت دیتی ہے۔ سیدنا عثمان نے جدہ کے سمندر میں(Swimming) کی ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ (Swimming) کی اجازت ہے مگر (Costume)سنت کے مطابق ہو۔ یعنی کپڑے ڈھیلے ہوں ٹائٹ نہ ہوں ناف بھی ڈھکی ہوئی ہو اور گھٹنا بھی ڈھکا ہوا ہو۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ کوئی بھی کھیل ہو شریعت کھیلنے کی اجازت دیتی ہے مگر شرط ہے کہ نماز قضا نہ ہو اور شریعت کا کوئی حکم نہ ٹوٹے۔
(2) لباس کی اتنی مقدار پہننا جس سے انسان اپنے آپ کو موسم کی سختیوں (سردی گرمی سے بچا سکے) اتنا لباس پہننا بھی واجب ہے۔
(3) اگر لباس کو انسان اللہ رب العزت کا شکر ادا کرنے اور اپنے رب کی دی ہوئی نعمت کا اظہار کرنے لیے پہنے تو یہ لباس پہننا عبادت ہوجائے گا۔
(4) اگر کسی نے لباس اپنی بڑائی اور فخر جتانے کے لیے پہنا، کہ میں تو فلاں برینڈ کا سوٹ پہنتا ہوں۔ مثال کے طور پر میں (Chairman) کالٹھا پہنتا ہوںاور یہ اس لیے بتائے کہ اس سے میری بڑائی ظاہر ہو یہ تو لباس پہننا بھی گناہ میں شمار ہوجائے گا۔
(5) اس کے علاوہ بندے کا اتنا کم تر لباس پہننا کہ گنجائش اچھے کی ہو مگر انسان کم تر، پھٹا پرانا لباس پہنے تو شریعت میں اس کو بھی منع کیا گیا ہے۔
(6) اگر تواضع کے لیے سادہ لباس پہنا تو یہ اچھی ہے۔ یعنی بندہ خوشحال ہو، اچھے لباس پہننے پر قدرت رکھتا ہو مگر پھر بھی سادہ لباس پہنے تو اس بات کو پسند کیا گیا۔
(7) اسی طرح پینٹ، ہاف نیکر، جانگیہ اور ہروہ چیز جو مردوں کے گھٹنوں کو ننگا کردے،مرد کے لیے اس کے استعمال کو ناجائز قرار دے دیا گیا۔
(8) ٹائی کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ عیسائیوں کے ہاں حضرت عیسیٰdکو سولی پر لٹکانے کی یاد گار کے طور پر لگائی جاتی ہے اس لیے اس کا استعمال علماء نے منع فرمایا ہے۔
(9) مردوں کے لیے ٹخنے کا ننگا ہونا ہر حال ہر وقت میں ضروری ہے۔
حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک اس شخص کو قیامت کے دن محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے جس نے ٹخنے تکبر کی وجہ سے ڈھکے ہوں گے۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ صفحہ 373)
(10) عورتوں کے لیے ساڑھی لہنگا پہننا جو کہ غیروں کا لباس ہو اور بے پردگی کا باعث ہے اس کا پہننا جائز نہیں ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ ہر وہ لباس جس سے کوئی کفار کی مشابہت ہو اور دل میں خواہش ہو کہ میں ان جیسا نظر آؤں، تو یہ نیت اس لباس کو حرام تک لے جائے گی۔ ہاں وہ لباس جس میں نیت تو یہ نہیں ہے کہ میں کفار جیسا نظر آؤں مگر ان کی طرح کا لباس ہے، تو یہ لباس پہننا حرام نہیںہے مگر بہتر یہی ہے کہ نبی کی طرح کا لباس پہنا جائے۔
(11) ایسے کلر پرنٹ، ڈیزائن وغیرہ جو عورتوں کے لیے معروف سمجھے جاتے ہوں، تو اس طرح کا لباس چیزیں مردوں کے لیے پہننا منع اور گناہ ہے۔
(12) اسی طرح جو چیزیں مردوں کے لباس کے طور پر معروف ہیں، ان کا عورتوں کو پہننا منع ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ایک خاتون امی عائشہ کے پاس سے گزری جو جوتیاں مردوں جیسی پہنتی تھی تو امی عائشہ نے فرمایا: رسولﷺ نے ایسی عورت پر لعنت کی ہے جو مردوں والا سامان استعمال کرتی ہے۔ (مشکوٰۃ جلد2صفحہ 383)
عورت ہو تو مکمل عورت کے لباس میںہو اور مرد ہو تو مکمل مرد کے لباس میں ہو۔
(13) عورت کی قمیض کا آگے یا پیچھے سے اتنا کھلا گلا ہونا کہ جسم نظر آئےتو اس سے بھی منع کیا گیا۔
(14) جمعے والے دن، عیدین اہم تقریبات یا دعوت کے موقعہ پر عمدہ لباس پہننا مسنون ہے۔ (شمائل کبریٰ جلد1 صفحہ 203)
نیا کپڑا پہننے کی دعا:
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے نیا کپڑا پہنا اور یہ دعا پڑھی۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِی بِہٖ عَوْرَتِیْ وَاَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ
’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے وہ لباس پہنایا جس سے میں اپنا ستر ڈھانپ لوں، اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں‘‘۔
پھر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے یہ سنا کہ جو نیا کپڑا پہنتے وقت یہ دعا کرلے اور پرانا کپڑا صدقہ کردے، تو وہ اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔ (خواہ وہ زندہ رہے یا انتقال کر جائے)۔ (مشکوٰۃ صفحہ 377)
یعنی اگر انسا ن نیا کپڑا پہن کر اللہ کا شکر ادا کرے اور پرانا صدقہ کردے، تو وہ اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔
لباس پہنانے پر عظیم ثواب:
کسی کو کپڑا پہنانا بڑا عظیم ثواب ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان ایسا نہیں کہ جس مسلمان نے دوسرے مسلمان کو کپڑا پہنایا، تو پہنانے والا اس وقت تک اللہ کی حفاظت میں رہے، گا جب تک دوسرے بندے کے پاس اس لباس کا چیتھڑا بھی باقی رہے۔
(ترغیب جلد3صفحہ 117، شعب الایمان صفحہ 172)
جنتی نعمتوں کا حقدار:
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان ضرورت مند کو کپڑا پہنایا، اللہ رب العزت اس کو جنت کا سبز لباس پہنائیں گے۔ اور جو کسی مسلمان بھوکے کو کھانا کھلائے اللہ پاک اس کو جنت کی خالص شراب پلائیں گے۔ (ترغیب جلد3صفحہ 117)
مومن کو خوش کرنے والے تین اعمال:
ایک حدیث میں ایسے تین اعمال بیان کیے گئے ہیں جنہیں بہترین اعمال شمار کیا گیا ہےفرمایا: کسی مومن کو خوش کرنا یہ ہے کہ تم اسے کپڑا پہنا دو یا بھوک کی حالت میں کھانا کھلا دو یا اس کی ضرورت کو پورا کردو۔ یہ افضل الاعمال ہیں۔ (ترغیب جلد3 صفحہ 117)
نیا کپڑا پہننے کا بہترین وقت:
انسان کو چاہیے کہ جب وہ نیا کپڑا بنائے یا خریدے، تو کوشش کرے کہ اس کی ابتدا جمعے کے دن سے کرے۔ مثال کے طور پر منگل کو سل کر آگیا تو اس دن نہ پہنے بلکہ دو تین دن انتظار کرکے جمعے والے دن اس کپڑے کو پہنے۔
اگلے پچھلے گناہ معاف:
اس کےعلاوہ ایک کام اور کرلے۔ اس سے اگلے پچھلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ حضرت معاذ بن انس فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی نیا کپڑا پہنے اور یہ دعا کرلے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ
’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے مجھے یہ پہنایا اور میری کسی قوت اور طاقت کے بغیر مجھے عطا فرمایا‘‘۔
تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردیتے ہیں۔
(ترغیب صفحہ 93، ابن سنی 239،حصن حصین)
یہ کتنی چھوٹی دعا ہے مگر دیکھ لیجیے کہ اتنی مختصر دعا اور شکر سے اللہ پاک بندے کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔ انسان جب کپڑے بدلتا ہے تو کپڑے بدلنے کے لیے اس کو بے لباس ہونا پڑتا ہے تو اس کے بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ چونکہ جنات اور شیاطین تو ہمارے دشمن ہیں اور دشمن تو اپنے دشمن کی ٹوہ میں لگا ہوتا ہے۔ تو اس کے بارے میں نبی نے ارشاد فرمایا: جنات کی آنکھیں اور انسان کے ستر کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب مسلمان کپڑا اُتارنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے۔
بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ
’’اس اللہ کے نام سے جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘‘۔ (ابن سنی صفحہ 240)
اور دوسری روایت میں ہے کہ صرف ’’بسم اللہ‘‘ بھی پڑھ سکتے ہیں۔
(ابن سنی صفحہ240،اذکار صفحہ18)
تو یہ عمل کرنے سے شیطان اور انسان کے درمیان پردہ حائل ہوجاتا ہے اور جنات انسان کو تکلیف نہیں پہنچاسکتے۔ تو یہ سنتیں ہیں جن پر عمل کرنے سے ہمیں رسول اللہﷺ کی اتباع نصیب ہوگی اور سنت پر عمل کرنے کا ہمیں ثواب ملے گا۔
سنتوں پر عمل کرنے کی تاکید ازروئے قرآن:
سنت پر عمل کرنے کے متعلق آپ کے ارشادات اور آیاتِ قرآنی یہ ہیں۔
پہلی آیت مبارکہ:
اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللہَ وَاَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ
(الانفال:20)
’’اے ایمان والو! اللہ کی بات مانو اور رسولﷺ کی اتباع کرو۔ اور ان سے روگردانی نہ کرو‘‘۔
روگردانی سے مراد ہے، آپﷺ کے قول وفعل کے مخالف جانا۔
دوسری آیت مبارکہ:
قُلْ اَطِیْعُوْا اللہَ وَالرَّسُوْلَ (آل عمران:32)
’’آپ کہہ دیں کہ خدا کی اور اس کے رسول کی بات مانیں‘‘۔
تیسری آیت مبارکہ:
اَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ (آل عمران:132)
’’(اہل ایمان) خدا کی اطاعت کریں اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کریں‘‘۔
چوتھی آیت مبارکہ:
قُلْ اَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْہِ مَا حُمِّلَ وَعَلَیْکُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ وَاِنْ تُطِیْعُوْہُ تَھْتَدُوْا (النور:54)
’’آپﷺ ان سے کہیے اللہ کی اطاعت کرو، اور رسولﷺ کی اطاعت کرو، پھر اگر تم لوگ (اطاعت سے) روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ رسولﷺ کا ضرر نہیں کیونکہ رسولﷺ کے ذمہ تو تبلیغ ہی کا کام ہے۔ جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے جس کو تم نہیں بجالائے تو پس تمہارا ہی ضرر ہوگا۔ اگر رو گردانی نہ کی بلکہ تم نے ان کی اطاعت کرلی جو عین اطاعت اللہ ہی ہےتو سیدھی راہ پر جا لگو گے‘‘۔
یعنی
نقشِ قدم نبیﷺ کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
اسی طرح قرآن پاک میں اللہ پاک نے فرمایا کہ
پانچویں آیت مبارکہ:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ (النساء: 80)
’’جس نے رسول اللہﷺ کی اطاعت کی پس یقیناًاس نے اللہ کی اطاعت کی‘‘۔
کیونکہ یہ اس لیے بیان فرمایا کہ نبیکا ہر قول اور ہر فعل اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔
چھٹی آیت مبارکہ:
ایک اور جگہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓىِٕكَ رَفِيْقًاؕ۰۰۶۹ (النسآء:69)
’’جس نے اللہ کی اطاعت کی اور رسول کی اطاعت کی تو یہ لوگ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن کے اوپر اللہ نے انعام فرمایا، انعام والے لوگ انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہیں‘‘۔
اور اللہ خود فرماتے ہیں کہ یہ صحبت کتنی پیاری صحبت ہے۔ کیسی اچھی رفاقت ہے۔ یہ تو خلاصہ کلام ہوا کہ اللہ کے احکام کو پورا کرنا اور نبی کی مکمل اطاعت کرنے کا انعام یہ ہوگا کہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہمیں جمع کردیں گے جو اللہ کے ہاں مقبول ہیں۔
ساتویں آیت مبارکہ:
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ (النسآء: 64)
’’ہم نے رسول کو بھیجا ہی اس لیے ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے‘‘۔
یعنی رسولﷺ کی آمد کا مقصد ہے کہ اتباع رسول پر پورا ترا جائے ان کے نقش قدم پر چلنا امت کے لیے ضروری ہے۔
آٹھویں آیت مبارکہ:
اور جو شخص نبی کے طریقے پر نہیں چلتا تو قیامت کے دن اس کے حسرت والے الفاظ یہ ہوں گے۔
يٰلَيْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا۰۰۶۶ (الاحزاب:66)
’’اے کاش! ہم اللہ کی اطاعت کرلیتے اور رسولﷺ کی بات کو مان لیتے‘‘۔
نویں آیتِ مبارکہ:
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا(الاحزاب:71)
’’جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ شخص بڑی کامیابی کو پہنچے گا‘‘۔
جب بڑے کسی چیز کو بڑا کہہ دیںتووہ بہت بڑی ہوتی ہے۔ ایک آدمی جس کی سیلری (Salary) 10000دس ہزار ہے۔ اس کے لیے 20000بیس ہزار بڑی رقم ہے۔ ایک آدمی جس کی(Income) 1000000دس لاکھ ہے، اس کے لیے کروڑ بڑی رقم ہوگی۔ اور یہ پوری کائنات جس کے لیے اللہ رب العزت نے فرمایا:
قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيْلٌ١ۚ (النسآء:77)
’’آپﷺ کہہ دیجیے کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے‘‘۔
یہ دنیا اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں۔ تو جس کو اللہ بڑا کہہ رہے ہیں، بھلا وہ بڑائی کتنی ہوگی؟ اُس کا اندازہ میں اور آپ نہیں کرسکتے کہ وہ کتنی بڑی کامیابی ہے۔ وہ کامیابی کیا ہے؟ ’’اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات کو مان لینا‘‘۔
دسویں آیت مبارکہ:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہ (آل عمران:31)
’’اے میرے محبوبﷺ! فرما دیجیے (اپنے امتیوں سے) اگر تم واقعی اللہ سے محبت کرتے ہو، پس میری اطاعت کرو اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔
یہ محبت کیا ہے؟ کبھی نظر آئی ہے؟ آپ کو کس سے کتنی محبت ہے یہ کبھی نظر نہیں آئے گی۔ یہ ایک چھپی ہوئی چیز ہے۔ نبیﷺ سے محبت کا دعویٰ تو ہم سب ہی کرتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار بھی کرتے ہیں لیکن یہ محبت ظاہر کیسے ہوگی؟ یہ اپنے اعمال سے ظاہر ہوگی۔ محبت کے کچھ آثاراور علامات ہوتی ہیں جس سے اس کو پہچانا جائے گا۔ یاد رکھیں! جو لوگ اللہ سے محبت کے دعوے دار ہیں۔ اللہ نے ان کو اپنی محبت کی کسوٹی بتادی کہ اگر دنیا میں کوئی یہ کہے کہ مجھے اللہ سے محبت ہے، تو دیکھا جائے گا کہ وہ نبی کی سنتوں پر کتنا عمل کرتا ہے۔ بندہ اپنی محبت کو اتباعِ سنت کی کسوٹی میں دیکھ لے اور تول لے۔ جس میں جتنی اتباعِ نبیﷺ زیادہ ہے، اتنی ہی اللہ کی محبت زیادہ ہے۔ جتنی زندگی میں نبی کی اتباع کم ہے، اتنی اللہ کی محبت کم ہے۔ جو جتنا سچا ہوگا وہ نبی کی سنت کا اتنا ہی پکا ہوگا۔ جو جتنا جھوٹا ہوگا، آقاﷺ کی سنتوں سے اتنا ہی دور ہوگا۔
سنتوں کی اہمیت وتاکیداحادیث کی روشنی میں:
اب چند احادیث بھی سن لیجیے!
پہلی حدیث:
نبی نے اپنی امت کے بارے میں فرمایا کہ تم سب لوگ جنت میں داخل ہوگے سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے میرا انکار کیا۔ حضرات صحابہنے پوچھا کس نے آپﷺ کا انکار کیا؟ تو نبی نے فرمایا کہ ’’جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا جس نے میری نافرمانی کی اس نے میرا انکار کیا‘‘۔ (بخاری، مشکوٰۃ:159)
یعنی جس نے سنت پر عمل نہیں کیا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ سنت کے انکار کا مطلب ہے کہ انسان جان بوجھ کر نبی کی سنت کو چھوڑ دے۔ یعنی جنت میں داخلے کی کنجی اتباعِ رسولﷺ ہے۔
دوسری حدیث:
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عرباض سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا کہ ’’تم پر میری سنت کی اتباع لازم ہے‘‘۔ یہ (Optional ) نہیں بلکہ لازمی ہے۔ (مسلم، ابن ماجہ)
تیسری حدیث:
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’میری سنت کے مٹنے کے وقت جو میرا امتی اس کو زندہ کرے گا اس کے لیے سو شہیدوں کے برابر ثواب ہے‘‘۔ (مشکوٰۃ)
یعنی وہ وقت جب لوگ سنت کو چھوڑ چکے ہوں گے، سنتوں کا رواج نہیں ہوگا، لوگ فیشن کریں گے لیکن سنت کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہے ہوں گے، تو ایسے حالات میں جو انسان نبیﷺ کی سنت پر خود عمل کرے گا اور دوسروں کو ترغیب بھی دے گا تو اس کو 100شہیدوں کے برابر ثواب ملے گا۔ مثال کے طور پر اس وقت شادی سنت کے مطابق کرنا ہماری زندگی سے ختم ہوچکا ہے۔ کچھ دنوں پہلے میرے پاس ایک نوجوان آیا اور شادی کے بارے میں بات کی میں نے اس سے کہا: سنت کے مطابق کرلینا۔ تو کہنے لگا اگر میں نے سنت کے مطابق شادی کرلی تو ساری برادری میں ناک کٹ جائے گی۔ اس کو دوسرے الفاظ میں سمجھ لیں کے قیامت کے دن اگر وہ نوجوان نبیﷺ کے پاس شفاعت کے لیے جائے کہ میری اللہ کے دربار میں شفاعت کردیجیے۔ تو اس وقت اگر نبی نے پوچھ لیا کہ اے میرے امتی! تمہارا تو حال یہ تھا کہ میری سنت کے مطابق عمل کرنے میں تمہاری ناک کٹ جاتی تھی۔ آج بتاؤ تو سہی کہ کیا دلیل ہے کہ میں تمہاری شفاعت کروں؟ کیسے قیامت کے دن اللہ کے نبیﷺ کا سامنا کریں گے؟ اور کیا بتائیں گے کہ سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ اللہ اکبر کبیرا
شادی کی ایک قبیح رسم اور اس کا نقصان:
اور شادی کے اندر ایک اور بہت بڑا معاملہ ہورہا ہے۔ آج کل شادی بیاہ والے معاملات میں بہت سی خرابیاں آرہی ہیں۔ شادی میں جو بے حیائی ہورہی ہے اگر بولنا شروع کردوں، تو آپ مجھے دوبارہ بیان کے لیے کبھی نہ بلائیں گے کہ کون سی قسم کا بے غیرت آدمی لاہور سے آکر بیٹھ گیا ہے؟ مگر جو ہورہا ہے وہی بتاتا ہوں۔ ایک دوست کی بات سنی اس نے بتایا: نکاح کے بعد جب رخصتی ہونے لگتی ہے تو لڑکا اپنے دوستوں کے ساتھ عورتوں میں جاتا ہے اور دلہن کو لے کر باہر نکلتا ہے۔ تو اب چاہے منٹ لگے یا گھنٹہ اس وقت وہاں جانے والے ایک آدمی کی دل کی کیفیت سن لیجیے! یہ ایک کی نہیں بلکہ ہزاروں کی کیفیت ہے۔ وہ دوست کہنے لگا کہ میرے دل میں دلہن کو دیکھ کر یہ کیفیت آئی کہ کاش یہ دولہے کے پاس جانے سے پہلے آدھے گھنٹےکے لیے مجھے مل جائے۔ آج کسی کو کہہ دو کہ یہ گناہ ہے۔ تو لوگ کہتے ہیں دلہا اور دلہن تو محرم ہوچکے ۔ او بھائی! دولہا کے بھائی اس کے دوست کیسے محرم ہوگئے؟ جب ہم شریعت اور سنت کے خلاف جائیں گے تو پریشانیاں ہمیں دیکھنی پڑیں گی۔ اسلام حیا اور پاکدامنی کا درس دیتا ہے۔
دیور اور جیٹھ سے پردہ:
کچھ دن پہلے ایک خاتون کا فون آیا کہنے لگیں: میرا خاوند مختلف لڑکیوں سے تعلقات تو رکھتا ہی تھا۔ چند ہفتوں پہلے میرے دیور کی جب شادی ہوئی دلہن گھر میں آگئی۔ چند ہفتوں میں ہی میں نے دیکھا کہ اس دلہن سے بھی ان کے تعلقات قائم ہوچکے تھے۔ اب معلوم نہیں جو بچہ پیدا ہوگا وہ میرے خاوند کا ہوگا یا میرے دیور کا۔ میں نے پوچھا: چند ہفتوں کے اندر ایسا تعلق کیسے پیدا ہوگیا؟ تو اس نے کہا کہ فیس بک پر میرے شوہر کا بھی اکاؤنٹ ہے اور دیورانی کا بھی، تو وہاں Chatingسے اگلے مرحلے آسان ہوگئے کیونکہ یہاں پر چھت بھی تو ایک ہی ہے۔ یہاں سے اندازہ لگائیں کہ کیوں شریعت نے دیور اور جیٹھ سے بھی پردہ کرنے کا کہا ہے۔ تو جب شریعت اور سنت سے دور ہوں گے، تو یہ نحوستیں تو آئیں گی۔
اتباعِ رسول ﷺمحبت رسولﷺ کی علامت ہے:
حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: ’’جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔
یعنی جو حضرات محبت رسولﷺ کا دعویٰ رکھتے ہیں اگر ان کے احوال سنتوں کے مطابق ہیں، تو وہ سچے ہیں۔ اور اگر ان کے احوال سنت کے مخالف ہیں، تو وہ جھوٹے ہیں۔ صحابہ کرامفرماتے تھے کہ سنتوں کو مضبوطی سے پکڑنا باعثِ نجات ہے۔
سنت میں نجات:
امام مالک فرماتے تھے: سنتوں کی مثال کشتی نوح کی مانند ہے۔ کشتی نوح ہونے کا مطلب ہے کہ اُس زمانے میں جو کشتئی نوح میں بیٹھ گیا وہ بچ گیا تھا اور ان کا بیٹا نہیں بیٹھا تھا وہ غرق ہوگیا تھا۔ تو آج جو بھی امتی سنت کی کشتی میں بیٹھ جائے گا تو اس بے حیائی اور بے دینی کے طوفان سے بچ جائے گا۔ اس کا بیڑا پار ہوجائے گا۔ اور جو سنت کی کشتی میں نہ بیٹھا وہ غرق ہوجائے گا۔ اور یہ سنت مثل کشتئی نوح بھی ہے اور کشتئی نجات بھی ہے۔ اور نبی نے خود فرمایا کہ جس نے میری سنت سے اعراض کیا (چھوڑ دیا، غفلت برتی) وہ ہم میں سے نہیں۔ (بخاری 757، سبل جلد11صفحہ428)
قرب قیامت میں سنت کا مقام:
حضرت حذیفہ بن یمان سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں تین چیزوں کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ہوگی جس کو امت اختیار کرلے۔ تو اس زمانے میں میری امت کو چاہیے کہ وہ تین چیزیں اختیار کرلیں، بچ جائیں گے وہ تین چیزیں یہ ہیں۔
(1) رزقِ حلال
(2) مخلص دوست (یعنی شیخ، علماء وصلحاء، نیک لوگ)
(3) سنتیں (جن پر انسان عمل کرے) (مجمع الزوائد جلد1صفحہ 177)
سنت سے دوری گمراہی ہے:
حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں: قرآن کے احکامات کو اللہ نے خود اتارا۔ اور سنتوں کو نبی نے متعین فرمایا پھر نبی نے حکم فرمایا: اے امتیو! تم میری سنت کی اتباع کرو۔ پھر آگے فرمایا: قسم ہے اللہ رب العزت کی کہ اگر میری اتباع نہیں کرو گے، تو گمراہ ہوجاؤ گے۔ (مجمع الزوائد جلد1صفحہ 178)
اسلام دو چیزوں کا نام ہے:
(1) احکام خداوندی
(2) نبیکی اتباع
جو آدمی ان میں سے کسی ایک کو چھوڑ دے گا، تو وہ تباہ و برباد ہوجائے گا۔
(شمائل کبریٰ جلد1صفحہ 214)
جنتی انسان:
ایک حدیث میں آتا ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا کہ جس نے حلال کھایا اور سنتوں پر عمل کیا اور لوگوں کو اپنی تکلیف اور اذیت سے محفوظ رکھا، تو وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔ (ترغیب جلد1صفحہ 81)
اس حدیث میں نبی نے تین باتیں ارشاد فرمائیں۔
(1) رزقِ حلال یعنی حلال تحقیق کرکے کھانا ہے۔
(2) سنتوں پر کوشش کرکے عمل کرنا ہے۔
(3) لوگوں کو اپنی تکلیف اور اذیت سے بچانا ہے۔
خوب خوب سمجھنے کی بات:
یہ نہیں فرمایا کہ لوگ تمہیں تکلیف دیں، تو تم صبر کرو۔ بلکہ فرمایا:
تَکُفَّ شَرَّکَ عَنِ النَّاسِ
’’تم لوگوں کو اپنے شر سے بچاؤ‘‘۔
بیوی کو بھی بچاؤ۔ سسرال والوں کو بھی بچاؤ۔ بھائیوں کو بھی بچاؤ، رشتہ داروں کو بھی بچاؤ۔ جن سے کاروباری شراکت ہے ان کو بھی بچاؤ۔ اخلاق اس چیز کا نام نہیں کہ لوگ تمہیں تکلیف دیں اور تم صبر کرو۔ بلکہ اخلاق اس چیز کا نام ہے کہ تم کسی کو تکلیف نہ دو۔
حضرات صحابہ اور سنت کا اہتمام:
سنتوں پر عمل کی بات ہو اور حضرات صحابہ کی مثال نہ دیں۔ تو بات پوری ہی نہیں ہوتی۔ اس لیے چند باتیں درج ذیل ہیں۔
حضرت ابن عمر کی سنت سے محبت:
حضرت عبداللہ بن عمرکو دیکھا گیا کہ وہ کھلے ہوئے بٹن کے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ ایسے کیوں نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: آقاﷺ کو ایسے نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ (ترغیب جلد1صفحہ182)
حضرت عبداللہ بن عمرi جب مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کرتے تو عجیب معاملہ اختیار فرماتے۔ جہاں جہاں آقاﷺ پڑاؤ ڈالا کرتے تھے، کوشش کرکے وہاں پڑاؤ ڈالتے تھے۔ جہاں جہاں آقاﷺ نے قیلولہ کیا۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ 214)
وہیں قیلولہ کرتے۔ ایک جگہ کا تو نام بھی اسی وجہ سے شجر قیلولہ پڑگیا۔ اب آج کل فتنوں کا دور ہے۔ کچھ نئے دور کے لوگ نعوذباللہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ نبی کی کچھ سنتیں جن کا انہوں نے حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جائے۔ اور کچھ سنتیں جو عادتاً ہیں ان میں اختیار ہے۔ تو وہ لوگ جو نبی کی محبتوں کو نہیں سمجھتے وہ سنت کے اندر فرق کردیتے ہیں۔ لیکن صحابہ عاشقِ رسولﷺ تھے۔ ان کو جو حکم دیا جاتا اس کو بھی پورا کرتے اور جہاں جہاں نبیکا اختیاری عمل ہوتا، تو وہ اس بشری تقاضے کو بھی پورا کرتے تھے۔ سنت کی محبت میں ایک اور مثال دیکھیں ایک دفعہ عبداللہ بن عمرسواری پر سوار تھے۔ کہیں جارہے تھے۔ راستے میں ایک جگہ سواری روک لی۔ تھوڑا چل کر کہیں آگے گئے، قضائے حاجت کے لیے بیٹھے، کیا کچھ نہیں، ایسے ہی واپس آگئے۔ تو ساتھی نے پوچھا: حضرت جب تقاضا نہیں تھا، تو اترے کیوں؟ بیٹھے کیوں اور وقت کیوں لگایا؟ عجیب جواب فرمایا کہنے لگے: مجھے تقاضا تو نہیں تھا، لیکن ایک بار نبی کے ساتھ یہاں سے گزرا تھا۔ نبییہاں سے گزرے تھے اور قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تھے۔ آج میں یہاں سے گزر رہا ہوں تو میرا دل بھی کر رہا تھا کہ میں بھی ویسا ہی کروں، جیسے میرے نبیﷺ نے کیا۔ محبت تو یہ ہوتی ہے۔
سنت پر عمل کا عجیب انداز:
ایک صحابی کے بال گھنگھریالے تھے۔ اب اب درمیان سے مانگ نکالنا آقاd کی سنت ہے، جس کی وہ بڑی کوشش کرتے۔ مگر بالگھنگھریالے ہی رہتے۔ اب اس زمانہ میں(Straighner)تو تھےنہیں کہ جن کے بال Curlyہوں وہ (Straighner)کو استعمال کریں تو اور جن کے سیدھے ہوں اور ٹیڑھے Curlyکروالیں۔ عجیب ہی معاملہ چل پڑا ہے۔ تو صحابہ کرام تو دیکھتے ہی یہی تھے کہ نبی کا سٹائل کیا ہے۔ اب انہوں نے بڑی کوشش کی، بڑے جتن، کیے مگر درمیان سے مانگ نہیں نکلتی تھی۔ ایک دن انہوں نے لوھے کی سلاخ لی، آگ میں گرم کیا اور اپنے درمیان سے مانگ نکال لی، تو سر جل گیا۔ کسی نے پوچھا کہ یہ کیا کیا؟تو کہنے لگے: سر تو میرا جل گی ہے زخم بھی لگ گیا ہے ٹھیک ہوجائے گا، تکلیف بھی ختم ہوجائے گی، لیکن میرے سر کو آقاﷺ کے سرمبارک کے ساتھ مشابہت تو مل گئی ہے۔ یہ ہوتی ہے سنت سے محبت۔
ہماری اور حضرات صحابہ کی سوچ میں فرق:
ہم لوگوں اور صحابہ کی سوچ میں فرق یہ ہے کہ صحابہ سنت پر عمل اس لیے کرتے تھے کہ سنت ہے، میرے نبی کا عمل ہے۔ مجھے یہ کرنا ہے۔ اور ہم لوگ سنت کو اس لیے چھوڑدیتے ہیں کہ یہ سنت ہی تو ہے۔ کونسا واجب یا فرض ہے۔ یہ بہت بڑا فرق ہے، ہمارا اور ان کی سوچ کا۔ وہ نبیﷺ کے طریقوں کا، ایک ایک بات میں حساب رکھتے تھے۔
چھ لعنتی لوگ:
امی عائشہفرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے چھ چیزوں پر لعنت کی ہے۔ اور اللہ نے بھی ان پر لعنت فرمائی ہے پھر فرمایا: نبی کی دعا قبول ہوتی ہے۔ یعنی میری لعنت اللہ کے ہاں مقبول ہے۔
(1) اللہ تعالیٰ کی کتاب کے اوپر زیادتی کرنے والا۔ (یعنی اپنی طرف سے اضافی چیز کو قرآن کی طرف منسوب کرنے والا)
(2) تقدیر کو جھٹلانے والا
(3) ایسے حکمران جو ہماری امت پر مسلط ہو کر ہم پر ظلم کریں اللہ کے معزز یعنی علماء کو صلحاء کو ذلیل کریں اور شریر اور بے حیاء لوگوں کو عزت دیں۔
(4) اللہ کے قرار دیے گئے حرام کو حلال کرنے والا
(5) اور اہلِ بیت کی بے حرمتی کرنے والا
(6) سنتوں کو ترک کردینے والا (ترغیب صفحہ 84)
میرے بھائیو! سنتوں پر عمل کرنا جہاں جنت کی کنجی ہے، چھوڑدینا اللہ اور اس کے نبیﷺ کی لعنت کا ذریعہ بھی ہے۔
سنت زندہ کرنے کا عظیم ثواب:
حضرت عمر بن عوف فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے بعد میری کسی ایک ایسی سنت کو زندہ کیا جو کہ مٹ چکی تھی، پس اس سنت زندہ کرنے والے کے لیے ان تمام لوگوں جیسا ثواب ہے، جو اس پر عمل کریں گے۔ اور جو لوگ عمل کریں گے ان کے ثواب میں بھی کمی نہیں کی جائے گی۔ (ترغیب جلد1صفحہ 87)
آج سنتیں مٹ رہی ہیں۔ اگر ہم معلوم کرکے سنتوں پر عمل کریں گے، تو ہمارے لیے آسانی ہوجائے گی۔ سنتوں پر عمل کی یہ باتیں ہوگئیں۔
(اول) اہتمام اور پابندی سے عمل کریں۔
(دوم) یہ کہ جستجو اور تلاش کرکے اس پر عمل کریں، یہ دونوں باتیں اس میں شامل ہوگئیں۔
گمراہی سے بچاؤ کا نبوی نسخہ:
نبی نے فرمایا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جس کی وجہ سے تم میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے۔
(1) ایک اللہ کی کتاب
(2) میری سنت (حاکم، کنز العمال جلد1صفحہ 154)
ایک حدیث میں ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو! اگر تم نے ان چیزوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا، تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے میں تم میں اللہ کی کتاب اور اپنی سنت کو چھوڑے جارہا ہوں۔ (کنز العمال جلد1 صفحہ 166)
آج کل سنت پر عمل کرنے والے کی مثال:
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی نے فرمایا: میری امت میں فتنے کے وقت میری سنتوں پر عمل کرنے والا ایسا ہوگا جیسا اس کے ہاتھ میں چنگاری ہو۔
(کنزالعمال جلد1صفحہ 164)
ہماری حالت زار:
آج گھر کے اندر شرعی پردہ کرنے کا کوئی عورت اعلان کردے، تو گھر کے اندر عجیب ہنگامہ شروع ہوجاتا ہے۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ اس عاجز سے بیعت ہونے کے بعد کئی بچیوں نے شرعی پردے کا باقاعدہ اہتمام کیا۔ کہیں ماں باپ ناراض ہوگئے اور کہیں ساس سسر ناراض ہوگئے دھمکیاں دی گئیں کہ تم کیسے بی بی فاطمہ کے طریقے پہ چل سکتی ہو؟ اللہ اکبر۔ کئی لوگوں سے بات ہوئی، نوجوانوں نے توبہ کی اور داڑھی رکھنے کے ارادے کیے تو سگے باپ نے کہا داڑھی رکھنی ہے تو گھر سے نکل جاؤ۔ آج یہ حالات آچکے ہیں اس دور میں جو سنتوں پر عمل کرے گا۔ سو شہیدوں کے برابر اس کو اجر ملے گا۔ یہ چھوٹی بات تو نہیں ہے کہ سو آدمی اپنی جان اللہ کے راستے میں قربان کردیں۔ اور آج کوئی سنت پر عمل کرے تو یہ نعمت ملتی ہے۔
سنت پر عمل کا آسان فارمولا:
اور اب سنت پر عمل کرنے کا فارمولا بھی سن لیجیے! اِس عاجز کے نزدیک اگر آپ کوئی بہتری سمجھیں، تومجھے بھی ضرور بتائیں۔ اپنی زندگی کو سنت پر لانے کے لیے ایک آسان فارمولا ہے۔ انسان اپنی زندگی کے صبح سے شام تک تمام کاموں کو نوٹ کرلے کہ میں کیا کیا کام کرتا ہوں۔ بیت الخلاء ایک کام، کھانا دوسرا کام، کپڑے پہننا تیسرا کام، اگر کاروباری ہے، تو دوکان پہ جانا، آفس جانا، چوتھا کام، بندہ سارے کاموں کو نوٹ کرلے زیادہ سے زیادہ 5، 10،یا15کام بنیں گے۔ ہر آدمی کے کام مختلف ہوتے ہیں۔ کسان کے اور تاجر کے اور ہوں گے۔ تو ہر انسان صبح سے شام تک کے اپنے کام نوٹ کرلے۔ اس کے بعد ہر کام کو علماء سے سیکھ سیکھ کر پوچھ پوچھ کر سنت کے مطابق کرلے۔ ایک مہینہ یا دو مہینے سے زیادہ نہیں لگیں گے۔ 10،15 کام سنت کے مطابق سیکھنے میں 2مہینے بھی نہیں لگیں گے۔ اگر الگ بھی جائیں،تو 2مہینے کے اندر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری اکثر زندگی سنت کے مطابق ہوجائے گی۔ آپ کر کے دیکھ لیں۔ کچھ کام ایسے ہیں جو ہفتہ بعد کرنے والے ہوتے ہیں، جیسے جمعے کے دن کی بات ہوگئی، چھٹی کے دن کی بات ہوگئی، اس کو الگ نوٹ کرکے لکھ لیں۔ پہلے روز مرہ کےکاموں کو سنت کے مطابق کریں، پھر ہفتہ وار کو سنت کے مطابق لے آئیں، کچھ کام ایسے ہوتے ہیں، جو ماہانہ کرنے ہوتے ہیں، جیسے چاند دیکھنا، تنخواہ کا آنا اور دوسری چیزیں مثلاً عورتوں کے معاملات، تو ان کو تیسرے درجے میں رکھ کر ان کی سنتیں معلوم کرلیں۔ تو یہ کام بھی سنت کے مطابق ہوجائیں گے۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو سال میں ایک دفعہ یا دو دفعہ کرنے ہوتے ہیں، جیسے رمضان ایک دفعہ آتا ہے۔ عید دو دفعہ آتی ہے۔ عید الفطر، عیدالاضحی نبی کریمﷺ کے زمانے میں بھی دو عیدیں تھیں اور جنت میں بھی دو عیدوں کے موقع پر اللہ کی طرف سے ضیافت ہوگی۔ تو حدیث کے اندر فقط دو عیدیں ملتی ہیں۔ انسان دیکھے کے اس کی کیا سنتیں ہیں۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں، جو زندگی میں 2، 4،10دفعہ ہوتے ہیں، جیسے حج کرنا، عمرہ کرنا۔ اس کو اگلے Phaseپر رکھ کر اس کی سنتیں معلوم کرلیں۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں، جو زندگی میں بعض اوقات ایک ہی مرتبہ ہوتے ہیں جیسے شادی کرنا، تو جب ضرورت ہو تو اس کی بھی سنتیں معلوم کرلے۔ اپنی شادی کرنا، اولاد کی شادی کرناوغیرہ نبی نے 4بیٹیاں بیاہی ہیں۔ تو ان تمام چیزوں کو جب انسان کرنے لگے، تو علماء سے پوچھ لے کہ مجھے بتائیے! کہ سنت طریقہ ان میں کیا ہے؟ اگر ہم اس فارمولے پر عمل کرلیتے ہیں، تو 2مہینے کے اندر اندر پوری زندگی آقاﷺ کی سنتوں کے مطابق ہوجائے گی۔ اور جو Weekly، Monthlyسالانہ اور کبھی کبھی کے کام ہیں ان کو اپنے اپنے موقعوں پر انسان سیکھتا جائے اور علماء سے پوچھتا جائے۔ ان شاء اللہ چند مہینوں کے اندر ہماری پوری زندگی نبیﷺ کے طریقوںکے مطابق ہوجائے گی۔
جنت میں آپﷺ کا پڑوسی:
اور جنت میں داخلے کی بشارت نبیﷺ خود دے گئے۔ حدیث میں ہے کہ جس نے مجھ سے محبت کی اور میری سنت پر عمل کیا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ بڑی سے بڑی جگہ پر گھر ملے کوئی کہتا ہے کہ میں نے فلاں کالونی میں گھر لینا ہے۔ وہاں جا کر گھر لینا ہے تو قیامت کے دن سب سے زیادہ اچھی جگہ کونسی ہے؟ جنت الفردوس، اور نبیﷺ کا محل جنت الفردوس میںہے۔ اور جو نبیﷺ کے طریقے کے مطابق زندگی گزارنے والا ہوگا، وہ آقاﷺ کے پڑوس میں آقاﷺ کےساتھ ہوگا۔ وہ محمدی کالونی میں آباد ہوں گے۔ مجھے نہیں پتہ کہ اس کا اصل نام کیا ہوگا مگر وہ آقاﷺ کے ساتھ آباد ہوں گے۔ کوئی نبی کے ساتھ پلاٹ چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ نبی کی سنت پر عمل کرے۔ آج مجھے کسی نے کہا کہ فلاں کالونی میں پلاٹ مل رہا ہے اتنے عرصے کی پلاننگ وغیرہ ہے تو جنت کی بھی Planningچل رہی ہے۔ آپ کو بہت بڑی جگہ ملے گی۔ وہ جگہ اتنی بڑی ہوگی کہ ساری دنیا اس میں رکھ دی جائے، تو ایسے معلوم ہوگی کہ جیسے کسی بڑے محل میں بکری کھڑی ہو۔ اگر ہم اس پلاٹ کی قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں جو نبیﷺ کے قریب ہو ، تو اس کی قیمت میرے بھائیو! نبی کی سنت پر عمل کرناہے۔ حیاء اور پاکدامنی ہے۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں