امانت داری

امانت داری

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَo (المؤمنون: 8)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

امانت دار آدمی جنت کا حق دار
قرآن مجید کی سورۂ مؤمنون کے شروع میں اہلِ جنت کی کچھ صفات کا ذکر ہوا ہے۔ جو آیت ابھی تلاوت کی اس میں فرمایا گیا ہے کہ وہ لوگ جو جنت میں جانے والے ہیں، اور کامیاب ہونے والے ہیں، وہ ایسے لوگ ہیں جو امانت کا خیال رکھتے ہیں، امانت کو ادا کرتے ہیں، اور اپنے وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔ آج اِن شاء اللہ امانت کے بارے میں بات ہو گی کہ امین آدمی، وعدے کا پاسدار جنت میں جائے گا۔
اب سب سے پہلے تو ہم یہ سمجھ لیں کہ امانت کہتے کسے ہیں؟
امانت کا مروّجہ مفہوم
ہمارے ہاں امانت کا تصوّر موجود تو ہے مگر بہت محدود، بہت مختصر سا۔ یہ کہ ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کو پیسے دیے امانتاً، اور جب مانگے تو دوسرے نے واپس کر دیے۔ مثال کے طور پر آپ نے ایک آدمی کو دس ہزار روپے دیے کہ امانت رکھ لو، میں ایک مہینے بعد آؤں گا اور لے لوں گا۔آپ ایک مہینے بعد گئے، اس نے آپ کو دس ہزار روپے واپس پکڑا دیے آپ ہی والے نوٹ، تو یہ ایک ڈیل پوری ہو گئی، امانت مکمل ہو گئی۔ یہ بھی امانت ہے، مگر یہ اَمانت کا صرف ایک رُخ ہے۔ اَمانت کا لفظ بہت وسیع تر مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں یہ بات موجود ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں اَمانت نہ ہو۔
اَمانت کا صحیح مفہوم
امانت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ کوئی ایک آدمی کسی دوسرے آدمی پر کسی بھی معاملے میں بھروسہ کرے، اور دوسرا آدمی اس بھروسے کو پورا کر کے دکھائے، یہ اَمانت ہے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو دنیا کے ہر شعبے میں، ہر ایک سے عموماً اور ہر ایمان والے سے خصوصاً تقاضا کرتی ہے۔
جبریلِ امین اور رسولِ امینﷺ
حضرت جبرائیل کی شان میں قرآن پاک میں ہے:
نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُo (الشعرآء: 193)
ترجمہ: ’’امانت دار فرشتہ اسے (قرآن مجید کو) لے کر اُترا ہے‘‘۔
قرآن مجید کی امانت اس دنیا میں حضرت جبرائیل لے کر آئے ہیں۔ چوںکہ وہ امین تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا تذکرہ روح الامین کے نام سے اپنے کلامِ مجید میں کیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بالکل ٹھیک ٹھیک سنا، پھر بالکل اسی طرح نبی کریمﷺ تک پہنچایا۔ کوئی زیر، زبر، پیش، تجویدی، تفسیری، لفظی یا معنوی گڑبڑ نہیں کی۔ اس میں کوئی خیانت نہیں کی تو اِنعاماً وہ امین ٹھہرے۔ پیغامِ حق کو اللہ تعالیٰ کے پاس سے نبی کریمﷺ تک لانا یہ بھی تو امانت ہے۔ اور نبی کریمﷺ خود بھی امین ہیں جیسے کہ مشرکینِ مکہ بھی آپﷺ کو صادق اور امین کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔
اَمانت اور ایمان کا جوڑ
پوری شریعت اَمانت ہے۔ ہمارے ہاتھ پاؤں سمیت ہمارے پاس موجود جسم کا ہر پُرزہ اللہ کی طرف سے اَمانت ہے۔ ہمیں ہر امانت کا حق ادا کرنا ہے۔ اور جس میں امانت داری نہ ہو تو پھر ایمان بھی نہیں رہتا۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس میں امانت نہیں اس کا ایمان بھی نہیں۔ (مسند احمد: 135/3)
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں:
(۱) إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ جب بولے گا جھوٹ بولے گا۔
(۲)وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ جب وعدہ کرے گا خلاف ورزی کرے گا۔
(۳) وَ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ اور جب امانت رکھوائی جائے گی، خیانت کرے گا۔
(صحیح بخاری: رقم 33، صحیح مسلم: رقم 59)
اب یہ بات تو حدیث شریف میں ہے اور یہ تین باتیں جس شخص میں موجود ہیں یہ شخص عملاً منافق ہے اگرچہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا رہے۔ ہم اپنے اندر دیکھیں کہ ہماری باتوں میں جھوٹ کتنا، ہمارے معاملات کے اندر وعدہ خلافی کتنی، اَمانت کا احساس کتنا، تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ابھی بہت کمی ہے۔
حیا اور اَمانت کا اُٹھنا
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس اُمت سےسب سے پہلے جو چیز اٹھائی جائے گی وہ حیا اور امانت ہو گی۔ اور سب سے آخر میں جو رہ جائے گی وہ (بغیر خشوع کے) نماز ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آگے یہ بات ارشاد فرمائی کہ ایک جماعت نماز پڑھتی ہوگی، مگر ان کے لیے کوئی اَجر نہ ہوگا۔
(مجمع الزوائد: رقم 12428)
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے تم دیکھو گے کہ آدمی نماز بھی پڑھتا ہوگا، روزہ بھی رکھتا ہوگا، حج بھی کرتا ہوگا، لیکن امانت کا حق ادا نہ کرتا ہوگا۔
حضرت ابو ہریرہ سے ایک حدیث میں یہ ارشاد بھی منقول ہے : بے شک اس اُمت سےسب سے پہلے جو چیز اٹھائی جائے گی وہ حیا اور امانت ہو گی۔ تم اللہ تعالیٰ سے ان دونوں چیزوں کا سوال کرتے رہنا(مستقل مانگتے رہنا)۔ (کنز العمال: رقم 5774)
اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے مستقل یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ یا اللہ! ہمیں حیا عطافرما، اور امانت داری عطا فرما۔
چھ چیزوں کی ضمانت پر جنت
حضرت عُبَادہ بن صامت روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت د ے دو، میں (محمدﷺ) تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں:
(۱) جب تم میں سے کوئی بات کرے تو جھوٹ نہ بولے۔
(۲) وعدہ کرے تو اسے پورا کرے (خلاف ورزی نہ کرے)۔
(۳) اگر تمہیں امانت دی جائے تو (صاحبِ امانت کے مطالبہ پر) اسے ادا کرو۔
(۴) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔
(۵) اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھو۔
نامحرم سے بچاؤ۔ جب نامحرم سامنے آ جائے، خواہ سڑک پر آجائے، شادی ہال میں آجائے، اسکرین پر آجائے، وہ موبائل پر ہو یا ٹی۔ وی پر ہو، نظروں کو جھکائے رکھو۔
(۶) اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو (اس سے کسی کو تکلیف نہ دو)۔ (مسند احمد: 323/5)
یہ چھ باتیں ہیں۔ معاہدہ ہو رہا ہے کہ جو اِن چھ باتوں کی ضمانت دے دے، اس کے لیے جنابِ محمد رسول اللہﷺ جنت کے ضامن ہیں۔
قربِ قیامت امین اور خائن کون ہوگا؟
حضرت ابو ہریرہ کی ایک طویل روایت میں سے ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسا زمانہ لوگوں پر آئے گا کہ خیانت کرنے والا امین (سمجھا) جائےگا، اور امین خائن (سمجھا) جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 4034)
مطلب یہ کہ جو لوگ خیانت کرنے والے ہوں گے، اُن کو تو ذمہ داریاں دے دی جائیں گی، عہدے دے دیے جائیں گے اور وزارتیں دے دی جائیں گی۔ اور جو لوگ امین ہوں گے، امانت داری کے ساتھ کام کریں گے، اُن کو برا بھلا کہہ کر پیچھے کر دیا جائے گا۔ لوگ کیا سمجھتے ہوں گے اور بات کچھ اور ہوگی۔
اب کچھ بات اس پر کر لیتے ہیں کہ ایک آدمی دنیا میں اَمانت ادا کرتا ہے اسے کیا ملے گا؟ اور جو آدمی خیانت کرتا ہے، اس کو کیا ملے گا؟ یعنی ان کی جزا و سزا کیا ہوگی۔ یہ معلوم ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان فضائل و ترہیب پر کسی کے دل میں حق بات اُتار دے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادائیگی
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس نے لوگوں سے مال لیا اور وہ اسے ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا فرمائیں گے۔ اور جو لوگوں سے مال وصول کرے لیکن اس کی ادا کرنے کی نیت نہ ہو تو اللہ تعالیٰ خود اس کے مال کو ہلاک فرما دیتے ہیں۔ (مشکاۃ المصابیح : رقم 2910)
جس شخص کے پاس امانت رکھی جائے اور وہ ادا کرنے کی نیت رکھتا ہے اور مطالبہ کے وقت ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شاملِ حال ہو جاتی ہے۔ ملا علی قاری نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں فراخی عطا فرماتے ہیں اور اسے برکتوں سے نوازتے ہیں۔ اور جو امانت لے کے ادا نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے شاملِ حال نہیں رہتی اور اس کے مال سے برکت اُٹھا دی جاتی ہے، اور بسااوقات ایسی مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سارا مال ہی قربان کرنا پڑتا ہے اور آدمی کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ اس لیے کہ یہ خود بھی کسی مسلمان کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔
باعزّت زندگی گزارنا
حضرت عبداللہ بن عمرو رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب تم میں یہ چار صفات موجود ہوں تو پھر تمہیں دنیا کی کسی چیز کے چھوٹ جانے پر کوئی غم نہیں۔
یعنی تمہارے لیے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ چار صفات جس کسی میں موجود ہیں وہ دنیا میں جہاں بھی جائے گا اس کو کوئی پریشانی نہیں، عزّت ہی ملے گی۔ جہاں دنیا میں رہے گامعزّز ہو کر رہے گا۔ آج لوگ کہتے ہیں کہ ہماری عزّت نہیں ہے، لوگ Value نہیں دیتے۔ یہ چار صفات اپنا لیجیے آپ valuable personality بن جائیں گے۔
وہ کون سی چار صفات ہیں؟ دھیان سے سنیے گا!
(۱) امانت کی حفاظت
(۲) بات کی سچائی
(۳) حسنِ اَخلاق
(۳) حرام سے بچنا اور حلال غذا کا اہتمام۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 5222)
اب ہم دیکھیں کہ ہم جو شکوہ کرتے ہیں کہ معاشرے میں عزّت نہیں ہے، تو کیا یہ صفات ہم میں موجود ہیں؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس میں یہ صفات ہوں اور اس کی عزّت نہ ہو۔ سچے آدمی کی ہر جگہ عزّت ہوتی ہے، امین کی بھی عزّت ہوتی ہے، بااَخلاق آدمی کی بھی معاشرے میں بڑی عزّت ہے، اور جو حلال کا لقمہ کھائے اللہ تعالیٰ اس کو ویسے ہی عزّت عطا فرما دیتے ہیں۔
حضرت فاروقِ اعظم کی تنبیہ
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق فرمایا کرتے تھے کہ کسی آدمی کی نماز اور روزہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ چاہے وہ روزہ رکھے، اور چاہے وہ نماز پڑھے، لیکن اس کا دین نہیں جس میں امانت داری نہیں۔ (شعب الایمان: رقم 4879)
جو امانت دار نہیں اس میں دین داری نہیں۔ نماز، روزہ دین کا ایک حصہ ہے، لیکن اس کے بعد اَمانت داری کی بھی ضرورت ہے۔ آپ کو آج کتنے لوگ ایسے ملیں گے جو نماز بھی پڑھتے ہوں گے، ہر سال حج وعمرے پر بھی جاتے ہوں گے، لیکن امانت کا خیال کرنے والے نہیں ہوں گے۔ ایسے لوگوں کے متعلق یہ ارشاد کتنا سخت ہے کہ ان کے اندر دین نہیں۔ آدمی بزعمِ خود اپنے آپ کو کتنا بڑا دین دار خیال کرتا رہے، لیکن عنداللہ اس کی قیمت نہیں لگ رہی تو فکر کی ضرورت ہے۔
ناپ تول میں خیانت سے بچنا
اسی طرح صحیح ناپ تول کرنا بھی اَمانت ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَo (المطفّفین: 1)
ترجمہ: ’’بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی‘‘۔
ناپ تول میں کمی کا کیا مطلب ہے؟ اس بات کو سمجھنا ہے۔ اس کی مثال دودھ والے اور کپڑے والے سے سمجھیے۔ جب لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں اور جب دینے کا وقت آتا ہے تو دیتے وقت ڈنڈی مارتے ہیں، کم کرتے ہیں۔ ان کا لینے والا گز اور ہوتا ہے، اور دینے والا گز اور ہوتا ہے۔
حضرت جی کا ایک ملفوظ
ابتدا میں میرا جو خیال تھا کہ ناپ تول میں کمی کرنے والوں سے مراد دودھ والا، سبزی والا وغیرہ ہے جو چیزیں تول کر دیتے ہیں۔ یا پھر درزی یا کپڑے والا ہے جو کپڑا ناپ کر دیتا ہے۔ لیکن حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں: نہیں، ناپ تول میں کمی دنیا کے ہر معاملے میں ممکن ہے۔ میاں بیوی کے اندر بھی ناپ تول ہے، باپ بیٹے کے اندر بھی ناپ تول ہے، شیخ اور مرید کے معاملے میں بھی ناپ تول ہے، ایک معلمہ اور اس کی طالبات کے معاملے میں بھی ناپ تول ہے۔
ناپ تول میں کمی کیا ہے؟
مثلاً خاوند یہ چاہتا ہے کہ میری بیوی میری ہر ضرورت پوری کرے، لیکن اس کے نان نفقہ کا خیال نہیںرکھتا، اس کو محبت نہیں دیتا۔ یہ چاہتا ہے کہ بیوی پردہ کرے، نامحرموں سے باتیں نہ کرے، ہاتھ میں تسبیح رکھے اور خوب ذکر کرے، اور خود نامحرموں سے باتیں کرتا ہے۔ یہ میاں کی اپنی بیوی کے حق میں ناپ تول میں کمی ہے۔ اسی طرح طالبات یہ چاہتی ہیں کہ ہمیں معلمہ بہت اچھا سا پڑھائیں، ہمیں وقت دیں، کلاس کے علاوہ بھی وقت دیں، اور خود کوئی محنت نہ کریں، خود کوشش نہ کریں۔ یہ طالبات کی طرف سے اپنی معلمہ کے حق میں ناپ تول میں کمی ہے۔
طالبات کے لیے ہدایت
اسی طرح جو وقت آپ نے مدرسہ کو دے دیا ، ان حالات میں اتنی قربانیاں دیں۔ آپ مبارک باد کی مستحق ہیں کہ آپ نے اپنے اوقات میں سے دین کے لیے تین چار گھنٹے اللہ تعالیٰ کو دیے ہیں۔ یاد رکھیے کہ یہ وقت بھی امانت ہے۔ اس وقت میں جب آپ لوگ ہمارے جامعہ رقیہ میں آجائیں تو خدا کے لیے اس امانت کا خیال رکھیں۔ جو چار گھنٹے جامعہ کے ہیں، اس میں آپس کی غیر ضروری بات چیت نہ کریں۔ یہ وقت اللہ کو دے دیا ہے، یہ اَمانت ہے۔ پڑھنے کی فکر کریں۔ اگر کسی وقت کسی وجہ سے کوئی معلمہ موجود نہیں ہے تو گپیں نہ لگائیں، باتیں نہ کریں۔ آپ اس وقت میں تکرار کرلیں، اپنے مضامین کی اَہم باتیں لکھ لیں۔ کچھ بھی کرنے کو نہیں ہے تو مراقبہ کرلیں، نماز پڑھ لیں، ذکر کر لیں، تلاوتِ قرآن کر لیں۔ اس وقت یہی کوشش کریں کہ یہ وقت ہمارا اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزرے۔ یا پھر مدرسہ کی صفائی، خانقاہ کا کوئی کام جو آپ آسانی سے کر سکیں کر لیں، لیکن وقت ضائع نہ کریں۔ یہ وقت امانت ہے جو آپ نے دے دیا ہے، اس کا خیال رکھیں۔ امانت کی حفاظت کی وجہ سے انسان کا رِزق بڑھ جاتا ہے۔
حضرت جابر اور حضرت علیه دونوں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا یہ مبارک ارشاد ہے: امانت داری رزق کا سبب ہے، اور خیانت فقر کا سبب ہے۔
(جامع الأحادیث: رقم 9711، 448/3)
مشورہ امانت ہے
اسی طرح کسی کی کوئی بات آپ کو معلوم ہو، کوئی بھید پتا ہو تو یہ بھی آپ نے آگے نہیں پہنچانا۔ ایسے ہی کسی نے کوئی مشورہ مانگا تو مشورے کو صحیح طور سے دینا بھی امانت ہے۔ انار کلی میں ایک بزرگ رہتے تھے۔ اور جماعت میں ان کا آنا جانا ہوتا تھا۔ بہت نیک آدمی تھے۔ جب ہم لوگ انار کلی میں رہتے تھے تو وہاں اُن کی دوکان تھی۔ اُن کے ایک دوست اُن کے پاس آئے اور بات چیت کے درمیان کہا کہ جناب! میرا ایک لڑکا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے لڑکے کی شادی آپ کی لڑکی سے ہو جائے۔ اِن بزرگ نے کہا کہ اچھا! ٹھیک ہے مشورہ کر کے بتائیں گے۔ بات ختم ہوگئی۔
تھوڑی دیر بعد اسی مجلس میں بات ہوتے ہوتے ان بزرگ نے اپنے دوست سے پوچھا کہ بھئی! میری بیٹی کا رشتہ آیا ہے۔ آپ میری بات سمجھ رہے ہیں کہ جس نے رشتہ مانگا تھا، اسی سے کہہ رہے ہیں کہ میری بیٹی کا رشتہ آیا ہے میرے ایک دوست کی طرف سے۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اب وہی دوست جس نے اپنے بیٹے کے لیے رشتہ مانگا تھا، اپنا سر جھکا لیا اور تھوڑی دیر بعد کہنے لگا کہ آپ کی بیٹی پاکدامن ہے، نقیہ ہے، تقیہ ہے، آپ حضرات کا شریف خاندان ہے۔ میرے بیٹے کو میں جانتا ہوں، رشتہ مناسب نہیں ہے۔ عجیب بات ہے یا نہیں؟ جو رشتہ مانگنے والا تھا، اسی سے جب مشورہ لیا گیا اسی کے بیٹے کے بارے میں تو کہہ دیا کہ نہیں، آپ کی لڑکی کے مناسب نہیں ہے۔ یہ ہے امانت اور دیانت داری۔
مدرسہ کی باتیں امانت ہیں
اب مدرسے کے معاملات، مسائل، یہاں کی سب باتیں امانت ہیں۔ یہاں کی ذاتی نوعیت کی باتیں گھروں میں جا کر discuss کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ اور نہ دوسرے مدارس سے comparision کرنے کے لیے ہیں۔ ہر ایک کے اپنے اپنے معاملات اور حالات ہیں۔ ہم ہمت کے ساتھ اپنے اندر خوبیاں لانے کی کوشش کریں۔ اور ہم جہاں اپنی طرف سے بہتر کر سکتے ہیں، کریں۔ اسی طرح نجی مجلس کی باتیں ہم سن لیں تو وہ بھی آگے ذکر نہ کریں۔
رسولِ کریمﷺ کی ایک خاص نصیحت
عورتوں کے متعلق رسولِ کریمﷺ نے اپنی اُمت کے مردوں کو خاص نصیحت فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رسولِ کریمﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’عورتوں کے بارے میں خیر کی نصیحت کو قبول کرو۔ ان کی تخلیق پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی میں اوپر کا حصہ زیادہ ٹیڑھا ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو ٹوٹ جائے گی، اور اگر تم ویسے ہی چھوڑ دو گے تو ویسے ہی ٹیڑھی رہے گی۔ پس تم عورتوں کے بارے میں خیر کی نصیحت کو قبول کرو‘‘۔ (صحیح بخاری: 4890)
حدیث شریف میں عرفہ کے موقع پر حضرت ابنِ عباسi سے رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد مبارک مروی ہے: اے لوگو! اپنی بیویوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امانت اور عہد کے ساتھ زوجیت میں لیا ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 1218)
خیال رہے کہ جب مرد کسی عورت کو اپنی زوجیت میں لے لیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی مقرّر کردہ شرطوں کے مطابق لیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی مرد کمی بیشی کرتا ہے، بیوی کے حقوق کو پورا نہیں کرتا تو یہ اَمانت میں خیانت کرتا ہے۔
بندگی کی امانت
امانت کا ایک مفہوم اور بھی ہے۔ وہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے بندگی کی اَمانت ہمارے سپرد کی ہے۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ اَحزاب کی آیت میں ارشاد فرمایا:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَحَمَلَھَا الْاِنْسَانُط (الأحزاب: 72)
ترجمہ: ’’ہم نے یہ امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی، تو انہوں نے اُس کے اُٹھانے سے انکار کیا، اور اس سے ڈر گئے، اور انسان نے اُس کا بوجھ اٹھا لیا‘‘۔
اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ اللہ ربّ العزّت نے ایک امانت ہمارے سپرد کی ہے۔ اس کا ایک تھوڑا سا منظر سمجھ لیجیے۔ اللہ ربّ العزّت نے فرمایا کہ میرے بندو! میں تمہارا پروردگار ہوں، میں تمہیں ایسی نعمتیں دوں گا جو تمہیں کوئی دوسرا دے نہیں سکتا۔ لیکن وہ وقتی ہوں گی، پھر میں دیکھوں گا کہ میری امانت کو تم کیسے استعمال کرتے ہو۔ اگر تم نے اس کا صحیح استعمال کیا اور امانت کا حق ادا کر دیا، پھر تمہیں موت آئے گی اور قیامت کے دن تم میرے سامنے آؤ گے، تو میں تم سے پوچھوں گا کہ تم نے میری امانت کے ساتھ کیا کیا؟ اور ہر امانت پوری کرنے والے کو پہلے سے بڑی نعمت دے دوں گا۔ اور جس نے دنیا میں میری امانتوں کا خیال نہ رکھا تو پھر قیامت کے دن وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو کوئی مزید نعمت دی جائے۔
پہلی مثال
بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک سوال آپ سے کرتا ہوں۔ آپ نے ایک آدمی کو ایک لاکھ روپیہ امانتاً دیا۔ ایک مہینے بعد جب آپ اس سے واپس مانگتے ہیں کہ میری امانت واپس دو۔ جواباً وہ کہتا ہے کہ میرے پاس تو نہیں ہے۔ بات بڑھی، کچھ نہیں ملا اور آپ واپس آ گئے۔ اب اگلی مرتبہ جب آپ نے دس لاکھ روپے امانت دینے ہوں تو کیا آپ اس بندے کو دیں گے جس کو پہلے دی تھی؟ نہیں ناں! کیوںکہ اس نے خیانت کی تھی۔ اب ہمارے پاس ہماری آنکھیں، ہاتھ پاؤں، جسم کا ہر ہر پُرزہ یہ سب اللہ کی طرف سے امانتیں ہیں۔ قیامت کے دن ایک ایک کے بارے میں پوچھ ہوگی۔
دوسری مثال
اس کی دوسری مثال بھی سن لیجیے! ایک بہت بڑا بزنس مین آدمی تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو بیس لاکھ روپے دیے کہ کام شروع کرو۔ اور کہا کہ اگر تم نے بیس لاکھ سے کام صحیح کیا تو میرا سارا سرمایہ تمہارا۔ اور اگر تم اس رقم کو صحیح استعمال نہ کر سکے تو تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تمہارے حوالے اپنا سرمایہ کیا جائے۔ بالکل اسی طرح اللہ ربّ العزّت نے ہمیں تھوڑی مدت کے لیے اس دنیا میں بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ اے میرے بندو! اے میری بندیو! ان نعمتو ں کو وہاں استعمال کرلو جہاں میں نے کہا ہے۔ جب میرے پاس آؤ گے تو میں حساب کتاب کروں گا، اور جب ثابت ہو جائے گا کہ تم نے نعمتوں کا صحیح حق ادا کیا ہے، اب تمہیں میں ایسی نعمتیں دوں گا جو ہمیشہ ہمیشہ کی ہوں گی۔ قیامت کے دن ایک ایک نعمت کے بارے میں سوال ہوگا۔
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِo (التکاثر: 8)
ترجمہ: ’’پھر تم سے اُس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (کہ اُن کا کیا حق ادا کیا)‘‘۔
تیسری مثال
انسان جب پیدا ہوتا ہے تو بہت ساری صلاحیتیں بظاہر اس کے پاس اس وقت نہیں ہوتیں۔ ایسی پوزیشن میں پیدا ہوتا ہے کہ نہ چل سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے، نہ اس کے دانت ہوتے ہیں، اور نہ کھا سکتا ہے، اور نہ ہی اچھا برا سمجھ سکتا ہے۔ بالکل ایک چھوٹا سا ناسمجھ بچہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو نعمتیں دینا شروع کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ نعمتیں بڑھ رہی ہیں۔ دانت آ گئے، آنکھیں ٹھیک ہو گئیں، عقل آ گئی، ساری چیزیں آتی چلی گئیں۔ جوانی کی نعمت بھی چودہ، پندرہ سال کی عمر میں مل جائے گی۔ اب وہ جوان ہوگیا۔ پیدائش سے لے کر چودہ، پندرہ سال کی عمر تک نعمتیں ملنے کا وقت تھا۔ اس کے بعد پندرہ، سولہ سال سے لے کر چالیس، پینتالیس سال تک اِن نعمتوں کے استعمال کا وقت تھا۔ جب چالیس، پینتالیس سال عمر ہو گئی تو آنکھیں کمزور ہوگئیں۔ نعمت واپس جا رہی ہے۔ دانتوں میں کیڑا لگ گیا، کمزور ہوگئے۔ نعمت واپس جا رہی ہے۔ پہلے سوتا اتنا تھا کہ اُٹھنا مشکل ہوتا تھا، اب ساری رات نیند نہیں آ رہی۔ نعمت واپس جا رہی ہے۔ پہلے بھاگ دوڑ کر لیتا تھا، اب نہیں کر سکتا اور تھک جاتا ہے۔ نعمت واپس جا رہی ہے۔
معلوم ہوا کہ پیدائش کے بعد سے لے کرپندرہ سال کی عمر تک ہم نعمتیں لیتے رہے، ہماری گروتھ ہوتی رہی، بڑے ہوتے رہے۔ جب پندرہ سال کے ہوگئے تو چالیس، پینتالیس سال تک ان نعمتوں کو استعمال کرتے رہے۔ یہ ان نعمتوں کے استعمال کا ٹائم پیریڈ تھا۔ اس کے بعد اِن نعمتوں کی واپسی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
جسم کے استعمال کا سوال
موت کیا ہے؟ موت تمام نعمتوں کے کامل طور سے چھن جا نے کا نام ہے۔ ساری نعمتیں چھن جائیں گی۔ قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے سامنے کھڑا کر کے کہیں گے کہ میرے بندے! میں نے تمہیں آنکھوں کی نعمت امانتاً دی تھی، تم نے کیا کیا؟ بندہ کہے گا: ـاللہ! زندگی بھر میں نے نامحرم کو نہیں دیکھا، کبھی نظر پڑ جاتی تو توبہ کر لیتا۔ ٹی وی پر کبھی وقت ضائع نہیں کیا، موبائل پر، اِنٹرنیٹ پر میں نے وقت ضائع نہیں کیا۔ اللہ! میں نے ماں باپ کو محبت سے دیکھا، بیوی بچوں کو محبت سے دیکھا۔ اللہ! بیت اللہ کو دیکھا، قرآن کو دیکھا۔ جب وہ یہ کہے گا تو ثابت کرنا پڑے گا۔ اس کے اعمال نامہ سے، فرشتوں کی گواہی سے یہ ساری چیزیں جب ثابت ہو جائیں گی کہ واقعی اس نے صحیح طریقے سے آنکھ کا استعمال کیا، موبائل کے سامنے آنکھ کو برباد نہیں کیا، وقت کو برباد نہیں کیا۔ تب کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ امانت کا حق ادا کرنے کی وجہ سے اس کو وہ آنکھیں دیں گے جو اللہ کا دیدار کر سکیں گی۔
لیکن اگر کسی بندے کے بارے میں اعمال نامہ سے، فرشتوں کی گواہی سے یہ ثابت ہو گیا کہ گھنٹوں فیس بک پر بیٹھتا تھا، گھنٹوں اِنٹرنیٹ پر نامحرموں کو دیکھتا تھا، بیوی پاس ہوتی تھی مگر بیوی کو محبت نہیں دیتا تھا۔ حرام محبتوں میں سرگرداں تھا۔ تو معلوم ہو جائے گا کہ اس نے نعمت کا حق ادا نہیں کیا۔ اب اللہ ربّ العزّت اس کو قیامت کے دن اندھا کر دیں گے کہ نعمت کا حق ادا نہیں کیا۔
ایک اور بندہ سے پوچھا جائے گا کہ ہاں بھئی! تم کو کھانے پینے کی نعمت دی تھی، کیا کیا؟ کہے گا: اللہ! ہمیشہ حلال کھایا، چیک کر کے کھایا، دیکھ بھال کر کے کھایا، میں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو حرام سے بچایا۔ جب اس کی بات ثابت ہو جائے گی تو اسے جنت کی نعمتیں کھلائی جائیں گی۔ لیکن جس بندہ پر ثابت ہوگیا کہ حرام کھاتا تھا اور احتیاط نہیں کرتا تھا کہ جو مل گیا وہ کھالو۔ اس نے حرام و حلال کی پروا ہی نہیں کی۔ اب اسے بھی کھانے ملیں گے، لیکن جہنم میں سے ملیں گے۔ وہ کیا ہوں گے؟ پینے کے لیے روح افزا اور پیپسی نہیں ہوگی بلکہ پینے کے لیے جہنمیوں کا پیپ ہوگا۔ اور کھانے کے لیے زقّوم کا درخت ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اَمانت کا خیال نہیں رکھا۔
اسی طرح ایک بندے سے سوال کیا جائے گا کہ اے میرے بندے! میں نے تجھے گھر کی نعمت دی تھی، نیلی چھت کے نیچے گھر دیا تھا۔ تم نے کیا کیا؟ کہے گا: یا اللہ! میرا گھر میں درسِ قرآن ہوتا تھا، یہ تو سنتوں کا گلشن تھا، یہاں مرد الگ اور عورتیں پردے میں الگ بیٹھتی تھیں۔ مخلوط محافل کی مجالس یہاں نہیں تھیں، میوزک نہیں تھا، گانا بجانا نہیں تھا۔ اللہ! گھر کو میں نے اس طرح سے استعمال کیا۔ جب اس کی بات ثابت ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ خوش ہو جائیں گے اور اسے جنت کا گھر اَلاٹ کر دیں گے۔
دوسرا بندہ وہ ہوگا جس کے گھر سے گھنٹوں میوزک کی آوازیں آتی تھیں۔ اس کے موبائل سے ہر وقت میوزک کی آواز، ٹی وی سے ہر وقت میوزک کی آواز، مخلوط مجالس جس میں عورتوں اور مردوں کے الگ الگ بیٹھنے کا کوئی انتظام ہی نہیں تھا، نہ کوئی قرآن پڑھنے والا، نہ کوئی دین کی بات کرنے والا۔ ایسے ہی اس نے گھر کی نعمت کو ضائع کر دیا تھا۔ اب اللہ ربّ العزّت اسے گھر دیں گے، لیکن جنت میں نہیں جہنم میں دیں گے۔ وہ کیسا مکان ہوگا؟ مَکَانًا ضَیِّقًا تنگ مکان ہوگا، نہ وہ لیٹ سکے گا، نہ کھڑا ہو سکے گا۔ وہاں موت مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے فرمائیں گے: ایک موت نہ مانگ، موت پر موت مانگ، بار بار موت مانگ، مگر اب تجھے موت نہیں آئے گی۔ (سورۂ فرقان: آیت 14)
اسی پر ہر نعمت کو قیاس کر لیجیے کہ اس دن ہر ہر نعمت کا سوال ہوگا۔ اور اپنے اندر غور کر لیجیے کہ کیا میرے پاس اس کا جواب ہے؟
کانوں کی نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تمہیں کانوں کی نعمت دی تھی، کیا کیا؟ جب ثابت کرے گا کہ یا اللہ! میں ماں کی بات سنتا تھا، شیخ کی بات سنتا تھا، میں قرآن سنتا تھا۔ اللہ! میں دین کی باتیں سنتا تھا، اذان کی آواز میرے کانوں میں آتی تو میں نماز کے لیے چلا جاتا تھا۔ اللہ! میں نے نعمت کا حق ادا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ اس سے ہم کلامی کریں گے۔ وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی باتیں سنے گا۔ جنت میں حوروں کا قرآن سنے گا۔ جنت کے گیت سنے گا۔ اس کے تکلیفوں کے دن ختم ہو جائیں گے۔
لیکن اگر ثابت ہوگیا کہ گانے سنتا تھا، موسیقی سنتا تھا۔ ماں کہتی رہتی تھی مگر یہ ٹَس سے مَس نہیں ہوتا تھا۔ ایک کام کو 25,25 دفعہ کہنا پڑتا تھا ، سنتا ہی نہیں تھا۔ اب اس کو امانت کے پورا نہ کرنے کی وجہ سے جہنم میں جانا پڑے گا۔ بہت اہم بات ہے۔
یہ شرمگاہ جو ہمارے پاس ہے یہ بھی امانت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تو فرمایا کہ تم میری امانت ہو، جس کو بھی میں دوں گا اس کا پھر حساب لیا جائے گا کہ حلال استعمال کیا یا حرام استعمال کیا۔ یہ نماز، روزہ، زکوٰۃ تو اپنی جگہ لیکن امانت کو ادا کرنا ان تمام چیزوں سے بہت زیادہ مشکل ہے۔ اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔
وعدہ وفا کرنا
جو آیت شریفہ شروع میں تلاوت کی گئی تھی، اس میں امانت کے ساتھ ایفائے عہد کا بھی ذکر ہے۔ یعنی اہلِ جنت کی صفات میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ امانت کا خیال کرتے ہیں، اور وعدہ خلافی نہیں کرتے بلکہ وعدوں کو پورا کرتے ہیں۔ دوسری جگہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاَوْفُوْا بِالْعَہْدِج اِنَّ الْعَہْدَ كَانَ مَسْـُٔوْلًا۝۳۴ (بني إسرائیل: 34)
ترجمہ: ’’اور عہد کو پورا کرو، یقین جانو کہ عہد کے بارے میں (تمہاری) بازپُرس ہونے والی ہے‘‘۔
اب والدین شکایت کرتے ہیں کہ بچے وعدہ کرتے ہیں لیکن پورا نہیں کرتے۔ مگر بتائیے کہ کتنے ایسے لوگ بھی ہیں جو چھوٹوں سے وعدہ کرلیتے ہیں، لیکن پورا نہیں کرتے۔ یہ بھی وعدہ کی خلاف ورزی ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب بولو تو سچی بات بولو، اور جب وعدہ کرو تو پورا کرو۔ (مسند احمد: رقم 22144)
دلوں سے نفرت کیسے ختم ہو؟
حضرت داؤد سے منسوب ایک قول ہے کہ اپنے بھائی سے وعدہ کر کے اس کے خلاف نہ کرو، اگر تم نے ایسا کیا تو دونوں میں نفرت پیدا ہو جائے گی۔ آج دلوں میں نفرتیں کیوں ہیں؟ اس لیے کہ وعدے پورے نہیں کرتے۔ ایک دوسرے کے ساتھ جب اپنی کمٹمنٹ کو پورا کریں گے تو اللہ تعالیٰ خاندانوں میں محبت پیدا کر دیں گے۔
حضرت علی سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان سے وعدہ کی خلاف ورزی کی (وعدہ کرکے توڑ دیا) اس پر اللہ تعالیٰ کی، اور فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اس کا نہ کوئی فرض مقبول ہوگا اور نہ نفل۔ (صحیح بخاری: رقم 1870، صحیح مسلم: رقم 1370)
اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے آمین۔ ہم بھی امانت کو پورا ادا کرنے کا، اور وعدے کو پورا کرنے کا ارادہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں وعدہ پورا کرنے کی صفت متقین کی بیان کی ہے:
بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ۰۰۷۶ (آل عمران: 76)
ترجمہ: ’’بھلا پکڑ کیوں نہیں ہوگی؟ (قاعدہ یہ ہے کہ) جو اپنے عہد کو پورا کرے گا اور گناہ سے بچے گا تو اللہ ایسے پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو دو اور دو چار کی طرح واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کی محبت اسے ملے گی جو وعدے کو پورا کرنے والا ہوگا۔
بچوں کی تربیت میں جھوٹ
آج ہمارے گھروں میں وعدوں کو پورا نہ کرنا مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو سکھاتی ہیں۔ الامان والحفیظ! تربیت ہی ایسی کرتی ہیں۔ گھروں کے اندر جھوٹ سکھاتی ہیں، پھر اولاد کو کہتی ہیں کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ عام طور پر کیا ہوتا ہے کہ ماؤں کی خود ہی تربیت نہیں ہوئی ہوتی۔ اکثر باتوں میں اپنے چھوٹے بچوں سے جھوٹ بول دیتی ہیں۔ کوئی کام ہوتا ہے تو اچھا! اپنی دادی کو یوں بول دو۔ معصوم بچے کو تو پتا ہوتا ہے کہ آپ جھوٹ بول رہی ہیں۔ اپنی ساس سے جو جھوٹ بولنا ہوتا ہے وہ بچوں سے بلواتی ہیں۔ والد سے یعنی اپنے شوہر سے جھوٹ بولنا ہو تو بچوں کو استعمال کر لیتی ہیں۔ یا پھر بچوں سے کہتی ہیں کہ اچھا! تم یہ کام کرو گے تو تمہیں یہ لے کر دوں گی اور وہ نہیں لے دیتیں۔
جب بچوں کی تربیت میں جھوٹ شامل ہوگا، پھر کیسے سمجھتی ہیں کہ یہ بچے بڑے ہو کر ان کو عزّتیں دیں گے۔ جس بچے کے دل میں یہ آجائے کہ میری ماں تو جھوٹی ہے، بات بات پہ جھوٹ بولتی ہے۔ آپ نے تو اپنی عزّت خود ہی ختم کروالی، وہ اب آپ کی عزّت نہیں کرے گا۔ عزّت سچے بندے کی ہوتی ہے، جھوٹے اور کذّاب کی عزّت نہیں ہوتی۔ ایک آدمی آپ کو معلوم ہے کہ جگہ،جگہ جھوٹ بولتا ہے۔ کیا آپ اس کی عزّت کریں گے؟ کبھی بھی نہیں۔ جھوٹے کی کیا عزّت ہوتی ہے؟ وہ تو ذلیل ہوتا ہے۔ عزّت سچے بندے کی ہوتی ہے۔ اس بات پر مائیں دھیان دیں اور سوچیں کہ آج کیا بیج بَو رہی ہیں۔ پھر کل کو پھل بھی ویسا ملے گا۔
تم اس بچے کو کیا دو گی؟
حضرت عبداللہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے کہ اس دوران میری امی نے مجھے بلایا اور کہا کہ تم میرے پاس آؤ، میں تمہیں کچھ دوں گی۔ نبی کریمﷺ نے ان کی والدہ سے پوچھا کہ تم اس بچے کو کیا دو گی؟ میری والدہ نے کہا کہ میں کھجور دوں گی۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر تم نے اس کو کچھ نہ دیا تو تم جھوٹوں میں لکھی جاؤ گی۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4991)
عام طور سے مائیں بچوں کو بہلانے کے لیے کوئی جھوٹا وعدہ کر لیتی ہیں، پھر اس وعدے کو پورا نہیں کرتیں۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح یہ چپ ہو جائیں اور وقت نکل جائے، پھر کسی وقت کچھ اور بہانہ کر دیں گی۔ یعنی ایک جھوٹ اور بول دیں گی۔ اس طرح اللہ کے دفتروں (رجسٹروں) میں ایسی عورت کو جھوٹا لکھا جاتا ہے۔
اپنی باتوں کا محاسبہ
ایک اور آخری بات کر کے بات مکمل کرتے ہیں۔ ہم کتنا سچ بولتے ہیں اور کتنا جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ بات ہم نے معلوم کرنی ہے۔ ہم آج سے اپنے اوپر ایک پابندی شروع کر دیں۔ صرف تین دن اسے کر کے دیکھ لیں، معلوم ہو جائے گا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ ہم اپنے آپ کو بڑا شمار کرتے ہیں، ہمیں تو جی سب پتا ہے، ہم بیان سنتے ہیں، ہم نماز پڑھتے ہیں، بڑی دیر تک مراقبہ کرتے ہیں۔ بڑی روحانیت اور نورانیت محسوس کرتے ہیں۔ بس اپنے آپ کو خود ہی جانچ لیجیے۔ تین دن اپنے دونوں کانوں کو، اپنی زبان پر لگا دیجیے۔ جو زبان سے نکل رہا ہے اسے خود سنیے۔ اور ہر جھوٹ پر گھر کے ایک مخصوص کونے میں ایک کنکری ڈال لیجیے۔ تین دن میں پتا چل جائے گا کہ کتنی کنکریاں جمع ہو گئیں۔ اور چند ہفتوں میں تو گھر میں کنکروں کا پہاڑ بن جائے گا۔ کر کے دیکھ لیجیے۔ اگر کنکری جمع کرنا مشکل کام ہے اور برا لگتا ہے تو ایک اور جانچ کا طریقہ بھی ہے۔
ایک کاپی اور پین خرید لیجیے اور اسے اپنے پاس رکھ لیں۔ بس چھوٹی سی ایک ڈائری بنا لیں۔ اور اپنے دونوں کانوں کو اپنی زبان پر لگائیں اور سنیں کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں، اور ہر جھوٹ پر ایک نشان لگائیں۔ کوئی لمبی باتیں نہیں لکھنے کے لیے، بس ایک مخصوص نشان لگا لیجیے۔ دیکھیے! کتنی جلدی وہ کاپی بھرتی ہے۔ پتا لگ جائے گا کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلسل جھوٹ بولنے کی وجہ سے اللہ کے دربار میں ہم جھوٹے لکھے گئے ہوں۔ دنیا ہمیں کچھ کہتی رہے، اگر وہاں کا معاملہ نہ سدھرا تو کیا ملا؟ کچھ بھی نہیں۔
غیر شعوری باتیں
اچھا! بعض جھوٹ تو ہم By Default بولتے ہیں۔ گویا کہ ہمارے اندر ہی فکس کر دیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی خاتون کو اس کی والدہ یا بہن نے فون کیا۔ اب وہ ان سے بات کرتی ہے اور اسی دوران اسے یاد آیا کہ ہنڈیا جل رہی ہے، مجھے وہاں پہنچنا ہے۔ آپ ان سے کہتی ہیں کہ میں ایک منٹ میں دوبارہ کال کرتی ہوں، یا میں ایک سیکنڈ میں آتی ہوں، یا یوں کہنا کہ ایک سیکنڈ ٹھہرو۔ اس ایک سیکنڈ اور ایک منٹ میں تو ہمیں پتا ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے، اگرچہ سامنے والا بھی جانتا ہے کہ ایک سیکنڈ یا ایک منٹ سے زیادہ ہی وقت لگنا ہے، لیکن فرشتوں نے تو وہ لکھنا ہے جو زبان سے نکلا۔ فرشتوں نے تو لکھ لیا کہ اس نے ایک منٹ بعد کال کرنی ہے۔ اور جب آپ نے پانچ منٹ لگا دیے، آٹھ منٹ لگا دیے، پھر کال کر بھی لی لیکن جو آپ نے کہا وہ تو پورا نہیں کیا۔ یہ ہے غیر شعوری باتیں۔
موبائل کی تباہ کاریاں
ایسے ہی آج کل بچے والدین سے دس منٹ کے لیے موبائل لیتے ہیں۔ دس منٹ بعد کہتے ہیں ایک منٹ اور دے دیں۔ پھر آدھا گھنٹہ لگا دیتے ہیں۔ بس دو منٹ اور دے دیں۔ بس پانچ منٹ میں دے رہے ہیں۔ آج بھی ایک صاحب بتلانے لگے کہ بچے جوان ہو گئے ہیں۔ سال دو سال پہلے تک تو ٹھیک تھے۔ ٹوپرز میں آنے والے تھے۔ اپنی کلاس میں ٹوپرز میں آنے والا بچہ موبائل کی وجہ سے ایسے تباہ ہوا کہ اب کہتا ہے کہ میں نے نہ کوئی کام کرنا ہے اور نہ پڑھائی کرنی ہے، بس مجھے موبائل چاہیے۔ اس کا باپ کہہ رہا تھا کہ میرا تو گھر جانا مشکل ہوگیا ہے۔ گھر جا کر کیا کروں؟ موبائل کی عادت بعض لوگوں کو ایسی لگ گئی ہے کہ بس ہر چیز کو چھوڑ کر موبائل چاہیے۔ موبائل کے پیچھے نوجوان نسل تباہ ہو رہی ہے۔ ہم موبائل یا اِنٹرنیٹ کے استعمال سے منع نہیں کرتے۔ ہم کہتے ہیں کہ بھئی! اس کا جائز استعمال جائز، اور ناجائز استعمال ناجائز ہے۔ حرام استعمال حرام ہے۔
ہم کس موبائل اورFacebook کے استعمال کو منع کرتے ہیں؟اس کو سمجھ لیجیے! ہم مطلقاً منع نہیں کرتے۔ ہم اِنٹرنیٹ کے اس استعمال کو منع کرتے ہیںجو بیوی کو خاوند سے، خاوند کو بیوی سے دور کر دے۔ اولاد کو ماں باپ سے دور کر دے، ماں باپ کو اولاد سے دور کر دے۔ مسلمانوں کو علماء سے دور کر دے، مسلمانوں کو مسجد اور مدرسے سے دور کر دے۔ مسلمانوں کو اللہ سے دور کر دے، جنت سے دور کر دے اور جہنم کے قریب کر دے۔ ہم اس استعمال کے مخالف ہیں۔
نبی صادق و اَمینﷺ
بات ہو رہی تھی امانت اور وعدہ پورا کرنے کی۔ یہ اہلِ جنت کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں یہ صفات عطا فرمائے۔ نبی کریمﷺ کو کفارِ مکہ جو جان کے دشمن تھے، وہ کیا کہتے تھے؟ صادق، امین۔ یہ سچے بھی ہیں، امانت دار بھی ہیں۔ انہوں نے دشمنی میں کوئی کسر نہ چھوڑی، لیکن پھر بھی نبی کریمﷺ کو صادق اور امین کہتے تھے۔ جس وقت نبی کریمﷺ ہجرت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، اس وقت تقریباً ہر قبیلے کا ایک آدمی تلوار لے کر کھڑا ہوا تھا کہ آج کچھ کر دینا ہے۔ عین اس وقت بھی کفارِ مکہ امانتیں آپﷺ کے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ ایسے تھے ہمارے نبیﷺ۔
ہم بھی حیا کو اپنائیں، امانت داری کو اپنائیں، وعدہ پورا کریں۔ جنت کے راستے آسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اَمانت کا حق ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے، اور خیانت کرنے والوں کی خیانت سے ہماری حفاظت فرمائے آمین۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply