86

آخری زمانے میں رزق کی اہمیت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوْهُ وَاشْكُرُوْا لَہٗ (العنکبوت: 17)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

حلال طریقے سے مال کمانا
اللہ تعالیٰ جتنا اپنے بندے کی مصلحتوں کو جانتا ہے، اُتنا کوئی بھی نہیں جانتا۔ جتنا رسول اللہﷺ نے اپنی اُمت کے ایک ایک فرد کا خیال رکھا ہے، اُتنا ایک ماں بھی اپنے بچے کا نہیں رکھ سکتی۔ ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے اکتسابِ مال کا ایک پورا باب ہے۔ اور اس میں اِفراط وتفریط سے بچنے کے لیے زُہد عن الدنیا کا ایک پورا باب ہے۔
حضرت مقدام فرماتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں لوگوں کو درہم اور دینار (پیسہ) جمع کرنا ضروری ہوگا کہ وہ اس کے ذریعے سے اپنے دین اور اپنی دنیا دونوں کو درست رکھ سکیں گے۔ (مجمع: 68/4)
یہ رحمۃٌ للعالمینﷺ کی بات ہے جنہوں نے ترکِ دنیا بھی ہمیں سکھائی، لیکن اپنی محبت اور اُمت کے ساتھ رحمت کی وجہ سے یہ بھی سمجھا دیا کہ ایک زمانہ وہ بھی آئے گا کہ جب لوگوں کے لیے اپنے دین کو بچانے، اپنی عزّت کو بچانے کے لیے مال کی ضرورت پڑے گی۔ اس کی وجوہات کیا ہوں گی؟
دین و دنیا کو بچانے کے لیے مال کی ضرورت
سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ شریعت کا بیت المال والا نظام قائم نہیں رہے گا، وہ ختم ہوجائے گا۔ دوسری وجہ لوگوں کے اندر آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنا، ایک دوسرے کی ضرورت پہ کام آنا، اور اپنی ضرورت کو چھوڑ کر دوسرے کے لیے قربانی دے دینا یہ چیز بھی مکمل ختم ہوجائے گی۔ اور اُس زمانے میں ہر شخص اپنی عیش، اپنی راحت اور اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوگا، دوسرے کی کوئی پروا نہیں کرے گا۔ لہٰذا دین کی جو ضروریات ہوں گی، چاہے انفرادی طور پر ہوں، چاہے اجتماعی طور پر مدارس کی شکل میں، مساجد کی شکل میں وغیرہ ہوں، تو ایسی حالت میں خدمت گزار لوگوں کو پریشانی ہوگی۔ جب اپنا مال نہیں ہوگا، تو تھوڑا وقت بھی عزّتِ نفس کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا مشکل ہوجائے گا۔ اور دین کے کام کرنا بھی مشکل۔ دیکھیے! نبی نے کیسے واضح فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا کہ دین دار لوگوں کے لیے درہم اور دینار جمع کرنا ضروری ہو جائے گا۔
پہلے مساجد اور مدارس بیت المال سے چلتے تھے۔ علمائے کرام اور دین کی محنت کرنے والے جتنے طبقے ہوتے تھے، بیت المال سے ان کو وظائف ملا کرتے تھے۔ جس سے گھرکی ضروریات پوری ہوجاتیں اور دال روٹی چلتی رہتی تھی۔ وہ چوبیس گھنٹے دین کی محنت میں لگے رہتے تھے۔ آج وہ زمانہ ختم ہوگیا ہے تو یقیناًآج دین دار لوگوں کو خود بھی اپنے پاس مال رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی عزّت بھی قائم رہے اور وہ خود عزّتِ نفس کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارسکیں۔ ساتھ ہی ساتھ دین کے معاملے میں، دین کی لائن میں مال خرچ کرنے والے بنیں۔ یہ مال فی نفسہ برا نہیں ہے۔ بلکہ اچھے آدمی کے پاس زیادہ مال کا ہونا یہ نعمت کی بات ہے۔
نیک آدمی کا مال دار ہونا
حضرت عثمان غنی بہت بڑے صحابی تھے اور امیر مالدار صحابی تھے، تجارت والے تھے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف بھی امیر ترین صحابہ میں سے تھے۔ ان کے علاوہ اور بھی صحابہ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خوب مال عطا فرمایاتھا۔
ایک حدیث میں آتا ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مالداری میں کوئی حرج نہیں جو خوف اور تقویٰ کے ساتھ ہو۔ (الادب المفرد: رقم 124)
جو خوفِ خدا اور تقویٰ کے ساتھ ہو اس مالداری میں کوئی حرج نہیں، بلکہ وہ اچھی بات ہے۔ حدیث شریف ہی میں آتا ہے:
نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلْمَرْءِ الصَّالِح. (الأدب المفرد للبخاري: رقم 309)
ترجمہ: ’’نیک آدمی کے پاس نیک مال کیا ہی بہترین چیز ہے‘‘۔
اگر خوفِ خدا بھی ہو، تقویٰ بھی ہو اور اس کے ساتھ مالداری آجائے تو یہ نعمتوں پر نعمت کا اور اضافہ ہوگیا۔ اس سے کیا ہوگا؟ اس سے اللہ کے بندوں کی خدمت کا موقع ملے گا۔ جب یہ خوفِ خدا رکھنے والا، متقی بندہ مال کے حقوق ادا کرے گا تو ادا کرتے ہی Automatically فقیروں اور مسکینوں کا کام خود ہوجائے گا۔ زکوٰۃ دے گا تو فقیروں کو دے گا۔ خیرات دے گا تو فقیروں کو دے گا۔ اگر صدقہ کرے گا تو محتاجوں کو دے گا۔ ایسے شخص کے پاس مال کا ہونا بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر وہ دین دار بھی ہے تو دین پر بھی ضرور مال خرچ کرے گا۔ اسلام کے لیے خیر کا ذریعہ بنے گا جیسے کہ صحابۂ کرامj نے اسلام پر خوب مال خرچ کیا، دین پر خوب مال خرچ کیا۔ آج کل کے زمانے کا حال تو حدیث شریف ہی میں ہمارے سامنے آگیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ تاہم تاجروں کے لیے حلال کو اختیار کرنا اور حرام کو چھوڑدینا ضروری ہے، اور مزید بھی کئی چیزوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
ایمان کا جھنڈا اور شیطان کا جھنڈا
دوکاندار حضرات مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ کوئی صبح جلدی چلا جاتا ہے، رات دیر سے آتا ہے۔ اور کوئی صبح دیر سے جاتا ہے، رات میں جلدی آتا ہے۔ ایک مسلمان کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟ اس بارے میں حدیث شریف میں تذکرہ موجود ہے۔
حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ اگر تم اس پر قدرت رکھتے ہو تو تم بازار میں سب سے پہلے پہلے داخل ہونے والے اور سب سے آخر میں نکلنے والے نہ بننا، اس لیے کہ یہ معرکۃ الشیطان ہے۔ اور یہیں وہ اپنا جھنڈا گاڑتا ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 2451)
معلوم ہوا کہ سب سے پہلے جانا اور سب سے آخر میں بازار سے نکلنے کو پسند نہیں کیا گیا۔
حضرت میثم صحابی رسول ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے نبیﷺ سے یہ بات پہنچی ہے کہ جو شخص صبح کو سب سے پہلے مسجد کی طرف جاتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے ساتھ جھنڈا لیے ہوئے ہوتا ہے، وہ اس کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اور اپنے گھر میں داخل ہوجائے۔ اور جو صبح کو سب سے پہلے بازار کی طرف جاتا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لیے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ جاتا ہے۔ (اصابہ: 496/3)
جو فجر کی نماز نہ پڑھے اور بازار پہنچ جائے تو یہ شیطانی جھنڈے کے ساتھ پہنچا۔ بازار میں سب سے پہلے جانا اور سب سے آخر میں آنا یہ کس بات کی دلیل ہے؟ اس کے پاس نہ قناعت ہے، نہ صبر ہے، اور آخرت سے بالکل غافل ہے۔ نبیﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
عند اللہ محبوب مقام
کچھ مقامات ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہوتے ہیں، اور کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اللہ کو پسند ہوتی ہیں۔ شخصیات کون سی پسند ہوتی ہیں؟ جو نبیﷺ کے طریقے پر چلیں۔ مقامات کون سے پسند ہیں؟ اس کے بارے میں سنیے!
حضرت ابوہریرہh جنابِ رسول اللہﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ بہترین جگہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مساجد ہیں، اور بدترین جگہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک بازار ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 671)
امام نوویm اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ بازار دھوکہ بازی، سودی معاملات، جھوٹی قسمیں کھانے، وعدہ خلافی کرنے، اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے روگردانی کرنے کی جگہ ہے۔ یہاں عام طور سے یہ امور پیش آتے ہیں الا ما شاء اللہ۔ اور مسجدیں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نزول کا مرکز ہے جو بازار کے ماحول کے بالکل اُلٹ ہے۔
(شرح صحیح مسلم: 5/171)
بازار میں جب انسان جائے تو سمجھے کہ میں بہترین کو چھوڑ کر بدترین مقام کی طرف جا رہا ہوں، مسجد کو چھوڑ کر بدترین کی طرف جارہا ہوں۔ انسان بازار میں ضرورت پوری کرنے کے لیے جائے اور جیسے ہی ضرورت پوری ہوجائے تو واپس آجائے۔
شروع دن کے حصے میں برکت ہے
دوکاندار حضرات چاہتے ہیں کہ کام میں برکت ہو۔ روزی میں برکت ہو۔ اس کے لیے انہیں جلدی دوکان کھولنے کی ضرورت ہے۔
نبیﷺ جب کسی لشکر کو بھیجتے تو دن کے شروع حصے میں بھیجتے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 2606)
شروع دن برکت کا وقت ہے۔ اور شروع دن میں جمعرات کے دن کے لیے بھی نبیd نے خاص برکت کی دعا فرمائی ہے۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 2228)
امی عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تلاشِ رزق میں صبح کا وقت اختیار کرو، اس لیے کہ صبح کا وقت برکت اور کامیابی کا وقت ہے۔
(تحفۃ الأحوذي: باب ما جاء في التبکیر بالتجارۃ)
ایک حدیث میں نبی نے اپنی اُمت کے لیے دعا کی: اے اللہ! میری اُمت کو دن کے شروع حصے میں برکت عطا فرما۔ (سنن ابی داؤد: رقم 2606)
جو لوگ صبح صبح کام شروع کر دیتے ہیں، ان کی زندگیوں میں بھی برکت ہوتی ہے۔ کاروبار میں بھی برکت ہوتی ہے۔ وقت میں بھی برکت ہوتی ہے۔ تھوڑے وقت میں زیادہ کام نکل جاتے ہیں۔
قناعت اختیار کرنا
اسی طرح تاجروں کے پاس ایک اور نعمت کا ہونا بہت ضروری ہے۔ حلال اور حرام کا علم ہونا، جائز ناجائز کا معلوم ہونا یہ تو فرض ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ ایک چیز ہے قناعت۔ یہ ایک کامیاب زندگی کے لیے بہت ضروری ہے، ورنہ وہ تاجر حضرات جن کے پاس قناعت نہ ہو، زندگی کے سکون سے محروم رہ جاتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمروi سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اسلام قبول کیا، اور بقدرِ کفایت روزی دی گئی، اور اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے پر قناعت کی (راضی رہا)۔ (صحیح مسلم: باب في الکفاف والقناعۃ)
کامیابی کن باتوں میں ہے؟ پہلی بات فرمائی کہ وہ شخص کامیاب ہے جو اسلام لے آیا۔ مسلمان ہے۔ دین پر عمل کرتا ہے۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی کہ اس کو اتنی روزی دی گئی جو اس کی ضرور•تاجر کو یہ چیز مل گئی وہ دن اس کا اطمینان سے گزرے گا۔ اس کی زندگی اطمینان سے گزرے گی۔ ایک روایت میں ہے نبی کریمﷺ نے اِرشاد فرمایا: جب اللہ ربّ العزّت کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے نفس کو غنی فرما دیتے ہیں اور اس کے دل کو متقی بنا دیتے ہیں۔ (صحیح ابنِ حبان: رقم 6352)
اس کے لیے ہم اللہ سے مانگا کریں: اے اللہ! آپ ہمارے ساتھ خیر کا اِرادہ فرما لیجیے۔ اللہ! ہم آپ کی تقسیم پر راضی ہیں۔ اللہ! آپ نے ہمیں غریب بنایا ہم اس پر بھی راضی ہیں۔ امیر بنایا اس پر بھی راضی ہیں۔ اللہ! اولاد دی راضی ہیں، نہیں دی تب بھی راضی ہیں۔ ہر حال میں بندہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوجائے۔ ایسا بندہ اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی زندگی میں برکتیں عطا فرماتے ہیں۔ آج ہمارے جھگڑے اسی لیے زیادہ ہیں کہ اللہ کی عطا پہ راضی ہی کوئی نہیں۔ اللہ کی رضا پر راضی ہوجائیں۔
امتِ محمدیہ کے بہترین افراد
اس اُمت کے بہترین افراد کون ہیں؟ نبی کریم ﷺ کی زبانی سن لیجیے! فرمایا کہ بہترین ایمان والے وہ ہیں جو قناعت پسند ہیں۔ اور بدترین مسلمان وہ ہیں جو لالچی ہیں۔ (مسند الشہاب: رقم 1185)
جو اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی نہیں، یہ بھی مل جائے، یہ بھی مل جائے۔ ہروقت لالچ کرتے ہیں۔ جیسے کہ ابھی بات گزری حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنے بیٹے سے فرمایا تھا: قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ یہ بالکل سچی بات ہے۔
قناعت پسند کا مقام
قناعت کرنے والا کہاں جائے گا؟ جنت میں یا جہنم میں؟
حضرت عبداللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے دیے گئے پر قناعت کرنے والا جنت میں جائے گا۔ (کنز العمال: رقم 7275)
مثلاً شادی ہوگئی اس پر دل سے الحمدللہ کہنا۔ ورنہ کیا اُلجھنیں ہوتیں؟ شادی نہیں ہو رہی، لیٹ ہو رہی ہے، رشہ نہیں مل رہا، رشتے آتے ہیں چلے جاتے ہیں نہیں ہوپا رہا۔ ارے! اللہ کی تعالیٰ رضا پر راضی رہو، اس کی قدر کرو جنت مل جائے گی۔
ایک خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ کئی دنوں سے بڑی پریشان ہیں۔ کسی اور ملک سے ہیں۔ بس ان کی تمنا یہی ہے کہ حضرت! کوئی دعا کر دیں اور ایسا وظیفہ بتا دیں کہ بس میری شادی فوراً ہو جائے۔ کافی لیٹ ہوچکی۔ عمر خاصی زیادہ ہوچکی ہے۔ اُن کی یہ خواہش شرعًا ٹھیک ہے، میں ان کی اس خواہش کی نفی نہیں کر رہا۔ لیکن سمجھانے کا مقصد یہ ہے اگر ہم اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہوجائیں، اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی ہوجائیں چاہے جس حال میں بھی اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے تو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرما دیں گے۔ آخرت کی ترقی اور برکتیں عطا فرما دیں گے۔ اللہ ربّ العزّت انسان کو آزماتے ہیں، تھوڑا مال دے کر بھی آزماتے ہیں، زیادہ دے کر بھی آزماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمایش
ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جو کچھ عطا کرتے ہیں اس پر اسے آزماتے ہیں، پس اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتا ہے (چاہے تھوڑا دیا ہو یا زیادہ۔ تو) اللہ تعالیٰ اسے برکت سے نوازتے ہیں اور اس کے لیے کشادگی کی جاتی ہے۔ اور اگر وہ (اللہ تعالیٰ کے دیے پر) راضی نہیں ہوتا تو اسےبرکت نہیں دی جاتی اور نہ اس کے لیے اس کے مقدر سے زیادہ کشادگی کی جاتی ہے۔
(معجم الصحابۃ لابن قانع: رقم 535)
قناعت نہ کرنے والے کی زندگی سے، مال سے، گھر سے، اولاد سے برکتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ تو حصولِ برکت کا سبب کیا بنا؟ جو اللہ کی تقسیم ہے ہم اس پر راضی رہیں۔ تھوڑی سیل ہوگی راضی، زیادہ ہوگی تو راضی۔ تنخواہ تھوڑی ہے تو راضی، زیادہ ہے تو راضی۔ ہر گھڑی اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی ہوجائیں تو برکتیں آجائیں گی۔
قناعت کیسے ملے گی؟
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھو، اپنے سے اوپر والے لوگوں کو مت دیکھو، یہ زیادہ بہتر ہے کہ خدا کی نعمت کی ناقدری نہ ہو۔ (صحیح مسلم: رقم 2963)
قناعت کیسے حاصل ہوگی؟ جی! یہاں کتنے لوگ بیٹھے ہیں؟ جتنے بھی ہیں، سچ بتائیں! اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنوں سے بہتر رکھا ہوا ہے؟ اس کو غور کریں! ہر آمی اپنے سے نیچے والے کو دیکھے۔ کوئی لاکھ کماتا ہے وہ پچاس والے کودیکھ لے۔ کوئی دس ہزار کماتا ہے وہ 8 ہزار والے کو دیکھ لے۔ ایک صاحب کہنے لگے: حضرت! میں جاب کے لیے گیا تھا۔ میں نے ان سے 7 ہزار روپے کی ڈیمانڈ رکھی تو وہ اس کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے۔ صبح 7 بجے سے لے کر دوپہر 2 بجے تک تقریباً میں نے پڑھانا ہے۔ اسکول والے کہتے ہیں کہ 7 ہزار تو ہم نہیں دے سکتے، تین ہزار روپے ماہانہ دیں گے۔ ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو 4 ہزار روپے مہینہ، 5 ہزار روپے مہینہ کماتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ کی کتنی ہی نعمتیں ہمارے پاس ہیں۔
اُصول کیا ہے؟ دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھیں۔ اس سے کیا ہوگا کہ ہم مزید عمل کی طرف بڑھیں گے۔ کوشش ہوگی کہ بھئی! یہ نماز بھی پڑھتا ہے، تہجد بھی پڑھتا ہے۔ میں بھی پڑھوں۔ اور دنیا کے معاملے میں ہم نیچے والے کو دیکھیں کہ اس کے پاس تو یہ بھی نہیں ہے میرے پاس تو یہ ہے، اور یہ بھی ہے، اور وہ بھی ہے۔ اس پر تو قرضہ ہے، اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس سے محفوظ رکھا ہے۔ جب ہم دین کے معاملے میں اوپر والوں کو دیکھیں گے اور دنیا کے معاملے میں نیچے والوں کو دیکھیں گے تو ہمارا معاملہ ٹھیک رہے گا۔ جب ہم اس ترتیب کو الٹا کر دیتے ہیں تو پھر پریشانیوں میں چلے جاتے ہیں۔ آپ اپنی بیوی سے کہتے ہیں کہ نماز پڑھ لو۔ جواب کیا ملتا ہے؟ تمہاری بہن کون سی نماز پڑھتی ہے؟ جب وہ جنت میں جائے گی تو میں بھی ویسے ہی چلی جاؤں گی۔ اس کے کرتوت دیکھے ہیں، اس کے حالات دیکھے ہیں۔ یہ باتیں ہوں گی۔ اور دنیا کے معاملے میں کیا ہے کہ جی! فلانی میری پڑوسن نے نئے پردے ڈالے ہیں، ہم کب Change کر رہے ہیں۔ انہوں نے نئے ماڈل کی گاڑی لے لی ہے۔ ہم ابھی تک اسی پرانے ماڈل میں پھر رہے ہیں۔
کتنے شرم کی بات ہے۔ اس سے کیا ہوگا؟ دین میں نقصان ہوگا۔ دیندار سے بے دین ہو جائیں گے، اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی جو نعمتیں موجود ہیں ہمارے پاس ان کی ناشکری کا گناہ ہوگا۔ اس ناشکری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نعمتوں کو واپس لے لیں گے۔ جو نعمتیں دینا جانتا ہے وہ لینا بھی جانتا ہے۔ قناعت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جتنی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہوئی ہیں اس پر شکر کریں، اور اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں جن کے پاس وہ نعمتیں نہیں جو ہمیں مل چکی ہیں۔
احساسِ نعمت پیدا کرنے کی ضرورت
پرسوں ایک صاحب نے Whatsapp پر ایک عجیب بات کہی۔ کہنے لگے: آج ہم نعمتوں کے عادی ہوچکے ہیں۔ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ فرعون جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا، بڑائی کا دعویٰ کرتا تھا، اس کے پاس کیا چیزیں تھیں؟ اگر آج کے زمانے کے اعتبار سے سی ڈی 70 پہ فرعون کو پیچھے بٹھا کر لاہور شہر کا چکر لگا دیا جائے، مال روڈ وغیرہ کا تو بے ہوش ہی ہوجائے کہ اتنی نعمتیں تو اس نے نہیں دیکھی تھیں۔ ہوائی جہاز پہ بٹھادیں تو کیا بنے گا اس کا، وہ تو پیدل اور اونٹوں، گھوڑوں پہ سواریاں کرنےو الا شخص تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی آسانیاں ہمارے لیے کر دی ہیں۔ جو نعمتیں پہلے وقت کے بادشاہوں کے پاس بھی نہیں تھیں، آج عام آدمی کے پاس ہیں۔ پہلے جہاز نہیں تھے، ریل گاڑی نہیں تھی اور نہ ہی اتنے انتظامات تھے۔ آج جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں تو ہم نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے بنیں۔
کچھ دن پہلے ایک جگہ دعوت میں جانا ہوا۔ ساتھ بیٹھے میزبان نے کھانا نہیں کھایا۔ میں نے کہا کہ بھائی جان! دعوت آپ نے کی ہے، کھانا کھائیے۔ کہنے لگے: میرا پِتّہ نہیں ہے۔ آپریشن کے ذریعے پِتّہ نکال دیا گیا ہے، میں کھانا نہیں کھاسکتا۔ میں شہد کے ساتھ روٹی یاسلائس لگا لیتا ہوں، چائے پی لیتا ہوں، دودھ پی لیتا ہوں۔ میں بڑا حیران ہوا۔ اور ہم کتنی نعمتیں روز کھاتے ہیں، کھاتے ہوئے بسم اللہ پڑھنا بھی بھول جاتے ہیں۔ اور ایسے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں میں کھا ہی نہیں سکتا اللہ اکبر کبیرا۔
ایک طریقہ تو نبی کریمﷺ کا یہ ہے کہ نعمتوں پر شکر ادا کریں، قناعت کریں۔ دوسرا طریقہ ہے دعا مانگنا۔ دعا سے ہر چیز، ہر نعمت مل جایا کرتی ہے۔
دعا سے نعمت حاصل کرنا
حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
وَمَنْ يَّسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللّٰهُ. (متّفق عليه، بخاري: رقم 1469، مسلم: رقم 1053)
ترجمہ: ’’جو اللہ تعالیٰ سے غنیٰ کا طالب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی بنا دیتے ہیں‘‘۔
حضرت ابنِ عباس کی ایک حدیث میں ہے نبی کریمﷺنے فرمایا: لوگوں سے مستغنی رہو خواہ ایک مسواک کی لکڑی سے ہی کیوں نہ ہو۔ (معجم کبیر للطبرانی: رقم 12100)
جو مانگنا ہو اللہ سے مانگو۔ ایک مسواک کی ضرورت بھی ہو، ایک بالشت کی بھی ضرورت ہے تو وہ بھی اللہ سے مانگو۔ لوگوں کی طرف توجہ ہی نہ رہے۔ یہ کیفیت انسان کو مل جائے تو زندگی کا مزا آجائے۔ غنیٰ کا تعلق کثرتِ اسباب سے نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی کروڑ پتی ہو، اربوں پتی ہو لیکن اس کے پاس قناعت نہ ہو۔ اور ایک آدمی دال روٹی کھاتا ہو اور قناعت کرنے والا ہو۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: غنٰی کا تعلق کثرتِ اسباب سے نہیں، بلکہ غنٰی کا تعلق نفس کے غنٰی کے ساتھ ہے۔ ( صحیح مسلم: باب لیس الغنٰی عن کثرۃ العرض)
بعض دفعہ مال بہت زیادہ ہوتا ہے، اس کے باوجود انسان حریص اور لالچی رہتا ہے، پریشان رہتا ہے۔ اور جب دل میں لالچ نہیں ہوتا تو پُرسکون ہوتا ہے۔
تین قیمتی نصیحتیں
حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ ایک شخص آپﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی مختصر سی نصیحت فرمائیے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جب نماز پڑھو تو ایسی پڑھا کرو کہ آخری نماز ہے (توجہ بنے گی۔ دوسری بات یہ کہی کہ) اور ایسی بات نہ کہوکہ کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے۔ اور تیسری بات کہی کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے پروا ہو جاؤ۔ (سنن ابنِ ماجہ: رقم 4171)
جسے اللہ تعالیٰ نے جو دیا ہے اس سے بے پروا ہو جاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق رکھو۔ یہاں ایک لطیفہ یاد آگیا۔ سوچ کر نہیں بیٹھا تھا، بس یاد آگیا۔
ملا نصیر الدین کا جواب
ملانصیر الدین صاحب کے لطیفے بڑے مشہور ہیں۔
ایک مرتبہ ملانصیرالدین کا دروازہ کسی نے کھٹکھٹایا اور کہا: ملا جی! ملا جی! آپ کو پتا ہے، برابر میں حلوہ پکا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے کیا اس نے کہا: مولوی صاحب! آپ کے لیے پکا ہے۔ ملا نصیر الدین نے برجستہ جواب دیا: تو پھر تجھے کیا؟
تو بھئی! کسی کو اللہ نے کیا دیا ہمیں اس سے کیا۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے والے بن جائیں، پھر سب مسئلے آسان ہوجائیں گے۔ اگر انسان قناعت اختیار نہیں کرتا تو پھر اس کا پیٹ کوئی نہیں بھرسکتا سوائے قبر کی مٹی کے۔
ابنِ آدم کی حرص
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: اگر ابنِ آدم کو ایک وادی کے برابر مال مل جائے، تب بھی وہ چاہے گا کہ اس طرح کی ایک اور مل جائے، اس کے نفس کو تو قبر کی مٹی ہی بھرسکتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی جانب متوجہ ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ (بخاري: رقم 6437، مسلم: رقم 1049)
اور ایک حدیث میں ہے کہ ابن آدم بوڑھا ہوجاتا ہے مگر دوچیزیں اس میں جوان رہتی ہیں: ایک مال جمع کرنے کی حرص، دوسرا لمبی عمر کی حرص۔ (صحیح بخاری: رقم 6058)
جب بال سفید ہوجائیں تو آخرت کی تیاری کی طرف زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہمارا حال کیا ہوتا ہے کہ امیدیں بڑھ جاتی ہیں، اور ایک چانس اور کے سہارے غفلت میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔
حدیثِ ابی سعید خدری
ایک حدیث میں بہت عجیب مضمون ہے۔ پہلے مختصر بیان کی، اب ذرا اسے کھول کر بیان کرتے ہیں۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو پاکدامنی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے پاکدامنی عطا فرمائے گا۔ (کتنے لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں جی! ہمارے لیے نگاہوں کی حفاظت مشکل ہے۔ نامحرموں سے رابطے بند کرنا مشکل ہے۔ یہ معاملہ ہے، وہ معاملہ ہے۔ اصل میں کیا ہے؟ دل میں چور ہے، اور کھوٹ ہے تو پھر آپ نہیں بچ سکتے۔ آقاﷺ نے صاف صاف فرمایا: جو پاک دامن رہنا چاہے گا اللہ اسے پاک دامن رکھے گا۔ دوسری بات ارشاد فرمائی) جو اللہ تعالیٰ سے غنیٰ کا طالب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے غنی بنا دیتے ہیں ۔ جو اللہ تعالیٰ سے کفایت طلب کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔ اس کفایت اور وسعت سے بڑھ کر کسی کو کوئی بھلائی نہیں دی گئی۔ (متّفق عليه، بخاري: رقم 1469، مسلم: رقم 1053)
اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہم سے محبت کریں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کے مال سے مستغنی ہوجائیں۔
لوگوں کی محبت کیسے ملے؟
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں (مال ہے، دولت ہے، دنیا کے عہدے ہیں وغیرہ) ان سے بے رغبتی اختیار کرلو، لوگ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ (سنن ابنِ ماجہ: رقم 4102)
لوگوں کی محبت چاہتے ہو تو اُن کے مال سے مستغنی ہوجاؤ، یہ سارے کے سارے تم سے محبت کریں گے۔ بس ان سے بے پروا ہوجاؤ۔ ان کے مال پر دھیان نہ دو۔
حکایت
ایک اللہ والے تھے۔ اُن کے پاس لوگ بڑے آتے تھے۔ بڑا ہجوم ہوا کرتا تھا۔ اس وجہ سے بڑے پریشان رہتے تھے کہ آرام کا بھی وقت نہیں ملتا۔ لوگ مستقل آتے رہتے ہیں۔ رجوع اتنا زیادہ ہے لوگوں کا تو کیا کیا جائے۔ انہوں نے کسی سے پوچھا کہ میں کیا کروں؟ جواب ملا کہ یہ تو مسئلے والی بات ہی کوئی نہیں۔ آپ کے پاس لوگ زیادہ آتے ہیں ناں، تو آسان سی بات ہے اتنے امیر امیر لوگ آتے ہیں ان سے قرض مانگ لو، دوبارہ کوئی نہیں آئے گا۔ اور جو غریب آتے ہیں ان سب کو قرض دے دو، یہ بھی دوبارہ واپس نہیں آئیں گے۔ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ جو امیر آتے ہیں ان سے کہنا کہ پانچ پانچ لاکھ روپے لے کر آنا کہ مجھے چاہیے، اِن شاء اللہ اگلے بیان میں کوئی نہیں آئے گا۔ اور جو غریب آتے ہیں ان کو قرضہ دے دو، یہ بھی واپس نہیں آئیں گے۔ تم آزاد ہوجاؤ مزے میں رہنا۔ یہ ایک اللہ والے کا واقعہ ہے جو لوگوں کے مال سے مستغنی زندگی گزار رہے تھے تو لوگوں کا ہجوم آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ عافیت والا معاملہ فرمائے۔
بھئی! لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں اس سے ہم مستغنی ہوجائیں تو لوگ ہم سے محبت کرنے لگیں گے۔
توجہ الی اللہ کا فائدہ
حضرت عمران بن حصین نبی کا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص کامل طریقے سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے، اللہ تعالیٰ اس کی ہر ضرورت پوری فرماتے ہیں، اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور جو شخص مکمل دنیا کی طرف لگ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ (معجم صغیر للطبرانی: رقم 322)
ہاں! حکم ہو جاتا ہے کہ تو جان، تیری دنیا تیرے ساتھ، میرا کیا تعلق ہے؟ اسی لیے ایمان والے تاجر کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے آپ کو لگائے۔
ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ قوی ہوجائے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ پر توکل کرے۔ اور جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ غنی ہو جائے، اسے چاہیے کو جو چیز اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ اعتماد رکھے بہ نسبت اپنی چیزوں کے۔ اور جو اس بات کو پسند کرے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ معزز بن جائے، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ (تفسیر ابن أبي حاتم: رقم 16892، سورۃ الزمر تحت آیۃ قُلْ حَسْبِیَ اللہُ)
ہمارے پاس چاہے کچھ بھی ہو، لیکن جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہت زیادہ اور بے حساب ہے۔ ہم اپنی چیزوں پہ بھروسہ نہ رکھیں، اللہ تعالیٰ کی ذاتِ عالی پر بھروسہ رکھیں۔ علمائے کرام بھی اس صفت کو اپنائیں۔ چند روز پہلے ایک عالم ملے تو کچھ بات کرنے لگے۔ حضرت جی زِیْدَ مَجْدُہٗ سے ایک بات سنی ہوئی تھی جو اُن سے عرض کر دی کہ بھئی! دیکھیں! آپ تقویٰ کی زندگی اختیار کریں، پاکدامنی کی زندگی اختیار کریں، دین پر محنت کریں۔ یہ دنیا آپ کے قدموں کو چومے گی، یہ دنیا مال آپ کی جوتیوں میں رکھے گی۔ شرط کیا ہے؟ توجہ الی اللہ ہوجائے، تقویٰ حاصل ہوجائے۔ پاکدامنی کی زندگی اور ساتھ دین پہ محنت ہو تو دنیا قدموں میں مال رکھے گی۔ اور یہ آج سے نہیں چودہ سو سال سے ہوتا چلا آرہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔ اہلِ علم اور تقویٰ والوں کو اس کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ وہ دنیا داروں کے مال سے مستغنی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ وقت آنے پر ان کو عزتوں سے نواز دے گا، وقار کے ساتھ فتوحات کا دروازہ کھول دے گا۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ڈالیں گے کہ جاؤ ان کو دے کر آؤ۔ چودہ سو سالہ تاریخ اس پر گواہ ہے۔
حضرت حکیم الامت کا واقعہ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک مرید نے انہیں لاکھ روپے بھیجے۔ اس زمانے کا لاکھ میرا خیال ہے آج کے دس کروڑ سے بھی شاید زیادہ ہوں۔ جب چار آنے، آٹھ آنے تنخواہ ہوتی تھی اور مہینہ گزر جاتا تھا اسی چار آنے میں۔ حضرت نے محسوس کیا کہ دینے والے کا انداز متکبرانہ ہے، اس کے اندر سے بڑائی سی محسوس ہو رہی ہے۔ چناںچہ حضرت نے وہ لاکھ روپے واپس کر دیے۔ اُن صاحب کو بڑا برا لگا۔ ان صاحب نے خط لکھا کہ حضرت! آپ کو ایسا کوئی مرید نہیں ملے گا جو ایک لاکھ روپے دے۔ حضرت نے اسی کے پیچھے لکھ دیا کہ تجھے بھی ایسا پیر نہیں ملے گا جو لاکھ روپے واپس کر دے۔ اللہ اکبر کبیرا!
جب انسان اللہ تعالیٰ سے جُڑ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔
ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں سے مستغنی رہو اور سوال جتنا بھی کم ہو اتنا ہی اچھا ہے۔ صحابہ کرا نے عرض کیا: اور آپ سے بھی جتنا کم ہو (وہ بہتر ہے؟) رسول اللہﷺ نے فرمایا: اور مجھ سے بھی۔ (تخریج أحادیث الاحیاء: رقم 3954)
ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں اللہ کے بندوں سے نہ مانگیں۔ اللہ تعالیٰ عطا فرما دیں گے۔
اسمِ اعظم کے وِرد کا شوق
اب آخر میں ایک وظیفہ بتانا ہے۔ لوگوں کے بہت کثرت سے فون آتے ہیں۔ حضرت! شادی نہیں ہو رہی وظیفہ بتا دیں۔ حضرت! بیٹی کا رشتہ نہیں آرہا وظیفہ بتا دیں۔ حضرت! کاروبار میں لگتا ہے کسی نے بندش کروا دی ہے وظیفہ بتا دیں۔ حضرت! فلانی جگہ کا ویزہ لگ جائے وظیفہ بتا دیں۔ حضرت! بیماری ہے وظیفہ بتا دیں۔ جن چڑھ گیا ہے وظیفہ بتادیں۔ ہر چیز کے لیے وظیفہ پوچھتے ہیں۔ پھر ہماری خواتین تو کیا ہی کہنا۔ انہیں کوئی وظیفہ بتا دے کہ تمہارا خاوند تمہاری انگلیوں پہ ناچے گا۔ اب اس کے لیے پہاڑ پہ چڑھ کر بھی کرنا پڑے تو کرلیں گی۔ بس ہر قسم کے وظیفوں کی ہروقت تلاش رہتی ہے۔ ایک وظیفہ آپ کو بتاتے ہیں جو پکا اور سچا ہے۔ سو فیصد پورا ہوگا۔ اچھا! یہ بتائیں کہ ایسا وظیفہ جو لازمی پورا ہو، اگر اس میں20 منٹ روز کے لگ جائیں تو ٹھیک ہے یا نہیں؟ ایسا وظیفہ ہم روز کرلیں گے یا نہیں کریں گے؟ کرے گا کوئی بھی نہیں، سارے اِن شاء اللہ، اِن شاء اللہ کیے جا رہے ہیں۔ یہاں تو سارے کہہ رہے ہوتے ہیں بعد میں کسی نے نہیں کیا ہوتا، پتا لگ جاتا ہے، چہرے بتاتے ہیں۔ اگر میں بتائوں کہ فلاں اسمِ اعظم ہے، اسے آپ بیس منٹ روز پڑھیں۔ آپ سارے پڑھیں گے۔ واہ جی! اسمِ اعظم پتا لگ گیا ہے، اب میرا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اب میں نے 21 منٹ روز گھڑی دیکھ کر پڑھنا ہے کہ حضرت صاحب نے اسمِ اعظم بتا دیا ہے۔ یہ تو سب کرلیں گے۔ لیکن میں اس وقت جو بتانے لگا ہوں یہ بڑا مشکل ہے۔ شاید کوئی کرلے۔
سب سے بڑا اور انمول وظیفہ
سن لیجیے کہ سب سے بڑا وظیفہ دعا ہے۔ روزانہ گھڑی دیکھ کر 15 سے 20 منٹ ہاتھ اُٹھا کر اللہ سے مانگیں، پھر دیکھیں اس پر کیا کچھ نہیں ملتا۔ آج کسی مجبوری میں دس ہزار مرتبہ پڑھنے کا وظیفہ بتا دو، وہ پڑھے گا۔ ایک ہزار دفعہ بولو، پڑھ دکھلائیں گے۔ اِدھر اُدھر کے اُلٹے کام جتنے مرضی بولو، سب کرلے گا۔ ہاں! اگر کسی کو یہ کہہ دو کہ اللہ کے بندے! رات کو تہجد کے وقت اللہ آواز لگاتے ہیں؟ ہے کوئی مانگنے والا؟ اس کو عطا کروں۔ اس وقت دس منٹ ہاتھ اُٹھا کر رکھنا ہمارے لیے ممکن نہیں رہتا۔ ہم 10 منٹ، 15منٹ ہاتھ کھڑے کرکے راتوں کو اللہ سے مانگیں تو سہی۔ آج کسی غریب سے پوچھ لو، پریشان حال سے پوچھ لو کہ جی! دعائوں میں کتنی دیر آپ لگاتے ہیں؟ کتنا وقت لگاتے ہیں؟ ابھی ہم جتنے بھی لوگ یہاں ہیں اپنی اپنی مختلف پریشانیاں ہم سب کے ساتھ ہیں۔ میرے ساتھ بھی ہیں، آپ کے ساتھ بھی ہیں۔ دنیا ہے ہی پریشانیوں کا گھر۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنت نہیں بنایا۔
لیکن اگر پوچھا جائے کہ کل سے لے کر آج اس وقت تک ہم نے کتنا اللہ تعالیٰ سے مانگا ہے؟ تو میرا خیال ہے لاکھوں میں کوئی ایک ہوگا جو یہ کہہ سکے جی! میں نے10 منٹ، 15 منٹ مانگا ہے۔ وظیفے تو کسی کو اگر آدھےگھنٹے والے بھی بتا دیے جائیں۔ لوگ کرتے ہیں۔ اگر کلمہ بھی پڑھنا ہو، یا چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی دس ہزار دفعہ پڑھنی ہو تو کتنی دیر لگے گی اس میں؟ لیکن اتنا وقت ہاتھ اُٹھا کر اللہ کے سامنے مانگنا، یہ ہم سے نہیں ہوتا۔ یہ صرف سمجھانے کا انداز اختیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو قبول کرے۔ آپ کا آنا قبول کرے۔ ہم راتوں کو اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ پھیلا کر، دامن پھیلا کر مانگیں۔ روز مانگیں۔ 5 منٹ، 10 منٹ، 15 منٹ، 20 منٹ، 25منٹ، اِن شاء اللہ ثم اِن شاء اللہ ضرور ملے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی دینے والے ہیں۔
قبولیتِ دعا کے لیے مطلوب کیفیت
اب یہاں دعا کی کیفیت کو ذکر کرتے ہیں جس پر قبولیت کا وعدہ ہے۔ اس میں چند چیزوں کا اہتمام کر لینا چاہیے۔ ایک تو یہ کہ پورے یقین کے ساتھ مانگے۔ اپنے اندر سے قبولیت کا یقین نہیں ہوتا اور الزام اللہ تعالیٰ کو لگا رہے ہوتے ہیں کہ دیتا نہیں، سنتا نہیں، قبول نہیں کرتا العیاذ باللہ۔ حال یہ ہے کہ اندر سے نفس اپنا خراب ہے۔ دیکھیں بھئی! آپ ابھی گھر جائیں، آپ کے جو چھوٹے بچے ہیں۔ کوئی پانچ سال کا، دس سال کا۔ آپ ان سے کہیں کہ میرے پاس آئو! میں ٹافی دوں گا۔ اور وہ سامنے سے اس طرح سے کہہ دیں کہ ابو! پتا نہیں آپ دیں گے کہ نہیں۔ بتائیے کہ آپ کو کیا لگے گا؟ اچھا لگے گا یا غصہ آئے گاکہ میرا اعتبار ہی نہیں کر رہا۔ کتنا برا لگے گا۔ وہ پروردگارِ عالَم جو بے نیاز ہے، جو دینا چاہتا ہے، جو کریم ہے اور دے کر خوش ہوتا ہے۔ جس کی طرف سے رات کوآواز لگتی ہے :
ھَلْ مِنْ سَائِلٍ یُعْطٰی؟ (صحیح مسلم: 758)
ترجمہ: ’’ہے کوئی مانگنے والا کہ جسے عطا کیا جائے؟‘‘
ہم دعا مانگ رہے ہوں اور دل میں یہ ہوکہ پتا نہیں ملے گا کہ نہیں ملے گا۔ سوچیے کہ اللہ تعالیٰ کو کتنا برا لگے گا۔ اس یقین کے ساتھ مانگیں جو میں نے مانگا ہے، ملے گا۔ جتنا ہمارا یقین ہوگا اتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانیاں ہوں گی۔ یہ بے یقینی کے ساتھ نہیں۔ یقین کے ساتھ مانگنا ہے، اللہ تعالیٰ عطا کریں گے۔ یاد رکھیں! قیامت کے دن اللہ ربّ العزّت اپنے بندوں سے یہ سننا گوارا نہیں کریں گے کہ بندہ کھڑا ہو کربھرے مجمع میں کہہ دے: اللہ! میں نے مانگا تھا، مجھے نہیں ملا۔ بھئی! دنیا کے اندر کوئی شریف آدمی ہو، امیر آدمی ہو، سخی آدمی ہو اور وہ لوگوں کے درمیان بیٹھا ہوا ہو۔ کافی سارے لوگ اس کے سامنے موجود ہوں۔ اتنے میں ایک فقیر آئے بھیک مانگنے والا اور کہے کہ جی! میں نے اس سے چار آنے مانگے تھے، اس نے نہیں دیے۔ کیا وہ سخی بھرے مجمعے میں یہ بات گوارا کرے گا؟ سمجھانے کے لیے مثال دی جا رہی ہے۔
میرے بھائیو! اللہ تعالیٰ بھی یہ گوارا نہیں کریں گے کہ قیامت کے دن بندہ کھڑا ہو کر کہہ دے کہ جی! میں نے مانگا تھا، مجھے نہیں ملا۔ سب سے پہلے اپنے مانگنے کی جو کمی ہے اس کو ٹھیک کریں۔ یقین کے ساتھ مانگیں۔ اور اس کے بعد جو وعدہ ہے اس کو سمجھ لیں۔
دعا کی کثرت
ہم نے کسی چیز کے لیے دعا مانگی یہ دعا قبول ہوگئی۔ اگر ہم نے ایک ہزار دفعہ دعا مانگی تو یہ ایک ہزار دعائیں ہیں، یہ ایک نہیں رہی۔ اگر ہم دعا میں دنیا مانگیں تو بھی عبادت ہے۔ دین مانگیں تو بھی عبادت ہے۔ ایک آدمی مانگتا ہے: یا اللہ! مجھے گاڑی عطا فرما۔ یا اللہ! مجھے دس کنال کا بنگلہ چاہیے۔ پھر بھی ثواب مل رہا ہے۔ مانگنا خود عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے مانگ رہا ہے تو خوب مانگے، کھلا مانگے، اِن شاء اللہ ملے گا۔ اب ملنے کی ترتیب کیا ہے یہ سمجھ لیجیے۔
قبولیتِ دعا کی ترتیب
جو ہم نے مانگا As it is مل گیا۔ مِنْ وَعَنْ اسی طرح مل گیا جو مانگا تھا۔ ایک صورت تو یہ ہے۔ لیکن یہ پہلی صورت ہے، بدقسمتی سے ہم اسی کو پہلی اور آخری سمجھ بیٹھے ہوتے ہیں اور اس سے آگے ہمارا قدم ہی نہیں بڑھتا کہ بس جی جو مانگا ہے بس وہی مل جائے۔ ایک مسلمان بچی کا کل مجھے میسیج آیا۔ اس نئی تہذیب نے ہماری بچیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ وہ ایک غیر مسلم ہندو سے رابطے میں تھی۔ کہنے لگی کہ دعا کریں میری اس سے شادی ہوجائے۔ میں دعا کر رہی ہوں لیکن اس سے شادی نہیں ہو رہی۔ اور وہ مجھے کہہ رہا کہ ہندو ہو جائو۔ بس میری دعا قبول ہونی چاہیے۔ خیر! اس بچی کو بات سمجھائی۔ سمجھ میں آگئی تو الحمدللہ! اس نے توبہ بھی کی۔
دیکھیں! ایک تو جو ہم نے مانگا ویسا ہی مل گیا۔ یہ ایک صورت ہے قبولیتِ دعا کی۔ دوسری صورت اس کی یہ ہے کہ جو ہم نے مانگا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے میں اس سے بہتر کوئی چیز عطا کر دی۔ یہ بھی بڑی قبولیت کی بات ہے۔ تیسری صورت اس کی یہ ہے کہ جو ہم نے مانگا تھا وہ بھی نہیں ملا، اس سے بہتر بھی نہیں ملا، اللہ تعالیٰ نے آنے والی کسی مصیبت، پریشانی، بیماری اور غم کو ہم پرسے ٹال دیا۔ ہم تک پہنچنے نہیں دیا۔ اب عورتیں مانگتی ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کو Skin Diseases نہیں ہے، کینسر نہیں ہے ہوسکتا ہے کسی دعا کا ہی بدلہ ہو۔ اللہ نے عزّت دی ہوئی ہے۔ ایمان دیا ہوا ہے۔ یہ تین چیزیں تو دنیا میں ہیں: (۱) ایمان (۲) عزت (۳) صحت۔
چوتھی صورت آخرت میں ہے۔ جب قیامت کا دن ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو بلائیں گے۔ میرے بندے! تو روز 20 منٹ، 25منٹ مجھ سے دعا مانگتا تھا۔ تیری اتنی لاکھوں، کروڑوں دعائوں کی فائلیں پڑی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھ تیری دعائوں کی فائلیں۔ یہ سب دعائوں کی تفصیل لکھی ہے۔ یہ ساری تیری دعائیں تیرے نامہ اعمال میں لکھی ہوئی ہیں۔ میرے بندے! دیکھ تیری اتنی اتنی دعائوں کو میں نے ویسے ہی قبول کرلیا جیسے تم نے مانگی تھیں۔ قبول کر لیا تھا۔ یہ تو معاملہ پورا ہوگیا تھا، جو مانگا میں نے عطا کر دیا، دے دیا۔ کبھی میں نے اس کے بدلے میں فلاں چیز دے دی۔ میں نے ثابت کردیا، میں نے اپنے قول کو پورا کیا۔ میں جھوٹا نہیں ہوں۔ میں وہ کریم پروردگار ہوں جو مانگنے والوں کو دیتا ہوں۔ دیکھ تو نے مانگا میں نے تجھے وہی دے دیا، کبھی اس سے بہتر دے دیا جسے تو جانتا تک نہ تھا کہ یہ تیرے لیے بہتر ہے، اور کبھی میں نے اس کے بدلے تیری پریشانیوں کو راحت سے بدل دیا۔ دیکھو! تمہاری دعائیں پوری ہوگئیں۔ یہ میں سمجھانے کے لیے بتارہا ہوں۔ اس کے بعد اللہ کہیں گے: میرے بندے! دیکھ یہ تیری اتنی دعائیں اور بھی ہیں، ان کو میں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ میرے پاس محفوظ ہیں۔ اگر ایک کروڑ دفعہ دعا مانگی تو یہ ایک کروڑ دفعہ یہاں لکھی ہے۔ میرے بندے! میں نے کوئی کمی نہیں کی۔ ہر ہر دعا اور ہر ہر لفظ کے بدلے میرے بندے! آج دیکھ لے میں تجھے جنت کے یہ یہ بے شمار انعامات دیتا ہوں، تجھے جہنم سے بچاتا ہوں، تجھے نبی کریمﷺ کا پڑوس دیتا ہوں، تجھے میں جنتِ عدن میں اپنا دیدار کراتا ہوں، تجھے انبیا کے قریب رکھتا ہوں، تجھے بھی حوضِ کوثر ملے گا، تجھے جنت کی یہ نعمتیں ملیں گی، تیری اولاد کو بھی تیرے ساتھ کر دوں گا۔ میرے بندے! دیکھ تو سہی، تیری وہ تمام دعائیں جو دنیا میں کسی بھی درجے میں نہ آئیں، نہ نمبرایک، نہ نمبردو، نہ نمبر تین، میں ان سب کے بدلے تجھے بے حساب نعمتیں دے رہا ہوں۔ میرے بندے! تو یہ نہ کہنا کہ میں نے دیا نہیں۔
وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (المؤمن: 60)
ترجمہ: ’’اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا‘‘۔
ہاں! میں نے ہی اپنے کلام میں کہا تھا تو مانگے گا میں دوں گا۔ میرے بندے! دیکھ میں نےاپنی بات کو پورا کر دیا۔ آج قیامت کے میدان میں کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ اللہ! میں نے مانگا تھا مجھے نہیں ملا۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس کی مانگ سے زیادہ عطا کریں گے۔ حدیث کے الفاظ سنیے!
فَيَقُوْلُ: إِنِّيْ ادَّخَرْتُ لَكَ بِهَا فِي الْجَنَّةِ كَذَا وَكَذَا.
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: میں نے (اس قبول نہ ہونے والی دعا کے بدلے) جنت میں تیرے لیے یہ یہ نعمتیں جمع کی ہیں‘‘۔
اب جب بندہ ان نعمتوں کو ورطۂ حیرت میں ڈوب کر دیکھے گا تو کہے گا:
يَا لَيْتَهْ لَمْ يَكُنْ عُجِّلَ لَهٗ فِيْ شَيْءٍ مِّنْ دُعَائِهِ.
(المستدرك علی الصّحیحین: (باب) یدعو اللہ بالمؤمن یوم القیامۃ، رقم 1862)
ترجمہ: ’’اے کاش! دنیا میں اس کی کسی بھی دعا کا بدلہ نہ ملا ہوتا‘‘۔
کیوں کہ دنیا میں اگر وہ ہی مل گیا تو دنیا ختم تو وہ بھی ختم۔ اس کا بدل مل گیا تو وہ بھی ختم، کسی تکلیف سے بچالیا گیا۔ کب تک بچے گا؟ آخر ایک دن وہ بچنا بھی ختم۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہوجائے گا، جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا۔ قیامت کے دن جو ملے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔ وہ کوئی 100,50 سال کے لیے نہیں ہوگا۔ ہاں! یقین کے ساتھ مانگیں اور مانگتے رہیں۔ مانگتے چلے جائیں۔ وضو ہو، یا نہ ہو، بس اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں۔ ٹھیک ہے جی! اب وظیفہ مل گیا ہے؟ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں