ایصالِ ثواب پارٹ

ایصالِ ثواب پارٹ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ (ھود: 114)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

قانونِ خداوند عزّ و جلّ
جب انسان نیکیوں کی زندگی گزارتا ہے تو اس کے چھوٹے صغیرہ گناہ اس کی نیکیوں کی برکت سے معاف ہوتے رہے ہیں۔ ایک تو اس کے اپنے گناہ معاف ہوتے ہیں، اور اگر کسی دوسرے کی خاطر نیکی کرے تو دوسرے کے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عجیب قانون ہے۔ موت آتی ہے تو فقط موت کے آنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ جنت اور جہنم کا فیصلہ نہیں کر دیتے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو کرسکتے تھے۔ اگر کسی نے 70سال زندگی گزاری اور 70 سال میں اللہ کو راضی نہ کرسکا تو ہونا کیا چاہیے تھا کہ ڈالو جہنم میں، ختم کرو۔ اللہ تعالیٰ چاہتے تو ایسا کرسکتے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دیکھیے! اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہنم کے فیصلوں سے پہلے بڑے مقامات رکھے ہیں۔ اس کو قبر میں ڈال دو، جہنم کا فیصلہ ابھی مؤخر کر دو۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ گناہ گار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت دیکھیں کہ کتنی وسیع ہے۔
نمازِ جنازہ سے مغفرت
کہا جاتا ہے کہ انتظار کرو چالیس آدمی اس کو ایسے مل جائیں جو اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے آجائیں۔ میں ان چالیس کی دعا کو قبول کرلوں گا اور اس کو جنت دے دوں گا۔ اچھا! کوئی ایسا بندہ جس کا جنازہ پڑھنے چالیس آدمی بھی نہیں آئے، اب قبر میں ڈال دیا گیا تو کیا معاملہ رحمت ختم؟ نہیں۔ قبر میں ڈال دیا ممکن ہے کہ تدفین سے لے کر قیامت کی صبح تک کوئی ایسا چانس بن جائے، کوئی بہانہ بن جائے، کوئی ایسا موقع نکل آئے کہ اس کی مغفرت ہوجائے۔(فتح الباري شرح صحیح البخاري: باب ثناء الناس علی المیّت، شرح صحیح مسلم للنووي: باب من صلّی علیہ مائۃ شفعوا فیہ)
یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ اللہ چاہتا تو ڈائریکٹ جہنم میں ڈال سکتا تھا مگر وہ ایسا نہیں کرتا۔ یہ اس کی شانِ رحمت کے خلاف ہے۔
نیک لوگوں کے قبر کے معاملات
حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: جب میت کو قبر میں داخل کر دیا جاتا ہے تو اسے ایسے لگتا ہے جیسے بس سورج ڈوبنے لگا ہو (اور عصر کی نماز کا وقت جیسے قضا ہو رہا ہو) چناںچہ وہ اٹھ بیٹھتا ہے اور اپنی آنکھوں کو مَلتا ہے اور فرشتوں سے کہتا ہے کہ مجھے چھوڑو، مجھے نماز پڑھنے دو۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 138)
اور بعض اللہ والے ایسے گزرے ہیں کہ جنہوں نے قبر میں نماز پڑھی ہے۔
حضرت انس بن مالک کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے فرمایا: میں نے معراج کی رات گزرتے ہوئے حضرت موسیٰ کو دیکھا کہ وہ کثیبِ اَحمر کے پاس اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 2375)
حضرت انس کی دوسری روایت میں نبی کریمﷺ سے یہ الفاظ مروی ہیں:
اَلْأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِيْ قُبُوْرِهِمْ يُصَلُّوْنَ. (مسند بزّار: رقم 256)
ترجمہ: ’’انبیاء (اپنی قبروں میں)زندہ ہیں، وہ اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں‘‘۔
واقعہ حرّہ اور اَذان
ایک مرتبہ مدینہ طیبہ میں نبی پاکﷺ کے پردہ فرما جانے کے بعد سن 63 ہجری میں ایک بڑی جنگ ہوئی۔ جنگِ حرّہ اس کا نام ہے۔ اور شہدائے حرّہ کے نام سے جنت البقیع کے اندر کافی بڑی جگہ ہے جہاں وہ شہداء دفن ہیں۔ اس لڑائی کے دوران مسجدِ نبوی میں تین دن تک اذان نہیں دی گئی۔ حملہ آور لشکر کی تعداد تقریباً ستائیس ہزار گھوڑ سوار اور پندرہ ہزار پیدل فوج پر مشتمل تھی۔ اس لشکر نے کئی صحابہ کرام کو شہید کر دیا تھا۔ ایک وحشت اور خوف کا عالَم تھا۔ حضرت سعید بن مسیّب فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں آیا۔ وحشت اور خوف کو دور کرنے کے لیے میں روضۂ اقدسﷺ کے قریب بیٹھ گیا۔ جب ظہر کا وقت ہوا تو میں نے قبر مبارک سے اذان کی آواز سنی اور ظہر کی نماز ادا کی۔ میں برابر تین راتیں وہاں رہا اور ہر نماز کے موقع پر اذان کی آواز سنتا رہا۔ اذان کی یہ آواز نبی کی قبر مبارک سے آتی تھی۔ (شرح مواہب للزرقانی: 365/7)
اذان کی آواز اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ بعض بزرگوں نے دعا کی: اے اللہ! اگر آپ نے کسی کو نماز کی توفیق قبر میں دی ہو تو مجھے بھی دے دیجیے گا۔ ان میں سے ایک ہیں ثابت بنانی۔ لوگوں نے دیکھا کہ انہوں نے دفن ہونے کے بعد قبر میں نماز پڑھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی۔ نبی کے مبارک زمانے میں بھی ایک واقعہ ایسا ہوا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ سفر کے موقع پر ایک صحابی نے ایک جگہ خیمہ لگایا، وہاں ایک قبر تھی۔ انہیں معلوم نہیں تھا اور اسی پر خیمہ لگایا۔ اچانک انہیں قبر سے ایک آدمی کی آواز آئی جو سورۂ ملک پڑھ رہا تھا:
تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ١ٞ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ۰۰(الملك: 1)
اس صحابی نبیdسے آکر عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میں نے تو یہ سنا۔ نبی نے فرمایا کہ یہ سورۂ ملک روکنے والی، یہ نجات دینے والی ہے، عذابِ قبر سے محفوظ رکھتی ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 2890)
ایک حافظ صاحب تھے۔ بہت قرآن پاک پڑھتے تھے۔ قرآن پاک پڑھتے انتقال ہوگیا۔ کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ کیا بنا؟ کہا کہ مغفرت ہوگئی۔ کہنے لگے کہ جب سے میں قبر میں آیا ہوں اس دن سے لے کر آج70 ہزار مرتبہ قرآن پاک مکمل کر چکا ہوں۔ اس خواب دیکھنے والے نے کہا: سبحان اللہ! اس حافظ صاحب نے کہا کہ تمہارے اس ایک سبحان اللہ کا ثواب میری اس ساری تلاوت سے زیادہ ہے۔
اور بھی اس طرح کے کئی واقعات ہیں کہ قبر میں ہی کسی مسلمان کو تلاوت کی یا کوئی اور عبادت کی توفیق مل جائے۔ لیکن معاملہ کیا ہے کہ زندگی میں قبر میں جانے سے پہلے پہلے اگر آپ ایک دفعہ بھی سبحان اللہ کہیںگے، اس کا ثواب ملے گا۔ مرنے کے بعد گو اللہ تعالیٰ خاص طور پر کسی کو عبادت کی توفیق دے بھی دے اس کے شوق کی وجہ سے، اس کی تمنا و طلب کی وجہ سے، لیکن نامہ اعمال بند ہوچکا، اس کو ثواب کوئی نہیں ملتا۔ اس کی دعا پوری ہوگئی، خواہش پوری ہوگئی۔
جنتی آدمی کا افسوس کرنا
ایسا وقت آئے گا کہ ہم ترسیں گے ایک سبحان اللہ کہنے کو۔ ایک سبحان اللہ اور کہہ دیتے، موبائل پہ لگے رہے، Facebookپر لگے رہے۔ ہائے کاش! اللہ کا نام لے لیتے، لا الہ الا اللہ اور کہہ دیتے، الحمدللہ کہہ دیتے۔ ایک حدیث کا مفہوم عرض کرتا ہوں کہ جنت میں بھی اہلِ جنت کو اسی وجہ سے حسرت ہوگی۔ پوچھا گیا: ان کو کیوں حسرت ہوگی؟ کہا: ذکر کی کمی کی وجہ سے۔
(معجم کبیر: رقم 128، شعب الایمان للبیہقی: 509, 510)
آج موقع ہے تو ہم فائدہ اُٹھالیں۔ پھر یہ وقت نہیں ملے گا۔
قبر سے خوشبو آنا
ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سعد بن معاذ کی قبر جنت البقیع کے اندر کھود رہے تھے۔ ہم لوگ ان کی قبر کو کھود کر مٹی نکالتے تھے تو اس سے مشک کی خوشبو آتی تھی یہاں تک کہ ہم لوگ بغلی کھدائی تک آگئے اور خوشبو آتی رہی۔
شُرحْبِیْل بن حسنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد کی قبر کی مٹی کی ایک مٹھی میں نے لے لی اور گھر لے آیا۔ وہ مٹی بعد میں مشک ہی بن گئی۔
محدّثِ ابن ابی الدنیا ایک اللہ والے تھے۔ مغیرہ بن حبیب سے نقل کیا گیا ہے کہ ان کی قبر سے خوشبو آئی تھی۔ خواب میں ان سے پوچھا کہ تمہاری قبر سے مشک کی خوشبو آتی ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے دوباتیں فرمائیں: ایک تو تلاوتِ قرآن، اور دوسرا یہ کہ گرمی میں روزے رکھنے کی وجہ سے۔
دورانِ تعلیمِ قرآن مرنے والے کی فضیلت
ایسے ہی قبر میں سیکھنا سکھانا بھی ہوتا ہے۔ یہ بات آپ نے پہلی دفعہ سنی ہوگی۔
حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا (ناظرہ یا حفظ) اور پورا ہونے سے پہلے موت آگئی تو قبر کے اندر ایک فرشتہ آئے گا جو اسے قبر میں قرآن کی تعلیم دے گا، اور یہ شخص (قیامت کے دن) اپنے اللہ سے اسی حال میں ملے گا۔ (ترغیب لابن شاہین: رقم 196)
حضرت حسن بصری بہت بڑے تابعی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ ایک مؤمن قرآن پڑھ رہا تھا، حفظ کررہا تھا مگر پورا نہ کرسکا اور موت آگئی تو قبر میں فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اسے قرآنِ پاک حفظ کرائیں تاکہ قیامت کے دن اللہ اسے حفاظ میں کھڑا کرے۔
کیا مطلب؟ شروع کرنا ہمارا کام، پورا کرانا اللہ کا کام۔ ہم دنیا میں اللہ سے مانگیں کہ یا اللہ! ہمیں ایسے مدارس، ایسے مکاتب اور ایسی جگہیں بنانے کی توفیق عطا فرمائیے جہاں قرآن کا حفظ کرایا جائے۔ اس کے لیے ہم کوشش کرسکتے ہیں۔ جنہیں اللہ نے ہمت اور توفیق دی ہے وہ خود کریں، اور جو پورا کام نہیں کرسکتے وہ کرنے والوں کے لیے دعائیں کریں، ان کو سپورٹ کریں۔ ہر ہر لحاظ سے ان کی مدد کریں۔ جو جس طرح سے کرسکتا ہو، کرے۔ اللہ تعالیٰ کے لشکر بہت زیادہ ہیں:
وَلِلّٰہِ جُنُوْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (الفتح: 4)
کوئی نہیں جانتا اس کے لشکروں کی تعداد کتنی ہے۔یہ حافظِ قرآن اللہ تعالیٰ کی فدائی فوج ہے۔ جو اللہ کے قرآن کو تھامے ہوئے ہے۔ ان کے لیے ہم دعاکرتے رہیں، کوشش کرتے رہیں۔
جمعہ کے دن قبرستان جانا
قبور کی زیارت، قبروالوں کے پاس جانا بھی سنت ہے۔ سن لیجیے!
حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے والدین کی قبر پر یا دونوں میں سے کسی ایک کی قبر پر ہر جمعے کے دن جائے، اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور اسے نیک لکھا جاتا ہے۔(فیض القدیر: 141/6)
ایک ضعیف روایت میں آتا ہے کہ جس شخص نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت جمعہ کے دن کی، اور سورہ یٰسین کی تلاوت کی تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ (تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ: رقم 2037)
اس لیے قبر کی زیارت کرنا چاہیے والدین کی ہو یا عام مؤمنین کی۔ البتہ والدین کی قبر پر جانے کا ثواب زیادہ ہے۔
زیارتِ قبور کی اجازت
حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا: ابتدا میں میں نے تم لوگوں کو روکا تھا کہ قبروں کی زیارت کے لیے مت جایا کرو، اب محمد (ﷺ) کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت مل گئی ہے، سو تم قبروں کی زیارت کیا کرو، یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 1054)
زیارتِ قبر دل کو نرم کرتی ہے، آنکھ کو رلاتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ ابتدائے اسلام میں جاہلیت کی رسومات موجود تھیں اس لیے نبی نے منع کر دیا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قبرستان جاکر کوئی پرانی رسم بندہ کرلے۔ پھر جب ایمان راسخ ہوتا چلا گیا اور اللہ کے احکامات پر استحکام آگیا اور مضبوطی سے عمل ہونا شروع ہوگیا تو اب زیارتِ قبور کی اجازت دے دی۔ زیارتِ قبر دل کو نرم کرتی ہے اور دل نرم ہوں گے تو رونا نصیب ہوگا، لیکن آج بھی اگر کوئی جاکر قبر پر جاہلانہ رسمیں کرتا ہے تو اس کے لیے جانا ٹھیک نہیں۔ عبرت حاصل کرنے کے لیے جانا ٹھیک ہے۔ میلوں میں جانا اور عرس منانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔
نبی کا ایک عورت کی قبر پر جانا
نبی کی عادتِ مبارکہ تھی کہ جنازے میں شریک ہوتے، لیکن اگر کسی کے جنازے میں نہ شریک ہوپاتے تو بعد میں اس کی قبر پر چلے جایا کرتے تھے۔
مدینہ شریف کی مسجد میں ایک جھاڑو دینے والی خادمہ تھی۔ بعض روایات میں اس کا نام اُمّ محجن یا امرأۃ سوداء آیا۔ اس کا انتقال ہوگیا۔ صحابۂ کرام نے نبی کو خبر نہ دی کہ عام سی عورت تھی۔ نبی نے کسی سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ کہا کہ انتقال ہوگیا۔ نبی نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں بتایا۔ پھر نبی اس عورت کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کی قبر پر جنازے کی نماز پڑھی۔ (صحیح بخاری: رقم 458، صحیح مسلم: رقم 956)
اس سے کیا سبق ملا کہ اگر ہم کسی کے نمازِ جنازہ میں شریک نہ ہوسکیں تو بعد میں اس کی قبر پر چلے جائیں اور اس کے لیے دعا کریں۔
نبی کی والدہ کی قبر
جب نبی اپنی والدہ کی قبر پر تشریف لے گئے تو وہاں خوب روئے تھے۔
(مستدرك للحاکم: باب زیارۃ النبي ﷺ قبر أمہ، رقم 1429)
الحمدللہ! اس سال عمرے کے سفر پر ایک ساتھی ایسے مل گئے جو مکہ مکرمہ سے یمن لے کر گئے۔ راستے میں مقامِ بدر کی بھی زیارت ہوئی۔ اور ایک کنواں ہے اس کی بھی زیارت ہوئی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بی بی آمنہ نبی کی والدہ ماجدہ کی قبر کی بھی زیارت کی۔ وہاں بھی الحمدللہ! جانے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔
زیارتِ قبور کے لیے دن خاص نہ کریں
نبی اکثر و بیشتر قبرستان جایا کرتے تھے۔ ہم نے کیا بنا لیا ہے کہ 15 شعبان کو ضرور قبرستان جانا ہے، اس کے علاوہ یا تو جانا نہیں، یا پھر کسی مجبوری کی وجہ سے جانا پڑ گیا۔ جہاں تک پندرہویں شعبان میں جوجانے کی بات ہے تو حدیث شریف کے مطابق نبی پاکﷺ اپنی پوری زندگی میں صرف ایک بار پندرہ شعبان کو قبرستان گئے تھے۔ ہم صرف ایک دفعہ بھی زندگی میں پندرہ شعبان کو قبرستان چلے گئے تو سنت پوری ہوچکی۔ لیکن عام دنوں میں جو جانے کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے دلوں میں نرمی پیدا ہو، وہ جانا تو بہرحال باقی ہے۔ جمعہ کے دن بھی جو جانے کی فضیلت ہے، اسے بھی لازم نہ سمجھا جائے۔ یہ فضیلت کی حد تک تو بات ٹھیک ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر عقیدہ ہی بنا لینا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔
قبرستان میں داخل ہونے کی دعائیں
نبی سے مختلف دعائیں قبرستان سے متعلق مروی ہیں:
1- اَلسَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ، وَيَرْحَمُ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالمُسْتَأْخِرِيْنَ، وَإنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ.
(مصنّف عبد الرزاق: رقم 6551)
2- اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ، وَإنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ.
(سنن أبي داود: رقم 3237)
3- اَلسَّلَامُ عَلَیْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُسْلِمِيْنَ، وَإنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ لَاحِقُوْنَ، أَسْأَلُ اللّٰهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ. (صحیح مسلم: رقم 975)
4- اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُوْرِ، يَغْفِرُ اللّٰهُ لَنَا وَلَكُمْ ، أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ. (سنن ترمذي: رقم 971)
بوسیدہ قبر کی پکار

جب کسی کا انتقال ہوتا ہے تو کفن دینے کے بعد اسے قبر میں دفن کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پیارے نبیﷺ کی سنت ہے۔ چاہے نیک ہو یا بد، قبر میں پہلے جانا ہوگا۔ اس پر یہ سوال ہے کہ بد آدمی کو جہنم کے اندر کیوں نہیں ڈال دیا جاتا، قبر میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب اس کی قبر خستہ حال ہوجائے گی، بوسیدہ ہوجائے گی، کوئی آنے والا نہیں ہوگا، اس کا کفن ختم ہوجائے گا، اس کا جسم گل سڑ جائے گا تو یہ بوسیدگی اللہ کی رحمت کو پکارے گی۔
عذابِ قبر سے حفاظت
کثیر بن صالح نے وصیت کی تھی کہ جب میری قبر بوسیدہ اور خستہ ہوجائے تو میرے واسطے دعا کرنا، قبر کی حالت ٹھیک نہ کرنا۔ سختی سے منع کیا کہ اللہ تعالیٰ جب بوسیدہ اور خستہ قبر کو دیکھتے ہیں تو ان پر رحم فرماتے ہیں، شاید اس وجہ سے میری بھی مغفرت ہوجائے۔ ایک اور واقعہ سنیے!
اللہ تعالیٰ کے ایک پیغمبر ایسی قبر کے پاس سے گزرے جس پر عذاب ہو رہا تھا۔ کافی عرصے بعد دوبارہ وہاں سے گزر ہوا تو دیکھا کہ اب عذاب نہیں ہو رہا۔ اللہ تعالیٰ سے پوچھا: یا اللہ! ساری پاکی آپ کے لیے ہے، پہلے آیا تو عذاب ہو رہا تھا، اب آیا ہوں تو عذاب نہیں؟ جواب آیا کہ اس قبر کے رہنے والے کا کفن بوسیدہ ہوگیا، بال ختم ہوگئے، ہڈیاں مٹی میں مل گئیں۔ قبر خستہ ہو کر زمین میں دھنس گئی۔ کفن سڑ گیا، تو میں نے اس کے حال پر رحم کیا۔ جب میں قبر کے دھنس جانے کو، خستہ ہوجانے کو دیکھتا ہوں تو مُردوں پر رحم کرتا ہوں۔
اب بتائیں! پکی قبر بنوانا، اوپر سے کتبے لگانا، ماربل کی سلیبیں لگانا کوئی اچھی بات ہے؟
ایک سفر کی کارگزاری
ثمرقند جانا ہوا تو قبروں کے حوالے سے کچھ اور دیکھنے کو ملا۔ ہمارے ہاں قبر پکی کرنے کے حوالے سے ابھی اتنی ترقی نہیں ہوئی۔ یہ مناسب بھی نہیں ہے، گناہ ہے۔ وہاں کیا تھا؟ وہاں کے لوگ اس بدعت میں ہم سے کافی آگے ہیں۔ قبر بھی پکی اور ہر قبر پر بڑے زبردست قسم کے کتبے Stylish ہوئے ہوئے تھے۔ اور قبروں پر بڑی قیمتی Tiles لگی ہوئی تھیں۔ اور تو اور بے شمار قبروں پر مرنے والوں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ان Tiles کے اوپر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ہمارے یہاں تصویروں کا رواج Tiles پر تو نہیں آیا، لیکن قبر کو پکا کرنا یہ بہت غلط بات ہے جو ہمارے ہاں رواج پاچکا ہے۔ قبر کچی ہو، خستہ ہو۔ بتائیے! آج کل کون سی اولاد ہے جو قبر پر جاتی ہو؟ الا ما شاءاللہ۔ کوئی خوش نصیب ہوگا جس کی اولاد اس کی قبر پر جاتی ہو۔ دو سے پانچ فیصد لوگ بہت ہیں، اس سے زیادہ نہیں جاتے۔ پوچھ لیجیے گورکن اور قبرستان والوں سے۔
ان دو سے پانچ فیصد والوں میں بھی کتنے ہیں جو روزانہ جاتے ہیں؟ پھر ایسا بھی وقت آتا ہے کہ یہ بھی رہ جاتے ہیں۔ اگر کسی خوش نصیب کی قبر پر اولاد جانے والی ہوگی تو اولاد ایک وقت تک جائے گی، اس کے بعد پھر کوئی نہیں ہوگا۔ یعنی زندگی میں ایسا موقع آئے گا کہ قبر پر آنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا۔
بڑے لوگ آج کہاں ہیں؟
جیسے ہمارے دادا پردادا اس کے اوپر جو لوگ ہیں، بتائیں ان کے نام کیا ہیں؟ کیا کرتے تھے؟ چوہدری صاحب، ملک صاحب، حافظ صاحب اور بڑے بڑے مقامات اور اَلقابات والے لوگ ہوں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ ہمارے بغیر دنیا کا گزارا نہیں ہوتا۔ ہم نہ ہوں تو سارے کام ہی رُک جائیں۔ آج ایسے حال میں پڑے ہوئے ہیں کہ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کوئی پاس آنے والا نہیں۔ اگر قبریں کچی ہوں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، تو قبریں ختم ہوجاتی ہیں، دب جاتی ہیں، دھنس جاتی ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے۔ قبروں کو پکا کرکے آپ اپنے بڑوں کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔
زندہ شخص اور میت کے لیے ایصالِ ثواب
اسی طرح مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک راستہ ایصالِ ثواب کا رکھا ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی سے پوچھا کہ میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے اور انہوں نے اپنے پیچھے مال چھوڑا ہے، لیکن کوئی وصیت نہیں کی۔ اگر میں ان کی جانب سے صدقہ خیرات کردوں، کیا ان کے گناہوں کے لیے معافی کا ذریعہ ہوجائے گا؟ فرمایا: ہاں! تمہارے صدقات سے ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ (صحیح مسلم: رقم 1630)
معلوم ہوا کہ ایصالِ ثواب کا میت کو فائدہ ہوتا ہے۔
بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ایک عورت حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہﷺ کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے آئیں۔ اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! میرے والد اتنے ضعیف اور کمزور ہو چکے ہیں کہ سواری پر بیٹھے کی بھی ہمت و طاقت نہیں رکھتے، جبکہ حج اُن پر فرض ہے۔ کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جی ہاں! آپ کر سکتی ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 1756)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ زندوں کی جانب سے بھی نیک اعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ابنِ قیم فرماتے ہیں کہ میت کے لیے دعائے مغفرت کی جائے تو میت کو فائدہ ہوتا ہے، یا میت کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے تو میت کو فائدہ ہوتا ہے، یا میت کی جانب سے حج کیا جائے تو میت کو فائدہ ہوتا ہے، یا تلاوتِ قرآن کی جائے تو میت کو فائدہ ہوجاتا ہے۔ بعض دفعہ تو ان اعمال کی وجہ سے میت کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ اور اگر قبر جہنم کا گڑھا بھی تھی تو جنت کا باغ بن جاتی ہے۔ اور بعض مرتبہ عذاب میں کمی کردی جاتی ہے، بہرحال ہر دو صورت فائدہ انسان ہی کا ہے۔
قبر کی آگ کا بجھنا
قبر کی تکلیفیں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ ایمان والوں کی دعائیں، ان کا صدقہ، ان کا ایصالِ ثواب میت کے لیے ذریعہ نجات بن جاتا ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: صدقہ اور خیرات قبر کی آگ کو بجھا دیتا ہے۔ (تنویر شرح جامع صغیر: رقم 2043)
میت کو ثواب پہنچنے کے واقعات
ابن رجب نے بیان کیا کہ ایک بزرگ تھے۔ ایک روز انہوں نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا۔ والد نے کہا کہ کیا بات ہے تمہارا ہدیہ آتا تھا، کیوں بند ہوگیا؟ تم میرے لیے جو ایصالِ ثواب کرتے تھے، قرآن کی تلاوت کرتے تھے، وہ ہدیہ بند ہوگیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ابا جان! کیا آپ لوگوںکو ہمارے ان ہدایا کا ایصالِ ثواب پہنچتا ہے اور دعا کا علم ہو جاتا ہے؟ کہا کہ اگر زندوں کے ہدایا نہ پہنچیں تو مردے تباہ ہوجائیں۔
ابن ابی الدنیا نے ذکر کیا ہے کہ اہلِ مدینہ میں سے ایک شخص کا انتقال ہوا۔ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ دوزخ میں ہے۔ یہ بڑے رنجیدہ ہوئے۔ پھر کچھ عرصے بعد دیکھا کہ وہ جنت میں داخل ہوگئے ہیں۔چناںچہ ان سے پوچھا کہ تم تو جہنم میں تھے، تم جنت میں کیسے آگئے؟ کہنے لگے: ہمارے بالکل قریب بغل میں ایک نیک آدمی دفن ہوا، اس کی سفارش سے قریب کے چالیس آدمیوں کو نجات مل گئی، میں بھی ان چالیس میں سے ہوں۔ نیک لوگوں کا ساتھ دنیا میں بھی اچھا اور قبر میں بھی اچھا۔
ایصالِ ثواب کی تعریف
ایصالِ ثواب کسے کہتے ہیں؟ اسے بھی آج ہم سمجھ کر جائیں۔ ایصالِ ثواب کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی نیکی کی، اس پر ہمیں کوئی ثواب ملا وہ ہم آگے بھیج دیں۔ یہاں سے کیا ظاہر ہوا کہ ثواب ملنا پہلے ضروری ہے۔ اگر ہم نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمیں کچھ نہیں ملا تو آگے کیا بھیجیں گے؟ یہ دو باتیں ایصالِ ثواب کے لیے ہیں:
1۔ عمل کا شریعت کے مطابق ہونا۔
2۔ خالصتًا اللہ کے لیے ہونا۔
یہ دوباتیں جب عمل میں ہوں گی، تب ہمیں ثواب ملے گا۔ پھر ہم کسی کو بھیج سکیں گے۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بات نہ ہو، یا اگر دونوں ہی نہ ہوں تو ہمیں ہی ثواب نہیں ملا تو پھر آگے کیا بھیجنا۔
ایصالِ ثواب کیا کریں؟
امام احمد بن حنبل سے مختلف روایات سے منقول ہے۔ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم قبرستان میں داخل ہونے لگو تو سورۂ فاتحہ، آیۃ الکرسی، سورۂ ناس، سورۂ فلق (ایک ایک مرتبہ) اور سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھو۔ پھر یوں دعا کرو:
اَللّٰھُمَّ إِنَّ فَضْلَہُ لِأَھْلِ الْمَقَابِرِ. (فتاوی الأزھر)
ترجمہ: ’’اے اللہ! اس کا ثواب قبرستان والوں کو عطا کر دیجیے‘‘۔
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں آئے اور سورۃ یٰس پڑھے تو اللہ پاک اس دن ان قبرستان والوں سے عذابِ قبر میں تخفیف فرما دیتے ہیں۔ یعنی اس دن عذابِ قبر ہلکا کر دیتے ہیں۔ (تفسیرِ ثعلبی: 161/2/3)
حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: آدمی کے جنت کے درجات میں ترقی ہوتی رہتی ہے تو وہ حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ یہ مجھے کس وجہ سے ملے؟ اسے کہا جاتا ہے کہ تیرے بیٹے نے تیرے واسطے استغفار کیا تھا۔
(سنن ابن ماجہ: رقم 3660)
قبروں والے زندہ لوگوں کے ثواب کے اس طرح منتظر رہتے ہیں جیسے ڈوبتا ہوا کسی لکڑی کے سہارے کا محتاج ہو۔
مروّجہ قرآن خوانی
اب ہمارے ہاں قرآن خوانی ہوتی ہے۔ قرآن خوانی کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کون سا دن منتخب کیا جائے میت کے لیے؟ یاد رکھیے کہ شریعت کے اندر قرآن خوانی کے لیے کوئی دن نہیں۔ صحابۂ کرام سوا لاکھ کے قریب تھے، کوئی دن ان سے اس طرح قرآن خوانی کرنا ثابت نہیں۔ پھر صحابہ کے بعد تابعین، ان کے بعد پھر تبع تابعین تھے، کسی سے بھی یہ ثابت نہیں۔ یہ خیر القرون کا زمانہ تھا۔ اور یہ بھی سارے دنیا سے گئے ہیں، اور یقیناً ان کو بھی اپنے جانے والوں سے محبت تھی۔ حساب و کتاب ان کے زمانے میں بھی تھا، مگر انہوں نے کوئی دن متعین و مقرر نہیں کیا۔ اور ہمارے ہاں جو دن مقرر ہیں کہ اتنے دن ہوگئے، اب اتنے دن ہوگئے۔ گنتی ہوا کرتی ہے تو یہ سب خلافِ سنت ہے۔ اس کا شریعت سے کوئی ثبوت نہیں۔
قرآپاک کا ثواب پہنچانا
دیکھیں! قرآن پاک کے ایصالِ ثواب کا طریقہ یہ ہے کہ ہم جب چاہیں اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے قرآن پاک پڑھیں، اور اپنے مرحومین کو اور پوری امت کے مرحومین کو ثواب پہنچائیں، بلکہ پوری امت ہی کیا حضرت آدم سے لے کر آج تک جتنے ایمان والے دنیا سے چلے گئے ان کو بھی بھیج دیں۔ جب موقع ملے، جب یاد آئے۔ اولاد کو چاہیے اگر والدین کے لیے کرنا ہے، اگر بڑوں کے لیے کرنا ہے تو ایک مستقل ترتیب بنائیں۔ ایک سپارہ، آدھا سپارہ، دوسپارے کچھ بھی ترتیب بنالیں۔ اگر ناظرہ بھی نہیں پڑھ سکتے تو سورۂ فاتحہ ہی پڑھ لیجیے۔ سورۂ اِخلاص ہی بارہ دفعہ پڑھ لیجیے۔ کوئی جو کچھ بھی کرسکتا ہے، وہ کرتا رہے اور زندگی بھر کرتا رہے۔ یہ مخصوص دنوں کی بات نہیں ہے، مخصوص اوقات کی بات ہے۔ جب یاد آتا جائے کرتے چلے جائیں اور بس۔ پڑھنے والے اللہ کی رضا کے لیے پڑھیں تو اس کا ثواب اِن شاء اللہ ہوگا۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply