13

ایمان والوں سے محبت حصہ اول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِيْ حَرْثِہٖج وَمَنْ كَانَ يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَا لَہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِيْبٍ (الشّوریٰ: ))20)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اللہ تعالیٰ تو دینے والے ہیں
ابھی جو آیتِ شریفہ پڑھی گئی اس میں اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتے ہیں کہ جو آخرت کی کھیتی یعنی ثواب کا اِرادہ کرتا ہے، ہم اُس میں مزید اضافہ فرما دیتے ہیں یعنی اپنی طرف سے مزید برکتیں ڈال دیتے ہیں۔ اور جو دنیا کا ہی ارادہ رکھتا ہے کہ بس مجھے دنیا مل جائے۔ صرف دنیا دنیا دنیا کی رَٹ ہے، تو اسے ہم کچھ دنیا تو دے ہی دیتے ہیں، البتہ آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
دو طرح کی زندگیاں
اس جہان میں دو طرح کی زندگیاں ہیں: ایک زندگی تو وہ ہے جس کا محور و مقصود آخرت کی تیاری ہے۔ یہی اصل زندگی ہے۔ حضراتِ انبیاءf نے اہلِ جہاں کو یہی بتایا ہے کہ دنیا میں آنے کا مقصد آنے والی زندگی کی تیاری کرنا ہے۔ اور دوسری زندگی کون سی ہے؟ جس میں فقط دنیا کی ہی سوچ رکھنا ہے، آخرت کے بارے میں بالکل بہرا ہوجانا اور غافل ہوجانا۔ آج کی مجلس میں اِن شاء اللہ وہ اعمال بتائے جائیں گے جو ایک مسلمان کی زندگی میں ہونے چاہئیں۔ ایک خاکہ بننا چاہیے کہ حقیقی مؤمن کیسا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اخلاقِ کریمہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اِخلاص سے عمل کرنا
ایمان والے میں سب سے پہلی اور بنیادی چیز اخلاص کا ہونا ہے۔ ہم جو کام بھی کریں، فقط اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کریں۔ آپ نے لوگوں سے ایک جملہ سنا ہوگا کہ اجی! آج کل نیکی کا زمانہ نہیں رہا۔ آپ نے سنی ہے ایسی کوئی بات؟ کیا آپ بھی اس کے قائل ہیں کہ اب نیکی کا زمانہ نہیں ہے؟ سمجھنے کی بات ہے۔ یہ جو کہتے ہیں کہ آج کل نیکی کا زمانہ نہیں رہا، یہ کیوں کہتے ہیں؟ اصل میں وہ اپنی نیکی کا بدلہ مخلوق سے لینا چاہتے ہیں، اور اللہ سے نہیں لینا چاہتے۔ اگر بیوی خاوند کے ساتھ بھلائی کرے، یا خاوند بیوی کے ساتھ، یا بھائی بھائی کے ساتھ، یعنی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ بھلائی کرے اوراُس کی بھلائی کا جواب اچھا مل جائے، بھلائی سے مل جائے، تو وہ کہتا ہے کہ جی! نیکی کا زمانہ باقی ہے، کیوںکہ جس کے ساتھ بھلائی کی تھی، اس نے اچھا Reply دیا۔
اور ہم نے کسی کے ساتھ اچھا کیا اور اُس نے ہمارے ساتھ بدلہ میں بُرا کیا تو ہم کہتے ہیں کہ نیکی کا زمانہ نہیں رہا۔ یہ سیدھی سی بات ہے کہ ہم نیکیوں کا بدلہ مخلوق سے لینا چاہتے ہیں، خالق سے نہیں۔ اگر ہم خالق سے لینا چاہتے ہیں پھر تو نیکی کا زمانہ ہے۔ ہر زمانہ نیکی کا زمانہ ہے۔ جب اللہ کے لیے کرنا ہے تو وہ بدلہ دے دیں گے۔ دنیا میں بھی دیں گے، آخرت میں بھی دیں گے۔ اس لیے یہ کہنا کہ نیکی کا زمانہ نہیں رہا، یہ غلط بات ہے۔ بالکل نیکی کا زمانہ ہے۔ جب تک سانس باقی ہے نیکی کا زمانہ باقی ہے۔ ہم جو نیکی کریں گے اللہ کے لیے، اُس کا بدلہ ہمیں مل کر رہے گا۔ اپنے عمل میں اخلاص پیدا کریں۔
اِخلاص عمل کی بنیاد ہے
جس طرح کوئی تعمیر بغیر بنیاد کے کھڑی نہیں رہ سکتی، اسی طرح اِخلاص ایک بنیاد ہے جس کے بغیر دین کی عمارت کھڑی نہیں رہ سکتی۔ جس طرح جسم میں سر ہوتا ہے، اس کی حیثیت ہوتی ہے۔ سر ہٹا دیں تو سارا جسم بیکار ہوجاتا ہے۔ اِخلاص کی مثال اسی طرح سے ہے جیسے جسم میں سر ہوا کرتا ہے اور عمارت میں اس کی بنیاد ہوا کرتی ہے۔
اِخلاص کا مطلب
اخلاص کیا ہے؟ جو نیک عمل ہو خالصتًا اللہ کے لیے ہو۔ اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ اخلاص کا تعلق دل سے ہے، جس کا مقصد صرف اللہ کو خوش کرنا ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ جو کام کریں بس اللہ کی رضا کے لیے کریں، ہمارا کام آسان ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں کئی جگہوں پر ارشاد فرماتے ہیں:
فَاعْبُدِ اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَo (الزمر:2 )
ترجمہ: ’’اللہ کی اس طرح عبادت کرو کہ بندگی خالص اسی کے لیے ہو‘‘۔
حضرت علیh سے منقول ہے کہ عمل کی قلت کو مت دیکھو، بلکہ اس کی قبولیت پر نظر رکھو۔
حضورﷺ نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا تھا کہ اے معاذ! عمل میں اخلاص اختیار کرو، تھوڑا بھی کافی ہوجائے گا۔ (مستدرکِ حاکم: رقم341/1)
ہیرے اور موتی کی قیمت
اِخلاص کے ساتھ کیے ہوئے عمل کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ دیکھیں! ہیرا اور موتی چھوٹے سے ہوتے ہیں، مگر قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور روئی، مٹی کے بڑے بڑے ڈھیر کی ہیرے موتی کے سامنے کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ اخلاص کے ساتھ کیے ہوئے عمل کی مثال ہیرے اور موتی کے ساتھ ہے۔ اللہ کے ہاں اس عمل کی قیمت بہت زیادہ ہے جو اس کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ معلوم ہوا کہ عمل کی بنیاد اخلاص ہے، کہ ہم جو نیک کام بھی کریں اللہ کی رضا کے لیے کریں۔ دوسری بات کہ عمل میں سچائی کا معاملہ ہو۔ عمل کی بنیاد میں سچائی ہو۔
سچائی میں نجات ہے
حضرت حسن بن علیi فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے یہ ارشادات اپنے اندر محفوظ کیے ہیں: جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو بنسبت اس کے جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، اس لیے کہ سچائی اطمینان پیدا کرتی ہے اور جھوٹ شک پیدا کرتا ہے۔
(سنن ترمذی: رقم 2442)
حضرت ابوبکر صدیقh سے منسوب ہے کہ سچائی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ یعنی سچ بولنے والا جنت کے راستے کو اپنے لیے آسان کرلیتا ہے۔
حضرت معاذ بن جبلh روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ایک میل چلے۔ پھر مجھ سے فرمایا: اے معاذ! میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی، بات میں سچائی، وعدے کو پورا کرنے، امانت کو ادا کرنے اور خیانت کو ترک کرنے کی وصیت کرتا ہوں (اور بھی کئی اعمال ارشاد فرمائے)۔ (الزھد الکبیر للبیہقي: رقم 926)
یہ حقیقت ہے کہ سچائی کی عادت انسان کو بہت ساری برائیوں سے بچالیتی ہے۔
سچائی کےتین درجات
سچائی کے تین درجے ہیں:
پہلا درجہ
زبان کی سچائی کہ جو بات کہیں وہ سچ ہو، وعدہ کریں تو پورا کریں، کیوںکہ منافق کی نشانی کیا ہے؟ ایک نشانی یہ ہے کہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور مؤمن کی نشانی یہ ہے کہ سچ بولتا ہے۔ یہ پہلا درجہ عام سمجھنے میں آنے والا ہے کہ جب انسان بات کرے تو سچی کرے، زبان سے سچ بولے۔
دوسرا درجہ
دل میں بھی سچائی ہو۔ جو زبان سے کہہ رہا ہے دل کے اندر بھی وہی ہو۔ بعض مرتبہ انسان زبان سے سچی بات کہہ رہا ہوتا ہے، لیکن دل زبان کا ساتھ نہیں دیتا۔ اُس کو جھوٹ کہا گیا ہے اگرچہ زبان سے تو سچ بات کہی۔ یہ منافقت والا معاملہ ہمارے اندر آج بہت زیادہ ہے۔ زبان سے سچ کہہ رہے ہوتے ہیں الفاظ جو ظاہری ہوتے ہیں وہ صحیح ہوتے ہیں، لیکن دل اُس کے ساتھ نہیں ہوتا، اپنا دل اُس کہی ہوئی بات کا ساتھ نہیں دے رہا ہوتا، اس لیے وہ جھوٹ میں شمار ہوتا ہے حالاںکہ بات سچی ہوتی ہے۔ اس کی مثال قرآن میں سورۃ المنافقون کی پہلی آیت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ ط
ترجمہ: ’’جب منافق لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔
منافقین آتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ عجیب طرزِ کلام فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاللّٰہُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُہٗ ط
ترجمہ: ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ واقعی اس کے رسول ہیں‘‘۔
پھر آگے ان منافقین پر اللہ تعالیٰ گواہی دے رہے ہیں:
وَاللّٰہُ يَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَكٰذِبُوْنَ۝۱ۚ (المنافقون: )1)
ترجمہ: ’’اور اللہ (یہ بھی) گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق لوگ جھوٹے ہیں‘‘۔
یہ قرآن پاک ہی میں ہے کہ منافقین نے گواہی دیتے ہوئے رسول اللہﷺ سے کہا تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے حقیقت کو آشکارا کیا کہ ہاں! میں جانتا ہوں کہ یہ میرے رسول ہیں، لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ منافقین جھوٹ بول رہے ہیں۔ وجہ کیا تھی؟ منافقین زبان سے جو کہہ رہے تھے، دل سے تصدیق نہیں کر رہے تھے۔اس لیے زبان سے بھی سچ بولنا ہے اور دل کو بھی سچائی پر لے کر آنا ہے۔
تیسرا درجہ
عمل میں سچائی کہ عمل اِخلاص کے ساتھ ہو، اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ مثلاً ایک آدمی نماز پڑھتا ہے تو اللہ کے لیے پڑھے، لوگوں کے لیے نہ پڑھے۔ یا کسی نیک کام کا اِرادہ کرلیتا ہے کہ ہاں میں نے یہ نیک کام کرنا ہے، اُس کے بعد جب موقع آجائے اُس کام کے کرنے کا تو پیچھے نہ ہٹے۔ اگر پیچھے ہٹ گیا تو ارادے کا جھوٹا ہوگیا۔ تو عمل کی سچائی بھی ضروری ہے، زبان کی سچائی بھی ضروری ہے، اور دل کی سچائی بھی ضروری ہے۔ عمل کی سچائی کو قرآن پاک میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَيْہِ (الأحزاب: 23)
ترجمہ: ’’اِنہی ایمان والوں میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا، اسے سچا کر دکھایا‘‘۔
حضرت انس بن نضر کی شہادت
حضرت انس بن نضرh صحابی رسولﷺ ہیں۔ کسی وجہ سے غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ اس بات کا انہیں بڑا غم لگ گیا۔ انہوں نے اِرادہ کیا کہ اللہ نے مجھے اب موقع دیا تو میں ضرور حاضر ہوں گا۔ جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا تو اُس میں شریک ہوئے اور شہید ہو گئے۔ اُن کے بھتیجے حضرت انس بن مالکh فرماتے ہیں کہ شہادت کے بعد ہم نے ان کے جسم کو دیکھا تو اسّی سے اوپر تلواروں، نیزوں اور تیروں کے زخموں کے نشانات موجود تھے۔ (صحیح بخاری: رقم 2651)
قرآن مجید نے اُن کی اس بات کو نقل کیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ارادے کے سچے ہیں، بات کو پورا کر کے دکھاتے ہیں۔ اللہ اکبر کبیراً!
حضورﷺ خاتم الانبیاء ہیں
اس طرح تین سچائیاں ہوگئیں: (۱) زبان کی سچائی (۲) دل کو زبان کا رفیق بنائے کہ دل بھی سچا ہو (۳) عمل کا بھی سچا ہو۔ ایسا بندہ صدیقین میں شمار ہوجاتا ہے، شہداء کا درجہ اس کے بعد کا ہے، صدیقین کا درجہ پہلے ہے۔ قرآن مجید میں ترتیب موجود ہے۔ اس اُمت میں جو سب سے بڑا درجہ ہے وہ صدیقیت کا درجہ ہے۔ حضور نبی کریمﷺ کے بعد اب کوئی کسی صورت وشکل میں نبی نہیں بن سکتا، لیکن اپنی زبان کی سچائی اور دل کی سچائی اور اپنے ارادے کی سچائی سے صدیقین میں اِن شاء اللہ شامل ہوجائے گا۔
بروزِ قیامت تین آدمیوں کا فیصلہ
ایک اور واقعہ بھی اس زمرے میں یاد آیا۔ حضرت ابوہریرہh روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اولِ وہلہ میں قیامت کے دن جن کا فیصلہ سنایا جائے گا اُن میں ایک شہید ہوگا۔ دنیا جانتی ہوگی کہ یہ شہید ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں کا اظہار فرما کر پوچھیں گے کہ تجھے یہ نعمتیں دنیا میں ملی تھیں؟ وہ پہچانے گا اور اقرار کرے گا۔ پوچھا جائے گا کہ پھر تم نے کیا کیا؟ وہ کہے گا کہ اللہ! میں تو تیرے راستے میں نکلا یہاں تک جان دے دی۔ کہا جائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، جان اس لیے دی تھی تاکہ لوگ تمہیں بہادر کہیں، سو کہا جا چکا ۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا اور اس شخص کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائےگا۔ پھر ایک عالم کو لایا جائے گا، اسے بھی بدنیتی کی وجہ سے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اس کے بعد ایک سخی کو لایا جائے گا اور اسے بھی اس کی بدنیتی کی وجہ سے جہنم میں داخل کیا جائےگا۔ (صحیح مسلم: باب من قاتل للرّیاء والسّمعۃ)
دنیا کی آؤ بھگت انسان کو کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ بات یہی ہے کہ آدمی زبان سے بھی سچا ہو، دل کے ارادے سے بھی سچا ہو، اور عمل کے ارادے سے بھی سچا ہو پھر جا کے اُسے قیامت کے دن سچوں میں اٹھایا جائے گا ورنہ پھر درمیان میں لٹکے رہ جائیں گے۔
اہلِ اسلام کی آپس میں محبت
تیسری چیز عمل کی بنیاد میں آپس کا اتفاق اور محبت پیار ہے۔ پہلی بنیاد اخلاص، دوسری بنیاد سچائی، اور اب یہ تیسری بنیاد اہلِ اسلام کی آپس کی محبت ہے۔ اس محبت کے بغیر جنت میں داخلہ بھی ممکن نہیں۔ یاد رکھیے! مؤمن سخت نہیں ہوتا، سخت گو نہیں ہوتا، نرم مزاج ہوتا ہے، دوسروں سے محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ سنیے!
حضرت ابوہریرہh سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! تم جنت میں اُس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آئو۔ اورتم اس وقت تک پوری طرح ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھو۔ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے تمہارے درمیان محبت پیدا ہو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔ (سنن ترمذی: رقم 2510)
ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت سلام کیا جائے السلام علیکم۔ الفاظ کی صحیح ادائیگی کے ساتھ سلام کیا جائے السلام علیکم۔ کچھ لوگوں نے سلام وعلیکم عجیب عجیب قسم کے نئے نئے الفاظ نکال لیے ہیں کہ سلام کرنا سیکھا نہیں ہوتا۔ تو السلام علیکم صحیح انداز سے کہنا ہے۔ سلام کرنے سے نیکی بھی ملے گی اور آپس میں محبتیں بھی ملیں گی۔ جو اہلِ محبت ہوں گےاللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں گے، یہ جنت میں داخل ہوں گے۔
حضرت مقدام بن معدیکربh سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهٗ يُحِبُّهٗ. (سنن أبي داود: رقم 5124)
ترجمہ: ’’جو شخص اپنے بھائی سے (خالصتًا اللہ ہی کے لیے) محبت رکھے تو اُسے اطلاع کر دے کہ میں تم سے (اللہ کے لیے) محبت کرتا ہوں‘‘۔
جس نے اللہ کے واسطے اپنے مسلمان بھائی سے محبت کی۔ کتنے مزے کی بات ہے! یہ جو شیخ اور مرید کا تعلق ہے یہ خالصتًا اللہ کے لیے ہی ہوتا ہے۔ اللہ ہی کی محبت پانے کا معاملہ ہوتا ہے۔ تو یہ محبت بھی اِن شاء اللہ اس قابل ہے کہ قیامت کے دن اللہ ربّ العزّت رحمت کا معاملہ فرما دیں گے۔
حضرت انس بن مالکh فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک اور شخص کا گزر ہوا۔ اس بیٹھے ہوئے شخص نے حضور پاکﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں اس سے محبت کرتا ہوں۔ آپﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تم نے اسے بتایا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اسے بتا دو۔ چناںچہ اس نے جا کر اسے بتا دیا کہ میں تجھ سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں دوسرے شخص نے کہا کہ جس ذات کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی، وہ تجھ سے محبت کرے یعنی اللہ بھی تم سے محبت کرے۔ (سنن ابی داؤد: رقم5125)
اس لیے جب کوئی آدمی کسی سے محبت اور اُلفت رکھے تو اُسے ظاہر کر دے، اُسے بتادے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں تاکہ دوسرے کو بھی معلوم ہوجائے اور کوئی غلط فہمی نہ ہو، اور وہ محبت کا جواب محبت سے دے۔ بہرحال وہ محبت جو اللہ کے لیے ہوگی وہ محمود ہے، وہ مطلوب بھی ہے۔ اور جو محبت شیطانی، نفسانی، شہوانی ہوگی اُس پر گرفت ہوگی۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایمان باللہ کے بعد سب سے بہترین عمل، افضل ترین عمل (اللہ کے لیے) لوگوں سے محبت کرنا ہے۔ (مکارم الاخلاق للطبرانی: رقم 140)
حضرت جابر بن عبداللہi روایت فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مؤمن وہ ہوتا ہے جو محبت واُلفت کرتا ہے اور اس سے محبت کی جاتی ہے، اور اُس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ خود کسی سے محبت کرے اور نہ کوئی اُس سے محبت کرے۔
(مسند احمد: 400/2)
اس لیے ایمان والوں کے ساتھ محبت کرنا اللہ کے لیے ہو، یہ اللہ کو بہت پسند ہے۔
حضرت معاذh سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ سے افضل الایمان کے بارے میں دریافت کیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: افضل الایمان یہ ہے کہ تم اللہ کے لیے لوگوں سے محبت کرو اور اللہ ہی کے لیے لوگوں سے ترکِ تعلق کرو۔ اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں استعمال کرو۔ (مکارم الاخلاق للطبرانی: رقم 70)
اپنی ذات درمیان میں نہ آئے، کسی سے تعلق رکھنا ہے تو اللہ کے لیے رکھنا ہے، کسی سے تعلق کو توڑنا ہے تو اللہ کے لیے توڑنا ہے۔ اب اس کے اندر کیا بات آگئی؟
اللہ کے لیے محبت
دیکھیں! والدین سے محبت، پیر سے محبت، اُستاذ سے محبت، شیخ سے محبت، بھائیوں سے محبت، گھر والوں سے محبت، ایمان والوں سے محبت۔ یہ ساری محبتیں ہم صرف اللہ کے لیے کریں۔ اس کے علاوہ کون سی محبتیں چھوڑنی ہیں تو ترکِ تعلق کا بھی ذکر آگیا۔ ہم نے ناجائز محبتیں چھوڑ دینی ہیں۔ دل کے اندر اُس کا اِرادہ بھی پیدا نہیں کرنا۔ کسی قسم کی کوئی شیطانی، شہوانی محبت نہ ہو۔
حضرت ابوہریرہh سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائیں گے کہ میری بزرگی اور اطاعت کے واسطے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے آج کہاں ہیں؟ آج میں نے اُنہیں اپنے عرش کا سایہ دینا ہے، اور آج میرے عرش کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ (صحیح مسلم: 2566)
جو اللہ تعالیٰ کے لیے محبتیں کریں گے قیامت کے دن اِن شاء اللہ انہیں عرش کا سایہ بھی ملے گا۔ دنیاوی اَغراض و اَہداف مقصد نہ ہو، صرف اللہ کی رضا مقصد ہو۔
بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعودh سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کا شمار اُنہی لوگوں کے ساتھ کیا جائے گا جن کے ساتھ یہ محبت کا تعلق رکھے گا۔ (صحیح بخاری: رقم 6169)
انسان جس سے محبت کرے گا قیامت والے دن اُسی کے ساتھ ہوگا۔ اب ہم دیکھیں کہ ہم کس کے ساتھ محبت کرتے ہیں؟ لباس ہمیں کس کا پسند ہے۔ چہرہ ہمیں کس کا پسند ہے۔ اعمال ہمیں کن کے پسند ہیں۔ اَطوار ہمیں کن کے پسند ہیں۔ اور کن کے ساتھ بیٹھنا، صحبت اختیار کرنا ہمیں پسند ہے۔ ان تمام چیزوں کے متعلق معاملہ ہوگا۔
ایک صحابیh نے نبی کریمﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی؟ آپﷺ نے فرمایا: بھئی! تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کہا: تیاری تو نہیں کی، البتہ اتنا ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں! تم اُسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے۔ اس حدیث کے راوی حضرت انسh فرماتے ہیں کہ ہمیں اس بات سےاتنی خوشی ہوئی کہ کسی اور بات سے اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی۔ (کیوں کہ صحابۂ کرامj تو نبی کریمﷺ سے ٹوٹ کر محبت کرتے تھے) اس پر حضرت انسh نے فرمایا کہ میں رسول اللہﷺ سے محبت کرتا ہوں، میں حضرت ابوبکر صدیقh سے محبت کرتا ہوں، میں حضرت عمر فاروقh سے محبت کرتا ہوں اور مجھے اُمید ہے کہ ان کی محبت کی وجہ سے میں جنت میں ان کے ساتھ ہوں گا اگرچہ میرے اعمال ان جیسے نہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 3688، صحیح مسلم: رقم 2639)
حضراتِ صحابۂ کرام اور تمام اُمت سے محبت
یہ حدیث بخاری شریف میں بھی ہے اور مسلم شریف میں بھی ہے۔ ہم بھی یہ کہہ دیں کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، رسول اللہﷺ سے محبت کرتے ہیں، صدیقِ اکبر سے محبت کرتے ہیں، حضرت عمر فاروق سے محبت کرتے ہیں۔ عثمان غنی سے محبت کرتے ہیں، حضرت علی سے محبت کرتے ہیں، سب صحابہ سے محبت کرتے ہیں، اور سب نیک لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ اِن شاء اللہ ہمارے ساتھ بھی خیر ہوگی۔ اگر ہم اس بات میں زبان کے بھی سچے ہوئے، دل کے بھی سچے ہوئے، اور ارادے کے بھی سچے ہوئے تو یہ سچائی بڑی ضروری ہے جس کی تفصیل آپ نے ابھی سنی۔ اگر ہم تینوں طرح سے سچے ہوئے تو اِن شاء اللہ ہمارے لیے آسانی کا معاملہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں فاسق اور فاجر لوگوں کی صحبت سے محفوظ رکھے۔
اپنا کھانا متقی کو کھلاؤ کا مطلب
حدیث شریف میں آتا ہے کہ مؤمن یعنی نیک متقی کے علاوہ کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا متقی کے علاوہ کوئی نہ کھائے۔ (سنن ترمذی: رقم 2331)
کھانا کھلانا ہے تو نیک لوگوں کو کھانا کھلاؤ۔ امام غزالیm نے لکھا ہے کہ متقی لوگوں کو کھانا کھلانا ان کی عبادت کے اندر اُن کی مدد کرنا ہے۔ جب وہ کھانا کھائیں گے، لازمی بات ہے نیک لوگوں ہیں تو تنہائیاں بھی پاکیزہ ہوں گی اور عبادت بھی کریں گے۔ اس طرح کھلانے والے کو ثواب بھی ملے گا۔ اور اگر فاسق و فاجر کو کھلایا، کبھی اس کارنر پہ، تو کبھی اُس کارنر پہ۔ پھر کیا ہوگا؟ اگر وہ گناہوں میں مبتلا ہوں گے تو یہ گناہوں میں اُن کا مددگار ہوجائے گا۔ اسی لیے بتایا کہ صحبت بھی نیکوں کی اختیار کرو اور کھانا بھی متقی لوگوں کو کھلاؤ۔ دوست کو عربی میں صَاحِب بھی کہتے ہیں۔ اور ایک مشہور مقولہ ہے کہ صَاحِبٌ ’سَاحِبٌ‘ (کھینچنے والا) ہے۔ یا تو خیر کی جانب کھینچنے والا ہے، یا پھر شر کی جانب کھینچنے والا ہے۔ اس لیے مصاحبت نیک لوگوں کی ہی اختیار کرنی ہے۔
ایمان والوں سے محبت کرنا یہ عمل کی تیسری بنیادی بات ہوگئی۔ چوتھی بات یہ کہ مؤمن کو خوش کرنا۔ ایمان والوں کو خوش کرنا بھی نیکی، اور خوش رکھنا بھی نیکی ہے۔
مسلمان کو خوش کرنے کے فضائل
ایک حدیث میں آیا ہے کہ کسی مؤمن کو خوش کرنا افضل عمل ہے، آپ اس کا قرضہ ادا کر دیں، اس کی کسی ضرورت کو پورا کر دیں، کسی پریشانی کو دور کر دیں۔ (صحیح الجامع: رقم 5773)
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عباسi سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: فرائض کے پورا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے نزدیکمحبوب عمل کسی مسلمان کو خوش کرنا ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی: رقم 10923)
یہ جو کسی دوسرے کو خوش کرنا ہے، یہ انسان کی مغفرت کو واجب بھی کر دیتی ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہi سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کو خوش کرنا، اس کی بھوک کو دور کرنا، اور اس کی پریشانی کو دور کرنا مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے ہے۔

(بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث: رقم 914)
اگر انسان کسی کو خوش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا فرمالیتے ہیں جو قیامت تک اور پھر قیامت کے دن بھی آدمی کے ساتھ ہوتا ہے۔ حدیث سنیے!
حضرت جعفر بن محمد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو خوش کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے، اس کی بزرگی بیان کرتا ہے اور اس کی توحید کا اقرار کرتا ہے۔ پھر جب یہ خوش کرنے والا مسلمان اپنی قبر میں چلا جاتا ہے تو وہ فرشتہ اس کے پاس قبر میں آتا ہے جو خوشی سے پیدا ہوا تھا۔ وہ آکر کہتا ہے کہ کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ مسلمان کہتا ہے کہ تم کون ہو؟ وہ فرشتہ کہتا ہے کہ میں وہی خوشی ہوں جس سے تم نے فلاں بندے کو خوش کیا تھا۔ آج میں تمہاری قبر کی اس وحشت کو دور کروں گا، اور تمہارے لیے دلیل بنوں گا، اور تمہیں ثابت قدمی کی بات بتاؤں گا۔ اور صرف قبر میں ہی نہیں، میں قیامت کے دن بھی تمہارے ساتھ ہوں گا، اور تمہارے رب سے تمہاری سفارش کروں گا، اور تمہیں جنت میں تمہارا مرتبہ ومقام بھی دکھاؤں گا۔
(کنز العمال: رقم 16409)
سبحان اللہ! ایمان والوں کو خوش کرنے میں کتنا زبردست اجر ہے۔ اب ہم دیکھیں کہ ہمارے گھر میں کون کون ایمان والے ہیں: والدین، اولاد، میاں بیوی، ماموں، خالہ، پھوپھی، دادا دادی، نانا نانی، سسرالی رشتہ دار۔ گنتے چلے جائیے۔ بھئی! اگر میاں بیوی کو خوش کرے گا تو یہاں بھی خوشی کا فرشتہ پیدا ہوجائے گا اِن شاء اللہ۔ بیوی اگر خاوند کو خوش کرے گی تو وہاں سے بھی یہ معاملہ بن جائے گا۔ اپنے ہی رشتہ داروں میں، عزیز و اقارب میں خوش کرنے کے موقع ہوتے ہیں، ہم کوشش کرکے ایک دوسرے کو خوشی پہنچائیں، پھر قبر میں بھی ہمارے لیے آسانی ہوگی اور قیامت کے دن بھی ہمارے لیے آسانی ہوجائے گی۔
حضرت جعفر سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود کو وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندے نے نیکی کے ساتھ ملاقات کی تو میں نے اسے جنت میں پہنچا دیا۔ حضرت دائود نے عرض کیا: اے اللہ! وہ کون سی نیکی تھی جس کے ساتھ بندے نے ملاقات کی اور آپ نے اس کو جنت دے دی؟ فرمایا: میرے مؤمن بندے کو خوش کرنے کی وجہ سے۔ تو اگر کوئی انسان کسی دوسرے کو خوش کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے خوش ہوتے ہیں، اور اسے جنت عطا فرما دیتے ہیں۔
کنزالعمال اور کتاب البر والصلۃ دونوں کتابوں میں یہ روایت موجود ہے۔ اعمش ابو وائل سے اور وہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے میرے بعد کسی مسلمان کو خوش کیا، اُس نے گویا مجھے میری قبر میں خوش کیا، اور جس نے مجھے قبر میں خوش کیا، اُسے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن خوش کر دے گا۔

(کنز العمال: رقم 16413، البر والصلۃ لابن الجوزی: رقم 333)
اندازہ کر لیجیے کہ لوگوں کو خوش کرنے کے اور ان کا دل جیتنے کے کتنے فائدے ہیں۔ لوگوں سے محبت کا معاملہ ہو، خیال کرنے والا معاملہ ہو۔ ہمیں دل جلانا تو آتا ہے، دل لُبھانا نہیں آتا۔ ہمیں رُلانا تو آتا ہے، ہنسانا نہیں آتا۔ ہم ہنسنا بھی سیکھیں، دل لُبھانا بھی سیکھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرما دیں گے۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیںکہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان گھرانے کو خوشی اور مسرت میں ڈالا، اللہ تعالیٰ اُس کے ثواب میں جنت سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔

(معجم صغیر للطبرانی: رقم 911)
اللہ تعالیٰ اُس خوش کرنے والے کو جو ثواب دیں گے اُس کا کم از کم بدلہ فرمایا کہ جنت تو مل ہی جائے گی، آگے کے درجات اور ہوجائیں گے۔
خوش کرنے کا مطلب
یہ بات ساتھ ہی سمجھ لیجیے کہ خوش کرنے کا مفہوم کیا ہے؟ اپنے اقوال سے، اپنے افعال سے، اپنے کردار سے کسی کو تکلیف نہ پہنچنے دی جائے، اور اُس کے دل کی تسلی کے لیے اسباب اختیار کیے جائیں کہ وہ خوش ہوجائے۔
مسلمانوں کی مدد کرنا
پانچویں بات جو عمل کے لیے ضروری ہے، وہ ہے مسلمانوں کی مدد کرنا اور اُن کی چیزوں کا خیال کرنا۔ آج کتنے ہی مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے منتظر ہیں۔ حضرت ابوہریرہh سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا : جو کسی مؤمن کے غم کو دور کرے گا اللہ پل صراط کے پاس اُس کو دو نور دے گا جس کی روشنی سے سارا جہاں روشن ہوجائے گا، اور اُس نور کا اِحاطہ اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکے گا۔

(معجم اوسط للطبرانی: رقم 4646)
کتنی خوش قسمتی ہوگی اس کے لیے جسے قیامت کے دن کے اندھیروں میں نور مل جائے۔ یہ نعمت ہی نعمت ہے کہ پل صراط پر نور مل جائے۔ یہ کب ملے گا؟ اگر ہم کسی کے غم کو دور کر دیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہماری مدد میں لگیں، ہمارے کاموں میں مدد گار ہوں۔ یہ ہوجائے، وہ ہوجائے۔ اگر ہم اللہ کی مدد کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتے ہیں، دعا بھی مانگتے ہیں کہ یا اللہ! ہماری مدد فرما۔ یا اللہ! یہ کام ہے ہماری مدد فرما۔ ہر آدمی کے اپنے الگ الگ کام ہوا کرتے ہیں اور اس میں وہ اللہ کی مدد کو چاہ رہا ہوتا ہے تو ایک تو دعا مانگنی ہی ہے، ٹھیک ہے، لیکن ایک عمل نبی کریمﷺ نے اور بتا دیا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہوجائے، یقین آجائے تو پھر یہ سن لو!
حضرت ابو ہریرہh سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کی مدد میں لگ جاتا ہے، اللہ اُن کی مدد میں لگ جاتا ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 2699)
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اللہ کی مدد شامل ہو، تو اپنے بھائیوں کی مدد کریں۔ اب ہم اپنے بھائیوں کی مدد نہیں کرتے حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ ہم کسی کی مدد نہ کرپائیں، گنجایش بھی ہوتی ہے اور کر بھی سکتے ہیں، لیکن دوسرے کی مدد نہیں کرتے۔ صرف اُس کی مدد کرتے ہیں جہاں منع نہ کرسکتے ہوں، مجبوری ہو، یا ہمیں معلوم ہو کہ آج ہم اس کی مدد کریں گے کل یہ ہماری مدد کرے گا۔ تجارت کرتے ہیں، اللہ کے لیے مدد کرنا یہ آج تقریباً تقریباً ختم ہوچکا۔
مخلوق سے بدلہ کا طلب گار نہیں بننا
کہتے ہیں کہ نیکی کا زمانہ نہیں رہا۔ کیا مطلب اس بات کا؟ اس کا مطلب یہ کہ وہ لوگ اصل میں اپنی نیکیوں کا بدلہ مخلوق سے لینا چاہتے ہیں۔ بھئی! لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، لوگ ہمارے ساتھ اچھا نہیں کرتے تو وہ ان کا معاملہ ہے۔ اللہ کے لیے نیکی کرنے والوں کا زمانہ تو آج بھی ہے۔جو نیکی اللہ کے لیے کرتے ہیں، جو نیکی کا بدلہ اللہ سے لینا چاہتے ہیں، اُن کے لیے آج بھی نیکی کا زمانہ باقی ہے۔ مخلوق آپ کے ساتھ اچھا کرے، بُرا کرے۔ جو بھی کرے۔ ہم سب کے ساتھ خیر کا معاملہ کریں، اللہ ہمارے ساتھ اچھا ہی کریں گے۔ ہم اللہ کے بندوں کی مدد کریں اللہ تعالیٰ کے لیے، اللہ ہماری مدد کریں گے۔ ہم اللہ کے بندوں کی مدد کرنا شروع کر دیں پھر دیکھیں کیسے آپ کی مدد ہوتی ہے۔ پتا بھی نہیں چلتا اور اللہ تعالیٰ مہربانی فرما دیتے ہیں۔
حدیث میں آتا ہے حضرت انسh روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اپنے مسلمان بھائی کی کسی ضرورت سے چلے تو اللہ تعالیٰ اُس کے ہر قدم پر ستر نیکیاں لکھتے ہیں اور ستر گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ پھر اگر اس کے چلنے سے ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو وہ ایسا پاک ہوجاتا ہے جیسے اُس کی ماں نے اُسے آج ہی جنا ہو۔ اور اگر مسلمان بھائی کی ضرورت کے پورا کرنے کے دوران اس کا انتقال ہوگیا تو بغیر حساب کے جنت میں جائے گا۔

(مکارم الاخلاق للخرائطی: رقم 85)
کسی ایمان والے کی مدد کرنا، اُس کے لیے چار قدم چل لینا۔ کیسی زبردست فضیلت ہے کہ ہر قدم پر ستر نیکیاں ملیں گی، اور ستر گناہ معاف ہوجائیں گے۔ اور اس کے چلنے سے، کوشش سے اُس مسلمان کا کام ہوگیا تو اللہ تعالیٰ سارے ہی گناہوں کو معاف کر دیں گے۔ ہم مانگتے ہیں ناں کہ یا اللہ! ہمارے گناہ معاف فرما۔ دعا کرتے ہیں، یہ تو کرنی ہی ہے، لیکن اگر ہم مسلمانوں کی مدد کریں اور اُن کے کام آجائیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے گناہوں کی معافی کے وعدے ہیں۔ نبی کریمﷺ ہمیں اس بات کی اطلاع فرما رہے ہیں۔ اللہ اکبر کبیراً!
اللہ تعالیٰ کے خاص بندے
اب دو تین اَحادیث اُن لوگوں کے لیے جن کو اللہ نے مال کی فروانی عطا فرمائی ہے۔ الحمدللہ! اُن کے پاس اُن کی ضروریات سے زیادہ مال ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جتنا کماتے ہیں اس سے اپنی ضروریات پوری کرلیتے ہیں، مانگنا نہیں  پڑتا۔ اور کچھ ایسے ہیں جنہیں اللہ نے اُن کی ضرورت سے بہت زیادہ دیا ہوتا ہے۔ ایسے ساتھی دل کے کانوں سے سنیں! یہ دو تین باتیں چند منٹ کی ہیں توجہ سے سنیں!
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی ایک مخلوق ایسی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے پیدا کیا ہے، لوگ اپنی ضرورتوں میں ان کی طرف جاتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے مامون رہتے ہیں۔

(معجم کبیر للطبرانی: رقم 13334)
بعض لوگ ایسے ہیں کہ لوگ اُن کی طرف بہت رجوع کرتے ہیں۔ اپنے مسائل شئیر کرتے ہیں، اپنی پریشانیاں بتاتے ہیں، مشورے چاہتے ہیں، اپنی مدد چاہتے ہیں۔ ایسے آدمی اللہ کے چنیدہ بندے ہوتے ہیں، اور اللہ نے انہیں اپنے عذاب سے مامون اور محفوظ کیا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی ضروریات میں دور قریب سے ان کے پاس چل کر آتے ہیں۔ اسی کے ہم معنیٰ ایک اور روایت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک جماعت پیدا کی ہے جن کو اپنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ جب تک یہ لوگ دوسرے بندوں پر خرچ کرتے رہتے ہیں، ان کی مدد کرتے رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی نعمتوں کو باقی رکھتا ہے۔ اور جب وہ دوسروں بندوں سے ہاتھ روک لیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان سے وہ نعمتیں لے کر کسی اور کو دے دیتا ہے۔

(شعب الایمان: 450/2)
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: کوئی ایسا بندہ نہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کو بہایا ہو یعنی اُسے مالدار بنایا ہو اور لوگوں کی ضرورتیں اس سے وابستہ کردی ہوں، پھر وہ بندہ کوتاہی کرتا ہو، لوگوں کو نفع نہ پہنچاتا ہو، اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی نعمت ختم کر دیتے ہیں۔

(شعب الایمان: 7142)
اب یہ ڈرنے والی باتیں ہیں۔ اگر آدمی کو اللہ نے اتنا دیا ہے کہ وہ دس خاندانوں کو سپورٹ کر سکتا ہے۔ خاندان کے دس گھروں کی ذمہ داری لے سکتا ہے۔ مگر یہ کسی کا خیال نہیں کرتا، کسی مانگنے والے کا خیال نہیں رکھتا، غریبوں کا خیال نہیں رکھتا۔ ایک نہ ایک دن ایسا آتا ہے کہ اللہ ربّ العزّت نعمتیں واپس لے لیتے ہیں، پھر کسی اور کو نعمت دے دیتے ہیں۔ جیسے ڈاکیا ہے، اُس کے پاس ڈاک آرہی ہے، وہ ڈاک پہنچاتا رہے اُس کے پاس ڈاک آتی رہے گی۔ اور جو ڈاک پہنچانا بند کر دے پھر محکمہ اُس کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے اور دوسرے کو لے آتا ہے۔ بالکل اسی طرح جس کے پاس اُس کی ضروریات سے بہت زیادہ آرہا ہے، وافر آرہا ہے، کھلا آرہا ہے۔ اگر یہ دوسروں پر خرچ نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ یہ ڈیوٹی کسی اور کو دے دیں گے۔
مالکِ حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں
جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سارا ہمارا ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَفِیْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ لِّلسَّآىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ

(الذاریات: 19)
ترجمہ: ’’اور اُن کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا‘‘۔
زکوٰۃ تو دینی ہی ہے۔ زکوٰۃ کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہے۔ بہت سارے لوگ زکوٰۃ بھی پوری نہیں دیتے۔ زکوٰۃ دیتے وقت دل ایسے تنگ ہوجاتا ہے، ایسے جکڑا ہوا ہوتا ہے کہ مال اندر سے نکل ہی نہیں پاتا۔ زکوٰۃ کے علاوہ بھی بہت ساری ذمہ داریاں ہیں جو انسان پر آتی ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ نعمتوں کو باقی رکھنے کے لیے اللہ کے باقی بندوں پر خرچ کرتا رہے، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرما دیں گے۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ ربّ العزّت پریشان حال کی مدد کو پسند فرماتے ہیں۔ کوئی پریشان حال ہو، کوئی اُس کی مدد کرے تو اللہ اپنی رحمت فرما دیتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں ہےحضرت عبداللہ بن عمرi سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت میں لگا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کی حاجت کو پورا کرنے میں لگے ہوتے ہیں۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے غم اور پریشانی کو دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے غم اور پریشانی کو دور کردیں گے۔
(صحیح بخاری: رقم 2310)
اگر ہم چاہتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمارے غم دور ہوجائیں، ہم دنیا میں اس کے بندوں کے غموں کو دور کرنے کا ذریعہ بنیں۔ ہم اُس کے بندوں کی ضروریات کو پورا کرنے کا ذریعہ بنیں۔ ان کے غم بڑھانے کا ذریعہ نہ بنیں، ہم اُن کے غم دور کرنے کا ذریعہ بنیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں، چاہتے ہیں کہ نہیں چاہتے؟ تو مستجاب الدعوات اُس شخص کو کہتے ہیں جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اُس کا نسخہ سُن لیجیے!
مستجاب الدعوات بننے کا نسخہ
حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اُس کی دعا قبول ہو اور اس کی مصیبت اور پریشانی دور ہوجائے، اُسے چاہیے کہ وہ پریشان حال کی مدد کرے اور لوگوں کی مشکلات کا حل کرے۔ جو پریشان حال کی مدد کرتا ہے اور لوگوں کی مشکلات حل کر دیتا ہے۔ اللہ ربّ العزّت اس کو مستجابُ الدعوات بنا دیتے ہیں اور اُس کی دعائوں کو قبول کرتے ہیں۔
صدقہ کا اجر
کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس مال نہیں ہوتا اور صدقہ نہیں کرسکتے۔ اُن کے لیے بھی نبی کریمﷺ نے ایک طریقہ بتا دیا۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان پر صدقہ واجب ہے۔ صحابہ کرامj نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اگر کوئی مال نہ پائے؟ یعنی اگر کوئی ایسا ہو کہ اُس کے پاس مال ہی نہ ہو۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اپنے ہاتھ سے کام کرے، خود بھی فائدہ اُٹھائے اور دوسروں پر صدقہ کرے۔ صحابہ کرامj نے عرض کیا: اگر وہ ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: کسی پریشان حال کی مدد کرے۔ عرض کیا کہ اگر وہ ایسا کرنے کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: کوئی بھلائی کا کام کرے اور اپنے آپ کو شر سے روکے، یہ اس کے لیے صدقہ ہے۔

(صحیح بخاری: رقم 1376)
کسی کو مورل سپورٹ کر دینا۔ اگر پیسہ نہیں ہے تو کسی اور طریقے سے اُس کا خیال کرلینا، یا کم از کم اپنے شر سے دوسرے کو بچانا اس پر بھی اللہ تعالیٰ صدقہ کا اجرعطا فرما دیتے ہیں۔ ایسے ہی مظلوم کی مدد کرنا بھی نیکی ہے۔ جہاں تک ممکن ہو انسان حق کا ساتھ دے۔ مطلب اس بات کا یہ ہے کہ حق کا ساتھ تو دینا ہی ہے ہمیں ہر حالت میں، لیکن جہاں تک ممکن ہو مظلوم اور ظالم کی مدد بھی کرنی چاہیے۔
ظالم اور مظلوم کی مدد کرنا
حضرت انسh سے روایت ہے نبی کریمw نے ارشاد فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہj نے پوچھا: مظلوم کی بات تو سمجھ میں آگئی کہ ہم اس کی مدد کریں گے، لیکن ظالم کی کس طرح مدد کریں؟ فرمایا: اسے ظلم سے باز رکھو، اُسے منع کرو، اُس کا ہاتھ روکنے کی کوشش کرو یہ بھی اُس کی مدد ہے۔
(صحیح بخاری: رقم 2444)
اللہ تعالیٰ کا انتقام
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جَلَّ وَ عَلَا ارشاد فرماتے ہیں: میری عزّت اور جلال کی قسم! میں ظالم سے ضرور انتقام لوں گا جلد یا کچھ تاخیر سے۔ اور اُس سے بھی انتقام لوں گا جو مظلوم کی مدد پر قادر تھا لیکن اس نے مظلوم کی مدد نہیں کی۔

(مجمع الزوائد: رقم 12135)
یعنی ظالم کا مدد گار بن گیا۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ ایک دوسرے کو ظالم ٹھہراتے ہیں اور اپنے کو مظلوم ٹھہراتے ہیں۔ ہم اس بات کو سوچا کریں ہم قیامت کے دن اللہ کے دربار میں ظالم بن کر کھڑے ہونا چاہتے ہیں یا مظلوم بن کے؟ ظالم بن کے کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو اگلے کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ لیکن اگر مظلوم بن کر کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو پھر شریعت وسنت کو سامنے رکھیں، قیامت کے دن کو سامنے رکھیں۔
ایک مشہور غلط مقولہ
یہ جو جملہ لوگوں کے درمیان مشہور ہے کہ ہم اپنا حق وصول کرنے کے لیے آخری سانس تک یا خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔ سگے بھائی ایک دوسرے کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوتے ہیں، اور دونوں ایک دوسرے کو ظالم قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ ہم قیامت کے دن ظالم کھڑے بن کر ہونا چاہتے ہیں یا مظلوم؟ اس کو سوچیں۔ اگر کسی نے ہم پر ظلم کر دیا، ہم کوشش کرکے اُسے معاف کر دیں۔ مسئلے کو دنیا میں ہی ختم کر دیں۔ نہیں تو کم از کم ظلم نہ کریں اور قیامت کے دن مظلوموں میں کھڑے ہو جائیں۔ یقین جانیں اللہ کی مدد ہمارے ساتھ شاملِ حال ہوجائے گی۔ اور یہ زبردست بات ہے کہ مظلوم کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے کہ ہم کسی پر ظلم کرنے والے بنیں۔
یتیم کی مدد کرنا
اسی طرح یتیم کی مدد کرنا بھی بنیادی اخلاق میں سے ہے۔ حضرت سہل بن سعدh سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جس طرح یہ دو انگلیاں۔ آپﷺ نے اشارہ کرکے اس طرح بتایا کہ شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی، پھر دونوں میں تھوڑا سا فاصلہ رکھا۔
(سنن ترمذی: رقم 1837)
اب بھائی کا انتقال ہوجائے اور اس کی اولاد ہو اور وہ بالغ نہ ہوئی ہو، اس کے ساتھ محبت کا تعلق رکھنا اور وراثت کے معاملات میں خیر خواہی کے ساتھ اُس کے ساتھ معاملہ رکھنا۔ یہ چیز بھی ہمارے ہاں تقریباً ختم ہوچکی، اسے پھر زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بے شمار فوائد ہیں، اس میں سے ایک یہ کہ دل کی سختی دور ہوتی ہے۔
نبی کریمﷺ کے پاس ایک صحابی آئے کہ دل کی سختی کا کیا علاج کروں؟ فرمایا کہ مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ رکھو۔

(مسند احمد: رقم 6902)
اللہ رب العزت کو یہ دونوں اعمال بہت پسند ہیں۔ اور یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں میں جو کسی یتیم کو اپنے ساتھ کھانے پینے میں شریک کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو یقیناً جنت میں داخل فرمائیں گے۔ ہاں! یہ الگ بات ہے کہ وہ کوئی ایسا گناہ نہ کرے جس کی مغفرت بالکل نہیں ہوتی۔

(سنن ترمذی: رقم 1836)
حضرت ابو امامہh سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے کے لیے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے، اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر بال کے بدلے اس کے نامہ اعمال میں نیکی درج فرما دیتے ہیں۔ (مکارم الاخلاق للطبرانی: رقم 1836)
مسکینوں اور بیواؤں کی خدمت
حضرت ابو ہریرہh سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے فرمایا: مسکینوں اور بیوائوں کی خدمت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یوں بھی فرمایا: رات کو اس نماز پڑھنے والے کی طرح ہے جو ساری رات نماز پڑھتا ہے، مگر تھکتا نہیں۔ اور اس روزے دار کی طرح ہے جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔

(صحیح مسلم: رقم 2982)
اسی طرح رشتہ داروں سے ملاقات، دوست احباب سے ملاقات یہ بھی اسلام کی تعلیمات میں سے ایک عمل ہے۔ اس کو پسند کیا گیا ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں سے ملنے جائے۔ مصروفیت کی وجہ سے مشکل ہے تو شادی بیاہ کے موقع پر جہاں مخلوط ماحول نہ ہو، اللہ کی نافرمانی نہ ہو، وہاں انسان جانے کی کوشش کرے اور رشتہ داروں سے ملاقات کرے۔ اچھے انداز میں ملے۔ کبھی وقت نکال کر کسی سے ملنا چلا جائے، کبھی کسی کو بلالے۔ اگر اللہ کے لیے یہ عمل ہوگا تو یقیناً اس پر جنت کے فیصلے ہوجائیں گے۔
حضرت ابوہریرہ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں: جو شخص اللہ کی رضا کے لیے کسی مریض کی عیادت کرتا ہے، یا اپنے بھائی کی زیارت کرتا ہے، اللہ اُسے کہتے ہیں: خوش رہو، تمہارا جانا مبارک ہو، تم نے اپنا ٹھکانا جنت میں بنالیا۔

(سنن ترمذی: رقم 2008)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک شخص اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے دوسرے گائوں گیا۔ خدا نے راستے میں ایک فرشتہ بٹھا دیا۔ جب اس آدمی کا گزر اس جگہ سے ہوا تو فرشتہ نے پوچھا: کدھر جارہے ہو؟ اُس نے کہا: گائوں میں میرا ایک بھائی ہے اُس سے ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے پوچھا کہ کیا کوئی معاملہ ہے کیا اُس نے تم پر، یا کوئی احسان کیا ہوا ہے کہ تم اُس سے ملنے جا رہے ہو؟ اُس نے کہا: نہیں، میں اللہ کے واسطے اس سے محبت کرتا ہوں، میں اللہ کے لیے ہی ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے کہا: میں خدا کی جانب سے تمہارے لیے بھیجا گیا ہوں، اور خدا تعالیٰ بھی تم سے محبت کرتا ہے جیسا کہ تم اُس سے خدا کے لیے محبت کرتے ہو۔

(صحیح مسلم: رقم 2567)
اپنے بھائیوں سے، رشتہ داروں سے ملتے رہنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، لیکن پردے کا خیال، شریعت کا خیال سامنے رہے۔
حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میری محبت ان لوگوں کے لیے واجب ہے جو میرے واسطے محبت کرتے ہیں، اور میرے واسطے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں، اور میرے واسطے آپس میں ملاقات اور زیارت کرتے ہیں، اور میرے واسطے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
(موطأ مالک: کتاب الجامع، باب الشعر، ما جاء في المتحابین في اللہ)
حضرت انس سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تم کو نہ بتائوں کہ تمہارے جنت والے کون لوگ ہیں؟ صحابہ کرامj نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ضرور بتائیے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: نبی جنت میں، صدیق جنت میں، شہید جنت میں ، اوروہ آدمی جنت میں جائے گا جو شہر کے دوسرے کنارے اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لیے جاتا ہے اور فقط اللہ کے لیے جاتا ہے۔

(معجم صغیر للطبرانی: رقم 118)

وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں


Notice: Undefined index: HTTP_CLIENT_IP in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 296

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 298

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 300

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 302

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 304

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں