ایمان والوں سے محبت حصہ دوم

ایمان والوں سے محبت حصہ دوم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ:
إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا عَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ لَمْ يَزَلْ فِي خُرْفَةِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ.
(صحیح مسلم: رقم 2568)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اللہ کے لیے لوگوں سے ملنا
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی نے فرمایا: جو بندہ بھی اپنے بھائی کے پاس ملاقات کے لیے اللہ کی رضا کے لیے آتا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ ندا دیتا ہے کہ خوش ہو، تمہارے لیے جنت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے آواز دیتے ہیں کہ میرا بندہ میری ملاقات میں ہے اور اس کی میزبانی میرے ذمے ہے اور میں اس کے لیے ثواب کے اعتبار سے جنت سے کم پر راضی نہیں۔ (مسند بزار: رقم 1918)
رشتہ داروں سے ناراضگی، قطع تعلقی، ترکِ تعلق تو ویسے ہی منع ہے اور گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب ہے۔ لیکن اپنے گھر سے ان سے ملنے جانا، اللہ کے لیے ملنا جانا اس پر جنت کی بشارتیں ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ ساری رات تہجد پڑھنا آسان، لیکن سگا بھائی جو برابر گلی میں رہتا ہو اس کے پاس چل کر جانا، جو ناراض ہیں ان کے پاس چل کر جانا یہ مشکل ہے۔
حضورﷺ کا عام لوگوں سے ملنا
حضور پاکﷺ بھی اکثروبیشتر مختلف احباب سے ملاقات فرماتے رہتے تھے۔ اگر کسی وقت کسی خاص آدمی سے ملاقات کا خیال ہوتا تو اس کے گھر تشریف لے جاتے، اور اگر عام لوگوں سے ملاقات کا ارادہ فرماتے تو مسجد تشریف لے جاتے یعنی لوگوں سے ملاقات کرتے۔ اپنے اللہ کے لیے لوگوں کے حال چال لیتے رہتے تھے۔ حتی کہ اللہ کے نبیﷺ ایک یہودی بچے کی عیادت کے لیے اس کے گھر بھی تشریف لے گئے، اس کی عیادت کی اور اسے اسلام کی دعوت دی تو وہ مسلمان ہو گیا۔ (صحیح بخاری: رقم 1356)
اس لیے مساجد میں، خانقاہوں میں، مدرسوں میں آکر یا ایسی جگہ جہاں دینی لوگ جمع ہوجاتے ہیں، اللہ کے لیے ان سے مشورہ کرنا چاہیے۔
نیک لوگوں کے ساتھ مجالست رکھنا
اسی طرح صالح اور نیک لوگوں سے ملاقات اور محبت کے بارے میں بھی چند باتیں قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بیان فرمائی ہیں:
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَo (التوبۃ: 119)
’’ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو‘‘۔
قرآن مجید میں جس طرح حکم دیا گیا ہے تمام ایمان والوں کو نیک صحبت اختیار کرنے کا۔ اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کو بھی یہ حکم فرمایا ہے:
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْہَہٗ وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْہُمْۚ (الکھف: 28)
ترجمہ: ’’اور اپنے آپ کو استقامت سے اُن لوگوں کے ساتھ ساتھ رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو اس لیے پکارتے ہیں کہ وہ اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں۔ اور تمہاری آنکھیں دُنیوی زندگی کی خوب صورتی کی تلاش میں ایسے لوگوں سے ہٹنے نہ پائیں‘‘۔
اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اپنے محبوب سے فرما رہے ہیں کہ آپ اپنے آپ کو اُن لوگوں کے ساتھ نتھی کرلیجیے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت میں، اس کی رضا کے لیے مشغول رہتے ہیں۔ تو جو لوگ دین کے کاموں میں، اللہ کی یاد میں، اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں، ان کے ساتھ بیٹھنے کا حکم نبی کو بھی دیا گیا۔ معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کے ساتھ، ذکر کرنے والوں کے ساتھ، اللہ والوں کے ساتھ، علماء کے ساتھ، صلحاء کے ساتھ وقت گزارنا، ان کے لیے وقت نکال کر جانا اللہ کو بہت پسند ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: آدمی کا شمار اُنہی لوگوں کے ساتھ کیا جائے گا جن کے ساتھ یہ محبت کا تعلق رکھے گا۔
(صحیح بخاری: رقم 6169)
چناںچہ اگر انسان اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ، مقرّب بندوں کے ساتھ، اولیاء اللہ کےساتھ وقت گزارے گا۔ اِن شاءاللہ قیامت کے دن ان ہی کے ساتھ اس کا شمار ہوجائے گا۔ آج اس دیے ہوئے وقت کی قدر دانی کرنی ہے۔ آدمی کے رات دن کی مجلسیں کن لوگوں کے ساتھ ہو رہی ہیں، اس پر غور کرنا ہے۔
نیک اور برے ہمنشیں کی مثال
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: نیک ہمنشیں اور برے ہمنشیں کی مثال ایسی ہے جیسے مُشک رکھنے والا اور بھٹی رکھنے والا۔ خوشبو والا یا تو آپ کو خوشبو دے دے گا، یا آپ اس سے خوشبو خرید لیں گے، یا جتنی دیر اس کے پاس بیٹھے رہیں گے تو خوشبو آتی رہے گی۔ اور آگ کی بھٹی والا تو آگ ہی دے گا، یا آپ کے کپڑے جلا دے گا، اگر کچھ نہیں بھی دے گا تو جتنی دیر وہاں بیٹھیں گے اتنی دیر دھواں ہی سینکتے رہو گے۔ (صحیح بخاری: رقم 5534، صحیح مسلم: رقم 2628)
تو جو نیک لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا، وہ فائدہ میں رہے گا۔
جسم اور رُوح کے تقاضے
اچھا! یہاں ایک اور بات بھی اہم ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے انسان کو بنایا تو دوچیزوں سے (۱) جسم اور (۲) روح۔ جسم کو اللہ نے مٹی سے بنایا تو پھر جسم کی ساری ضروریات بھی اللہ نے مٹی سے پیدا کی ہیں۔ چاہے وہ گوشت ہو، چاہے وہ سبزیاں ہوں تعلق ان کا مٹی سے ہی ہے، زمین سے ہی ہے۔ جسم کی ضروریات اللہ نے زمین میں ہی رکھی ہیں۔ اور یہ جو روح ہے یہ اوپر سے آئی ہوئی چیز ہے۔ اللہ کا اَمر ہے۔ اور اس کی غذا بھی اوپر سے آنے والی چیز ہے۔ وہ کیا ہیں؟ انوارات، تجلیات، فیوضات، برکات۔ ان سب کا اوپر سے نزول ہوتا ہے۔اور اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں کہ 24گھنٹے اللہ کی رحمت اُن کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔
روح میں قوت کیسے آئے گی؟
ہوتا کیا ہے کہ ایک آدمی جس کی روح بیمار ہے، گناہوں کے اندر مبتلا ہے۔ یہ تجربہ کرکے دیکھ لیں بالکل پکی بات ہے۔ جس طرح (2+2=4) ہوتے ہیں! اسی طرح یہ پکی بات ہے کہ جس کی روح بیمار ہے وہ ایسی محافل میں پابندی سے آکر بیٹھنا شروع کر دے جہاں روح کی غذا اوپر سے نازل ہو رہی ہے، انوارات ہیں، تجلیات ہیں، فیوضات ہیں، برکات ہیں۔ ان کے نزول میں جو بیٹھا رہے گا تو آہستہ آہستہ اس کی روح قوت پکڑتی رہے گی، اور اس کی روحانی بیماریوں کا علاج ہوجائے گا۔ جیسے انسان نہاتا ہے۔ گرمی لگ رہی ہوتی ہے تو شاور کے نیچے چلا جاتاہے۔ پسینہ، بدبو اور جراثیم دور ہوجاتے ہیں اور آدمی فریش ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب انسان اللہ والوں کی مجالس میں پابندی سے آتا ہے، مستقل مزاجی کے ساتھ آتا رہتا ہے تو اِن محافل میں انوارات اور تجلیات کاشاور برس رہا ہوتا ہے۔ وہ اندر بیٹھے بیٹھے ویسے ہی پتا نہیں چل جاتا، ویسے ہی محسوس نہیں ہوتا لیکن علاج ہوجاتا ہے۔ لوگ خود کہتے ہیں کہ ہمیں پتا نہیں چلا، لیکن جو آتا رہے آتا رہے ، پھر دل خود ہی ان انوارات کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ یہ پکی بات ہے، اس میں کوئی دوسری بات ہی نہیں۔
سلیمان بن حبیب محاربی کہتے ہیں کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے بیٹے! تم علماء کی ہمنشینی اختیار کیا کرو اور ان کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ مردہ دل کو حکمت کے نور سے اس طرح زندہ کرتے ہیں جس طرح خشک زمین کو موسلا دھار بارش سے زندہ کرتے ہیں۔ (جامع بیان العلم فضلہ لابن عبد البر)
جب زمین خشک ہو، وہاں اَبر چھا جائے اور بارش برس جائے، پانی پڑتا رہے تو آہستہ آہستہ وہاں بھی سبزہ آجاتا ہے، ہریالی آجاتی ہے اور زمین نرم ہوجایا کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح جن کے دل کی زمین سخت ہوجائے، ویران ہوجائے، بنجر ہوجائے بلکہ کانٹے نکل آئیں، جھاڑیاں نکل آئیں۔ یہ لوگ پھر بھی علماء کی صحبت اختیار کریں۔ اللہ والوں کی صحبت اختیار کریں۔ صُلحاء کی باتیں جو حکمت بھری ہیں سنا کریں۔ اللہ والوں کی ان حکمت بھری باتوں میں ایسے انوارات ہوتے ہیں جس سے دل کی ویرانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ دلوں میں اللہ کی رحمت کی وجہ سے آبادیاں آجایا کرتی ہیں۔ اس لیے اللہ والوں کی صحبت اختیار کرنے کا حکم قرآن مجید میں بھی آیا اور حدیث شریف میں بھی آیا۔ اپنے روزمرّہ کے اعمال میں اس کو شامل کریں۔
اولاد کو نیک لوگوں کے پاس لے جانا
جب اپنی زندگی کے نظام الاوقات بنائیں، ٹائم ٹیبل بنائیں تو صحبتِ اولیاء کا بھی ٹائم رکھیں کہ میں نے خود بھی جانا ہے اور اولاد کو بھی لے کر آنا ہے۔ اولاد کو لے کر آنا خود کو لانے سے زیادہ ضروری ہوگیا، کیوںکہ آج کل کی جو اولاد ہے ہم ان پر محنت نہیں کرسکتے، اس لیے کہ اِنٹرنیٹ ان پر محنت کر رہا ہے۔ ان کے گھنٹوں اِنٹرنیٹ کے ساتھ گزرتے ہیں۔ اس لیے ان کو لے کر آنا بہت ہی زیادہ ضروری ہے تاکہ کم سے کم عقیدہ اور ایمان تو بچے۔ اعمال کی کمزوری قیامت والے دن کسی درجے میں معاف ہوجائے گی، لیکن اگر ایمان نہ رہا تو پھر کوئی چیز اس کمی کا بدل نہیں۔ اپنے ایمان کو مضبوط رکھنے کے لیے، ایمان کو بنانے کے لیے، اور اولاد کے ایمان کو بچانے کے لیے نیک مجالس میں آنا بے حد ضروری ہے، ورنہ ایمان بچنا مشکل ہوجائے گا۔
عفو و درگزر کا معاملہ کرنا
اخلاقیات کے باب میں ایک بہت بڑا عمل ہے ’عفو درگزر‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
خُذِ الْعَفْوَ وَاْْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝۱۹۹ (الأعراف: 199)
ترجمہ: ’’درگزر کا رویہ اپناؤ، اور (لوگوں کو) نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو‘‘۔
لوگوں کو معاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ جگہ جگہ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ لوگوں کو معاف کرو، درگزر کرو۔ ایک حدیث سن لیجیے:
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺ نے فرمایا: جب بندہ قیامت والے دن حساب کتاب کے لیے کھڑا کیا جائے گا۔ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اللہ کے ذمہ جن کا حق ہے وہ کھڑے ہوجائیں اور جنت میں چلے جائیں۔ (فرماتے ہیں کہ کوئی کھڑا نہیں ہوگا) پھر اعلان ہوگا کہ اللہ کے ذمہ جن کا حق ہے وہ کھڑے ہوجائیں اور جنت میں چلے جائیں۔ پوچھا جائے گا کہ وہ کون ہیںجس کا حق اللہ نے دینا ہے؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کو معاف کر دیتے تھے۔ جو دنیا میں لوگوں کو اللہ کے لیے معاف کر دیتے تھے۔ پس ایسے ہزاروں لوگ کھڑے ہوں گے اور جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (الأھوال لابن أبي الدنیا: رقم 168)
اس لیے لوگوں کو، مخلوق کو معاف کرنا سیکھیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہمارے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کردے، اور ہم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ لوگ جب آکر اپنی باتیں سناتے ہیں 20,20,10,10 سال پرانی باتیں نہیں بھولتے کہ فلاں نے فلاں وقت میں میرے ساتھ یہ کیا تھا۔ اب بندہ مر بھی چکا ہو تب بھی نہیں بھولتے۔ ہم لوگوں کو اللہ کے لیے معاف کریں اللہ تعالیٰ ہمیں معاف کر دیں گے۔
حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ میں نبی سے ملا تو آپﷺ نے مجھ سے فرمایا:
يَا عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ! صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ.
(شعب الإيمان للبیہقي: رقم 7959)
ترجمہ: ’’اے عقبہ بن عامر! جو تجھ سے توڑے اس سے جوڑو، جو دینے سے محروم کرے اسے دو، اور جو ظلم کرے اسے معاف کردو‘‘۔
جو ہمارے ساتھ برا کرے ہم اس کے ساتھ اچھا کریں۔ یہ رسول اللہﷺ کی تعلیمات ہیں۔ ہم تو یہ کرتے ہیں کہ جو ہمارے ساتھ اچھا ہم اس کے ساتھ اچھے۔
اخلاقِ حیوانات
اس کی مثال یوں سمجھیے جیسے بقر عید پر آپ اپنے گھر دو جانور لے آئیں۔ ایک کے ساتھ اچھا سلوک کریں، اور ایک کے ساتھ برا سلوک کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ جس کے ساتھ آپ اچھا سلوک کریں گے وہ فطری طور پر آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا، اور جس کو آپ مارنے جائیں گے وہ اپنا سینگ نکالے گا۔ یہ تو جانوروں کے اخلاق ہوئے کہ جی! جو ہمارے ساتھ اچھا، ہم اس کے ساتھ اچھے۔ اور جو ہمارے ساتھ برا، ہم اس کے ساتھ بُرے۔ یہ تو نبوی اَخلاق نہیں ہیں۔ نبیﷺ کے اخلاق کیا بتائے جا رہے ہیں کہ ’’جو توڑے اس سے جوڑیں، جو ہمیں محروم کرے اُسے ہم عطا کریں، اور جو ہم پر ظلم کرے اُسے ہم معاف کر دیں‘‘۔ ہمیں تو یہ سکھایا جا رہاہے۔ اگر ہم نے ایسا کر لیا تو اِن شاء اللہ العزیز جنت بہت آسانی سے مل جائے گی۔
معاف کرنے سے رُتبے میں ترقی
جو انسان دوسروں کو معاف کر دیتا ہے، اس کی عزّت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ کس نے بتایا؟ ہمارے نبی پاکﷺ نے تین باتیں ایک حدیث میں ارشاد فرمائی ہیں:
(۱۔ صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا) آپ کوئی ایک بندہ ایسا دکھائیں جو خوب اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتا ہو اور وہ کبھی کنگال بھی ہوا ہو۔ تلاش کریں کوئی ایک ایسا بندہ جس نے اللہ کے لیے، اللہ کے بندوں پر مال خرچ کیا ہو، کسی نیکی میں، مدرسے میں، مسجد میں، خیر کے کاموں میں مال لگایا ہو اور پھر وہ کنگال بھی ہوا ہو۔ نبی نے فرما دیا ہے کہ ’’صدقہ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا‘‘۔ یعنی ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔
(۲۔ معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی عزت بڑھاتے ہیں) ہم کہتے ہیں کہ میں اسے کیوں معاف کروں؟ ہم یہ سوچتے ہیں کہ ہم معاف کریں گے تو شاید ہم ڈی گریڈ ہوجائیں گے، چھوٹے ہو جائیں گے، اور یہ مزید سر پر چڑھے گا۔ بھئی! معاف کرنے سے عزّت بڑھتی ہے۔ انتقام سے عزّتیں نہیںبڑھا کرتیں۔ بعض مرتبہ صرف اپنی ’’اَنَا‘‘ کے لیے بندہ انتقام لیتا ہے کہ اگر میں نے انتقام نہ لیا تو لوگ مجھے کمزور سمجھیں گے، لیکن شریعت کے پیمانے کچھ اور بتا رہے ہیں۔ نبی کریمﷺ کے ارشاد میں غور کریں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کی عزّت بڑھاتے ہیں تو پھر تو بات ہی ختم ہے۔ عزّت بڑھانے والا وہ پروردگار ہے جو خود ’عزیز‘ ہے، اور ساری عزّت کے خزانوں کا مالک ہے۔ پھر کس بات کا غم ہے۔
(۳۔ جو اللہ کے لیے تواضع یعنی عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو بلندی عطا کرتا ہے) عاجزی اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے، جبکہ اَکڑ بہت ہی ناپسند ہے۔ اللہ کے لیے جھکنے والا کبھی پست و ذلیل ہو نہیں سکتا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اسے بلندی عطا فرماتے ہیں۔
(صحیح مسلم: رقم 6757)
حضرت علی بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ جب تم اپنے دشمن پر غالب آجاؤ، اگر چاہو تو اسے معاف کر دو اپنی اس طاقت کی قدردانی کرتے ہوئے۔ (المستطرف للأبشیھي)
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نبی کے پاس آئے اور کہا کہ قیامت کے دن مخلوق کا حساب کون لے گاـ؟ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ۔ ان صحابی نے کہا کہ ربّ ِکعبہ کی قسم! ہم نجات پاگئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: وہ کیسے؟ عرض کیا: اللہ تعالیٰ کریم ہیں، اور کریم جب کسی پر قدرت پالیتا ہے تو معاف کر دیتا ہے، اور جب حساب لیتا ہے تو درگزر کرتا ہے۔ (مقاصدِ حسنہ: رقم 763)
ربّ تعالیٰ سے راز و نیاز کی باتیں
اب یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یا اللہ! آپ کے محبوب نے خود ہمیں سمجھایا ہے کہ جب قدرت، اختیار کسی پر پالیا کرو تو معاف کردیا کرو۔اللہ تعالیٰ! تو بہت کریم ہے، تیرا حکم ہم پر نافذ ہے، ہم تیری رحمتوں کے اور زیادہ محتاج ہوں گے، اور زیادہ تیرے قبضہ قدرت میں ہوں گے، پھر قیامت کے دن تو اے اللہ! اور زیادہ تیری رحمتوں کے اور محبتوں کے محتاج ہوں گے۔ اللہ! جب آپ ہم پر کامل قدرت رکھتے ہیں تو اللہ! ہمیں معاف فرما دینا، ہمارے گناہوں کو معاف کردیجیے۔ اللہ! دنیا میں نعمتوں کی ضرورت ہے۔ اللہ! دنیا میں بھی عطا فرمائیے۔ اللہ! قبر میں اس سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ اللہ! وہاں بھی عطا فرمائیے۔ اللہ! قیامت کے دن اس سے اور زیادہ محتاج ہوں گے۔ اللہ! اس وقت بھی ہم آپ کی قدرت میں ہوں گے۔ اللہ! جب کریم  قدرت پالیتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔ دنیا میں بھی آپ نے دیکھا ہوگا ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب کوئی آجاتا ہے سر جھکا کر خواہ کتنے ہی بڑے اس نے گناہ کیے ہوں، تو جب وہ دیکھتے ہیں کہ اگلا بندہ سرجھکا کر بیٹھا ہے تو کہتے ہیں کہ چلو معاف کیا۔ اللہ! دنیا میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ اللہ! آپ تو وہ ذات ہیں کہ آپ کو اپنی رحمت پر ناز ہے۔ آپ نے قرآن کریم میں فرمایا:
اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ (النجم: 32)
هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ (المدثر: 56)
وَقُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ۝۱۱۸ (المؤمنون: 118)
آپ نے اپنی کریمی کے تذکرے قرآن میں جگہ جگہ کیے ہیں۔ اللہ کریم! ہم آپ کے کمزور عاجز مسکین بندے ہیں۔ اللہ! ہم آپ سے مغفرت کا سوال کرتے ہیں۔
کبھی ایسے نکات ذہن میں آجاتے ہیں کہ جب انسان اللہ کے سامنے عاجزی کو پھیلا کر، اللہ کے سامنے دامن کو پھیلا کر نظر کو جھکا دیتا ہے تو اللہ رحمت کا معاملہ فرما دیتا ہے۔ ہم بھی اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! زندگی بڑے گناہوں میں گزر رہی ہے۔ اللہ! آپ ہمیں معاف کر دیجیے۔ آپ کو ہم پر کامل قدرت حاصل ہے تو اللہ! اپنی قدرت کا استعمال فرما لیجیے۔ اللہ! ہمارے گناہوں کی طرف نہ دیکھیے، گنبدِ خضرا کو دیکھ لیجیے۔ اللہ! ہمارے اعمال کو نہ دیکھیے، نبی کی دعائوں کو دیکھ لیجیے۔ اللہ! ہمارے کرتوتوں کو نہ دیکھیے، نبی کے ٹھنڈے چولہے کو دیکھ لیجیے۔ نبی کے آنسوئوں کو دیکھ لیجیے۔ نبی کے متورّم قدموں کو دیکھ لیجیے کہ ہمارے لیے روتے رہے اور مانگتے رہے۔ اللہ! ہمارے لیے رحمت کا معاملہ فرمادیجیے۔
لوگوں کو معاف کریں، اللہ ہمیں معاف کرے گا
ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں تو اللہ تعالیٰ رحمت کا معاملہ فرما دیں گے۔ ہم لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں۔ ہمارے ساتھ بھی معافی کا معاملہ ہوجائے گا۔ ہم چاہتے یہ ہیں کہ اللہ ہمارے بڑے بڑے گناہوں کو معاف کر دیں، اور ہم کسی کی زبان سے نکلی ہوئی بات کو بھی معاف نہ کریں۔ لوگ کہتے ہیں بارہ سال پہلے، بیس سال پہلے فلاں نے مجھے یہ کہا تھا۔ إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! ہم تو چاہتے ہیں کہ ہمارے بیس سال پہلے کے گناہ معاف ہوجائیں جبکہ ہم بیس سال پہلے کا کہا ایک جملہ معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ حضرت انس کی روایت ابھی بیان کی تھی کہ جب لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے دن کھڑے ہوں گے تو آواز دی جائے گی کہ جن کا حساب اللہ کے ذمے ہو وہ کھڑے ہوجائیں، تین دفعہ یہی آواز دی جائے گی اور وہی لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے دنیا میں اللہ کے لیے لوگوں کو معاف کیا ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن عمروi کی روایت میں ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم لوگوں پر رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا۔ تم لوگوں کو معاف کرو، اللہ تمہیں معاف فرما دیں گے۔ (مسند احمد: رقم 6255)
حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا:
فأيّ عبادك أعزّ ؟ قال : الذي إذا قدر غفر. (صحیح ابن حبان: رقم 6217)
ترجمہ: ’’یا اللہ! آپ کے نزدیک معزّز بندہ کون ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا: جو قدرت کے باوجود بدلہ نہ لے (جس کو اختیار ہو بدلہ لینے کا لیکن معاف کر دے)۔
معاف نہ کرنے والے کے لیے پیغامِ رسولﷺ
اب بات کرتے ہیں کہ اگر کوئی معافی مانگ رہا ہے اور سامنے والا معاف نہ کرے۔ جیسے بیوی سے غلطی ہوگئی اور وہ معافی مانگ رہی ہے اپنے خاوند سے لیکن خاوند معاف نہیں کرتا۔ بہو سے کوئی غلطی ہوگئی، ساس معاف نہیں کر رہی۔ یا بھائی سے کوئی غلطی ہوجائے اور بھائی معاف نہ کرے۔ یعنی ایک معافی کا خواہش مند ہو اور دوسرا معاف نہ کرے تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ ان لوگوں کے لیے کیا معاملہ ہے؟ گھروں میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ بعض مرتبہ چھوٹے بڑوں سے معافی مانگ رہے ہوتے ہیں، مگر بڑے معاف نہیں کر رہے ہوتے۔ بلکہ کیا چاہتے ہیں؟ ابھی میں نے اس کی ناک اور رگڑنی ہے۔ غلطی تو اِس نے کی تھی لیکن اس کے ماں باپ کو بھی گالیاں میں نے دینی ہیں، اس کے بہن بھائیوں کو بھی گالیاں میں نے دینی ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ بہو کو ساس جب گھر لے کر آتی ہے تو بڑی محبت کے ساتھ، اور جیسے ہی وہ گھر آجاتی ہے تو سارے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ اس کے بعد ناک رگڑوانا اور اپنی بات منوانا فخر سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی چھوٹا معافی مانگے یا بڑا، کوئی بھی ہو، کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان سے معافی مانگے تو سامنے والا معاف نہ کرے تو اس کے لیے نبی نے کیا فرمایا؟ سنیے! دل کے کانوں سے سنیے!
حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی معافی مانگنے اور معذرت کرنے آئے اس تکلیف کے بدلہ میں جو اس سے اسے پہنچی (تو اسے چاہیے کہ اپنے بھائی کا عذر قبول کرے چاہے صحیح ہے یا غلط ہے، اگر) یہ اس کے عذر کو، معافی کو قبول نہیں کرتا تو پھر میرے پاس حوضِ کوثر پر نہ آئے۔ (معجم اوسط للطبرانی: 241/6)
ہم سے کوئی معافی مانگنے آئے اور ہم اَکٹر جائیں کہ ہم معاف نہیں کریں گے تو یہ ہمارے لیے نقصان دہ ہے۔ ہم لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں، اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرما دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرمائے۔ ایک معاملہ اس میں اور بھی ہے۔ ذرا حساس قسم کا ہے، اس لیے اس کا بھی ذکر کرلیتے ہیں پھر بات کو مکمل کرلیتے ہیں۔
اہلِ فضل و اہلِ علم سے درگزر کرنا
کچھ لوگ ہوتے ہیں دنیا میں جنہیں اللہ نے اپنا فضل وکمال عطا کیا ہوتا ہے، کسی کو علم عطا کیا ہوتا ہے، کسی کو کوئی مرتبہ دیا ہوتا ہے۔ ان کے بارے میں رعایت کا نبی نے زیادہ حکم دیا ہے۔ ہمارے پیمانے آج اُلٹے ہیں۔ ایک عام آدمی وہی غلط کام کرے تو ہم اس کو اتنا برا محسوس نہیں کرتے، لیکن وہی کام کوئی دین دار کر دے، کوئی عالم کر دے تو بس پھر تو ہماری ساری توپیں اسی کی طرف ہوجاتی ہیں کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ تو عالم تھا اس نے ایسا کیوں کیا؟ بھئی! انسان ہے غلطی ہوسکتی ہے۔ ہم یہ دیکھیں کہ وہ اس پر اِصرار تو نہیں کر رہا؟ ایک مرتبہ کسی غلطی کا ہوجانا ہر ایک سے ممکن ہے۔ غلطی تو کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔ دیکھا جاتا ہے کہ کبیرہ گناہ پر وہ ڈٹا ہوا تو نہیں۔
مستدرکِ حاکم، سنن ابی دائود اور جامع صغیر کی مختلف روایات میں ہے کہ حضورنبی کریمﷺ نے شرفاء اور سخی حضرات کی غلطیوں سے درگزر کرنے اور انہیں معاف کرنے کا فرمایا ہے سوائے اللہ کی حدود کے۔ مفہوم حدیث کا ہے کہ اہلِ شرف اور اہلِ فضل کی غلطیوں کو حدود کے علاوہ معاف کر دیا کرو۔ ہاں! ایسا معاملہ ہو کہ وہ اِصرار کرتے جا رہے ہیں، سمجھانے کے باوجود نہیں سمجھ رہے تو پھر معاملہ بدل جائے گا۔ عام حالات میں بتایا کہ ان لوگوں کی غلطیوں کو معاف کر دیا کرو۔ اس لیے جن کو اللہ ربّ العزّت نے زہد میں، تقویٰ میں کوئی مقام عطا کیا ہے اور لوگوں کو ان سے فائدہ پہنچ رہا ہے، تو انسان ہیں کوئی کمی کوتاہی ان سے ہوجائے تو ان کی کمی کوتاہی کو اچھالنے کی ضرورت نہیں، ان کو معاف کر دینے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی نیک اور شریف آدمی سے غلطی ہوجائے فورًا اس پر حملہ کرتے ہیں۔ اس بات کو حضور پاکﷺ نے منع فرمایا ہے۔ اس بارے میں ایک روایت سن لیجیے پھر اسی پر آج کی بات کو مکمل کرلیتے ہیں کہ اہلِ فضل اور اہلِ علم کی غلطیوں پر ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس واقعے کو سن لیجیے!
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا قصہ
ایک بدری صحابی تھے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ۔ غزوۂ بدر کے اصحابِ بدر کا مقام اللہ کے ہاں بہت بلند ہے۔ انہوں نے کیا کیا تھا؟ جب نبی کریمﷺ مکہ پر حملے کی تیاری کر رہے تھے اور سب کو حکم تھا کہ خاموشی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تیاری کرنی ہے۔ اس اثنا میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے اہلِ مکہ کے نام ایک خط لکھا جس میں انہیں آگاہ کیا کہ نبی تم پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ خط لکھ کر انہوں ایک عورت کو دیا اور اس سے کہا کہ تم مکہ میں فلاں فلاں کو یہ خط دے دو۔ اللہ تعالیٰ نے حضورپاکﷺ کو وحی کے ذریعے اطلاع فرما دی۔ حضورِ پاکﷺ نے حضرت علی، حضرت ابو مرثد غَنَوِی اور حضرت زبیر بن عوّام کو روانہ کیا کہ تم جائو اور روضۂ خاخ میں تمہیں ایک مشرک عورت ملے گی جو اُونٹ پر سوار ہوگی۔ اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا خط ہے جو مشرکین کے نام ہے۔ تم جائو اور وہ خط لے آئو۔ چناںچہ تینوں صحابہ= وہاں پہنچے اور اس عورت کو اونٹ پر سوار ہونے کی حالت میں پالیا جس طرح رسول اللہﷺ نے انہیں بتایا تھا۔ اس کی تلاش لی گئی مگر کہیں سے کچھ نہ ملا۔
حضراتِ صحابہ نے اس سے کہا کہ خدا کی قسم! اللہ کے رسولﷺ جھوٹ نہیں بول سکتے، تمہارے پاس خط موجود ہے۔ اس عورت نے کہا کہ میرے پاس نہیں ہے۔ حضراتِ صحابہ نے کہا کہ بہتر ہوگا وہ خط تم ہمیں خود دے دو، وگرنہ تمہیں بے لباس بھی کرنا پڑا تو کریں گے۔ وہ مشرک عورت ڈر گئی۔ کس بات سے ڈر گئی؟ کہ میں بے لباس نہیں ہوسکتی، کیوںکہ اس کے پاس Facebook تو پہنچا نہیں تھا۔ کہنے لگی کہ میں بے لباس نہیں ہوسکتی، تم اپنے چہرے کو دوسری طرف کرو۔ چناںچہ ان صحابہ نے اپنے چہروں کو دوسری جانب کیا تو مشرک عورت نے اپنے سرکا دوپٹہ ہٹایا اور اپنے گوندے ہوئے بالوں کے اندر سے وہ خط نکالا اور حضراتِ صحابہ کے حوالہ کر دیا۔ اب صحابہ وہ خط لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
نبی نے حضرت حاطب کو بلایا اور پوچھا کہ کس چیز نے آپ کو اس پر آمادہ کیا؟ حضرت حاطب عرض کیا کہ یارسول اللہ! قریش سے میری کوئی رشتے داری نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے اہل وعیال آج بھی مکہ مکرمہ میں ہیں، ان کا وہاں کوئی رشتے دار و مدد گار نہیں ہے۔ بخلاف مہاجرین کہ مکہ میں ان کی رشتے داریاں ہیں، اور رشتے داریوں کی وجہ سے ان کے گھر والے محفوظ ہیں۔ اس لیے میں نے چاہا کہ اُن پر احسان کر دوں جس کے بدلے میں وہ میرے گھر والوں کی حفاظت کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولﷺ کی مدد ضرور فرمائیں گے، اور اللہ کی بات ہی پوری ہو کر رہے گی۔ اور میرے اس خط سے اللہ اور اس کے رسول کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اور خدا کی قسم! میں نے دین سے مرتد ہوکر اور اسلام کے بعد کفر پر راضی ہو کر ہر گز یہ کام نہیں کیا، میری غرض صرف وہی تھی جو میں نے آپ سے عرض کر دی۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ حاطب سچ کہہ رہے ہیں۔
حضرت فاروق اعظم اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کی ہے۔ آپ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اُڑا دوں؟ یہ نبی کا راز کفار کے پاس بھیج رہے ہیں۔ نبی نے فرمایا کہ کیا حاطب اہلِ بدر میں سے نہیں ہیں؟ کیا آپ لوگ نہیں جانتےکہ خدا نے اہلِ بدر کے معاملے میں کیا معاملہ فرمایا ہے؟ اللہ نے اہلِ بدر کی مغفرت فرما دی ہے، اور ان کے لیے جنت واجب ہو چکی ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ اب یہ جو چاہیں کریں ہم ان کی مغفرت کرچکے ہیں۔ حضرت عمرh یہ سن کر رونے لگے اور عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 3007)
اس حدیث پاک کو امام بخاری نے چار جگہ بیان کیا ہے۔ ان کی عظیم غلطی کو، اتنی بڑی غلطی کو جس کی سزا بھی سخت ہونی چاہیے تھی نبی نے بدر کی فضیلت کے پیشِ نظر اور اس لیے کہ یہ مخلص صحابی ہیں۔ جو بھی ہوا غلطی میں ہوا، اور اس بات کا اِقرار بھی انہوں نے کیا ،تو نبی نے انہیں معاف فرما دیا۔ اللہ اکبر کبیراً!
اب یہ دیکھیے کہ محبوب سے اگر غلطی ہوجائے تو معاملہ اور ہوا کرتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ صاحبِ علم ہیں، نیک لوگ ہیں، متقی ہیں، دین کے لیے محنت کر رہے ہیں اور دین کے کسی بھی کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان سے لوگوں کو فائدہ بھی ہو رہا ہے۔ ان سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم ان کی طرف زیادہ تیزی سے نشتر پھینکیں، ہم ان کی نیکی کا خیال کریں۔ ہاں! اگر وہ کسی بڑی برائی میں، کھلی برائی میں مبتلا ہیں تو معاملہ کچھ اور ہے۔ آج ہم میں سے بہت سارے ایسے لوگ ہیں کہ بس کسی نیک آدمی کی کوئی چیز پتا چلے تو ہم نے زیادہ سے زیادہ اس کو آگے پہنچانا ہے۔ اور جو گناہ گار لوگ ہیں ان کی بات کی تو کوئی پرواہ ہی نہیں کرنی۔ بھئی! معاملات میں اعتدال رکھا جائے۔ ہرجگہ شریعت کے مزاج کو سمجھا جائے۔ شریعت کے مطابق زندگی کو گزارا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نبی پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ شریعت نے جو اعتدال کا مزاج دیا ہے، اس مزاج کو ہمیں سمجھ کر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْ

Leave a Reply