103

بجلی کے کرنٹ والی مشین سے مچھروں کو مارنا

بجلی کے کرنٹ والی مشین سے مچھروں کو مارنا

مسئلہ (۲۱۸) : آج کل مچھر اور حشرات یعنی کیڑے مکوڑے مارنے کیلئے لوگ بجلی کے کرنٹ والی مشین استعمال کرتے ہیں، اگر مچھروں اور دیگر حشرات کو پکڑ کر اس مشین میں نہ ڈالا جاتا ہو ، بلکہ مشین لگادی جاتی ہو اور مذکورہ چیزیں خود بخود اس کی زد میں آکر مر جاتی ہوں، تو اس میں حرج نہیں، ورنہ مکروہ ہے ۔ (۱)
——————————
= ۔۔۔۔۔۔۔ وطالب علم لا یتفرغ لذلک ، کذا فی الزیلعی والعینی ، وأفتی أبوحامد بعدمہا لطلبۃ زماننا کما بسطہ فی القنیۃ ، ولذا قیدہ فی الخلاصۃ بذی رشد ۔ التنویر مع الدر ۔ وفي الشامی : قولہ : (کما بسطہ فی القنیۃ) حاصلہ أن السلف قالوا بوجوب نفقتہ علی الأب ، لکن أفتی أبوحامد بعدمہ لفساد أحوال أکثرہم ، ومن کان بخلافہم نادر فی ہذا الزمان ، فلا یفرد بالحکم دفعاً للحرج التمییز بین المصلح والمفسد ، قال صاحب القنیۃ : لکن بعد الفتنۃ العامۃ ، یعنی فتنۃ التاتار التی ذہب بہا أکثر العلماء والمتعلمین ، نری المشتغلین بالفقہ والأدب اللذین ہما قواعد الدین وأصول کلام العرب یمنعہم الاشتغال بالکسب عن التحصیل ، ویؤدی إلی ضیاع العلم والتعطیل ، فکان المختار الآن قول السلف ۔۔۔۔ وقال : أقول : الحق الذی تقبلہ الطباع المستقیمۃ ولا تنفر منہ الأذواق السلیمۃ القول بوجوبہا لذی الرشد لا غیرہ ، ولا حرج فی التمییز بین المصلح والمفسد لظہور مسالک الاستقامۃ وتمییزہ عن غیرہ ۔ وباللہ التوفیق ۔
(۵/۲۷۰؍۲۷۱، باب النفقۃ ، مطلب الکلام علی نفقۃ الأقارب ، دار الکتاب دیوبند)
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ مشکوٰۃ المصابیح ‘‘: عن عبد اللہ بن عباس قال : قال رسول اللہ ﷺ : ’’ إن النار لا یعذب بہا إلا اللہ ‘‘ ۔ (ص؍۳۰۷، کتاب القصاص ، باب قتل الردۃ والسعاۃ بالفساد)
ما في ’’ الحدیث النبوی ‘‘: عن عبد الرحمن بن عبد اللہ عن أبیہ قال : کنا مع رسول اللہ ﷺ فی سفر فانطلق لحاجتہ ۔۔۔۔۔۔۔ ورأی قریۃ نمل قد حرقناہا فقال : من حرق ہذہ؟ قلنا : نحن ؛ قال : ’’ إنہ لا ینبغی أن یعذب بالنار إلا رب النار ‘‘ ۔
(السنن لأبی داود :ص؍۳۶۲؍۳۶۳، کتاب الجہاد ، باب فی کراہیۃ حرق العدو بالنار)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں