56

بدگمانی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (الحجرات: 12)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اپنے اندر کی کمزوری کو دور کرنا
کسی نے کیا خوب کہا کہ اگر راستہ میں کنکر ہی کنکر ہوں تو بھی انسان ایک اچھا جوتا پہن کر اس پر چل سکتا ہے۔ مثلاً ایک راستہ ہے جس پر کنکر ہی کنکر ہیں۔ اگر آپ کے پاس جوتا اچھا ہے تو آپ آسانی سے اس پر چل لیں گے۔ لیکن اگر اچھے جوتے کے اندر ایک کنکر آجائے اور سڑک بہترین ہو جیسے موٹروے کی سڑک ہو تو بھی اس پر چلنا مشکل ہوگا۔ سڑک خراب ہو جوتا اچھا ہو تو اس پر چل لیں گے، اور سڑک بہت اچھی، لیکن جوتے میں کنکر یا کیل لگ گئی تو چلنا مشکل ہو جائے گا۔ یعنی باہر کے چیلنج سے نمٹنا آسان ہوتا ہے، ہم اپنے اندر کی کمزوریوں سے ہارتے ہیں۔ اگر انسان اندر سے بنا ہوا ہو، تعلق مع اللہ ہو، اندر سے اس کی سوچ خوبصورت ہو، حسد و بغض نہ ہو، روحانی بیماری نہ ہو، روحانی بیماری کے کنکر نہ ہوں، بغض کا کنکر نہ ہو، بدگمانی کا کنکر نہ ہو، اندر محبت ہو، اندر صاف ستھری چیزیں ہوں۔ جب بندہ اندر سے بنا ہوا ہوتا ہے تو اس کے لیے باہر کے سارے چیلنج آسان ہوجاتے ہیں۔ باہر کے پتھروں والے راستے پر چلنا اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے اگر وہ اندر سے بنا ہوا ہے تو۔ اور اگر اندر کنکر ہوں بدگمانی کے، غصے کے، کینے کے، حسد کے تو باہر کی اچھی سڑک پر بھی کام نہیں کرنے دیتے۔ اس لیے ہم اپنے اندر کو بنائیں، معاف کریں، مراقبہ کی، معمولات کی پابندی کریں۔ اپنے اندر پر محنت کریں پھر اِن شاءاللہ مسئلہ آسان ہو جائے گا۔ مجھے ایک اپنا ہی واقعہ یاد آگیا جو پہلے بھی ایک بار سنایا ہے۔
بارش کے پانی کی مثال
ایک مرتبہ میں اپنی گاڑی پر جا رہا تھا ڈرائیو کر کےاور بارش ہو رہی تھی۔ ایک روڈ کے پاس سے گزرا، وہاں پانی کھڑا ہوا تھا جبکہ میں اپنی نارمل اسپیڈ سے جا رہا تھا۔ اتنے میں پیچھے سے اسپیڈ میں ایک گاڑی آئی اور پانی کو اُڑاتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ پانی سیدھا اُچھلا اور چوںکہ شیشہ کھلا تھا اس لیے میرے اوپر آکر گرا۔ میرے کپڑے گیلے ہو گئے۔ میں پریشان ہو گیا۔ اس شخص کو تو کچھ نہیں کہا لیکن غصہ شدید آیا۔ اب غم یہ کہ مجھے نماز بھی پڑھنی ہے اور کپڑے خراب ہو گئے ہیں۔ ویسے بھی کیا یہ اچھا لگتا ہے کہ سڑک سے اس طرح پانی آجائے اور کپڑے خراب ہو جائیں؟ بڑی کوفت ہوئی اور بڑی تکلیف ہوئی۔ اور اس بندے کے لیے کوئی اچھے جذبات پیدا نہیں ہوئے کہ بھئی! اس کو خیال کرنا چاہیے تھا۔ چند دن بعد دوبارہ کسی سڑک سے گزر رہا تھا۔ اسی طرح گاڑی چلا رہا تھا اور اس وقت بھی بارش تھی۔ ایک جگہ پانی کھڑا تھا تو وہاں سے بالکل پہلے کی طرح ایک گاڑی خوب پانی اُڑاتے ہوئے گزر گئی، لیکن مجھے بالکل بھی غصہ نہیں آیا، اس لیے کہ شیشہ بند تھا۔ جتنا پانی اچھلا وہ بند شیشے کی وجہ سے باہر واپس چلا گیا اور اندر نہیں آیا۔ مجھ تک نہیں پہنچا۔
پہلے شیشہ کھلا ہوا تھا، درمیان میں کوئی آڑ نہیں تھی تو پانی سیدھا میرے اوپر آگیا جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ اور اس بندہ کے لیے بھی اچھے جذبات پیدا نہیں ہوئے۔ اب دوسری مرتبہ سامنے والے نے وہی حرکت کی، کوئی فرق نہیں تھا۔ اسی طرح سے پانی اچھلا، میری طرف آیا لیکن گاڑی کا شیشہ اُوپر تھا تو پانی شیشہ کے باہر تک رہا۔ اب کیا ہوا؟ یقین جانیے کہ اس شخص کے لیے میرے دل میں کوئی غصہ نہیں آیا، نہ اپنے اوپر کوئی غم و افسوس ہوا کہ نماز کا کیا ہوگا۔ اس وقت سوچا کہ یااللہ! باہر والوں نے دونوں وقت میں ایک ہی کام کیا۔ پہلے بھی وہی، اب بھی وہی۔ پھر میری کیفیت اور جذبات میں اتنا فرق؟ پتا چلا کہ جب میں نے اپنے آپ کو محفوظ کر لیا تھا تو مجھے باہر والوں سے پریشانی نہیں ہوئی تھی۔ اگر ہم اپنے آپ کو بنا لیں گے مراقبہ سے، معمولات سے۔ اور ہمارے دل میں جو کنکر ہیں، اور اندر کی جو غلاظتیں ہیں، اگر ان کو نکال دیں گے تو پھر ہم اپنے آپ کو محفوظ کر لیں گے۔
ایک عمدہ توجیہ
یہ دنیا ایک گاڑی کی مانند ہے، اور شیشہ ذکر اللہ کی مانند ہے، اور ذکراللہ کی ٹھنڈک ایئرکنڈیشن کے مانند ہے جس سے دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ پھر باہر گرمی ہے اور اندر ٹھنڈک ہے۔ باہر تپش ہے اور اندر آرام ہے۔ باہر سردی ہے تب بھی اندر آرام و سکون ہے۔ چاہے باہر ٹریفک جام ہو جائے، لیکن آپ اندر ایک بند گاڑی میں محفوظ رہیں گے۔ ہمیں اپنا اندر بنانے کی ضرورت ہے۔ اور اندر بنانے کے لیے بیعت ہونا، اپنے شیخ سے رابطہ کرنا، اور جو بھی ہم پڑھ رہے ہیں اس پر پابندی سے عمل کی کوشش کرتے رہنا۔ اگر ان دوچیزوں کو آپ نے سمجھ لیا تو مجھے اُمید ہے کہ میرے مرنے کے بعد بھی اس کی قدر آپ کو رہے گی اِن شاءاللہ۔ اور ناقدروں کی تو کیا ہی بات ہے ما شاء اللہ! اور قدر کرنے والوں کے لیے یہ واقعہ سبق آموز ہے۔ اس اُصول کو اپنی زندگی میں لانے کی کوشش کریں۔
قطب بینی اور کتب بینی
اگلی بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص علم کے ساتھ اپنی نسبت جوڑتا ہے تو شیطان اس کے پاس آکر کہتا ہے کہ بھئی! تمہارے اندر تو بڑی خاص چیز آگئی ہے۔ اس وسوسے سے بعض مرتبہ تکبر آجاتا ہے، اور دیگر لوگ مثلاً سسرال والوں یا باقی رشتہ داروں سے جن کا علم سے تعلق نہیں، خدانخواستہ ان کے لیے حقارت پیدا ہو جاتی ہے۔ کبھی کسی کو حقارت سے نہیں دیکھنا۔ علم صرف کتابوں سے نہیں آتا۔ کتاب ایک بہترین اور مستند ذریعہ ہے۔ الحمدللہ! ایک ہوتا ہے قطب بینی، اور ایک ہوتا ہے کتب بینی۔ قطب بینی کیا ہوتا ہے؟ اللہ والوں کو دیکھنا، اُن کی دعائوں سے، صحبت سے، تقویٰ کی برکت سے اللہ ربّ العزّت بہت کچھ عطا فرما دیتے ہیں۔ بند سینے کھل جاتے ہیں۔ کتب بینی سے لکھے ہوئے کا علم حاصل ہوتا ہے، اور قطب بینی سے معرفتِ الٰہی کے دروازے کھلتے ہیں۔
قطب بینی پر ایک واقعہ
حضرت جی دامت برکاتہم العالیہ نے جب خلافت دی تو میں بڑا پریشان ہوا کہ یااللہ! اب کیا بنے گا؟ پھر حضرت جیs کے ساتھ پنجاب ہی کا سفر ہوا صادق آباد، ملتان اور مختلف شہروں کا۔ چوںکہ خلافت ملنے کے بعد کے یہ ابتدائی دن تھے، اس لیے مجھے تو بات کرنا بھی نہیں آتی تھی۔ بیان کرنا نہیں آتا تھا۔ سچی بات بتاتا ہوں کہ جب شروع شروع میں میں بیان کرتا تھا تو بعض میرے رشتہ دار مجھ پر ہنستے تھے کہ اس کو تو بات ہی کرنی نہیں آتی۔ وہ میرے انداز پر ہنستے تھے۔ ایک جگہ جانا ہوا وہاں کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ نے بیان کرنا ہے۔ اس وقت وہ صاحب بھی میرے ساتھ تھے جو مجھ پر ہنستے تھے۔ میں نے کہا کہ میں بیان کیسے کروں گا؟ مجھے بیان کرنا نہیں آتا۔ ان صاحب کو بڑا غصہ آیا اور کہنے لگے کہ تم حضرت جی کی دعائوں اور توجہات کو کیا سمجھتے ہو۔ اگر حضرت جی کی دعائیں اور توجہات کھمبے پر پڑ جائیں تو کھمبہ بولنے لگ جاتا ہے، تم تو پھر انسان ہو۔ میں نے کہا کہ اچھا جی! ایسا ہوگا مجھے تو نہیں پتا، لیکن پھر ایسا ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوئی اور فضل ہوا کہ آج بات کرنا پہلے سے نسبتاً آسان ہو گیا۔ بلکہ اب تو کام ہی ہمارا باتیں بنانا رہ گیا ہے۔
اس لیے میں یہ عرض کر رہا تھا کہ علم صرف کتابوں سے نہیں آتا بلکہ بڑوں کی صحبت، تقویٰ، علمائےکرام کی نگرانی سے بھی آتا ہے۔ اگر کتابوں کا مطالعہ تو ہو لیکن کسی کی نگرانی نہ ہو تو یہ چیز بھی غلط ہے۔ اور کسی کو بھی اپنے آپ سے حقیر نہ سمجھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بدگمانی سے بچائیں۔ یہ بدگمانی بہت بڑا مرض ہے اللہ پاک اس سے ہماری حفاظت فرمائے۔ یہ ہمارے معاشرے میں اتنا عام ہو چکا ہے کہ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔ اس کی وجہ سے آج معاشرے میں بہت سے گناہ عام ہو چکے ہیں۔ یہ بہت سارے گناہوں کی جڑ ہے۔
سب سے بڑا جھوٹ
نبی کریمﷺ نے فرمایا: بدگمانی سے بچو! اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 6064)
انسان جب ایک عام جھوٹ بولتا ہے تو اس پر لعنت ہوتی ہے، لیکن نبی کریمﷺ نے فرمایا: بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اور اب تو یہ بدگمانی ہماری عادت ہی بن گئی ہے۔ اللہ معاف فرمائے! جھوٹ کو تو انسان جھوٹ سمجھ رہا ہوتا ہے، لیکن بدگمانی کو انسان جھوٹ نہیں سمجھتا، کیوںکہ بدگمانی کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی، یہ فقط انسان کا خیال ہوتا ہے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ بس یہ لوگ گمان کی پیروی کررہے ہوتے ہیں جبکہ یہ گمان حق کے سامنے کوئی دلیل نہیں رکھتا۔ ہوتا کیا ہے کہ اگر ہم کسی کو دیکھ لیں یا کسی کے کسی عمل کو دیکھ لیں تو ہم فوراً ہی اپنی طرف سے کوئی مطلب نکال لیتے ہیں، خیال قائم کرلیتے ہیں اور اسے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں۔ یہی بدگمانی ہوتی ہے۔ اور بدگمانی کیا ہے؟ یہ گناہ ہے۔ اچھا! بدگمانی سے متعلق جو آیت قرآنِ مجید میں آئی ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِيْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ (الحجرات: 12)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘‘۔
اب جب یہ پتا چلا کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں تو اب یہ تحقیق کرنا واجب ہوگئی کہ کون سے گمان کرنا گناہ ہوتا ہے، اور کون سے گمان کرنا صحیح ہوتا ہے۔
حسنِ ظن پر اَجر
صحیح گمان کون سا ہے؟ ہم جسے بھی دیکھیں تو اس کے بارے میں اچھی رائے قائم کریں، چاہے وہ بُرے ہی کیوں نہ ہوں۔ اچھا گمان کرنے پر بھی عبادت کا ثواب ملے گا۔ جس طرح بُرا گمان رکھنا گناہ ہے، اسی طرح حسنِ ظن رکھنا نیکی اور اجر کا باعث ہے۔ اپنی رائے اچھی رکھنا، اپنی سوچ رکھنا، اپنے خیالات کو کسی بھی شخص سے گندہ نہیں ہونے دینا۔ اس سے آدمی کو اپنا ہی ذہنی فائدہ حاصل ہوتا ہے، اور آخرت کے دن کی پکڑ سے بچ جاتا ہے۔ جسے آج کل لوگ ٹینشن اور ڈپریشن کہتے ہیں، اس سے چھٹکارہ مل جاتا ہے۔
بدگمانی پر قیامت کے دن پکڑ
اور اگر ہم نے کسی کو دیکھا اور دیکھنے کے بعد بغیر کسی قوی دلیل کے اس کے لیے بدگمانی کرلی تو ایک بُرا امپریشن اپنے اندر قائم کر لیا۔ اب ہرہر بدگمانی پر ہمیں گناہ ملے گا۔ اور قیامت کے دن ہرہر بدگمانی ہمارے لیے ایک مقدمہ ہوگا جس کو ہم نے کلیئر کرنا ہوگا۔ اللہ پاک فرمائیں گے کہ تم نے میرے بندے پر فلاں بدگمانی کی تھی اس کے لیے اب دلیل لے کر آئو۔ کیا دلیل ہے تمہارے پاس؟ کیا ہم اپنا خیال پیش کریں گے کہ یااللہ! میرا یہ خیال تھا۔ تو ہر ہر بدگمانی ہمارے لیے پورا پورا ایک کیس بنے گی۔
بدگمانی کیسے آتی ہے؟
اب دیکھیے کہ بدگمانی کسے کہتے ہیں؟ کسی کے بارے میں بغیر کسی قوی دلیل کے ہم کوئی رائے قائم کر لیں یہ بدگمانی ہے۔ اب بدگمانی آتی کیوں ہے؟ یہ بھی بہت اہم سوال ہے کہ بدگمانی آتی کیوں ہے؟ یاد رکھیے کہ بدگمانی پیدا ہوتی ہے ذکر کی کمی سے۔ جو ذکر میں کمی کرتا ہے، معمولات میں کمی کرتا ہے اس کے اندر بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔ اور جو ساتھی معمولات کی پابندی کرتے ہیں، ذکر کی کثرت کرتے ہیں، ان کا کیا معاملہ ہوتا ہے؟ اوّل تو اُن کے اندر بدگمانی پیدا ہی نہیں ہوتی۔ اگر بدگمانی پیدا ہو جائے تو کوئی نہ کوئی بہترین تاویل کر لیتے ہیں اور اپنے آپ کو بُرا سمجھ لیتے ہیں۔
تین باتیں آپ حضرات کے سامنے واضح ہو گئیں: سوئے ظن یعنی بدگمانی کسے کہتے ہیں؟ حسنِ ظن یعنی اچھا گمان کسے کہتے ہیں؟ اور تیسری بات بدگمانی پیدا کیوں ہوتی ہے؟ اب چوتھی بات یہ کہ بدگمانی کا علاج کیا ہے؟ جب علاج پتا ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ٹھیک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
بدگمانی کا علاج
اگر ہمارے دل میں کسی کے بارے میں کوئی بُرا گمان، بُری سوچ پیدا ہو تو ہم اس کی تاویل لے کر آئیں۔ اس کو کسی نہ کسی طرح صحیح کریں۔ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر کسی کو بدگمانی پیدا ہو اور سو میں سے ننانوے باتیں بُرے خیال کی ہوں اور ایک اچھی نکلتی ہو تو اس ایک اچھے خیال کو اختیار کرے، اور بدگمانی سے بچے۔ قرآن و حدیث ہر دو جگہ یہی ہے کہ بدگمانی سے بچو، تو بتلائیے کہ ہمارے لیے بدگمانی سے بچنا کتنا ضروری ہے۔ اور حدیث شریف میں جو یہ کہا گیا ہے کہ اچھا گمان رکھو، تو اس کی ہمیں پریکٹس کرنی ہوگی۔ اس کے لیے تین واقعات سنا دیتا ہوں، اس سے اِن شاء اللہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ ہم کیسے تاویل کریں۔ بدگمانی کا علاج کیا ہے؟ اچھی تاویل کرنا۔
کشتی میں بیٹھے جوانوں کے لیے دعا
ایک بزرگ کشتی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ طلباء اور مریدین ساتھ تھے۔ دریا میں سفر ہو رہا تھا۔ اچانک سامنے سے ایک اور کشتی گزری جس میں نوجوان لڑکے شور شرابہ کر رہے تھے۔ طلبہ اور مریدین کے دلوں میں ان نوجوانوں کے لیے بُرائی پیدا ہوئی کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے حضرت سے کہا کہ دیکھیں! یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ زمین کو تو ان لوگوں نے ناپاک کر دیا تھا، اب یہ لوگ پانی کو بھی گندا کرنے آگئے ہیں۔ بزرگ نے جب سر اُٹھایا توکیا دیکھتے ہیں کہ نوجوان لڑکے خوش گپیوں میں اور ناقابلِ بیان حرکتوں میں لگے ہوئے ہیں۔ بزرگ نے فوری طور پر اللہ تعالیٰ سے یوں دعا کی کہ یااللہ! جس طرح آپ نے ان کو دنیا کی خوشیاں عطا فرمائی ہیں۔ میرے پاک پروردگار! آخرت کی بھی ایسی ہی خوشیاں ان کو عطا فرما۔
اللہ! ان کے دلوں کی کشتی کو پلٹ دیجیے
ایک بزرگ ہیں حضرت محمد علی شبلی۔ لاہور میں اِن کا بڑا مزار ہے۔ بہت بڑے اللہ والے تھے۔ ان کا بھی ایک عجیب ہی واقعہ ہے اور قدرتاً کشتی کا ہی ہے۔ یہ کشتی میں سوار تھے اور انہوں نے حلق کروائی ہوئی تھی، ٹنڈ کروائی ہوئی تھی۔ کشتی میں اور بھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ فیملیز بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے سر سے پگڑی اُتار دی۔ اب سر ننگا ہو گیا اور ٹنڈ چمکنے لگی۔ دھوپ تیز تھی اور سر پہ تیل لگا ہوا تھا تو سر خوب چمکنے لگا۔ اس کشتی میں بچے بھی تھے۔ ان بچوں میں سے ایک بچہ آیا چھوٹا سا۔ اس نے آپ کی ٹنڈ دیکھی تو اسے شرارت سوجھی اور سر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ ملائم سر اس کو بہت اچھا لگا وہ ہاتھ پھیرتا رہا۔ پھر دوسرا بچہ آیا اور اس نے بھی دوسری طرف سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ ایک بچے نے کھیلتے کھیلتے ہلکی سی چپت لگا دی، تو دوسرے نے اور زور سے لگا دی۔ اب بچے اسی طرح کھیلتے رہے اور والدین بیٹھے دیکھتے رہے۔ بجائے بچوں کو روکنے کے والدین مزے لینے لگے اور ہنسی مذاق شروع ہو گیا۔ جب اللہ کے کسی ولی کا مذاق اُڑایا جاتا ہے تو اللہ ربّ العزّت اس کا بدلہ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے دل میں اِلقا فرمایا کہ اے میرے بندے! یہ سب آپ کا مذاق اُڑا رہے ہیں، اگر آپ کہیں تو میں ابھی کشتی کو اُلٹ دوں اور سب کو غرق کر دوں۔ جیسے ہی ان کے دل میں یہ بات آئی، انہوں نے یہ دعا کی کہ اے اللہ! اگر آپ ان کی کشتی ہی پلٹنا چاہتے ہیں تو ان کے دلوں کی کشتی کو پلٹ دیجیے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ اس اللہ والے کی دعا ایسی قبول ہوئی کہ سب کو موت سے پہلے پہلے ولایت کا درجہ ملا۔
یہ پکا مؤمن ہے
اب ایک تیسرا واقعہ بھی بدگمانی سے متعلق سن لیجیے۔ امام اعظم ابوحنیفہ کے پاس ایک شخص آیا اور فرمایا کہ مجھے آپ سے ایک شخص کے بارے میں پوچھنا ہے کہ وہ کیسا ہے؟ اس نے تقریباً نو صفات اس شخص کی بتائیں۔ کہا کہ
(۱) وہ شخص بِن دیکھے گواہی دیتا ہے۔
(۲) مردار کھا لیتا ہے۔
(۳) یہود و نصاریٰ کے قول کی تصدیق کرتا ہے۔
(۴) اللہ کی رحمت سے دور بھاگتا ہے۔
(۵) جدھر اللہ نے بلایا ہے اُدھر جانے کی پرواہ نہیں کرتا۔
(۶) جس سے اللہ نے ڈرایا ہے اس سے اتنا ڈرتا نہیں۔
(۷) حق سے بغض رکھتا ہے۔
(۸) فتنوں سے محبت رکھتا ہے۔
(۹) بغیر رکوع سجدے کے نماز ادا کر لیتا ہے۔
یہ سب صفات بیان کر کے کہا کہ جس میں یہ باتیں پائی جائیں وہ کیسا آدمی ہے؟ امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ یہ پکا مؤمن ہے۔ پوچھنے والا بڑا حیران ہوا کہ جو بِن دیکھے گواہی دیتا ہے، مردار کا گوشت کھاتا ہے، اللہ کی رحمت سے دور بھاگتا ہے، جدھر اللہ نے بلایا اس کی پرواہ نہیں کرتا، یہود ونصاریٰ کے قول کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ کیسے پکا ایمان والا ہے؟ اب سوال پوچھنے والا تو حیران ہوا ہی، آپ حضرت بتائیں کہ آپ کیا سمجھے ہیں؟ امام صاحب نے جو جواب میں فرمایا، میں اس کا مفہوم بتا رہا ہوں۔ فرمایا کہ
(۱) وہ بِن دیکھے گواہی دیتا ہے، تو ہم بھی تو بِن دیکھے گواہی دیتے ہیں: لَاإِلٰہَ إِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ.
(۲) یہود و نصاریٰ کے قول کی تصدیق کرتا ہے تو بھئی! قرآن کریم میں آتا ہے:
وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰى شَیْءٍوَّ ھُمْ یَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ (البقرۃ: 113)
ترجمہ: ’’اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں (کے مذہب) کی کوئی بنیاد نہیں، حالاںکہ یہ سب (آسمانی) کتاب پڑھتے ہیں‘‘۔
اور ہم مسلمان ان دونوں کی بات کی تصدیق کرتے ہیں جیسا کہ قرآن میں ہے۔
(۳) مردار کھاتا ہے تو بھئی! مچھلی حلال ہے اگرچہ اسے ذبح نہیں کیا جاتا۔
(۴) بغیر رکوع سجدے کے نماز پڑھتا ہے تو بغیر رکوع سجدے کے تو ہم بھی نمازِ جنازہ پڑھتے ہیں۔ نمازِ جنازہ میں تو رکوع سجدہ ہے ہی نہیں۔
(۵) اللہ کی رحمت سے دور بھاگتا ہے۔ بارش بھی اللہ کی رحمت ہے اور بارش سے تو سب ہی اپنے آپ کو بچاتے ہیں۔
(۶) جدھر اللہ نے بلایا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ بھئی! اللہ نے جنت کی طرف بلایا ہے، اور وہ اللہ کی رضا کو اتنا سامنے رکھتا ہے کہ جنت اس کے خیال میں ہی نہیں آتی۔
(۷) اور جہاں سے اللہ پاک نے ڈرایا ہے وہاں سے ڈرتا نہیں، تو وہ اللہ کی ناراضگی کے خوف سے اتنا ڈرتا ہے کہ جہنم کا ڈر اس کو اتنا نہیں آتا۔ وہ بس یہ سوچتا ہے کہ کہیں اللہ ناراض نہ ہوجائیں۔
(۸) فتنے سے محبت رکھتا ہے تو بھئی! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ (التغابن: 15)
تمہارا مال، تمہاری اولاد فتنہ ہے تو کون اس سے محبت نہیں رکھتا۔
(۹) حق سے بغض رکھتا ہے تو بھئی! اللہ نے طلاق کی گنجایش رکھی ہے، مگر وہ بغض رکھتا ہے اور طلاق نہیں دیتا۔ وہ کہتا ہے کہ مجھے طلاق نہیں دینی، اچھا عمل نہیں۔
جب یہ سب تاویلات ہوگئیں تو وہ حیران ہو کر چلا گیا۔ ہم بھی اس طرح تاویل کریں۔ جب کوئی منفی بات ذہن میں آئے تو اچھی سے اچھی تاویل کریں، پھر دیکھیں کہ کس طرح اللہ کی رحمت آتی ہے۔ اندر کی جب بیماریاں ختم ہوں گی حسد کی، عُجب کی، بدگمانی کی۔ جب یہ سارے کنکر ختم ہوں گے تو زندگی میں آپ کے لیے چلنا آسان ہوگا۔ اب ہم اپنا کیا اُصول بنائیں؟
دو قیمتی نصیحتیں
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ میرے شیخ نے مجھے کشتی کے سفر کے دوران دو نصیحتیں کیں:
(۱) اپنی خوبیاں مت دیکھنا۔
(۲) دوسروں کی خامیاں نہ دیکھنا۔
اور ہمارے نفس کا یہ حال ہے کہ انسان اپنی خوبیاں، اور دوسرے کی خامیاں دیکھتاہے۔ اب ہم کیا کریں؟ جب ہمارا نفس ہمیں اپنی خوبیاں دِکھانا چاہے تو اس سے یہ کہیں کہ بھئی! میں تمہیں دوسرے کی خوبیاں دکھائوں گا۔ اور جب وہ تمہیں دوسروں کی خامیاں دکھانا چاہے تو کہیں کہ بھئی! نہیں، میں تو تمہیں اپنی خامیاں دکھائوں گا۔ تو خوبیاں ہمیشہ دوسروں کی دیکھنی ہیں اور خامیاں ہمیشہ اپنی دیکھنی ہیں۔ اصل میں  دوسروں کی خامیاں اسی کو نظر آتی ہیں جو اپنی خامیوں سے غافل ہو جاتا ہے۔ اور جو شخص اپنی خامیاں دیکھتا رہتا ہے اس کو کبھی اپنی خوبیاں نظر ہی نہیں آتیں۔ لہٰذا یہ اُصول سمجھ لیجیے کہ ہمارا نفس جب کبھی ہمیں دوسروں کی بُرائیاں دِکھائے تو سمجھ لیں کہ ہم اپنے نفس کی خامیوں سے غافل ہو چکے ہیں۔ آپ سامنے والے کے سینے کو جب دیکھیں گے تو آپ کو اپنا سینہ نظر آئے گا، اور جب اپنے سینے کو دیکھیں گے تو سامنے والا نظر نہیں آئے گا۔ تو جو بندہ اپنے حال کو دیکھنے لگے وہ تو یہ کہتا ہے کہ میرے اندر اتنی زیادہ خامیاں ہیں، اگر موت تک بھی میں اپنی خامیوں کو دور کرنے کی فکر میں لگا رہوں تو شاید یہی صاف نہ ہوں۔ پھر ایسا شخص دوسروں کی خامیوں کو کیا دیکھے گا۔ جب ہماری اپنی سب خامیاں ختم ہو جائیں تب ہم کسی دوسرے کی فکر کریں۔ اتنی خامیاں ہمارے اندر ہیں کہ موت تک ان کو درست کرنا ہی ہمارے لیے مشکل ہے۔ اس لیے بدگمانی سے اپنے آپ کو بچائیں، اور ہمارے اندر کے جوکنکر ہیں انہیں ختم کریں، پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت ملے گی۔
گناہ بے لذّت
انسان کی نفسیاتی صفت ہے کہ وہ مزے کی طرف دوڑتا ہے۔ ذائقہ، لذّتیں، مزے اسے اچھے لگتے ہیں۔ اور ہم نے اس نفس کو ایسا بنا دیا ہے کہ اب اسے گناہ میں مزا آتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ ہم نے اس پر اللہ تعالیٰ کی اِطاعت اور فرمانبرداری کا بوجھ نہیں ڈالا۔ ایک دفعہ جب اس پر اِطاعتِ خداوندی کا بوجھ ڈالیں گے پھر یہ عادی ہو جائے گا اور اس کو اس میں مزا آنے لگے گا۔ پھر ساری رات قرآن پڑھنا، اللہ کی یاد میں بیٹھنا آسان ہو جائے گا۔ آپ نے بھی سنا ہوگا کہ کسی اللہ کے بندے نے پوری رات سجدے میں گزار دی، کسی نے پوری رات رکوع میں گزار دی، کسی نے پوری رات قیام میں گزار دی، اور کسی نے پوری رات عبادت میں گزار دی۔ یہ کیا ہوتا ہے؟ ان کا نفس عبادت سے لذّت لینے لگتا ہے۔ یہ نفس جو ہے، یہ لذّت کا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ گناہوں میں لذّت پاتا ہے، لیکن اگر ہم اس پر تھوڑی مشقت ڈالیں عبادت کی تو یہ چینج ہوجاتا ہے۔ پھر اسے نماز میں، قرآن میں مزا آنے لگتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اپنے آپ کو عبادت میں لگا کر رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کا معاملہ فرما دیں گے۔
وقت کی قدر کرنا
ایک پوائنٹ کو لکھ لیں۔ جب تک ہم اِن کاموں میں لگے رہیں گے جو ہمارے کرنے کے ہیں تو نہ کرنے والے فضول کاموں سے خودبخود ہماری بچت ہو جائے گی۔ اور اگر ہم وہ کام نہیں کریں گے جو کرنے کے ہیں تو خودبخود ہم ان کاموں میں لگ جائیں گے جو فضول کام ہیں اور نہ کرنے کے ہیں۔ اس لیے ہم اپنے آپ کو اچھے کاموں میں لگائے رکھیں۔ عبادات میں، نیکی میں لگائے رکھیں گے تو خودبخود فضول چیزیں موبائل، فیس بک کا غلط استعمال، اِدھر اُدھر غیبت کی محفلیں، لمبی لمبی باتیں سب ختم ہو جائیں گی۔ اپنے آپ کو نیکی کے کاموں میں مصروف رکھنے سے اِدھر اُدھر کے کاموں کی طرف ہماری توجہ نہیں جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے نیکی کا کام نہ کیا، بھلائی کے کام میں نہ لگے تو پھر ہمارا وقت اِدھر اُدھر خرچ ہوگا۔
تحصیلِ علم میں وقت صرف کرنا
دیکھیں! آپ میں سے کچھ طالبات تیسرے سال میں ہیں، اور کچھ دوسرے سال میں ہیں، اور کچھ پہلے سال میں ہیں۔ الحمدللہ! یہ علم کا سفر طے ہو رہا ہے۔ آپ روزانہ چار گھنٹے جامعہ کو دے رہی ہیں۔ کچھ گھر میں بھی پڑھنا ہوگا۔ آنے جانے کا وقت بھی اگر ہم شمار کریں تو یہ 8یا6 گھنٹے روزانہ کم وبیش اللہ کے راستے میں آپ کے لگ رہے ہیں دین کے علم کے حصول میں۔ جب آپ یہاں نہیں آرہی تھیں زندگی تو تب بھی گزر رہی تھی۔ وقت آپ کے پاس اُس وقت بھی نہیں تھا اور اِس وقت بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے نامۂ اَعمال میں دیکھیں تو روزانہ 6 گھنٹے 8 گھنٹے آپ کے دین میں لگ رہے ہیں۔ کتنا بڑا فرق ہے!! مدرسے کی زندگی بھی نامۂ اَعمال کی شکل میں اللہ کے سامنے پیش کی جائے گی، اور اس سے پہلے والی زندگی کو بھی پیش کیا جائے گا۔ کوئی فرق ہے یا نہیں؟
چند دنوں پہلے میرا کہیں جانا ہوا تو میں نے ان لوگوں سے کہا کہ بھئی! بچوں کو اور بچیوں کو مدرسہ بھیجیں۔ کسی نے کہا کہ جی! ٹائم ہی نہیں ہے، کیسے آئیں؟ جو لوگ نہیں آئے ان کا ٹائم ابھی بھی کچن میں، اور اِدھر اُدھر موبائل پہ، اِنٹرنیٹ پہ، گھر کے کاموں میں گزر رہا ہے۔ اور جن کے بچے مدرسہ آئے ہیں تو بچے ان کے بھی پل رہے ہیں، کھانا وہ بھی کھا رہے ہیں، زندگی ان کی بھی چل رہی ہے۔ لیکن دین کے کام میں 6 سے 8 گھنٹے لگانے کی برکت سے اب ان کی زندگی میں گناہ کرنے کا وقت کم ہو گیا ہے۔ غیرضروری باتوں کا وقت کم ہو گیا ہے۔ یہ پکی بات بتا رہا ہوں کہ اگر ہم اپنے آپ کو کرنے والے کاموں میں لگا لیں تو جو کام غیرضروری ہیں ان سے ہم ویسے ہی بچ جائیں گے۔
جو اِنسان اپنے ضروری کاموں کو کرے اور تحصیلِ علم سب سے زیادہ ضروری اور اہم ہے۔ اور دینِ اسلام کا حسن بھی یہی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: آدمی کے اِسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو لایعنی ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 2318)
لایعنی کسے کہتے ہیں؟ جس میں نہ تو دنیا کا فائدہ، اور نہ دین کا فائدہ۔ جو طالبات شوق سے پڑھ رہی ہیں، ان کی زندگی میں لایعنی یاتو ختم ہو جائے گا، اگر ختم نہ کر سکیں تو بہت کم ہو جائے گا۔ اور آپ ہی طالبات میں سے کوئی 4 یا 6 ماہ بیمار ہو گئی، یا پھر کوئی اور وجہ ہو گئی اور وہ مدرسہ نہیں آسکی، پھر وہ اپنے دو ماہ گھر کی زندگی کو دیکھ لے اور اپنے نامۂ اَعمال کو بھی دیکھ لے۔ ان سب میں برابری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ جو پڑھنے کے دن ہیں اللہ ربّ العزّت قیامت کے دن ان کی کتنی قیمت لگا ئیں گے؟ اس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر آپ قیامت کے دن اس کی قیمت لینا چاہتی ہیں تو بڑوں کا اَدب کرنا سیکھیں۔ اَلدِّیْنُ کُلُّہٗ أَدَبٌ (دین تو سارے کا سارا ادب ہی ہے)۔ سب سے پہلے اللہ ربّ العزّت کا ادب، حضورﷺ کا ادب، صحابۂ کرامj کا ادب، والدین کا ادب، اساتذہ کا ادب، معلمات کا ادب، مشائخ کا ادب، تمام مسلمانوں کا ادب، جو آپ کی کلاس فیلوز ہیں ان سب کا ادب۔ ان سب کے اندر ہم اپنے آپ کو لے آئیں پھر دیکھیں کیسے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہمیں ملتی ہے۔ ادب کے بغیر دین کی لائن میں کسی کو عزّتیں نہیں ملیں۔
بااَدب اور بے اَدب طالب کا قصہ
دو طالبِ علم تھے، ایک بہت ذہین اور پڑھنے میں بہت اچھا جبکہ دوسرا تھوڑا کندذہن تھا۔ ذہین طالبِ علم عبارت فوراً پڑھ لیتا، ہر بات فوراً منٹوں میں یاد کر لیتا تھا۔ اور کند ذہن طالبِ علم کو بڑی محنت کرنی پڑتی تھی، وہ بڑا پریشان ہوتا لیکن لگا رہتا تھا۔ دونوں میں ایک بڑا عجیب فرق تھا۔ وہ یہ کہ جو ذہین پڑھنے والا تھا، وہ روزانہ ایسے ایسے سوال نکال کر لاتا کہ اساتذہ بھی پریشان ہو جایا کرتے تھے۔ اور اس کی نیت بھی یہ ہوتی تھی کہ میں نے سب کے سامنے استاذ کو نیچا دِکھانا ہے۔ دوسرے کے اندر اَدب بہت تھا، وہ سیکھنے کی غرض سے لگا رہتا تھا۔ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ ایک وقت آیا کہ استاذ کی بےادبی کرنے والا دین سے ہی مرتد ہو گیا۔ اس پر اساتذہ کی بےادبی کرنے کا ایسا عذاب نازل ہوا۔ اور دوسرا جو کند ذہن تھا لیکن باادب تھا، وہ دعائیں لیتا رہتا تھا۔ محنت کرتے کرتے وہ وقت کا اچھا عالم بن گیا۔ اس لیے کہ اَدب کے ساتھ بہت ساری چیزیں وابستہ ہیں۔
خالق اور مخلوق کے اَدب کا مطلب
اللہ تعالیٰ کا اَدب یہ ہے کہ انسان اللہ کی نافرمانی نہ کرے۔ جنابِ رسول اللہﷺ کا ادب یہ ہے کہ اُن کی اتباع کی جائے، اُن کے طریقے کے خلاف کوئی بھی کام نہ کیا جائے۔ والدین کا ادب یہ ہے کہ ان کا کہنا مانا جائے اور انہیں تکلیف نہ دی جائے، لیکن اگر والدین گناہ کا حکم دیں تو پھر یہ ایک الگ بات ہے۔ جیسے ایک بچی نے کہا کہ میں پردہ کرنا چاہتی ہوں، مگر مجھے میرے ماں باپ پردہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔ بلکہ ایک نے یہاں تک کہا کہ اگر تم نے پردہ کرنا ہے تو یہاں سے نکل جائو۔ ایسے والدین اپنے مقام سے گر جاتے ہیں۔ والدین کا ادب یہ ہے کہ ان کا کہنا مانا جائے اور انہیں تکلیف نہ دی جائے۔ رشتہ داروں کا، کلاس فیلوز کا اور تمام مسلمانوں کا ادب یہ ہے کہ ان کو راحت پہنچائی جائے۔ ہم سب کو راحت پہنچانے کی کوشش کریں تو اِن شاء اللہ آسانی ہوگی۔ بااَدب بانصیب، بےاَدب بےنصیب۔
ادب سے انسان بڑے بڑے مقام حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے ساتھ بڑوں کی دعائیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اور بےادبی بعض دفعہ انسان کو ایمان سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے بےادبی بہت بری چیز ہے، اس سے پناہ مانگنے کی ضرورت ہے۔ ہم جتنا ادب کریں گے ہماری زندگی میں آسانیاں آتی ہی چلی جائیں گی۔ ایک آخری بات کر کے بات مکمل کرلیتے ہیں۔
خیرخواہ بننا
اس دین کے بارے میں نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ. (صحیح مسلم: رقم 55، بروایۃ تمیم الدّاري)
ترجمہ: ’’دین سراسر خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔
ہم ہر ایک کا بھلا چاہیں، کسی کا بھی بُرا نہ چاہیں۔ بس اسی کا نام دین ہے۔ کوئی معلمہ دوسری معلمہ کا بُرا نہ چاہے۔ کوئی طالبہ دوسری طالبہ کا بُرا نہ چاہے۔ دیکھیں! جب کلاس بڑھ رہی ہوتی ہے تو ہوتا کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو اللہ آگے کر دیتے ہیں اور کچھ کو اللہ پیچھے کر دیتے ہیں۔ جو پیچھے رہ جاتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ فلاں کو توجہ زیادہ مل رہی ہے، پھر اُن کے دل میں بُرے بُرے جذبات آرہے ہوتے ہیں۔ یہ ہوتا ہے، فطری بات ہے۔ جیسے دو ساتھیوں کو خلافت ایک وقت میں ملی ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک آگے ہوجاتا ہے، اور ایک پیچھے رہ جاتا ہے۔ دو ساتھی عالم بنتے ہیں، دونوں کو ایک ہی وقت میں سند ملی ہوتی ہے، لیکن ایک آگے ہوجاتا ہے اور ایک پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایسا ہر جگہ ہوتا ہے۔ اب ہم نے کیا کرنا ہے؟ ہم نے یہ کرنا ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کو سپورٹ کریں، زندگی بھر ایک دوسرے کی مدد کریں۔ جو آگے ہو رہا ہے اس کے لیے مزید دعائیں کریں کہ اللہ! آپ نے اس کو جو دیا ہے اس کے لیے مزید آسانیاں فرمائیں۔ پھر کیا ہوگا؟ ہماری نیت کی وجہ سے ہمارے بغیر کیے بھی ہمیں ثواب ملتا رہے گا۔ ہم ایک اجتماعیت کی کیفیت لے کر آئیں۔ ہر ایک کی خیرخواہی ہونی چاہیے۔
حضرت جریر کا اندازِ خیرخواہی
حضرت جریر کا ایک واقعہ حضرت جی دامت برکاتہم سے سنا کہ انہوں نے اپنے غلام کو ایک گھوڑا تین سو درہم میں خریدنے کے لیے بھیجا۔ غلام نے ایک گھوڑا پسند کیا اور مالک کو مع گھوڑے کے حضرت جریر کے پاس لایا تاکہ حضرت گھوڑے کو دیکھ کر اس کی قیمت ادا کر دیں۔ جب گھوڑا دیکھا تو فرمایا کہ یہ تو چار سو کا ہے، تین سو کا نہیں۔ کیا آپ اسے چار سو میں بیچیں گے؟ بیچنے والے نے کہا کہ ٹھیک ہے، جیسے آپ کی مرضی۔ حضرت جریر نے گھوڑے کو پھر دیکھا تو فرمایا کہ بھئی! تمہارا گھوڑا تو چار سو کا بھی نہیں، یہ تو پانچ سو کا ہے۔ غرض اسی طرح ہر دفعہ گھوڑے کو دیکھ کر سو درہم بڑھاتے چلے گئے، یہاں تک کہ آٹھ سو درہم میں اس سے گھوڑا خرید لیا۔ کسی نے کہا کہ حضرت! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ کہنے لگے کہ میں نے حضور اکرمﷺ سے اس بات پر بیعت کی ہوئی ہے کہ میں نے دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کرنی ہے۔ تم نے جو چیز کم ریٹ پر دی تھی، ہم نے زیادہ پیسے دےدیے۔ خیرخواہی کا جو وعدہ کیا تھا اس کو پورا کر دیا۔
(تحفۃ الأحوذي شرح سنن الترمذي: باب ما جاء في النصیحۃ)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کے لیے قبول فرمائے آمین۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں