40

بچے گھر میں چھٹیاں کیسے گذاریں!

بچے گھر میں چھٹیاں کیسے گذاریں!
(والدین کے رہنما تحریر)

✍ : مفتی سفیان بلند

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته


آج کل بچے گھر پر ہیں، چنانچہ کچھ تربیتی امور ذکر کردیں تاکہ بچوں کا وقت بہترین انداز میں صرف ہوجائے۔ (اہلیہ واصف)

بچے کی اصل تربیت ہی گھر کا ماحول اور ماں کی گود ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کی تربیت کے لئے اول ان کا نظام الاوقات بنائیں اور خود ان کے ساتھ بیٹھیں تاکہ وہ ماں کی تربیت سے پروان چڑھیں۔

صبح قرآن کریم پڑھنا اور اسکول کی تعلیم
بہتر یہ کہ فجر کے بعد اگر سونے کا معمول نہیں ہے تو ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ قرآن کریم پڑھائیں اور بچوں کو بھی ساتھ رکھیں، یاد رکھیں! ماں کا بچوں کے ساتھ صرف بیٹھ جانا بھی کافی ہے۔
ساری دنیا کو ماں وقت دیدیتی ہے مگر اس کے پاس اپنی اولاد کے لئے وقت نہیں تو یہ اولاد کیسے ترقی پر آئے گی ؟؟
اگر بچے فجر کے بعد سوتے ہیں تو ان کو ایک ڈیڑھ گھنٹے آرام کے بعد اٹھائیں اور آٹھ ساڑھے آٹھ بجے سے بچوں کی قرآنی کلاس شروع کردیں، اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اسکول کے لئے جو جلدی اٹھنے کا معمول اور مزاج تھا وہ باقی رہے گا۔
اس میں پہلے کچھ مناسب ہلکا پھلکا سا ناشتہ چائے اور لوازمات بھی دیں اور پھر پڑھائی کروائیں۔

دس بجے وقت کروا کر ناشتہ و کھانے اور اس سے متعلقہ ترتیب میں لگ جائیں، گیارہ بجے تک کھانے سے فارغ ہوجائیں، کھانا ایسا ہو جو دوپہر کے کھانے کو کور کرلے (گویا دو وقت کھانے کی ترتیب بنالیں، آج کل ویسے بھی بھاگ ڈور نہیں تو بھوک نہیں لگتی) پھر گیارہ بجے سے ظہر تک ان کو اسکول کی تعلیم میں لگوائیں، ہوم ورک کروائیں، اگلے سال کی تیاری کروائیں۔

ظہر کے بعد کچھ تربیتی قصے اور آرام
ظہر کے بعد آرام کروائیں اور سونے سے قبل کچھ واقعات انبیاء کرام علیہم السلام اور واقعات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنائیں، اس وقت کچھ تربیتی اسٹوریز کمپیوٹر یا موبائل میں بقدر ضرورت دکھا سکتے ہیں لیکن اس وقت ماں ساتھ موجود رہے، ہمارے شیخ و مرشد عارف باللہ حضرت واصف منظور صاحب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ بچوں کا کمپیوٹر گھر میں ایسی جگہ ہو جہاں ہر آنے جانے والی کی نگاہ پڑتی رہے، اس لئے بچوں کو تنہائی میں موبائل یا کمپیوٹر نہ دیں۔
نوٹ : موبائل و کمپیوٹر اس وقت ہمارے معاشرے میں بہت سرایت کرچکا ہے، اس لئے اس کو روک تو نہیں سکتے، البتہ اس کا مثبت استعمال کرسکتے ہیں۔

عصر سے قبل
عصر سے قبل بچوں کو اٹھالیں، اس وقت ان کو کچھ گھر کے بنے ہوئے صاف ستھرے غذا بخش کھانے کھلائیں اور چائے وغیرہ دیں، عصر کے بعد کچھ جسمانی تفریح گھر میں رکھیں، ان ڈور گیم کھیلائیں، اس پر کافی کتابیں آچکی ہیں، اس میں ان گیمز کی تفصیل مل جائے گی، مغرب سے قبل یہ سب بند کردیں اور نماز مغرب کی تیاری کریں۔

مغرب کے بعد
گھر میں فضائل اعمال اور حکایات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سنائیں اور بچوں کو مسنون دعائیں یاد کروائیں، اس کے بعد کوشش کریں کہ عشاء سے پہلے ہی کھانا کھلادیں۔

عشاء کے بعد
اگلے دن کی تیاری کروائیں اور مطالعہ کی عادت ڈلوائیں، اس کے لئے مختلف دینی و ادبی کہانیاں پڑھنے کو دیں تاکہ دلچسپی باقی رہے، رات کو دس بجے تک بچوں کو سلادیں تاکہ آئندہ دن چست اور چاق و چوبند اٹھیں۔
نوٹ : یہ وقت بہت اچھا ہے، بچوں کو مسنون دعائیں یاد کروا کر عمل پر ڈالیں اور عام دنوں میں مصروفیت کے سبب بچے اور والدین بسا اوقات ساتھ کھانا نہیں کھا سکتے، ان دنوں میں سارا گھرانہ (Family) مل کر کھانا کھائیں، اس سے گھر کی معاشرت زندہ ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں