93

بیعت اور توبہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْـًٔا وَّ لَا يَسْرِقْنَ وَ لَا يَزْنِيْنَ وَ لَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ فَبَايِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌo (الممتحنۃ:12)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

سب سے قیمتی سرمایہ ’’ایمان‘‘
بعض اوقات انسان بڑی چیز کو حاصل کرنے کے لیے چھوٹی چیز کو قربان کر دیتا ہے۔ انسان صحت کے لیے مال کو قربان کرتا ہے، لیکن اگر کوئی مال کے لیے صحت کو قربان کرے تو اسے بیوقوف کہا جاتا ہے۔ اسی طرح انسان جان بچانے کے لیے مال کو قربان کر دیتا ہے۔ عزّت بچانے کے لیے انسان اپنی جان کو قربان کر دیتا ہے، اور اپنی جان بچانے کے لیے مال کو قربان کردیتا ہے۔ اسی طرح ایمان بچانے کے لیے اپنے مال کو قربان کر دیتا ہے، جان دینی پڑے تو وہ بھی دے دیتا ہے، صحت دینی پڑے تو وہ بھی دے دیتا ہے، عزّت دینی پڑے تو وہ بھی دے دیتا ہے۔ ہمارے پاس سب سے قیمتی چیز ہمارا ایمان ہے۔ اگر کوئی آدمی دنیا کی نعمتوں میں رہا، دنیا کے بڑے سے بڑے عہدے تک پہنچا، مگر ایمان کے بغیر چلا گیا تو وہ ہماری نظر میں ناکام اور نامراد ہے۔ اور کوئی آدمی بھوکا، پیاسا ویران جنگل میں کلمہ کے ساتھ اس دنیا سے چلا گیا تو ہماری نظر میں وہ ایمان والا کامیاب انسان ہے۔ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے اور دنیا کی زندگی ختم ہوجانے والی ہے۔
ایک عجیب مثال
امام غزالی دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کو بڑے عجیب انداز سے یوں بیان فرماتے ہیں: اگر اس زمین اور آسمان کے خلاکو رائی کے دانوں سے بھر دیا جائے۔ یہ خلا کوئی چھوٹی جگہ نہیں ہے اگر غوروفکر کیا جائے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک سینکڑوں نوری سال کا فاصلہ ہے۔ مطلب Light Years Distance ہے، اور روشنی تقریباً ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے سفر کرتی ہے۔ اگر وہ روشنی تین سوسال تک چلے تو ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک کا سفر طے ہوتا ہے۔ اور نہ جانے اس خلا میں کتنے ستارے، سیارے اور کہکشائیں ہیں یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
امام غزالی فرماتے ہیں کہ اتنا بڑا خلا اگر یہ سارا کا سارا رائی کے دانے سے بھر دیا جائے اور ہر ایک ہزار سال بعد پرندہ آئے اور ایک دانہ اُٹھا کرلے جائے۔ ایک وقت ایسا آجائے گا کہ وہ پرندہ سارے دانوں کو ختم کر دےگا، لیکن آخرت کی زندگی کبھی ختم نہیں ہوگی، کیوںکہ اللہ پاک نے آخرت کی زندگی کے بارے میں فرمایا:
خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا١ؕ (البیّنۃ: 8)
ترجمہ: وہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
وہ آخرت کی زندگی ہمیشہ کی ہے، کبھی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخرت کی زندگی کا مدار اس دنیا کی زندگی پر ہے جس کا دورانیہ چالیس، پچاس، ساٹھ، ستر سال ہے۔ اگر یہ زندگی ایمان کے ساتھ گزار لی تو ہمارا معاملہ ٹھیک ہوگیا۔ نبی کا فرمان ہے جو اب سے چودہ سو سال قبل ارشاد فرمایا تھا اور آج کے دور کی پوری پیشین گوئی ہے:
’’ایک دور ایسا آئے گا کہ آدمی صبح کو ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر ہوگا، یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کو کافر ہوگا‘‘۔
(صحیح مسلم: کتاب الزھد، باب من أشرک فی عملہ غیر اللہ)
یہ وہ وقت ہے کہ موجودہ سوسائٹی میں، ماحول میں دوستوں یا کچھ ایسے لوگوں کی صحبت مل جاتی ہے جس کی وجہ سے انسان کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اس ایمان کو بچانے کے لیے بہت ساری صورتیں ہیں۔
حضرت مرشدِ عالم کا اندازِ نصیحت
حضرت مرشدِ عالم مولانا غلام حبیب صاحب لوگوں سے پوچھتے تھے کہ بتلاؤ! اولاد کون دیتا ہے؟ لوگ کہتے کہ اللہ تعالیٰ دیتے ہیں۔ حضرت فرماتے کہ اولاد تو اللہ تعالیٰ دیتے ہیں، مگر ذریعہ اور سبب ماں باپ بنتے ہیں۔ پھر اسی طرح بارش کے متعلق پوچھتے کہ بارش کون برساتا ہے؟ لوگ جواب دیتے کہ اللہ تعالیٰ برساتا ہے۔ حضرت فرماتے کہ اللہ ربّ العزّت برساتے ہیں، مگر بادل اس کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پھر پوچھتے کہ اللہ ربّ العزّت کیسے ملتے ہیں؟ خود ہی جواب دیتے کہ اللہ ربّ العزّت اللہ والوں کے پاس سے ملا کرتے ہیں۔
ایمان کو بچانے کی مختلف صورتیں:
(۱) تزکیۂ نفس
(۲) دین کے حلقے میں بیٹھنا
(۳) اللہ کا ذکر کثرت سے کرنا
(۴) اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا
(۵) ایمان کی سلامتی کی دعائیں مانگتے رہنا
(۶) ان تمام باتوں کا مجموعہ ’’اللہ والوں کی صحبت‘‘ ہے۔
اب کچھ باتیں بیعت کے بارے میں بیان کی جا رہی ہیں۔
بیعتِ اسلام
یہ بیعت پہلے نبیd کے زمانے میں کی جاتی تھی۔ جب کوئی آدمی دینِ اسلام میں داخل ہونا چاہتا، کفر اور شرک سے بیزاری کا اعلان کرنا چاہتا تو نبیd اس سے بیعت لیا کرتے تھے۔ یہ بیعت ایمان لانے والے کے لیے ہوتی تھی۔ اس قسم کی بیعت کو ہم سب سنتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ لیکن اس کے بعد ایک اور طرح کی بیعت بھی ہے جو حضورِ پاکﷺ نے لی۔ جو آیتِ مبارکہ اس عاجز نے شروع میں پڑھی ہے، اس میں اللہ ربّ العزّت نے اپنے محبوب سے فرما رہے ہیں:
يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَيْـًٔا وَّلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِيْنَ وَلَا يَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَاْتِيْنَ بِبُهْتَانٍ يَّفْتَرِيْنَهٗ بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ (الممتحنۃ:12)
ترجمہ: ’’اے میرے محبوب! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کے لیے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں مانیں گی، اور چوری نہیں کریں گی، اور زنا نہیں کریں گی، اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی، اور نہ کوئی ایسا بہتان باندھیں گی جو انہوں نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیا ہو، اور نہ کسی بھلے کام میں تمہاری نافرمانی کریں گی‘‘۔
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ ربّ العزّت نے لفظ مؤمنات فرمایا ہے، کافرات، مشرکات اور منافقات نہیں کہا۔ یعنی یوں نہیں فرمایا کہ جب آپ کے پاس کافر عورتیں آئیں تو ان سے بیعتِ اسلام لے لو، بلکہ فرمایا کہ جب ایمان والی عورتیں آئیں۔ یعنی اُن کے ایمان کی گواہی اللہ تعالیٰ خود دے رہے ہیں اور نبی کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ان سے بڑے بڑے گناہوں کے چھوڑنے پر عہد لیجیے، بیعت لیجیے کہ وہ شرک نہیں کریں گی، زنا نہیں کریں گی وغیرہ۔ آگے اللہ ربّ العزّت نے فرمایا:
فَبَايِعْهُنَّ
ترجمہ: ’’تو تم اُن کو بیعت کرلیا کرو‘‘۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیعتِ اسلام کے بعد بھی کسی بیعت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح جہاد کے موقع پر بھی صحابہ کرام سے بھی بیعت لی گئی۔ اس کی سب سے بڑی مثال بیعتِ رضوان ہے۔ اس کے بعد بیعتِ ہجرت لی گئی۔ اب ہم جس بیعت کی بات کر رہے ہیں وہ بیعتِ توبہ اور بیعتِ طریقت ہے۔
بیعتِ توبہ
اُمت کی تعلیم کے لیے نبیﷺ نے صحابۂ کرام سے بعض موقعوں پر بعض گناہوں کے نہ کرنے پر بیعت لی ہے۔
امام بخاری نے حضرت عُبَادہ بن صامت سے روایت نقل کی ہے:
’’ہم رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ نے ہم سے فرمایا کہ تم میرے ہاتھ پر بیعت کرو کہ تم شرک نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے (آگے لمبی حدیث ہے) پھر آپﷺ نے سورۃ الممتحنہ کی آخر سے پہلے والی آیت تلاوت فرمائی‘‘۔ (متفق علیہ)
دیکھیے! اس وقت نبی کے پاس صحابۂ کرام کی جماعت موجود تھی۔ یہ وہ حضرات تھے جو بیعتِ اسلام سے مشرّف ہوچکے تھے، ان کے دل ایمان کی دولت سے مالا مال تھے۔ سرکارِ دوعالم نبی کی نظرِ رحمت نے ان کو روحانی ترقی کی اُن بلندیوں پر پہنچا دیا تھا کہ اُمت کے تمام اولیائے کرام مل کر بھی ہرگز اس مرتبے تک نہیں پہنچ سکتے۔ جنابِ رسول اللہﷺ نے ان عظیم المرتبت صحابۂ کرام سے بھی بیعتِ توبہ لی ہے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک بیعت کرنا آج کے دور میں واجب ہے۔ یہ بیعت ویسے تو سنت کا درجہ رکھتی ہے، لیکن اس سے زندگی کے فرائض زندہ ہوجاتے ہیں۔ بعض موقعوں پر نبی نے صحابۂ کرام سے اس بات پر بھی بیعت کی کہ وہ دوسروں کے ساتھ خیر خواہی کریں گے۔
نبی نے بعض حضرات صحابہ کرام جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت ابوذر، حضرت ثوبان سے اس بات پر بیعت لی تھی کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے سوال نہیں کریں گے۔ اس بیعت کے بعد ان کی حالت یہ تھی کہ وہ گھوڑے پر سوار کہیں جا رہے ہوں اور اچانک کوڑا یا نکیل نیچے گر جاتے تو وہ کسی سے نہیں مانگتے تھے، بلکہ گھوڑا روکتے، خود نیچے اُترتے اور کوڑا یا نکیل ہاتھ میں پکڑ کر دوبارہ سوار ہو جاتے تھے۔ یہ حضرت سوچتے تھے کہ ہم نے چوںکہ نبی سے بیعت لی ہوئی ہے کہ کسی سے کچھ نہیں مانگنا تو اب کسی سے یہ بھی نہیں کہنا کہ کوڑا یا نکیل پکڑادو۔ (صحیح مسلم: کتاب الزکاۃ، باب کراھیۃ المسألۃ للنّاس)
معلوم ہوا کہ بیعت کی مختلف جہتیں ہیں۔ جو بیعت ہمارے ہاں ہوتی ہے وہ ہے ’’بیعتِ توبہ‘‘۔ انسان کسی کے ہاتھ پر توبہ کا اِرادہ کرتا ہے، پچھلی زندگی کو چھوڑ کر شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا اِرادہ کرتا ہے۔ اللہ ربّ العزّت اس کے ایسا کرنے پربرکتیں دیتے ہیں۔ ویسے توبہ ہروقت آدمی کے لیے کرنا ضروری ہے۔ انسان اکیلے بھی توبہ کرسکتا ہے اور اجتماعی توبہ بھی کرسکتا ہے۔ ہمارے حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ اکیلے توبہ کرنا، سادے کاغذ پر لکھ کر دینے کی مانند ہے، اور اکٹھے توبہ کرنا Stamp paper شیخ کے ہاتھوں پر توبہ کا عہد نامہ لکھ کر دینا ہے۔ مطلب یہ کہ اس صورت میں قبولیت یقینی ہے۔
ایک مثال حضرت جی دامت برکاتہم یوں دیتے ہیں کہ جیسے ایک چانس کا ٹکٹ ہوتا ہے اور ایک کنفرم ٹکٹ Confirm Ticket ہوتا ہے۔ اکیلے کسی نے توبہ کی تو یہ چانس والے ٹکٹ کی مانند ہے، یعنی اللہ کی مرضی ہوئی تو قبول کرلے گا اور چاہے تو رد فرما دے۔ اور اگر کوئی اکٹھے ہو کر (تُوْبُوْا اِلَی اللہِ جَمِیْعًا) توبہ کرلے گا تو یقیناً اللہ ربّ العزّت کی رحمت بہت زیادہ متوجہ ہوگی۔ علماء نے بیعتِ توبہ کے بارے میں بتایا ہے کہ اس میں چار طرح کی نیتیں کی جاسکتی ہیں:
بیعت کی چار نیتیں
(۱) بیعت کی نیت جبکہ کوئی نیا آدمی ہے اور بیعت ہونا چاہتا ہے۔
(۲) کوئی پہلے سے بیعت ہے تو وہ تجدیدِ بیعت کی نیت کرے۔
(۳) حصولِ برکت کی نیت کہ یہ معتبر کلمات ہیں۔ برکت حاصل کرنے کے لیے بیعت کے کلمات پڑھ لے۔
(۴) یہ نیت اتنی اہم ہے کہ اس سے کوئی شخص بھی خالی نہ رہے۔ یہ توبہ کی نیت ہے۔ یعنی اگر کوئی پہلے سے بیعت ہے، یا کسی اور سے بیعت ہے تو وہ توبہ کی نیت کرے۔ اور اگر کوئی بیعت نہیں ہے اور بیعت نہیں ہونا چاہتا تو وہ تو توبہ کی نیت ضرور کرے، کیوںکہ توبہ سے تو کسی کو انکار نہیں وہ تو ضرور کرنی ہی کرنی ہے۔ اس لیے ہر آدمی کو چاہیے کہ ہر وقت توبہ کے لیے تیار رہے۔
دورِ حاضر کے اکابرین
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اپنے اکابرین کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے جتنے بھی اکابرینِ دارالعلوم دیوبند گزرے ہیں یا ابھی جو بزرگ اور مشایخ حیات ہیں، سب کے سب جامعِ طریقت بھی ہیں اور جامعِ شریعت بھی۔ یعنی سب نے پہلے خود بیعت کی اور پھر اجازت سے بیعت کرواتے بھی ہیں۔ آج کے دور میں حضرت مولانا حافظ پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم، دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب، مفتی تقی عثمانی صاحب، مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب، بنوری ٹاؤن میں ڈاکٹر عبد الرّزاق اسکندر صاحب، جامعہ اشرفیہ میں مولانا فضل الرّحیم صاحب لوگوں کو بیعت فرماتے ہیں۔ قریب ہی صدی میں مفتیٔ اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع صاحب، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا، تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی گزرے ہیں۔ یہ وہ حضرات اکابرین اور مشایخ ہیں جن کی History آپ پڑھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ سب نے اوّلاً بیعت کی، پھر اپنے مشایخ کی اجازت کے بعد لوگوں کو بیعت کیا۔
حضرت شاہ صاحب کا ملفوظ
علامہ انور شاہ کشمیری بخاری شریف کے اختتام پر طلباء سے فرماتے کہ معزز طلباء! تم جتنی بار مرضی بخاری شریف ختم کرلو، جب تک کسی اللہ والے کی جوتیاں سیدھی نہیں کرو گے اِخلاص سے محروم رہو گے، روحِ علم سے محروم رہو گے۔
جب دارالعلوم کی تعمیر ہوئی اور طلبائے کرام اپنی تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہونے لگے تو ترتیب یہ تھی کہ وہ فراغت کے بعد کسی شیخ سے بیعت ہوتے، سلوک کی منزلیں طے کرتے پھر کہیں جاکر انہیں عالم کی سند ملتی تھی۔ اس Process کو کیے بغیر ان کو سند ہی نہیں ملتی تھی۔ یہ دارالعلوم کا ابتدائی دور تھا جب وہاں مہتم سے لےکر چپڑاسی تک سب صاحبِ نسبت ہوا کرتے تھے۔ یہ اللہ کی شان تھی۔
ابھی توبہ کے کلمات پڑھائے جائیں گے، ہم سب توبہ کا اِرادہ کرلیں۔ ابھی ایک نوجوان نے توبہ کا اِرادہ کیا ہے۔ جب کوئی نوجوان توبہ کرتا ہے تو اللہ کی رحمتِ خاص متوجہ ہوتی ہے۔ اگر بوڑھا سفید بالوں والا بھی توبہ کرلے تو یقیناً اللہ ربّ العزّت کی رحمت متوجہ ہوتی ہے، لیکن جب کوئی نوجوان توبہ کرتا ہے تو اللہ کی رحمت خاص طور سے متوجہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اتنے خوش، اتنے خوش ہوتے ہیں کہ 40 دنوں تک قبروں سے عذاب ہٹا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے لیے آسانی والا معاملہ فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں