بیوٹی پارلر کی شرعی حدود

بیوٹی پارلر کی شرعی حدود!کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلہ میں کہ:
سوال :۱۔ میں گھریلو پیمانے پر ایک بیوٹی پارلر کھولنا چاہتی ہوں۔ ارادہ ہے کہ ایسا پارلر شروع کروں کہ جس میں کوئی بھی غیر شرعی فعل نہ ہو۔ مندرجہ ذیل ان تمام کاموں کو تفصیل سے درج کرتی ہوں جو کسی پارلر میں ہوتے ہیں یا سنگھار کا ذریعہ ہیں۔ برائے مہربانی نہایت وضاحت سے جواب دیں کہ ان میں سے کن چیزوں کو کرنا جائز ہے اور کن کا کرنا ناجائز۔ تاکہ یہ پارلر شرعی خطوط پر کام کرسکے۔اور یہ پارلر ان تمام عورتوں کے لئے ہوگا جو شرعی پردہ کرتی ہیں۔
۱- بالوں کا کاٹنا: عورتوں اور نابالغ بچیوں کے بال۔
۲-بالوں کا رنگنا: کالے خضاب کے علاوہ جو کہ عمر چھپانے کیلئے استعمال ہو۔
۳- بالوں کا مختلف اقسام سے سنوارنا: چوٹی یا جوڑے کی شکل میں۔
۴- فیشل:صفائی کے لئے مختلف کریموں سے چہرے کی مالش کرنا ۔
۵- ہاتھوں اور پیروں کی مالش کرنا۔
۶-دھاگے یا کسی آمیزے سے بھنؤوں کا خط بنانا۔
۷-ہاتھ پیر کے بال اتارنا: یعنی چکنے آمیزے کی مدد سے۔
۸- چہرے کے بال اتارنا: یعنی داڑھی‘ مونچھ‘ رخسار‘ پیشانی آمیزے یا دھاگے کی مدد سے۔
۹- دلہن کا سنگھار کرنا۔
ہرایک حصے کی الگ الگ وضاحت فرمائیں۔
سوال:۲۔ ان میں سے جو جائز عمل ہیں کیا ان کا کرنا ان تمام عورتوں کیلئے جائز ہے جو پردہ کرتی ہیں یا پردہ نہیں کرتیں۔
سائلہ :زوجہ یعقوب داؤد -فلیٹ :۲۰۲‘ الغازی کمپلیکس کلفٹن‘کراچی

واضح رہے کہ زیب وزینت اور بناؤ سنگھار عورت کا فطری حق ہے‘ بناؤ سنگھار کرنا عورت کیلئے اس کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسلام عورت کی اس فطری خواہش کا مخالف نہیں ہے‘ مگر اس زیب وزینت‘ اوربناؤ سنگھار میں شرعی حدود وقیود سے تجاوز کرنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲعلیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں سے انحراف کرنا ہرگز درست نہیں‘ خواتین کے لئے بناؤ سنگھار اور زیب وزینت اختیار کرنے میں شرعی تقاضوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور اس بات کا اہتمام کرنا ضروری ہے کہ ان کے کسی طرز عمل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اﷲعلیہ وسلم کی ناراضگی لازم نہ آئے۔
زیب وزینت اور بناؤ سنگھار میں شریعت کی مقرر کردہ حدود یہ ہیں کہ جن امورکی شریعت میں قطعی طور پر ممانعت ہے‘ انہیں کرنا کسی صورت میں عورت کے لئے جائز نہیں‘ چاہے وہ شوہر ہی کیلئے کیوں نہ ہو۔
حدیث شریف میں آتاہے:
’’لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘‘ (۱)
ترجمہ:۔۔ ’’اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے‘‘۔
اور بناؤ سنگھار کے جو امور شرعی حدوداور جائز درجہ میں ہیں ان میں بھی مقصودشوہر کو خوش کرنا ہو نہ کہ دوسری عورتوں اور نامحرم مردوں کو دکھانا یاان کے سامنے اترانا ہو۔ اگر شوہر کو خوش کرنے کے لئے بناؤ سنگھار کرے گی تو اس کو ثواب ملے گا اور اگر نامحرم مردوں کو دکھانے یا فخر کی نیت سے بناؤ سنگھار کرے گی تو گناہ گار ہوگی۔
چنانچہ موجودہ دور میں بیوٹی پارلر کے نام سے عورتوں کے بناؤ سنگھار کے جو ادارے قائم ہیں‘ ان میں بعض جائز امور کے ساتھ ساتھ بہت سے خلاف شریعت امور کا ارتکاب بھی ہوتاہے۔
جو امور ناجائز ‘گناہ اور موجب لعنت ہیں ان سے بچنااز حد ضروری ہے۔ ان خلافِ شریعت امور کا ارتکاب کرنے اور کرانے والی دونوں گناہ گار ہوں گی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) مشکوۃ المصابیح ،کتاب الامارۃ والقضاء، الفصل الثانی:۲؍۳۲۱۔ط: قدیمی کراچی۔
البتہ جو امور جائز ہیں اگر شرعی حدود میں رہتے ہوئے بیوٹی پارلر میں ان کا اہتمام کیا جائے تو صحیح ہے۔ سوال نمبر ۔۱ میں ذکر کئے گئے امور کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
۱:۔۔۔ خواتین کا اپنے سر کے بالوں کو کٹوانایا کتروانا خواہ کسی بھی جانب سے ہو مردوں کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ناجائز اور گناہ ہے ۔حدیث شریف میں اس کی سخت ممانعت ہے حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
’’لعن اﷲ المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال‘‘ ۔(۱)
ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ان مردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کر تی ہیں‘‘۔
ایک جگہ ارشاد ہے:
’’عن علی قال نہی رسول اللہ ﷺان تحلق المرأۃ رأسہا‘‘۔

(۲)
ترجمہ:حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ:’’آپ صلی اﷲعلیہ وسلم نے منع فرمایاہے اس بات سے کہ عورت اپنا سر منڈوائے۔
لہذا عورتوں کے لئے سر کے بال کٹوانایا ترشوانا جائز نہیں‘ البتہ کسی عذر یا بیماری کی وجہ سے بالوں کا ازالہ ناگزیر ہوجائے تو پھر شرعی عذر کی بنأ پر بقدر ضرورت بالوں کا کاٹناجائز ہے‘ لیکن جیسے ہی عذر ختم ہوجائے اجازت بھی ختم ہوجائے گی۔جیساکہ شامی میں ہے:
’’قطعت شعر رأسہا اثمت ولعنت زاد فی البزازیہ وان بإذن الزوج لانہ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق‘‘۔(۳)
اور خلاصہ میں ہے:
’’المرأۃ اذا حلقت رأسہا ان کان لوجع اصابہا لابأس بہ وان کان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) مشکوۃ المصابیح، باب الترجل، الفصل الأول: ۲؍۳۸۰۔ط:قدیمی کراچی۔
(۲)مشکوۃ المصابیح ،باب الترجل ،الفصل الثالث: ۲؍۳۸۴۔ایضا
(۳) الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع: ۶؍۴۰۷۔ط:سعید کراچی۔
للتشبہ بالرجال یکرہ‘‘۔(۱)

یہی حکم بالغ اور قریب البلوغ لڑکیوں کا ہے کہ ان کے بال کٹوانا جائز نہیں‘ البتہ ایسی بچیاں جو چھوٹی ہوں، قریب البلوغ نہ ہوں تو خوبصورتی یا کسی اور جائز مقصد کے لئے ان کے بال کٹوانا جائز ہے‘ تاہم ارادی طور پر کافروں یا فاسقوں کی مشابہت سے بچنا چاہیئے۔
۲:۔۔۔۔بیوٹی پارلر میں خواتین کے بالوں کو خوبصورت کرنے کے لئے بلیچ کرکے پھر دوسرے رنگ (کا لے خضاب کے علاوہ) سے رنگا جاتاہے تو اگر یہ کام شرعی حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے تو شرعاً اس میں مضائقہ نہیں۔
۳:۔۔۔خواتین کے لئے سر کے بالوں کو کاٹے بغیر مختلف ڈیزائن سے سنوارنا مثلاً چوٹی وغیرہ کی شکل میں بنانا جائز ہے۔ البتہ کوہان کی شکل کا جوڑا بنانا ناجائز ہے‘ جیساکہ حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے ‘ البتہ اس کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ کافرہ ‘فاسقہ عورتوں کی مشابہت مقصود نہ ہو‘محض اپنا یا اپنے شوہر کا دل خوش کرنے کے لئے ایسا کیا جائے۔
۴-۵:۔۔۔۔ زینت کے لئے چہرے یا ہاتھ پاؤں کا فیشل کروانا شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے جائز ہے۔
۶:۔۔۔ عورتوں کے لئے بھنویں بنانا (دھاگہ یا کسی اور چیز سے) جائز نہیں ہے۔ حدیث شریف میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے اور ایسا کرنا تغییر لخلق اللہ کے زمرہ میں آتاہے۔جیساکہ حدیث میں ہے:
’’لعن اللّٰہ الواصلۃ والمستوصلۃ والواشمہ والمستوشمۃ‘‘

(۲)
البتہ قینچی کی مدد سے کم کرسکتی ہے‘ جبکہ مخنث کی مشابہت نہ ہو۔
جیساکہ شامیہ میں ہے:
’’ولابأس بأخذ الحاجبین وشعر وجہہ ما لم یشبہ المخنث‘‘(۳)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) خلاصۃ الفتاوی،الفصل التاسع فی المتفرقات:۴؍۳۷۷۔ط:رشیدیہ کوئٹہ۔
(۲) مشکوۃ المصابیح ، باب الترجل ،الفصل الأول- ۲؍۳۸۱۔ط: قدیمی کراچی۔
(۳) رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظروالاباحۃ، فصل فی النظر والمس:۶؍۳۷۳۔ط: ایچ ایم سعید کراچی۔
۷-۸:۔۔۔ خواتین کو اپنے چہرے کے غیر معتاد بال مثلا داڑھی مونچھ‘ پیشانی وغیرہ کے بال یا کلائیوں اور پنڈلیوں کے بال صاف کرنا جائز ہے‘ البتہ ان زائد بالوں کو نوچ کرنکالنا مناسب نہیں‘ کیونکہ اس میں بلاوجہ اپنے جسم کو اذیت دیناہے‘ کسی پاؤڈر وغیرہ کے ذریعہ صاف کر لیا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
جیساکہ شامیہ میں ہے:
(والنامصۃالخ) ۔۔۔ ولعلہ محمول علی ما اذا فعلتہ لتتزین للاجانب والا فلو کان فی وجہہا شعر ینفر زوجہا عنہا بسببہ ففی تحریم ازالتہ بعد‘ لان الزینۃ للنساء مطلوبۃ للتحسین الا ان یحمل علی مالا ضرورۃ إلـیہ لـما فی نتفہ بالمنماص من الایذاء وفی تبیین المحارم ازالۃ الشعر من الوجہ حرام الا اذا نبت للمراۃ لحیۃ او شوارب فلا تحرم ازالتہ بل تستحب ۔ (۱)
۹:۔۔۔ جائز ہے جب تک کسی غیر شرعی امور کا ارتکاب نہ کیا جائے ۔
جواب نمبر ۲۔ اس کا جواب اوپر گذر گیا کہ زیب وزینت،بناؤ سنگھار میں جو چیزیں جائز درجہ میں ہیں ان کے اندر بھی شرعی حدود وقیود کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ زیب وزینت غلط مقصد کے لئے نہ ہو‘ اگر غلط مقصد کے لئے ہو تواس طور پر کہ نامحرم مردوں کو دکھانے یا اترانے لئے ہو تو ناجائز ہے۔
خلاصہ یہ کہ باپردہ خواتین کابناؤ سنگھار کرے ‘بے پردہ خواتین کا نہ کرے۔ واللہ اعلم
الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
محمد عبد المجید دین پوری محمد انعام الحق فیصل رشید
بینات -رمضان المبارک۱۴۲۵ھ
بمطابق نومبر ۲۰۰۴ء
جلد:۶۷ – شمارہ: ۹
ص: ۵۹-۶۲
ـــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) المرجع السابق:۶؍۳۷۳۔ایضاً۔

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
مجیب فدا حسین ملاخیل
رکن اسلامی مجلس شوریٰ

Leave a Reply