49

بیوی کے اخراجات شوہر کی ذمہ داری حصہ دوم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ (الطّلاق: 7)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

شوہر کا بخل اور بیوی کی ضرورت
اکثر خاوند حضرات اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے۔ ان کے پاس مال ہوتا ہے، مگر خرچ نہیں کرتے۔ اُن کی بیویاں جانتی ہیں کہ اُن کے شوہر کے پاس اتنا بیلنس ہے، کیوںکہ ان عورتوں کا کشف بڑا تیز ہوتا ہے۔ ان کی نظروں سے کوئی معاملہ چھپ نہیں سکتا۔ یہ اپنے خاوند کی رَگ رَگ سے واقف ہوتی ہیں۔ جو شریف ہوتی ہیں وہ خاموش ہو جاتی ہیں۔ وہ جانتی ہیں کہ شوہر باہر کیا کر رہے ہیں۔ اللہ ربّ العزّت نے انہیں چھٹی حِس کی نعمت دی ہوئی ہے۔ یہ بھی انسان ہوتی ہیں۔ بعض اوقات مرد حضرات وُسعت کے باوجود مال خرچ نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں کئی عورتیں شکایت کرتی ہیں کہ اُن کی ضرورت اتنی سخت ہوتی ہے کہ اس کے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا جبکہ میاں کے پاس پیسہ بھی ہے مگر وہ دیتا نہیں۔ بعضے مرد تو ایسے بھی ہیں کہ اُن سے مانگو تو ہاتھ اُٹھانے لگتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں، یاکہتے ہیں کہ اپنے باپ کے گھر سے لے آئو۔ پھر بحالتِ مجبوری عورت اپنے شوہر کی جیب سے پیسے نکال لیتی ہے اور اپنی ضرورت کو پورا کر لیتی ہے۔ کیا یہ عورت شریعت کی نظر میں چور کہلائے گی؟ کیا انہیں چوری کا گناہ ہوگا؟ اب اگر واقعہ ایسا ہی ہے جیسا کہ وہ بتاتی ہیں اور خاوند کے پاس وُسعت ہے، مگر پھر بھی وہ جائز ضروریات کو پورا نہیں کر رہا اور بیوی بغیر اجازت کے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اتنا مال نکالتی ہے تو یہ جائز ہے۔
حضرت ہند کا سوال
بخاری شریف میں امی عائشہ صدیقہ کی روایت موجود ہے۔ فرماتی ہیں کہ حضرت امیر معاویہ کی والدہ حضرت ہند جو کہ حضرت ابوسفیان کی بیوی تھیں۔ انہوں نے آپﷺ سے عرض کیا: میرے شوہر گھر کے خرچ کے معاملے میں بخیل ہیں (خرچہ دینے میں بہت تنگ کرتے ہیں) تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ میں ان سے بغیر اُن کی اجازت کے (کیوںکہ اجازت تو ملتی ہی نہیں) گھر کے خرچ کے لیے چپکے سے پیسے نکال سکتی ہوں؟ آپﷺ نے فرمایا: تم اور تمہاری اولاد اپنی جائز ضرورت کے لیے پیسے لے سکتی ہو۔ (صحیح بخاری: رقم 2211)
خاوند کے مال سے نکالے ہوئے پیسے اپنی ذاتی ضرورت اور اپنی اولاد کے لیے نکالنا تو ٹھیک ہے، لیکن اور لوگوں کو دینے کے لیے نکالنا ٹھیک نہیں۔ جب خاوند ایسا ہے جو مانگنے پر لڑتا ہے، ناراض ہوتا ہے۔ اور فتنے کا، مار کھانے کا اندیشہ ہے تو اس پر نبی کریمﷺ نے جائز اُمور میں بقدرِ ضرورت لینے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
عورت کا اپنے شوہر پر خرچ کرنا
بعض اوقات بیویاں امیر ہوتی ہیں اور شوہر غریب ہوتے ہیں۔ یعنی بیویوں کے پاس ان کا اپنا پیسہ ہوتا ہے جو وہ خود محنت کر کے کماتی ہیں یا ان کی اپنی جائیداد وغیرہ ہوتی ہے۔ حضرت زینب عبداللہ بن مسعود کی زوجہ تھیں۔ ایک مرتبہ نبی کریمﷺ نے عورتوں سے بیان فرمایا اور اُنہیں خوب صدقہ کرنے کی ترغیب دی۔ حضرت زینب واپس اپنے گھر آئیں تو اپنے شوہر حضرت ابنِ مسعود سے کہا کہ کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں آپ پر اور کچھ یتیم بچے جو میرے زیرِ پرورش ہیں، اُن پر صدقہ کروں؟ حضرت ابنِ مسعود نے جواب دیا کہ یہ بات آپ رسول اللہﷺ سے پوچھ لیجیے۔ چناںچہ حضرت زینب پردہ میں درِ نبیﷺ پر تشریف لائیں تو دیکھا کہ پہلے سے ایک انصاری عورت بھی کھڑی ہیں۔ آپس میں بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ انصاریہ بھی یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے آئی ہیں۔ اتنے میں حضرت بلال گزرے توان دونوں نے اُن سے کہا کہ آپ اللہ کے نبیﷺ سے یہ مسئلہ پوچھ کر ہمیں جواب دیں۔ اور دیکھیں! یہ نہ بتانا کہ پوچھنے والی کون ہیں؟
غرض انہوں نے حضرت بلال کو واسطہ بنایا اور ان کے ذریعے آپﷺ سے مسئلہ دریافت کیا۔ خود تو وہ آپﷺ سے مسائل معلوم کرتی رہتی تھیں، مگر چوںکہ شوہر کے بارے میں سوال کرنا تھا اس لیے جھجک آڑے آئی اور خود نہ پوچھا۔ ان کے پاس اپنی جمع پونجی تھی جو وہ اپنے خاوند اور زیرِ کفالت یتیم بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود دین کے کاموں میں زیادہ مصروف رہتے تھے۔ اُن کے پاس اتنی گنجائش نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی بیوی کے رِزق کو زیادہ کھول دیا تھا۔
بہرحال جب حضرت بلال نے آپﷺ تک سوال پہنچایا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: یہ سوال کس نے پوچھا ہے؟ حضرت بلال نے عرض کیا کہ زینب نے۔ آپﷺ نے فرمایا: أَيُّ الزَّیَانِبِ؟ (کونسی زینب؟) کہا کہ عبداللہ بن مسعود کی زوجہ۔ آپﷺ نے فرمایا:
نَعَمْ، لَهَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ. (صحیح البخاري: رقم 1466)
ترجمہ: ’’جی ہاں، ان کو اِس کا دُگنا اجر ملے گا: ایک تو رشتہ داری کا، اور دوسرا صدقہ کا‘‘۔
بعض اوقات ایسی صورتحال ہوتی ہے کہ بیوی کے پاس مال ہے اور گنجایش بھی ہے اور شوہر خرچہ پورا نہیں کرپا رہا کسی بھی طرح سے۔ اس صورت میں یہ بیوی اگر اپنے مال سے خرچ کرتی ہے تو اس کا اس کو ڈبل اَجر ملے گا، لیکن شوہر حضرات اس کی عادت نہ بنائیں کہ عورت کی ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیے کہ خواتین پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ دوبارہ کہتا ہوں کہ خواتین پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ مرد اپنی محنت سے ہی کمائیں۔ اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق لائیں اور عورت اسی میں سے خرچ کرے۔
زیورات کی زکوٰۃ
آپﷺ نے عورتوں سے فرمایا: اےعورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو خواہ اپنے زیورات سے ہی کرو۔ دوسری جگہ فرمایا کہ تمہاری اکثر تعداد جہنم میں جائے گی۔ حضرات صحابیاتl نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اس کی کیا وجہ؟ فرمایا کہ تم لعن طعن اور ناشکری بہت کرتی ہو۔ (صحیح بخاری: رقم 1462،1466)
عام طور پر عورتوں کے پاس زیور ہوتا ہے۔ اس پر زکوٰۃ کون دے؟ جو اس کا مالک ہے وہ زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر خاوند مالک ہے اگرچہ بیوی کے پاس رکھا ہے تو خاوند اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اور اگر بیوی ہی اس کی مالکہ ہے تو بیوی پر اس کی زکوٰۃ دینا فرض ہے۔ اس لیے عورتوں کو چاہیے کہ اپنے زیورات کی زکوٰۃ ادا کرتی رہیں۔ اس کے دو طریقے ہیں: ایک تو یہ کہ خاوند سے کہہ دیں کہ وہ آپ کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر لے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خاتون کے پاس کیش نہیں ہے، اور مرد کے پاس کیش ہے۔ اب اگر بیوی اپنے میاں سے کہہ دیتی ہے اور میاں اس کی طرف سے بہ خوشی زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو جائز ہے، کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر خاوند بھی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اور بیوی بھی ادا نہیں کرتی تو دونوں گناہگار ہوں گے۔ زیورات بیچ کر بھی زکوٰۃ ادا کرنی پڑے تو کیجیے۔ یہ عذر تراشنا کہ اپنی بچیوں کی شادی کے لیے رکھا ہے،یہ بیچا تو سب ختم ہو جائے گا۔ یہ صرف بہانا ہے۔
جب تک ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے نصاب کے بقدر سونا، چاندی، مال تجارت، کیش موجود ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے، فرض ہے۔ اگر نصاب سے نیچے آجائے تو پھر اس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ کم اَز کم جہنم کی آگ میں جلنے سے بہتر ہے کہ زکوٰۃ ادا کر دی جائے۔ ورنہ یہی زیور قیامت کے دن اسے آگ میں جلانے کا سبب بنا دیا جائے گا۔ عورت اس کا انتظار نہ کرے کہ میرا شوہر دے گا، میرے پاس تو نقد ادائیگی کا بندوبست نہیں۔ خدا کی بندی! سونا چاندی سے محبت آگ کا انگارہ بن کر سامنے آئے گی۔ یہی بہتر ہے کہ انہیں بیچ کر بھی زکوٰۃ ادا کرنی پڑے تو کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کا حساب اپنے ذمہ نہیں رکھتے ہیں۔ جو اللہ کی محبت میں اللہ کے لیے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کا نعم البدل عطا فرماتے ہیں۔
امانت کا خیال رکھنا
ابھی بات یہ بیان ہوئی کہ اگر بیوی کو ضرورت ہو اور خاوند نہ دیتا ہو تو بیوی ضرورت کے مطابق خاوند کے مال میں سے لے کر خرچ کر سکتی ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ لینے کی اسے اجازت نہیں ہے۔ اس لیے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کا مال بطور امانت کے بیوی کے پاس ہوتا ہے، اور امانت میں خیانت کرنا جائز نہیں۔ حدیث شریف میں اس عورت کی تعریف کی گئی ہے۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوففرماتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ.
(مسند أحمد: رقم 1595)
ترجمہ: ’’جب عورت پانچ وقت نماز (اہتمام سے) پڑھے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے، اپنے شوہر کی فرمانبرداری کرے۔ اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہو، اندر داخل ہو جاؤ‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اِن تمام معاملات میں شریعت اور سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
کمپرومائز سے زندگی گزاریں
میاں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہنا اور ان کے بہتر تعلقات اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔ دیکھیے! جھوٹ بولنا شدید ترین گناہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان تعلقات خراب ہوں، ناچاقی ہو تو اُن کے درمیان صلح کی غرض سے جھوٹ بھی بولنا پڑے اور ان کی دوستی کروا دی جائے تو اس جھوٹ پر اَجر عطا کیا جائے گا اور گناہ نہیں ہوگا۔
اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ. (صحیح البخاري: رقم 1)
ترجمہ: ’’یقیناً اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے‘‘۔
میاں بیوی کا ملاپ اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ چھ طرح کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ سخت نفرت و ناراضگی رکھتے ہیں۔ اِن سے ایک وہ بھی ہے جو میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کرواتا ہے، اور ان کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور دونوں کے درمیان نفرت پیدا کرتا ہے۔ آج کل یہ کام ان دونوں کے گھر والے سر انجام دیتے ہیں۔ یہ لوگ دیندار بھی ہوتے ہیں، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج کی پابندی بھی کرتے ہیں، مگر لڑکے کے کان اس کی ماں یا بہن ایسے بھرتے ہیں کہ لڑکا بیوی سے نفرت کرنے لگتا ہے اور اس کی طبیعت بدل جاتی ہے۔ اسی طرح بیوی کی ماں یا بڑی بہنیں یا سہیلیاں کچھ اُلٹا سیدھا کہہ کر اس کو شوہر کے خلاف بھڑکاتی ہیں۔ کچھ رشتہ دار اِدھر اُدھر کر دیتے ہیں۔
میاں بیوی کے معاملات میں ان سب باتوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ شادی کے بعد لڑکی کی ماں لڑکی کے ساتھ اتنا زیادہ تعلق رکھتی ہے کہ آپس ہی میں جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ گھر کی باتیں میکے تک جا پہنچتی ہیں اور پھر اِن کی آپس میں تو تو میں میں ہونے لگتی ہے، اور بات تعلقات ختم ہونے تک پہنچ جاتی ہے۔ جب بیٹی دے دی، اعتماد کر لیا، شادی ہو گئی اور بیٹی کو اللہ کی حفاظت میں سسرال کے حوالے کر دیا تو پھر بار بار دل میں وسوسے اور بُرائی کیوں پیدا کرنی ہوتی ہے؟ آج کل موبائل فون نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ گھر کی ہر ہر بات میکے تک پہنچ رہی ہے۔ لڑکی نامحرم سے تو باتیں نہیں کرتی، مگر سسرال کی ہر ہر بات میکے تک پہنچا دیتی ہے۔ ہر چھوٹی بڑی بات کی اس کی ماں کو خبر ہوتی ہے۔ اور (العیاذ باللہ!) ماں بھی ہر ہر معاملے میں مشورے دے رہی ہوتی ہے تو جھگڑے تو ہونے ہی ہیں۔ آج کے زمانے میں موبائل فون گھروں میں جھگڑوں کا باعث بن گئے ہیں۔ اللہ ربّ العزّت تمام شادی شدہ لوگوں کو خوشگوار ازدواجی زندگی نصیب فرمائے آمین۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں