169

بیوی کے اخراجات شوہر کی ذمہ داری

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ (الطّلاق: 7)
وَقَالَ اللہُ تَعَالٰى فِیْ مَقَامٍ اٰخَرَ: وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النّساء: 19)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

خوشگوار ازدواجی زندگی
خوشگوار ازدواجی زندگی اللہ ربّ العزّت کو بہت پسند ہے۔ میاں بیوی کا آپس میں محبت سے رہنا اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ جبکہ شیطان کو اس سے بہت ہی بغض ہے کہ میاں بیوی آپس میں محبت سے کیوں رہیں؟ اگر شیطان پر بات شروع ہوجائے تو ختم ہی نہ ہو کہ وہ کتنی برائیاں آج ہمارے اندر ڈال چکا ہے۔ جب شادی نہیں ہوئی ہوتی تو یہ دونوں محبت سے رہنے کی باتیں کرتےہیں۔ آپس میں تعلق پیدا کرلیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی نکاح ہوجاتا ہے، یہ شوہر بن جاتا ہے وہ بیوی بن جاتی ہے، تو محبت کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد شیطان کوشش یہ کرتا ہے کہ یہ ایک ہوچکے ہیں تو اب ان کو الگ کروائو، طلاق دلوائو۔ اب اس کی کوشش اُدھر لگ جاتی ہے اورجیسے ہی کوئی ایسا لفظ انتہائی درجے میں بول دیتا ہے جس کے بعد جوڑ کی کوئی صورت نہیں رہتی، اس کے فوراً بعد شیطان کیا کرتا ہے؟ کہتا ہے کہ بھئی! کیسے گزارا ہوگا؟ بچے بھی ہوگئے ہیں۔ اب جوڑ کی کوشش کرتا ہے اور جوڑ کی شکل بنتی نہیں تو حرام میں مبتلا کر دیتا ہے۔ شیطان مختلف انداز سے گھریلو زندگی کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور بھی بہت سارے انداز ہیں، یہ تو ایک ذرا سا مثال کے طور پہ پیش کیا۔
لیکن اللہ ربّ العزّت کو گھریلو زندگی میں میاں بیوی کا آپس میں محبت سے رہنا بے حد پسند ہے۔ اگر دونوں میاں بیوی آپس میں محبت سے رہ رہے ہوں گے، یہ ایک فیملی یونٹ ہے، ایک اکائی ہے معاشرے کی، تو اس کی وجہ سے اولاد کی تربیت صحیح ہوسکے گی۔ اور جہاں میاں بیوی میں آپس میں محبت نہ ہو، لڑائیاں ہوں، روز کی خرابیاں ہوں، پریشانیاں ہوں، تو پھر زندگی میں سکون بھی نہیں ہوگا۔ نہ بیوی سکون میں، نہ خود خاوند سکون میں، اور اولاد بھی پریشان ہوگی۔ ہمارے پاس تو آئے روز ایسے ایسے حالات آتے ہیں جو بیان بھی نہیں کرسکتا۔ وہ کیوں ہوتے ہیں؟ صرف اور صرف اس لیے کہ خاوند کو دین کا علم نہیں ہوتا، اگر علم ہوتا بھی ہے تو عمل میں نہیں ہوتا۔ اسی طرح بیوی کی بھی تربیت نہیں ہوتی۔
دینداروں میں بگاڑ کی وجہ
بعض دین دار لوگوں میں بھی اگر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ دیندان تو ہوتے ہیں، لیکن دین دار نہیں ہوتے۔ یعنی دین کی معلومات تو ہوتی ہیں، لیکن دین اندر اُترا ہوا نہیں ہوتا اس وجہ سے بھی پریشانیاں پیش آتی ہیں۔ اللہ ربّ العزّت نے مردوں کو تاکید فرمائی، سفارش فرمائی ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا:
وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النّساء: 19)
ترجمہ: ’’اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو‘‘۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ دیکھو! یہ ٹیڑھی پسلی سے بنی ہے، سیدھا کرنے لگو گے تو ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر چھوڑ دو گے تو وہ تو برابر ٹیڑھی رہے گی۔ (صحیح بخاری: رقم 4890)
خوب بات سمجھائی کہ حکمت کے ساتھ زندگی گزارو۔ یہاں بیوی کی برائی کرنا مقصود نہیں ہے، فقط مردوں کو سمجھانا مقصود تھا کہ دیکھو! گزارا کرنا ہے حکمت کے ساتھ۔ تحمّل سے کام لینا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی بھی سفارش ہے اور جنابِ رسول اللہﷺ کی بھی سفارش ہے۔
بہترین مرد
پھر نبی کریمﷺ نے بتایا کہ مردوں میں کون سے مرد بہترین ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم سارے ہی اچھے، بلکہ بہت اچھے ہیں۔ یہ کیسے پتا چلے گا کہ ہم حقیقت میں اچھے ہیں۔ صرف اپنے زُعم میں اچھا ہونا برا ہے۔ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھروالوں کے لیے بہتر ہے۔ اور میں خود اپنے گھروالوں کے لیے تم سب میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (سنن الترمذي: باب في فضل أزواج النبيﷺ)
جو خاوند اپنی بیوی کے ساتھ اچھا، وہ اللہ اور اس کے نبیﷺ کی نگاہ میں بھی اچھا۔ اگر کوئی آدمی سوسائٹی میں اچھا ہو، بزنس بہت اچھا ہو، خوبصورت بھی ہو، اسمارٹ بھی ہو، بڑے دنیا کے کام کرلیتا ہو۔ اگر وہ بیوی بچوں کے ساتھ اچھا نہیں تو شریعت کی نگاہ میں وہ اچھا نہیں، خواہ دنیا اس کو جتنا اچھا کہتی رہے۔ شریعت نے مختلف حقوق بتا دیے ہیں، مرد کو عورت کے بارے میں، اور عورت کو مرد کے بارے میں۔ تفصیلات بہت ہیں۔ یہ حقوق ہم سیکھتے نہیں پھر علم نہ ہونے کی وجہ سے پریشانی کا معاملہ آتا ہے۔ اسی طرح حقوق میں ایک حق ہے خرچے کا، اخراجات کا کہ یہ شادی کے بعد کس کے ذمے ہیں؟ بیوی کے ذمے ہیں یا خاوند کے ذمہ ہیں؟ شریعت نے اس کے بارے میں کیا کہا ہے؟ احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں اسے سمجھیے!
مرد پر خرچے کی ذمہ داری
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مردوں سے فرمایا کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیویوں پر خرچ کرو۔ امیر اپنی حیثیت کے مطابق، غریب اپنی حیثیت کے مطابق۔ ارشادِ باری عزّ اسمہٗ ہے:
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ (الطّلاق: 7)
ترجمہ: ’’ہر وُسعت رکھنے والا اپنی وُسعت کے مطابق نفقہ دے‘‘۔
یہ قرآن کریم ہے۔ اور معاملہ کس کے ساتھ ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ۔
دیکھیں! آج ایک نکاح ہونا ہے، ابھی ہوا نہیں، بیان کے بعد اِن شاءاللہ ہوگا۔ اب یہ جو دولہے میاں بیٹھے ہیں، ان کا اس وقت دلہن کو دیکھنا منع ہے اور حرام ہے، بات چیت کرنا حرام ہے، ہاتھ لگانا بھی حرام ہے۔ کس وجہ سے؟ اس لیے کہ ابھی نکاح ہوا نہیں ہے۔ پھر جب نکاح کی تقریب ہو جائے گی تو جس کو دیکھنا حرام تھا، اس کو دیکھنا عبادت بن جائے گا۔ جس سے بات کرنا حرام تھا، اس سے بات کرنا، اس کے دل کو خوش کرنا عبادت بن جائے گا۔ یہ کس کے نام کی برکت سے معاملہ حلال ہوا؟ اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے۔ اتنی برکتوں والا نام ہے اللہ ربّ العزّت کا۔ جیسے کوئی جانور ویسے ہی ذبح کر دے، اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے تو حرام ہوگا، لیکن اللہ اکبر کہے، اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ذبح کرے تو وہ حلال ہوجائے گا۔ بس اللہ تعالیٰ کے نام کی بڑی برکتیں ہیں۔
یہ جو دولہا دلہن میاں بیوی کی حیثیت سے اِن شاء اللہ ایک ہو رہے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے ہو رہے ہیں۔ اور یہ جو مرد کو اجازت مل رہی ہے کہ عورت سے تسکین حاصل کرلے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے اس کے لیے حلال ہو رہی ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے اس نکاح کے ذریعہ اتنی آسانی فرما دی۔ اس نکاح کے فوراً بعد بہت ساری چیزیں مرد کی طرف متوجہ ہوتی ہیں، اور بہت ساری چیزیں عورت کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ آج جوبات کرنی ہے وہ اخراجات کے بارے میں بات کرنی ہے کہ شریعتِ مطہّرہ نے اس سلسلے میں ہمیں کیا احکامات دیے ہیں۔ اُمید ہے کہ توجہ کے ساتھ باتوں کو سنیں گے۔ پچھلے اتوار کو بھی ایک نکاح تھا۔ آج بھی ایک نکاح ہے اور اللہ کی شان کہ ہمارے جامعہ کی ایک بچی ہے اور دوسرے سال کی طالبہ ہے۔ اور دولہا میاں بھی ما شاءاللہ جامعہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور جامعہ کی خدمت، اور مختلف کاموں کو شوق اور محبت سے کرتے ہیں۔ دونوں ہی جامعہ سے متعلق ہیں۔ اللہ تعالیٰ خیر رکھے۔ آج کی مجلس میں جو تھوڑی سی کھنچائی ہے وہ مردوں کی ہے۔ عورتوں کی باری بھی آئے گی، لیکن بعد میں اِن شاء اللہ۔
بیوی بچوں پر خرچ کرنے کا اَجر
حضرت عمرو بن اُمیہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ یہ بات سنی ہے:
آدمی جو اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے۔ (مجمع الزوائد: رقم 7705)
حضرت عمرو بن اُمیہ سے ہی ایک روایت میں منقول ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو کچھ بھی آدمی اپنی بیوی کو دیتا ہے وہ صدقہ ہے۔
(مسند احمد: رقم 17165)
حضرت ابومسعود بدری سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: جب آدمی اپنے اہل وعیال پر ثواب سمجھتے ہوئے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
(صحیح بخاری: رقم 55، صحیح مسلم: رقم 1002)
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ وہ دینار جسے تم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا، وہ دینار جسے تم نے کسی غلام کی آزادی کے لیے خرچ کیا، وہ دینار جو تم نے کسی مسکین کو صدقہ دیا، وہ دینار جو تم نے اپنے اہل وعیال پر خرچ کیا، اجر میں وہ دینار زیادہ ثواب کا باعث ہے جسے تم نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کیا۔ (صحیح مسلم: رقم 995)
حضرت جابر بن سمرہ کی روایت میں ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ ربّ العزّت تم میں سے جسے مال سے نوازیں، تو اسے چاہیے کہ (خرچ کرنے میں) ابتدا اپنے آپ اور اپنے اہلِ خانہ سے کرے۔ (صحیح مسلم: رقم 1454)
ایک اور روایت میں آتا ہے نبی کریمﷺ نے حضرت براء بن عازب سے ارشاد فرمایا:
فإنّ نفقتك على أهلك وولدك وخادمك صدقةٌ ، فلا تتبع ذلك منًّا ولا أذًى.
ترجمہ: ’’بے شک تیرا اپنی بیوی، اپنے بچوں اور خادموں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ اس (خرچ کرنے) کے بعد نہ احسان جتلانا اور نہ (انہیں) تکلیف دینا‘‘۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 1239)
ایک صحابی معاویہ قشیری نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! ہمارا اپنی بیویوں پر کیا حق ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو تم کھاؤ وہ انہیں کھلائو، جو تم پہنو (جس معیار کا کپڑا) وہ انہیں پہنائو۔ انہیں چہرے پر نہ مارو، اور نہ انہیں بدصورتی کا طعنہ دو، اور نہ انہیں جدا کرو۔ (سنن ابی داؤد: رقم 2142)
’’جو تم پہنو وہ انہیں پہنائو‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ اچھا پہنتے ہو تو اچھا پہنائو۔ اچھا کھاتے ہو تو اچھا کھلائو۔ سادہ پہنتے ہو تو سادہ پہنائو۔ سادہ کھاتے ہو تو سادہ کھلائو۔ اس معاملے کو اپنی استطاعت کے مطابق انجام دو۔ جس آدمی کی جتنی گنجائش ہے اُس طرح اسے ڈیل کرے۔ اگلی جو تینباتیں ہیں اس میں امیر غریب کا مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ اس میں یہ فرمایا کہ تم ان کو چہرے پر نہ مارنا، بدصورتی کا طعنہ نہ دینا، انہیں جدا نہ کرنا یعنی گھر سے بے دخل نہ کرنا۔
معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کے اَسباب
کتنے خاوند ہیں جو نبی کی اس بات پر عمل کرتے ہیں۔ شادی سے پہلے جب منگنی وغیرہ کرتے ہیں، اس وقت تو ہر چیز بڑی اچھی چل رہی ہوتی ہے۔ بہت Select کر کے لاتے ہیں۔ جیسے ہی Select کرکے آتے ہیں پتا نہیں کیا عداوت شروع ہو جاتی ہے۔ پھر کیا کہتے ہیں؟ تُو ایسی، تیرا باپ ایسا، تیری ماں ایسی، تیرا خاندان ایسا۔ بھئی! ساری چیزیں تو پہلے سمجھ کر لائے ہو، خود فیصلہ کیا ہے۔ کہیں اور کرلیتے اگر وہ بری صورت تھی، اس کے ماں باپ اچھے نہیں تھے۔ اب کیوں وہ بری لگنے لگی گئی ہے۔ کیوں اس کے ماں باپ بُرے لگنے لگ گئے ہیں جو تھوڑے دن پہلے بالکل ٹھیک تھے۔ نکاح سے پہلے سُسرال والوں کی بڑی خدمت ہو رہی ہوتی ہے، اور نکاح کے ایک دو مہینے بعد وہی بُرے لگ رہے ہوتے ہیں۔
اور ارشاد فرمایا کہ’’ انہیں نہ مارو‘‘۔ یہ بھی نبی نے اپنی اُمت سے فرمایا ہے۔ اور آج بہت سارے مرد ایسے ہیں جن کا ہاتھ قابو میں نہیں ہوتا۔ اگر حکمت اور محبت کے ساتھ رہیں گے تو ہاتھ اُٹھانے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ انہیں گھر سے نہ نکالو۔ ذرا غور تو کریں کہ اپنی اسی بیوی کو جو اس کی اپنی عزت ہے، ہاتھ پکڑ کر دھکے دے کر باہر نکالنا، اسے ہم درندگی نہیں، تو کیا نام دیں؟ اسی سے اولاد ہوئی، اسی سے سارے اپنے کام کاج کروائے اور آج اسی کو بے گھر کر رہا ہے۔ سوچیے کہ ہم نبیﷺ کی روحانی بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔ کل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہے۔
یہ تو آپ نے چند باتیں سنیں۔ اب قیامت کے دن کیا معاملہ پیش آنا ہے اُس کو بھی حدیثِ پاک کے حوالے سے سن لیجیے۔
اہل و عیال پر خرچ کا میزان میں تولا جانا
حضرت جابر فرماتے ہیں حضور پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے جو میزان میں رکھا جائے گا وہ آدمی کا اپنے اہل وعیال پر خرچ ہے۔
(معجم اوسط للطبرانی: رقم 6302)
اللہ تعالیٰ نے بھی فرما دیا:
لِيُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ
اور نبیb نے بھی فرمایا کہ نفقہ کا حساب ہوگا۔ دیکھیں! سمجھایا جا رہا ہے کہ مرنے کے بعد تو اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہی ہے۔ پھر جب سب سے پہلے اعمال نامے میں حقوق العباد کی بات آئے گی تو یہ بات سب سے پہلے رکھی جائے گی کہ تم بیوی کے ساتھ کیسے رہے۔ حقوق اللہ میں نماز کا معاملہ سب سے پہلے ہوگا، اور حقوق العباد میں سب سے پہلے بیوی بچوں کا معاملہ کہ تم ان کے ساتھ کیسے رہے۔ یہ قیامت کے دن سوال ہوگا۔ اب ہمیں چاہیے کہ اللہ ربّ العزّت نے جس کو ہمارے لیے حلال کیا، اب اپنی استطاعت کے اندر رہتے ہوئے اس کا خیال رکھیں۔ گھر والوں پر خرچ کرنا یہ فی سبیل اللہ (اللہ کے راستے) میں خرچ کرنے کی مانند ہے۔
اہلِ خانہ پر خرچ کا مطلب
لیکن یہ کس وقت تک فی سبیل اللہ رہتا ہے؟ اس کی کوئی حد بھی ہے یا کوئی حد نہیں؟ جی ہاں! بالکل ہے کہ جائز ضروریات پر خرچ ہوتا رہے۔ لیکن جب اِسراف، فضول خرچی پر خرچ ہو، اور ایسے کپڑے آپ لا کر دیں جو بے حیائی کے علمبردار ہوں، جو غیر قوموں کی مشابہت رکھتے ہوں، جن کا اسلام سے اور دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اس کے علاوہ ایسی چیزیں جیسے گانے بجانے کی چیزیں گھر والوں کو لاکر دینا۔ گویا گھر میںمنی سینما گھر بنا دیا۔ اب کیا ہوگا؟ یہ سب بھی اگرچہ گھروالوں کے لیے کیا ہے، لیکن یہ سب حرام ہوگا اور گناہ ہوجائے گا۔ اور اس سب پر قیامت کے دن پکڑ ہوگی۔ خرچ کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بیوی بچوں پر خرچ کرنے سے حلال اور حرام کی تمیز ختم ہوگئی، اور کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ کہاں خرچ کرنا ہے؟ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے۔ قیامت کے دن جو سوالات ہوں گے ان میں کیا کچھ ہے؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ زندگی کہاں گزاری؟
دوسری بات جوانی کہاں گزاری؟
تیسری بات کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟

چوتھی بات اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ (سنن ترمذی: رقم 2416)
جہاں سے کمانا ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ دیکھنا ہے کہ کہاں کہاں سے ہمیں کمانے کی اجازت ہے۔ اور پھر کہاں خرچ کرنا ہے، اس پر بھی اللہ ربّ العزّت کی طرف دیکھنا ہے کہ ہم نے کہاں خرچ کرنا ہے۔ شریعت کو دیکھنا ہے کہ شریعت کیا کہتی ہے؟ بیوی بچوں پر وہ خرچ جو خوش دلی کے لیے ہو، شریعت کے دائرے میں ہو، اُس میں اِسراف نہ ہو، دِکھلاوا نہ ہو، نمود و نمائش نہ ہو، وہ سب عبادت اور صدقہ ہے۔ لیکن اگر آپ نے ایسی چیزیں لاکر دے دیں جس سے وہ سارا دن گانے بجانے میں لگے ہوئےہیں، یا لباس شریعت کے خلاف ہے، اور فضول خرچی میں معاملات جا رہے ہیں تو اس سارے خرچ کا آپ کو گناہ ملے گا۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ بیوی بچوں کی ذمہ داری کون پوری کرے؟ اللہ ربّ العزّت نے ہربات کو سمجھایا ہے۔ اس میں ہر زاویے سے دیکھا جائے گا، صرف ایک طرف سے نہیں دیکھا جائے گا کہ ما شاء اللہ بیوی بچوں پر خوب خرچ کر دیا تو سب کچھ ٹھیک ہے۔ نہیں، حلال خرچ کرنا ہے، حلال کمانا ہے، حلال خرچ کرنا ہے۔ جائز جگہوں پر خرچ کرنا ہے، ناجائز خرچ نہیں کرنا۔
اچھا! بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کے پاس اہلِ خانہ کے خرچ کے لیے تو ہوتاہے، اس کے علاوہ ضرورت مندوں پر خرچ نہیں کرتے۔ یہ بھی زیادتی ہے۔ شریعت کا مزاج اس طرح سے نہیں ہے۔ یہ بات بھی ان شاء اللہ آئے گی۔
سُسرال سے بہانے بہانے سے مانگنا
بعضے ایسے بھی لوگ ہیں جن کے پاس وُسعت ہوتی ہے اور باوجود وُسعت کے بیوی بچوں کے ضروری اخراجات پورے نہیں کرتے۔ جیسا کہ آج کل پیش آرہا ہے۔ بہت سارے خاوند حضرات کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ بیوی سُسرال سے ہی لے آئے۔ بیوی کو مجبور کرتے ہیں کسی نہ کسی بہانے سے۔ خود ماشاءاللہ کھاتے کماتے ہیں، لیکن بیوی کو مجبور کرتے ہیں کسی بھی طریقے سے۔ مجبور کرنے کے لیے زبان سے کہنا ضروری نہیں ہوتا۔ نفسیاتی اعتبار سے پریشان کرنا، ضرورتیں پوری نہ کرنا۔ وہ کہہ رہی ہےچھ مہینے ہوگئے آپ گھر کی چیزیں پوری نہیں کر رہے۔ سال ہوگیا یہ یہ چیزیں ختم ہوگئیں۔ وہاں سے یا تو کوئی جواب نہیں، یا پھر ایسا جواب ملتا ہے کہ عورت شرم سے پانی پانی ہو جائے۔ بالآخر وہ باپ کو فون کرے گی، اُن سے سوال کرے گی۔ تو آپ نے اسے مجبور کر دیا، چاہے زبان سے کیا ، چاہے کردار سے کیا۔ اگر آپ کے پاس وُسعت ہے جائز ضروری اخراجات کے لیے، اور آپ نہیں دے رہے، اور وہ اپنے ماں باپ کو دیکھ رہی ہے، کسی اور کو دیکھ رہی ہے تو اس بارے میں ذرا حدیثِ پاک سن لیجیے۔
بدترین شخص جو گھر والوں پر تنگی کرے
حضورِ پاکﷺ کا ارشاد ہے: لوگوں میں سب سے بدتر وہ شخص ہے جو اپنے اہل وعیال پر خرچ میں تنگی کرے۔ (کنز العمال: 375/16)
یہ تو ایک درجہ بتایا، اس سے اگلا درجہ بھی سن لیجیے۔
حضرت جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ مجھ سے نہیں جسے اللہ پاک نے وُسعت دی ہو اور پھر وہ اہل وعیال پر خرچ میں تنگی کرے۔
(تنویر شرح جامع صغیر: رقم 7677)
نبی کریمﷺ فرما رہے ہیں وہ شخص میری اُمت میں سے نہیں، مجھ سے واسطہ نہیں۔ اس سے براءت کا اظہار کر رہے ہیں جو وُسعت کے باوجود گھر والوں پر تنگی کرے۔ لوگوں کے مختلف انداز ہوتے ہیں۔ بعض تو کھلے منہ ہوتے ہیں، کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے اپنے باپ کو فون کرو۔ تمہیں یہ چاہیے ٹھیک ہے فون کرو۔ مجبور کرتے ہیں، اظہار کر دیتے ہیں۔ اور بعض ذرا شریف قسم کے ہوتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ زبان کا اظہار ہے پکڑ میں آجائیں گے، دائیں بائیں فرشتے بیٹھے ہیں یہ فوراً لکھ لیں گے۔ تو وہ اور طریقے اختیار کرتے ہیں، ضروریات پوری نہیں کرتے۔ اُن کو نظر آرہا ہوتا ہے کہ فلاں چیز ضرورت کی ہے، نہیں پوری کر رہے۔ یہ عملًا وہی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ کے پاس مکمل گنجائش ہے، اس کے بعد آپ کی بیوی کسی کی طرف دیکھے اخراجات پورے کرنے کے لیے تو یہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے ہوئے حق کو پورا نہیں کیا، قیامت کے دن اس بارے میں پکڑ ہوگی۔
علماء و صلحاء سے رابطہ رکھنا
ہر بات کی اپنی حدود ہیں، جنہیں اپنے موقع پر دیکھا جاتا ہے۔ صرف ایک زاویے سے، ایک نظر سے سب کو نہیں دیکھا جاتا۔ حالات کیا ہیں؟ معاملات کیا ہیں؟ اس کے لیے انسان علماء سے رجوع کرے۔ کوئی اگر اللہ والے سے بیعت ہو تو اپنے شیخ سے رابطہ کرے، ان سے پوچھے کہ اس مرحلے پر کیا کرنا چاہیے؟ مختلف حالات کے حساب سے بعض معاملات میں تبدیلی آجاتی ہے کہ آپ کے لیے یہ بہتر ہے، اس کے لیے یہ بہتر ہے۔ اگر غریب آدمی ہے تو اپنی غربت کے اعتبار سے حق ادا کرے، اور خوشحال آدمی ہے تو خوشحالی کے اعتبار سے حق ادا کرے، تو دونوں کے لیے الگ معاملہ ہے۔ وسعت ہو اور ضروری اخراجات انسان نہ پورے کرے تو یہ گناہ کی بات ہے۔
اچھا! خرچے میں صرف بیوی ہی نہیں ہے۔ اس کا دائرہ شریعت نے کھلا رکھا ہے۔
خرچ میں وُسعت لانا
حضرت معاویہ بن حیدہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ میں زیادہ کس کے ساتھ بھلائی کروں؟ (یعنی میرے پاس گنجائش ہو تو میں کیسے خرچ کروں؟) حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے پھر پوچھا، آپﷺ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ۔ میں نے پھر پوچھا، آپﷺ نے فرمایا: اپنی ماں ساتھ۔ (غرض تین مرتبہ ایک ہی بات ارشاد فرمائی) پھر پوچھا تو فرمایا: اپنے باپ کے ساتھ۔ پھر پوچھا تو فرمایا: قریبی رشتے داروں پر۔ (سنن ترمذی: رقم 1897)
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کا اِرشاد ہے: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ ہی کافی ہے کہ وہ خرچ روک لے (ان سے جن کی اللہ تعالیٰ نے اسے ذمہ داری سونپی ہے، یعنی اپنے اہل وعیال کی خبر گیری نہ کرے)۔
(صحیح مسلم: رقم 996)
آدمی کی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ سب اپنی جگہ، لیکن اگر وہ بیوی کا خیال نہیں رکھ رہا تو شریعت کی نگاہ میں گنہگار ہے، قصور وار ہے، مجرم ہے۔
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو
حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیث میں ہے، نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر وعظ فرمایا جس میں عورتوں کے معاملے میں فرمایا: عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو کہ جس کے نام پر تم نے اسے حاصل کیا، اور اسی کے نام سے وہ تمہارے لیے حلال ہوئیں۔ (صحیح مسلم: 1218)
آپ سورۃ البقرۃ دیکھیے! جہاں میاں بیوی کے مسئلے بہت زیادہ تفصیل سے آئے ہیں، وہاں ایک لفظ آخر میں ہر مرتبہ آیا ہے:
وَاتَّقُوا اللّٰہَ ،وَ اتَّقُوا اللّٰہَ
ترجمہ: ’’اللہ سے ڈرو‘‘، ’’اللہ سے ڈرو‘‘۔
اتنی تکرار ہے اتنی تکرار ہے کہ دیکھو! تم آپس میں ساتھ رہتے ہو اللہ سے ڈرو۔ کیوں؟ اس کے اندر ایک حکمت علماء نے یہ لکھی حضرت جی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ بہت سارے معاملات میاں بیوی کے ایسے ہوتے ہیں جو انہی دونوں کو پتا ہوتے ہیں باقی لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ یہ دونوں اس کی گہرائی کو اور حقیقت کو سمجھ رہے ہوتے ہیں، باہر والے تو سارے ظاہری نظر سے دیکھتے ہیں۔ تو ان کو یہ بتایا جارہا ہے کہ دیکھو! معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ تیری جیب میں پیسے ہیں تیری بیوی دوسروں کی زکوٰۃ اور خیرات کی محتاج ہو رہی ہے، یا تیری بیوی جس کو تُونے طلاق دے دی، آگے یہ اولاد بھی ہے، تیرے پاس پیسے بھی ہیں، لیکن تُونے دنیا کو بتایا ہوا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے، تو اللہ سے ڈرو۔ اس طرح کے اور بہت سارے معاملات اس میں ہیں۔ جب اللہ کا خوف ہوگا، خوفِ خدا سامنے ہوگا تو انسان سیدھا رہے گا۔
یہاں سے بات ساری سمجھ میں آگئی کہ ہمیں یہ چاہیے کہ ہم اپنی وُسعت کے مطابق گھر والوں کے لیے اخراجات کا اہتمام کریں۔
خرچ میں ترتیب
حضرت طارق بن عبداللہ المحاربی فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ منوّرہ حاضر ہوا تو میں نے دیکھا جنابِ رسول اللہﷺ منبر پر خطبہ دے رہے ہیں۔ میں نے سنا کہ آپﷺ فرما رہے تھے کہ دینے والا ہاتھ بلند ہے (باعثِ فضیلت ہے) سب سے پہلے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرو، پھر اپنی ماں پر، پھر اپنے باپ پر، پھر اپنی بہن پر، پھر اپنے بھائی پر، پھر اُنپر جو قریب ہوں، پھر جو اُن سے قریب ہوں اُن پر خرچ کرو۔
(مستدرکِ حاکم: رقم 4275)
حضرت کُلَیْب بن منفقہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضور پاکﷺ کے پاس آئے اور پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! میں کن کن کے ساتھ بھلائی کروں؟ حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، اپنے باپ کے ساتھ، اپنی بہن کے ساتھ، اپنے بھائی کے ساتھ، اور اس خادم یا غلام کے ساتھ جو تمہارے ساتھ رہتے ہوں اُن کا حق واجب ہے، ان پر صلہ رحمی کے طور پر خرچ کرو۔ (سنن ابی دائود: رقم 5140)
حضرت جابر بن سمرہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک تم میں سے کسی کو مال عطا فرمائے تو وہ اپنی ذات سے اور اپنے گھر والوں سے خرچ شروع کرے۔ (صحیح مسلم: رقم 1454)
یعنی پہلے اپنے اوپر، پھر اپنے گھر والوں پر خرچ کرے۔
حضرت جابر کی میں روایت ہے حضورﷺ نے ایک صحابی سے ارشاد فرمایا کہ پہلے اپنے سے خرچ شروع کرو، جو بچ جائے تو گھر والوں پر خرچ کرو، اب بھی کچھ بچ جائے تو رشتے داروں پر خرچ کرو، اس کے بعد بھی بچ جائے تو اپنے آگے پیچھے، دائیں بائیں والے پڑوسیوں پر خرچ کرو۔ (صحیحمسلم: رقم 997)
اب یہاں سے کیا معلوم ہوا کہ ہر آدمی کی اپنی گنجائش ہے۔ ہر آدمی اپنی استطاعت کے اعتبار سے اس مسئلے کو سمجھ لے کہ سب سے پہلے تو اپنی ذات کے اخراجات پورے کرے، کھانے پینے کی ضرورت، کپڑے کی ضرورت۔ پھر بیوی بچوں کے اخراجات پورے کرے، پھر قریبی لوگوں کے جو ایک چھت کے نیچے رہنے والے ہیں، والدین، بھائی بہن وغیرہ۔ پھر بھی گنجائش ہے تو اپنے اردگرد پڑوسیوں کو دیکھا جائے کہ جو ان میں سے ضرورت مند ہیں، ان کا خیال رکھے۔ بہت سارے حقوق ہماری طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ بس اپنا اپنا کرتے رہو اور دوسرے کی خبرگیری تک نہ کرو۔ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے آپ نے اپنا خرچ پورا کیا، بیوی بچوں کا پورا کیا، والدین کا پورا کیا، بہن بھائیوں کا پورا کیا۔ بڑی سعادت مل گئی۔صلہ رحمی ہوگئی، حسنِ سلوک ہوگیا۔ اگر اور کثرت سے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے تو اب کیا کرے؟ اب اپنے رشتے داروں میں دیکھا جائے۔ خالہ، پھوپھی، چچا کوئی اس طرح رشتے دار نکل سکتا ہے، سامنے آسکتا ہے جس کے حالات مخدوش ہوں۔ اب انسان انہیں تلاش کرکے اُن کو بھی دے۔ اس کے بعد بھی گنجائش ہو تو کیا وہ اپنا ہوگیا؟ نہیں، پھر بھی اپنا نہیں ہوا۔ اب فرمایا کہ اپنے پڑوسیوں کو تلاش کرو، اِردگرد دیکھو۔ کیا اس کے بعد چھٹی ہوگئی؟ نہیں، اس کے بعد فرمایا:
ہر ضرورت مند کا مالدار پر حق ہے
وَ اَمَّا السَّآىِٕلَ فَلَا تَنْهَرْ۰۰ (الضّحٰی: 10)
ترجمہ: ’’اور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں‘‘۔
حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۰۰ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۰۰ (المعارج: 25,24)
ترجمہ: ’’اور جن کے مال و دولت میں ایک متعین حق ہے، سوالی اور بے سوالی کا‘‘۔
دیکھو! خاندان میں کس کو زیادہ ضرورت ہے، اس کو دو۔ کوئی مانگنے والا سائل آجائے، اس کو دو۔ پوری ایک ترتیب ہے۔ اگر کوئی آدمی صرف بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہے اور بہن بھائیوں کو ضرورت ہے، اور بہن خدانخواستہ طلاق ہوچکی گھر آگئی۔ ہمارے معاشرے میں وہ بچی جسے خدانخواستہ حادثہ طلاق پیش آجائے، یہ جب ہمارے گھر میں آتی ہے تو اس کی حیثیت ایک ماسی، ایک کام والی اور ایک جمعدارنی اور ایک بھنگن سے زیادہ نہیں ہوتی۔ شریعت نے حکم دیا کہ یہ بھائی کی ذمہ داری ہے کہ اس کے اخراجات کو پورا کرے، بوجھ نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرے۔
جس آدمی کے پاس مال ہے ہی نہیں، اسے شریعت نہیں کہتی کہ تم سارے خاندان پر خرچ کرو۔ خاندان کی طرف کس کو متوجہ کیا جا رہا ہے؟ جسے اللہ تعالیٰ نے وُسعت دی ہے۔ اب ایک آدمی کام کر رہا ہے، اس کی اچھی آمدنی ہے اور اسی کے سگے بھائی کا کام نہیں ہے، اور یہ اس پر خرچ نہیں کر رہا تو کیا عنداللہ یہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے وسعت سے نوازا، چھوٹ جائے گا؟ قریبی رشتہ دار مثلاً خالہ، پھوپھی وغیرہ آدمی کی ذمہ داری میں آتے ہیں۔ آدمی اپنے سارے خرچے پورے کر رہا ہے اور اُن کی جائز ضرورت کو نہیں پوچھتا جبکہ اس کے پاس گنجائش بھی ہے، تو قیامت کے دن اسے اپنے رشتے داروں سے متعلق جواب دینا ہوگا۔ خرچ اللہ تعالیٰ کے اور نبیﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر ہی کرنا ہے۔
ادائیگی حقوق پر اللہ تعالیٰ کا معاملہ
حضرت جی دامت برکاتہم سے بہت مرتبہ یہ بات سُنی کہ بعض لوگوں کو اللہ ربّ العزّت مال ان کی اپنی ذاتی ضرورت سے بہت زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ وہ سارا اُن کا نہیں ہوتا۔ اگر وہ زکوٰۃ بھی ادا کرتے رہیں، گھر والوں کا نان نفقہ بھی پورا کرتے رہیں، شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے قریبی رشتے داروں کو بھی دیکھتے رہیں اور لوگوں کی بھی مدد کرتے رہیں، سائلین کی بھی مدد کرتے رہیں، طلباء، مدارس اور نیک لوگوں کا بھی خیال کرتے رہیں، علماء کا بھی خیال کرتے رہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے اس منصب پر باقی رکھتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا رسول اللہﷺ کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے منصب پر باقی رکھتے ہیں، ان کا مال کم نہیں ہوتا، گھٹتا نہیں۔ نبی کریمﷺ نے گارنٹی دے دی کہ اُن کا مال کم نہیں ہوتا۔
ہاں! اگر یہ حقوق میں کوتاہی کریں، خرچہ دینے میں کمی کریں۔ مانگنے والوں کو اور قریبی لوگوں کو محروم کریں اور کسی پر خرچ نہ کریں۔ پھر اللہ ربّ العزّت اکثر اوقات ان سے مال کو واپس لے لیتے ہیں اور یہ ڈیوٹی کسی اور کو دے دیتے ہیں۔ آپ نے بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ جی! پہلے تو بہت اچھے تھے، مٹی کو ہاتھ لگاتے تو سونا بن جاتی تھی۔ اور اب سونے کو ہاتھ لگاتے ہیں تو مٹی بن جاتا ہے۔ ذرا غور تو کریں اپنے اس زمانے پر، جب وہ مٹی کو ہاتھ لگاتے تھے اور وہ سونا بن جاتی تھی۔ اُس وقت ان کی طرف جو مالی حقوق متوجہ تھے، اس میں انہوں نے کیا کیا تھا؟ اس وقت انہوں نے اس میں کوتاہی کی۔ یہی سمجھتے رہے کہ یہ مال میرا ہے۔ اور یہ بھی سمجھتے رہے کہ ہمیشہ میرے پاس ہی رہے گا۔ یہ مال نہ میرا ہے، نہ ہمیشہ میرے پاس رہے گا۔ یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے اور واپس چلے جانا ہے۔
ہسپتال کے مالک کی رُوداد
لاہور میں ایک صاحب کا ہسپتال خوب چلتا تھا، اور خوب اُن کی آمدنی اس سے ہوتی تھی۔ وہ صاحب ما شاء اللہ چالیس گھروں کی کفالت کرتے تھے۔ ہر مہینے چالیس گھروں کو راشن پہنچایا کرتے تھے۔ اور اللہ ربّ العزّت اس کی برکت سے ان کو خوب دے رہا تھا۔ الحمدللہ! کوئی کمی نہیں تھی۔ اللہ کی شان کہ ان صاحب کا انتقال ہوگیا۔ ان کی اولاد نے انتظام سنبھالا تو کہنے لگے کہ ابا تو پاگل تھا، اتنا سب دوسروں کو دے رہا تھا۔ اب جب زیرِ کفالت ان کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس سے اُن کا کام کم ہونا شروع ہوگیا۔ اِن مرحوم کی بیوہ نے ایک عالم کو بتایا کہ ہمارے گھر کا خرچہ اتنا تو آرہا ہے جتنی آج ہماری ضرورت ہوتی ہے، ہمارے خرچے تو پورے ہیں، لیکن جو 40 گھروں کی میرے خاوند نے ذمہ داری لی ہوئی تھی وہ سارا کم ہوگیا ہے۔ اب وہ نہیں مل رہا۔ان عالم نے جواب دیا کہ وہ اب اللہ تعالیٰ نے کسی اور کی طرف بھیج دیا ہے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سب میرا آرہا ہے، وہ کسی اور کا اللہ بھیج رہے ہوتے ہیں۔ آپ ڈاک پہنچاتے جائیں، ڈاکیے کی Job لگی رہے گی۔ اچھا ڈاکیہ وہی ہوتا ہے کہ جب اس کو ڈاک دی جائے، وہ ہر جگہ ڈاک پہنچادے۔ محکمہ ڈاک اس کو برقرار رکھتا ہے۔ اور جب وہ ڈاک نہ پہنچائے، اپنے پاس ہی تھیلے میں بھرے رکھے تو بہت جلدی ایسے ڈاکیے کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ تو جو ہمارے پاس مال آرہا ہے، اگر وہ ہماری ضرورت سے بہت زیادہ ہے تو وہ صرف ہمارا ہی نہیں ہے، اس میں کئی لوگوں کا حق ہے۔
حرام مال کا حرام جگہ لگنا
کچھ ایسے لوگ بھی آپ نے دیکھے ہوں گےکہ میوزیکل شوز پر، ناجائز محفلوں میں 50,50ہزار روپے بھی خرچ کر دیتے ہیں۔ کچھ دن پہلے ایک خاتون کا پیغام آیا کہ میرے خاوند 50,45سال کی عمر ہوگئی ہے۔ زندگی میں کبھی ایک روپیہ بھی زکوٰۃ نہیں دی۔ اس خاتون نے بتایا کہ میرے خاوند مجھ سے پرسوں کہہ رہے تھے کہ جی! ہم نے فلاں فنکشن میں جانا ہے، کوئی گلوکارہ آئی ہوئی ہیں۔ ایک ٹیبل بک کرانے پر 35 ہزار روپے لگیں گے، اور کھانے پینے کے اخراجات الگ ہیں۔
یہ شریعت اور دین سے دوری کی بات ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مال صاف نہیں ہے۔ مال پاک نہیں ہے۔ حلال مال عام طور سے حلال جگہوں پر ہی استعمال ہوتا ہے۔ جسے اللہ ربّ العزّت نے مال دیا ہو، وہ اپنے اوپر بھی خرچ کرے، گھروالوں پر بھی خرچ کرے، اور مزید رشتے داروں کو بھی دیکھے، پڑوسیوں کو بھی دیکھے، مدارس کو، علماء کو، طلباء کو دیکھے، اُن کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اسے ملیں گی۔ اس کا مال بھی کم نہیں ہوگا اور برکتوں کو لانے کا ذریعہ بنے گا۔
صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا
حضورِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: صدقہ مال کو کم نہیں کرتا۔ (صحیح مسلم: رقم 2588)
جنابِ رسولﷺ کو تو کفار بھی صادق اور امین کہا کرتے تھے۔ اُمیہ بن خلف ایک مشرک آدمی تھا۔ اُس نے نبیﷺ کہا تھا کہ میں نے ایک گھوڑا پالا ہے۔ اسے بہت کچھ کھلاتا پلاتا ہوں۔ میں اس پر بیٹھ کر تجھے ماروں گا۔ (العیاذ باللہ) نبیﷺ اس سے فرمایا کہ نہیں، بلکہ تُو میرے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ بس یہ سننا تھا کہ اسے یقین ہوگیا کہ اب تو میں ان کے ہاتھ سے ضرور مارا جاؤں گا۔ ذرا غور کیجیے کہ پکا کافر ہونے کے باوجود اُسے یقین تھا کہ میں نبی کے ہاتھوں ہی مارا جائوں گا۔ یہ جو کہہ رہے ہیں اللہ تعالیٰ اسے پورا کرا دیتے ہیں۔ تو جب نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، تو کیسے کم ہوسکتا ہے؟ بھئی! آپ کا کاروبار نہیں چل رہا، آپ صدقہ بڑھا دیں۔ پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کیسے اپنے نبیﷺ کی بات کو پورا کرتے ہیں۔ آپ صدقے میں کمی نہ ہونے دیں، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتیں آتی چلی جائیں گی۔
اور جو ترتیب نبی نے بتائی ہے اپنے پر، گھروالوں پر، والدین پر، بہن بھائیوں پر، رشتے داروں پر، پھر پڑوسیوں پر۔ اس ترتیب سے چلتے چلے جائیں، خرچہ کرتے چلے جائیں، ان شاء اللہ کبھی کم نہیں ہوگا۔ اس عرش والے کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں۔ بس ہم اپنی طرف سے رکاوٹیں پیدا نہ کریں، پھر کوئی کمی نہیں ہوگی۔ ہم جو اپنی طرف سے شریعت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے خرابی پیدا کرتے ہیں، پھر معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔
اہلِ خانہ کا خیال رکھنا
حضورِ پاکﷺ اُمہات المومنین کا بہت خیال رکھتے تھے۔ کتابوں میںآتا ہے حضرت عمر فاروق فرماتے ہیں کہ آپﷺ یہودیوں کے باغات میں سے خُمس مال سے اپنی بیویوں کا سال بھر کے نفقے کا انتظام کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: رقم 3094)
ایک اور حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عمرi سے روایت ہے کہ آپﷺ خیبر کی جائیداد سے اپنی ازواج مطہرات کو سال بھر کا نفقہ 80 وسق کھجور اور 20 وسق جَو دیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: رقم 2203)
جیسے آج کل کلو میں چیزیں بیچی جاتی ہیں، اس زمانے میں وسق ایک پیمانہ تھا جس کے لحاظ سے چیزوں کی خرید و فروخت ہوا کرتی تھی۔ نبی کریمﷺ ازواجِ مطہرات کو اتنی کھجوریں اور جَو دے دیا کرتے تھے جو سال بھر کے لیے کافی ہو جاتے۔ اور ازواجِ مطہرات کی اپنی عادت یہ تھی کہ جو سال بھر کے لیے ان کے لیے کافی ہوتا تھا، وہ چند دنوں یا چند ہفتوں میں خرچ کر دیتی تھیں۔ وہ بھی تو نبی کو دیکھتی تھیں۔ نبی نے اپنے لیے سال بھر کا کبھی نہیں رکھا، بیوی کو سال بھر کا ضرور دیا۔
ایک سوال کا جواب
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزارا کیسے ہوتا تھا؟ یاد رکھیے کہ اللہ ربّ العزّت کہیں سے کوئی ہدیہ بھیج دیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام نبی کے گھروں کا خیال رکھتے تھے۔ بعض کے گھروں میں بکریاں تھیں تو وہ دودھ بھیج دیتے، اُس سے گزارا ہوجاتا۔ کبھی کوئی کھجور بھیج دیتا، اس سے گزارا ہوجاتا۔ کبھی کوئی گوشت بھیج دیتا، اس سے معاملہ چل پڑتا۔ اپنی جتنی ضرورت ہوتی وہ رکھ لیا کرتیں اور باقی اس میں سے بھی صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔
اپنا روزہ یاد نہیںرہا
ایسا بھی ہوا کہ 10 دس ہزار یااس سے بھی بڑی رقمیں ایک وقت میں آئیں اور انہوں نے ساری اُسی دن خرچ کر دیں۔ ایک روایت میں اس طرح سے آتا ہے 80 ہزار یا ایک لاکھ درہم کی رقم امی عائشہ کے پاس آئی صبح کے وقت، اور شام تک ساری رقم فارغ کر دی، کچھ بھی نہیں رکھا۔ ان کا اپنا روزہ تھا۔ شام کو ان کی باندی اُمّ ذرّہ نے کہا کہ آپ کے پاس اتنا مال آیا تھا، ایک درہم ہی رکھ لیتیں تو آج افطار میں گوشت لیتے۔ کہنے لگیں کہ پہلے یاد دلا دیتی تو میں رکھ لیتی، اب تو چلا گیا، اب کیا کہنا۔
(حلیۃ الاولیاء: حضرت عائشہ کا زہد اور سخاوت)
یہ امہات المؤمنین کا مزاج تھا کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں تنگی کے باوجود خرچ کیا کرتی تھیں۔ سبحان اللہ! کیا خوب جذبہ تھا۔
مال کے ذریعے خیر خواہی کرنا
ہم یہ تو نہیں کہہ رہے آپ کو کہ سارا مال خرچ کر دیں۔ آج کے زمانے کا اور اُن کے حالات کا فرق ہے۔ اس زمانے میں مال کا ہونا ایمان کی سلامتی کے لیے ڈھال ہے۔ وجہ کیا ہے؟ ایک دوسرے کی خیر خواہی۔ بیوی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا، گھر والوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ایک اور حکم بھی ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے۔ مثال کے طور پر بھائی کا انتقال ہوگیا۔ اب اس کی بیوہ ہے، اس کی بچیاں ہیں، بچے ہیں۔ ان کی ذمہ داری بھی ہمارے اوپر ہی آتی ہے۔ ایسے ایسے حالات آتےہیں کہ میں زبان سے بتا نہیں سکتا۔ چند دن پہلے ہی ایک بات سامنے آئی۔ کسی آدمی کا انتقال ہوگیا۔ تو جو اس کا بھائی تھا اُس نے کہا کہ جی! ٹھیک ہے میں آپ کا خرچہ دے سکتا ہوں، لیکن ایک شرط ہے کہ عزت کو نیلام کرنا ہوگا۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ! کھلی باتیں کرتے ہیں۔ تو اس زمانے میں مال کا ہونا ایمان کے لیے ڈھال ہے۔ حلال مال کا ہونا اور وافر ہونا، جس کے حقوق ہم ادا کریں یہ ہمارے ایمان کے لیے ڈھال ہے۔ تو اللہ تعالیٰ سے ہم مال کی وُسعت اور خیر مانگا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عطا فرمائے۔ تو گھر والوں کا خیال کرنا یہ سب نبی کی ترغیب ہے۔
خرچہ مرد ہی نے دینا ہے
اور جیسے ہی نکاح ہوجاتا ہے۔ نکاح ہوتے ہی ہر آدمی پر اپنی بیوی کا نان نفقہ واجب ہوجاتا ہے۔ چاہے بیوی گھر میں ہو، یا مریضہ ہو ۔ تمام صورتوں میں اُس کا سارا خرچہ شوہر پر آتا ہے۔ کئی خواتین کے پیغامات آئے کہ ہم بیمار ہیں۔ خاوند یہ کہتے ہیں کہ کھانا پینا ہم پورا کر دیں گے، دوائی کے پیسے اپنے باپ سے لے آئو۔ کیا یہ ہم نہیں کرسکتے؟ بھئی! بیماری تو صحت مند کو بھی آسکتی ہے، تمہیں خود بھی آسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر تمہیں بیمار کر دیتے تم گھر میں پڑے ہوتے پھر کیا کرتے؟ تو معاملات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اور یہ کہنا کہ جی! پہلے ہمیں بتایا نہیں، سمجھایا نہیں، اب بیماری آگئی ہے تو ہم کیا کریں۔ اب اپنا علاج وہاں سے کروائو۔
علامہ شامی نے فتاویٰ شامی میں اس بات کو لکھا ہے کہ علاج معالجہ مرد کی ذمہ داری ہے۔ جب مرد کہتا ہے قَبِلْتُ میں نے قبول کیا۔ اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ صرف اچھائیوں کو قبول کیا؟ برائیوں کو نہیں کیا؟ صرف اچھی عادات کو قبول کیا؟ بری عادات کو قبول نہیں کیا؟ کہیں ایسا ہوتا ہے؟ قَبِلْتُ میں نے قبول کیا۔ اس کی ساری ضروریات کو قبول کیا، ہر چیز کو قبول کیا۔ میں مرجائوں گا، یہ وارث ہے میرے مال کی۔ ساری چیزوں کو جیسی ہے ویسا اس کو قبول کیا۔ ساری ذمہ داریوں کو قبول کرنا ہے۔ اور علماء نے لکھا ہے کہ نان نفقہ اور گھریلو خرچ میں شوہر کی آمدنی کے مطابق گھریلو خرچ شوہر پر لازم ہوگا۔
ایک اور حق بھی بیوی کا متوجہ ہوتا ہے۔ بعض گھروں میں اس کا بھی احساس نہیں کیا جاتا۔ بیوی کو یا تو گھر پورا الگ لے کر دے دیں۔ انسان نہیں دے سکتا، حیثیت نہیں ہے، یا کوئی اور مسئلہ ہے۔ اور ماں باپ کے ساتھ رہنا ہے، بہت ہی اچھی بات ہے، ٹھیک ہے۔ اس کا کیا طریقہ ہے؟ فرمایا کہ بیوی کو ایک ایسا کمرہ دینا ضروری ہے جس میں بیوی اور اس کے شوہر کے علاوہ کسی کا عمل دخل نہ ہو۔ وہ آزادی کے ساتھ وہاں رہ سکتی ہو۔ پردے کے ساتھ، آزادی کے ساتھ وہاں رہ سکتی ہو۔ کسی دوسرے کا کوئی عمل دخل اس جگہ میں، اس کمرے میں نہ ہو۔ یہ بھی ذمہ داری ہے۔ (فتاویٰ شامی: 600/2)
اور بعض مائیں ایسی بھی ہیں لڑکوں کی کہ باقاعدہ اپنے بیٹوں کو اپنے ساتھ سلاتی ہیں، اور اپنی بہو سے کہتی ہیں کہ تو الگ سو۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ ایسے بہت سارے معالات اس وقت معاشرے میں ہو رہے ہیں۔
اسی طرح علماء نے لکھا کہ قریبی رشتے داروں میں اگر کوئی معذور ہو جیسے بہن اپاہج ہوگئی، یا بیمار ہوگئی، یا ایسے رشتے دار مثلاً بھتیجی، بھانجی وغیرہ ہے، اور اس کے والدین نہ ہوں، یا اتنے غریب ہوں کہ گنجائش نہ ہو تو خرچ کے اعتبار سے اُن سب کی ذمہ داری بھی اس مرد پر آتی ہے۔ (فتاویٰ شامی)
یہ کہہ کر فارغ نہیں ہوسکتا کہ میری بیوی بچے ہیں، اس کے بعد اور کسی کی ذمہ داری نہیں۔ علماء نے تفصیل لکھی ہے کہ اگر قریبی رشتہ دار نہ ہوں، دور کے رشتے دار ہوں۔ اور دور کے رشتے دار ایسے ہوں کہ معذور ہوں، اخراجات پورے نہ کرسکتے ہوں تو تب بھی یہ اس کی ذمہ داری میں آتے ہیں۔ ان باتوں کو ہم سمجھیں اور کوشش کریں کہ کبھی بھی کسی کی حق تلفی نہ ہو کہ قیامت کے دن سب سے پہلے پوچھ گچھ ہی یہ ہونی ہے کہ بیوی بچوں کا خرچہ کیسے کیا تھا؟ ضروریات پوری کی تھیں کہ نہیں کی تھیں؟ اور دوسرا یہ کہ ضروریات پوری کرنے کے علاوہ فضول خرچی بھی نہیں کرنی۔ ایسی چیزیں بھی نہیں لاکر دینی جس سے گناہوں کا ماحول پیدا ہوجائے اور پیسہ گناہ پر خرچ ہونے لگے۔ ہر خرچ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کرنا ہے ان شاء اللہ۔
اللہ ربّ العزّت عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں