13

تجارت کے اُصول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ o (الجمعۃ: 10)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

انسانی ضرورتیں

انسان جب زندگی گزارتا ہے تو اپنے معاش کے لیے تجارت کرتا ہے۔ بعض دفعہ اس کو کوئی چیز ہدیہ دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بعض دفعہ ہدیہ لینے کا موقع مل جاتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں بعض مرتبہ اُدھار لینا دینا جیسی یہ چیزیں بھی اسے پیش آتی رہتی ہیں۔ تو ہدیہ دینا نبی کی سنت ہے اور یہ دلوں کی گھٹن کو ختم کر دیتی ہے۔
حضرت ابوبکر کا عہد وفا کرنا
ایک مرتبہ نبی نے ایک صحابی حضرت جابر سے کہا: اے جابر! اگر بحرین سے (ہماری زندگی میں) مال آگیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنا مال دوں گا۔ (آپﷺ نے دونوں ہاتھوں کو ملا کر دس انگلیوں سے ایک مرتبہ، پھر اکیلے ہاتھ کی پانچ انگلیوں سے اشارہ کرکے بتایا) اللہ کی شان! نبی کی زندگی میںتو نہ آیا۔ جنابِ صدیقِ اکبر کی زندگی میں وہاں سے مال آیا تو صدیقِ اکبر نے اعلان فرمایا کہ اگر نبی نے کسی سے کوئی وعدہ کیا ہو تو وہ آکر مجھ سے لے لے، اور اگر کوئی قرض ہو تو آکر مجھ سے لے لے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں گیا اور صدیقِ اکبر کو جاکر بتایا کہ نبی نے مجھ سے اتنا وعدہ کیا تھا تو انہوں نے مجھے تین مرتبہ ہاتھ پھیلا کر دیا۔ میں نے بعد میں گنا تو وہ پندرہ سو تھے۔ (بخاری: رقم 2537)
کسی کے قول کو پورا کرنا بھی سنت ہے۔ اور یہاں وعدہ وفا کرنے میں کتنا زبردست اہتمام ہے۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ اپنا وعدہ کیا ہوا پورا نہیں کر پاتے، اگر والد صاحب نے کسی سے کچھ وعدہ کر دیا ہو تو اسے کیا پورا کریں گے؟ غور کرنے کی بات ہے۔
حضرت ابنِ عمر کو اُونٹ کا ہدیہ
اسی طرح کا ایک واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضورِ اکرمﷺ سفر میں تھے۔ حضرت عمر فاروق بھی اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کے ساتھ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ایک شریر اُونٹ پر سوار تھے جو حضرت فاروق اعظم کا تھا۔ لوگ چلتے تو وہ اُونٹ آگے نکل جاتا اور قافلے کی ترتیب کو باقی نہ رکھتا۔ حضرت عمر فاروق اسے جھڑکتے، پیچھے کرتے۔ ایسا کئی دفعہ ہوتا رہا۔ آخر نبی نے ایک دفعہ عمر فاروق سے کہا کہ عمر! اسے مجھے بیچ دو، میں اسے خریدنا چاہتا ہوں۔ فاروق اعظم کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! یہ آپ لیے گفٹ ہے، یہ آپ کا ہوا۔ نبیﷺ نے فرمایا: نہیں، میں نے اس کی ادائیگی کرنی ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ چناںچہ خریدنے کے بعد ابنِ عمرi جو اس اُونٹ پر سوار تھے، ان سے فرمایا کہ اے عبداللہ! یہ تمہارے لیے (ہبہ) ہے، جیسے مرضی استعمال کرو۔ (بخاری: رقم 2610)
ہبہ کرنا، ہدیہ کرنا نبی کی سنت ہے۔ فراخدلی کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہےکہ انسان دل کو بڑا رکھے۔ اور جب ہبہ کر دیا تو واپسی کا طالب نہ بنے۔ ہدیہ، ہبہ کرنے کے بعد واپس لینے کے لیے سخت وعید ہے۔ نبی کریمﷺ کی بات کو سنیے!
ہدیہ کرکے واپس لینے پر وعید
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا: ہدیہ دے کر، ہبہ کرکے واپس لینا ایسا ہے جیسے کتے کا قے کرکے چاٹ لینا۔ (صحیح بخاری: رقم 6574)
کتا جس چیز پر منہ مارلے وہ ناپاک ہے۔ ایسے ہی کتے کا بچا ہوا بھی ناپاک ہے۔ کسی برتن میں دودھ ہو یا اور کوئی چیز ہو، ہڈی پڑی ہو، کھانا ہو اور کتا منہ مارلے تو وہ ناپاک ہوجاتا ہے۔ اور کتے کا کھا کر اس کے معدے میں چلے جانا اور پھر الٹی ہو کر واپس آجانا اور اس کا اس اُلٹی کو چاٹنا یہ کتنا ناپاک وغلیظ کام ہے۔ کوئی اچھا آدمی اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ بلکہ دیکھ کر اسے بھی اُلٹی آنے لگے گی۔ کراہت ہونے لگے گی۔ اس لیے فرمایا کہ اگر کوئی آدمی کسی کو ہدیہ دے اور بعد میں ہدیہ کی چیز واپس مانگے تو یہ انجام کے اعتبار سے ایسا ہے جیسے کتے کا قے کرکے اس کو چاٹ لینا۔
ہمارے یہاں کیا ہوتا ہے؟ جب ہدیہ دیتے ہیں تو چوںکہ نیت ٹھیک نہیں ہوتی، اللہ کے لیے نہیں دے رہے ہوتے بلکہ کوئی نا کوئی مقصد یا غرض ہوتی ہے۔ اور جب وہ مقصد خراب ہونے لگے تو واپسی کے لیے کوشش ہوتی ہے۔ اس کی ایک عام سی مثال ہمارے یہاں کی شادیاں ہیں۔ منگنی ہوگئی۔ اب منگنی پہ فلاں چیز دے دی۔ عید آئی تو یہ دے دیا۔ لڑکی والوں نے لڑکے والوں کو، لڑکے والوں نے لڑکی والوں کو۔ آپس میں ایک دوسرے سے اچھا خاصا لین دین ہوگیا۔ اچھا جی! پھر شادی ہوگئی اور شادی کے موقعے پر بھی لین دین ہوگیا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے تو سب کچھ ٹھیک ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر خدانخواستہ طلاق، خلع وغیرہ کی نوبت آجاتی ہے تو پھر کیا کرتے ہیں؟ اب لوگ ایک ایک چیز واپس مانگتے ہیں۔ کہتے ہیں جی! یہ اسی نیت سے دیا تھا، وہ یوں دیا تھا، اور وہ یوں دیا تھا۔ اب معاملہ ختم ہو رہا ہے۔ اول تو معاملہ ختم ہونا نہیں چاہیے۔ تحمل مزاجی، برداشت، ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ نبی کے بتائے ہوئے طریقے ہیں۔ لیکن کہیں خدا نخواستہ خدانخواستہ طلاق کی، علیحدگی کی نوبت آبھی رہی ہے تو یہ معاملہ بھی احسن طریقے سے ہو۔ قرآن مجید میں بھی احسن طریقے سے رخصت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پہلی بیوی کا خیال رکھنا
حضرت مرشدِ عالم مولانا غلام حبیب کے ساتھ ایک دفعہ ایسا موقع آگیا کہ کسی دینی مجبوری کی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دینی پڑی۔ پھر دوسری شادی ہوئی۔ پہلی بیوی کو بہت اَحسن طریقے سے رخصت کیا اور اس سے یوں فرمایا: جتنی تمہاری ضرورت کی چیزیں ہیں سب تمہاری ہیں، لے جائو۔ بعد میں اپنے بچوں سے کہا کہ جائو! وہ تمہاری ماں ہے، اسے یہ چیزیں دے آئو۔ پیسے بھیجتے، ضرورت کا سامان بھیجتے تھے۔ زندگی بھر بھیجتے رہے جبکہ وہ بیوی بھی نہیں تھیں۔ لیکن خیال یہ تھا کہ بھئی! یہ کسی وقت میں میرے گھر میں رہی تھی۔ یہ ہوتا ہے اللہ والوں کا حسنِ اخلاق۔
عاریتاً کسی سے کچھ مانگنا
اسی طرح عاریت پر سامان لینے کی ضرورت پڑگئی۔ کسی سے کوئی چیز استعمال کی غرض سے اُدھار میں مانگ لی، تو یہ جائز ہے۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ طیبہ میں خوف اور دہشت طاری تھی۔ (بعض دفعہ دشمنوں کا خوف ہوتا ہے تو پریشانی ہوجاتی ہے۔ اس وقت دشمن کا خوف طاری تھا) حضورِ اقدسﷺ (جرأت اور استقلال کے پیکر تھے۔ صرف ایک اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تھے) ایک صحابی حضرت ابو طلحہ کے پاس گئے اور اُن سے ان کا گھوڑا مانگا۔ اُس گھوڑے کا نام مندوب تھا۔ نبی اس گھوڑے پر سوار ہوئے اور اکیلے تمام مدینہ کا چکر لگا کر آئے اور اطمینان دلایا کہ کوئی دشمن نہیں ہے۔ اور (گھوڑے کی خوبی بتلاتے ہوئے فرمایا کہ) ہم نے اس گھوڑے کو سمندر کی طر ح تیز پایا ہے۔ (بخاری: رقم 2484)
آپﷺ نے مندوب نامی گھوڑے پر چکر لگایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی سے ضرورت کے وقت کوئی چیز مانگ کر استعمال کرلینا جائز ہے۔ لیکن خیال رہے کہ ایسی بات ضرورت کے درجہ میں ہی ہو، عادتاً نہ ہو کہ اپنے پاس تو گھوڑا گھر پہ کھڑا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے سے لے جا رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جیسے اپنے پاس گاڑی موجود ہے، اس کو چھوڑ کر کسی اور سے گاڑی لی جا رہی ہے کہ مجھے 2 گھنٹے کے لیے، 4 گھنٹے کے لیے گاڑی دے دیں۔ پھر ضرورت سے اگر کسی سے لے لی تو چاہیے کہ اس کو اس طرح استعمال کریں جیسے اپنی گاڑی کو استعمال کرتے ہیں۔ اپنی گاڑی چلاتے ہوئے کھڈا آتا ہے تو گاڑی روکتے ہیں، اسی طرح جب دوسرے کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کھڈا سڑک پر آجائے تو اسی طرح سے گاڑی روکیں۔ اگر یہ خیال آگیا کہ جی کون سی اپنی ہے، کوئی پروا نہیں تو اب گناہ ہوجائے گا۔
ایسے ہی اگر کوئی کسی سے ضرورت کی کوئی چیز کبھی لے تو جیسے ہی ضرورت پوری ہوجائے فوراً واپس کر دے، اس میں دیر نہ کرے۔ مثلاً گھر میں استری خراب ہوگئی، پڑوس سے لے آئے۔ اب اپنے کپڑے تو استری کرلیے اور واپس دینا یاد نہیں رہا اور کئی دن گزرگئے۔ یہ چیز بھی مناسب نہیں ہے۔
صفوان بن اُمیہ کا قبولِ اسلام
نبی نے اور بھی مزید موقعوں پر کچھ لوگوں سے چیزیں استعمال کے لیے لی ہیں۔ صفوان بن اُمیہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے غزوہ حنین کے موقع پر اُن سے جنگ کا سامان عاریتاً لیا۔ حضرت صفوان اس وقت تک اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے۔جب اُن سے سامان مانگا گیا تو انہوں نے کہا کہ کیا یہ مفت میں چلے جائیں گے؟ (یعنی ایک فاتحِ مکہ ہے، وہ سامانِ حرب مانگ رہا ہے، تو دیا ہوا سامان واپس بھی ملے گا یا نہیں؟یا ایسے ہی چلا جائے گا) نبی نے ارشاد فرمایا کہ نہیں، بلکہ ضمان کے ساتھ عاریتاً لے رہا ہوں (پورا واپس کروں گا، اور اگر کوئی نقصان ہوگیا تو تمہیں اس کی تلافی دی جائے گی)۔ حضرت صفوان نے کہا کہ پھر کوئی حرج کی بات نہیں۔ اور سامانِ حرب دے دیا۔ (السیرۃ لابن ہشام: غزوۃ حنین في سنۃ ثمان بعد الفتح)
اگر کسی سے کوئی چیز ہم استعمال کے لیے لیں  تو احتیاط کے ساتھ استعمال کریں۔ اسے یہ محسوس نہ ہو کہ میری چیز اب مفت میں چلی گئی۔ چناںچہ جنگ ہوئی، سامان استعمال ہوا اور آخر میں کیا ہوا؟ جب ان کا سامان جمع کیا گیا تو چند زِرہیں کم ہوگئیں۔ نبی نے حضرت صفوان کو آفر دی کہ صفوان! جو آپ کے مال کی قیمت بنتی ہے، وہ لے لو۔ حضرت صفوان نے آپﷺ کے حُسنِ معاملہ کو دیکھ کر کہا کہ آج میرے دل میں اسلام کی وہ عظمت ہے جو آج سے قبل نہیں تھی۔ اور پھر یہ مسلمان ہوگئے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! مجھے واپس نہیں لینا جو گم ہوگیا وہ گم ہوگیا۔ (حوالہ بالا)
یہاں سے یہ بات ملتی ہے کہ ضرورت کا سامان مانگ کر استعمال کرنا درست ہے۔ اگر بے پروائی سے ضائع ہوجائے، یا خراب ہوجائے تو اس کا بدل دینا بھی واجب ہوگا۔ اور اگر بے پروائی سے ضائع نہ ہو ویسے ہی ضائع ہوگیا تو بدل دینا واجب تو نہیں ہے، لیکن اچھی بات ہے کہ انسان متبادل دے دے۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک دفعہ پیالہ کسی سے عاریتاً لیا، اور وہ پیالہ گم ہوگیا تو حضورِ پاکﷺ نے اُس پیالے کا بدل عطا کیا۔ (ترمذی: رقم 1360)
رسول اللہﷺ نے اس کی قیمت ادا کی کہ جس سے لیا ہے اس کا دل خراب نہ ہو۔
ایک جوڑے سے کئی بچیوں کی شادی
اسی طرح بعض دفعہ شادی کے موقع پر ہم نے دیکھا کہ عورتیں اپنے کپڑے ایک دوسرے سے تبدیل کرلیتی ہیں، یا زیورات خاص طور سے عاریتاً لیتی ہیں کہ آج میں اس ڈیزائن کا پہن لیتی ہوں اور آپ یہ والا ڈیزائن پہن لو۔ عموماً ایسا ہوتا ہے۔ اس کو اگر حدود کے اندر رکھاجائے تب تو بات ٹھیک ہے۔ امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسولِ خداﷺ کے مبارک زمانہ میں میرے پاس ایک جوڑا تھا۔ مدینہ طیبہ میں کسی بھی بچی کی شادی ہوتی تو وہ مجھ سے اُس جوڑے کو لے جاتی اور شادی کے بعد واپس دے جاتی۔ (بخاری: 358/1)
کتنی دلہنوں کی شادی اس ایک جوڑے سے ہوئی۔ 5 یا 10 درہم کا وہ کُرتا تھا بلکہ علامہ عینی نے ذکر کیا ہے کہ مدینہ میں کوئی ایسا گھر نہیں تھا جہاں شادی کے موقع پر کپڑا یا کُرتا استعمال نہ ہوا ہو۔ اتنی کثرت سے اس کا استعمال ہوا۔ اور اس میں شرافت کے خلاف بھی کوئی بات نہیں۔ جیسے کہ بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ جی! مانگی ہوئی چیز لینا بُری بات ہے۔ اس کے اندر کوئی بُری بات نہیں ہے۔ امی عائشہ نے ایک مرتبہ اپنی بہن حضرت اسماء سے ہار مانگ کر پہنا تھا۔ (صحیح بخاری: رقم 3562)
سادہ زمانہ تھا، سادگی ہوا کرتی تھی۔ آج کا فیشن تو یہ ہے کہ ایک دفعہ پہنی ہوئی کوئی چیز دوبارہ نہ پہنی جائے۔ بھئی! یہ خواہش جنت میں پوری ہوجائے گی، دنیا میں پوری نہیں ہوسکتی۔ دنیا میں ایک دوسرے سے کپڑے مانگ کر پہننے کی شریعت نے اجازت دے رکھی ہے۔ یہ سادگی کی علامت ہے۔
مضاربت
تجارت کی ایک قسم مضاربت ہے۔ ایک بندے کا مال ہوتا ہے اور دوسرے بندے کی محنت اور تجربہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک بات تو یہ ہے کہ مضاربت سنت ہے۔ دوسرا یہ کہ مضاربت اگر شرعی اُصولوں کے مطابق خدا خوفی کے تحت کی جائے تو اس میں برکت بھی بہت ہے۔ نبیd تجارت کے معاملات کس طرح کرتے تھے؟
حضرت ابنِ سائب فرماتے ہیں کہ آپﷺ بہترین شریک تھے، نہ آپ کسی سے اختلاف کرتے، اور نہ ہی کسی سے جھگڑا کرتے تھے۔ (معجم اوسط للطبرانی: رقم 890 )
مضاربت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر کسی کے پاس مال ہے۔ لیکن کام کرنے کے لیے وقت نہیں، تجربہ نہیں، ہمت نہیں۔ ایک دوسرا بندہ ہے جس کے پاس مال نہیں، لیکن کام کرسکتا ہے۔ اگر یہ دونوں (پیسہ دینے والا اور کام کرنے والا) خدا خوفی کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سامنے رکھ کر کام کریں گے تو اس میں برکت ہی برکت ہے۔
تین برکت والی چیزیں
حضرت صہیب روایت کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: تین چیزوں میں برکت ہے:
(۱) وقت اور قیمت کے تعین کے ساتھ اُدھاری میں معاملہ کرنا۔
(۲) مقارضہ / مضاربت کرنا۔
(۳) گھر میں گیہوں اور جَو ملا کر کھانا، ملا کر بیچنے کی اجازت نہیں۔
(سنن ابنِ ماجہ: رقم 2281)
پہلی بات اِرشاد فرمائی کہ اُدھار قیمت کے ساتھ معاملہ کرلے۔ یعنی کسی کو ضرورت ہے اُدھار کی، تو وقت کے تعین اور قیمت کے تعین کے ساتھ معاملہ ہو سکتا ہے۔ جب کسی کی مجبوری میں کام آئیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کام آنے والے کو برکت دیں گے۔
دوسری بات یہ اِرشاد فرمائی کہ شرکت اور مضاربت میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے۔ اگر آج ایمانداری کے ساتھ، دیانت داری کے ساتھ یہ کام کیا جائے تو کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کے پاس گھروں میں، بینکوں میں پیسہ پڑا ہے۔ سالہا سال سے بے کار پڑا ہوا ہے۔ اگر اُن کو کوئی ایمان دار آدمی مل جاتا ہے، بھروسے والا آدمی مل جاتا ہے، تو وہ ضرور چاہیں گے کہ یہاں پیسے لگانے ہیں۔ بہت بڑا ایسا سرمایہ جو کسی کے کام نہیں آرہا وہ استعمال میں آجائے گا اور وہ دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
تیسری بات جو اِرشاد فرمائی کہ گیہوں میں جَو ملا کر کھانا اس میں بھی برکت ہے۔ خیال رہے کہ جو فروخت کرنے والا ہے اس کو اجازت نہیں ہے کہ وہ ملائے، ملاوٹ کرے۔ ہاں! گھر میں جب انسان گندم کی روٹی پکا رہا ہے، چکی پہ پیسوانے کے لیے بھیجتا ہے تو اسے چاہیے کہ گندم کے ساتھ تھوڑی جَو بھی شامل کرلے۔ اس طرح سے نبی کی بتائی برکت اسے حاصل ہوجائے گی۔
کاروبار میں شراکت داری
اگلی بات کہ صحابۂ کرا کاروبار میں شراکت داری کس طرح کرتے تھے؟
حضرت عبداللہ بن ہشام جب بازار جاتے اور غلہ وغیرہ خریدتے تو حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن زبیر اُن سے ملتے اور کہتے کہ دیکھو! تمہیں نبی نے برکت کی دعا دی ہے، ہمیں اپنی تجارت میں شامل کرلو۔ تو وہ اُن دونوں حضرات کو اپنی تجارت میں شامل کرلیا کرتے تھے۔ (بخاری: رقم 2368)
اس طرح یہ تینوں حضرات شرکت پر کاروبار کرتے اور انہیں خوب برکت حاصل ہوتی تھی۔ شرکت کے کاروبار میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے، لیکن اگر حقوق کی رعایت نہ ہو، خیانت ہو تو پھر برکت نہیں ہوتی۔ اگر ہماری زندگی نبی کے طریقے پر آجائے تو زندگی میں برکتیں ہی برکتیں ہیں، آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔
اب ایک اور معاملہ بیان کرتے ہیں۔ بعض دفعہ کوئی گری ہوئی چیز راستے سے مل جاتی ہے۔ اس بارے میں نبی کی کیا Guidelines ہیں؟ کیا ہدایات ہیں؟
راہ پڑی چیز کا حکم
حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی راستے سے گزر رہے تھے تو آپ نے ایک کھجور پڑی ہوئی دیکھی۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر صدقہ کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس کو کھالیتا۔ (بخاری: 2299)
نبی کے لیے صدقے کا مال کھانا منع تھا۔ نبیﷺ ہدیہ قبول کرتے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ جو نیچے رکھی ہوئی کھجور ہے، یا گری ہوئی کھجور ہے میں اسے کھانا چاہوں تو کھا سکتا ہوں، لیکن ہوسکتا ہے یہ صدقے کی ہو اس لیے میں نہیں کھا رہا۔ حافظ ابنِ حجر نے اسی حدیث شریف کی تشریح میں لکھا ہے کہ آپﷺ نے اس وجہ سے اس کھجور کو نہیں چھوڑا کہ راستے میں پڑی ہوئی چیز میں کیسے اُٹھائوں؟ جیسے امیر لوگ ہوتے ہیں! کہیں جارہے ہیں، راستے میں کھانے کی کوئی چیز گری ہوئی نظر آگئی، وہ اُسے اُٹھا کر کھانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی بات اس حدیث شریف میں بتلائی گئی کہ نبی اس وجہ سے نہیں چھوڑا، بلکہ چھوڑنے کی وجہ صدقہ کا اندیشہ تھی۔
علامہ عینی نے لکھا ہے کہ معمولی چیز جس کی کوئی حیثیت نہ ہو اور آدمی اُسے تلاش کرنے نہ نکلا ہو، اگر ایسی چیز راستے میں پڑی ہوئی ملے تو اس کو اُٹھا کر کھا لینا درست ہے تاکہ وہ ضائع نہ ہو جائے۔ اب اتنی سی چیز کا اعلان تو نہیں کیا جائے گا کہ جب تک مالک آئے وہ ضائع ہوچکی ہو۔
رزق کو ضائع ہونے سے بچایا جائے
طبقات ابنِ سعد میں ہے کہ اُم المؤمنین حضرت میمونہ کو راستے سے ایک انار کا دانہ ملا۔ انہوں نے جیسے ہی دیکھا اُٹھا لیا اور یوں فرمایا: اللہ پاک رزق ضائع کرنے والے کو پسند نہیں کرتے۔ یعنی اگر میں نہ اُٹھاتی تو یہاں کسی کی نظر نہ پڑتی، ضائع ہوجاتی اور رزق کا ضائع ہوجانامیرے اللہ کو پسند نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسی چیزوں کے کھانے اور استعمال کرنے میں جو ہم لوگ طبعًا ایک عار سمجھتے ہیں، یہ عار صحیح نہیں۔ بلکہ تواضع کی علامت یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمت کو ضائع نہ ہونے دے۔ یہ اُن چیزوں کا بیان ہو رہا ہے جو بالکل عام ہوں، ان کی تلاش میں کوئی نہ نکلے، اور نہ ہی ان کا اعلان کیا جائے، اور جس کی ہے وہ پریشان نہ ہو۔ لیکن اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کی قیمت زیادہ ہے، کسی کی گم ہوگئی تو اب وہ تلاش کے لیے نکلے، لوگوں سے پوچھے۔ یاد رکھیے کہ گری ہوئی کھجور ملے تو اُس کا حکم اور ہے، اور گرا ہوا سونے کا سکہ ملے تو اس کا حکم اور ہے۔ دونوں چیزوں میں بہت فرق ہے۔
سو دینار کی تھیلی
حضرت اُبی بن کعب نے فرمایا کہ میں نے ایک تھیلی پڑی ہو ئی پائی جس میں سو دینار تھے۔ میں نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور پوچھا: اے اللہ کے نبی! میں کیا کروں؟ نبی نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو اور مالک کا انتظار کرو۔ اب انہوں نے ایک سال تک انتظار کیا اور مالک کو تلاش کیا، مگر مالک نہ ملا تو پھر آگئے۔ اے اللہ کے نبی! اب میں کیا کروں؟ فرمایا: ایک سال اور اعلان کرو اور تلاش کرو۔ پھر انہوں نے ایک سال اور اعلان کیا اور تلاش کیا مگر نہ ملا۔ تیسری مرتبہ سال کے بعد پھر آئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! اب میں کیا کروں؟ (یہ خود بھی غریب تھے) اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا: اچھا! ٹھیک ہے تم اسے استعمال کرلو، لیکن اس کی مقدار کو، کیفیت کو یاد رکھو! اگر کبھی زندگی میں مالک آگیا اور اس نے تقاضا کیا تو تمہیں دینا پڑے گا۔ (بخاری: رقم 2294)
صحابۂ کرام کی ایک بہت ہی پیاری عادت تھی۔ جب وہ کسی نئی چیز کو دیکھتے، یا کوئی نیا معاملہ اُن کے ساتھ پیش آتا تو پہلے نبی کے پاس آکر اس کا حکم پوچھا کرتے تھے، اپنی طرف سے اندازے نہیں لگایا کرتے تھے۔ اس میں ہمارے لیے قیمتی سبق ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جب کوئی نیا معاملہ، نئی حالت پیش آئے تو ہم علماء سے رجوع کریں کہ اس میں صحیح کیا ہے؟ اور غلط کیا ہے؟ اس حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس چیز کی قیمت زیادہ ہو تو ایسی صورت میں اعلان کرنا، مالک کو تلاش کرنا واجب ہے، اور اپنے استعمال میں لانا درست نہیں ہے۔ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ راستے میں کچھ بھی پڑا ہوا ملا، سمجھتے ہیں کہ یہ غیب سے آیا ہے، میرا ہوگیا۔ یہ ٹھیک نہیں اور ایسا کرنا جہالت کی بات ہے۔ یہی چیز اپنے بچوں کو بھی سکھانی ہے۔ بچوں کی عقل پوری نہیں ہوتی، شریعت کا معلوم نہیں ہوتا تو بعض اوقات جہاں سے جوچیز پڑی ہوئی ملتی ہے اس کو استعمال میں لے آتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ انہیں سمجھائیں، اور کبھی وہ ایسا کرلیں اور قیمتی چیز ہو تو والدین کو چاہیے کہ مالک کو قیمت ادا کریں۔
گِروی رکھنے کا مسئلہ
اسی طرح کوئی چیز گروی رکھنا اگر شریعت اور سنت کے مطابق ہو تو جائز ہے، لیکن اگر آج کل ہمارے ماحول میں جس طرح مکان گروی دیے جارہے ہیں علماء نے اس کو منع فرمایا ہے اور ناجائزقرار دیا ہے۔ اب اس کی  تفصیلات ہیں، جسے یہ معاملہ درپیش ہو وہ جامعہ اشرفیہ جائے اور مفتی حضرات سے رجوع کرے۔
حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی نے ایک یہودی سے غلہ خریدا۔ قیمت ادا کرنے کے لیے اس وقت کچھ نہیں تھا، تو آپﷺ نے اپنی زرہ گروی میں رکھوادی کہ میں بعد میں پیسے دے کر اپنی چیز واپس لے جائوں گا۔ (بخاری: رقم 2916)
اس درجے تک تو بات ٹھیک ہے، لیکن جس کے پاس وہ چیز رکھوائی گئی، اس کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ جس کے پاس کوئی چیز گروی رکھی گئی ہے وہ اُس سے نفع نہ اُٹھائے۔
نان نفقہ مرد کی ذمہ داری ہے، عورت کی نہیں
اندازہ کیجیے کہ نبی کریمﷺ کی جب وفات ہوئی تو کس حال میں ہوئی؟ امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رکھ کر 30 صاع کی جَو منگوائی گئی اور وہ جَو بھی نبیﷺ نے اپنی بیویوں میں تقسیم کر دی۔ بیویوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو نبیﷺ نے اپنی زرہ کو گروی رکھوا کر بیوی بچوں کے نان نفقے کاخیال رکھا۔ اب یہاں سے وہ خاوند حضرات متوجہ ہوں جن کے گھروں میں بیویاں ہیں، اُن کے پاس ضروری اخراجات کے لیے مال بھی ہے اور وہ کہتے ہیں تم اپنے باپ سے لے آئو، اپنی ماں سے لے آئو، خود کمائو، خود خیال رکھو۔ نبی نے تو ایسی کسی جگہ بھی ترغیب نہیں دی۔ بلکہ خاوند کو کہا کہ تمہاری ذمہ داری ہے، تم اس کی ضروریات کو پورا کرو۔ ہر آدمی اپنی استطاعت کے مطابق اپنی بیوی بچوں کے خیال رکھنے کا پابند ہے۔
کئی دن پہلے ایک خاتون کا فون آیا۔ بتایا کہ بارہ سال شادی کو ہوگئے ہیں اور میرے والد میرا خرچہ اُٹھاتے ہیں، جبکہ میرے خاوند کا کاروبار لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہے۔ اب ایسے مرد قیامت کے دن کیا جواب دیں گے؟ مال کس کے لیے جمع کر رہے ہیں؟ نبی کی وفات تو اس مبارک حال میں ہوئی ہے کہ بیویوں کو دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو اپنی زرہ کو آپﷺ نے رہن رکھوایا، گروی رکھوایا۔ 30 صاع جَو اس سے منگوائی، پھر وہ گھروں میں تقسیم کی کہ وقت گزار لو۔ اُمت کے خاوندوں کے لیے اس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور تمام اُمور کو سیکھ کر، سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور اسے آگے صحیح رُخ پر امت میں منتقل کرنے کی توفیق بخشے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں