تحمل مزاجی

تحمل مزاجی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قال النبي ﷺ:
مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ، دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعَيْنِ مَا شَاءَ.
(سنن الترمذي: رقم 2493)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

علم کے ساتھ حِلم:
تحمل مزاجی اور برداشت ملتے جلتے لفظ ہیں لیکن ہماری زندگی کے اندر ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًاo (الاحزاب: 51)
اس آیتِ شریفہ میں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کو بیان کیا گیا ہے:
(۱) علم (۲) حِلم
اللہ تعالیٰ علم والے بھی ہیں اور حِلم والے بھی ہیں۔ بندوں میں علم کی صفت تو پھر بھی مل جاتی ہے، لیکن علم کے ساتھ حِلم نورٌ علیٰ نور ہے۔ حضرت صدیقِ اکبر فرماتے ہیں کہ علم کی زینت حِلم کے ساتھ ہے، برداشت کے ساتھ ہے، تحمل مزاجی کے ساتھ ہے۔ جسے دین کا علم ہو اور تحمل مزاجی نہ ہو، یہ زینت اور خوب صورتی سے محروم ہے۔
تحمل مزاجی کی تعریف:
انسان کے اندر فطری طور پر جذبہ انتقام موجود ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے نفس کو قابو کر لے، اور اپنے آپ کو روک لے اور باوجود قدرت کے سامنے والے کو معاف کر دے، اس کو تحمل مزاجی کہتے ہیں۔ گویا دوسرے کی تکلیف پر صبر کرنا، اسے برداشت کرنا اور اس سے درگزر کرنا تحمل مزاجی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا حِلم:
کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ چھوٹے بچے کھیلتے ہوئے آپس میں لڑ پڑتے ہیں، اور پھر آکے والدین کو اَدھوری بات بتاتے ہیں۔ بعض مرتبہ والدین جان لیتے ہیں کہ بچے کی غلطی ہے تو کچھ تو ایسے ہیں کہ بچے کی غلطی مان کر اِزالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور کچھ جان کر بھی جری بنتے ہیں اور لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔ بعض والدین ایسے بھی ہوتے ہیں کہ تھوڑی بات جان لینے کے بعد کہ دوسرے بچے کی غلطی ہے، اپنے بچے کا قصور نہیں ہے، پھر بھی معاف کر دیتے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ جو والدین معاف کر رہے ہوتے ہیں، انہیں پوری بات کا پتا نہیں ہوتا پھر بھی وہ معاف کرتے ہیں۔
اور اللہ ربّ العزّت کا حلم کس قدر عظیم ہے کہ جس وقت بندہ گناہ کا اِرادہ کرتا ہے اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ جانتے ہیں۔ پھر وہ بندہ اپنے ارادے پر عمل کرنے کے لیے قدم بڑھاتا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ نافرمانی کی طرف جا رہا ہے، گناہ کی طرف جارہا ہے۔ باوجود انتقام پر قدرت کے بندے کو ڈھیل دیتے ہیں۔ پھر وہ بندہ اللہ کی نظروں کے سامنے نافرمانی کرلیتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ عظیم الشان ہیں، حلم والے ہیں کہ اس کے باجود بھی اس کو نہیں پکڑتے۔ اگر ہر ہر گناہ پر فوراً پکڑ شروع ہو جائے تو ہم میں سے آج کوئی زندہ نہیں بچے گا۔ میرے پروردگار کا اتنا وسیع علم ہے، اور اس کے ساتھ اتنا وسیع حلم ہے۔ یہ اس کی شان ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بندے کو رزق دیے چلے جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ گناہ کرنے والے کی روٹی کڑوی ہو جائے، اس کی چھت میں کوئی دڑار پڑ جائے۔ اللہ ربّ العزّت اس کو عطا فرمائے جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ تو اللہ تعالیٰ دوسرے بندوں کے ذریعے اس کی تعریف کے کلمات بھی کہلوا رہے ہوتے ہیں۔ لوگ اس نافرمان کو عزّت دے رہے ہوتے ہیں۔
اصل تعریف اللہ کی:
ایک اللہ والے اپنی کتاب میں فرماتے ہیں:
’’اے دوست! جس نے تیری تعریف کی درحقیقت اس نے اپنے رب کی ستاری کی تعریف کی‘‘۔
یعنی جس نے تمہاری تعریف کی اس نے درحقیقت اپنے پروردگار کی ستاری کی تعریف کی۔ یعنی اگر اللہ ربّ العزّت نے تجھ پر ستاری نہ کی ہوتی تو کوئی تھوکنا بھی منہ پر گوارا نہ کرتا۔ حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے عیبوں پر پردے ڈالے ہوئے ہیں۔ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس جھوٹ کی بدبو سے انسان سے ایک میل دور چلے جاتے ہیں۔ اگر ہماری زبان سے نکلے ہوئے جھوٹ کی بدبو اللہ تعالیٰ انسانوں پر ظاہر فرما دیں تو ہمارا کیا بنے گا؟ ہمیں کوئی قریب بٹھانا بھی پسند نہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ چاہیں تو ایسا کر سکتے ہیں، مگر وہ ایسا نہیں کرتے، کیوںکہ اللہ تعالیٰ حلیم ہیں۔ باوجود اپنے علم کے، اللہ تعالی کا حلم دیکھیں کہ اللہ ربّ العزّت پردے ڈال دیتے ہیں۔ اور پھر فوری طور پر سزا بھی نہیںدیتے بلکہ توبہ کی مہلت دے دیتے ہیں۔ حضورپاکﷺ کی برکت سے اس اُمت کے ساتھ خاص شفقت کا معاملہ ہے۔
حضرت آدم کا واقعہ:
قرآن پاک میں دو تین مقامات پر حضرت آدم کا قصہ بیان کیا ہے۔ حضرت آدم سے جنت میں ایک بھول ہو گئی تھی کہ انہوں نے بھول کر اس درخت سے کھالیا جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ اور یہ بھول سے ہوا تھا جیسا کہ قرآن پاک میں ہے:
وَلَقَدْ عَھِدْنَآ اِلٰىٓ اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًاo (طہ: 115)
ترجمہ: ’’اور ہم نے آدم کو ایک بات کی تاکید تھی، پھر اُن سے بھول ہو گئی، اور ہم نے اُن میں عزم نہیں پایا‘‘۔
اللہ ربّ العزّت نے اُن کی غلطی پر فوری ایکشن لیا، اُن کا جنت کا لباس اُتر گیا، جنت کے مکان میں رہنے نہیں دیا گیا، زمین پر اُتار دیا گیا۔ سب سے بڑھ کر معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کو اطلاع کر دی گئی کہ اُن سے ایک غلطی ہوئی تھی۔ اور حضورپاکﷺ کی دعائوں کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ساتھ کتنی رحمت کا معاملہ کیا ہے کہ ہم کپڑے اُتار کر گناہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ گھر واپس پہنچا دیتے ہیں، اوپر سے پردے بھی ڈال دیتے ہیں۔ لوگ عزّت کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک اللہ والے کا واقعہ:
ایک مرتبہ ایک اللہ والے کہیں جا رہے تھے۔ ایک ہمسفر شخص اُن کے ساتھ بہت برا سلوک کر رہا تھا۔ کسی نے دیکھا کہبزرگ خاموش ہیں اور کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں اور یہ سامنے والا گالیاں دے رہا ہے۔ ان صاحب نے اُن بزرگ سے کہا کہحضرت! وہ آپ کو گالیاں دے رہا ہے اور آپ اس کو کچھ بھی نہیں کہہ رہے۔ اُن بزرگ نے بڑی عجیب بات ارشاد فرمائی۔ کہنے لگے: برتن سے وہی نکلتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ اس کے اندر شر بھرا ہوا ہے اس لئے شر ہی نکل رہا ہے، اور میرے اندر خیر کا مادہ بھرا ہوا ہے تو وہی نکلے گا۔
معلوم ہوا کہ تحمل مزاجی کی صفت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔
درگزر کرنا:
حضورپاکﷺ کا اصلاح کرنے کا طریقہ تحمل مزاجی اور برداشت والا تھا۔ اگر کبھی کسی سے کوئی بات غلط ہو جاتی تو آپﷺ درگزر کر دیا کرتے تھے۔ آج ہماری زندگی سے یہ بات نکل گئی ہے کہ کہیں کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو درگزر کیا جائے۔ ہر بات کو پکڑنا، اور دوسروں کو غلطی کا احساس دلانا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ ہمارا طریقہ برائی کو دور کرنے کا ڈنڈے اور سختی کے ساتھ ہے۔ قرآن مجید نے بھی برائی کو دور کرنے کا ایک طریقہ بتایا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِيَ اَحْسَنُ ۚ
(النحل: 125)
ترجمہ: ’’اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اُسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) اُن سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو‘‘۔
کہیں کسی شخص کے اندر کوئی برائی ہو، معاشرے کے اندر کوئی برائی ہو، ہم برائی کو اچھائی کے ساتھ دور کریں گے تو وہ دور ہو جائے گی۔ برائی کو برائی کے ساتھ دور کرنا چاہیں گے تو کبھی بھی دور نہیں ہوگی۔ کسی جگہ نجاست ہے، یا مثلاً پیشاب ہے۔ اب کوئی اور آکر یہیں پر پیشاب کرے گا تو جگہ پاک نہیں ہوگی۔ پاک پانی کو بہا دینے سے جگہ پاک ہو جائے گی۔ اپنے اندر کی برائی کو، گھر کی برائی کو، دوسرے کی برائی کو اچھائی اور نرمی کے ساتھ ہی دور کیا جاسکتا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد حضورپاکﷺ کے بارے میں لکھتے ہیں:
مظلومی پر صبر، معاملے میں راست بازی انسانیت کے وہ نوادر ہیں جو کسی کی زندگی میں ایک جگہ جمع نہیں ہوتے جو نبی کریمﷺ کی زندگی میں جمع ہوئے۔ نبی کریمﷺ کے تحمل مزاجی کے واقعات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ حضور پاکﷺ کی حیاتِ طیبہ کو ہم اپنے سامنے رکھ کر زندگی گزاریں تو ہماری زندگی کے اندر خوبصورتی آجائے گی، اور برداشت کرنے کا طریقہ آجائے گا۔ نبی کریمﷺ کو ان کے دشمن اتنی تکلیف پہنچاتے تھے مگر ان کا صبر اتنا بڑھ جاتا تھا۔ اور جاہل جتنا آپﷺ کے ساتھ جہالت کا معاملہ کرتے تھے نبی کریمﷺ کا حلم اتنا ہی بڑھ جایا کرتا تھا۔
نبی کریمﷺ کا خادم کے ساتھ برتاؤ:
حضرت انس خادمِ رسولﷺ ہیں۔ دس سال تک تقریباً انہوں نے نبی کریمﷺ کی خدمت کی۔ سفر میں، حضر میں، حتّٰی کہ گھر میں بھی آناجانا تھا۔ فرماتے ہیں کہ ان دس سالوں میں حضورپاکﷺ نے نہ کبھی مجھے مارا، نہ کبھی مجھے ڈانٹا، نہ مجھے اُف کہا، کبھی کسی کام کے کرنے پر یہ نہیں کہا کہ ایسا کیوں کیا، یا نہ کرنے پر ایسا نہیں کہا کہ کیوں نہیں کیا۔ (صحیح مسلم: رقم 2309)
ذرا سوچیے کہ ہمارا ملازم ہو تو دس سال تو بڑے دور کی بات، دس دن بھی ہم اپنی اچھائی ثابت نہ کرسکیں کہ دس دن بھی اس کے ساتھ نرمی رکھی ہو۔
نبی کریمﷺ کا گھر والوں کے ساتھ برتاؤ:
روزمرّہ کے تعلقات میں انسان کا سب سے زیادہ تعلق اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اپنے گھر کی خواتین کے لیے تربیت و تعلیم کا بندوبست کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ کامیاب مرد وہ ہے جو تعلیم وتربیت کا ایسا بندوبست کرے جس سے گھر والوں کو فائدہ ہو۔ اور اس میں سخت لہجے کے بجائے نرمی اور شفقت سے پیش آئے۔ اُمّ المؤمنین امی عائشہ عمر میں نبی کریمﷺ سے چھوٹی تھیں۔ اس کے باوجود نبی کریمﷺ کتنا خیال فرماتے تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگا لیجیے۔
حضرت نعمان بن بشیرi روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ اُن کی بیٹی اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رسول اللہﷺ سے اُونچی آواز میں بات کر رہی ہیں۔ حضرت ابوبکر کو یہ بات ناگوار گزری تو انہوں نے باپ ہونے کے ناطے بیٹی کو تھپڑ لگانا چاہا۔ فرمایا:
أَلَا أَرَاكِ تَرْفَعِينَ صَوْتِکَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: کیا میں تمہیں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری آواز رسول کریمﷺ (کی آواز) سے بڑھی ہوئی ہے‘‘۔
رسول اللہﷺ نے محسوس کرلیا کہ صدیقِ اکبر کو بیٹی کی یہ بات اچھی نہیں لگی۔ آپﷺ اپنی زوجہ مطہّرہ عائشہ صدیقہ کو اپنے پیچھے کر کے خود ابوبکر کے سامنے آگئے تاکہ وہ کچھ نہ کریں۔ حضرت ابوبکر غصے کی حالت میں چلے گئے۔ جب وہ چلے گئے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:
كَيْفَ رَأَيْتِنِي أَنْقَذْتُکِ مِنَ الرَّجُلِ ؟
ہاں! کیسے میں نے تمہیں اس آدمی (یعنی آپ کے والد) سے بچایا۔ مقصود اپنی زوجہ کو خوش کرنا تھا۔ چند روز گزر جانے کے بعد حضرت ابوبکر پھر تشریف لائے تو دیکھا کہ آپﷺ اور عائشہ صدیقہk دونوں کی صلح ہو چکی ہے۔ چناںچہ دونوں سے کہا کہ مجھے تمہاری صلح میں داخل ہونے دو جیسے کہ تمہاری جنگ میں میں داخل ہوگیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہم نے آپ کو اپنی صلح میں داخل کر دیا۔ ہم نے آپ کو اپنی صلح میں داخل کر دیا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4999، باب ما جاء فی المزاح)
غَارَتْ أُمُّکُمْ:
بخاری شریف کی روایت ہے۔ ایک مرتبہ آپﷺ اُمہات المؤمنین میں سے کسی اُمّ المؤمنین کے گھر تشریف فرما تھے۔ اتنے میں کسی اور اُمّ المؤمنین نے خادم کے ہاتھ نبی کریمﷺ کو ایک پیالے میں کھانا بھیج دیا۔ واضح سی بات ہے کہ جس اُمّ المؤمنین کے گھر میں نبی کریمﷺ تشریف فرما ہوں گے، ان کے دل کی یہ چاہت ہوگی کہ آج میری باری ہے تو خدمت بھی میں کروں۔ جب خادم کھانے کا پیالہ رسول اللہﷺ کو دینے لگا تو اسی دوران اِن اُمّ المؤمنین کو غیرت آئی اور اس طرح سے ہاتھ مارا کہ پیالہ نیچے گر کے ٹوٹ گیا۔ جنابِ نبی کریمﷺ ٹوٹے ہوئے پیالے کے ٹکڑے جمع کرنے لگے اور جو کھانا گر گیا تھا، اسے بھی اٹھانے لگے۔ ساتھ میں آپﷺ اپنی اس اہلیہ کی دل جوئی کے لیے خادم اور دیگر موجود افراد سے فرما رہے تھے:
غَارَتْ أُمُّکُمْ.
تمہاری ماں کی غیرت نے پیالہ توڑ دیا۔ قربان جائیے نبی رحمتﷺ پر کہ ایسے موقع پر نہ اپنی زوجہ مطہرہ کو ڈانٹا، نہ جھڑکا، نہ باتیں سنائیں، بلکہ خود جھک کر برتن کے ٹکڑے اور گرا ہوا کھانا جمع کرنے میں لگ گئے۔ کتنے اچھے طریقے سے معاملہ ختم کر دیا، دوسری کوئی بات ہی نہیں۔ پھر اس گھر سے ایک صحیح پیالہ لے کر خادم کے ہاتھ بھجوا دیااور ٹوٹے ہوئے پیالے کو یہیں رکھ دیا۔ (صحیح بخاری: رقم 4927)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے بھیجنے والی حضرت زینب بنت جح تھیں، اور جس نے غیرت کی وجہ سے برتن توڑا وہ حضرت عائشہ صدیقہ تھیں۔ اگر ہم محبت کے ساتھ، تحمل مزاجی کے ساتھ زندگی گزاریں گے تو یقیناً ہمیں گھر میں عزت ملے گی، اور ہم گھر میں اپنا ایک مقام بنا پائیں گے۔ خوشگوار زندگی کے لیے تحمل مزاجی بہترین چیز ہے۔ جس بندے کے اندر تحمل مزاجی نہیں اسے ہر ایک سے شکوہ ہوگا۔ خاوند ہے تو بیوی سے شکوہ، بیوی ہے تو خاوند سے شکوہ۔ حضورپاکﷺ کی زندگی ہمارے لیے روشن، مشعلِ راہ ہے۔ یہ صرف گھر ہی کی بات نہیں، ہر ایک کے ساتھ نبی کریمﷺ کا یہی معاملہ تھا۔
طائف کا دن:
ایک مرتبہ اماں جان حضرت عائشہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ! کیا آپ پر اُحُد کے دن سے بھی زیادہ سخت دن گزرا ہے؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: عائشہ! مجھے تمہاری قوم سے جو تکلیفیں پہنچی ہیں اُن میں سب سے زیادہ سخت دن عَقَبَہ کا دن ہے۔ اس دن میں نے (طائف کے سردار) ابن عبدِ یالیل سے اسلام قبول کرنے اور پناہ دینے کی بات کی، اس نے میری بات کو رد کر دیا۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا اور اسی حالت میں قرن الثعالب پہنچا، تب مجھے کچھ ہوش آیا۔ (قرن الثعالب مکہ اور طائف کے درمیان سرحدی پہاڑ کا نام ہے) وہاں پہنچ کر میں نے اپنا سر اُوپر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کیے ہوئے ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ اس میں حضرت جبرائیل اس میں موجود ہیں۔ انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا، اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی، مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد ! اللہ تعالیٰ آپ کی قوم کی بات کو سن چکے ہیں، میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں، آپ کے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ آپ جو چاہیں اس کا مجھے حکم فرمائیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں (جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں؟) صبر وتحمل کے پیکر خاتم النبیین نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
بل أرجو أن يخرج اللّٰه من أصلابهم من يعبد اللّٰه وحده ، ولا يشرك به شيئًا.
(متفق علیہ، مشکاۃ المصابیح: رقم 5848)
ترجمہ: ’’مجھے تو اس کی اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی‘‘۔
آپﷺ نے اس موقع پر بھی زبان سے بددعا کا کوئی لفظ نہیں نکالا۔ حتّٰی کہ اُحُد کے دن نبی کریمﷺ کے دندانِ مبارک شہید ہو گئے۔ آپﷺ کے ہونٹ مبارک زخمی ہو گئے۔ آپﷺ کے پُر نور چہرے مبارک پر زخموں کے نشان آگئے اور خون بہنے لگ گیا۔ اس تکلیف میں آپﷺ فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگین کر دیا۔ یہ واقعہ سیرت ابن ہشام میں غزوۃ احد کے عنوان کے تحت میں مذکور ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے اس موقع پر اپنے دندان مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا غضب اترتا ہے اس قوم پر جو اس کے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا غضب اترتا ہے اس شخص پر جسے اللہ کا رسول قتل کر دے۔
(صحیح بخاری: رقم 3845، کتاب المغازی)
آپﷺ کی تکلیف اور حالت کو دیکھ کر ایک صحابی نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ مشرکین پر کوئی بددعا کریں کہ ویسے ہی ان کا کام تمام ہو جائے۔ (کیوںکہ یہ مشرکین آپﷺ کو اتنی تکلیف پہنچاتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
إني لم أبعث لعّانًا وإنما بعثتُ رحمةً. (صحیح مسلم: باب النھي عن لعن الدواب)
ترجمہ: ’’میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، میں تو رحمت والا (شفقت والا) بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘۔
نبی کریمﷺ کا اپنے دشمنوں کے ساتھ کیسا بہترین معاملہ تھا۔ ہمارا تو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ بھی ایسا معاملہ نہیں ہے۔ غور کرنے کی بات ہے۔
حضرت ثمامہ بن اُثال:
حضور پاکﷺ نے نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا جو بڑی کامیابی کے ساتھ بنی حنیفہ کے ایک آدمی ثمامہ بن اُثال کو گرفتار کر کے لے آیا۔ یہ دراصل یمامہ کے سردار تھے۔ انہیں مسجدِ نبوی کے ستون سے باندھ دیا گیا۔ رسول اللہﷺ تین دن تک برابر اُن کے پاس جاتے رہے اور ان سے پوچھتے کہ تمہارے پاس کیا ہے اے ثمامہ؟ان کا ایک جواب ہوتا کہ اے محمد! میرے پاس خیر ہے۔
(۱) اگر تم مجھے قتل کرتے ہو تو تم ایک بہادر کو قتل کرو گے۔
(۲) اگر تم مجھ پر احسان کر کے چھوڑ دیتے ہو تو تمہارا احسان مند رہوں گا۔
(۳) اور اگر تمہیں مال چاہیے تو مانگو، جو تم مانگو گے تمہیں ملے گا۔
تیسرے دن رسول اللہﷺ نے اسے آزاد کرنے کا حکم دیا۔ آزاد ہونے کے بعد انہوں نے مسجد سے باہر جا کر غسل کیا اور پھر مسجد میں آکر بلند آواز سے کلمہ شہادت پڑھا اور حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! پہلے آپ کے چہرے، آپ کے دین، آپ کے شہر سے میں نفرت کرتا تھا، لیکن اب مجھے آپ کا چہرہ مبارک، آپ کا لایا ہوا دین، آپ کا شہر سب سے زیادہ پسند اور محبوب ہے۔ میں عمرہ کرنا چاہتا ہوں، آپ کا کیا خیال ہے؟ (چوںکہ ابھی اہلِ مکہ کو ان کے قبولِ اسلام کا معلوم نہ تھا، اسی وجہ سے ان کے لیے عمرہ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی) آپﷺ نے انہیں قبولِ اسلام پر خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ مکہ مکرمہ آئے، عمرہ کیا۔ کسی نے انداز دیکھ کر پہچان لیا اور کہا کہ ثمامہ! تم دین بدل چکے ہو؟ بات کھلی تو کہا کہ نہیں، میں نے تو رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا ہے۔ (اصل دین ہی اسلام ہے، تو آدمی اپنی اصل کی طرف آنے والا بدلنے والا نہیں ہوتا بلکہ اصل کی طرف لوٹنے والا ہوتا ہے۔)
پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! یمامہ سے تمہارے پاس رسول اللہﷺ کی اجازت کے بغیر ایک دانہ گندم بھی نہیں آئے گا۔ (بخاری، رقم:4372، مسلم، رقم 4688، مسند احمد، رقم9832)
علامہ ابن حجرm نے شرح بخاری (کتاب المغازی) میں بحوالہ سیرت ابنِ ہشام نقل کیا ہے کہ مکہ کے لوگ ہر سال ثمامہ سے گندم خریدتے تھے۔ مکہ میں گندم نہیں ہوتی تھی۔ اب مکہ والے بہت پریشان ہوئے کہ کیا کریں۔ گندم کا اسٹاک ختم ہو گیا تو قحط شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے رسول اللہﷺ کو خط لکھا:
إنك تأمر بصلة الرحم، وإنك قطعت أرحامنا.
’’بے شک آپ صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں، مگر ابھی آپ نے رشتہ داری کو توڑ دیا‘‘۔
اللہ اکبر! جن لوگوں نے رشتہ داری کا پاس اس وقت نہیں رکھا جب آپﷺ مکہ شریف میں تھے، جب شعبِ ابی طالب میں آپﷺ سمیت اہل خانہ کا معاشی اور شوشل مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا، یہاں تک کہ آپﷺ نے مدینہ شریف کی طرف ہجرت فرمائی۔ اب وہی لوگ حضور پاکﷺ کو رشتہ داری یاد دلا رہے ہیں۔ جنا بِ رحمۃ للعالمین حضورپاکﷺ نے ثمامہ کی طرف ایک خط بھیجا:
أن يخلي بينهم وبين الحمل إليهم .
’’ثمامہ! جس طرح تم ان کو گندم دیتے تھے اسی طرح دیتے رہو‘‘۔ (سیرت ابنِ ہشام)
حضورﷺ کی دعا سے قحط دور ہونا:
ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ مکہ مکرمہ میں قحط آگیا یہاں تک کہ لوگ مردار کھانے پر مجبور ہوگئے۔ سردارِ قریش ابو سفیان جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ دعا کریں کہ یہ قحط سالی دور ہو۔ جنابِ رحمۃ للعالمینﷺ نے دعا کی اور قحط دور ہو گیا۔ (دلائل النبوۃ للبیہقی: 640)
شامی اور برمی مسلمانوں کی مدد کریں:
اس وقت ہمارے پاس ایک بہترین موقع ہے۔ شام اور برما کے اندر جو حالات ہیں۔ کچھ عرصے میں لاکھوں مسلمان شہید ہو چکے ہیں، اور لاکھوں افراد لاپتہ ہیں۔ یو این او سمیت کوئی بھی ادارہ ان کی مدد کے لیے وہاں نہیں ہے۔ ان کے نزدیک انسانوں سے زیادہ تو جانوروں کی قیمت ہے۔ آپ کسی کتے یا شیر وغیرہ کو مار دیں، یہ آپ کے پاس انٹرنیشنل قانون کی خلاف ورزی کا پرچہ لے کر پکڑنے آجائیں گے۔ مگر انسانیت کے نام سے قتل وغارت گری خصوصاً مسلمانوں کا قتلِ عام تو انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔الحمدللہ! ہمارے یہاں پاکستان سے دو اِدارے ان حضرات کی خدمت میں آگے آگے ہیں: (۱) خبیب فائونڈیشن (۲)بیت السلام ویلفیئر ٹرسٹ کراچی۔ اب ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی دل کھول کر مدد کریں۔ ملکِ شام تو انبیا کی سرزمین تھی۔ دشمنانِ اسلام نے آج وہاں کیا حال کر دیا ہے۔ اپنے مسلمان بھائیوں کا خیال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
بہرحال بات چل رہی تھی کہ ہم اپنے اندر تحمل مزاجی پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں کے ساتھ حلم کا معاملہ فرماتے ہیں۔ تو بندوں کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ، اس کی مخلوق کے ساتھ تحمل کا معاملہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply