22

تصویر والی جگہ پر نماز پڑھنا

سوال

ایک جگہ کہیں پڑھا تھا کہ جس کمرے میں تصویر لگی ہو یعنی سجائی گئی ہو وہاں نماز نہیں ہو گی جب تک کہ تصویر ہٹانہ دی جائے، سوال یہ ہے کہ اگر تصویر سجائی نہ گئی ہو، الماری میں یا البم میں لگی ہو تو پھر کیا حکم ہے؟ کیوں کہ آج کل تو کوئی بھی گھرانہ ایسا نہ ہو گا جہاں کسی نہ کسی صورت میں تصویر نہ ہو؟اور اگر کمرے میں بچے کے کھلونے پڑے ہوں جیسے بھالو، یا چابی سے چلنے والا گھوڑا، طوطا یا کوئی بھی اور جاندار کی شکل میں، تو اسکا کیا حکم ہے؟ ان کے کمرے میں ہوتے ہوئے نماز ہو جائے گی؟ برائے مہربانی اس صورت حال کے مطابق تسلی بخش اور وضاحت کے ساتھ مسئلہ بتا دیں۔ اب گھروں میں تو بچوں کے اتنے کھولنے ہیں کسی نہ کسی شکل میں، یاد بھی نہیں ہوتا کہاں کہاں پڑے ہیں۔

جواب

بسم الله الرحمن الرحيم
جو تصویریں بالکل پامال طور پر ہیں، جیسے اخبارات اور استعمالی اشیاء کے ڈبے وغیرہ پر بنی تصویریں کہ ان تصویروں کی طرف ذہن منتقل نہیں ہوتا اور نہ ہی تصویریں مقصود ہوتی ہیں تو چونکہ ان سے بچنا بہت دشوار ہے، اس لیے نماز میں کراہت نہ ہوگی، البتہ جو تصویریں سجاوٹ یا کھیل کے طور پر لائی گئی ہیں، ان کے رہتے ہوئے نماز مکروہ تحریمی ہے، اگر قبلہ کی جانب یا دائیں بائیں یا اوپر ہیں تو کراہت زیادہ ہے اور اگر زمین پر یا پشت کی جانب پڑی ہیں تو کراہت کم ہے، اور اگر پیروں کے نیچے پڑی ہے تو کراہت نہیں ہے۔
کھیل کھلونے کے جو سامان ایسے ہیں، جن میں جاندار کی تصویر بنی ہوجیسے گھوڑا طوطا وغیرہ، ان کا رکھنا حرام ہے، ایسے گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے جن میں تصویر ہوتی ہیں، ان تصویروں سے مراد جیسا کہ اوپر لکھا گیا وہ تصویریں جو سجاوٹ یا کھیل کے طور پر لائی گئی ہوں یا احترام کے طور پر رکھی گئی ہوں پس ایسے کھلونے گھر میں لانے سے احتراز کرنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

ماخذ: دار الافتاء دار العلوم دیوبند
فتوی نمبر: 40947

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں