97

توکّل اور قناعت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَo (المؤمنون: 8)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اللہ تعالیٰ کا محبوب
ارشادِ باری تعالیٰ عزّ اسمہٗ ہے:
وَ مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ (الطلاق: 3)
ترجمہ: ’’اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے‘‘۔
ایک اور جگہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗط (زمر: 36)
ترجمہ: ’’(اے پیغمبر!)کیا اللہ اپنے بندےکے لیے کافی نہیں ہے؟
یقیناً اللہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے۔ اور قرآن مجید میں اللہ پر توکّل کرنے والوں کے لیے بتایا گیا ہے کہ اللہ اِن سے محبت کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم اللہ سے محبت کریں، اس لیے یہاں مجلس میں بات سننے کے لیے بیٹھے ہیں کہ سن کر عمل کریں گے تاکہ اللہ ہمیں اپنا محبوب بنا لے۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والے جو لوگ ہوتے ہیں، اللہ ان کو پسند فرماتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں۔ اور ایسے لوگ مرتبۂ محبوبیت پر فائز ہو جاتے ہیں۔ اللہ اکبر! اتنا بڑا مقام ان کو مل جاتا ہے۔
توکّل کیا ہے؟
یہ توکّل کرنا کیا ہے؟ یہ ایک بہت بڑا مقام ہے۔ جس کسی کو حاصل ہو جائے تو وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک طویل روایت میں سے ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اُمت کے ستّر ہزار لوگ بغیر حساب وکتاب کے جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو تعویذ، فال میں اور داغ کے ذریعہ علاج میں نہ پڑیں گے، فقط اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہوں گے۔ (صحیح بخاری: رقم 5270)
پرندوں کا توکّل
ہمیںاپنے کاموں میں، اپنے معاملات میں، ہر چیز میں بھروسہ کس پر رکھنا ہے؟ صرف اور صرف اللہ ربّ العزّت پر۔ صرف اسی اللہ ربّ العزّت پر بھروسہ رکھنا ہے، اور کسی چیز پر بھروسہ نہیں رکھنا۔ ایک حدیث میں حضرت عمر سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر تم اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسہ کرو جتنا اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے تو تم کو پرندوں کی طرح رزق دیا جائے کہ صبح گھونسلوں سے نکلتے ہیں تو خالی پیٹ ہوتے ہیں اور شام کو جب واپس آتے ہیں تو بھرے پیٹ ہوتے ہیں۔ (سننِ ترمذی: رقم 2344)
انسان کا توکّل
یہ تو پرندوں کی بات بتلائی گئی۔ اور ہم انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ جب صبح گھر سے نکلتے ہیں تو پیٹ بھرے نکلتے ہیں، ناشتہ کر کے نکلتے ہیں۔ اور رات کو جب گھر واپس آتے ہیں تو خالی پیٹ ہوتےہیں۔ ان پرندوں کا معاملہ اور ہے، اور ہمارا معاملہ اور ہے۔ بہرحال بات یہ ہے کہ جب آدمی اللہ ربّ العزّت پر بھروسہ کرتا ہے، تو غیبی مدد اور غیبی نصرت کے دروازے اس پر کھل جاتے ہیں اور دل مطمئن ہو جاتا ہے۔ انسان کا توکّل جتنا بڑا ہوگا، اللہ پر بھروسہ جتنا زیادہ ہوگا، اتنا اس کا کام آسان سے آسان ہوتا چلا جائے گا۔ معمولی اَسباب، کمزور اَسباب، کمزور حالاتunfavourable condition میں بھی اللہ ربّ العزّت اس کے لیے کافی ہو جائیں گے۔ بندہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے تو دیکھے۔
ہم چھوٹے دل والے ذرا جلدی دائیں بائیں ہو جاتے ہیں۔ دوسرے لوگ تلاش کرنے لگتے ہیں۔ کبھی پولیس والوں کو تلاش کرتے ہیں، کبھی عامل کو تلاش کرتے ہیں، کبھی کسی اور کو تلاش کرتے ہیں۔ بھئی! وہ کون سا ایسا کام ہے جو اللہ ربّ العزّت نہیں کر سکتے؟ اللہ ربّ العزّت ہر کام کر سکتے ہیں۔اس لیے اللہ ہی پر توکّل رکھنا چاہیے۔
تعویذات کے پیچھے پڑنا
یہاں تعویذ کی بات آ گئی تو ساتھ میں بات سمجھتے جائیں۔ دیکھیں! ایسے تعویذات جو صحیح العقیدہ لوگوں نے دیے ہوں، اور ان میں لکھے کلمات بھی صحیح ہوں شرکیہ نہ ہوں، اور مجبوری کے وقت استعمال کرنے والا اس تعویذ کو سبب کے درجے میں سمجھے، اور اس کے دل کا پختہ یقین یہی ہو کہ اصل کام اللہ ہی کا ہے۔ اللہ ہی نے سب کرنا ہے، اس سے کچھ نہیں ہونا۔ پھر تو یہ جائز ہے، ورنہ یہ خطرناک راستہ ہے۔ سچ بتا رہا ہوں کہ یہ خطرناک راستہ ہے۔ اس راستے پر جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِط (البقرۃ: 153)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو‘‘۔
نماز اور صبر بہترین وظیفہ ہے۔نماز بہترین تعویذ ہے۔ بس ہم اپنی نماز پر توجہ دیں، صبر کریں اور اللہ پر بھروسہ کریں، اللہ تعالیٰ کامیابی و آسانی عطا فرمائیں گے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ کی مدد سے محروم رہتا ہے۔
حضرت عیسیٰ کو حکم
جو شخص ہمیشہ ظاہر کے پیچھے لگا رہتا ہے، ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ دل کا اِطمینان عظیم ترین دولت ہے، اسے کھو بیٹھتا ہے۔ صالح بن ابی شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ پر وحی اُتری، جس میں کئی احکامات تھے، اُن میں سے ایک حکم یہ بھی تھا: تم مجھ پر بھروسہ کرو، میں تمہاری کفالت کروں گا۔ اور مجھے چھوڑ کر کسی سے دوستی نہ لگانا، میں تمہیں رُسوا کر دوں گا۔ (الزہد لابن أبي الدنیا: رقم 63، حدیثٌ مقطوعٌ)
ہم اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں اور اسی پر توکّل کریں، اللہ تعالیٰ آسانی فرما دیں گے۔
اُونٹ باندھ کر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ ایک آدمی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اونٹنی کو باندھ کر توکّل کروں یا کھلا چھوڑ دوں پھر توکّل کروں؟ نبی کریمﷺ نے فرمایا: پہلے باندھو پھر اللہ پر بھروسہ کرو۔ (سنن ترمذی: رقم 2517)
دنیا دار الاسباب ہے، یہاں اسباب اختیار کرنے ہیں، لیکن نظر اسباب پر نہیں رکھنی۔ سارا امتحان ہی اسی کا ہے۔کافر کی نظر اسباب پر ہوتی ہے اور مؤمن کی نظر اللہ کی ذات پر ہوتی ہے، خبرپر ہوتی ہے۔ کافر نظر پر یقین رکھتا ہے، اور مؤمن خبر پر یقین رکھتا ہے۔
حضرت موسیٰ کا واقعہ
ایک واقعہ منقول ہے کہ حضرت موسیٰ بیمار ہوگئے۔ پیٹ میں تکلیف ہوگئی۔ اللہ پاک سے عرض کی تو اللہ پاک نے فرمایا کہ فلاں جڑی بوٹی کھا لیجیے۔ چناںچہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کھالی اور شفا ہو گئی۔ اگلے موقع پر پھر بیمار ہوگئے اور فوراً وہی جڑی بوٹی کھالی۔ لیکن اب کی بارٹھیک نہ ہوئے تو فریاد کی: یا اللہ! یہ کیا ہوا؟ پہلے ٹھیک ہوگیا تھا، اب ٹھیک نہ ہوا۔ بتایا گیا کہ دیکھو! شفا میرے حکم میں ہے، اس جڑی بوٹی میں نہیں ہے۔ آپ نے پہلی دفعہ نظر ہم پر رکھی تھی تو ہم نے شفا دے دی، اور دوسری مرتبہ میں نظر درخت کی جڑی بوٹی پر تھی، اس لیے شفا نہیں ہوئی۔ حضرت موسیٰ جان گئے کہ چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر حال میں رجوع الی اللہ رکھنا ہے۔
بیماری کی حالت میں ہمیں دوائی کا انتظام کرنا ہے، اہتمام کرنا ہے، لیکن نظر اللہ تعالیٰ پر رکھنی ہے۔ اللہ تعالیٰ شفا کے دینے میں کسی کے محتاج نہیں، مگر پھر بھی اسباب کو اختیار کرنے کا حکم دیا۔ یہ ہے سارا معاملہ۔ جیسے دوکاندار آدمی نے دوکان جانا ہے، دوکان پر بیٹھنا ہے، لیکن نظر اللہ پر رکھنی ہے۔ گاہک کون بھیجتا ہے؟ اللہ تعالیٰ بھیجتے ہیں۔ اس کے دل میں کون ڈالتا ہے کہ اس سے خرید لو؟ وہ بھی اللہ تعالیٰ ڈالتے ہیں۔ نظر اللہ پر ہو، نظر دوکان پر نہ ہو کہ دوکان ہمیں مال دے رہی ہے۔ ورنہ تو دوکان ہی بت بن جائے گی۔ ہمیں دینے والی ذات فقط اللہ کی ہے۔
طلبہ و طالبات محنت کریں
اسی طرح طلبہ و طالبات یقین کے ساتھ، حوصلے کے ساتھ، توجہ کے ساتھ پڑھیں۔ پریشان نہ ہوں تو اللہ پاک آسانی کا معاملہ فرمائیں گے۔ اپنی طرف سے جتنی کوشش کی جا سکتی ہے، وہ کریں۔ کسی موقع پر ہمت نہ ہاریں۔ اور اللہ تعالیٰ پر توکّل کریں تو اللہ تعالیٰ آسانی والا معاملہ کر دیں گے اور اِن شاء اللہ کامیابی سے نوازیں گے۔ ہم پریشان نہ ہوا کریں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہیں۔
کسان اور اس کا کھیت
توکّل کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان اسباب اختیار کرنا چھوڑ دے۔ دیکھیں! کسان نے اپنے کھیت کی زمین کو نرم کیا، بیج ڈالا، ہل چلا کر اس نے محنت کی۔ اب یہ توکّل کر رہا ہے، اللہ پر بھروسہ کر رہا ہے کہ فصل ہوگی۔ فصل کی نگرانی بھی کر رہا ہے اور دعائیں بھی کر رہا ہے۔ اس کا یہ اُمید رکھنا حق ہے اور جائز ہے۔ اس کے بالمقابل ایک اور کسان ہے جو گھر بیٹھا رہتا ہے، نہ ہل چلاتا ہے، نہ بیج ڈالتا ہے اور نہ کوئی محنت کرتا ہے، اور خیال کرتا ہے کہ میری کھیتی نکل آئے گی۔ اس کو ہم سب غلط کہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ایسے بھی دے سکتا ہے، اور ویسے بھی دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو کسی کی محنت کے محتاج نہیں ہیں، لیکن اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے دارالاسباب بنایا ہے۔ ہم نے محنت کرنی ہے اور محنت کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا ہے کہ فصل بہت اچھی آئے، خراب نہ ہو جائے، ایسے بھی نہ ہو کہ دیکھنے میں تو اچھی نظر آئے مگر وزن ہی نہ ہو۔ پچھلے دنوں بات آئی کہ جی! گندم دیکھنے میں بڑی اچھی ہے، لیکن وزن میں کسی کام کی نہیں، نقصان ہو گیا۔
آخرت کے معاملے میں توکّل کیا ہے؟
جیسے دنیا کے معاملے میں محنت کرنے کے بعد ہم اچھے نتیجہ کے طالب ہوتے ہیں، اور بغیر محنت کیے اچھے نتیجہ کی امید نہیں ہوتی۔ صرف دنیا کے معاملے میں ہی ایسا نہیں ہے، آخرت کے معاملے میں بھی ایسا ہے۔ نماز بھی ہم نے پڑھنی ہے، اعمالِ صالحہ بھی ہم نے کرنے ہیں، پردہ بھی کرنا ہے، نیکی اور تقویٰ کی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی ہے۔ غلطی اور گناہ ہو جائے تو توبہ کرنی ہے۔ ان تمام اعمال کے کر لینے کے بعد اللہ تعالیٰ سے یہ گمان کریں اور اُمید رکھیں کہ اِن شاء اللہ العزیز مجھے اس کی رضامندی اور فضل سے جنت ملے گی۔ لیکن کوئی نہ پردہ کرے، نہ نماز پڑھے، نہ دین کی بات کرے، فقط گناہوں کے اندر زندگی ہو، اور اعمالِ صالحہ کی فکر ہی نہ ہو پھر ایسے سوچے کہ اللہ غفورٌ رَّحیم ہے۔ اللہ تعالیٰ تو ہماری سوچوں سے بھی زیادہ غفورٌ رَّحیم ہے، لیکن اس دنیا کو دار الاسباب اللہ ہی نے بنایا ہے تو نافرمان کو سزا دی جا سکتی ہے۔
توکّل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی طرف سے محنت میں کمی نہ کریں اور متوکّلین یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والوں میں شامل ہونے کی دعائیں مانگتے رہیں۔ اے اللہ! ہمیں اُن لوگوں میں شامل فرما دے جو آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپ ان کے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنے کاموں کو، اُن کے نتائج کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیں اور دل کو مطمئن رکھیں، اور غیر اللہ کی طرف ایک سیکنڈ کے لیے توجہ نہ دیں۔ جتنی محنت ہم کر سکتے ہیں وہ کریں، نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔ اور اپنے دل کو مطمئن رکھیں تو اِن شاء اللہ آسانی ہو جائے گی۔ توکّل ترکِ اَسباب اور ترکِ تدبیر کا نام نہیں، اَسباب بھی اختیار کرنے ہیں اور تدبیر بھی، طریقہ کار بھی اختیار کرنا ہے۔
کارسازِ حقیقی پر اعتماد اور بھروسہ
کیمیائے سعادت نامی کتاب میں توکّل کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کے معنی ہیں وکیل یعنی کارساز۔ کارسازِ حقیقی پر صدقِ دل سے اعتماد اور بھروسہ کیا جائے۔ یعنی اللہ تعالیٰ پر سچے دل اور اعتماد کے ساتھ بھروسہ کیا جائے۔ پھر اس اعتماد کو مضبوط اور برقرار رکھا جائے تاکہ دل ہمیشہ اطمینان، سکون اور آرام سے رہے۔ اگر ظاہری اَسباب میں کسی وقت کوئی کمی آ جائے، خرابی آ جائے، کوئی مسئلہ بن جائے تو حوصلہ نہ ہارے، ہو سکتا ہے کہ یہ اللہ پاک کی طرف سے امتحان ہو۔ خلاصہ توکّل کا یہ ہے کہ ایک خدا ہی پر بھروسہ رکھے، اسی کو کار ساز سمجھے، اسی کو کافی سمجھے۔ اللہ تعالیٰ یہ صفت ہمیں عطا فرمائے۔
توکّل کے ساتھ ایک اور نعمت بھی آدمی کو مل جائے تو زندگی میں آسانی ہے۔ وہ کون سی نعمت ہے؟ اس کو قناعت کہتے ہیں۔ یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے۔
قناعت پسندی
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص کامیاب ہے جو اِسلام لایا اور بقدرِ ضرورت رزق ملا اور اس نے اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے پر قناعت کی۔ (صحیح مسلم: رقم 1054)
کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ کسی سے کچھ مانگا نہیں۔ بقدرِ ضرورت رزق مل گیا، اس پر صبر کیا۔ جو کچھ اللہ نے اس کو دیا اس پر قناعت کی تو آقائے دو جہاںﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے مبارک بول ہیں کہ یہ شخص کامیاب ہے۔
ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ ربّ العزّت اپنے بندے کو اپنی دی ہوئی نعمت میں آزماتے ہیں، اگر بندہ اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس نعمت میں اسے برکت عطا فرماتے ہیں اور کشادگی سے نوازتے ہیں، اور اگر بندہ تقسیم خداوندی پر راضی نہیں ہوتا تو اسے اس نعمت میں برکت نہیں دی جاتی۔ (مسند احمد: رقم 19808)
جب بندہ اللہ کی دی ہوئی نعمت پر راضی ہوتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ اللہ! مجھے تھوڑا ملا، زیادہ ملا، آپ کے دربار ہی سے ملا، میں اس پر راضی ہوں۔ یقین کر لیجیے کہ خیر اس کے لیے منتخب ہوگئی، برکتیں اسے دے دی گئی، وسعت اور فراخی سے وہ نواز دیا گیا۔ قناعت میں برکت اور سکون ہے۔ قناعت کرنے والے کی زندگی پُر سکون گزرتی ہے۔
بنی اسرائیل کے لوگ کہا کرتے تھے کہ ہمارے بہترین افراد وہ ہیں جو قناعت کرنے والے ہیں، اور بدترین افراد وہ ہیں جو لالچ رکھنے والے ہیں۔
قناعت کیسے حاصل ہوگی؟
صحیح مسلم، سننِ ترمذی، سنن ابنِ ماجہ ان تینوں احادیث کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے۔ حضرت ابو ہریرہh سے روایت ہے کہ رسولِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والوں کو دیکھو، اپنے سے اوپر کے لوگوں کو مت دیکھو۔ یہ بات زیادہ لائق ہے کہ کہیں تم سے اللہ کی نعمت کی تحقیر نہ ہو۔
(صحیح مسلم: رقم 2963، سنن ترمذی: رقم 2450، سنن ابن ماجہ: رقم 4140)
ایک بہترین اُصول اپنی اُمت کو بتا دیا۔ ہمارے پاس دنیا کی جتنی بھی نعمتیں ہیں، یقیناً کئی ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کے پاس یہ نعمتیں نہیں ہوں گی جو ہمارے پاس ہیں۔ اس لیے دنیا کے معاملے میں ہم اِن لوگوں کو دیکھیں۔ پھر کیا ہوگا؟ قناعت پیدا ہوگی، شکر پیدا ہوگا۔ جبکہ دین کے معاملے میں فرمایا کہ اپنے سے اوپر والے کو دیکھو۔ میں تو فقط پانچ نمازیں پڑھتا ہوں، میں نے کون سا کمال کیا۔ وہ تو تہجد بھی پڑھتا ہے، عالم بھی بن رہا ہے، وہ تو مدرسے بھی جاتا ہے، وہ تو اللہ کے راستے میں مال بھی خرچ کرتا ہے، وہ تو اللہ کے راستے میں وقت بھی لگاتا ہے۔ میں اور کیا کرتا ہوں؟ دین کے معاملے میں ہم اپنے سے اوپر والے کو دیکھیں تا کہ شوق اور ترغیب ہو کہ میں نے اور بھی محنت کرنی ہے۔ اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھیں تاکہ شکر کی کیفیت پیدا ہو جائے۔
دلِ بے سکون
ایسے ایسے حالات لوگ فون کر کے بتاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ دنیا میں کیسی کیسی پریشانیاں ہیں اور کتنے لوگ پریشان ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اگر ہم تھوڑا سا اپنے ہی اِردگرد دیکھ لیں تو یقیناً ہمیں ایسے بہت سے لوگ مل جائیں گے جو ہم پر رشک کرتے ہوں گے کہ دیکھو! اس کے پاس کتنا کچھ ہے۔ تو دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھیں، اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھیں۔ اگر ایسا معاملہ ہوگا تو ہماری زندگی میں آسانیاں آ جائیں گی اور دل پُر سکون ہو جائے گا۔ اگر ہم دنیا کے معاملے میں اوپر والے کو دیکھتے رہیں گے تو ہر ایک اوپر والے پر کوئی ہے، اور اس کے اوپر پھر کوئی اور ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح آگے چلتا چلا جاتا ہے، اور پھر آخر میں فرعون بھی ہے جس نے کہا تھا کہ میں خدا ہوں۔ قارون بھی ہے جو کہ زکوٰۃ کا منکر ہوکر حضرت موسیٰ سے باغی ہوگیا تھا۔ اس لیے اگر دنیا کے معاملے میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھیں تو آسانی ہو جائے گی اور لوگوں کے مالوں پر نظر بھی نہیں جائے گی۔
استغناء عن الناس
حضرت عبداللہ بن عبا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں سے مستغنی رہو خواہ ایک مسواک کی لکڑی سے کیوں نہ ہو۔ (معجم طبرانی: 154/3)
مطلب یہ کہ بندے سے اُمید ہی نہ رکھے کہ یہ مجھے کچھ دے گا۔ میں اس کے پاس جاؤں گا، یہ مجھے کچھ کھلا پلا دے گا۔ یہاں سے میرا کچھ کام ہو جائے گا۔ مخلوق سے اُمید ہی نہ رکھی جائے۔ مخلوق تو خود محتاج ہے۔ محتاج سے اُمید کیا رکھنی؟ انسان اللہ ہی سے اُمید رکھے۔ ایک صحابیh نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے کوئی مختصر سی نصیحت فرما دیجیے تا کہ میں عمل کروں۔ نبی کریمﷺ نے تین باتیں ارشاد فرمائیں:
(۱) جب نماز پڑھو تو ایسی نماز پڑھو کہ گویا آخری نماز پڑھ رہے ہو۔
اس کے بعد موت کا وقت قریب ہے، پتا نہیں دوبارہ وقت ملے یا نہ ملے۔ اس کیفیت سے اگر ہم نماز پڑھنا شروع کریں تو ہماری نماز کے اندر توجہ آ جائے گی، خشوع وخضوع پیدا ہو جائے گا۔
(۲) زبان سے ایسی بات مت کہو کہ کل تمہیں اس بات پر معذرت کرنی پڑے۔
کسی کی غیبت کر دی، کسی کو برا بھلا کہہ دیا، کسی کا دل توڑ دیا۔ ایسی باتیں ہیں کہ بعد میں اس پر معافیاںمانگنی پڑتی ہیں۔ پہلے ہی خیال کرلو، اپنی عزّت کو بچاؤ۔
(۳) لوگوں کے پاس جو کچھ بھی ہے سب سے بے پروا ہو جاؤ۔
اس کی گاڑی ایسی، اس کے گھر کا فرنیچر ایسا، اس کے پردے ایسے، اس کی اولاد ایسی۔ فرمایا کہ لوگوں کی ہر چیز سے بے پروا ہو جاؤ۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 5226)
یہ تین باتیں آپﷺ نے اس صحابی کے جواب میں ارشاد فرمائیں جس نے کہا تھا کہ مختصر نصیحت ارشاد فرما دیجیے۔ اور غور تو کیجیے کہ قلبی سکون ہی سکون ہے اگر ہم اپنی زندگیوں میں یہ تین صفات پیدا کرلیں:
(۱) خشوع و خضوع والی نماز (۲) بدگوئی سے پرہیز
(۳) اور لوگوں کی چیزوں سے بے پرواہی۔ سبحان اللہ! کیا حکیمانہ نصیحتیں ہیں۔
دنیا کی حرص
انسان کا پیٹ دنیا کے مال سے نہیں بھر سکتا۔ پھر کیا چیز بھرے گی؟ قبر کی مٹی۔
حضرت انسh سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر ابنِ آدم کے پاس مال سے بھری دو وادیاں بھی ہوں تب بھی وہ چاہے گا کہ ایسی تیسری وادی بھی مل جائے۔ ابنِ آدم کے پیٹ کو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ اور جو اللہ سے معافی مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی معافی کو قبول فرماتے ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 1048)
اس انسان کا بڑا عجیب حال ہے کہ بہت بڑی اور سونے و جواہرات اور ہیروں سے بھری ہوئی بھی دو وادیاں ہوں، تب بھی اس کی خواہش پوری نہیں ہو سکتی۔ البتہ جو لوگ اللہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں، یہ خیر ہے۔ دنیا کا مال باعثِ راحت ہے مقصد نہیں، مقصد اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ اور ہم نے اصل مقصد کو چھوڑ کر راحت کو مقصد بنالیا ہے۔
ایک حدیث میں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی لوگوں سے استغنا اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز اپنی جانب سے عطا فرماتے ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 1469)
ایک روایت میں ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے کفایت طلب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہو جاتے ہیں۔ (سنن نسائی صغریٰ: رقم 2561، کتاب الزکاۃ)
لوگوں کے سامان کو، ان کی چیزوں کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس کے پاس فلاں چیز ہے اور میرے پاس نہیں ہے۔ ہم اس سے بے پروا ہو جائیں، اللہ ہمارے دل کو غنی کر دیں گے۔
زندگی کی حرص
ایک حدیث میں حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ابنِ آدم بوڑھا ہو جاتا ہے، مگر دو چیزیں اس میں جوان رہتی ہیں: ایک مال کی محبت، اور ایک لمبی عمر کی خواہش۔ (صحیح بخاری: رقم 5058)
نبی کریمﷺ نے نوجوانوں کے لیے خاص طور پر یہ بات بتائی ہے۔ اور آج کل کے تو بوڑھوں کے لیے بھی ہے۔ کئی لوگ ایسے آتے ہیں جو اپنی ساٹھ سالہ، ستر سالہ والدہ یا دادی کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ حضرت! دعا کریں، وہ ساری ساری رات فلمیں دیکھتی ہیں۔ ہم حیران ہو جاتے ہیں کہ اس عمر میں ان کو ہوا کیا ہے۔
کچھ دن پہلے ایک صاحب نے بتایا کہ ان کی والدہ کہہ رہی ہیں کہ مجھے نیٹ لگوا کر دو۔ ان کی والدہ کی عمر 75 سال کے قریب ہے۔ موت کا وقت قریب آنے کے باوجود یہ عالَم ہے۔ ویسے تو جوان کا بھی نہیں پتا، بچے کا بھی نہیں پتا، لیکن ستّر کے بعد بھی یہی خیال!!! سمجھ سے بالاتر ہے۔ نماز سے بے پرواہی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ سب اسکرین کے تماشے اور میڈیا کی حرکتیں ہیں۔
انگریز نے برّ ِصغیر میں دو کام کیے ہیں: ایک کام تو اس نے یہ کیا کہ بے پناہ علماء کو شہید کیا جن کی لمبی داستانیں ہیں۔ ساتھ میں مدارس کو بند کیا۔جو لوگ نبیﷺ کے وارث ہیں، ان کے ساتھ اس نے وہ کام کیا جو برے سے برا بندہ بھی نہیں کر سکتا۔ دوسرا کام اس نے عوام الناس کے ساتھ کیا۔ وہ کیا؟ وہ یہ کہ ان کے اندر دنیا کی محبت پیدا کر دی۔ اپنے آپ کو بننا سنوارنا، یہ کھانا وہ کھانا اس پر لگا دیا۔ آخرت سے غافل کر دیا۔ ایسے ایسے مسائل پیش آ رہے ہیں کہ بیان کرنے مشکل ہیں۔ آج ایک صاحب سے بات ہوئی، اس کی پوری بات میں بیان بھی نہیں کر سکتا۔ ان صاحب نے کہا کہ ہم لاہور میں رہتے ہیں اور ہمارے ساتھ ایسا معاملہ ہوگیا۔ اخلاقیات سے گری ہوئی باتیں ہیں۔ میں آپ کو ایک حدیث سنا دیتا ہوں، اس سے آپ خود سمجھ جائیں۔
غیر مسلموں کی نقّالی
نبی کریمﷺ کی ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے: تم ضرور بالضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے نقشِ قدم پر چلو گے حتیٰ کہ اگر اُن میں سے کسی نے اپنی ماں کے ساتھ راستے میں زنا کیا تھا، تو تم بھی کرو گے۔ (السلسلۃ الصحیحۃ للألباني: رقم 334/3)
نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو پاک دامنی اختیارکرے گا، اللہ تعالیٰ اسے پاک دامنی عطا کریں گے۔ (صحیح بخاری: رقم 1469)
جو چاہے گا میں پاک دامن رہوں، اللہ تعالیٰ اسے پاک دامن بنائیں گے۔ پاک دامن رکھیں گے۔ بس ہمت کرنے کی ضرورت ہے۔ بس اللہ تعالیٰ کو اپنا بنانے کی ضرورت ہے۔ صحیح بخاری کی اس حدیث میں کئی باتیں ہیں جن میں سے دو یہ ہیں:
(۱) جو لوگوں سے استغنا اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے استغنا عطا فرماتے ہیں۔
(۲) جو پاک دامنی اختیار کرے گا، اللہ اسے پاک دامن بنائیں گے۔
جبکہ سننِ نسائی صغیر میں ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے کفایت طلب کرے گا، اللہ اسے کافی ہو جائیں گے۔
محبت کا نبوی نسخہ
ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہم سے محبت کریں۔ آج جو محافل میں اپنائیت کے اظہار ہوتے ہیں، سب جھوٹ اور دِکھلاوے ہیں۔ کس میں کتنی سچی، اپنائیت اور خلوص ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہم سے محبت کریں تو اس کا نبوی نسخہ بھی سمجھ لیجیے۔
حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے پاس جتنی بھی چیزیں ہیں، اس سے بے رغبتی اختیار کرو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔
(سنن ابن ماجہ: رقم 4102)
لوگوں کے پاس جو کچھ بھی ہے دنیا کے اعتبار سے مثلاً مال و دولت ہے، اقتدار ہے، دنیاوی تعلقات ہیں وغیرہ۔ان سےکبھی ان کے ہاتھ کی چیز کا سوال مت کرو، لوگ تم سے سچی محبت کرنے لگیں گے۔
سب کچھ اس اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ پھر دنیا والوں کے سامان پر کیوں نظر رکھنا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَهٗ مَخْرَجًاo وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَايَحْتَسِبُط (الطلاق: 2,3)
ترجمہ: ’’اور جو کوئی اللہ سے ڈرے گا، اللہ اُس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا، اور اُسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اُسے گمان بھی نہیں ہوگا‘‘۔
جو مکمل اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے گا، تقویٰ والی زندگی گزارے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے رزق کے دروازے کھول دیں گے۔ اس کے بالمقابل جو مکمل دنیا کے پیچھے لگ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دنیا کے حوالے کر دیتے ہیں کہ تو جان اور تیرا کام جانے۔ محنت کر، جتنی مشقت اُٹھائے گا ہم تجھے دیتے رہیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم اللہ ہی کی طرف متوجہ رہیں، اللہ تعالیٰ کا تعلق بھی ملے گا اور دنیا بھی آسانی سے مل جائے گی۔
اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت
فضائل صدقات میں حضرت شیخ الحدیث مولانازکریا نے ایک گزشتہ آسمانی کتابوں کی ایک بات نقل کی ہے حضرت وہب کی طرف سے کہ اللہ ربّ العزّت کا ارشاد ہے: جب بندہ مجھ پر بھروسہ کر لیتا ہے تو آسمان اور زمین سب مل کر بھی اس کے ساتھ دھوکہ کریں، میں ان سب کے باوجود اس کے لیے راستہ نکال لوں گا۔ ہم اللہ کے ہو جائیں، اللہ ہمارے ہو جائیں گے۔ کیسی عجیب بات فرمائی کہ جب بندہ مجھ پر بھروسہ کر لیتا ہے، کامل بھروسہ کر لیتا ہے تو آسمان و زمین سب اس کے مخالف بھی ہو جائیں اور اس کے ساتھ دھوکہ کریں، میں اس کے لیے راستہ نکال لوں گا اور اس بندے کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا۔ اس بندے نے مجھ پر بھروسہ کیا ہے، میں اس کو مشکل سے نکالوں گا۔ کتنی پیاری بات ہے۔ سبحان اللہ!
ایک دن جدائی ہے
حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت سہل بن س سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے محمد! جتنا چاہیں زندہ رہیں، ایک دن مرنا ہے۔ جس سے چاہیں محبت کریں، ایک دن اسے چھوڑ جانا ہے۔ جیسا چاہے عمل کریں، اس کا بدلہ پانا ہے۔ پھر فرمایا: اے محمد! مؤمن کی شرافت رات کی نماز ہے، اور اس کی عزّت لوگوں سے استغنا ہے۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 8002)
یعنی دنیا میں انسان جتنا بھی رہے، ایک دن تو موت آئے گی۔ بہرحال جانا تو ہر صورت ہے۔ پھر اچھے عمل کا اچھا بدلہ ہے، برے عمل کا برا بدلہ ہے۔ اور دنیا میں آدمی جس سے مرضی محبت کرے۔ ایک تو حرام محبتیں ہیں جن پر جہنم واجب ہو جاتی ہے۔ فیس بک، واٹس اَپ پر نامحرم سے محبتیں ہیں۔ یہ سب تیزی سے جہنم میں جانے کے فیصلے کر دیتی ہیں۔ حرام محبتیں چھوڑ ہی دیں، یہ انسان کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ حلال محبتوں کا یہ عالَم ہے کہ یہ بھی ہم کریں گے کسی سے، تو ایک نہ ایک دن جدائی ہے۔ ماں کی بیٹے سے محبت، بیوی کی خاوند سے محبت۔ یہ وہ محبتیں ہیں جس پر انعام ملا کرتا ہے، اللہ کی رضا ملا کرتی ہے ۔ لیکن اس میں بھی کبھی نہ کبھی جدائی ضرور ہے۔
فناء فی اللہ
دنیا کی محبت کا انعام جدائی ہے۔ جس سے چاہیں محبت کریں۔ حلال محبتوں میں بھی جدائی ہے۔ حرام میں تو ہے ہی، حلال میں بھی جدائی ہے۔ صرف ایک محبوب ایسا ہے اللہ ربّ العزّت، اگر انسان اللہ سے محبت کر لے، انسان بلندیوں پر چلا جاتا ہے۔ آسمان کی رِفعتوں کو چھو لے، زمین کی پستیوں میں چلا جائے، سمندر کی گہرائیوں میں چلا جائے، کہیں چلا جائے، اللہ ربّ العزّت اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اللہ ربّ العزّت کا ارشاد ہے:
وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ (الحدید: 4)
ترجمہ: ’’اور تم جہاں کہیں ہو، وہ تمہارے ساتھ ہے‘‘۔
یہ ایک اللہ کی محبت ہے جب مل جاتی ہے تو جدا نہیں ہوتی۔ انسان دنیا میں جس سے چاہے محبت کرے، ایک دن جدا کر دیا جائے گا۔ ہاں! اگر مخلوق کو چھوڑ کر خالق سے محبت کرے گا پھر ایک نہ ایک دن ملا دیا جائے گا۔
مؤمن کے لیے باعثِ شرف و عزّت
حدیثِ جبرئیل جو ابھی بیان ہوئی، اس کے آخر میں کیا بات ارشاد فرمائی؟
فرمایا: اے محمد! مؤمن کی شرافت رات کی نماز ہے، اور اس کی عزّت لوگوں سے استغنا ہے۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 8002)
جان لیں کہ مؤمن کی شرافت قیام اللیل اور تہجد میں ہے، اور اس کی عزّت لوگوں سے مستغنی رہنے میں ہے۔ اللہ ربّ العزّت اس عمل سے خیر کا معاملہ فرمائیں گے۔ اللہ پاک بڑے رحیم ہیں، بڑے کریم ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ عزّت والا راستہ اختیار کریں۔ اللہ ربّ العزّت کو منانے کی فکر کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور خیر کا معاملہ فرما دیں گے۔ جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرما دیں گے۔ دونوں جہانوں کی عزّتیں عطا فرما دیں گے۔ اللہ پاک بڑے کریم ہیں، بہت ہی مہربان ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے اورتوکّل کی توفیق عطا فرمائے۔ قناعت کی دولت عطا فرمائے اور دین کے راستے میں خوب محنت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں رات کو تہجد کی توفیق عطا فرمائے۔ مؤمن کی شرافت تہجد کی نماز ہے۔ اللہ ربّ العزّت ہمیں اس کی قدردانی نصیب فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں