140

تہجد کی سنتیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَo (الذاریات: 17)
وَمِنَ الَّيْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّكَ (بني إسرائیل: 79)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اُمتِ محمدیہ کا مقام
یہ اُمت اللہ ربّ العزّت کی بہت محبوب اُمت ہے، کیوںکہ اس امت کا نبی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے اس امت کا مقام بہت بلند رکھا ہے۔ آج اِن شاءاللہ تہجد کے متعلق بیان ہوگا۔ یہ امت جب اللہ تعالیٰ کے سامنے روتی تھی تو دن میں مخلوق کے سامنے ہنستی تھی۔ اب یہ رات کے وقت سوتی ہے اور دن میں مخلوق کے سامنے سارا دن روتی ہے۔ پہلے وقتوں میں یہ زمانہ بھی گزرا ہے کہ لوگوں کی نفل یا تہجد بھی قضا ہوجاتی تھی تو لوگ روتے تھے۔ اور آج وہ زمانہ آگیا ہے کہ فرض نماز بھی قضا ہوجائے تو ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ جب یہ امت تہجد کے چھوٹ جانے کے غم میں روتی تھی تو دنیا میں اس کو عزتیں حاصل تھیں۔ آج فرض چھوٹ جانے پر بھی نہیں روتی تو لوگوں کے سامنے ذلیل ہو رہی ہے۔ جس طرح دنیا داروں کی راتوں کا اندازہ اُن کے دنوں کی کمائی سے ہوتا ہے۔ جو دن کو جتنا زیادہ کماتا ہے، رات کے وقت وہ اتنے ہی زیادہ مزے اُڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ جبکہ دین داروں کے دن کا اندازہ اُن کی راتوں سے ہوتا ہے کہ رات کے وقت وہ جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں، دن کے وقت اللہ ربّ العزّت ان کو اتنی ہی زیادہ عزتیں عطا فرماتے ہیں۔
حضرت جی دامت برکاتہم کا جواب
بہت سے علماء طلباء اور طالبات یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم تو پڑھنے اور پڑھانے کا کام کرتے ہیں، ہمیں تہجد کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے محترم حضرت جی پیر ذو الفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ صحابہ کرام تو دوکانداریاں کیا کرتے تھے، کیا اس لیے وہ تہجد پڑھتے تھے؟ بہت ساری عورتیں تو یہ کہہ دیتی ہیں کہ ہمارے بچے ہیں، ہم سے تہجد نہیں پڑھی جاتی۔ حضرت جی دامت برکاتہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ بھئی! کیا پہلے عورتوں کے بچے نہیں ہوتے تھے؟ تو معلوم ہوا کہ تہجد کی نماز پڑھنی ہے۔ اور اس نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
کمرے کا نور
ہمارے نانا کی والدہ بڑی نیک خاتون تھیں۔ اللہ پاک اُن پر رحم فرمائے اور ان کی روح کو شاد آباد رکھے۔ میرے نانا چوبیس بہن بھائی تھے، اور ان کی والدہ کو ہم سب اماں کہہ دیا کرتے تھے۔ ان کا چہرہ بے حد نورانی تھا۔ ان کے انتقال فرما جانے کے بعد ایک مرتبہ ایک بزرگ ہمارے نانا کے گھر تشریف لائے۔ جب وہ ہماری نانا کی والدہ کے کمرے میں گئے تو انہوں نے پوچھا کہ اس کمرے میں کون رہتا تھا؟ نانا بتایا کہ ہماری والدہ رہتی تھیں۔ ان بزرگ نے فرمایا کہ اس کمرے میں وہ نور نظر آرہا ہے جو آپ کے پورے گھر میں نظر نہیں آیا۔ اللہ اکبر! ہمارے نانا کی اماں تہجد گزار بھی تھیں اور عبادت گزار بھی تھیں۔
ولایتِ کاملہ کا حصول
ہمارے حضرت جی دامت برکاتہم کے پاس دو آدمی عرصہ پہلے بیعت ہو کر گئے۔ پھر وہ آکر بتانے لگے کہ اب ہم اتنے نیک ہیں، ہمارے اندر یہ Qualities ہیں، ہم بہت عمل والے ہیں۔ حضرت جی دامت برکاتہم ان کی باتوں کو سنتے رہے۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ لوگ خاموش ہوئے تو حضرت جی نے پوچھا کہ بھئی! آپ یہ بتائیں کہ آپ کی تہجد کی پابندی کیسی ہے؟ تو دونوں ہی چپ ہوگئے۔ پھر حضرت جی نے فرمایا کہ ہم تو لوگوں کو تہجد کی پابندی سے جانتے ہیں۔ یعنی جس کے اندر تہجد کی جتنی پابندی زیادہ ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا درجہ اتنا ہی زیادہ ہے۔ اور جس کے پاس تہجد کی پابندی نہیں تو اس کو کسی صورت میں ولایتِ کاملہ نہیں مل سکتی ہے۔
خوش قسمت اور بد قسمت
کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے منصوبے بناتے رہتے ہیں کہ مثلاً ہم نے ساری رات کرکٹ کھیلنی ہے، یا ساری رات میچ دیکھنا ہے، یا فلاں کوئی لہو ولعب والا کام کرنا ہے۔ مگر جب خاص تہائی رات کے بعد تہجد اور سحری کے قریب کا وقت آتا ہے تو یہ لوگ بھی سوجاتے ہیں، بلکہ سُلا دیے جاتے ہیں۔ کیوںکہ یہ وقت اللہ کے پیاروں اور اللہ کے محبوبین کے اُٹھنے اور اللہ تعالیٰ سے رازو نیاز کی باتیں کرنے کا ہوتا ہے۔ اور یہ وقت قبولیتِ دعا کا ہوتا ہے، تو رات بھر لہو ولعب میں مشغول لوگ سلا دیے جاتے ہیں۔ کئی لوگوں کو اُٹھایا جاتا ہے اور کئی لوگوں کو سلایا جاتا ہے۔کوئی جماعت ایسی ہوتی ہے کہ اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتے ہیں کہ جائو انہیں جا کر جگا دو، یہ سب دین کا کام کرنے والے ہیں۔ اگر یہ اُٹھ گئے اور انہوں نے میری عبادت کرلی تب بھی میرے مقرّب ہیں، اور اگر سوگئے تب بھی میرے مقرّب ہیں۔معلوم ہوا کہ علماء کی نیند بھی عبادت ہوا کرتی ہے۔ یہ بات حدیث میں آتی ہے۔ اللہ پاک ہمیں تہجد کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔
جس کے دل میں تڑپ ہو کہ میں جاگوں اور اپنے رب کو منائوں اور رازو نیاز کی باتیں کروں تو ایسے بندہ کو چاہیے کہ وہ ضرور تہجد کی پابندی کرے، دعائیں کرے۔ بہت سے لوگ ہمارے پا س آتے ہیں کہ حضرت! دعا کریں کہ نوکری اچھی مل جائے، رشتہ اچھی جگہ ہوجائے، کاروبار چمک جائے، ہماری اولاد فرمانبردار بن جائے۔ کچھ آکر کہتے ہیں کہ حضرت! بیوی بڑی نافرمان ہے، دعا کردیجیے کہ بیوی فرمانبردار بن جائے۔ دنیا کے لیے تو بہت لوگ دعا کروانے آتے ہیں، بہت تھوڑے ہیں جو آکر یہ کہتے ہوں کہ کوئی ایسا طریقہ بتا دیں کہ اللہ راضی ہوجائے، قیامت اور آخرت میری آسان ہوجائے، میری قبر اچھی بن جائے۔ دنیا کی پچاس، ساٹھ سالہ زندگی گزارنے کے لیے ہم بہت سوچتے ہیں، مگر قبر کی زندگی جو قیامت تک ہے اور قبر کے بعد ہمیشہ کی زندگی کے لیے بہت تھوڑے لوگ سوچتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اس کے لیے کوشش کریں۔ بڑے افسوس کے ساتھ کہ آج آخرت کی فکر ہمارے اندر سے نکلی ہوئی ہے۔
ایک شبہ کا اِزالہ
بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ جس شخص نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لی تو ساری رات اسے عبادت کا ثواب مل گیا، تو ہمیں تہجد کی کیا ضرورت ہے؟ ہمارے حضرت جی دامت برکاتہم اس کا بہت پیارا جواب دیتے ہیں کہ آپ لوگوں نے اس بات کو سمجھ لیا، اور صحابہ کرام اسے نہ سمجھ سکے۔ حضراتِ صحابہ کرام تو تہجد کو ضروری سمجھتے تھے، اور تہجد کی نماز پڑھتے تھے۔
معلوم ہوا کہ بہانوں سے بات نہیں بنے گی، ہمت کریں گے اور جذبہ دل میں رکھیں گے تو اِن شاء اللہ اللہ ربّ العزّت تہجد کی توفیق بھی عطا فرما دیں گے ورنہ ہم جتنے بھی بہانے قائم کرلیں اِن اللہ والوں کے پاس ان بہانوں کا پورا پورا جواب ملے گا۔
نبی کریمﷺ کی تہجد:
بہرحال نبی کی تہجد کے بارے میں کیا ترتیب تھی، وہ سن لیجیے۔ نبی کی تہجد کی نماز سے متعلق ہمیں مختلف روایات ملتی ہیں۔
تہجد کی نماز کے بارے میں نبی کی مختلف عادات تھیں۔ بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ امی عائشہ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ شروع رات میں بیدار ہوتے اور تہجد کی نماز پڑھتے۔ دوسری روایت میں ہے کہ پوچھا گیا امی عائشہ صدیقہ سے کہ نبی کس وقت اُٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب مرغ اذان دیتا تھا۔ اس زمانے میں Alarm تو نہیں ہوتے تھے، لوگ صبح صادق کا وقت معلوم کرنے کے لیے مرغے رکھتے تھے۔ حتّٰی کہ جب سفر پر جاتے تب بھی مرغے کو اپنے ساتھ رکھتے تھے، اور اس کی بانگ سے اُٹھ جایا کرتے تھے۔
(فتح الباری: 71/4،عمدۃ القاری: 182/7)
یوں سمجھیے کہ مرغا اس زمانے کا الارم تھا۔ بہرحال نبی کریمﷺ بہت پابندی کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے۔ اپنے مقام پر ہوتے تب بھی پڑھتے تھے، اور سفر میں ہوتے تب بھی پڑھتے تھے۔ معلوم ہوا کہ سفر میں بھی نبی نے تہجد کا کبھی ناغہ نہیں کیا۔
تہجد کے وقت کا معمول
نبی کے تہجد کے وقت کے معمولات مختلف روایات سے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ آدھی رات کے وقت نبی بیدار ہوجاتے۔ اوّلاً ہاتھوں کو چہرۂ انور پر پھیرتے، نیند کے خمار کو دور کرتے، اس کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کرتے۔ پھر وضو کرتے اور وضو سے پہلے مسواک کا استعمال کرتے۔ اور وضو کے بعد عطر استعمال فرماتے۔ عطر اگر اپنے پاس میسر نہ ہوتا تو گھروالوں سے منگواتے حالاںکہ نبی کریمﷺ خود عطر سے زیادہ معطر تھے۔
(بخاری: رقم 4569، مسلم: رقم 763،ابو داؤد: رقم 56)
عطر کی خوشبو آقاﷺ کے سامنے ہیچ اور ماند تھی، لیکن بات صرف یہ ہوتی ہے کہ دل کرتا ہے کہ محبوب کی ملاقات کے لیے جب انسان جائے تو اہتمام کرکے جائے اور تیاری کرکے محبوب کے سامنے حاضر ہو۔ ہم لوگ یہودیوں کا بغیرتی اور بے حیائی کا عالمی دن مناتے ہیں تو کتنی تیاریاں کرتے ہیں۔ جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنی ہو تو وہ عطر لگاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور اللہ تعالیٰ کو منانے کی تیاریاں کرتے ہیں۔ عطر لگانے کے بعد نبی کے پاس جو بہترین کپڑے میسر ہوتے، اسے زیب تن کرتے اور پھر اللہ کے حضور کھڑے ہوجاتے اور نماز تہجد ادا کرتے۔
تہجد میں لمبا قیام
عام طور پر رکعات کی ترتیب یہ ہوتی تھی کہ پہلی دورکعات ذرا ہلکی ہوتیں اور اس کے بعد کی رکعاتلمبی ہوا کرتی تھیں۔ (صحیح مسلم: رقم 767)
اکثر اوقات نبیd کا تہجد کا قیام بہت طویل ہوتا تھا۔ (صحیح بخاری: رقم 1078)
ایک صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک رات میں آقاﷺ کے ساتھ تہجد میں شریک ہوگیا۔ یعنی نبی تہجد پڑھ رہے تھے تو یہ صحابی پیچھے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ نبی نے اتنی دیر تک قرآن کریم پڑھتے رہے اور اتنا طویل قیام کیا کہ صحابی فرماتے ہیں: میں نے برا ارادہ کیا۔ راوی حدیث ابو وائل کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ سے پوچھا کہ برے ارادے کا کیا مطلب ہے ؟ فرمایا کہ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اپنی نماز مکمل کرلوں اور نبی کو تنہا چھوڑ دوں۔
(صحیح البخاري: باب طول القیام في صلاۃ اللیل)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی تہجد میں لمبی رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
ایک اور صحابی حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نبی کریمﷺ کے ساتھ تہجد میں شریک ہوگیا۔ آپﷺ نے سورہ بقرہ کی تلاوت شروع کی۔ میں نے خیال کیا کہ نبی سو آیتوں پر رکوع فرمائیں گے۔ پھر جب سو آیتیں پوری ہوگئیں لیکن تلاوت چلتی رہی تو میں نے خیال کیا کہ ایک رکعت میں سورہ بقرہ پوری کریں گے۔ مگر جب سورہ بقرہ بھی پوری ہوگئی تو آپﷺ نے سورہ نساء شروع کرلی۔ (اس وقت قرآن پاک کی موجودہ ترتیب نہیں تھی) پھر یہ سورت پڑھتے رہے، یہاں تک کہ یہ سورت بھی پوری ہوگئی تو نبی سورہ آل عمران شروع کرلی۔ (آگے ان صحابی نے آپﷺ کے پڑھنے کی کیفیت کو بیان کیا) (صحیح مسلم: رقم 772)
معلوم ہوا کہ نبی پانچ پانچ سپارے ایک رکعت میں پڑھ لیا کرتے تھے۔ لوگ غلط خام خیالی رکھتے ہیں کہ قرآن مجید روز ایک پائو سے زیادہ نہیں پڑھ سکتے۔ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ قرآن مجید جتنی زیادہ کثرت سے ہوسکے اس کی تلاوت کرنی چاہیے۔ نبی تو پانچ پانچ پارے صرف ایک رکعت میں پڑھ لیتے تھے۔ نبی تہجد میں اتنی دیر تک پڑھتے تھے کہ
حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ.
ترجمہ: ’’یہاں تک کہ نبی کریمﷺ کے قدموں میں ورم آجاتا تھا‘‘۔
یعنی نماز میں کھڑے کھڑے پائوں مبارک متورّم ہوجایا کرتے تھے۔ نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں، حالاںکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہیں۔ (آپﷺ کے گناہ نہیں تھے، اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی تسلی فرمائی ہے) نبی نے ارشاد فرمایا:
أَفَلَا أَكُوْنَ عَبْدًا شَكُوْرًا. (صحیح البخاري: رقم 4556)
ترجمہ: ’’کیا میں اللہ ربّ العزّت کا شکر گزار بندہ نہ بنوں‘‘۔
کبھی ہم نے سوچا بھی ہے کہ ہم اتنی تہجد پڑھیں کہ کم ازکم پائوں دُکھنے لگ جائیں، وَرم آنا تو بڑی دور کی بات ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کے لیے فکر مند رہیں اور تہجد کے لیے اللہ سے مدد مانگیں۔
نبیﷺ کا حالتِ ضعف میں تہجد پڑھنا
نبیd اکثر تہجد میں لمبی رکعتیں پڑھتے تھے، مگر آخری عمر میں ضعف اور بیماری کی وجہ سے آپ بیٹھ کر تہجد پڑھتے تھے۔ یعنی پہلے کھڑے ہوکر پڑھتے، پھر بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
امی عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ نبی کو تہجد میں جب ساری رات کھڑا رہنا مشکل ہوگیا ضعف اور بیماری کی وجہ سے، تو آپ بیٹھ کر قراءت کرتے تھے۔ پھر جب سورت پوری ہونے میں تقریبًا تیس چالیس آیات رہ جاتیں تو آپ کھڑے ہو کر تلاوت فرماتے (اور سورت مکمل کرتے) پھررکوع فرماتے۔ (صحیح بخاری: رقم 1148)
ہمارے یہاں تو تروایح کی نماز کے علاوہ شاید کبھی ایسا ہو کہ ہم نے تیس چالیس آیات کبھی پڑھی ہوں۔ نبی کی تیس چالیس آیات تو لمبی تلاوت کے بعد تلاوت ہوتی تھیں۔ اب ہمیں بھی چاہیے کہ ہم تہجد کی پابندی کریں۔
تہجد پڑھنے کا ماحول بنانا
حضرت علی فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے میرے دروازے کو ایک رات کھٹکھٹایا اور فرمایا کہ کیا تم لوگ تہجد کیوں نہیں پڑھتے؟ (یعنی اٹھو اور تہجد کی نماز پڑھو)
(صحیح بخاری: رقم 1075)
حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں آتا ہے کہ آپ جس قدر اللہ پاک چاہتے اس قدر رات میں نماز پڑھتے رہتے، یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوجاتی تو اپنے گھر والوں کو نماز کے لیے جگاتے اور فرماتے: الصلوٰۃ الصلوٰۃ یعنی نماز، نماز۔ اور پھر یہ آیت تلاوت فرماتے:
وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا (طہ: 132)
ترجمہ: ’’اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو‘‘۔
ثابت قدم رہنا اور دین کے مسئلے پر جمے رہنا، یہ اصل میں بڑی استقامت ہوا کرتی ہے۔ جو انسان خود دین پر جما رہے گا، وہ اپنے گھر والوں کو بھی نیکی تقویٰ کا حکم دے گا۔
دین میرے اپنے لیے ہے
گلدستۂ سنت کی کتاب کے سلسلے میں ایک عجیب اتفاق ہوا۔ الحمدللہ! کافی دوستوں کو یہ کتاب ہدیۃً دی۔ پھر میں نے تجربے کے طور پر ذرا پوچھنا شروع کیا کہ بھئی! آپ کو کتاب دی تھی، آپ نے پڑھی؟ میں نے کتنوں سے پوچھا الاّ ما شاءاللہ یعنی سوائے چند لوگوں کے سب کا یہی جواب تھا کہ میری امی پڑھتی ہیں، میری بہن پڑھتی ہیں، میری بیوی پڑھتی ہیں۔ تو گھر کی عورتیں تو پڑھ لیتی ہیں، ہمیں کب توفیق ملے گی؟ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اس کا مطالعہ کریں۔ ہمیں اس آیت
وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا (طہ: 132)
پر عمل کی ضرورت ہے۔ یعنی خود بھی دین پر سختی کے ساتھ جمے رہنا اور نفس پر قابو پانا، اور اپنے گھروالوں کو بھی اس کا حکم دیتے رہنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آج اگر ہم خود دین کے پابند ہوں گے تو اپنے گھر والوں کو تبلیغ اور نیکی کا کہنے والے بنیں گے۔
ذاکرین میں شمار:
حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نےارشاد فرمایا: جب آدمی اپنے اہل خانہ یعنی بیوی کو رات میں اُٹھاتا ہے اور دونوں ساتھ تہجد کی نماز پڑھتے ہیں تو اللہ ربّ العزّت ان کو ذاکرین اور ذاکرات میں شمار کرتے ہیں۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم: 1238)
قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا (الأحزاب: 35)
ترجمہ: ’’ان سب کے لیے اللہ نے مغفرت اور شاندار اجر تیار کر رکھا ہے‘‘۔
یعنی اللہ رب العزت نے ذاکرین اور ذاکرت کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بات بہت ضروری ہے ک ہم تہجد کی نماز خود بھی پڑھیں، اور گھر والوں کو بھی پڑھائیں۔ اس کی عادت ڈالیں۔
نبی کی دعائے رحمت
شادی شدہ لوگوں میں سے جسے نبی کی دعائے رحمت کی ضرورت ہے تو وہ صرف اس حدیث پر عمل کرلے۔ دل کے کانوں سے سنیے!
حضرت ابوہریرہسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص پر اللہ ربّ العزّت کی رحمت ہو جو رات کو اُٹھے اور نماز پڑھے، اور اپنی بیوی کو بھی تہجد کے لیے اُٹھائے۔ اور اگر بیوی نہ اُٹھ سکے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو اس عورت پر جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے، اور اپنے شوہر کو بھی تہجد کے لیے اٹھائے۔ اور اگر شوہر نہ اٹھ سکے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارے۔
(سنن ابی داؤد: رقم 1450)
رحمت تو تب بھی مل جائے گی کہ آپ خود اُٹھے تہجد کے لیے اور بیوی کو بھی جگایا، لیکن اگر بیوی نہ اُٹھی تو اچھے انداز سے، خوش خلقی کے ساتھ پانی سے تھوڑا سا چھینٹا مار دے۔ اس عمل سے دونوں میاں بیوی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہوجائیں گے۔ خیال رہے کہ معاملہ نرمی کا کیا جائے، اُٹھانے میں بہت زیادہ سختی نہ کی جائے۔
نبی تہجد میں دبے پائوں اُٹھتے تھے۔ امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی ہماری آنکھ نہیں کھلنے دیتے تھے۔ یعنی دبے قدموں چلتے تھے تاکہ اہلیہ کی نیند خراب نہ ہوجائے، کیوں کہ نبی خود تھوڑا جلدی اُٹھ جایا کرتے تھے اور گھروالوں کو ذرا دیر سے تہجد کے لیے اُٹھاتے تھے۔ عمل کی نیت سے ان احادیث کو پڑھیں گے تو اِن شاءاللہ عمل کی بھی توفیق نصیب ہوجائے گی۔
نبی کریمﷺ کا اہتمامِ تہجد:
نبی کریمﷺ تہجد کی پابندی کرتے تھے۔ اگر کسی وجہ سے جیسے مثلاً سفر پر ہیں یا کسی اہم مسئلے میں ہیں تو نبی تہجد سواری پر ہی پڑھ لیتے تھے۔ (صحیح مسلم: رقم 700)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ کو تہجد کی نماز سے کتنی محبت تھی۔ اور آپﷺ اس کی ادائیگی کا اہتمام فرماتے تھے۔ اور عام طور سے نبی کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ رات کا کچھ حصہ عبادت فرماتے اور کچھ حصہ آرام فرماتے، لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوا کہ ساری رات نبی تہجد پڑھتے رہے اور ساری رات میں ایک لمحہ بھی نہ سوئے۔
حضرت خباب فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی کی رات کی نماز کو میں نے خوب غور سے دیکھا یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ آپ پوری رات نماز میں لگے رہے اور صبح کے وقت نبی نے سلام پھیرا۔ (سبل الہدیٰ: صفحہ974)
لیکن ایسا کبھی کبھی ہوتا تھا، عام معمول یہی تھا کہ کچھ رات آرام فرماتے اور کچھ رات عبادت فرماتے۔ ایک معمول نبی کا یہ بھی تھا کہ نبی کریمﷺ کی تہجد بین النومین ہوتی تھی، یعنی دونیندوں کے درمیان۔ نمازِ عشاء پڑھ کے نبی جلدی سوجاتے، پھر آدھی رات جس وقت اٹھنا آسانی سے ہوتا اٹھتے اور تہجد پڑھتے، خوب لمبی رکعتوں کے ساتھ پڑھتےاور پھر تھوڑی دیر کے لیے دوبارہ سوجاتے، اور پھر اٹھ کر فجر کی نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔ اس لحاظ سے نبی کی تہجد بین النومین ہوجایا کرتی تھی۔ اور ہماری نمازِ فجر بین النومین ہوتی ہے، بلکہ ہم لوگ تو فجر میں بھی حالتِ نوم میں ہوتے ہیں۔ آج مسلمان فجر کے لیے بڑی مشکل سے اُٹھتے ہیں اور نیند ہی نیند میں فجر پڑھ کر فوراً سو جاتے ہیں۔
تہجد میں مزے لے کر قرآن پڑھنا
بعض اوقات نبی تہجد میں ایک ہی آیت کو بار بار تلاوت فرماتے حتّٰی کہ ساری رات اسی ایک آیت کی تلاوت میں گزر جاتی۔ بھئی! جو حافظِ قرآن ہیں وہ کوشش کرکے زیادہ قرآن پاک پڑھ لیں، اور جو ساتھی حافظِ قرآن نہیں ہیں ان کے لیے یہ صورت نکل آئی کہ انہیں اگر ایک بھی آیت یاد ہے تو اسی کو شوق سے پڑھتے رہیں۔ سورۂ اِخلاص سب کو یاد ہوتی ہے، وہی پڑھتے رہیں، اِن شاء اللہ سنت کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ یہ کام اجتماعی طور پر نہیں کرنا، بلکہ اکیلے میں محبت اور عقیدت کے ساتھ کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک نفل کی جماعت مکروہ ہے۔
مغرب سے عشاء کا قیمتی وقت:
بسا اوقات نبی مغرب سے عشاء تک کے پورے وقت کو عبادت میں گزارتے تھے۔ یہ وقت بعض صوفیائے کرام کے نزدیک بڑا قیمتی وقت ہے، اور وہ حضرات اس وقت میں اپنے معمولات کو پورا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ نبی کے چاہے اوقات تبدیل ہوتے ہوں، مگر یہ بات پکی تھی کہ نبی کریمﷺ پابندی کے ساتھ تہجد پڑھا کرتے تھے۔
تہجد کی رکعات
نبی کی وتر کی ترتیب عام طور سے یہ تھی کہ آپﷺ عام طور سے عشاء کے بعد وتر نہیں پڑھتے تھے، وتر کو تہجد کے لیے چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اور تہجد کی رکعات کبھی 6 پڑھتے تو کبھی 8، اور کبھی 10 رکعات پڑھتے تھے۔ زیادہ راجح اور مستند روایات تو آٹھ رکعات کی ہیں۔ ان آٹھ رکعات میں پہلی دو رکعتیں ہلکی پھلکی پڑھتے اور بقیہ چھ رکعات لمبی قراءت اور قیام والی ہوتی تھیں۔ ہم لوگوں کی چار چھ رکعات 6,5 منٹ میں پوری ہوجاتی ہیں، مگر نبی کی چار رکعت کا مطلب آدھی پونی رات ہوا کرتی تھی، یا گھنٹوں ہوا کرتے تھے۔ ہم صرف تعداد کو مد نظر نہ رکھیں، بلکہ Quality کو بھی چیک کریں کہ نبی کس قدر محبت اور اللہ کے تعلق کے ساتھ تہجد پڑھتے تھے۔
مختلف روایات میں یہ بات بھی آئی ہے کہ نبی کو جس وقت جیسا موقع میسر آتا اس لحاظ سے موقع ومحل کے مطابق رکعت میں کمی بیشی کرتے رہتے تھے۔ صحت و بیماری، سفر و حضر، جہاد میں اپنی مصروفیات کے مطابق تہجد پڑھتے تھے۔ اسی اعتبار سے تہجد کی تعداد اور رکعات میں فرق ہے۔
تہجد کیسے شروع کریں؟
ہم لوگ اب تہجد کو کیسے شروع کریں؟ سب سے پہلے تو یہ فکر دل میں لائیں کہ ہم نے تہجد پڑھنی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اسے کچھ اہمیت دیں۔ چوبیس گھنٹے کے معمولات میں اسے کچھ وقت دیں گے تو پھر تہجد نصیب ہوگی۔ اور ایک اہم بات یہ ہے کہ اپنے دن کے اوقات کو گناہوں سے پاک رکھنے کی کوشش کریں۔
ایک اللہ والے تھے۔ بڑے عبادت گزار شخص تھے۔ ان سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا۔ ان کے دل میں کچھ دن بعد خیال آیا کہ یااللہ! گناہوں سے توفیقِ عبادت اور عمل چھن جایا کرتا ہے، تو مجھ سے تو گناہ سرزد ہو رہے ہیں اور آپ اتنے رحیم و کریم ہیں کہ آپ نے ابھی تک مجھ سے کوئی عبادت کی توفیق چھینی ہی نہیں۔ اللہ پاک نے دل میں اِلہام فرمایا کہ اے میرے بندے! جس دن سے تو فلاں گناہ میں ملوث ہوا ہے۔ یاد تو کر! ہم نے اسی رات سے تجھ سے تہجد اور باقی عبادات کی لذّت چھین لی ہے۔ عبادت تو تو کر رہا ہے، مگر عبادت کی لذّت تجھے حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ سزا تجھے مل گئی ہے کہ مناجات کی لذّت اور سرور جو تجھے پہلے نصیب ہوتا تھا، اب تو اس سے محروم ہوگیا ہے۔ معلوم ہوا کہ عبادت اور تہجد میں اُٹھنے اور اس کی مناجات کی لذّت کے اُٹھنے کی سب سے پہلی وجہ ہمارے گناہوں کا ہماری زندگی میں شامل ہونا ہے۔ بعض اوقات ہم محنت مشقت کرکے تہجد میں اُٹھ تو جاتے ہیں، لیکن لذت سے محروم ہوتے ہیں۔ اور اگر گناہوں کی بہت زیادہ کثرت ہوجائے تو بعض اوقات ہمارا تہجد میں اُٹھنا ہی ختم ہوجاتا ہے۔
اب ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے تو ہم دعا مانگیں کہ یا اللہ! ہمیں تہجد پڑھنے کی توفیق دے اور یہ نعمت عطا فرما دیجیے۔ اس کے بعد ہم یہ کریں کہ عشاء کی نماز جب ہم پڑھ لیں تو وہیں مسجد میں دورکعتیں، چار رکعتیں، چھ رکعتیں، یا آٹھ رکعتیں پڑھ لیں۔ جتنا ہوسکے، کر لیا جائے۔ یا پھر مسجد سے گھر آکر ہم یہ رکعات تہجد کی نیت سے پڑھ لیں تو ہماری کسی نہ کسی درجے میں تہجد ادا ہوجائے گی۔ مگر یاد رکھیے! تہجد کا افضل وقت آگے کا ہے۔ جیسے اذان ہوجاتی ہے تو آدمی پون گھنٹہ فجر سے پہلے اُٹھ جائے اور وضو وغیرہ کرکے مصلے پر آجائے۔ کچھ دیر تہجد کی نماز پڑھ لیں، کچھ دیر دعائیں، مراقبہ وذکر کرلیں، اور کچھ دیر استغفار کرلیں۔ سب سے آخر میں اگر استغفار ہو تو بہت افضل اور اعلیٰ ہے۔ صحابۂ کرام فرماتے ہیں کہ ہمیں تہجد کے بعد تقریبًا ستر مرتبہ استغفار کے لیے کہا جاتا تھا۔ اس لیے فجر سے پہلے استغفار کی ایک تسبیح کرلیں، یہ اس وقت کی بہترین تسبیح ہے۔
اس کے بعد مرد حضرات فجر کی نماز کے لیے مسجد تشریف لے جائیں، اور عورتیں اپنے گھر پر فجر کی نماز ادا کرلیں۔ اب جس کے لیے یہ ترتیب مشکل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ عشاء کے بعد تہجد پڑھ لے، اور ہفتے میں ایک دن کوشش کرلے کہ رات کے آخری پہر میں اُٹھ کر تہجد کی نماز پڑھے۔ نبی نے ساری زندگی تہجد کی نماز نہیں چھوڑی۔ اب ہم اتنے بھی غافل نہ بنیں کہ ہفتے میں ایک دن بھی سحری کے وقت نہ اُٹھیں، اور اس وقت تہجد نہ پڑھیں۔ جب ارادہ کرلیں گے تو اللہ ربّ العزّت آسانی فرما دیں گے۔ دیکھیں! دنیاوی معاملات میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ جب کسی بڑے کام کا عزم کرتے ہیں تو عزم برائے عزم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ کیا ہم اپنے اللہ تعالیٰ سے ملنے کے لیے، اسے راضی کرنے کے لیے اتنی محنت نہیں کرسکتے۔
تہجد کے چند فضائل
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز تہجد کی نماز ہے۔ (ترغیب: 423/1)
بعض علماء کے نزدیک نبی کریمﷺ پر یہ نماز واجب تھی جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے:
فَتَھَجَّدْ بِہ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًاo (بني إسرائیل: 79)
ترجمہ: ’’اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھا کرو جو تمہارے لیے ایک اضافی عبادت ہے۔ اُمید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہیں مقامِ محمود تک پہنچائے گا‘‘۔
آقا کو حکم تھا کہ آپ تہجد کی نماز پڑھیے، یہ آپ پر زائد فرض ہے۔ عنقریب اللہ ربّ العزّت آپ کو عزتوں والے مقام یعنی مقامِ محمود پر فائز فرما دیں گے۔ علمائے کرام نے یہاں سے نکتہ مستنبط کیا کہ جو شخص تہجد کی پابندی کرے گا، وہ قیامت کے روز نبی کی شفاعت کا حق دار ہو گا۔
حضرت ابوہریرہ نے ایک مرتبہ نبی کریمﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! مجھے وہ اعمال بتائیے کہ جس پر میں عمل کروں اور جنت میں بہ سہولت داخل ہوجائوں۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ بھوکوں کو کھانا کھلائو، سلام کو عام کرو، رشتہ داریوں کو جوڑو یعنی ان کے ساتھ اچھا برتائو کرو، اور جس وقت لوگ سو رہے ہوں اس وقت تہجد کی نماز پڑھو، سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائو گے۔(ترغیب: صفحہ425)
نبی نے چار طریقے بتائے ہیں جو بہت ہی آسان ہیں۔ اس میں کوئی مشکل چیز نہیں، بس ہمت اور ارادہ کرنے کی بات ہے:
پہلی بات: بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ ضروری نہیں کہ ہم بہت زیادہ لنگر ہی کریں، بلکہ حسبِ توفیق ایک دو کو کھلا دیں۔ کوئی خرچے کی بات نہیں۔ گھر میں جو کھانا پکا ہو، اسی میں تھوڑا سا پانی ڈال دیں، وہی لوگوں کو کھلا دیں۔ جنت حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ اگر سوچیں تو جہنم میں جانے کے لیے زیادہ مال خرچ کرنا پڑتا ہے، زیادہ تکلیفیں اُٹھانی پڑتی ہیں، مگر جنت سستی ہے اور آسانی سے مل جاتی ہے۔
دوسری بات: سلام کو عام کریں۔ اس میں بھی کوئی خرچے والی بات نہیں۔
تیسری بات: رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔
چوتھی بات: جس وقت لوگ سو رہے ہوں، اس وقت تہجد کی نماز پڑھنا۔
یہ چار اعمال آسانی سے کرنے سے انسان کو نبی نے جنت میں جانے کی بشارت سنائی ہے۔ تہجد پڑھنے والے قیامت کے دن بغیر حساب و کتاب جنت میں جائیں گے۔ پہلے تو سب لوگ مجھے یہ بتائیں کہ ہم میں سے کوئی ہے جو قیامت کے دن حساب وکتاب دے سکتا ہو؟ ایک بندہ بھی دے سکتا ہے؟ لوگ تو اتنے عاجز ہیں کہ ایک دن کا حساب وکتاب نہیں دے سکتے۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں چاہیے کہ ایسے اعمال اختیار کریں کہ قیامت کے دن بلاحساب وکتاب جنت میں سہولت کے ساتھ چلے جائیں۔
دنیا میں اِن کم ٹیکس والے کوئی قانون بناتے ہیں تو اس کے اندر Rule رکھتے ہیں کہ فلاں کام کرنے پر یہ ٹیکس دینا ہے تو دوکانداروں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسا طریقہ اختیار کریں کہ ایسا کام ہی نہ کریں، اور اگر کرنا بھی پڑے تو ستّر قسم کے طریقے اپناتے ہیں ان چکروں میں پڑے بغیر پہلے ہی ہمارا کام ہوجائے۔ تو بھئی! اللہ ربّ العزّت نے بھی جنت میں بلا حساب وکتاب جانے کے لیے کچھ چھوٹ رکھی ہے۔ وہ چھوٹ اللہ نے کن کو دی ہوئی ہے؟ فیس بک پر بیٹھنے والوں کو؟ اِنٹرنیٹ پر ساری رات گزارنے والوں کو؟ موبائل پر لڑکیوں سے باتیں کرنے والوں کو؟ پھر کس کو یہ اِعزاز ملے گا؟ کس کو یہ چھوٹ دی ہوئی ہے؟ اس بندے کو جو رات کو اللہ سے باتیں کرے گا اور تہجد کی نماز ادا کرے گا۔ حدیث کو سنیے اور دل کے کانوں سے سنیے!
بلا حساب و کتاب دخولِ جنت
حضرت اسماء سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن حشر کے میدان میں لوگ ایک جگہ کھڑے ہوں گے۔ ایک منادی (یعنی آواز دینے والا) آواز دے گا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلو بستر سے جدا رہتے تھے؟ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے، ان کی تعداد بہت تھوڑی ہوگی۔ اور یہ تہجد پڑھنے والے بغیر حساب وکتاب کے جنت میں داخل ہوجائیں گے، اور اس کے بعد عام لوگوں کا حساب وکتاب شروع ہوگا۔ (ترغیب: صفحہ426)
اگر صرف رات کے وقت آدھا گھنٹہ اُٹھ کر ہم تہجد پڑھ لیں تو ساڑھے تئیس گھنٹوں کا حساب ہم سے معاف ہوجائے گا۔ یہ بہت سستا سودا ہے۔ اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ رات کو تہجد کے ذریعے بلا حساب وکتاب جنت میں جانا، یا رات کو سونا چاہتے ہیں اور حساب کے کھاتے کھلوا کر سزا پانا چاہتے ہیں، کیوںکہ ہم میں سے کسی کے بھی اعمال ایسے نہیں ہیں کہ ہم جنت میں جاسکیں حساب وکتاب دے کر۔ اس لیے تہجد کے ذریعے بلا حساب وکتاب جنت میں جانا بہت ہی آسان نسخہ ہے۔
تہجد کی قدر دانی نہیں ہے
اگر آپ اخبار میں ایک اشتہار دے دیں کہ رات کے وقت میں ایک چوکیدار کی ضرورت ہے۔ اسے مہینے کے دس ہزار دیے جائیں گے۔ ڈیوٹی ٹائمنگ رات عشاء سے فجر تک باہر گیٹ پر کھڑے رہنا ہے اور تھوڑی تھوڑی سیٹیاں بھی بجانی ہیں۔ آپ ابھی نوکری کا اشتہار اخبار میں دیں گے تو دیکھ لیجیے گا کہ رات تک چوکیداروں کی لائنیں لگ جائیں گی اور بندہ پریشان ہوجائے گا کہ میں کیا کروں؟ معلوم ہوا کہ صرف دس ہزار روپے مہینہ بس، یہ ہماری رات کی قیمت ہے۔اور دیکھیے کہ اللہ ربّ العزّت کتنے قدر دان ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ساری رات مت جاگو، سو جائو، صرف آدھا گھنٹہ ہی کھڑے ہوکر مجھے منالو۔ مجھے پکار لو۔ میں پروردگارِ عالم تمہیں ہمیشہ کی جنت بلاحساب وکتاب دے دوں گا۔ ہماری ایک رات کی قیمت دنیا والے تو زیادہ سے زیادہ چار سو، پانچ سو دیتے ہیں۔ یا کوئی بڑے سے بڑا امیر ہو تو ایک ہزار دے دے گا، اس سے زیادہ کون دے سکتا ہے؟ مگر اللہ ربّ العزّت رات کو آدھا گھنٹہ محبت کے ساتھ گزارنے پر جنت دے دیتے ہیں، اور وہ جنت بھی ہمیشہ ہمیشہ کی اللہ اکبر کبیراً۔ اللہ ربّ العزّت آج ہمیں دینا چاہتے ہیں، مگر ہم لینا نہیں چاہتے۔ آج وقت ہے، اپنے روٹھے رب کو منالیجیے، مگر ہم تو سونا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حالوں پر رحم فرمائے!
رات کا رونا رفعتِ درجات کا سبب
جب تک یہ اُمت رات کو تہجد میں اللہ کے سامنے روتی تھی، صبح کو مخلوق کے سامنے خوش وخرم ہوتی تھی۔ آج اس امت نے رات کو سونا شروع کر دیا، تو پھر آج یہ سارا دن مخلوق کے آگے روتی پھرتی ہے۔ کبھی اس کے آگے رو رہی ہے، کبھی اُس کے آگے رو رہی ہے۔ کبھی فلاں کے آگے ہاتھ پھیلا رہی ہے۔ ایک اللہ کے سامنے رونا عزتیں دیتا ہے۔ علمائے کرام نے لکھا کہ تہجد کی عادت جس بندے کی پکی ہوجائے یہ کم تر لوگوں کو اوپر لے جاتی ہے اور معتبر بنا دیتی ہے۔ یعنی جو پست ہوتے ہیں اُن کو بلند بنا دیا جاتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ ربّ العزّت یہ ساری نعمتیں ہمیں بھی عطا فرمائے آمین۔
رات کی نماز میں مؤمن کا شرف
حضرت سہل بن سعد کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نبی کریمﷺ کے پاس تشریف لائے اور عرض کیا کہ اے محمد! جتنی چاہیں زندگی گزار لیں، دنیا سے تو جدا ہونا ہی ہے۔ جس سے چاہیں دل لگالیں، اس سے جدائی تو ہونی ہے۔ جو چاہیں عمل کریں، اس کا بدلہ تو پانا ہے۔ پھر عرض کیا: اے محمد! مؤمن کا شرف رات کی نماز ہے، اور اس کی عزت لوگوں سے استغنا ہے۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 7991)
یعنی مؤمن کا شرف اس کی رات کی نماز میں ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہم لوگوں نے اپنے شرف کو خود ہی ڈبو دیا، خود ہی کھو دیا۔ روحانی طور پر قوت کا ملنا بھی تہجد کے ذریعے ہے۔ جو تہجد نہیں پڑھتا شیطان رات کو اس کے پاس ڈیرا لگالیتا ہے اور اس کی صبح بھی مستی والی ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ واقعی ایسا ہی ہے یا نہیں؟
تہجد کی برکت سے خوشگوار صبح
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشادفرمایا کہ آدمی جب سوجاتا ہے تو شیطان اس کی گدی پر تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ اور ہر گرہ پر یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ رات تو بڑی لمبی ہے، ابھی اُٹھ جائیں گے، ابھی تو بڑا ٹائم ہے۔ پس اگر وہ تہجد کے لیے اُٹھ جاتا ہے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے۔ پھر وضو کرتا ہے تو دوسری کھل جاتی ہے۔ پھر نماز پڑھتا ہے تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے۔ اب یہ شیطان کی گرہوں سے آزاد ہوگیا اور اس کی صبح خوشگوار طبیعت کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ کرے تو نفس خباثت اور سستی کے ساتھ صبح کرتا ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 1091)
اسی لیے تہجد کی نماز صحت کے لیے بھی بڑی مفید ہے۔
حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر تہجد کی نماز لازم ہے کہ تم سے پہلے صالحین کی عادت رہی ہے۔ خدا کے تقرب، خوشنودی، گناہوں کی معافی، گناہوں سے باز رکھنا، اور اپنے پڑھنے والے کو بیماریوں سے باز رکھنے کا سبب بنتی ہے۔ (کنز العمال:79/2)
معلوم ہوا کہ تہجد کے کئی فائدے ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کا قرب ملتا ہے۔
(۲) اس کی خوشنودی ملتی ہے۔
(۳) جو پچھلے گناہ ہوچکے ہوتے ہیں اس کی معافی ملتی ہے۔
(۴) آگے آنے والی زندگی میں گناہوں سے بچنے کی توفیق بھی ملتی ہے۔
(۵) اور ساتھ ہی ساتھ اللہ ربّ العزّت کی جانب سے شفا بھی ملتی ہے۔
ہم نے لوگوں کو دیکھا کہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں دو دو، تین تین گھنٹے لائن میں لگتے ہیں اور پیسے بھی الگ لگتے ہیں۔ اگر ہم یہ سارا ٹائم رات کو تہجد میں اپنے اللہ کو دے دیں تو خودبخود اِن شاء اللہ بہت سی شفائیں ہمیں مل جائیں گی۔ ساتھ ساتھ تہجد میں ہلکی پھلکی ورزش بھی ہماری ہوجاتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہماری امت کے اَشراف اور معزّزین قرآن کے حاملین ہیں، اور جو راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں۔ (ابن ابی الدنیا)
معلوم ہوا کہ اس اُمت میں عزت دار وہی ہیں جو قرآن کو پڑھنے والے، اور راتوں کو نمازِ تہجد پڑھنے والے ہیں۔ اللہ اکبر کبیرا!
عملیات کا مزاج
آج کل اخبارات میں، پوسٹر وغیرہ میں لکھا ہوتا ہے کہ ہر تمنا پوری ہوگی، کبھی نامراد نہیں ہوگا۔ اور بہت ساری عجیب باتیں لکھی ہوتی ہیں۔ مجھے بھی عجیب وغریب فون آتے ہیں۔ ایک فون آیا کہ فلاں وظیفہ آپ سے پوچھنا ہے، آپ کا ہدیہ کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میرا کوئی ہدیہ نہیں ہے، آپ پوچھیے! آپ نے کیا پوچھنا ہے؟ ہمارا معاشرہ پتا نہیں کدھر چلا گیا ہے۔ حیا تو معاشرے سے ختم ہوگئی ہے۔ بسااوقات ایسی ایسی باتیں  نوجوان بچیاں پوچھ لیتی ہیں کہ میں پریشان ہوجاتا ہوں۔ چند دن پہلے ایک فون آیا کہ آپ عامل ہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ پھر کہا کہ مجھے کسی نے آپ کا نمبر دیا ہے کہ آپ عامل ہیں۔ میں نے کہا کہ بیٹا! آپ بات کہیے کہ آپ نے کیا بات کرنی ہے؟ میں نے اس لیے پوچھا کہ لوگ پھر عاملین کے پاس جا کر ایمان، مال، عزت و آبرو گنواتے ہیں۔ مال تو ساروں کاجاتا ہے، عزت بھی جاتی ہے۔ اس نے کہا کہ آپ کے بارے میں معلوم ہوا کہ آپ مسئلوں کے حل بتا دیتے ہیں، اور کچھ پڑھنے کو دے دیتے ہیں، تو مجھے کچھ پوچھنا ہے۔ میں نے پھر کہا کہ آپ پوچھ لیجیے۔ بالآخر اس نے پوچھنے پر بتایا کہ میرا کسی سے تعلق ہوچکا ہے، کوئی ایسا عمل بتا دیجیے کہ میری اس سے شادی ہوجائے۔
پھر میں اگر لوگوں کو سمجھائوں کہ اس کام میں عزت نہیں ہے، تو یہ باتیں لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتیں۔ لوگوں کو اگر (استغفراللہ) میں یہ کہہ دوں کہ ہر تمنا آپ کی پوری ہوگی، اتنے بکرے پہنچا دو، اتنی مرغیاں پہنچا دو، تو اِدھر خانقاہ میں بکرے ہی بکرے ہوں گے اور مرغیاں ہی مرغیاں۔ سارا سال تو روٹی کا بندوبست یونہی ہوجائے گا، اور تو بکرا عید پر جانور خریدنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔
درمیانی شب اور دو سورتوں کی فضیلت
تو بھئی! ایسا وظیفہ سن لیجیے جس کے بارے میں نبی کریمﷺ نے اِرشاد فرمایا کہ اس پر عمل کرنے والا کبھی نامراد نہیں ہوگا۔ یہ نعوذباللہ! کسی بنگالی بابا کی بات نہیں، بلکہ اللہ کے نبیﷺ کی بات ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو نامراد نہیں کرتے جس نے درمیانی شب میں نماز پڑھی اور (اس میں) سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران کی تلاوت کی۔ (معجم اوسط للطبرانی: 61/2)
نامرادی کا مطلب
یہ نامرادی کسے کہتے ہیں؟ ہم لوگ تو نامرادی کے مفہوم کو بھی نہیں سمجھتے۔ عورتیں سمجھتی ہیں کہ جس سے میرا تعلق ہوا ہے، اس سے اگر میری شادی نہیں ہوئی تو میں نامراد ہوگئی۔ مرد سمجھتا ہے کہ میں نے کوئی کام شروع کیا، وہ کام اگر نہیں چلا تو میں نامراد ہوگیا۔ ارے بھائیو! نامراد حقیقت میں وہ ہوتا ہے جو اپنے اللہ کو نہ پاسکے۔ ہماری سب سے بڑی مراد تو اللہ پاک کی ہی ذات ہے۔ نامراد تو وہ بندہ ہے جس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو۔ نامراد وہ ہے جس کی قبر آگ کا گڑھا بن جائے۔ نامراد تو وہ شخص ہے جو قیامت کے دن جہنم کی طرف دھکیل دیا جائے۔ اور بامراد وہ شخص ہے جسے اس دنیا میں اتباعِ سنت کی توفیق مل جائے، جس سے اللہ راضی ہوجائے، اور قیامت کے روز اللہ کے رسولﷺ راضی ہوجائیں، اور جسے جنت میں بلا حساب داخلہ مل جائے۔ تو مرادیں اصل میں یہ ہے۔ مگر ہم لوگوں نے ضرورت کو اپنی مرادیں بنا ڈالا ہے۔نیک عمل کے متعلق اللہ سے مانگیں کہ اللہ! ہمیں بیچ رات میں تہجد کی توفیق، اور سورۂ بقرہ اور سورۂ آل عمران پڑھنے کی توفیق عطا فرما۔ پھر دیکھیے کہ اللہ پاک کیسے ہمیں دنیا اور آخرت کی مرادیں عطا فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بڑے کریم ہیں۔ اللہ سے مانگ کر تو دیکھیے۔
دو رکعتیں دنیا ما فیہا سے بہتر
حضرت عبداللہ بن عمرi کی روایت میں ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: درمیانی رات کی دو رکعتیں (تہجد کی نماز) پوری دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے افضل ہے۔ اور اگر میری اُمت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو ان پر تہجد کو فرض قرار دیتا۔ (ترغیب لابن شاھین: رقم 559)
حدیث شریف میں دنیا ومافیہا کے الفاظ آئے ہیں کہ اس سے بہتر تہجد کی دو رکعت نماز ہے۔ دنیا بھی ختم ہوجانے والی ہے اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ختم ہوجانے والا ہے ،لیکن ان دو رکعتوں کا ثواب قیامت تک باقی رہے گا، یہ ختم نہیں ہوگا۔
رات اور دن کے نوافل میں فرق
ایک ہوتی ہے رات کی نماز، اور ایک ہوتی ہے دن کی نماز۔ آدمی چاشت، اِشراق اور اوّابین وغیرہ کے نفل پڑھتا ہے اور رات میں تہجد پڑھتا ہے تو دونوں میں فرق کیا ہے؟ اس بارے میں حدیث شریف سن لیجیے!
حضرت عبداللہ بن مسعود کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: رات کی نماز کو دن کی نماز پر ایسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسے خفیہ صدقہ وخیرات کو اعلانیہ صدقہ وخیرات پر ہے۔ (ترغیب: 28/2)
مثال کے طور پر آپ نے کسی کی مدد کرنی ہے۔ خاموشی سے جیب سے نکالا اور اس کے ہاتھ میں ڈال دیا، کسی کو پتا نہیں لگا۔ یہ ایک درجہ ہے۔ اور ایک درجہ یہ ہے کہ آپ نے کسی کو بلایا اور صدقہ دیا اور سامنے کیمرے مین کو کہا کہ میری تصویر بنائیے۔ تو دونوں میں فرق ہے یا نہیں؟ جس طرح ان دونوں صدقوں میں فرق ہے، اسی طرح قیام اللیل اور قیام النہار میں فرق ہے۔ رات کی تہجد کی نماز میں بہت برکت اور فضیلت ہے۔
انبیائے سابقین کی تہجد
پہلے زمانے میں حضرات انبیائے کرام بھی تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا: سلیمان کی والدہ نے حضرت سلیمان سے فرمایا تھا: اے بیٹے! رات کو اتنا زیادہ مت سویا کرو، اس لیے کہ رات کو زیادہ سونے والے کو قیامت کے دن فقیر بنا دیا جائے گا۔ (سنن ابنِ ماجہ: 1332)
رات کو زیادہ سونا انسان کو قیامت کے دن کنگال بنادے گا۔ صبح اگر دوکان کھولنے کا وقت ہے اور جس نے دکان کھولنی ہے وہ سو رہا ہو، تو گھر والے کیسے ناراض ہوتے ہیں کہ سویا رہے گا تو کنگال ہوجائے گا۔ اُٹھو! جا کر دوکان کھولو اور کام کرو۔ ہمارے ذہن میں ایسی باتیں آتی ہیں کہ گاہک کہیں اور نہ چلا جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہی سمجھنے کی بات ہے کہ جو بندہ رات کو سوتا رہے گا اور کوئی عبادت نہیں کرے گا، تو قیامت کے دن کنگال ہوجائے گا اور قیامت کا ایک دن کتنا ہے؟
خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ (المعارج: 4)
یعنی پچاس ہزار سال کا وہ ایک دن ہوگا۔ معلوم ہوا کہ تہجد نہ پڑھنا پچاس ہزار سالوں کی مفلسی کو خریدنا ہے۔
تین محبوب بندے
ایک حدیث میں آتا ہے کہ تین بندے اللہ پاک کو بہت محبوب ہیں:
(۱) وہ جو رات کو اُٹھے اور اللہ کا کلام پڑھے۔
(۲) وہ جو دائیں ہاتھ سے چھپا کر ایسے صدقہ کرے کہ بائیں کو بھی پتا نہ چلے۔
(۳) وہ جو کسی معرکہ میں شریک ہوا، ساتھیوں کو شکست ہوئی اور وہ دشمن کا مقابلہ کرتا رہا۔
(سنن ترمذی: رقم 2567)
اس میں مختلف نوعیتیں ہیں کہ دائیں ہاتھ سے چھپا کر اس طرح سے صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہ چلے۔ آج کل والدین کو بھی آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے کہ ان کی سگی اولاد اُن کے گھروں میں دائیں ہاتھ سے ایسے گناہ کرتی ہیں کہ بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہیں چلتا۔ ناک کے نیچے دیے جلا رہے ہیں۔ کبھی ان کے موبائلوں کو تو چیک کرکے دیکھیں۔
ایک گھڑی کی دعا
بہت سارے لوگ دعائوں کی قبولیت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ حضرت! کوئی وظیفہ بتادیں۔ اگر ان سے کہوں کہ میں نے بیس سال انتہائی محنت اور ریاضتوں کے بعد ایک ایسا اسمِ اعظم کلمہ تلاش کیا ہے کہ اگر کوئی اسے پڑھ لے تو اس کی مرادیں پوری ہوں گی، تو میری بات مان ضرور مان لیں گے۔ ارے بھائی! میری کیا حیثیت؟ کیا اوقات؟ میں آپ کو قبولیتِ دعا کا ایسا وظیفہ بتا رہا ہوں جس کو خود نبی نے فرمایا ہے۔ اگر ساری اُمت سارا وقت اللہ کی عبادت اور ریاضت میں گزار کر ایک گھڑی یا ایک لمحہ قبولیتِ دعا کا تلاش کرلے، گو وہ ٹھیک بھی ہو۔ تب بھی نبی کریمﷺ کی بات کا درجہ سب سے بلند ہے۔ حدیث سنیے!
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رات کا جب ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے، یا دو تہائی حصہ باقی رہتا ہے تو اللہ ربّ العزّت آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں (اس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں) اور اعلان فرماتے ہیں کہ کوئی ہے مانگنے والا جسے دیا جائے؟ کوئی ہے پکارنے والا جس کی پکار کو قبول کیا جائے؟ کوئی ہے گناہوں کی معافی چاہنے والا جسے معاف کر دیا جائے۔
(صحیح مسلم: 758)
سبحان اللہ! معاملہ کتنا آسان ہوگیا۔ جب اللہ پاک کہہ رہے ہیں کہ میں دوں گا، تو کیا نہیں عنایت فرمائیں گے؟ ہم جب کسی بچے کو کہتے ہیں کہ اِدھر آئو میرے پاس! میں یہ ٹافی تمہیں دیتا ہوں۔ اور بچہ کہے کہ مجھے آپ پر یقین نہیں کہ آپ دیں گے کہ نہیں دیں گے۔ آپ کو کیسا لگے گا؟ بُرا لگے گا، غصہ آئے گا کہ جب میں کہہ رہا ہوں کہ دوں گا، تو کیا نہیں دوں گا۔ جبکہ ہماری تو حیثیت اور حال کچھ بھی نہیں ہے۔ جب اللہ ربّ العزّت کہہ رہے ہیں کہ کوئی ہے کہ میں اس کو دوں؟ تو اللہ بڑے غفورٌ رّحیم ہیں۔ وہ تو ضرور دیں گے۔ ہمارا گمان رکھنا کہ اللہ مجھے عنایت نہیں کریں گے، یہ بھی گناہ کے زمرے میں آئے گا۔ قرآن پاک میںہے:
وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا (النساء: 122)
ترجمہ: ’’اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے؟‘‘
اللہ پاک سے سچے پکے یقین کے ساتھ مانگنا چاہیے۔
قبولیتِ دعا کی نوعیت
یہاں پر سمجھنے والی دو باتیں اور ہیں۔ جب ہم نے اللہ سے مانگنا شروع کر دیا تو ہمیں ضرور ملے گا، یہ پکی بات ہے۔ قیامت کے دن اللہ ربّ العزّت کسی بندے سے یہ سننا گوارا نہیں کریں گے کہ کوئی بندہ کھڑے ہو کر اللہ سے کہہ دے کہ اللہ! میں نے تجھ سے مانگا تھا تو نے مجھے نہیں دیا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ رات کو اللہ سے مانگیں تو دن میں اللہ اس مسئلے کو حل کردے، اور میری خواہشات پوری کردے۔
حضرت زکریا جوانی سے اولاد مانگ رہے ہیں بوڑھے ہوگئے ہیں:
رَبِّ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًاوَلَمْ اَکُنْ بِدُعَآئِکَ رَبِّ شَقِیًّا (مریم: 4)
ترجمہ: ’’میرے پروردگار! میری ہڈیاں تک کمزور پڑگئی ہیں، اور سر بڑھاپے کی سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے، اور میرے پروردگار! میں آپ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں ہوا‘‘۔
اللہ تعالیٰ سے مانگنے سے وہ نبی نا امید نہیں ہوئے۔ نبی کی دعا تو مقبول دعا ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے اپنی شان دکھائی ہے کہ وہ جب مرضی قبول کرلے۔ ہم لوگ کہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ صبح اگر دعا ہم نے مانگی تو رات تک ضرور اس کی قبولیت ہونی چاہیے۔ دعا کی قبولیت ضرور ہوتی ہے، مگر اس کے تین درجے ہیں۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جو بھی مسلمان بندہ کوئی دعا کرتا ہے تو الله تعالیٰ اس کو وہ چیز عنایت فرماتے ہیں جو اس نے مانگی ہے، یا اس دعا کو اس کے لیے آخرت میں ذخیرہ کر دیتے ہیں ، یا اس سے کوئی ویسی ہی برائی دور کر دیتے ہیں جب تک کہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے۔ (الفتح الربانی لترتیب مسند الامام احمد: ابواب الدعاء، باب الحث علی الدعاء)
ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مؤمن بندے کو بلائیں گے اور اسے اپنے سامنے کھڑا کریں گے اور پھر اس سے فرمائیں گے: اے میرے بندے! میں نے تجھے دعا کا حکم دیا تھا اور میں نے تجھ سے دعا کو قبول کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا ، پھر کیا تم نے دعا کی تھی؟ وہ کہے گا ، جی ہاں اے رب! الله تبارک وتعالیٰ فرمائیں گے کہ تم نے مجھ سے جو بھی دعا کی، میں نے اسے قبول کیا۔ کیا تم نے فلاں فلاں دن پریشانی کو دور کرنے کی دعا نہیں کی تھی اور میں نے تمہاری اس پریشانی کو دور نہیں کر دیا تھا؟ وہ کہے گا جی ہاں، کیوں نہیں! تو الله تعالیٰ فرمائیں گے کہ اس دعا کا ثمرہ میں نے دنیا میں دے دیا۔ پھر فرمائیں گے کہ تم نے فلاں فلاں دن غم کو دور کرنے کی دعا کی تھی تو میں نے تمہاری وہ پریشانی دور نہیں کی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تم نے فلاں فلاں دن دنیا میں مجھ سے کچھ مانگا تھا، میں نے تمہیں ہو بہ ہو وہی چیز دے دی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اور تم نے فلاں فلاں دن کچھ مانگا تھا تو کیا میں نے وہ نہیں دے دیا تھا؟ بندہ کہے گا: جی ہاں اے رب۔ تو الله تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ سب دعائیں میں نے تیرے لیے جنت میں ذخیرہ کر دی ہیں۔
راوی حدیث حضرت جابر فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ مومن بندے نے الله تعالیٰ سے جو بھی دعا کی ہو گی ، الله تعالیٰ اس کو بیان کریں گے کہ اس کی فلاں دعا دنیا میں قبول ہو گئی اور فلاں دعا آخرت میں ذخیرہ ہے۔ تو وہ مومن کہے گا:
يَا لَيْتَهُ لَمْ يَكُنْ عُجِّلَ لَهُ فِي الدُّنْيَا شَيْءٌ مِنْ دُعَائِهِ.
(الترغیب: باب کثرۃ الدعاء وما جاء في فضلہ)
ترجمہ: ’’کاش! میری دنیا میں کوئی دعا پوری نہ ہوئی ہوتی‘‘۔
بھائیو! اللہ تعالیٰ اپنے وعدے میں سچے ہیں۔ کسی بندے نے لاکھوں،  کھربوں  دعائیں مانگیں، اللہ تعالیٰ کے پاس الگ الگ سب محفوظ ہیں۔ قیامت کے دن کسی کی کسی بات میں کمی نہیں ہوگی، پورا پورا بدلہ ملے گا۔ رائی کے دانے کے برابر بھی بندے کی نیکیاںہیں تو وہ بھی مل کر رہیں گی۔ ہر ہر دعا کے بدلے جنت کی نعمتیں، مقامات اور مرتبے کیا کچھ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کی نعمت، نبی کا پڑوس، جنت کی نہریں، جنت کی حوریں، جنت کی نعمتیں۔ یہ سب دیکھ کر ہی بندہ افسوس کرے گا اور کہے گا کہ کاش! دنیا میں کوئی دعا ہی قبول نہ ہوتی۔ اس لیے کہ جو کل قیامت کے روز ملے گا وہ ہمیشہ کے لیے ہوگا، کبھی ختم نہیں ہوگا۔
معلوم ہوا کہ دعا قبول ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم یقین کے ساتھ مانگیں اور مانگتے چلے جائیں۔ یہ نہیں کہ تین مہینے دعا مانگی، اب نہیں مانگنی۔ بلکہ ہمارا کام تو مانگنا ہے، ہم مانگتے چلے جائیں۔ اِن شاء اللہ اللہ پاک کہیں نامراد نہیں کریں گے۔
تفاخرِ ربّ تعالیٰ
تہجد پڑھنے والے سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتے ہیں اور فرشتوں میں اس بندے کا تذکرہ کرتے ہیں۔ حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں الم سجدہ کی آیت (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ) کے تحت مسند احمد کے حوالے سے ایک حدیث شریف نقل کی ہے۔
حضور ﷺ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ دو شخصوں سے بہت ہی خوش ہوتا ہے:
ایک تو وہ جو رات کو میٹھی نیند سویا ہوا ہے، لیکن دفعۃً اپنے رب کی نعمتیں اور اس کی سزائیں یاد کرکے اُٹھ بیٹھتا ہے اور اپنے نرم وگرم بسترے کو چھوڑ کر میرے سامنے کھڑا ہو کر نماز شروع کر دیتا ہے۔
دوسرا شخص وہ ہے جو ایک غزوے میں ہے، کافروں سے لڑتے لڑتے مسلمانوں کا پانسہ کمزور پڑجاتا ہے، لیکن یہ شخص یہ سمجھ کر کہ بھاگنے میں اللہ کی ناراضگی ہے اور آگے بڑھنے میں رب کی رضامندی ہے، میدان کی طرف لوٹتا ہے اور کافروں سے جہاد کرتا ہے، یہاں تک کہ اپنا سر اس کے نام پر قربان کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فخر سے اپنے فرشتوں کو اسے دِکھاتا ہے اور اس کے سامنے اس کے عمل کی تعریف کرتا ہے۔
فرشتوں کو دِکھایا جاتا ہے کہ دیکھو! بشر ایسے بھی ہوتے ہیں۔
تہجد پڑھنے والوں کے لیے سواریاں
دنیا میں ہماری خواہش ہوتی ہے کہ اچھی سواری ہو۔ جس کے پاس آج کل کے دور میں جتنی اچھی سواری ہوتی ہے، وہ اپنے آپ کو اتنا ہی خوش نصیب سمجھ رہا ہوتا ہے۔ قیامت کے دن بھی ہمیں سواری کی ضرورت ہوگی۔ یہاں پر کسی کو BMW مل جائے تو اس کی گردن اَکڑ جاتی ہے۔ قیامت کے دن جو تہجد پڑھنے والوں کو سواریاں ملے گی۔ وہ کیسی سواریاں ہوں گی؟ دھیان سے سنیے!
حضرت علی سے روایت ہے کہ میں نے آقاﷺ سے سنا کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے اندر سے تیس گھوڑے نکلتے ہیں، اور اس درخت کے نیچے سونے کے ایسے گھوڑے ہیں جن پر یاقوت اور موتی سے بنی ہوئی زِین ہوگی۔ وہ گھوڑے نہ لید کرتے ہیں، نہ پیشاب کرتے ہیں۔ اور ان کے بازو ایسے ہیں جن کی لمبائی انتہائے نظر جہاں تک نظر جاسکتی ہے تاحدّ ِنگاہ وہاں تک ہو گی۔ اور جتنا مرضی چاہیں ان گھوڑوں پر بیٹھ کر جہاں چاہیں گے اُڑیں گے۔ نیچے درجے والوں کو یہ نعمت نہیں ملی ہوگی۔ وہ حیران ہوں گے حالاںکہ وہ بھی جنتی ہوں گے۔ اور وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ان کو یہ اِعزاز واِکرام کس وجہ سے ملا؟ ان کو بتایا جائے گا کہ یہ لوگ رات کی نماز پڑھا کرتے تھے اور تم لوگ سوتے رہتے تھے، یہ لوگ روزہ رکھتے تھے اور تم کھاتے پیتے تھے، یہ خرچ کرتے تھے اور تم بخل کرتے تھے، یہ جان کی بازی لگاتے تھے اور تم بزدل بنے رہتے تھے۔ (ترغیب: 425/1)
معلوم ہوا کہ قیامت کے دن عزت حاصل کرنے کے لیے بھی تہجد کی ضرورت ہے۔
گناہ سے بچاؤ
تہجد کی برکت سے انسان گناہوں سے بھی بچتا ہے۔
حضرت ابوہریرہh سے روایت ہے ایک شخص نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کیا: اے اللہ کے نبی! فلاں آدمی رات بھر تہجد پڑھتا ہے، لیکن صبح چوری بھی کرتا ہے۔ (اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے؟) نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب وہ اس گناہ سے رک جائے گا جسے تم بیان کر رہے ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح: رقم 1237)
یہ تہجد کی برکت کی وجہ سے ہوگا۔ اب جو لوگ بیعت ہوتے ہیں، ان لوگوں کو بھی تہجد کی تلقین کی جاتی ہے۔ اور آج بھی کھلی آنکھوں سے ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ جو لوگ کسی سے بیعت ہیں اور رابطے میں ہیں، خانقاہ آتے جاتے ہیں، تہجد کی توفیق تقریبًا انہی لوگوں کو ملتی ہے، تقریبًا ان ہی لوگوں میں زیادہ تہجد آپ کو ملے گی۔ دوسرے لوگ خواہ عالم ہی کیوں نہ ہوں جب تک وہ اپنے آپ کو اللہ والوں سے جوڑے نہیں رکھتے، تب تک ان لوگوں کو تہجد کی توفیق نہیں ملتی ہے۔
قضا نمازوں کی ادائیگی
اچھا! کچھ لوگوں کو جب تہجد کی تلقین کرتے ہیں اور ان کی قضا نمازیں بھی بہت باقی ہوتی ہیں، تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت! ہماری تو قضا نمازیں دوسال، پانچ سال، بیس سال وغیرہ کی باقی ہیں۔ مسئلہ تو ان کو یہی بتایا جاتا ہے کہ نفل نہ پڑھی جائے، بلکہ قضائے عمری ہی پڑھیں تاکہ ہمارے سر پر جو نمازوں کا قرض ہے وہ جلدی سےا دا ہوجائے۔ جب یہ قضا نمازیں مکمل ہوجائیں، تب نفل نمازیں جتنی مرضی چاہیں پڑھیں۔ اسی مسئلے کی بنا پر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا تہجد کی نماز کی جگہ بھی قضا نماز پڑھ لیں؟تو اس میں ان کو اپنی ذاتی رائے یہ دیتا ہوںکہ دیکھیں! تہجد کو اپنی زندگیوں سےنہ چھوڑیں۔ اس تہجد کی برکت سے تو گناہ چھوٹتے ہیں۔ تو وہ چیز جو انسان کو Track پررکھے، فتنوں سے بچائے رکھے، گناہوں سے روکے رکھے، اس تہجد کو کبھی نہ چھوڑیں۔
تہجد کی پابندی لازمی کریں گو قضا نمازیں بھی چل رہی ہوں۔ قضا نمازوں کے لیے الگ وقت مختص کریں، اور الگ Schedule بنائیں اور قضا نمازیں ادا کریں۔ تو تہجد کا پابند شخص گناہوں سے بچنے لگ جاتا ہے، اس کا دل روشن اور منوّر ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اس پر آرہی ہوتی ہیں۔ اور جو تہجد نہیں پڑھتا اس کے بارے میں ایک حدیث میںآتا ہے۔
تہجد چھوڑنے والے کا حال
نبی کے سامنے ایک شخص کا حال بیان کیا گیا جو سوتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ ایسا آدمی جس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا۔
(صحیح بخاری: رقم 114، صحیح مسلم: رقم 774، سنن نسائی: رقم 1608)
اگرچہ اس حدیث کی تعیین میں محدثین کا اختلاف ہے، لیکن کئی محدثین نے اس سے مراد تہجد کی نماز مراد لی ہے۔ چناںچہ امام نسائی نے اپنی کتاب سنن نسائی میں اس حدیث کو نقل کرنے سے پہلے عنوان قائم کیا ہے: ’’باب الترغیب في قیام اللیل‘‘. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نمازِ تہجد کا مرتبہ بہت زیادہ ہے۔
مختلف احادیث تہجد کی اہمیت پر
گرمیوں میں دوپہر کے وقت قیلولہ کرنے سے تہجد پڑھنے میں بڑی آسانی ہوجاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسi کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: سحری کھا کردن میں روزے پر سہولت حاصل کرو، اور قیلولہ کرکے رات کی نماز میں مدد حاصل کرو۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 1591)
حضرت سمرہ بن جندب سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ رات کی نماز ضروری ہے، خواہ زیادہ رکعات پڑھو یا کم۔ (فقہ السنہ: ص 27)
ہمارے پیارے نبی کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اے میرے امتی! تہجد تیرے لیے ضروری ہے اس کو لازم پکڑلے خواہ تھوڑی سی یعنی دورکعت ہی پڑھ لو، مگر پڑھ لو، اس میں سستی نہ کرو۔ خواہ زیادہ رکعتیں پڑھو اگر طبیعت میں نشاط ہو۔
حضرت عمرو بن عبسہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے قریب سب سے زیادہ آخری شب میں ہوتا ہے، اگر تم سے ہوسکے تو اس وقت یاد کرنےوالوں میں شامل ہوجائو۔ اور شرح بخاری میں لکھا ہے کہ ضروری نہیں آخری شب میں انسان صرف تہجد ہی پڑھ رہا ہو، نماز ہی پڑھ رہا ہو، صرف نماز اس وقت پڑھنا متعین نہیں، اس وقت کوئی بندہ فقط اپنے بستر سے اُٹھ کر بیٹھ ہی جائے اور ذکر مراقبے میں لگ جائے، دوسری عبادات کرلے، توبہ واستغفار کرلے تو وہ شخص بھی اس فضیلت میں شامل ہوجائے گا۔ (فیض الباری: 412/2)
دیکھیے! کتنی آسانی پیدا کر دی ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمارے لیے۔ مثال کے طور پر جن مخصوص ایام میں عورتوں نے نماز نہیں پڑھنی ہوتی، وہ کہتی ہیں کہ ہماری تو آٹھ دن تہجد کی نماز رخصت ہوگئی۔ انہیں چاہیے کہ وہ سحری کے وقت جاگیں اور نماز کے علاوہ دوسرے معمولات کریں اور اللہ سے دعا مانگیں۔ کیوں اپنے وقت کو غفلت میں برباد کرتی ہیں؟ کیوں قیامت کے دن کی مفلسی کو خریدتی ہیں؟ آپ اس وقت ذکر کرلیں اگر نماز نہیں ہے، اپنے آپ کو تازہ کریں اور تھوڑی ہی دیر مثلاً آدھا گھنٹہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزاریں۔ بھئی دیکھیے! عموماً درمیان رات میں کئی مرتبہ ہماری آنکھ کھلتی ہے۔ تو ہماری جس وقت بھی آنکھ کھلی، دو منٹ لیٹے لیٹے ہی اللہ سے مانگنا شروع کر دیں۔ اچھا! زبان ہلانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، دل ہی دل میں اللہ سے مانگ لیں۔ اللہ ربّ العزّت اس پر بھی ہم پر نعمتیں نازل فرما دیں گے۔ سب اس عمل کو کوشش کرکے حاصل کر ہی لیں۔
تنہائی میں اللہ تعالیٰ سے لَو لگائیں
میں نے پچھلی کتابوں میں پڑھا کہ حضرت عیسیٰ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ سے رات میں خوب گفتگو کیاکرو اور لوگوں سے کم‘‘۔ پیکیج لے کر نامحرموں سے نہیں، بلکہ اللہ ربّ العزّت سے باتیں کریں۔ اللہ تعالیٰ سے باتیں کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں نے حضرت عیسیٰ سے پوچھا کہ اے رسول اللہ! اللہ سے کس طرح باتیں کریں؟ انہوں نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی میں دعا کرو اور تہجد کی نماز پڑھو۔
وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ تہجد پڑھنے والے قیامت کے روز میدانِ حشر میں ہوں گے، یہاں تک کہ موتیوں کے گھوڑے حاضر کیے جائیں گے جن میں روح پھونک دی جائے گی، اور کہا جائے گا کہ ان سواریوں پر سوار ہوجائو جنت کے مقاما ت کی طرف جانا ہے ۔ یہ لوگ ان پر سوار ہوجائیں گے اور وہ گھوڑے اُڑتے ہوئے جائیں گے۔ لوگ ان کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ یہ کون ہیں جن پر اللہ ربّ العزّت کا اتنا کرم ہوگیا، اور ہمارے اور ان کے درجے کے درمیان اتنا فرق ہے کہ یہ لوگ اڑتے چلے جا رہے ہیں۔ بتایا جائے گا کہ یہ لوگ تہجد پڑھنے والے ہیں۔
حسن بصری فرماتے ہیں کہ تہجد پڑھنے والے جب تہجد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی پیشانی کے بال سے آسمانوں تک نور کا ایک سلسلہ قائم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ تہجد پڑھنے والا جب تہجد پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے مصلے سے لے کر آسمانوں تک فرشتے اس کو گھیر لیتے ہیں۔ دیکھیے! تہجد پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کی کتنی رحمتیں متوجہ ہوتی ہیں۔
تہجد پڑھنے کے لیے چند کام:
اب تہجد پڑھنے کے لیے ہمیں چند کام سر انجام دینا پڑیں گے۔ ایک تو رات کا کھانا تھوڑا کم کھائیں، اور اپنی نیند کا ایسا ٹائم ٹیبل سیٹ کیجیے کہ رات کو اُٹھنا آسان ہوجائے۔ گرمیوں میں قیلولہ کرلیں۔ اصل چیز جو ضروری ہے وہ یہ کہ ہم اپنے آپ کو گناہوں سے بچائیں۔ گناہوں کے عادی انسان کے لیے رات کو اُٹھنا بہت مشکل ہے۔ اور آخری عمل جو ہمارا تہجد کے وقت ہو وہ عمل استغفار کا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تہجد پڑھیں، اور فجر کی اذان سے دو تین منٹ پہلے استغفار میں مصروف ہو جائیں اور یہی ترتیب بنالیں۔ تہجد کی اگر یہی ترتیب رکھیں گے تو اِن شاء اللہ اللہ ربّ العزّت اس سے ہماری زندگی میں برکتیں نازل فرما دیں گے۔ دنیا داروں کے دن سے ان کی راتوں کا اندازہ ہوتا ہے کہ آج کمائی زیادہ کی ہے تو آج مزے بھی زیادہ اُڑانے ہیں۔ لیکن اللہ والوں کی راتوں سے ان کے دن کا اندازہ ہوتا ہے کہ آج رات عبادت زیادہ کی ہے تو دن میں لوگوں کے ہاں قبولیت بھی زیادہ ہوگی۔
یاد رکھیں! جو شخص اپنی عبادات، اعمال اور شب بیداری کے ذریعے رب کو راضی کرلیتا ہے، اللہ تعالیٰ دین کے مختلف کاموں میں اسے قبول فرما لیتے ہیں۔ ہم سب لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے دین کا کام لے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں تو عبادات اور تہجد کے ذریعے اللہ ربّ العزّت کو منالیں، اللہ تعالیٰ راستے خود کھولیں گے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے مدرسے کا میاب ہوجائیں، تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کو منالیں یعنی تہجد پڑھیں اور راتوں کو اُٹھیں۔ طلباء اور طالبات کو بھی چاہیے کہ یہ بھی راتوں کو اٹھیں اور تہجد کی پابندی کریں۔ اللہ پاک ہمارے لیے دنیا وآخرت میں خیر کا ذریعہ بنا دے گا۔
اگر دین پڑھنے اور پڑھانے والوں نے تہجد نہ پڑھی، تو بتائیں باقی دوسرے لوگ اس پر کیا عمل کرسکیں گے۔ جب استاذ اور دین پڑھانے والے نے تہجد کی پابندی نہ کی تو بتائیں کہ وہ اپنے شاگردوں کو کیا دیں گے۔ قال سے قال ہی آگے جائے گا، لیکن اپنے اوپر جب حال ہوگا تو وہ حال آگے منتقل ہوگا۔ جیسا پانی دریا میں ہوتا ہے ویسا ہی پانی نہر میں جاتا ہے۔ آپ سب پوری اُمت کو دیکھ لیجیے کہ جن سے اللہ ربّ العزّت نے دین کا خوب کام لیا، وہ سارےکے سارے تہجد گزار تھے۔ کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ جس سے اللہ نے دین کا بہت کام بھی لیا ہو اور وہ تہجد گزار نہ ہو۔ کوئی ایک بھی آپ کو پوری تاریخ میں ایسا ملے تو لائیں، مجھے دکھائیں۔ اِن شاء اللہ آپ کو ایک بھی نہیں ملے گا۔
بادشاہوں کی نمازِ تہجد
پہلے زمانے میں تو بادشاہوں کو بھی تہجد پڑھنے کا وقت مل جایا کرتا تھا۔ انبیاء  اور اولیائے کرام کی باتیں تو اپنی جگہ ہیں۔ آج ہم عام لوگ بھی تہجد پڑھنے کا ٹائم نہیں نکالتے۔ بس ایک دو واقعات سن لیجیے۔
(۱) سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے بات آئی کہ عیسائیوں کی فوج زیادہ ہے اور اسلحہ بھی زیادہ ہے۔ سلطان بہت پریشان ہوگئے اور اس پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے مانگنا شروع کیا کہ یا اللہ! دشمنوں کی فوج زیادہ ہے، مہربانی فرمادیجیے! مدد فرمادیجیے! اسی اثنا میں اطلاع ملی کہ کافروں کی قوت اور بڑھ گئی ہے۔ مسلمان تو پہلے ہی تھوڑے تھے، مسئلہ حل نہیں ہورہا تھا، پھر جب یہ خبر آئی کہ کافروں کی تعداد اور قوت بڑھ گئی ہے اب پریشانی اور بڑھ گئی۔ سلطان بیت المقدس میں گئے، اور ساری رات تہجد پڑھتے گئے اور رو رو کر اللہ کو مناتے رہے، دعا مانگتے رہے۔ صبح فجر کے بعد جب مسجد سے باہر نکلے تو باہر نکلنے کے بعد ایک بزرگ سے ملاقات ہوگئی۔ وہ بزرگ بھی اللہ والے تھے۔ سلطان صلاح الدین نے جب ان باخدا کو دیکھا تو کہا کہ حضرت! دعا کر دیجیے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے حال پر رحم فرمادیں۔ حالات پہلے ہی تنگ ہیں اور پیچھے سے کافروں کا لشکر بھی آرہا ہے اور ایک بحری بیڑہ بھی کافروں کا آرہا ہے۔ ان بزرگ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے چہرے کو دیکھا تو رات کی تہجد کے آثار نظرآئے۔ بزرگ نے جواب دیا کہ اے سلطان! تیرے رات کے آنسوئوں نے کافروں کے بحری بیڑے کو ڈبو دیا۔ سبحان اللہ! اور واقعی چند دنوں کے بعد اطلاع آئی کہ کافروں کی فوج تو آرہی تھی، لیکن راستے میں طوفان آیا اور ان کی کشتی کو ڈبو دیا اوروہ عیسائی ہلاک ہوگئے۔
جی ہاں! اس وقت کے بادشاہ بھی تہجد پڑھا کرتے تھے۔ ہماری چاہے جتنی بھی مصروفیات ہوں، کسی بادشاہ جتنی تو شاید نہیں ہوں گی۔ اس لیے تہجد کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(۲) ایک اللہ والے گزرے ہیں ان کا نام ہے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے ایک وصیت لکھی تھی کہ میری نمازِ جنازہ وہ شخص پڑھائے جس کے اندر چار صلاحیتیں ہوں۔ ان کے جنازہ پر وقت کا بادشاہ، شاہی خاندان، علمائے کرام، مشایخ، اُمراء اور کثیر تعداد میں لوگوں کا مجمع تھا کہ جو اِن سے تعلق رکھتا تھا۔ جیسے ہمارے دور میںبھی کئی علماء کے جنازوں کو ہم نے دیکھا۔ اور جیسا کہ حال ہی میں جامعہ اشرفیہ کے مہتمم کے جنازے پر لاکھوں کی تعداد میں لوگ تھے۔ اور بھی مختلف جگہوں میں مشاہدہ ہوا کہ علماء کے جنازوں میں مختلف لوگوں کا کثیر مجمع ہوتا ہے۔ جب ان اللہ والے کا بھی انتقال ہوا تھا تو دنیا جمع ہوئی تھی۔ اب جب جنازہ پڑھنے کا وقت آیا، تو ایک آدمی نے آواز لگائی کہ حضرت نے وصیت یہ کی تھی کہ میری نمازِ جنازہ وہی پڑھائے جس میں یہ صفات ہوں، اس کے علاوہ کوئی نہ پڑھائے۔
پہلی بات یہ کہ بالغ ہونے کے بعد سے اس کی تہجد کبھی قضا نہ ہوئی ہو۔
دوسری بات یہ کہ اس نے کسی نامحرم کو نہ دیکھا ہو۔
تیسری بات یہ کہ عصر کی سنتیں اس نے کبھی نہ چھوڑی ہوں۔
چوتھی بات یہ کہ وہ تکبیرِ اولیٰ کا پابند ہو۔
یہ چار شرائط سن کر اتنی بڑی تعداد میں مشایخ اور سارے مجمع کو یوں لگا جیسے ان کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ ایسی خاموشی جیسے Pin Drop Silencہوتی ہے۔ ان چاروں صفات میں سے ایک اکیلی صفت بھی کسی کو مل ائے تو کہاں سے کہاں آدمی کا مقام پہنچ جاتا ہے۔ ایک اکیلی صفت بھی انسان کو اللہ کا ولی بناسکتا ہے۔ کتنی بعید بات ہے کہ چاروں صفات کسی ایک آدمی میں جمع ہوجائیں۔ ہر طرف پریشانی ہی پریشانی تھی۔
کافی دیر گزرگئی تو ایک شخص آگے بڑھا اور میت کے پاس آیا۔ وہ ان کا مرید تھا۔ آکر کہنے لگا کہ حضرت! آپ تو دنیا سے چلے گئے، اور میرے راز کو دنیا کے سامنے کھول گئے۔ اس کے بعد اس آدمی نے کہا کہ حضرت کی وصیت کے مطابق میں ان کا جنازہ پڑھانے کا اہل ہوں۔ لوگوں نے جب اس آدمی کو دیکھا تو وقت کا بادشاہ سلطان شمس الدین التمش تھے۔
اسی طرح اور بھی کئی بادشاہ جیسے اورنگزیب عالمگیر، ناصرالدین اور شیر شاہ سوری ایسے گزرے ہیں جن کو بادشاہت کے ساتھ ساتھ تہجد کی بھی توفیق میسر تھی۔ ہمیںچاہیے کہ ہم بھی اس کے لیے کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔ تہجد کی ساری نعمتیں ایک طرف، مگر جو تہجد کی سب سے بڑی نعمت بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہونا ہے، یہ سب سے بڑے نعمت ہے۔ کیوںکہ ہم تو ایک دن کا حساب بھی نہیں دے سکتے۔ اب ہمیں چاہیے کہ جتنی عمر رہ گئی ہے، زیادہ تو ہم گزار ہی چکے ہیں، باقی ماندہ عمر میں تہجد کی فکر کرلیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک قیامت کے دن ہمیں تہجد گزاروں میں شامل فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں