جمعہ کی فضیلت

جمعہ کی فضیلت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ط

(سورۃ الجمعۃ: آیۃ 9)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

ہر جنس میں افضیلت
اللہ رب العزت نے اپنی مخلوقات کو پیدا فرمایا اور تمام مخلوقات میں ہرہر کیٹگری کے اندر کسی نہ کسی مخلوق کو افضیلت عطا فرمائی۔ جیسے پتھروں کو اللہ ربّ العزّت نے پیدا فرمایا تو پتھروں کے اندر حجرِاسود کو اللہ تعالیٰ نے افضیلت عطا فرمائی۔ دنوں کو پیدا فرمایا تو دنوں کے اندر جمعہ کے دن کو افضیلت عطا فرمائی۔ راتوں کو بنایا تو راتوں میں اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر کو افضیلت عطا فرمائی۔ مہینوں کو بنایا تو رمضان کو افضیلت عطا فرمائی۔ انسانوں کو بنایا تو انبیاء کو افضیلت عطا فرمائی۔ اور انبیاء کو بنایا تو رسول اللہﷺ کو افضیلت عطا فرمائی۔ پانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے آبِ زم زم کو افضیلت عطا فرمائی۔ ان مثالوں سے معلوم ہوا کہ اللہ ربّ العزّت نے اپنی مخلوقات میں بعض کو بعض پر افضیلت عطا فرمائی ہے۔ آج کا بیان جمعہ کے بارے میں ہے۔
جمعہ کی فضیلت
حضرت ابولبابہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جمعہ کا دن دنوں کا سردار ہے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظمت والا ہے، اور اللہ کے نزدیک اس دن کی عظمت عیدالفطر اور عیدالاضحی سے بھی زیادہ ہے۔

(سنن ابنِ ماجہ: رقم 1084)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: دنوں میں بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے، اور اسی دن جنت سے نکالے گئے۔
(صحیح مسلم: رقم 1410)
حضرت اَوس بن اَوس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 1047)
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: دنوں میں بہترین دن جس میں سورج نکلتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اسی دن حضرت آدم پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے، اور اسی دن جنت سے نکالے گئے، اور قیامت بھی اسی دن قائم ہوگی۔ سوائے ابنِ آدم ساری مخلوق جمعہ کے دن کی صبح سے ڈرتی ہے کہ شاید قیامت کا دن نہ ہو، (کیوںکہ ان جانوروں کے پاس علم اتنا کامل نہیں جتنا انسانوں کے پاس ہے) مگر جب سورج مکمل طلوع ہو جاتا ہے تو ان کو یقین آ جاتا ہے کہ آج قیامت کا دن نہیں۔ اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں ایمان والا جو بھی دعا کرے، وہ قبول ہوگی۔ (سنن نسائی: 127/3)
حضرت ابو ہریرہ ہی سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا کہ جمعہ کو جمعہ کیوں کہا جاتا ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اس لیے کہ اسی دن تمہارے والد حضرت آدم کی پیدایش ہوئی، اسی دن صعقہ ہوگا (قیامت سے پہلے پہلی چیخ جس سے ساری دنیا کے لوگ مر جائیں گے)، اسی دن بعثت ہوگی (سب لوگوں کے مرنے کے بعد اوّل تا آخر سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا)، اسی دن بطشہ ہوگا (سخت پکڑ ہوگی۔ یہ ساری باتیں جمعہ میں جمع ہوں گی، اس لیے اسے جمعہ کہا جاتا ہے)۔
(مشکاۃ المصابیح بروایت مسند احمد: رقم 1365)
اس حدیث شریف میں قیامت کے تین احوال کا ذکر ہے، اور یہی بات قرآن پاک میں بھی ہے:
فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّۃُ الْكُبْرٰى۝۳۴ سورۃ النازعات: آیۃ 34)
وَاَنَّ اللّٰہَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُوْرِ۝۷ سورۃ الحج: آیۃ 7)
اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ۝ اِنَّہٗ ہُوَيُبْدِئُ وَيُعِيْدُ۝ سورۃ البروج: آیۃ 12, 13)
نمازِ جمعہ میں پہلے آنے کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں، اور جو پہلے مسجد میں آجاتے ہیں ان کا نام پہلے لکھ لیتے ہیں، اور جو بعد میں لوگ آتے ہیں ان کا نام فرشتے بعد میں لکھتے ہیں، یہ سلسلہ امام کے منبر پر بیٹھنے سے پہلے تک ہوتا ہے، جب امام صاحب منبر پر بیٹھ جاتے ہیں تو فرشتے اپنے رجسٹر کو بند کر لیتے ہیں اور اللہ کی بات کو اہتمام سے سنتے ہیں۔ (سنن کبریٰ للنسائی: رقم 1675)
جمعہ کے دن نیکی کا اَجر
حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن نیکی کا اجر دگنا کر دیا جاتا ہے۔ (معجم اوسط: رقم 7895)
جیسے رمضان کے متعلق آتا ہے کہ فرض کا اجر ستّر گناہ اور نفل کا ثواب فرض کے برابر ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح جمعہ والے دن بھی ایک نیکی کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔
تمام دنوں پر جمعہ کی فضیلت
ایک اور حدیث میں ہے کہ جمعہ کی فضیلت باقی دنوں پر ایسی ہی ہے جیسے رمضان کی فضیلت باقی مہینوں پر ہے۔ (در منثور: 228/2)
جمعہ عام مہینوں میں نصیب ہو جائے تو وہ بھی برکت والا ہے، لیکن اگر رمضان میں نصیب ہو جائے تو وہ نورٌ علیٰ نورٍ ہے۔
نفلی حج کا اجر
ابنِ رجب حنبلی فرماتے ہیں کہ جمعہ کی نماز میں حاضر ہونا نفلی حج کے برابر ہے۔ سعید بن مسیّب فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک نفلی حج سے افضل ہے۔
(لطائف لابن رجب: ص 50)
معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز میں حاضر ہونا بہت بڑے اجر کا ذریعہ ہے۔
نفلی حج کا اجر
جمعہ کا دن مسلمانوں کے لیے ایک تہوار کی مانند ہوتا ہے۔ جمعہ کے اجتماع میں مسلمانوں کی آپس میں ملاقات ہوتی ہے۔ علامہ ابنِ رجب حنبلی نے ’’لطائف‘‘ نامی کتاب میں روایت نقل کی کہ جمعہ کا دن مساکین کے حج کی مانند ہے کہ یہاں پر بھی مسلمانوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ (لطائف لابن رجب: ص 50)
جمعہ کی رات اور دن
مشایخ فرماتے ہیں کہ جمعہ کی رات روشن ہے اور اس کا دن چمکدار ہے۔ روشن اور چمکدار ہونے سے مراد یہ ہے کہ ملائکہ اس روز نیچے اُترتے ہیں اور نور اور برکتیں لے کر اُترتے ہیں، اور مسلمان چوںکہ اس دن اہتمام سے عبادت کرتے ہیں تو زیادہ برکتیں سمیٹتے ہیں۔ اور بعض اہل اللہ اور اہلِ دل اس نور کا مشاہدہ بھی کر لیتے ہیں۔
جمعہ کا دن اور جہنم کی آگ
جمعہ کے دن جمعہ کے اِعزاز کی وجہ سے جہنم کی آگ کو دھونکا نہیں جاتا ہے۔ حضرت ابو قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
إِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ. سنن أبي داود: رقم 1083
ترجمہ: ’’جہنم کو ہر دن دھونکایا جاتا ہے، لیکن جمعہ کے دن نہیں‘‘۔
جمعہ کے دن کی موت
جو شخص جمعہ کے دن مر جائے تو ایسے بندے پر قبر کا عذاب نہیں ہوتا۔ علماء فرماتے ہیں کہ یہ اپنے اختیار کی بات تو نہیں ہے۔ یہ تو انسان کو خود مانگنا چاہیے کہ اے اللہ! میرا خاتمہ جمعہ کے دن کرنا۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کسی کا انتقال جمعہ کے دن ہو جائے تو کوشش کرے کہ اس کی تدفین مغرب سے پہلے پہلے ہو تاکہ اس کا معاملہ اچھا ہو جائے اور وہ اس فضیلت کو پالے۔
حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں انتقال کر جائے تو اللہ ربّ العزّت اس بندے کو قبر کی آزمایش سے بچا لیں گے۔ (سننِ ترمذی: رقم 1074)
یعنی جس کا انتقال شبِ جمعہ میں یا جمعہ کے دن ہو جائے تو وہ عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔ ایک اور حدیث میں تو بہت ہی عجیب بات ارشاد فرمائی۔
حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص شبِ جمعہ یا جمعہ کے دن میں انتقال کر جائے تو یہ عذابِ قبر سے محفوظ ہے، اور قیامت کے دن اس پر شہداء کی مہر لگی ہوگی۔ (حلیہ لابی نعیم: رقم 155/3)
یہ اللہ ربّ العزّت کی طرف سے ہم لوگوں پر اس دن کا بہت بڑا انعام ہے۔ ایسا شخص قبر کی آزمایش سے بھی بچ گیا، اور قیامت کے دن شہادت کی مہر اس پر لگی ہوگی تو گویا شہادت کے مرتبے پر بھی فائز ہو گیا۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کی عجیب وغریب رحمتوں کا دن ہے۔ کیا بعید ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ عذابِ قبر سے بچا لیںگے، اس کو آگے بھی اللہ اپنی رحمتوں میں جگہ عطا فرمائیں گے۔
حضرت عثمان غنی کے بارے میں آتا ہے کہ جب وہ کسی قبر پر تشریف لے جاتے تو خوب روتے تھے، یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک تَر ہو جاتی تھی۔ فرماتے کہ اگر میں جنت اور جہنم کے بیچ کھڑا کر دیا جاؤں اور مجھے معلوم نہ ہو کہ کہاں جاؤں گا تو میں اس بات کو پسند کروں گا کہ میں ریت بنا دیا جاؤں، کیوںکہ مجھے معلوم نہیں کہ میرا ٹھکانہ کیا ہوگا۔
(الداء والدواء: فصل: الرجاء والأماني)
معلوم ہو اکہ جمعہ کا دن اللہ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے۔
جمعہ کے دن مسنون تلاوت
نبی کریمﷺ نمازِ جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۂ اَعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۂ غاشیہ پڑھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم: رقم 878
امام نووی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ نبی کریمﷺ جمعہ کی نماز میں پہلی رکعت میں سورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورۂ منافقون، اور کبھی آپﷺ پہلی رکعت میں سورۂ ق اور دوسری رکعت میں سورۂ قمر تلاوت کرتے تھے۔ (شرح النووي : باب ما یقرأ في صلاۃ الجمعۃ)
جمعے والے دن مغفرت کروا لینا بھی بہت ہی آسان ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے شبِ جمعہ میں سورۂ دخان کی تلاوت کی، اس کی مغفرت ہوگئی۔

(سنن ترمذی: رقم 2889)
اسی طرح سورۂ یٰس فجر کے بعد پڑھنے کی بہت برکتیں ہیں، لیکن جمعہ کے دن سورۂ یٰس اور سورۂ صافات پڑھنے کی خاص فضیلت ہے۔ فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے روز سورۂ یٰس اور سورۂ صافات پڑھے، پھر وہ اللہ سے جو دعا مانگے، اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ (کنز العمال: 2694/1)
نبی کریمﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں اکیسویں پارے کی سورۂ الم سجدہ اور دوسری رکعت میں اُنتیسویں پارے کی سورۂ دہر تلاوت فرماتے تھے۔
(صحیح بخاری: رقم 891، صحیح مسلم: رقم 880)
آپ میں سے جن حضرات نے عمرہ کی سعادت حاصل کی ہوگی تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر وہاں جمعہ والے دن فجر کی نماز میں یہی دونوں سورتیں تلاوت کی جاتی ہیں۔ الحمدللہ! وہاں پر یہ سنت باقی ہے، مگر وہ یہ سورتیں حج کے موقع پر نہیں پڑھتے، کیوںکہ اس موقع پر ہجوم بہت بڑا ہوتا ہے تو اتنے بڑے ہجوم کا خیال کرتے ہیں، لیکن باقی سارا سال وہ اس سنت کو نہیں چھوڑتے ہیں۔ یہاں بھی آئمہ حضرات کو چاہیے کہ وہ بھی اس سنت کو پورا کرنے کی کوشش کریں اور اس سنت کو نہ چھوڑیں، بلکہ اپنی اپنی مساجد میں اس سنت کا اہتمام کریں۔ اللہ رب العزت ہمارے لیے آسانی والا معاملہ فرمائیں گے۔
جمعہ کی سنتیں
جمعہ کے روز بعض اعمال ایسے ہیں کہ اگر ہم انہیں اپنا لیں تو جمعہ کی نماز کے لیے جاتے ہوئے ہر قدم کے بدلے میں ہمیں ایک سال کے روزے کا ثواب ملے گا، اور ایک سال کی نماز کا ثواب ملے گا۔
حضرت اَوس بن اَوس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن اہتمام کے ساتھ غسل کرے گا اور کروائے گا (جمعہ کے دن بیوی سے مجامعت) اور صبح نماز کے لیے جلدی جائے گا اور خطبہ کے شروع سے شریک ہوگا، اور امام کے قریب بیٹھے گا، اور غور سے امام کی باتوں کو سنے گا، اور کوئی لغو کام نہ کرے گا، ایسے شخص کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور نمازوں کا ثواب ملے گا۔
(سنن ترمذی: رقم 456)
معلوم ہوا کہ جمعہ کا اہتمام کرنے پر اللہ تعالیٰ ہمیں اتنی بڑی نعمتیں عطا فرما دیتے ہیں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود فرمایا کرتے تھے کہ مسجد پیدل جایا کرو۔ پھر فرماتے تھے کہ تم سے بہتر جو لوگ گزرے ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق یہ حضرات بھی مسجد پیدل جایا کرتے تھے۔
حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: لوگوں میں نماز کے اعتبار سے سب سے زیادہ اَجر اس شخص کا ہے جو مسجد میں آنے کے لیے بہت دور سے آئے، پھر جو اس کے بعد ہے اس کے لیے اجر ہے۔

(صحیح مسلم: رقم 662)
ہمیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ نمازِ جمعہ کے لیے جلدی بھی جائیں اور پیدل جائیں اگرچہ سواری موجود ہے، اللہ تعالیٰ اَجر کو بڑھا دیں گے۔ اور اگر ہر بار جمعہ کو پیدل جانا مشکل ہے تو کبھی سواری پر چلے جائیں اور کبھی اتباعِ سنت میں پیدل جائیں۔
نمازِ جمعہ کے لیے جانے کا وقت؟
بعض مفسرین کے اقوال تو یہ ہیں کہ جمعہ کی نماز کے لیے انسان زوال سے پہلے ہی چلا جائے کہ جیسے ہی زوال کا وقت داخل ہو اور یہ بندہ اس وقت مسجد میں موجود ہو۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے دن جنابت سے پاکی کے لیے غسل کیا، پھر اوّل وقت میں مسجد کی طرف گیا تو یہ جلد از جلد جانے والا ایسا ہے جیسا کہ اس نے قربانی کے لیے اُونٹ اللہ کی راہ میں بھیجا۔ اور جو دوسرے وقت میں گیا، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے گائے اللہ کی راہ میں قربانی کے لیے پیش کی۔ اور جو تیسرے وقت میں گیا، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے سینگوں والا دُنبہ اللہ کی راہ میں بھیجا، اور جو چوتھے وقت میں گیا، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے مرغی بھیجی۔ اور جو پانچویں وقت میں گیا، وہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے انڈہ صدقہ کیا۔ پھر جب امام آتا ہے تو فرشتے اس کے قریب آکر اللہ کے ذکر کو سنتے ہیں۔

(صحیح بخاری: رقم 832، صحیح مسلم: رقم 1403)
معلوم ہوا کہ انسان جتنی دیر سے جائے گا اس کا ثواب اتنا ہی کم ہوتا جائے گا۔ یہ جو ھدی کا جانور ہوتا ہے یہ صرف مکہ مکرّمہ میں ہی انسان بھیج سکتا ہے اس کے علاوہ ھدی کا جانور اور کہیں ذبح نہیں ہوتا۔ اور جو جمعہ کے لیے جلدی جاتا ہے اس کی مثال ایسے ہے گویا اس نے مکہ مکرّمہ میں اونٹ قربان کیا ہے۔ یعنی مسلمان ہر جمعہ کو جلدازجلد مسجد پہنچ کر اس فضیلت کو حاصل کر سکتا ہے۔ بات کا لبِ لباب یہ ہے کہ انسان جمعہ کے بیان سے پہلے پہنچ جائے یعنی اردو والا بیان شروع ہونے سے پہلے پہلے پہنچ جائے۔ ملّا علی قاری نے فرمایا ہے کہ اس اُمت کے اندر جو سب سے پہلی بدعت شروع ہوئی وہ نمازِ جمعہ کے لیے دیر سے جانا ہے۔

(إحیاء علوم الدین: 182/1)
ابنِ مسعود فرماتے ہیں کہ جمعہ میں جلدی کیا کرو، اس لیے کہ ہر جمعہ جنت میں کافور کے ٹیلے پر اللہ تعالیٰ اپنا دیدار کرائیں گے۔ اس دیدار کے کرنے والوں میں قریب ترین وہ جنتی ہوں گے جو (دنیا میں) جمعہ کے لیے جلدی کیا کرتے تھے۔
(معجم کبیر للطبرانی: رقم 9169)
علقمہ تابعی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لیے گیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ تین آدمی ہم سے بھی پہلے پہنچے ہوئے تھے۔ حضرت ابن مسعود نے یہ دیکھ کر فرمایا: میں چوتھا ہوں، اور چوتھا شخص بھی اتنا دور نہیں ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہوں گے جو جمعات میں جلدی کرنے والے ہوں گے (جو یہاں پہلے آئے گا) وہ وہاں آگے ہوگا، (جو یہاں دوسرے نمبر پر ہے) وہ وہاں دوسرے نمبر پر ہوگا، (جو یہاں تیسرے نمبر پر ہے) وہ وہاں تیسرے نمبر پر ہوگا۔ پھر فرمایا: اور میں چوتھا ہوں، اور چوتھے نمبر والا بھی اتنا دور نہیں ہوگا۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 1094)
جمعہ میں جلدی پہنچنا ایک پریکٹس ہے اس ملاقات کی جو قیامت کے بعد اہلِ جنت کی اللہ ربّ العزّت سے ہوگی۔ جمعہ کا اجتماع اُس ملاقات اور دیدار کی ایک چھوٹی سی نشست ہے۔ اب جو بندہ اس دنیا میں جتنا جلد مسجد میں جمعہ والا دن پہنچے گا، جنت میں بھی اہلُ اللہ کی نشست میں وہ اللہ ربّ العزّت کے قریب ہوگا۔ اور خود ہی بتائیں کہ جب اللہ تعالیٰ اہلِ جنت کی نشست لگائیں گے تو آپ اللہ کے دیدار کے لیے قریب بیٹھنا چاہتے ہیں یا دور؟ اگر قریب بیٹھنا چاہتے ہیں تو آپ پختہ عہد کر لیجیے کہ آنے والے جمعہ سے جلدی آئیں گے اور امام کے قریب بیٹھیں گے۔ جیسے دنیا میں ہوتا ہے کہ قریب بیٹھنے کے ٹکٹ مہنگے ہوتے ہیں اور دور کے ٹکٹ سستے ہوتے ہیں۔ بس اس کا یہی معاملہ ہے کہ جنت میں دیدارِ الٰہی کے لیے زیادہ قریب بیٹھنے، اور وہاں کی فرنٹ سیٹیں لینے کے لیے ہمیں نمازِ جمعہ کے لیے جلدی جانا پڑے گا۔
حضراتِ صحابۂ کرام جلدی جمعہ کی نماز کے لیے جایا کرتے تھے۔ جمعہ والا دن کھانا جمعہ کی نماز کے بعد کھاتے تھے اور قیلولہ بھی بعد میں کیا کرتے تھے، مگر نماز کے لیے اوّل وقت میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ بعض علماء تو جمعہ کی پہلی اذان کے بعد بات چیت کو بھی منع فرماتے ہیں۔ اور تجارت کے متعلق تو قرآن مجید میں وضاحت آگئی ہے۔
إحیاء العلوم کی ایک عجیب روایت
بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عموماً نمازِ جمعہ میں جلدی پہنچ جاتے ہیں، اتفاقاً کبھی دیر ہو جائے۔ اور کچھ لوگ عادی مجرم ہوتے ہیں کہ جمعہ کو پہنچتے ہی تب ہیں جب امام صاحب جماعت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ امام غزالی نے امام بیہقی کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے کہ جب جلدی آنے والا شخص وقتِ مقرر پر نہیں پہنچ پاتا تو فرشتے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ بتائو! اسے کیا ہوا؟ وہ آج کیوں لیٹ ہو گیا؟ پھر خود ہی کہتےہیں کہ اے اللہ! اگر اسے تنگ دستی کی وجہ سے دیر ہوئی ہے، آپ اسے غنیٰ عطا فرمائیے۔ اور اگر اسے بیماری کی وجہ سے دیر ہوئی ہے تو آپ اسے شفا عطا فرمائیے۔ اور اگر اسے اس کے کسی مشغلہ کی وجہ سے دیر ہوئی ہے تو آپ اسے اپنی عبادت کے لیے فارغ کر دیجیے۔ اور اگر اسے لہو و لعب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے دیر ہوئی ہے تو آپ اس کے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دیجیے۔

(إحیاء علوم الدین: 182/1)
یعنی جو شخص مسجد میں جلدی جانے کا عادی ہو گیا تو فرشتوں کی دعائیں اس کے ساتھ شاملِ حال رہیں گی۔
جمعہ میں تاخیر کا نقصان
اور جو لوگ جمعہ میں عموماً دیر سے پہنچتے ہیں، یہ لوگ درحقیقت شیطان کے جال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے متعلق بھی حدیث شریف میں وعید وارد ہوئی ہے۔
عطاء خراسانی فرماتے ہیں کہ مجھ سے اُمّ ِعثمان کے مولیٰ نے یہ بیان کیا کہ انہوں نے کوفہ کے منبر پر حضرت علی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈوں کو لے کر بازار کی طرف نکل جاتے ہیں، اور لوگوں کو اُلجھا کر انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

(سنن ابی داؤد: رقم 1051)
یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے لوگ جمعہ میں دیر سے پہنچتے ہیں۔ بھئی! ہم سب کو جمعہ کے دن مسجد میں جلدی پہنچنے کے لیے ہمت اور کوشش کرنی چاہیے۔ رہا معاملہ دوکانداروں کی دوکانداری کا، تو اس کے متعلق بات آگے آئے گی ان شاء اللہ۔
گناہوں کی معافی
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ دونوں سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن اہتمام سے غسل کرے اور اپنے بہترین کپڑے پہنے (جو اس کی استعداد میں ہے) اور جو خوشبو اس کے پاس ہے اسے لگائے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے اس طرح سے مسجد میں (آگے) آئے کہ لوگوں کی گردنوں کو نہ پھلانگے (جو جتنا جلدی آئے گا، اسے گردنیں پھلانگنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی)، اور جتنا اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا نماز پڑھی، اور امام کے آنے سے لے کر نمازِ جمعہ سے فراغت تک خاموشی اختیار کی، تو ایسے شخص کے لیے جمعہ کی یہ نماز اس سے پہلے جمعہ کی نماز کے درمیانی ایام کے لیے کفارہ بن جائے گی۔
(سنن ابی داؤد: رقم 343)
ایسے شخص کے اِس جمعہ سے لے کر پچھلے جمعہ کے درمیان جو دن گزرے ہیں، اُن میں جو کمی کوتاہیاں یا گناہ ہوئے ہیں، وہ سب گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اب یہ لیٹ پہنچنے والے بس پندرہ بیس منٹ لیٹ پہنچنے کی وجہ سے کتنی بڑی نعمتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ جمعہ والے دن کوشش کر کے جلدی جائیں۔
پندرہ نکات
ایک حدیث شریف پہلے بھی گزری ہے، دوبارہ عرض کر کے اس حدیث سے متعلق پندرہ نکات ذکر کرنے ہیں۔
حضرت اَوس بن اَوس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن اہتمام کے ساتھ غسل کرے گا اور کروائے گا (جمعہ کے دن بیوی سے مجامعت) اور صبح نماز کے لیے جلدی جائے گا اور خطبہ کے شروع سے شریک ہوگا، اور امام کے قریب بیٹھے گا، اور غور سے امام کی باتوں کو سنے گا، اور کوئی لغو کام نہ کرے گا، ایسے شخص کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور نمازوں کا ثواب ملے گا۔
(سننِ ترمذی: رقم 456)
معلوم ہوا کہ اللہ ربّ العزّت تھوڑے اہتمام پر اتنی بڑی بڑی نعمتیں عطا فرما دیتے ہیں۔ علمائے کرام نے اس حدیث میں اہتمام سے مراد پندرہ باتیں لی ہیں، جو ان پر عمل کرے گا پھر اسے ہر جمعہ میں ایک سال کے روزے اور نماز کا ثواب ملے گا۔ وہ پندرہ نکات درج ذیل ہیں:
(1) غسل کرنا
(2) سر دھونا
(3) کپڑے کی صفائی
(4) خود بھی غسل کرنا اور بیوی کو بھی غسل کروانا (مباشرت)
(5) مسواک کرنا
(6) سر میں تیل لگوانا
(7) خوشبو لگانا
(8) اچھے اور عمدہ کپڑے پہننا
(9) جلدی جانا
(10) پیدل جانا
(11) مسجد میں جو بیٹھا ہو ان کی گردنوں سے نہ پھلانگنا
(12) دو آدمیوں کے بیچ میں نہ بیٹھنا
(13) امام کے قریب بیٹھنا
(14) جب خطبہ ہو رہا ہو تو دھیان سے سننا
(15) کوئی لغو حرکت نہ کرنا یعنی مسجد کی چٹائی کو نہ ٹٹولے، یا تنکے وغیرہ سے نہ کھیلے۔
اب جو شخص ان پندرہ آسان کاموں کا اہتمام کرے گا اس کو ایک سال کے روزے اور نماز کا ثواب مل جائے گا۔ کتنی بڑی نعمت ہے کہ مسلمان یہ ثواب ہر جمعہ لے سکتا ہے۔ اور جو بندہ اردو والا بیان گزرنے کے بعد آتا ہے تو اس کی نمازِ جمعہ اگرچہ ادا ہوجاتی ہے، لیکن ثواب میں یہ اس شخص کے برابر نہیں جو مکمل اہتمام کرکے آیا ہو۔
آج ہم لوگ دنیا کے کاموں کی خاطر صرف پندرہ بیس منٹ کی تاخیر سے آخرت کے بڑے بڑے ثوابوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک حدیث شریف شروع میں بیان ہوئی کہ فرشتے ہر جمعہ اٹینڈس لگاتے ہیں، حاضری کا رجسٹر بنتا ہے کہ کون آیا اور کب آیا۔ اب ہم فرشتوں کی فہرست میں اپنا نام اس وقت لکھوائیں گے جب ہم اردو بیان سے پہلے پہنچیں گے۔اگر لیٹ ہو گئے تو فرشتوں کے رجسٹر میں ہمارا نام نہیں لکھا جائے گا۔
جمعہ کی نماز کے لیے کاروبار بند کرنا
اللہ ربّ العزّت ارشاد فرماتے ہیں:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَيْعَط

(سورۃ الجمعۃ: آیۃ 9)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو، اور خرید و فروخت چھوڑ دو‘‘۔
’’خرید و فروخت چھوڑ دو‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ یعنی جب جمعہ کی پہلی اذان ہو جائے تو اب بس کاروبار کو بند کر دو۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جمعہ کی پہلی اذان کے بعد کاروبار کرنا ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے، کیوںکہ اللہ ربّ العزّت نے فرمایا ہے: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو۔ یعنی جب جمعہ کی پہلی اذان ہو جائے تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جمعہ کی تیاری میں لگ جائو۔ آیت میں فَاسْعَوْا کا لفظ ہے، اس سے مراد مطلقاً چلنا نہیں بلکہ دوڑنا ہے۔ اور دوڑنے والا جب دوڑ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنی مگن میں دوڑ رہا ہوتا ہے، اس کو کوئی آواز بھی دے تو وہ اِدھر اُدھر دھیان نہیں کرتا۔ اور اَذانِ جمعہ کے بعد چوںکہ خرید و فروخت ناجائز اور مکروہِ تحریمی ہے، اور اس پر عمل کرنا یعنی بائع اور مشتری دونوں پر فرض ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز لوگوں کو جمعہ کے دن جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت سے منع کیا کرتےتھے۔ حضرت میمون بیان کرتے ہیں کہ جب جمعہ کی اذان ہو جاتی تو مدینہ منوّرہ میں اعلان کروایا جاتا تھا کہ لوگو! خریدوفروخت حرام ہو گئی، اب اللہ کی یاد کے لیے مسجد کی طرف دوڑو۔ یہ اعلان بازاروںمیں کروائے جاتے تھے۔ آج ہمیں بھی چاہیے کہ نمازِ جمعہ سے پہلے اپنی دوکانوں کو بند کر دیں، پہلی اذان سے پہلے ہی بند کر دیں اور فوراً مسجد کی طرف دوڑیں۔
ایک شبہ کا اِزالہ
کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ دوکان سیٹ کرتے کرتے دوگھنٹے لگ جاتے ہیں۔ بھئی! اگر جمعہ والے دن جمعہ کی نماز کے بعد دوکان کھول لی جائے تو کیا حرج ہے؟ ابھی تو یہ مشقت ہم برداشت کر لیں گے، مگر قیامت والے دن جب دیدارِ الٰہی کے وقت دُور بیٹھے ہوں گے تو اس وقت ہمیں بڑی تکلیف ہوگی کہ میں دوکان میں کیوں بیٹھا رہا۔ جمعہ کے وقت کی دوکانداری کس قیمت پر کر رہے ہیں؟ اپنی تھوڑی سی دوکانداری دیدارِ الٰہی کی قیمت پر کر رہے ہیں، اور ہم سب تو جانتے ہی ہیں کہ خود پوری کی پوری جنت بھی دیدارِ الٰہی کی قیمت کے برابر نہیں ہو سکتی۔ جنت کی نعمتوں میں اصل نعمت تو اللہ ربّ العزّت کا دیدار ہی ہے۔ جنت تو خود مخلوق ہے، اور اللہ ربّ العزّت تو خالق ہیں۔
مستورات کو نصیحت
اس حکم پر مستورات بھی عمل کر سکتی ہیں جو گھروں پر ہوتی ہیں۔ مستورات کو چاہیے کہ وہ نمازِ جمعہ کے وقت کسی کو خریداری کے لیے ہی نہ بھیجیں۔ بلکہ جمعہ والے دن اپنے گھر والوں کو خریداری کے لیے ایسے وقت میں بھیجیںکہ وہ اذانِ جمعہ سے پہلے ہی گھر آجائیں، یا پھر نمازِ جمعہ کے بعد بھیجیں۔ اذانِ جمعہ سے لے کر نمازِ جمعہ تک کوئی چیز نہ منگوائیں۔ مستورات اس طریقے سے اللہ کے حکم کو پورا کر سکتی ہیں۔ علمائے کرام نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ پہلی اذان کے بعد کھانا، پینا، کتاب کا مطالعہ کرنا بھی منع ہے، فقط اس کو چاہیے کہ نمازِ جمعہ کی تیاری کرے اور اس کی طرف چل کر جائے۔
ایک حیلہ کا توڑ
ایک حیلہ یا طریقہ بعض دوکاندار یہ کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک بجے والی جماعت سے نماز پڑھ لی، دوسرے نے ڈیڑھ بجے والی پڑھ لی، تیسرے نے دو بجے والی پڑھ لی، اور کسی نے اس سے بعد والی جو جماعت تھی وہ پڑھ لی۔ میرے بھائیو! یہ راستے نکالنا تقویٰ کے خلاف ہے۔ یہ راستے نہ نکالیے، بس اللہ کے حکم کے آگے سر کو جھکا لیں، اور وَذَرُوا الْبَیْعَ والی آیت پر عمل کریں اور کاروبار وغیرہ کو بند کر دیں۔ تقویٰ اور دیوانگی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے لیے بہتر ہے کہ ہم نمازِ جمعہ کے بعد ہی دکانوں کو کھولیں۔
گردنیں پھلانگنے کی ممانعت
حکم تو یہ ہے کہ جب نمازِ جمعہ کے لیے آئیں تو جہاں جگہ ملے اگلی صفوں میں تو آگے جائیں، پیچھے نہ بیٹھیں۔ لیکن لوگ پہلے ہی سے بیٹھے ہیں تو ان کے کندھوں کو پھلانگ کر آگے جانے کی کوشش نہ کریں۔
ایک مرتبہ نبی کریمﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص گردنیں پھلانگتے ہوئے آیا اور آپﷺ کے قریب جا بیٹھا۔ آپﷺ نے اس سے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ، یقیناً تم نے (ان لوگوں کو) تکلیف دی۔

(سنن ابی داؤد: رقم 1118)
کمر سے پاؤں کو باندھنے کی ممانعت
دورانِ خطبہ اس طرح نہ بیٹھا جائے جس سے نیند یا اُونگھ آنے کا اندیشہ ہے۔ حضرت معاذ بن انس سے روایت ہے کہ آپﷺ حبوہ یا احتباء کی شکل میں بیٹھنے سے منع فرماتے تھے جب امام خطبہ دے رہا ہو۔

(سنن ترمذی: رقم 514 )
حبوہ یا احتباء یہ ہے کہ آدمی کپڑے سے اپنی کمر اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا کر کے باندھے۔ اس سے آدمی پر نیند کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے اور غفلت ہوتی ہے۔ اور اگر کسی کو نیند آنے لگے تو اپنی جگہ یا ہیئت بدل لے۔ دیکھنے میں بھی یہ آیا ہے کہ اپنی جگہ یا ہیئت بدل لینے سے نیند ختم ہو جاتی ہے اور انسان بہتر محسوس کرتا ہے۔
نماز اور بات کی ممانعت
اسی طرح جب امام منبر پر آجائے تو کوئی بھی بات چیت کرنا حتّٰی کہ خیر کی بات کرنا بھی بالکل منع ہے۔ علامہ ابنِ حجر طبرانی کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے اور امام کو منبر پر پائے تو نہ نماز پڑھے اور نہ کلام کرے یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے۔

(فتح الباري تحت رقم 888)
کیوںکہ یہ باتیں اس وقت منع ہو جاتی ہیں۔ اور جب شریعت نے اجتماعیت کا حکم دیا ہے تو اس وقت اجتماعیت کو فوقیت دی جائے گی، اِنفرادیت کو نہیں۔
قبولیت کی گھڑی
ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ جمعہ کے دن دعائوں کا اہتمام کرنا بہت ضروری ہے، کیوںکہ قبولیتِ دعا کی ایک گھڑی اس میں ضرور آتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے جب جمعہ کا ذکر فرمایا تو یہ فرمایا: اس میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں کوئی مؤمن بندہ کھڑے ہو کر کوئی نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرتا ہے تو اللہ ربّ العزّت اسے قبول فرما لیتے ہیں۔
(صحیح بخاری: رقم 5295، صحیح مسلم: رقم 852)
حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ تشریف فرما تھے، اس وقت میں نے عرض کیا کہ ہم اللہ کی کتاب (غالباً تورات مراد ہے، کیوںکہ حضرت عبداللہ بن سلام یہودیوں کے بڑے عالم تھے اور انہیں تورات پر عبور حاصل تھا) میں یہ بات پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جس میں مؤمن بندہ اللہ کے سامنے نماز پڑھتا ہے، پھر دعا مانگتا ہے تو اس کی وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ وہ وقت بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ نے سچ کہا، وہ وقت بہت تھوڑا ہوتا ہے۔
(سننِ ابنِ ماجہ: رقم 1139)
وقت کا تعیّن
مختلف احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ دعائیں جمعہ کی ایک گھڑی میں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ اب وہ وقت کونسا ہے؟ اس بارے میں علمائے کرام کے چالیس سے زیادہ مختلف اقوال نقل کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ وہ وقت تو چھپا دیا گیا ہے، مگر انسان کی کمزوری کو دیکھ کر چند ایک اوقات بتا گئے ہیں تاکہ انسان ان اوقات میں تو دعائوں کا زیادہ اہتمام کرنے کی کوشش کرے۔
بعض علماء کا قول ہے کہ اذانِ فجر سے لے کر طلوعِ فجر تک کا جو وقت ہے وہ قبولیتِ دعا کا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ جب امام منبر پر آجاتا ہے تو وہ وقت قبولیتِ دعا کا ہے۔ اور بعض علماء نے فرمایا کہ جب امام خطبہ دینا شروع کرتا ہے تو خطبہ سے لے کر نماز کھڑی ہونے تک کا ٹائم قبولیتِ دعا کا ہے۔ نمازِ جمعہ کے چوںکہ دو خطبے ہوتے ہیں تو بعض علماء کے قول کے مطابق دو خطبوں کے درمیان جو امام چند لمحوں کے لیے بیٹھتا ہے وہ وقت قبولیتِ دعا کا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک حرمتِ بیع سے لے کر حلتِ بیع تک کا درمیانی ٹائم قبولیتِ دعا کا ہے۔ (حرمتِ بیع یعنی جب پہلی اذان کے بعد کاروبار حرام کر دیا گیا تھا اور حلتِ بیع یعنی جب کاروبار کرنا دوبارہ حلال کر دیا گیا) بتائیے کہ اب ہمیں اس وقت میں دوکانداری کرنی چاہیے یا دعائیں مانگنی چاہیے۔ اور بعض علماء کے نزدیک قبولیتِ دعا کی گھڑی عصر سے لے کر مغرب تک کا وقت ہے۔
اس وقت کے متعلق روایتیں تو اور بھی بہت زیادہ ہیں، مگر دو قول زیادہ راجح ہیں:
جس وقت اِمام منبر پر بیٹھے اور نمازِ جمعہ ختم ہونے تک سارا وقت ہی قبولیتِ دعا کا وقت ہے۔ اس وقت میں نمازی ہاتھ اٹھا کر یا آواز سے دعا نہ کرے، بلکہ دل ہی دل میں دعا کرے۔
نمازِ عصر سے لے کر مغرب تک کا وقت۔ حضرت عبداللہ بن سلام کی روایت پہلے گزری، اس کے آخر میں ہے: حضرت عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: وہ قبولیت کی گھڑی کونسی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: دن کی آخری گھڑیاں (یعنی عصر سے لے کر غروبِ آفتاب تک کا وقت)۔

(سننِ ابنِ ماجہ: رقم 1139)
حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس گھڑی کو جس میں تمہیں دعا کی قبولیت کی اُمید ہے، عصر کے بعد سے لے کر غروبِ آفتاب تک کے وقت میں تلاش کرو۔

(سننِ ترمذی: رقم 489)
حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ دونوں روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہے جس میں مؤمن بندہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بھی دعائے خیر مانگتا ہے تو اس کی وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ اور وہ گھڑی یا وقت عصر کے بعد کا ہے۔

(زاد المعاد: 389-391/1)
حضرت سعیدبن جبیر جب عصر کی نماز پڑھ لیتے تو غروبِ آفتاب تک کسی سے بھی بات نہ فرماتے تھے۔ اور ہمارے مشایخ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جمعہ کے دن نمازِ عصر کے بعد سے غروبِ آفتاب تک ذکر، مراقبہ اور تلاوت و دعا میں لگے رہتے تھے اور کسی سے بات چیت نہ کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ جمعہ کے قیمتی اوقات کو زیادہ سے زیادہ کیش کروا لیں۔
حضرت فاطمۃ الزہراء کا مبارک عمل
حضرت مرجانہ فرماتی ہیں کہ جب جمعہ کا دن ہوتا تو حضرت فاطمہ اپنے غلام سے کہتیں کہ جائو دیکھ آئو کہ سورج ڈوبنے کے قریب آگیا؟ جب غلام آکر کہتا کہ جی! سورج ڈوبنے والا ہے۔ تو حضرت فاطمہ فوراً دعا میں مشغول ہو جاتیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جاتا۔
آج ہماری عورتیں بھی اس سنت پہ عمل کر سکتی ہیں کہ جمعہ والے دن عصر کی نماز کے بعد جب سورج ذرا ڈوبنے کے قریب ہو جائے، مشکل سے یہ آدھا گھنٹہ یا پینتالیس منٹ بنتے ہیں تو اس میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں۔ اِن شاء اللہ وہ وقت آ جائے گا جو قبولیتِ دعا کا ہے۔
ایک اللہ والے کا عجیب نکتہ
ایک اللہ والے فرماتے ہیں کہ یہ جو قبولیتِ کی گھڑی کے چالیس کے قریب علمائے کرام کے اقوال ہیں۔ چناںچہ بعض کے نزدیک یہ قبولیت کی گھڑی شبِ جمعہ کی بھی ہے۔ اس کے لیے گھر والے ایک ترتیب بنا لیں۔ جیسے کہ جمعرات کو غروبِ آفتاب ہوا تو شبِ جمعہ شروع ہو گئی۔ اب مغرب کی نماز کے بعد سے لے کر اگلے دن کے غروب آفتاب تک گھر کے دو یا چار افراد 24 گھنٹے میں باری باری کسی خاص مسئلے یا پریشانی میں دعا مانگیں۔ چوںکہ چوبیس گھنٹوں میں ایک گھڑی تو قبولیت کی ہوتی ہی ہے، تو اس عمل سے ہر جمعہ اپنی خواہش اللہ سے پوری کروا سکتے ہیں۔ تاہم یہ طریقہ بہت مشکل ہے۔ بہرحال عصر کے بعد والا بی بی فاطمہ کا عمل تو بہت آسان ہے۔ مرد حضرات کو چاہیے کہ وہ بھی اس عمل کی کوشش کریں، اور عورتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس عمل کو لازم پکڑ لیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے لیے عافیت اور رحمت کا معاملہ فرمائے۔
شبِ جمعہ کو قیمتی بنائیں
جس طرح جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں والا ہے، اسی طرح شبِ جمعہ بھی خیر و برکت والی ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ شبِ جمعہ سے ہی درودِ پاک اہتمام کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیں۔ اور وہ حضرات تو بہت ہی مبارک ہیں جو شبِ جمعہ میں تبلیغی مرکز چلے جاتے ہیں۔ اور پھر صبح فجر یا اِشراق تک عبادت اور دعوت وتبلیغ کے کاموں میں لگے رہتے ہیں، اس طرح اُن کی ساری رات عبادت میں گزرتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں تہجد کی نماز اور تہجد کی مناجات کی بھی توفیق مل جاتی ہے۔ اگر کوئی مرکز جانا چاہے تو بہت بہتر، لیکن اگر اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ جاسکے تو کم از کم اپنے گھر میں تہجد پڑھنے کا اہتمام ضرور کرے۔ اول تو تہجد کے بارے میں ہے کہ روز پڑھی جائے، لیکن اگر کوئی روز نہیں پڑھ سکتا، تو شبِ جمعہ کو تو تہجد کا اہتمام ضرور کرے۔
اس کے علاوہ امام غزالی فرماتے ہیں کہ جمعہ کی تیاری جمعرات سے ہی شروع کریں۔ پہلے سے ہی صاف کپڑوں کا انتظام، اور بال و ناخن کاٹنے کا اہتمام کریں، کیوںکہ شبِ جمعہ کی عبادت کا ثواب بڑھا دیا جاتاہے۔
جمعہ کی تیاری
جمعہ کےدن صبح کی نماز کے بعد اگر کوئی شخص یہ دعا پڑھے
أَسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِيْ لَاإِلٰہَ إِلَّا ھُوَ الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ وَ أَتُوْبُ إِلَیْہِ.
تو اللہ تعالیٰ اس کے سارے ہی گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ غسل کر کے عطر لگایا جائے، اچھا اور صاف ستھرا لباس پہننے کی کوشش کی جائے۔ آج کل تو معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ لوگ نمازِ جمعہ کی تیاری کے لیے ہیئر ڈریسر کے پاس جاتے ہیں۔ بجائے سر کے بال سنت کے مطابق کٹوانے کے سنتِ رسولﷺ یعنی داڑھی کو ذبح کروا کے آجاتے ہیں۔ معاذاللہ! میرے بھائیو! جس طرح جمعہ کے دن عبادات اور اعمال کا ثواب بڑھ جاتا ہے، تو چاہیے یہ کہ اس دن زیادہ سے زیادہ اپنے آپ کو اللہ ربّ العزّت کی نافرمانی سے بچائیں۔ اللہ تعالیٰ توانسان کو دینا چاہتے ہیں، مگر یہ بندہ ہے کہ محروم رہتا ہے۔ اسی طرح جمعہ کے دن یہ بھی کوشش کی جائے کہ صلاۃُ التسبیح پڑھیں۔ تقریباً آدھا پونا گھنٹہ ہی لگتا ہے، لیکن اَجر و ثواب کے اعتبار سے کچھ بھی وقت نہیں۔
صلاۃُ التسبیح کا طریقہ
یہ چار رکعات کی نماز ہے، اور ہر رکعت میں تقریباً 75 مرتبہ یہ تسبیح
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَاللہُ أَکْبَرُ
پڑھنی ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس کے ساتھ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کا اضافہ کر لے تو بہتر ہے۔ تسبیح نماز پڑھنے کا طریقہ اس طرح سے ہے
سب سے پہلے نیت کریں کہ میں اللہ کے لیے چار رکعات صلوۃ التسبیح یا تسبیح نماز پڑھتا ہوں، یا پڑھتی ہوں، منہ میرا کعبہ کی طرف۔ اور اللہ اکبر کہتے ہوئے تکبیرِ تحریمہ کے لیے ہاتھ اُٹھا کر باندھ لیں جیسا کہ عام نماز میں کرتے ہیں۔ پھر ثناء پڑھیں۔ اس کے بعد پندرہ مرتبہ درج بالا تسبیح پڑھیں۔ پھر تعوّذ اور تسمیہ پڑھ کر سورۂ فاتحہ پڑھیں اور اس کے ساتھ کوئی سورت ملا لیں۔ سورت پڑھنے کے بعد دس مرتبہ مذکورہ تسبیح پڑھیں۔ وہ پندرہ اور یہ دس کُل ملا کر پچیس ہو گئے۔ پھر رکوع میں جائیں اور رکوع کی تسبیح پڑھنے کے بعد دس مرتبہ مذکورہ تسبیح پڑھیں۔ پھر قومہ میں رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہنے کے بعد دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھیں۔ پھر پہلے سجدے میں اس کی تسبیح پڑھنے کے بعد دس مرتبہ یہی تسبیح، پھر جلسہ (یعنی دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے) میں دس مرتبہ یہی تسبیح، پھر دوسرے سجدے میں دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھی جائے۔اس طرح ایک رکعت میں تقریباً 75 مرتبہ یہ تسبیح پڑھی جائے گی۔ اور چار رکعتوں میں اس کی تعداد تین سو ہو جائے گی۔ کوشش کریں کہ تسبیح نماز پڑھنے کی عادت بن جائے۔ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس آدمی کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔ اور جب کسی کام کی عادت بن جائے پھر تو وہ کوئی مشکل کام بھی نہیں۔ نبی کریمﷺ نے اپنے چچا حضرت عباس کو تسبیح نماز کے متعلق فرمایا تھا کہ چچا! اس نماز کو روز پڑھنا، اگر روز نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک مرتبہ پڑھنا، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک مرتبہ پڑھنا، نہیں تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لینا، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو زندگی میں تو ایک مرتبہ ضرور پڑھ لینا۔
ایک بے سُود بہانہ
اس میں ایک بات بالکل بالکل یاد رکھنی چاہیے کہ صلاۃُ التسبیح انفرادی نفلی عبات ہے، یہ عبادت باجماعت نہیں ہو سکتی۔ بعض لوگ اس نماز کو باجماعت پڑھتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ ہمیں صلاۃُ التسبیح میں پڑھی جانے والی تسبیح نہیں آتی۔ اب بتائیں کہ وہ کون سا مسلمان ہے جس کو سبحان اللہ، والحمد للّٰہ، ولا إلہ إلا اللہ، اور واللہ أکبر یہ کلمات نہیں آتے؟ صلاۃُ التسبیح میں یہی چار جملے ہیں جن کو ملائیں تو یہ پوری ایک تسبیح بن جاتی ہے۔ جو لوگ اُمت کو اس سلسلے میں نفس پرستی اور سستی اور کاہلی کی طرف لے جاتے ہیں، وہ مر کر اللہ کو کیا جواب دیں گے۔ بس یاد رکھیے کہ یہ نماز تنہائی میں انفرادی پڑھنے والی عبادت ہے، مسجد میں باجماعت پڑھنے والی عبادت نہیں ہے۔ اور کچھ علماء تو اس میں اجتماعیت کو بدعت قرار دیتے ہیں۔
شیطان سے حفاظت کا عمل
جمعہ کے دن ایک اور عمل بھی علمائے کرام بتاتے ہیں جو عون نے حضرت اسماء سے نقل کیا ہے۔ ابنِ ابی شیبہ کی روایت ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے بعد قُلْ ھُوْ اللہُ اَحَدٌ، قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ سات سات مرتبہ اسی جگہ بیٹھے بیٹھے پڑھے گا تو ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک اس کی شیطان سے حفاظت ہو جائے گی۔
امام غزالی نے ’’احیاء العلوم‘‘ میں لکھا ہے کہ اس وظیفے کے اندر سورۂ فاتحہ کا بھی اضافہ کر لے۔ سب ہی لوگوں کو چاہیے کہ اس عمل کی بہت زیادہ کوشش کر لیں۔
قرض سے نجات کی دعا
حدیث شریف میں ایک مشہور دعا قرضے سے نجات کی ہے
اَللّٰھُمَّ اکْفِنِيْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَأَغْنِنِيْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ.
(سنن الترمذي: رقم 3563)
ترجمہ: ’’اے اللہ! تو مجھے اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہو جا، اور مجھے اپنے فضل سے اپنے ماسوا سے بےنیاز کر دے‘‘۔
یہ دعا مقروض بندے کے لیے مشہور ہے۔ جو اس کے پڑھنے کا اہتمام کرے گا تو اس بندے کا قرضہ ادا ہو جائے گا۔ حضرت انس سے منقول ہے کہ جو شخص نمازِ جمعہ کے بعد ستّر مرتبہ اس دعا کو پڑھے گا تو اِن شاء اللہ دو جمعہ نہیں گزر پائیں گے کہ وہ بندہ خود مالدار ہو جائے گا۔ یعنی اس کا مائینس پلس میں تبدیل ہو جائے گا۔
(اِعانۃ الطالبین لابی بکر الدمیاطی)
درود شریف پڑھنے کا اہتمام
جمعہ کے دن کا ایک عمل اور بھی ہے جو بہت ہی خاص ہے، وہ ہے درود شریف پڑھنا۔ اس کے بارے میں بہت ساری روایات ہیں۔ اگر ’’فضائلِ درود‘‘ شیخ الحدیث مولانا زکریا کی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کتاب کے اندر حضرت نے بہت تفصیل کے ساتھ درود شریف کی برکتیں لکھی ہیں۔
حضرت اَوس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا دن تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن ہے، پس تم جمعہ کے دن خوب کثرت سے مجھ پر درود پڑھا کرو، کیوںکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔

(سنن ابی داؤد: رقم 1047)
حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے (اس دنیا میں) کثرت سے مجھ پر درود پڑھا ہوگا۔

(سنن ترمذی: رقم 484)
یعنی قیامت کے دن زیادہ درود پڑھنے والے کا نبی کریمﷺ سے قرب زیادہ ہوگا۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جمعہ کے دن اور رات میں مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، جو مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں اتارتے ہیں۔

(سنن بیہقی: رقم 5994)
علامہ ابنِ قیم نے جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنے کی یہ وجہ لکھی ہے کہ جمعہ دنوں کا سردار ہے، اور نبی کریمﷺ انبیاء کے سردار ہیں، تو یہی وجہ ہے کہ اس دن درود پڑھنا زیادہ افضلیت رکھتا ہے۔ اور ’’فضائل درود‘‘ میں لکھا ہے کہ جمعہ کے دن درود شریف کا ثواب ستّر گناہ بڑھ جاتا ہے۔ یزید رقّاشی فرماتے ہیں کہ جمعہ کے دن کے لیے ایک خاص فرشتہ مقرر ہے، جو شخص خاص جمعہ کے دن درود پڑھتا ہے تو وہ فرشتہ اس درود شریف کو نبی کریمﷺ کے پاس لے کر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اے اللہ کے نبی! آپ کی اُمت کے فلاں شخص نے آپ پر درود پاک پڑھا ہے۔
سو ضرورتوں کا پورا ہونا
اور ہم میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ ہماری ضرورتیں پوری ہوں، اور ہماری پریشانیاں دور ہوں۔ جمعہ کے دن درود شریف پڑھنا حاجات کو پورا کروا دیتا ہے۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:تم میں سے قیامت کے دن میرے قریب ہر جگہ سے وہ لوگ ہوں گے جو کثرت سے دنیا کے اندر مجھ پر درود پڑھنے والے ہوں گے۔ اور جو شخص شبِ جمعہ یا جمعہ کے دن مجھ پر درود پاک پڑھے گا تو اللہ ربّ العزّت اس کی سو حاجتیں پوری کریں گے، جس میں ستّر آخرت کی حاجتیں، اور تیس دنیا کی حاجتیں ہوں گی۔ پھر اللہ پاک ایک فرشتہ مقرر فرما دیتے ہیں جو مجھے قبر کے اندر اس بندے کے درود کو اس اہتمام سے پیش کرے گا جس طرح تم تحفے ایک دوسرے کو

پیش کرتے ہو، اور وہ فرشتہ اس کے نسب اور قبیلے کے تعارف کے ساتھ تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔ (سنن بیہقی: 111/3)
اب یہ کتنی عظیم بات ہے۔ ایک دفعہ سب محبت سے ابھی درود شریف پڑھ لیجیے
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اسّی سال کے گناہوں کی معافی
جمعہ والے دن عصر کی نماز کے بعد ایک مشہور درود شریف ہے تقریباً سب کے علم میں ہوگا۔ حضرت سہل بن عبداللہ سے مروی ہے کہ جو شخص جمعہ والے دن عصر کی نماز کے بعد اسّی مرتبہ یہ درود شریف پڑھے گا تو اس کے اسّی سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے:
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلٰی اٰلِہِ وَسَلِّمْ.
(القول البديع في الصّلاة على الحبيب الشّفيع)

اس درود پاک کے اسّی مرتبہ پڑھنے میں بمشکل پانچ چھ منٹ لگتے ہیں۔ یہ درود شریف تو عصر کے بعد سے متعلق ہے، اس کے علاوہ جو چاہے وہ اس سے زیادہ پڑھے یعنی سو مرتبہ، ہزار مرتبہ درود پاک پڑھے۔ جتنا درود پاک پڑھنے کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اُتنا ہی قیامت کے دن نور ملے گا اور اللہ کی رحمتیں ملیں گی۔ جب ایک دفعہ پڑھنے پر دس رحمتیں اُترتی ہیں تو ہزاروں کی تعداد میں پڑھنے سے کتنی رحمتوں کے کھینچنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ یہ چیزیں ہماری سوچ سے بہت اُونچی ہیں۔ اور الحمدللہ! ما شاء اللہ! کچھ خواتین تو ایسی ہیں جو ہر جمعہ دس ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتی ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک ہمت کرے، ان شاء اللہ اللہ ربّ العزّت آسانی پیدا فرما دیں گے۔ اگر دوکاندار حضرات جمعہ کو ذرا دیر سے دوکان کھول لیں یا دوکان کھول کر ہی دوکاندار درود شریف پڑھتے رہیں تو بہت بہتر ہے۔
جنت کی بشارت
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن ایک ہزار مرتبہ درود پڑھے گا جب تک وہ اپنا ٹھکانا جنت میں موت سے پہلے دیکھ نہ لے اس کو موت نہیں آئے گی۔

(ترغیب و ترہیب لابن شاہین: ق 261/2)
یعنی اللہ تعالیٰ اسے مرنے سے پہلے دکھائیں گے کہ یہ تیرا ٹھکانا ہے جنت میں، پھر اس کو موت دیں گے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ نَبِیِّکَ وَرَسُوْلِکَ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ.
یہ درود شریف بھی بہت بہترین ہے۔ یہ پڑھ لیں، یا اس کے علاوہ کوئی بھی درود شریف جو یاد ہے، اس کے پڑھنے کا اہتمام کرنا ہوگا۔جو کوئی چلتے پھرتے یہ چھوٹا سا عمل کر لے تو ان شاء اللہ موت سے پہلے اپنا گھر دیکھ کر جائے گا۔ اور اس حدیث میں چوںکہ خاتمہ بالخیر کی بشارت بھی ہے۔ اور آج کل تو ہمیں خاتمہ بالخیر کے لیے زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہے، کیوںکہ ہر طرف فتنے کا زمانہ ہے۔ تو اپنے خاتمہ بالخیر اور عافیت والی موت کے لیے درود شریف کے وظیفے کو لازم پکڑ لیں۔ آج کل کے جو اسکولز ہیں وہ موسیقی کے ذریعے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں، اور شروع دن سے ہی بچے کے دل سے غیرت اور ایمان کو ختم کر دیتے ہیں۔ پھر ایسے بچے ہماری قبروں پر گیتا اور رائمنز ہی پڑھیں گے۔ اور مرنے کے بعد جب ان کو ہماری یاد آئے گی تو فاتحہ خوانی اور قرآن مجید پڑھنے کے بجائے ایک منٹ کی خاموشی ہی اختیار کریں گے۔ اس کے علاوہ ایسے بچے پھر بڑے ہو کر فقط ہماری قبروں پر کینڈل لائٹ آن کریں گے۔ ایسے بچوں کو نہ فاتحہ پڑھنے آتی ہوگی، نہ سورۂ اخلاص پڑھنے کا پتا ہوگا، اور نہ دعا مانگنی آتی ہوگی۔ سوچیے کہ ہم اپنے بچوں کو کن اسکولز میں بھیج رہے ہیں؟ ان چیزوں کا خیال کرنے کی ضرورت ہے۔
ابنِ کثیر کے لیے پروانۂ براءتِ جہنم
حافظ ابنِ کثیر کی جب وفات کا وقت آیا تو کسی نے دیکھا کہ ان کے سرہانے یعنی اُن کے پاس ایک پرچہ رکھا ہوا ہے۔ جب اسے اٹھایا اور کھول کر دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اس کو جہنم سے آزادی دے دی گئی ہے۔ لوگ اس بات پر بڑے حیران ہوئے۔ اُن کی بیوی سے پوچھا کہ یہ کیا عمل کرتے تھے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ ہر جمعہ ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس کی کوشش کریں۔ کیوںکہ صرف پندرہ بیس منٹ کی محنت سے اگر ہمیں خاتمہ بالخیر اور اچھی موت کی گارنٹی مل جائے تو یہ گھاٹے کا نہیں، بلکہ فائدے ہی فائدے کا سودا ہے۔
سورۂ کہف کی تلاوت
جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی برکتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس اُمت میںسب سے بڑا فتنہ دجال کا ہے۔ اور جو شخص سورۂ کہف کی تلاوت کرتا رہے وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔ اور سورۂ کہف کی شروع کی دس آیات کو یاد کرنا اور اپنے بچوں کو یاد کروانا، اور آخری دس آیتیں یاد کرنا اور کروانا بھی دجال کے فتنوں سے بچنے کا سبب ہے۔ اس کے علاوہ احادیثِ شریفہ میں مطلقاً جمعہ کے دن سورۂ کہف کی برکتیں اور رحمتیں ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری سےروایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھے گا، اس کے لیے دونوں جمعوں کے درمیان نور ہوگا۔

(مشکاۃ المصابیح : رقم 2175)
ایک اور جگہ حضرت ابوسعید خدری سے مروی ہے کہ جو شبِ جمعہ میں سورۂ کہف کی تلاوت کرے گا تو اس کے اور بیت اللہ کے درمیان میں نور ر وشن کر دیا جائے گا۔

(سنن دارمی: رقم 3407)
یعنی اس شخص کا بیت اللہ شریف سے ایک خاص تعلق قائم ہو جائے گا۔
تفسیر ابی السعود میں علامہ محمد بن محمد عمادی نے اسی سے ملتی جلتی ایک روایت نقل کی ہے: جس شخص نے سورۂ کہف کی آخری آیت
قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوْحٰىٓ اِلَيَّ اَنَّمَآ اِلٰہُكُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ج فَمَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا۝۱۱۰ (الکہف )
اپنے بستر پر پڑھی، اس کے بستر کے پاس ایک نور ہوگا جس کی روشنی مکہ مکرّمہ تک ہوگی، اور اس نور کے علاوہ فرشتے مسلسل اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے بستر سے اُٹھ جائے۔

(تفسیرِ ابی السعود: آیت 110)
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے روز سورۂ کہف کی تلاوت کرے گا تو اس کے پائوں سے لے کر آسمان تک ایک نور روشن ہو جائے گا جو قیامت کے دن اسے روشنی دے گا، اور اس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

(ترغیب و ترہیب: 298/1)
ایک سنداً ضعیف حدیث حضرت علی سے مروی ہے کہ جو شخص جمعہ کے روز سورہ کہف پڑھے گا وہ آٹھ دن تک فتنوں سے محفوظ رہے گا، اور اگر ان آٹھ دنوں میں دجال بھی آجائے گا تو وہ اس سے بھی بچا رہے گا۔ (در منثور: 475/9)
جمعہ کے روز ملاقاتیں کرنا
صحابۂ کرام کی ایک ترتیب یہ بھی تھی کہ جمعہ والے دن نمازِ جمعہ کے بعد اگر کوئی مریض ہوتا تو اس کی عیادت کرنے جاتے تھے۔ وہ حضرات جمعہ کو خوش ہوا کرتے تھے جس طرح ہم عید والے دن خوش ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ حسبِ ضرورت بازار سے چیزیں بھی خریدتے تھے۔ ایک صحابی کے بارے میں آتا ہے کہ وہ جمعہ کی نماز پڑھتے، پھر بازار میں جاتے، پھر واپس آکر عبادت میں لگ جاتے۔ کسی نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ فرمایا کہ میں نے نبی کریمﷺ کو دیکھا تھا کہ وہ جمعہ کی نماز کے بعد بازار تشریف لے جاتے تھے۔ پھر انہوں نے قرآن مجید کی ایک آیت بھی تلاوت فرمائی:
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ

(الجمعۃ: آیۃ 10)
جب اللہ ربّ العزّت کاروبار بند کرنے کے لیے فرماتے ہیں اور اس وقت آپ لوگوں نے اللہ کے حکم کو پورا کر دیا ہے، تو اب برکتیں مانگنے کا وقت آگیا ہے۔
حضرت عراک بن مالک جب جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور کہتے کہ اے اللہ! میں نے تیری دعوت کو قبول کیا، اور لبیک کہا، اور تیرے حکم کے مطابق مسجد آگیا، اور فرض نماز ادا کی۔ اے اللہ! میں نے تیرے فریضہ کو تیرے حکم کے مطابق پورا کر دیا۔ اب میں جاتا ہوں جیسے کہ تُونے پھیل جانے کا حکم دیا، تو اے اللہ! اب مجھے اپنی جانب سے بہترین رزق عطا فرما دیجیے۔ بے شک آپ ہی بہترین رزق عطا فرمانے والے ہیں۔

(تفسیرِ قرطبی: سورہ جمعہ آیت 10)
ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ رب العزت سے اسی طرح دعائیں مانگ مانگ کر اللہ کی رحمتوں کو کیش کروائیں۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اگرچہ یہ حکم وجوبی نہیں ، استحبابی ہے کہ جب نمازِ جمعہ ادا کرلی اب زمین میں پھیل جائو۔ کہیے کہ اللہ! اب میں کام پر، کاروبار پر جارہا ہوں۔ اے اللہ! مجھے اپنے فضل سے بہترین رزق عطا فرما۔ اے اللہ! تو ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔
بعض بزرگوں سے یہ بات منقول ہے کہ جو شخص جمعہ کی نماز کے بعد کاروبار کرتا ہے تو اللہ رب العزت اس کے لیے ستّر برکتیں نازل فرماتے ہیں۔ اگر ہم اللہ کے حکم کو پورا کر کے کاروبار کریں گے تو جس گاہک کو اللہ نے آپ کے لیے جمعہ سے پہلے بھیجنا تھا، وہی اللہ آپ کے پاس جمعہ کے بعد گاہک کو بھیج سکتے ہیں۔ اس لیے نمازِ جمعہ کے لیے بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply