122

جیسی زندگی ویسی موت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
اَللّٰہُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِہَاج فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْہَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰىٓ اِلٰىٓ اَجَلٍ مُّسَمًّىط اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۝۴۲
(الزمر: 42)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

انسانی زندگی
اپنے بندے کی تخلیق کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مِنْ اَىِّ شَيْءٍ خَلَقَہٗ۝۱۸ مِنْ نُّطْفَۃٍط خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ۝۱۹ۙ ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَہٗ۝۲۰ۙ ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ۝۲۱ۙ (عبس: 21-18)
پہلے یہ نطفہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے ٹھیک انداز سے قائم کیا۔ پھر اس کے دنیا میں آنے اور رہنے کے معاملے کو آسان کیا۔ پھر اس کے بعد اسے موت دی اور اس کی قبر بن گئی اور یہ قبر میں چلا گیا۔ یہی کُل زندگی ہے ہماری۔
جیسی زندگی ویسی موت
کہا جاتا ہے کہجیسی تم زندگی گزارو گے ویسی موت آئے گی۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کس ڈھب پر زندگی گزار رہے ہیں۔اگر ہم نیکی پر زندگی گزاریں گے تو اِن شاء اللہ تعالیٰ نیکی پر موت آئے گی، اچھی موت آئے گی، عافیت والی موت آئے گی۔ اور اگر ہم خدانخواستہ گناہوں والی زندگی گزاریں گے تو پھر موت بھی ویسی آئے گی، اور موت کی تکلیف بھی ہوگی۔ مسلم شریف میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:
يبعث كل عبد على ما مات عليه. (صحیح مسلم: رقم 2878)
یعنی جس حالت اور جس عمل پر انتقال ہوتا ہے اسی حالت پر قیامت کے دن اس کو اُٹھایا جائے گا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بندہ ساری زندگی ٹی وی دیکھتا رہے، اسکرین کے تماشے دیکھتا رہے اور سجدے میں موت آ جائے۔یہ مشکل بات ہے۔ہاں کوئی نصیب والا ہو تو الگ بات ہے۔ عام اُصول یہ نہیں ہے۔
چھکا لگا اور مر گئے
ایک واقعہ میں نے بہت دفعہ سنایا ہے۔ ایک صاحب کے پاس ان کے والد کی تعزیت کے لیے گیا۔ ان کے والد کا چند روز پہلے انتقال ہوا تھا۔ کہنے لگے کہ ابراہیم بھائی! میرے والد بالکل ٹھیک تھے، کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ بس کرکٹ میچ چل رہا تھا، کھلاڑی نے چھکا لگایا تو والد صاحب نے یوں دونوں ہاتھ اوپر کیے اور اوپر کے اوپر ہی چلے گئے۔ کیا موت آئی ہے!!نہ کلمہ، نہ کوئی خیر کی توفیق۔ فسق وفجور میں پڑے پڑے دنیا سے چلے گئے۔
ناگہانی اَموات
اسی طرح لوگ گاڑیوں کے اندر میوزک سنتے ہیں، کبھی بھی ایکسیڈنٹ ہو سکتا ہے۔ اللہ نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ حفاظت کرے۔ گاڑی میں میوزک چل رہا ہے، یا بس چل رہی ہے اور میوزک چل رہا ہے اسی میں اگر کوئی ایکسیڈنٹ یا کوئی حادثہ ہو گیا اور موت واقع ہو گئی تو گانا سنتے ہوئے گئے۔ تو اب اسی حالت میں اٹھایا جائے گا، اس بیہودہ حالت میں اُٹھیں گے۔ کون ایسی موت کو پسند کرے گا؟ یہ بڑی ناگہانی موت ہے جس میں آدمی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا۔ اور ایک وہ موت بھی ہوتی ہے، اللہ کے ایسے پیارے بندے بھی ہوتے ہیں جو احرام کی حالت میں ہوتے ہیں، لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کے ترانے پڑھتے جاتے ہیں اور حرمِ مکہ میں ان کا انتقال ہو جاتا ہے، اور بیتُ اللہ شریف میں اُن کی نمازِجنازہ بھی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اِحرام کی حالت میں اُٹھیں گے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا نماز کی حالت میں انتقال ہو جاتا ہے۔
اچھی اور بُری اُمید
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچھی اور بُری موت کیسے آتی ہے؟ دیکھیے!جیسی ہماری زندگی ہوتی ہے، ویسی ہماری موت ہوتی ہے۔ زندگی اِطاعت والی ہو تو اللہ تعالیٰ اِطاعت کی حالت میں بلا لیتے ہیں، اس کا وہ آخری عمل ایک حجت بن جاتا ہے۔ اور خدانخواستہ زندگی اگر معصیت والی ہو اور توبہ نہ کی ہو تو اسی حالت میں بسااوقات اُٹھا لیا جاتا ہے۔ کنز العمال کی روایت میں حضرت ابنِ عمروi سے منقول ہے کہ اگر کوئی اچھا عمل کرتا ہوا مر جائے تو اس کے لیے اچھی امید رکھو (نیکی کی زندگی گزار رہا تھا، دین پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، ظاہری زندگی اس کی اچھی تھی۔ اور آگے فرمایا کہ) اگر برا عمل کرتے ہوئے مرا ہے تو اس پر خوف کرو مگر نااُمید نہ ہونا۔ (کنز العمال: رقم 42779)
برائی کرنے والے کو نماز کی عادت کوئی نہیں تھی، شریعت کے احکامات کی پابندی کوئی نہیں تھی، اس حالت پہ اگر مرا ہے تو اس پر عذاب کا خوف ہوگا کہ ظاہری حالت اس کی اچھی نہیں ہے۔ ہاں! لیکن چوںکہ کلمے والا تھا، ایمان والا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت سے نااُمید نہ ہونا، کبھی نہ کبھی جہنم سے نکل کر آئے گا۔
اچھی اور بُری اُمید
بعض مرتبہ لوگ کہتے ہیں کہ یا اللہ! چلتے ہاتھوں پیر اُٹھا لینا کہ کوئی پریشانی نہ ہو، کوئی غم اور بیماری نہ آئے، ایسے ہی چلے جائیں، مزے مزے سے رہیں اور مزے مزے سے چلیں جائیں۔ بھائیو! موت سے پہلے جو بیماری آتی ہے ایک تو یہ کہ سنت ہے۔ نبیﷺ کو اس دنیا سے پردہ فرمانے سے پہلے بخار تھا۔ آخری وقت میں موت کی سختی کی تکلیف محسوس فرمائی تو قریب برتن میں پانی تھا، آپﷺ اس میں ہاتھ ڈالتے اور پھر اپنے چہرے مبارکہ پر پھیرتے۔ اور یہ دعا کرتے جاتے تھے:
اَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ -أو- سَکَرَاتِ الْمَوْتِ. (سنن الترمذي: رقم 978)
’’اے اللہ! موت کی سختی میں میری مدد فرما‘‘۔
اللہ کے نبیﷺ نے اس حالت میں بھی اپنی اُمت کو اللہ تعالیٰ سے مانگنا سکھا رہے ہیں کہ موت کی سختی میں کمی کی دعا کرو۔ اس طرح سے جو پاس بیٹھنے والے ہوں گے، وہ بھی دعائیں کریں گے کہ یا اللہ! اس کے ساتھ رحمت فرمائیے۔ جو بندہ موت سے کچھ عرصہ پہلے بیمار رہا، یہ بڑی نعمت ہے۔
اللہ والے کی حکایت
حضرت مولانا بشیر احمد شاہ جمالی حضرت مرشدِ عالم مولانا غلام حبیب کے خلیفہ مُجاز تھے۔ ملتان کے ایک ہسپتال میں ڈائیلاسز ہو رہے تھے۔ عیادت کے لیے حاضر ہوا۔ اسپتال میں ایک میں تھا اور دو یا تین اور لوگ تھے۔ان کی عیادت کی، سلام کیا، بہت کمزور اور نحیف البدن تھے۔ غالباً ستّر سے زیادہ عمر تھی۔ ہاتھ میں ہاتھ دیا اور اس کے بعد کچھ نصیحتیں کرنے لگے اور رونے لگے۔ روتے روتے کہنے لگے کہ زندگی بھر دوکانداری کرتے رہے، زندگی بھر لوگوں کو اپنی بڑائی کرتے رہے۔ اللہ کے لیے تو کچھ بھی نہ کیا۔ زندگی ایسے ہی گزار دی۔ حضرت کچھ اس قسم کی باتیں کر رہے تھے۔ کہنے لگے کہ اخلاص تو اسی حالت میں اور اسی وقت نصیب ہوتا ہے۔ وہ ایک عجیب بات سمجھا رہے تھے۔ انتقال کے بعد جب انہیں دفن کیا تو اُن کی قبر سے خوشبو آئی تھی الحمدللہ! بہرحال ایک عجیب نقطہ اس دن انہوں نے سمجھا دیا۔ وہ یہ کہ ایک عام آدمی ہو یا کوئی بیان کرنے والا عالم ہو یا کوئی صاحبِ سنت ہو یا کوئی عالمہ ہو یا دین کی سمجھ رکھنے والی کوئی طالبہ ہو۔ عام طور سے ان لوگوں کے لیے اخلاص سنبھالنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ بہت مشکل کام ہے۔ لیکن وہ عجیب نقطہ دے گئے۔کہنے لگے کہ ابراہیم بیٹا! اِخلاص اسی وقت نصیب ہوتا ہے۔ کیا مطلب؟ اب یہ تشریح تو میری اپنی ہے، اُن کی نہیں ہے۔میرا گمان یہ ہے کہ اخلاص نصیب ہونے سے اُن کی مراد یہ ہوگی اعضاء وجوارح کام کرنا چھوڑ دیں۔ محتاج ہو گئے کسی کے بغیر چل نہیں سکتے۔ اور صحت نہیں رہی۔ حالات نہیں رہے اور بیماری آ گئی۔ اور بیماری کے اندر جب انسان کمزور ہو کے ٹوٹتا ہے، اور پھر اس وقت سچی توبہ کرتا ہے کہ اے اللہ! مہربانی فرما کر اب تو معاف کر دے کہ اب پلٹ کر میں نے غلط کام نہیں کرنا۔ اب تو اے اللہ! کرم کر ہی دے۔
کامل توجہ الی اللہ کی ضرورت
جب بندہ بیمار ہو کر اللہ سے لَو لگاتا ہے اور تڑپتا ہے اور روتا ہے اور کوئی خیال کرنے والا بھی نہ ہو۔ سوچیے تو سہی کہ جب جسم کے مرکزی اعضا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہی جسم بستر پر پڑا ہوتا ہے۔ اس وقت اگر دس آدمی بھی موجود ہوں تو کیا کر لیں گے؟ یہی بات سمجھائی جا رہی ہے کہ موت سے چند مہینے، چند ہفتے پہلے کی بیماری اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ بیمار ہوگا تو تو جہ الی اللہ ہوگی۔ لیکن توجہ الی اللہ بھی اس کو ہوگی جس کو فکر ہوگی کہ مجھے مرنا ہے۔ میرے وقت کا حساب ہوگا، زندگی کا حساب ہوگا، مال کا حساب ہوگا، علم کا حساب ہوگا۔ الامان والحفیظ! آج تو مرتے وقت بھی، بیماری کی حالت میں بھی نہ جانے کیا کچھ آنکھیں گندی کر رہے ہوتے ہیں۔ ذہن کسی اور طرف متوجہ رکھتے ہیں۔ خیال یہ ہوتا ہے کہ اس طرح تکلیف نہیں ہوگی۔ بات پھر وہیں آئے گی کہ جیسی زندگی گزاریں گے ویسی موت آئے گی۔
موت سے غفلت کے واقعات
مریض کی عیادت کے سلسلے میں ہسپتالوں میں کئی مرتبہ جانا ہوا۔ ایک ہارٹ پیشنٹ کی عیادت کے لیے ہسپتال میں گیا۔ بستر کے ساتھ ہی ریڈیو پڑا ہوا تھا جس پر شاید کوئی میچ چل رہا تھا۔ ستّر سال سے اوپر کے بوڑھا کو بھی ایسے وقت میں کرکٹ کی پرواہ ہے، تو پھر اسے کلمہ کب یاد آئے گا۔ ابھی بھی کرکٹ کی پرواہ ہے اور خدا کی یاد نہیں۔
ایک اور ہارٹ پیشنٹ کی عیادت کے لیے والد صاحب کے ساتھ گیا۔ جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو اُن کے سامنے اسکرین پر گانے چل رہے تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی کہا کہ چلو جی! شریعت آنے لگی ہے، شریعت نافذ ہو جائے گی اس کو بند کر دو۔ بتائیے کہ کیا میرے لیے مرنا ہے؟ آئی سی یو کے کمرے میں تو صرف فاتحہ اورسورۂ یٰسٓ کی تلاوت ہونی چاہیے، آخرت کی یاد ہونی چاہیے۔ ایسے کمرے میں ناچ گانے اور ڈرامے، ٹی وی وغیرہ کا کیا کام؟ وہاں سے تو عموماً روز لاشیں نکلتی ہیں۔ وہاں یہ اسکرین کیوں لگی ہوئی ہے؟ بس بات یہی ہے کہ جیسی زندگی ہوگی ویسی موت ہوگی۔اب جس کی زندگی اسکرین کے تماشوں کے ساتھ گزاری ہے، موت کلمے والی نہیں آئے گی۔ یہی ناچ گانے دیکھتے ہوئے آئے گی۔ یہ آخرت کی یاد دلانے کے لیے کچھ حقائق ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اچھی موت عطا فرمائے۔ اور اس کی فکر عطا فرمائے۔اچھی فکر کے بغیر اچھی موت نہیں آئے گی۔ اس کے لیے ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔
حضرت عائشہ کی پریشانی
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ نبیﷺ تشریف لائے اس وقت کسی پر موت کی سختی تھی اور سانسیں گھٹ رہیں تھیں نبیﷺ نے جب یہ دیکھا کہ پریشانی کی حالت میں ہے تو مجھے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کی عائشہ پریشان اور مایوس نہ ہو یہ اس کے لئے بھلائی ہے یہ موت کی سختی گناہوں کا کفارہ بن جائے گی یا درجات کی بلندی کا ذریعہ بن جائے گی۔امی عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے اس طرح کی تکلیف سے اچھا نہیں لگتا تھا عجیب طرح سے پریشان ہو جاتی تھی کی پتہ نہیں اس کا کون سا عمل برا ہے کہنے لگیں کہ جب میں نے نبی ﷺ کو اس تکلیف میں دیکھا تو تب مجھے یقین ہو گیا کہ واقعتا یہ رحمت ہے اور کسی بد عملی کی وجہ سے نہیں ہوا کرتا یہ تو اللہ کی طرف سے رحمت کے فیصلے ہوا کرتے ہیں۔یہ بیمار ہو جانا یہ اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔
ایک حدیث میں ہے ایک کتاب ہء شمائل کبری اس میں یہ حدیث لکھی ہوئی ہے اور اس میں ریفرنس ہے مجموعہ(11:40) اور کشف الاسناد کا ہے۔حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے نبیﷺ نے ایک بدو دیہاتی آیا اس سے پوچھا کیا تمہیں بخار ہوتا ہے تو کہنے لگا کہ بخار کیا ہوتا ہے؟نبیﷺ نے فرمایا کہ انسان کا سارا گاشت سارا جسم گرم ہو جاتا ہے تو کہا مجھے تو نہیں ہوتا تو پوچھا کیا تمہیں سر کا درد ہوا کبھی تو کہنے لگا کہ یہ سر کا درد کیا ہوتا ہے؟نبیﷺ نے فرمایا کی سر کی رگوں میں پھٹن ہوتی ہے کہنے لگا مجھے یہ بھی کبھی نہیں ہوا اور جب وہ چلا گیا تو فرمایا کہ اہل دوزخ میں سے کسی کو دیکھنا ہو تو اس کو دیکھ لو۔یہ تکلیفیں یہ بیماریاں اللہ کے انعامات میں سے ہیں اللہ کے کرم میں سے ہیں۔جبیر بن مطعافؓ سے روایت ہے کہ اللہ پاک بندے کو بیماری میں مبتلا فرماتے ہیں تا کہ اس کے تمام گناہ دنیا ہی میں معاف ہو جائیں قبر میں جائے تو گناہوں سے پاک ہو کر جائے۔اللہ تعالی کتنی رحمت کا معاملہ فرما دیتے ہیں اور ایک حدیث میں بھی آتا ہے کہتے ہیں کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالی کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا نیکی کا خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کو استعمال کر دیتے ہیں۔پوچھا کہ استعمال سے کیا مراد؟تو نبیﷺ نے فرمایا کہ اس کے لئے موت سے کچھ عرصہ قبل نیک عمل کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ اس سے خوش ہو جاتے ہیں کہ گناہ کا راستہ چھوڑ دیا پہلے داڑھی نہیں تھی داڑھی رکھ لی نماز نہیں پڑھتا تھا اب نماز شروع کر دی مسجد نہیں جاتا تھا مسجد جانا شروع کر دیا لوگوں سے لڑتا بھڑتا رہتا تھا اب اخلاق سے پیش آنا شروع ہو گیا پہلے ہر جگہ بیچ میں گھس جاتا تھا اب کونے میں ہو گیا اللہ کی طرف متوجہ ہو گیا تہجد شروع کر دی۔یعنی موت سے کچھ عرصہ قبل کسی کی حالت اچھی ہو جائے تو یہ اللہ نے اس کے لئے خیر کے دروازے کھول دئیے۔یہ اللہ کی رحمت اور نعمت ہوا کرتی ہے اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں بعض دفعہ کسی کی دعا لگ جاتی ہے کچھ دیا کام آ جاتا ہے بعض دفعہ کوئی نیک صحبت مل جاتی ہے اور بعض دفعہ اپنے ہی ایسے دغا کر جاتے ہیں کہ سب چھوڑ دیتے ہیں پھر اس کو اللہ کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔نہ ظاہر میں کوئی نظر آتا ہے کہ سہارے چھوڑ کر چلے گئے میرا کوئی نہیں رہا پھر ایسے میں دل سے وہی بات نکلتی ہے میرا کوئی نہیں ہے اللہ تیرے سوا جب دل سے بات نکل جاتی ہے پھر مزے آ جاتے ہیں۔پھر زندگی آسان ہو جاتی ہے۔چناچہ اس حدیث مبارکہ سے ایک دو باتیں اور بھی ملیں وہ کہتے ہیں نہ کہ نوسو چوہے کھا کہ بلی حج کو چلی۔ارے نوسو کیا نو کڑوڑ کھا کے بھی چلے تو اچھی بات ہے آئی تو سہی نہ حج پہ۔کہتے ہیں کہ جی ساری زندگی گزار لی ایسے ہی اب آخری وقت میں کیا ٹھیک ہونا تو صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے اس کو بھولا نہیں کہتے تو ہم اچھی ہی حالت کا اعتبار رکھیں گے جس کی حالت موت کے وقت جتنی خوبصورت ہو گی اتنا ہی معاملہ آسان ہو جائے گا۔اور ایک حدیث میں اس طرح سے آتا ہے اماں عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ رب العزت کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کی موت سے ایک سال قبل ایک فرشتہ اس کے پاس بھیج دیتے ہیں جو اسے ٹھیک رکھتا ہے۔اعمال سالحہ کی رہنمائی کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت اچھی حالت پر ہو جاتی ہے ایک سال سے مراد صرف ایک سال ہی نہیں کچھ عرصہ پہلے بھی وہ چھ مہینے بھی ہو سکتے ہیں دو سال بھی ہو سکتے ہیں کوئی بھی وقت ہو سکتا ہے۔اللہ رب العزت اس کے لئے خیر کے راستے کھول دیتے ہیں۔تو آخری وقت کا اعتبار ہو گا کہ انجام کیسا ہوا اللہ رب العزت ہم سب کا خاتمہ ایمان پر عطا فرمائے موت کی سختی سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں تحفے والی موت عطا فرمائے اس کی تیاری کی توفیق عطافرمائے اور ہمیں موت کی یاد رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔جو اپنی موت کو یاد رکھے گا اس کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔اللہ تعالی ہم سب کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائے۔ایک بات اور یاد آ گئی دورانِ مراقبہ کہ میری والدہ کا انتقال 27جولائی 2003کو ہوا تھا 42یا 43ان کی عمر تھی تو انتقال سے ایک ڈیرھ دن پہلے میں ہسپتال میں تھا والدہ کے پاس میری بہن بھی تھی۔امی بستر پر تھیں کافی ساری چیزیں لگیں ہوئی تھیں۔یورین بیگ بھی لگا ہوا تھا شاید آکسیجن بھی لگی ہوئی تھی اور کنولا لگا ہوا تھا کئی مختلف قسم کی چیزیں لگی ہوئی تھیں۔یعنی چاروں طرف سے جیسے بندہ جکڑہ ہوتا ہے مختلف چیزوں میں وہ جکڑیں ہوئی تھیں۔اس وقت میں کھڑا ہوا تھا امی کے پاس تو دوپٹہ سر پر پورا نہیں تھا تھورا سا سرکا ہوا تھا اور باقی ہر چیز ایسی تھی کی انسان اپنی مرضی سے کروٹ بھی نہیں لے سکتا تھا اتنی ساری چیزیں لگی ہوئی تھیں تو اچانک کراچی سے شکیل چاچو اور چاچی آئیں چاچی میری خالہ بھی ہیں اور چاچی بھی ہیں تو وہ سیدھا اندر آ گئیں اچھا اب چاچو بھی بے احتیاطی میں کسی طرح ڈائریکٹ اندر آ گئے۔میں نے اس وقت اپنی والدہ کو دیکھا کہ جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ نامحرم آ رہا ہے میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر یہ بات بیان کر رہا ہوں کہ یہ ان کا عمل میں نے دیکھا ہے ان کے آخری اعمال میں سے یہ عمل تھا کہ جیسے ہی انہوں نے دیکھا کہ نامحرم اندر آگیا تو فوراًانہوں نے کوشش کی کہ اپنے کمزور ہاتھوں کو دوپٹے تک لے جانے کی کہ میں چہرہ ڈھکنے کی کوشش کر لوں اور دوپٹہ آگے لے آؤں وہ ایس اکر نہیں سکیں اپنی کمزوری کی وجہ سے لیکن یہ ایسا عمل ہے کہ جس وقت انسان پریشانی میں بیماری میں اسپتال میں پڑا ہے اور اس کی کتنی عجیب کیفیت ہوا کرتی ہے لیکن اس وقت بھی ایک دم دیکھا کہ کوئی نامحرم آ گیا تو فوری طور پر پردہ کرنے کی کوشش کی اب جس کا یہ عمل ہو گا وہ جنت میں کیوں نہیں ہو گا پھر اس کے بعد وینٹی لیٹربھی لگا اور وینٹی لیٹر لگنے کے پاس اللہ رب العزت نے اپنے پاس بلا لیا۔اللہ کے پاس چلی گئیں اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ جو وینٹی لیٹر کا زمانہ تھا وہ چھ سات نمازوں کا ٹائم ہو گا اور بالکل آخری آخری جو ٹائم تھا وہ چھ یا سات نمازوں کا ہم نے فدیہ ادا کیا اپنی طرف سے ورنہ وینٹی لیٹر پر جو بندہ چلا جاتا ہے تو میرے خیال میں نماز بھی اس پر ساقط ہو جاتی ہے کہ وہ ہوش میں تو ہوتا نہیں جو ہوش میں نہیں وہ نماز کا مکلف نہ رہا۔ساری زندگی نماز قضاء نہیں کی۔کوئی نماز کا فدیہ نہیں دینا پڑا کہ چھ مہینے کہ نمازیں قضاء ہیں یا چھ سال کی نمازیں قضاء ہیں وہ پانچ سات یا آٹھ نمازیں تھیں اس وقت یاد تھا اب تو یاد نہیں پر جو بھی کچھ تھا وہ تھوڑا بہت دے دیا تھا کہ چلو ایک ایسی عورت کہ جس نے زندگی میں کوئی نماز قضاء نہیں کی اس کی پانچ چھ وینٹی لیٹر والی ہی سہی چلو فدیہ ادا کر دیتے ہیں۔اپنی طرف سے اللہ کے سامنے عاجزانہ عمل کر لیتے ہیں۔اب ایک بات اور یاد آگئی کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت امی سے ملاقات ہوئی ابراہیم رات کو نماز پڑھی تھی عشاء کی؟میں چپ ایک زمانہ گزرا ایسا جاہلیت کا ابھی بھی جاہلیت کے زمانے میں ہیں مگر وہ زیادہ جاہلیت کا تھا تو اس میں بس ماں باپ کو دکھانے کے لئے پڑھنی ہوتی تھی۔میں چپ جواب ہی کوئی نہیں۔امی نے کہا میری دعا ہے کی تجھے رات کو کبھی نیند ہی نہ آیا کرے جب تک تو نمازیں پوری نہ کر لیا کرے پھر کہنے لگیں مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تمہیں نیند کیسے آ جاتی ہے بغیر نماز پڑھے۔اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں