105

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی تھی؟

سوال۔۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ ہوئی تھی یا نہیں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی تھی؟ براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں کیونکہ آج کل یہ مسئلہ ہمارے درمیان کافی بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔

الجواب حامدا ومصلیا
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ جنازہ عام دستور کے مطابق جماعت کے ساتھ نہیں ہوئی، اور نہ اس میں کوئی امام بنا، ابنِ اسحاق وغیرہ اہلِ سِیَر نے نقل کیا ہے کہ تجہیز و تکفین کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ مبارک حجرہٴ شریف میں رکھا گیا، پہلے مردوں نے گروہ در گروہ نماز پڑھی، پھر عورتوں نے، پھر بچوں نے، حکیم الاُمت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة اللہ علیہ نشر الطیب میں لکھتے ہیں:

“اور ابنِ ماجہ میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جبآپ کا جنازہ تیار کرکے رکھا گیا تو اوّل مردوں نے گروہ در گروہ ہوکر نماز پڑھی، پھر عورتیں آئیں، پھر بچے آئے، اور اس نماز میں کوئی امام نہیں ہوا۔”

(نشر الطیب ص:۲۴۴ مطبوعہ تاج کمپنی)

علامہ سہیلی “الروض الانف” (ج:۲ ص:۳۷۷ مطبوعہ ملتان) میں لکھتے ہیں:

“یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی، اور ایسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم ہی سے ہوسکتا تھا، ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وصیت فرمائی تھی۔”

علامہ سہیلی نے یہ روایت طبرانی اور بزار کے حوالے سے، حافظ نورالدین ہیثمی نے مجمع الزوائد (ج:۹ ص:۲۵) میں بزار اور طبرانی کے حوالے سے اور حضرت تھانوی نے نشر الطیب میں واحدی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:

“ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر نماز کون پڑھے گا؟ فرمایا: جب غسل کفن سے فارغ ہوں، میرا جنازہ قبر کے قریب رکھ کر ہٹ جانا، اوّل ملائکہ نماز پڑھیں گے، پھر تم گروہ در گروہ آتے جانا اور نماز پڑھتے جانا، اوّل اہلِ بیت کے مرد نماز پڑھیں، پھر ان کی عورتیں، پھر تم لوگ۔”

سیرة المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں طبقات ابنِ سعد کے حوالے سے حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گروہ کے ساتھ نماز پڑھنا نقل کیا ہے۔۔۔
ناقلہ۔۔۔۔🌹✒محمد یامین امنہ اللہ
دارالافتاء۔۔۔۔✅📚جامعہ دارالعلوم نواب شاہ بالمقابل اسپورٹس اسٹیڈیم قاضی احمد روڈ نواب شاہ سندہ پاکستان🇵🇰
//03002098408
//

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں