حضور کا عام لوگوں کے ساتھ برتائو

حضور کا عام لوگوں کے ساتھ برتائو


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قال اللّٰه تعالى: وَاِنَّکَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍo (القلم: 4)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ o
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

آئیڈیل شخصیت
انسان عمومی طور پر لوگوں میں رہنا ہی پسند کرتا ہے۔ تنہا رہنا اس کے بس میں نہیں۔ خواہ کتنی ہی نعمتیں اسے کیوں نہ مل جائیں۔ انسان اکیلے یہ سارا وقت گزار ہی نہیں سکتا۔ اور دوسروں کے ساتھ اچھا وقت گزارنے کے لیے انسان کو اچھے اخلاق کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ محبت کے ساتھ وقت کو گزارا جائے۔ جن لوگوں کی زندگی کا مقصد اللہ کو راضی کرنا ہے ان لوگوں کے لیے بےحد آسانیاں ہیں۔ جس کی زندگی کا مقصد اللہ کو راضی کرنا ہے تو پھر اسے لوگوں کی تکلیفوں کو برداشت بھی کرنا ہوگا، اور اپنے اخلاق کو عمدہ سے عمدہ کرنا ہوگا۔ اور اس کے لیے لامحالہ ایک آئیڈیل شخصیت کی ضرورت ہوگی جس کے اخلاق کو دیکھ کر ہم اپنے اخلاق کو سنواریں۔ اور ہمارے پاس ایسی آئیڈیل شخصیت صرف اور صرف حضور پاک کی مبارک ذات ہے۔
نبی کریم کی تعلیمات اور آپ کے انداز بہت ہی خوبصورت ہیں۔ نبی کریم کی زندگی کا ہر شعبہ ہی بہترین ہے، بلکہ جس کام کو حضور پاک نے جس طریقے سے کیا اس کام کو اس سے بہتر طریقے سے کرنے کا انداز ممکن ہی نہیں ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے اپنے محبوب کو ہر وہ ادا عطا فرمائی جو بہترین اور قابل تھی۔ اگر کوئی اس سے بہتر ادا ہوتی تو نبی کریم کو ملتی۔ گویا اس سے بہتر کوئی ادا نہیں ہے جسے حضور پاکﷺ نے اختیار فرمایا۔ اگر ہم حضورﷺ کی مبارک زندگی کو اپنے زندگی میں لے آئیں تو زندگی میں آسانیاں ہی آسانیاں پیدا ہوتی چلی جائیں۔ ہمیں پریشانی کہاں ہوتی ہے؟ جب ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور نبی کریم کے راستے کو چھوڑ کر رسم و رواج والی زندگی پر چلتے ہیں تو جگہ جگہ پر رکاوٹیں آتی ہیں۔
تنظیمِ وقت
حضرت علی المرتضٰی سے روایت ہے کہ حضور پاک جب گھر تشریف لاتے تو اپنے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم فرما لیا کرتے تھے:
ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے یعنی عبادت، تہجد، استغفار، ذکر اور دعا کے لیے۔
دوسرا حصہ اپنی ازواجِ مطہراتl کے لیے ۔
تیسرا حصہ عام لوگوں کے لیے۔ (شمائلِ ترمذی: رقم 324)
نبی کریمa کی ایک ترتیب یہ سامنے آئی کہ آپa اپنے اوقات کو تقسیم فرمایا کرتے تھے۔ اگر ہم سب اپنے کام ٹائم ٹیبل بنا کر (Time management) کے ساتھ کریں تو آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔
ایک عمومی شکایت
ہمارے ہاں بنات کے مدرسہ میں الحمدللہ! بڑی تعداد میں طالبات پڑھنے آتی ہیں۔ بعض دفعہ یہ شکایت کرتی ہیں کہ ہمارے کام پورے نہیں ہوپاتے۔ گھر کے کام، بچوں کے کام، پھر سسرال کی ذمہ داریاں، اور پھر اوپر سے پڑھائی کا بوجھ تو ایک مصیبت لگنے لگتا ہے۔ اسی طرح اور کئی لوگوں کی شکایت ہوتی ہے کہ جی! ذمہ داریاں بہت ہیں، وقت نہیں ملتا۔ اب یہ بات سمجھانے کے لیے کوئی General Formula نہیں ہوسکتا۔ شادی شدہ لوگوں کے لیے معاملہ الگ، غیر شادی شدہ کے لیے الگ، ہر ایک کے گھر کی نوعیت الگ ہے۔ پھر گھروں میں مزاج اور رویوں میں بھی فرق ہے۔ اس لیے کوئی ایک فارمولا ساروں کو نہیں دیا جاسکتا۔ جو جنرل باتیں ہیں وہ آج کی مجلس میں بیان کی جارہی ہیں۔ اس لیے توجہ اور دھیان دینے کی بہت ضرورت ہے۔
تین اہم باتیں
پہلی بات یہ کہ دین کو حاصل کرنے کے لیے قربانی دی جاتی ہے، بغیر قربانی کے دین نہیں آتا۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہم اپنے اوقات کو تقسیم کریں، ٹائم ٹیبل بنائیں اور ہر چیز جتنی اہم ہے اس کو اس کے حساب سے رکھیں۔ اِن شاء اللہ آسانی ہوگی۔
تیسری بات یہ کہ ایک ڈائری بنائیں اور اپنے کاموں کو اس ڈائری پہ لکھنا شروع کریں۔ اس سے بھی اِن شاء اللہ بہت زیادہ آسانی ہوگی۔ ہر لکھے ہوئے کام کو کرنا آسان ہو جائے گا۔ ٹائم کو مینج کرنا (ترتیب دینا) انتہائی ضروری ہے۔
گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا
نبی کریم کی مبارک عادت یہ تھی کہ اپنے گھر میں جب بھی داخل ہوتے تو گھر والوں کو سلام کرتے تھے۔
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے اور کھانے کے وقت بھی اللہ کا نام لیتا ہے تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے کہ نہ اس گھر میں تمہارے لیے رات گزارنے کی جگہ ہے، اور نہ (تمہیں) کھانا (ملے گا)۔
یعنی جب انسان اپنے گھر میں داخل ہو تو داخل ہوتے وقت کی دعا پڑھ لے:
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلَجِ ، وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ ، بِسْمِ اللّٰهِ وَلَجْنَا، وَبِسْمِ اللّٰهِ خَرَجْنَا، وَعَلَى اللّٰهِ رَبِّنَا تَوَكَّلْنَا. (سنن أبي داود: رقم 5096)
اور جب کھانا کھائے تو کھانا کھانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کا نام لے:
بِسْمِ اللہِ وَبَرَکَۃِ اللہِ. (المستدرك على الصحيحين: باب إذا أكل أحدكم طعامًا …)
ان اعمال کے کرنے سے شیطان مایوس ہو جاتا ہے اور اپنے چیلوں سے کہتا ہے کہ اس گھر میں تمہارے لیے آج کی رات نہ قیام کی جگہ ہے، اور نہ طعام کی جگہ۔
حدیث جابر میں آگے یہ ہے کہ اور جب کوئی انسان گھر میں داخل ہوتا ہے اور اللہ کو یاد نہیں کرتا تو شیطان (اپنے چیلوں سے) کہتا ہے کہ تمہیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی، اور جب وہ کھانا کھانے کے وقت (بھی) اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان (خوش ہوکر) کہتا ہے کہ یہاں تو تمہارے لیے رات گزارنے کی جگہ بھی ہے اور کھانا بھی۔
(صحیح مسلم: باب آداب الطعام والشراب وأحکامھما)
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے شیطان کمزور پڑجاتا ہے، اور بھاگ جاتا ہے۔ اس لیے ہم اپنے زندگی میں ذکر اللہ کو لے آئیں۔ جب گھر میں داخل ہوں سلام کریں، مسکراتے ہوئے اور دعا پڑھتے ہوئے داخل ہوں۔ کھانا کھانے لگیں تو کھانا کھاتے وقت کی دعا پڑھیں، بسم اللہ پڑھیں۔ اس طریقے سے ان شاء اللہ آسانیاں ہوںگی۔
آنحضرتﷺ کی مجلس
گھر کی سنت کو بیان کرنے کے بعد اُن احادیث کو بیان کرتے ہیں جن سے اندازہ ہو جائے گا کہ ہمیں کسی مجلس میں کیا کرنا چاہیے؟
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس 100 سے زیادہ مرتبہ بیٹھا ہوں گا۔ آپ کے رفقاء یعنی ہم لوگ آپﷺ کی مجلس میں اَشعار پڑھتے اور بعض مرتبہ جاہلیت کے زمانہ کی باتیں بھی کرلیتے اور آپ مسکراتے رہتے تھے۔ یعنی صحابۂ کرام کی رعایت رکھتے تھے، اُن سے یہ نہیں کہتے تھے کہ بھئی! کیا تم یہ قصے شروع کر دیتے ہو، یہ کون سی باتیں شروع کر دی ہیں، میں تو اللہ کا نبی ہوں اور تم میرے سامنے دنیا کی باتیں کرتے ہو۔ ایسا آپﷺ کی مجلس میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ نبی کریم صحابۂ کرام کو قریب کرنے کے لیے، محبت دینے کے لیے ان کو بہت Relax رکھا کرتے تھے۔ ہاں! گناہ کی بات کوئی نہیں ہوتی تھی، غیبت کسی کی نہیں ہوتی تھی، بُرائی کسی کی نہیں ہوتی تھی، بُرائی کی طرف تلقین نہیں ہوتی تھی۔ جائز اور اچھی باتیں نبی کریم کی مجلس میں ہوتی تھیں۔
حضرت سَمَّاک بن حرب نے حضرت جابر سے پوچھا کہ آپ حضور پاک کی خدمت میں بیٹھتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، حضور پاک طویل خاموش رہتے تھے، تھوڑا ہنستے تھے (آپﷺ کا ہنسنا عام ہنسنا نہیں تھا، فقط مسکراہٹ ہوتی تھی) بعض مرتبہ صحابہ کرام اشعار پڑھتے اور زمانہ جاہلیت کی باتیں دہرا کر ہنستے تو نبی کریمa بھی اُن کے ساتھ مسکرا تے۔ (مسندِ احمد: رقم 2262)
یہ نبی کریم کی عادتِ مبارکہ تھی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مجالس کو پاکیزہ رکھیں، گناہوں سے پاک رکھیں اور ماحول کے مطابق بات کو چلانے کی کوشش کریں بس گناہ نہ ہو۔
درسگاہ میں بیٹھنے والوں کے لیے ضابطہ
تاہم اس سے کوئی طالبہ یا معلمہ یہ نہ سمجھے کہ مدرسہ کے اندر عام باتوں کی اجازت ہے۔ قطعاً اجازت نہیں، بالکل اجازت نہیں۔ جب دین کا کوئی طالب مدرسہ میں داخل ہو گیا تو وہ اللہ کے لیے آیا ہے، اللہ کا دین حاصل کرنے کے لیے آیا ہے، لہٰذا کلاس روم کے اندر پڑھائی کے علاوہ کی کوئی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی کرتا ہے تو بہرحال یہ ہمارے لیے تکلیف کا ذریعہ ہے۔ کلاس روم میں بسSubject سے متعلق بات ہو، جو تعلیم سے متعلق ہے وہ ہو۔ اس کے علاوہ غیرضروری باتیں کلاس روم میں نہ ہوں۔ اسی وجہ سے مدرسہ کے منتظمین نے ٹائم بھی اسی طرح سے رکھا ہے کہ Subject کے اوپر Subject ۔ پوری ترتیب ایسی بنائی ہے کہ غیرضروری باتوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اس کے بہت فائدے ہیں، ہر ایک کا وقت قیمتی بنتا ہے، لایعنی سے حفاظت رہتی ہے، نصاب وقت پر مکمل ہو جاتا ہے۔
سفارش کرنی چاہیے؟
نبی کریمa اپنے اصحاب کا بہت خیال کیا کرتے تھے، کوئی سفارش کے لیے آتا اور چاہتا کہ آپ میری سفارش کر دیں تو نبی کریم اس کے لیے دوسرے سے سفارش کردیا کرتے تھے۔ حضرت معاذ بن جبل بہت خوبصورت اور خوب سیرت نوجوان تھے۔ کوئی سوال کرتا تو اسے واپس نہ کرتے یہاں تک کہ لوگوں سے قرضہ لے کر بھی ضرورت مندوں کا خیال کرتے تھے۔ انہوں نے آپ سے گفتگو کی کہ آپ میرے قرض خواہوں سے میری سفارش کر دیں، میرے پاس ابھی مال نہیں ہے۔ وہ تھوڑا سا مجھے مزید وقت دے دیں۔ نبی کریم نے حضرت معاذ بن جبل کے لیے ان لوگوں سے بات کی جن کا قرضہ حضرت معاذ نے دینا تھا۔ یقیناً یہی کہا ہوگا کہ بھئی! ذرا سی نرمی، ذرا سا وقت دے دو۔
تو کسی ضرورت مند کی سفارش کرنا سنت عمل ہے۔ ہر سفارش گناہ نہیں ہوتی ہے۔ عام طور پر لوگ مطلقاً یہ سمجھ لیتے ہیں کہ سفارش ہے ہی گناہ۔ ہر سفارش گناہ نہیں۔ ضرورت مند کے لیے سفارش کرنا کہ اس کو مدرسے میں داخلہ دے دیں، اس کا خیال کر لیں، اس کا سال بچ جائے، یا کچھ اور مختلف اعتبار سے کسی نیک کام کی سفارش کرنا عبادت ہے اور سنت ہے۔
دو اہم باتیں
اس میں ایک اس بات کا خیال رکھا جائے کہ وہ سفارش نیکی کے جذبے سے ہو، اس پر معاوضہ یا اُجرت یا ہدیہ نہ طلب کیا جائے، اور نہ دل میں اس کی طمع رکھا جائے۔
دوسری بات یہ کہ سفارش، سفارش کے درجہ میں ہو، اصرار یا ضد نہ ہو کہ ایسا بالکل کیا جائے۔ اور اگر سامنے والا اپنی کسی شرعی یا قانونی مجبوری کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے تو اس سے ناراض نہ ہوا جائے۔ اور نہ اگلے کسی وقت اس کی ضرورت کے موقع پر اس کے ساتھ بے رُخی اختیار کی جائے۔
سفارش کرنے کی فضیلت
حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت ہے کہ نبی کریم کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپﷺ سے جب کسی حاجت کے متعلق سوال کیا جاتا تو آپﷺ صحابۂ کرام سے فرماتے: سفارش کرو، ثواب پائو گے، اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان (مبارک) پر جو چاہتے ہیں فیصلہ فرما دیتے ہیں۔ (صحیح بخاری: رقم 1432)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: سفارش کرو، ثواب پاؤ گے۔ بعض مرتبہ میں کسی کام کو دیر سے کرتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو اور اس کا ثواب پائو۔ (سنن ابی داؤد: رقم 5132)
ممکن ہے کہ کسی حاجت مند کی حاجت کو نبی کریم دیکھ لیتے لیکن تھوڑا انتظار فرماتے کہ کوئی ساتھی نبی کریم سے اس کی سفارش کرے تاکہ نبی کریم نے اس کا جو خیال کرنا ہے وہ تو کرنا ہی کرنا ہے، مگر دوسرے کو اس کا ثواب مل جائے۔
ساتھیوں کے ساتھ خدمت میں شراکت
نبی کریم کی عادتِ شریفہ یہ تھی کہ لوگوں کے ساتھ کام کاج میں خود شریک ہوتے، صرفOrder کر کے Side پہ نہیں ہو جاتے تھے، بلکہ جہاں تک ممکن ہوتا آپ شریک ہوتے۔ ایک مرتبہ نبی کریم صحابۂ کرام کے ساتھ سفر میں تھے۔ نبی کریم نے ایک بکری کے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ چناںچہ ساتھیوں میں سے ایک نے کہا کہ میں ذبح کروں گا اےاللہ کے رسول! دوسرے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں کھال اُتار لوں گا۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں کھانا پکا لوں گا۔ نبی کریم نے فرمایا: اچھا! یہ جو کام ہے بکری کو ذبح کرنا، کھال اُتارنا، گوشت بنانا، پھر پکانا، سارے کام آپ کر لیں۔ اور میرے ذمہ یہ ہے کہ میں قریب جنگل کی طرف جائوں گا اور لکڑیاں جمع کر کے آئوں گا اور آپ کو دوں گا۔ اس پر صحابۂ کرام نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! ہم بہت ہیں آپ کے کام کے لیے، آپ فکر نہ کریں۔ نبی کریم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ آپ لوگ بھی کافی ہیں، مگر مجھے یہ پسند نہیں کہ میں امتیازی شان کو نمایاں کروں۔ (خلاصۃ سیر سیّد البشر: ص 87، لا یعرف لہ إسناد)
یہاں بہت اہمیت کی بات بیان فرمائی: اللہ تعالیٰ کو وہ بندہ پسند نہیں جو اپنے ساتھیوں کے درمیان امتیازی شان کو اختیار کرے کہ جی! میں کچھ ہوں۔ ایسا بندہ اللہ کو پسند نہیں ہے۔ اسی لیے سب نے مل جل کر کام کرنا ہے۔ اب اسی حدیث کے اندر دو باتیں انتہائی اہم ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ جب نبی کریم نے فرمایا کہ بکری کو ذبح کرنے کا ارادہ ہے تو ساتھیوں نے خود آگے بڑھ بڑھ کر اپنے آپ کو پیش کیا کہ جی میں یہ کام کروں گا، میں یہ کام کروں گا، میں یہ کام کروں گا۔ جب ساتھیوں نے پیش کیا تو نبی کریم نے فرمایا: میں بھی فلاں کام کروں گا۔ اب اگر کسی معلم یا معلمہ کو مدرسہ کا منتظم، یا ذمہ دار کسی کام کا کہتا ہے کہ چاہیے کہ ہم خود اپنے آپ کو پیش کریں، پیچھے نہ رہیں۔ یہ پیچھے رہنے والے واقعی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ جو اپنے آپ کو خدمت کے لیے آگے پیش کرتے ہیں ان کے لیے دل سے جو دعائیں نکلتی ہیں وہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے نکل ہی نہیں سکتیں۔ پھر خدمت لینے والا یا نہ لے، یہ الگ بات ہے۔ بہرحال ہم خدمت کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں۔ یہ ہماری ڈیوٹی بنتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ منتظم یا ذمہ دار وہ خالی ایسے ہی نہ بیٹھے کہ جی ٹھیک ہے، سب نے کام لے لیا ہے۔ ایسے کام نہیں ہوتا۔ اوپر والا بندہ اور نیچے والے اس کے ساتھی مل جل کر کام کرتے ہیں تو اسی کو کہتے ہیں ٹیم ورک۔ اور ٹیم ورک سنت بھی ہے اور ٹیم ورک سے انسان کو عزتیں بھی ملتی ہیں۔ آج ہر کوئی اپنی کمپنی میں، اپنے ادارے میں یہ چاہتا ہے کہ یہاںOne man show نہ ہو، یہاںTeam work ہو۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کا شوق ہو، جذبہ ہو، ایک دوسرے کا خیال ہو، فکر ہو، اور یہ سب چیزیں سنت سے ملتی ہیں۔ ہم جہاں کہیں بھی ادارے میں ہوں، اس بات کا بہت زیادہ خیال کریں کہ سب لوگ مل کر آپس میں کام کریں۔ ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ اس سے بڑوں کا دل خوش ہوتا ہے اور دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔
ساتھیوں کی رعایت کرنا
حضرت خارجہ بن زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ حضرت زید بن ثابت کے پاس آئے اور عرض کیا کہ حضور اکرم کے اخلاقِ حمیدہ ہمارے سامنے بیان کیجیے۔ حضرت زید نے فرمایا کہ میں تمہیں کیا بتاؤں؟ میں تو نبی کریم کا پڑوسی تھا، جب وحی نازل ہوتی تو نبی کریم مجھے بلاتے، چناںچہ میں آتا اور وحی لکھتا۔ اور جب ہم مجلس میں بیٹھے ہوتے اور مجلس میں صحابۂ کرام دنیا کا کوئی تذکرہ کرنے لگتے تونبی کریم ہمارے ساتھ دنیا ہی کا تذکرہ کرتے، اور جب ہم آخرت کا تذکرہ کرتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ آخرت کا تذکرہ فرماتے۔ اور جب ہم کھانے پینے کی چیزوں کا تذکرہ کرتے تو آپ بھی کھانے پینے کی چیزوں ہی کا تذکرہ فرمانے لگتے۔ (شمائلِ ترمذی: رقم 333)
اپنے ساتھیوں کی رعایت کرنا بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ اور ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھ کر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ ٹیم ورک ہوتا ہی تب ہے جب انسان ایک دوسرے کے مزاج کی رعایت کرے، اس کے علاوہ میں ٹیم ورک ہو نہیں سکتا۔ اکیلے بس جو میری سوچ ہے، جو میرا خیال ہے، جو میرا مزاج ہے سب اس کے مطابق چلیں، یہ ٹیم ورک نہیں ہوگا۔ یہ تو جب تک وہ شخص زندہ ہے بس سب لوگ اس کی مانتے رہیں گے، جیسے ہی وہ دنیا سے گیا یا اس کا اثر کمزور ہوا بس کام ختم۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا، محبت کے ساتھ اور حالات کو دیکھتے ہوئے چلنا یہ ایک مؤمن کی شان ہوتی ہے۔ حضور پاک اپنے اصحاب کی ضرورت کا خیال کرتے تھے۔
حضرت مالک بن حُوَیْرَث کی روایت کا مفہوم ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور پاک بڑے ہی رحم دل اور مہربان تھے۔ ایک مرتبہ ہم لوگ اپنے قبیلے کے ساتھ نبی کریم کی خدمت میں دین سیکھنے کے لیے آئے۔ ہمیں بیس دن ہوگئے۔ حضور کو خیال ہوا کہ شاید ہمیں اپنے گھر جانے کا کوئی شوق پیدا ہو گیا ہے۔ لہٰذا نبی کریمa نے ہم سے دریافت کیا کہ کیا تم اپنے پیچھے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو چھوڑ آئے ہو؟ ہم نے پوری تفصیل بتا دی۔ جب ساری بات ہم نے عرض کر دی تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا: اب اپنے گھروں میں واپس چلے جائو، اور مستقل طور پر وہیں رہو، اور انہیں دین سکھاؤ، اور بھلائی کا حکم دو۔ (صحیح بخاری: رقم 6819، صحیح مسلم: رقم 674، باب من أحق بالامامۃ)
نبی کریمa خود سے پہچان لیا کرتے تھے کہ کسی کی کوئی ضرورت تو نہیں۔ اللہ کرے کہ آج ہمیں بھی یہ چیز مل جائے کہ ہم اپنے ساتھیوں کا خیال کرنے لگ جائیں کہ بھئی فلاں کی کوئی ضرورت تو نہیں؟ اگر ضرورت محسوس کرے تو انسان کو چاہیے کہ دوسرے سے پوچھ لے اور دوسرے کو چاہیے کہ بلاتکلف بتا دے۔ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا ہے، ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا بھی کرنا ہے، ساتھ لے کر بھی چلنا ہے۔ جن کو اللہ ربّ العزّت نے مال عطا کیا ہو، یا کوئی مقام عطا کیا ہو انہیں چاہیے کہ وہ ساتھیوں کی ضروریات کو پوچھتے رہیں اور ساتھیوں کو بھی چاہیے کہ جتنی ضرورت ہو اتنی ہی بتائیں اس سے زیادہ نہ بتائیں، نہیں تو پریشانی ہوتی ہے۔ جب آپس میں تعلقات اچھے ہوتے ہیں تو بعض مرتبہ کسی کے گھر میں بن بلائے چلے جانا بھی بڑی نعمت ہوتی ہے اور لوگوں کو خوشی ہوتی ہے۔ اور الحمدللہ! سنت بھی ہے، اور مجھے اس کا ذاتی تجربہ بھی بہت مرتبہ ہے۔
نبی کریمﷺ کا اہلِ تعلق کے گھر جانا
حضرت عبداللہ بن بُسر فرماتے ہیں کہ حضور اقدسa ہمارے گھر تشریف لائے تو میری والدہ نے آپﷺ کے لیے ایک عمدہ چادر بچھائی۔ آپﷺ اس پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر اللہ کے نبیﷺ کی خدمت میں کھجوریں پیش گئیں۔ آپﷺ کھجوریں نوش فرماتے اور گٹھلی شہادت کی اور درمیان والی انگلی سے باہر نکال کر رکھ دیتے۔ پھر پینے کے لیے پانی پیش کیا گیا جو آپﷺ نے پی لیا اور جو باقی بچا تو اپنے دائیں جانب والے کو دے دیا۔ پھر میری والدہ نے اللہ کے نبیﷺ سے عرض کی کہ آپ ہمارے لیے دعا فرمائیں۔ چناںچہ اللہ کے نبیﷺ نے یہ دعا فرمائی:
اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيْمَا رَزَقْتَهُمْ ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ. (أسد الغابۃ: رقم 2455)
اس لیے اپنے قریبی تعلق والے کے ہاں جانا اور وہاں جا کر کھانا کھانے میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ آپس کے تعلقات کو دیکھا جاتا ہے، جس کا اچھا ہونا ضروری ہے۔ عمومی طور پر تو بِن بلائے جانا منع ہے۔ کسی کے گھر بِن بلائے نہ جائے، ایسا کرنا غلط ہے۔ لیکن کہیں تعلق ایسا قریبی ہو اور آپ کو یقین ہو کہ وہ آپ کے بِن بلائے پہنچ جانے پر خوش ہوگا، اور اسے دل کے اندر راحت ہو گی، اس کو خوشی ہوگی، وہ اچھا محسوس کرے گا کہ آپ نے اسے اپنا سمجھا۔ اگر کہیں واقعی ایسا کوئی تعلق ہو وہاں بِن بلائے چلے جانا میں کوئی قباحت نہیں۔ شرعی اُمور مثلاً پردے وغیرہ کا خیال رکھتے ہوئے جا سکتے ہیں۔ لیکن کوئی ایسی جگہ ہو جہاں جاتے ہوئے اگلے کے دل میں یہ ہو کہ لو مصیبت آگئی، اب منع نہیں کرسکتے وغیرہ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اب بظاہر تو وہ کہتے ہیں کہ جی جی ماشاءاللہ آپ آئے ہیں یا آئی ہیں، اور اندر دل میں یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی ہی آنا تھا؟ معلوم ہوا کہ جہاں محسوس کیا جاتا ہو، وہاں بِن بلائے نہ جانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اتباعِ سنت کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply