47

حضور کا عام لوگوں کے ساتھ برتاؤ حصہ دوم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
قال اللّٰه تعالٰى: وَاِنَّکَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍo (القلم: 4)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

نبی کریمﷺ کے اخلاقِ کریمہ:
حضور پاکﷺ جب کسی سے بات چیت کرتے تو کبھی اس کی بات کو درمیان میں نہ کاٹتے تاقتیکہ وہ حد سے تجاوز نہ کر جاتا۔ درمیان میں بات کاٹنے کو قطع کلامی کہتے ہیں۔ نبی کریم کی عادتِ مبارکہ ایسی نہ تھی۔ بلکہ آپ اگلے کی بات کو توجہ سے سنتے، ہاں! اگر وہ حد سے تجاوز کرنے لگ جاتا اور کوئی غیرمناسب رویہ ہونے لگتا تب نبی یا تو اس کو منع فرما دیتے یا اُٹھ کر چلے جاتے تھے۔ (الشفاء للقاضی عیاض)
یہاں سے دو نکتے کی باتیں ہمیں ملتی ہیں:
قطع کلامی سے بچیے:
(۱) ہم دوسرے کی بات کو پورا سنیں، درمیان میں قطع کلامی نہ کریں۔ قطع کلامی اس صورت میں کوئی انسان کر سکتا ہے جب بات کرنے والا حد سے تجاوز کر جائے۔ بہت ہی آگے بڑھ جائے جیسا کہ نبی کریم منع فرما دیتے تھے یا وہاں سے اُٹھ کر تشریف لے جاتے تھے۔ اس سے سامنے والے کو اندازہ ہو جاتا کہ میری بات کچھ زیادہ ہوگئی۔ یہ اخلاق سیکھنے، سمجھنے اور مشق (پریکٹس) کرنے سے آتے ہیں، اور اخلاق والوں کے ساتھ بیٹھنے سے آتے ہیں۔
ساتھیوں کی خبرگیری:
(۲) نبی کریمa کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ اپنے صحابہ کی ضروریات کو پوچھتے رہتے تھے۔ اگر آپﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے اور کوئی ضرورت مند آکر پاس بیٹھ جاتا تو آپﷺ محسوس فرما لیتے اور نماز کو مختصر کر کے اس کی ضرورت دریافت فرماتے، اور اسے حل فرما کر دوبارہ نماز میں مشغول ہوجاتے۔ (الشفاء)
حضرت جابر کے والد حضرت عبداللہ غزوۂ اُحد میں شہید ہو گئے۔ ان کی نو بیٹیاں اور ایک بیٹے حضرت جابر تھے۔ نبی کریم نے خود محسوس فرمایا کہ حضرت عبداللہ کے گھر والوں کو ابھی ضرورت ہوگی۔ چناںچہ آپﷺ نے حضرت جابر سے فرمایا: اے جابر! اگر میرے پاس بحرین سے مال آئے گا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنا مال دے دوں گا۔ ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن ہوا یہ کہ نبی کریم دنیا سے پردہ فرما گئے اور وہ مال آپﷺ کی حیات میں نہ آیا۔ جب صدیق اکبر خلیفہ بنے تو بحرین سے مال آیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھئی! جس کے ساتھ نبی کریم کا کوئی وعدہ ہو، لین دین ہو تو وہ آکر مجھ سے لے لے۔ حضرت جابر حضرت ابوبکرصدیق کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا تھا۔ حضرت ابوبکرصدیق نے مٹھی بھر کر ان کو وہ مال عطا فرما دیا۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے گنا تو وہ پانچ سو (دینار یا درہم) تھے۔ حضرت ابوبکر فرمایا کہ اس کا دُگنا تم لے لو۔ (صحیح بخاری: رقم 2174)
یہ انبیائے کرام کی شان تھی کہ وہ اپنے ساتھیوں کی ضروریات کو پوچھتے رہتے اور اس کو پورا کرنے کی فکر میں رہتے تھے۔
رسول اللہﷺ کا صحابہ کا اِکرام:
نبی کریم کی ایک عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ آپﷺ صحابہ کرام کے ساتھ مل کر اور بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ ایسابھی ہوتا کہ مہمان کثرت سے آجاتے، جنابِ رسول اللہﷺ اُن سب کو کھانا کھلانے کا حکم فرماتے اور خود بھوک برداشت فرماتے تھے۔ صحابہ کرام میں انصار کی ایک جماعت ایسی تھی جو خدمت کے لیے ہروقت چاق وچوبند رہتی۔ وہ نبی کریمﷺ کے لیے کھانا بھیجتے تھے، لیکن کوئی مہمان کوئی فقیر کوئی مانگنے والا اور کوئی ساتھی آجاتا تو نبی کریم ایثار کردیا کرتے تھے۔ دوسروں کو کھلا دیا کرتے اور خود بھوک برداشت کر لیا کرتے تھے۔
نبی کریمﷺ کا ملاقات کے لیے جانا:
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ دعوت کے موقع پر نبی کریم صحابہ کے گھروں پر بھی جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک انصاری گھرانے نے آپﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپﷺ کو دعوت دی۔ آپﷺ نے ان کے یہاں کھانا کھایا اور پھر فرمایا کہ آؤ! میں تمہیں نماز پڑھاتا ہوں۔ چناںچہ گھر والوں نے چٹائی بچھائی، جائے نماز بھی کہہ سکتے ہیں۔ نبی کریمa نے اس پر نماز پڑھی، گھر والوں نے بھی آپﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپﷺ نے انہیں دو رکعت نماز (نفل) پڑھائی اور پھر واپس تشریف لے گئے۔ (صحیح بخاری: باب الصلاۃ علی الحصیر)
دو رکعت نفل نماز کی جماعت کا مسئلہ علمائے کرام سے معلوم کرنا چاہیے۔ یہاں ہم کسی فقہی مسئلے پر بات نہیں کر رہے ہیں۔
بعض مرتبہ گھر والے خود درخواست کرتے کہ اے اللہ کے نبی! آپ ہمارے گھر کے فلاں حصے میں نماز پڑھیں تاکہ ہم اس جگہ کو (گھر والوں کے لیے) نماز کی جگہ کی بنائیں، وہاں عبادت کیا کریں۔ (سنن نسائی: رقم 737)
بات صرف اتنی ہے کہ اللہ کے نبیﷺ دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول فرماتے، اور اُن کے لیے برکت کی دعا فرماتے، اور کبھی برکت کے لیے اُن کے گھر میں نفل نماز بھی ادا فرماتے۔ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے عزیز و اقارب کے گھر جانا اور اس بات کا خیال رکھنا کہ بےپردگی نہ ہو، گناہ نہ ہو، ایک بہت خوبصورت چیز ہے۔
نبی کریمﷺ کی بچوں سے محبت:
آپa بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتے، سلام کرتے، محبت کرتے تھے۔ حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد رسول اللہﷺ گھر جانے لگے تو سامنے سے کئی بچے آپﷺ سے ملنے کے لیے آئے۔ آپﷺ (شفقت سے) اُن میں سے ایک ایک کے گال پر ہاتھ پھیرتے جارہے تھے۔ میرے گال پر بھی رسول اللہﷺ نے ہاتھ پھیرا، آپﷺ کے ہاتھ مبارک کی ٹھنڈک اور خوشبو محسوس کی گویا کہ عطر کی شیشی سے ہاتھ نکال کر پھیرا ہو۔ (صحیح مسلم: رقم 2329)
حضرت عبداللہ بن جعفر چھوٹے تھے، اور رشتے میں آپﷺ کے بھتیجے تھے۔ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا اور مجھے سے ایک راز کی بات کی۔ میں وہ راز کی بات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ (صحیح مسلم: رقم 522)
آپﷺ کا ساتھیوں کی خبرگیری کرنا:
ایک اور بہت پیاری عادت نبی کریم کی یہ تھی کہ نبی کریم کے ملنے والوں میں سے جو روزانہ آنے والا ہوتا اور تین دن تک نہ آتا تو آپ اس کے متعلق پوچھتے، دریافت فرماتے کہ وہ کدھر ہے؟ کیا بات پیش آئی؟ معلوم ہوتا کہ وہ سفر پر گیا ہوا ہے۔ تو نبی کریم اس کے لیے دعا فرماتے کہ اےاللہ! اس کے لیے سفر میں خیر فرما۔ اور اگر معلوم ہوتا کہ وہ مدینہ طیبہ ہی میں ہے اور نہ آنے کی وجہ نہیں پتا تو نبی کریم خود چل کر اُس کے پاس تشریف لےجاتے، ملاقات فرماتے۔ اگر کسی کے بارے میں معلوم ہوتا کہ بیمار ہے تو مزاج پُرسی کے لیے چلے جاتے، عیادت فرماتے، اور اپنے ساتھ چند صحابہj کو بھی لے جاتے۔ (مجمع الزوائد: رقم 3761)
حضراتِ صحابہ کرام کا بھی یہی معاملہ تھا۔ ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ کوئی نظر نہ آتا تو اس کی فکر کرتے تھے۔ یہ تعلق کی بات ہے۔ روز کا آنے والا مسجد میں جب وہ کسی وجہ سے نہ آیا، ناغہ ہو گیا تو آپ اور صحابہ کرام اس کی فکر کرتے، اس کی طرف جاتے، اور اگر کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرتے تھے۔ آج ہمارے یہاں افسوس کی بات ہے کہ مسجد میں، مدرسے میں، تعلیم کے حلقوں میں اگر کوئی 15 دن بھی نہ آئے (الا ما شاء اللہ) تو کوئی پوچھنے نہیں آئے گا، مہینہ نہ آئے کوئی پوچھنے نہ آئے گا کہ ہاں بھئی! خیر ہے آپ آئے نہیں؟ صحابۂ کرام کا یہ معاملہ نہ تھا۔
آج اگر ایک دن دوکان بند رہ گئی، پھر ہر طرف سے فون آئیں گے کہ بھئی! خیر تو ہے آج دوکان بند ہے؟ کوئی مسئلہ کی بات تو نہیں؟ عبادت کے لیے کوئی نہ آئے، کوئی خانقاہ سالہا سال نہ آئے، مدرسہ کوئی برسہا برس نہ آئے، کبھی فکر نہیں کریں گے۔ ہمیں کسی کے دین کی فکر نہیں، نماز کی فکر نہیں۔ بعض مرتبہ تو ایسا میرے ساتھ بھی ہوا کہ سفر میں تھا تو دوکان دیر سے کھلی، فون آنے شروع ہو گئے کہ کیا بات ہے؟ 2 بج گئے دوکان نہیں کھلی۔ ہمارا معاملہ تو ایسا ہو گیا ہے۔ خیر! بات یہ چل رہی تھی کہ نبی کریم اپنے تعلق والوں کی خیر خبر رکھا کرتے تھے۔
نبی کریمﷺ کی صحابۂ کرام سے بے تکلفی:
نبی کریم حضراتِ صحابۂ کرام سے بے تکلفی کا معاملہ برتتے تھے۔ آپﷺ کی حیاتِ طیبہ پُرتکلف نہ تھی۔ ایک واقعہ لکھا ہے کہ حضرت ابو الہیثم انصاری جو بہت بڑے باغ والے تھے۔ اُن کے پاس بکریاں بھی بہت تھیں اور پاس کوئی خادم نہیں تھا۔ نبی کریم، حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اُن کے گھر تشریف لے گئے۔ نبی کریم نے دیکھا کہ یہاں ابو الہیثم نہیں ہیں تو گھر والوں سے پوچھا کہ ابو الہیثم کہاں ہیں؟ بتایا گیا کہ وہ تو میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ اتنے میں ابوالہیثمبھی پانی کا مشکیزہ لے کر آگئے، تو دیکھا کہ نبی کریم اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہلے سے موجود ہیں۔ مل کر انتہائی خوشی ہوئے، اور اپنے ماں باپ کو آپ پر فدا کرنے لگے (انتہائی عزّت دینے کو کہتے ہیں)۔ پھر ان حضرات کو اپنے باغیچہ میں لے گئے، اور ان کے لیے چٹائی بچھائی اور کھجور کے باغ سے ایک خوشہ کھجور کا لے کر آئے۔ نبی کریم نے (محبت سے) فرمایا: پکی ہوئی کھجوریں لے آتے پورا ہی خوشہ لے آئے ہو، اس میں کچی کھجوریں بھی ہیں اور پکی بھی۔ کہنے لگے کہ اےاللہ کے رسول! میں نے یہ ارادہ کیا کہ جو آپ کو پسند ہوں وہ آپ لیں۔ سب لوگوں نے کھایا، اور پانی پیا۔ اس کے بعد نبی کریم نے فرمایا:
هذا والَّذي نفْسي بيَدِه مِن النَّعيمِ الَّذي تُسْأَلونَ عنه يومَ القيامةِ؛ ظِلٌّ باردٌ، ورُطَبٌ طيِّبٌ، وماءٌ بارِدٌ. (سنن الترمذي: رقم 2369)
خدا کی قسم! یہی وہ نعمت ہے جس کے متعلق تم سے قیامت کے دن پوچھا جائے گا، ٹھنڈا سایہ، تازہ کھجور اور ٹھنڈا پانی۔ یعنی سائے میں بیٹھ کر پانی پینا، کھجوریں کھانا، یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ قیامت کے دن اس کے بارے میں سوال ہوگا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں شکر کی توفیق عطا فرمائے۔
شرح زرقانی میں یہ بھی ہے کہ نبی کریمﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: جب تم کھانے لگو تو بسم اللہ کہو، اور جب تم کھا چکو تو ان کلمات سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو، یہ تمہارے لیے کافی ہوگا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ هُوَ أَشْبَعَنَا، وَأَنْعَمَ عَلَيْنَا وَأَفْضَلَ.
(شرح الزرقاني: باب الطعام والشراب)
ساتھیوں سے دل صاف رکھنا:
نبی کریمa اپنے صحابہ کرام سے شدید محبت فرماتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریم فرمایا کرتے تھے:
لا يُبَلِّغُنِي أحدٌ من أصحابي عن أحدٍ شيئًا، فإنِّي أحبُّ أن أخرج إليكم وأنا سَلِيم الصَّدر. (سنن أبي داود: رقم 4860، سنن الترمذي: رقم 3896)
ترجمہ: ’’تم میں سے کوئی میرے پاس میرے صحابہ سے متعلق بُری بات نہ لائے، کیوںکہ میں چاہتا ہوں کہ جب میں تم لوگوں کے سامنے آئوں تو میرا سینہ (تم لوگوں کی طرف سے) صاف ہو‘‘۔
ابو داؤد شریف کی شرح ’’عون المعبود‘‘ میں علامہ شمس الحق عظیم آبادی نے اور سنن ترمذی کی شرح ’’تحفۃ الاحوذی‘‘ میں علامہ مبارکپوری نے ابن الملک سے نقل کیا ہے کہ آپﷺ کی خواہش اور چاہت یہ تھی کہ جب دنیا سے رخصت ہوں تو ہر صحابی کی طرف سے اُن کا دل صاف ہو، کسی سے ناراضگی کا معاملہ نہ ہو۔
یہ بہت اہم ترین بات ہے کہ ہم ساتھیوں کی شکایت اپنے بڑوں سے نہ لگائیں۔ ورنہ تو اُن کے دلوں میں اپنے کام کرنے والوں کے لیے کدورت پیدا ہو جائے گی جو ساتھیوں کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ تعلیمی معاملہ ہو، یا دنیاداری کا بات کو سمجھیں اور سمجھانے کی کوشش کریں اگر کچھ غلط نظر آرہا ہے۔ کسی کی بات کو دل میں لے کر بیٹھ جانا اور پھر اس کے متعلق بلا وجہ تکلیف دہ باتیں نقل کرنے سے دنیا و آخرت کا نقصان ہے۔ اور بسااوقات مقتدا حضرات اس پر اعتماد کر لیتے ہیں، پھر بدگمانیاں اور خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے مدرسے میں ایک پابندی یہ ہے کہ کلاس کے اندر اس مضمون کے علاوہ کسی کے متعلق کوئی بات نہ ہو۔ جب بات ہی نہ ہوگی تو خرابیاں بھی نہ ہوگی۔ جو اُصول وضوابط ہیں ان پر عمل کرتے چلے جائیں، ان شاء اللہ کسی کو کسی سے شکایت پیدا نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضامندی نصیب فرمائے، اپنی محبت عطا فرمائے اور ہمیں اپنے لیے خالص فرما دے۔ جب تک سانس میں سانس ہے، جسم میں جان ہے اللہ ربّ العزّت دین کی محنت کی، اور دین کو سمجھ کر عمل کرنے کی اور آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آمین یاربّ العالمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں