11

حُسنِ اخلاق پر جنت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍo (القلم: 4)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

صحابۂ کرام کا سوال
حضرت اُسامہ بن شَرِیک فرماتے ہیں کہ ہم نبی کے پاس ایسے بیٹھے تھے گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (انتہائی ادب سے بیٹھنا)، کوئی بھی ہم میں سے بات نہیں کر رہا تھا کہ ایک جماعت آئی اور انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اللہ کے بندوں میں سے اللہ کے نزدیک محبوب ترین بندہ کون ہے؟ نبی نے ارشاد فرمایا: جو اخلاق کے اعتبار سے بہترین ہے۔ (الترغیب للمنذری: 259/3)
اللہ ربّ العزّت کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے۔ لہٰذا جو بندہ اللہ کے بندوں سے محبت کرے گا، اخلاق سے پیش آئے گا وہ یقیناً محبوبِ خدا ہوگا۔ اگر ہم اس بات کی طرف دھیان دیں تو یہ کسی کے دل میں اترنے کا کتنا آسان فارمولہ ہے کہ اپنے بہترین رویے سے سامنے والا کا دل جیت لیں۔
محبوبِ رسول اللہﷺ
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: تم میں سب سے زیادہ محبوب مجھے وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے سب سے زیادہ بہتر ہے، جو دوسروں کے لیے(بچھی ہوئی چادر کی طرح) بچھے ہوتے ہیں، لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور لوگ اِن سے محبت کرتے ہیں۔ (معجم اوسط: رقم 7697)
ظاہر سی بات ہے کہ جس چیز سے اللہ ربّ العزّت کو محبت ہوگی، اسی چیز سے اللہ کے رسولﷺ کو بھی محبت ہوگی۔ اور رسولِ خداﷺ کی مقبولیت دارین کی مقبولیت کی علامت ہے۔ یعنی جس کو اچھے اخلاق مل گئے وہ سمجھ لے کہ اللہ ربّ العزّت نے مجھے دنیا اور آخرت کی برکتیں عطافرما دیں۔ ایک حدیث ذرا دل کے کانوں سے سنیں!
جنت اور جہنم میں لے جانے والے اعمال
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی سے پوچھا گیا کہ جنت میں اکثر داخلہ کن اعمال کی وجہ سے ہوگا؟ (کن باتوں کی وجہ سے لوگ زیادہ جنت میں جائیں گے تو نبی نے دو باتیں ارشاد فرمائیں) فرمایا: ’’تقویٰ اور حُسنِ اخلاق‘‘۔ اس کے بعد ایک بڑا عجیب سوال پوچھا گیا۔ پوچھا: اے اللہ کے رسول! جہنم میں لوگ کس وجہ سے زیادہ جائیں گے؟ نبی نے ارشاد فرمایا: زبان اور شرم گاہ کی وجہ سے۔
(ترمذی: 21/2)
اگر غور کیا جائے تو تقویٰ بھی ہمارے پاس نہیں ہے اور اخلاق بھی نہیں۔ جنت میں لے جانے والے اعمال میں سے ہمارے پاس کیا ہے؟ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ تو الگ سے ضروری ہیں، لیکن اچھے اخلاق کا ہونا بے حد ضروری ہے۔
زبان سے ہونے والے گناہ
اسی طرح زبان کے مسئلہ میں ہم غور کریں جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ دو وجوہات کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے: ایک زبان کی وجہ سے، دوسرا شرم گاہ کی وجہ سے۔ غور کریں گے تو پتا چلے گا کہ زبان کے معاملے میں اکثر لوگ غیر محتاط ہیں۔ زبان کی بے احتیاطی ہمارے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ جھوٹ ہم زبان سے بولتے ہیں۔ غیبت ہم زبان سے کرتے ہیں۔ لوگوں کو تنگ ہم زبان سے کرتے ہیں۔ وعدہ خلافی زبان سے کرتے ہیں۔ مذاق اُڑانا زبان سے کرتے ہیں۔ بداخلاقی زبان سے کرتے ہیں۔ لوگوں کا دل توڑنا زبان سے کرتے ہیں۔ لوگوں کی بے عزتی زبان سے کرتے ہیں۔ لوگوں پر الزام زبان سےلگاتے ہیں۔ ناحق کسی کو حکم کرنا، اللہ کے احکام کے خلاف کسی بات کا کہنا یہ ہم زبان سے کرتے ہیں۔ لوگوں کو نا اُمید ہم زبان سے کرتے ہیں۔ دکھاوے کی گفتگو ہم زبان سے کرتے ہیں۔ بُرائی کا حکم زبان سے دیتے ہیں۔ بعض مرتبہ نیکی سے روک دیتے ہیں۔
آپ کہیں گے کہ ہم تو نیکی سے نہیں روکتے، لیکن اگر آپ کی بہن آپ کی بیٹی کوئی فرد یہ کہے کہ مجھے شرعی پردہ کرنا ہے، میں نے اپنے کزن کے سامنے نہیں آنا، میں نے شادی شریعت کے مطابق کرنی ہے، میں نے Mix gathering میں نہیں جانا، میں نے ڈھول میوزک وغیرہ کی طرف نہیں جانا، تو ہم میں سے ہی اکثر ہوتے ہیں جو اُن کے دشمن بن جاتے ہیں۔ نیکی سے روکنے والے بن جاتے ہیں۔ اور زبان ہی کو استعمال کرتے ہیں، بڑی بڑی Logics دیتے ہیں۔
پھر لوگوں کی دل آزاری کرنا، جھوٹی گواہی دینا، بھڑکیں مارنا اور افواہیں پھیلانا۔ مسلمان کے دل کو تکلیف پہنچانا۔ اور بعض دفعہ تو کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو فحش گوئی کرتے ہیں۔ موبائل فون پر غلط اور غلیظ گفتگو کرتے ہیں۔ اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جس میں اکثر لوگ مبتلا ہیں، وہ ہے سخت کلامی۔ ایسے کلام کرتے ہیں کہ اگلے کا دل ٹوٹ ہی جاتا ہے۔ پھر زبان سے ہم نکتہ چینی کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم لوگوں کے نام اُلٹے سیدھے پکارتے ہیں، ان کی کوئی چھیڑ رکھ لیتے ہیں۔ ایسے نام سے پکارتے ہیں جو اچھا نہ ہو۔ اور زبان سے ہی ہم چاپلوسی کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم خوشامد کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم چغل خوری کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم بے جا واویلا کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم حسد کا اظہار کرتے ہیں، بخل کا اظہار کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم بہانہ کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم مکاری والی گفتگو کرتے ہیں۔ زبان ہی سے ہم لوگوں کے راز فاش کر دیتے ہیں۔ اور اپنی ہی زبان سے بغیر تحقیق کیے خبروں کو آگے پہنچاتے ہیں۔ اور زبان ہی سے لوگوں کو بدنام کرتے ہیں۔ اتنے گناہ ہیں جو ہم میں سے اکثر لوگ کرتے ہیں۔
حدیثِ پاک کو دوبارہ سنیں اور دل کے کانوں سے سنیں۔ ترمذی شریف میں بھی ہے اور دیگر احادیث کی کتابوں میں بھی ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی سے پوچھا گیا کہ جنت میں داخلہ کن اعمال کی وجہ سے ہوگا؟ زیادہ لوگ کس وجہ سے جنت میں جائیں گے؟ آقا نے فرمایا: تقویٰ اور حُسنِ اخلاق کی وجہ سے۔ پھر پوچھا گیا کہ جہنم میں لوگ زیادہ کس وجہ سے جائیں گے؟ نبی نے ارشاد فرمایا: زبان اور شرم گاہ کی وجہ سے۔ (ترمذی: 21/2)
یعنی زبان کا استعمال ٹھیک نہیں ہوگا اور شرم گاہ کا استعمال ٹھیک نہیں ہوگا تو اس وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے آمین۔
منجانب اللہ بہترین نعمت
اللہ ربّ العزّت کو اچھے اخلاق پسند ہیں اور بُرے اخلاق بالکل ناپسند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت ہی اَحسن ہے اور تمام اَوصافِ جمیلہ کے مالک اللہ ربّ العزّت ہیں، اس لیے اللہ ربّ العزّت اپنے بندوں کی بھی اچھی صفات کو پسند فرماتے ہیں۔ اُمت کو سب سے بہتر چیز کیا دی گئی ہے؟
حضرت اُسامہ بن شَرِیک فرماتے ہیں کہ نبی سے پوچھا گیا کہ لوگوں کو سب سے بہتر کیا دیا گیا ہے؟ نبیd نے فرمایا کہ لوگوں کو حسنِ اخلاق سے بہتر کوئی چیز نہیں  دی گئی۔ (الترغیب للمنذری: 2652)
یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام عطا کردہ تمام نعمتوں میں سے سب سے بہتر نعمت حسنِ اخلاق ہے۔
خوش فہمی کا مرض
ایک اور حدیث دل کے کانوں سے سُنیں۔ اگر سینوں میں دل ہے تو یقیناً فائدہ ہوگا، اور اگر سینوں میں سِل ہے تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ! مؤمن آدمی کو سب سے زیادہ بہترین چیز کیا دی گئی؟ نبی نے اِرشاد فرمایا: اخلاقِ حسنہ۔ (یہ سب سے بہترین نعمت دی گئی ہے) پھر پوچھا گیا کہ سب سے بدترین چیز کیا دی گئی ہے؟ نبی نے فرمایا: دل تو سیاہ ہو، لیکن شکل اچھی ہو (کہ اپنے آپ کو دیکھے تو خوش ہوجائے)۔ (بیہقی فی الشعب: 235/6)
دل سیاہ، کالا ہو اور صورت اچھی ہو، اپنے آپ کو دیکھے تو خوش ہوجائے۔ اپنے آپ کو دیکھنے کا کیا مطلب؟ آج کے زمانے کے لحاظ سے موبائل فون میں دیکھے، اپنے آپ کو تصویر میں دیکھے، اپنے آپ سے خوش ہوجائے، Selfy بنائے تو خوش ہوجائے کہ میں بہت اچھا لگ رہا ہوں یا اچھی لگ رہی ہوں۔ لیکن اگر دل سیاہ ہے تو یہ اللہ ربّ العزّت کے ہاں کسی قیمت کا نہیں۔ اللہ ربّ العزّت ہمیں ایسی بات سے محفوظ فرمائے کہ دل ہمارا سیاہ ہواور چہرہ ہمارا خوبصورت ہو آمین۔
نیک سیرت کی ضرورت ہے
اصل چیز تو نیک اعمال ہیں۔ اس کے لیے اپنے دل کو بنانے کی ضرورت ہے، دل پہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ یقین کیجیے! سیرت اگر اچھی ہو تو یہ صورت کے اوپر ترقی کر جاتی ہے۔ اگر کسی کی خوبصورتی اتنی نہیں تو اسے چاہیے کہ اپنی سیرت کو بنالے۔ سیرت اگر بُری ہو تو صورت کو کیا کریں؟ آنکھوں میں کیا جچے گا جو دل سے اُتر گیا۔ لوگوں کے دل میں جگہ بنانے کے لیے سیرت کو بنانا پڑتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ بدترین چیز یہ ہے کہ قلب سیاہ، لیکن صورت اچھی ہو۔ ہر قسم کا میک اَپ کرکے، ہر قسم کے اچھے کپڑے پہن کر اپنے آپ کو خوبصورت ظاہر میں تو بنالیتے ہیں لیکن اپنے دل پر محنت نہیں کرپاتے۔
گناہوں کا زائل ہونا
ایک حدیث میں آتا ہے حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: حُسنِ اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتا ہے جس طرح سورج اَولے کو پگھلا دیتا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی: 247/6)
برف کا چھوٹا سا ٹکڑا اگر گرمی میں رکھا ہو، دوپہر کے وقت سورج کے سامنے اس کی کیا حیثیت ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ چند ہی لمحوں میں وہ پگھل جائے گا، ختم ہوجائے گا۔ فرمایا کہ انسان کے اگر کچھ گناہ اس کے اعمال نامے میں ہیں، لیکن وہ اخلاق کا اچھا ہے۔ اعلیٰ اخلاق سورج کی گرمی کی طرح گناہ کو پگھلا کر رکھ دے گا۔ جس طرح سورج اَولے کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے، اسی طرح یہ حُسنِ اخلاق گناہوں کو پگھلا دیتا ہے۔ صحابۂ کرام کا مزاج یہ تھا کہ ہم نیکی اور تقویٰ میں آگے سے آگے بڑھیں، جبکہ ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں خوبصورتی میں آگے ہو جاؤں، کپڑوں میں بازی لے جاؤں۔
مادّیات میں دوڑ
ایک خاتون کہنے لگی کہ جب ہم برتھ ڈے پارٹی میں شرکت کرتے ہیں، یا کسی بھی پارٹی میں تو جو بڑا گفٹ دیتا ہے اس کی عزت زیادہ ہوتی ہے۔ میرے پاس وسائل اور مال کم ہے تو چھوٹا گفٹ دیتی ہوں، بس میری وہاں قیمت کوئی نہیں ہوتی۔ لوگ مجھے اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ہم سبقت کس میں لینا چاہتے ہیں؟ مادّی چیزوں میں۔ برتھ ڈے منانا نبی کریمﷺ کا شیوہ نہیں تھا۔ اسلام نے تو اس کی کوئی ترغیب نہیں دی۔ کچھ بھی بتایا نہیں گیا کہ یہ منانا ہے، بلکہ بتلایا گیا کہ یہ غیروں کا کام ہے۔ بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کی چیزوں میں ترقی ہو، گاڑی ہماری اچھی ہو، گھر ہمارا اچھا ہو، زیور ہمارا اچھا ہو، کپڑے ہمارے اچھے ہوں۔ ہمارے پاس اتنی گنجایش ہو کہ سب سے بَڑھیا چیز دینا چاہیں تو دے سکیں تاکہ ہمارا نام ہو۔ اور حضراتِ صحابہ کی کیا ترتیب تھی؟ صحابۂ کرام اللہ کے ہاں بڑا مقام پانا چاہتے تھے، اس لیے نیکیاں کرنا چاہتے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہے، یہاں رہنا نہیں ہے، یہ دھوکے کا گھر ہے، کوئی یہاں باقی نہ رہا ہم بھی باقی نہیں رہیں گے۔ جب ہم سے پہلے والے چلے گئے تو ہم کیسے رہ سکتے ہیں، ہم نے بھی جانا ہے۔
صحابۂ کرام کا جذبہ
کچھ صحابۂ کرام غریب تھے۔ نبی\ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے پاس مال نہیں ہے، غربت ہے، بس اپنی گذر بسر کرلیتے ہیں۔ نماز ہم پڑھ لیتے ہیں، روزہ ہم رکھ لیتے ہیں۔ وہ اعمال ہم کرلیتے ہیں جو بدنی ہیں، لیکن اے اللہ کے نبی! کچھ ہمارے ساتھی ایسے ہیں کہ ان کے پاس مال بہت ہے۔ جو نیکیاں ہم کرتے ہیں وہ نیکیاں وہ بھی کرلیتے ہیں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں، ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں، ہم تہجد پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں۔ سارے کام تو وہ کرلیتے ہیں، لیکن مال زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ صدقہ بھی کرتے ہیں، خیرات بھی کرتے ہیں، غریبوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ وہ آپ کو بھی مال دیتے ہیں کہ آپﷺ لوگوں کی مدد کریں۔ اپنے رشتے داروں کی بھی مدد کرتے ہیں، ہمارے پاس تو مال نہیں ہے۔ چناںچہ آپ ہمیں کوئی ایسا عمل، کوئی ایسا گُر بتا دیں کہ ہم اس عمل کو کرلیا کریں تو ہم اُن سے آگے بڑھ جائیں، ہم پیچھے نہ رہیں۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ ہر نماز کے بعد 33مرتبہ سبحان اللہ، 33مرتبہ الحمدللہ، اور 34مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لیا کرو، اللہ بڑے بڑے درجات عطا فرمادیں گے۔
صحابۂ کرام یہ کرنا شروع کردیا۔ اب نماز کے بعد جو غریب صحابہ پوچھنے گئے تھے، انہوں نے پڑھنا شروع کر دیا۔ جو دوسرے صحابہ تھے جن کے پاس مال تھا، آخر وہ بھی تو اللہ کے محبوب بننا چاہتے تھے۔ انہوں نے غور کیا کہ آخر بات کیا ہے؟ یہ کیا پڑھتے ہیں؟ اب یہ اُن کی ٹوہ میں لگ گئے۔ آخر معلوم کرلیا کہ یہ لوگ تو نبی سے بلندیٔ درجات کا ایک اعلیٰ نسخہ لے کر آئے ہیں، اس پر عمل کررہے ہیں تاکہ قیامت کے دن آگے بڑھ جائیں، نیکیوں میں آگے بڑھ جائیں۔ ان کو جیسے ہی پتا لگا تو انہوں نے بھی عمل کرنا شروع کر دیا۔ غرباء صحابہ بڑے پریشان ہوئے کہ یہ تو ہماری چیز تھی، ہم اپنے لیے لے کر آئے تھے کہ ہم بڑے درجات لے لیں۔ یہ تو یہاں بھی ہمارے ساتھ شریک ہوگئے، اب کیا کریں؟ یہ پھر نبی کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے جو ہمیں بتایا تھا بلندیٔ درجات کا نسخہ، وہ تو ان کو بھی پتا لگ گیا ہے، اب وہ بھی کرلیتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں؟ ہم تو پھر پیچھے رہ گئے۔ نبی نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
(ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ (الجمعۃ
ترجمہ: ’’یہ تو اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا فرمائے‘‘۔ (صحیح مسلم: 595)
جی! صحابۂ کرام کی تمنائے طلب کیا تھی کہ اللہ کے محبوب بنیں، نبیﷺ کے محبوب بنیں، اور آخرت کے بلند سے بلند درجات حاصل کریں۔
حسنِ اخلاق سے سبقت حاصل کرو
ایک حدیث میں نبی نے فقراء اور غرباء سے ارشاد فرمایا کہ وہ مال داروں پر سبقت حاصل کریں۔
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا: تم مال داروں پر اگر (مال کے زیادہ خرچ کی وجہ سے) سبقت نہ حاصل کرسکو تو تم کشادہ روئی حُسنِ اخلاق سے سبقت حاصل کرسکتے ہو۔ (مجمع الزوائد: 22/8)
مطلب یہ کہ جب مال دار اللہ کی راہ میں مال خرچ کرکے ثواب حاصل کرنے لگیں، مسجدیں بنائیں، مدارس قائم کریں، مدرسے چلائیں۔ اس طرح کے کام وہ کرنے لگیں اور تمہارے پاس مال کی گنجایش نہ ہو تو تم لوگوں کے ساتھ کشادہ روئی اور حُسنِ اخلاق سے پیش آئو گے تو تم ان کے مرتبے سے آگے بڑھ جائو گے۔ حُسنِ اخلاق ایک ایسی چیز ہے کہ مال داروں کا مال خرچ کرنے سے آگے انسان کو لے جاتا ہے۔ اور آج کل کیا ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنا کر سجدوں میں جنت تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یاد رکھیے! ایسے جنت نہیں ملتی۔ میزانِ اعمال میں سب سے زیادہ وزن کن اعمال کا ہوگا؟ یہ بھی تو ہمیں پتا ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ جتنے اعمال ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ قیامت کے دن جب پلڑے میں اعمال تولے جائیں گے تو کس عمل کی قیمت زیادہ ہوگی؟ کس کا وزن زیادہ ہوگا؟ یہ بھی سنیے!
نیکیوں کے پلڑے میں وزنی عمل
حضرت ابو درداء سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مؤمن کے پلڑے میں حُسنِ اخلاق سے بڑھ کر کوئی وزنی عمل نہیں ہوگا۔
(سنن ابی داؤد: رقم 4799)
ایک حدیث بہت جامع حدیث ہے۔ حضرت ابو ذرّ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تحقیق کامیاب ہوگیا وہ شخص جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے خالص کرلیا، اور اس کے دل کو قلبِ سلیم بنا لیا، اور اس کی زبان کو سچا کرلیا، اور اس کے نفس کو مطمئن کرلیا، اور اس کے اخلاق کو ٹھیک کر دیا، اور اس کے کانوں کو سننے والا اور اس کی آنکھوں کو دیکھنے والا بنایا ۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 5200)
بیعت کا فائدہ
یہاں نبی نے چند باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ جو لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ بیعت کیوں کرتے ہیں؟ اللہ اللہ کرنے کا کیا مقصد؟ ذکر، مراقبہ، معمولات یہ سب کیوں ہیں؟ یہ سب اسی حدیث پر عمل کرنے کے لیے ہیں۔ ایک بات عام مشاہدے میں آئی کہ جو لوگ بیعت ہوئے اور انہوں نے معمولات کرنے شروع کیے، رابطہ رکھا، پابندی سے آتے رہے۔ تین باتیں مردوں اور عورتوں نے خود بتائیں کہ تہجد کی توفیق ملی، تنہائی پاکیزہ ہونے لگی، اور نگاہوں کی حفاظت مل گئی۔
نبی نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے قلب کو ایمان کے لیے خالص کرلیا، ایمان سے بھردیا اور دوسری بات کہ اسے قلبِ سلیم عطا فرمایا یعنی اس کے دل کو گناہوں سے محفوظ کر لیا۔ جب انسان توبہ کرتا ہے تو ایمانی کیفیت بڑھ جاتی ہے، گناہ سے محفوظ ہوجاتا ہے، گناہوں کی گندگی ختم ہوجاتی ہے۔ اور انسان جب اس کے بعد اعمال پر آتا ہے تو گناہوں سے آہستہ آہستہ محفوظ ہوجاتا ہے۔ پھر جب اسے فکر لگتی ہے قیامت کی تو اس کی زبان سے جھوٹ نکلنا بند ہوجاتا ہے۔ زبان کی سچائی مل جاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اس کے نفس کو مطمئن کرلیا۔ اطمینانِ نفس کا کیا مطلب ہے؟ غور کریں۔
تین قسم کے نفوس
-1 نفس ِاَمّارہ
2 – نفسِ لوّامہ
-3 نفسِ مطمئنّہ

نفسِ اَمّارہ: جو ہر قسم کی نافرمانی سے خوش ہوتا ہے اور نیکی کی طرف رغبت ہی نہیں ہوتی، یہ نفسِ اَمّارہ ہے۔
نفسِ لوّامہ: یہ درمیانی درجہ کا نفس ہوتا ہے جو عام لوگوں کا ہوتا ہے۔ نیکی کرنے کا دل ان کا کرتا ہے، لیکن یہ گناہ کر بیٹھتے ہیں اور بعد میں افسوس کرتے ہیں کہ اوہ ہو! یہ میں کیا کر بیٹھا، یہ میں کیا کر بیٹھی۔ اس کے بعد یہ توبہ کی طرف آتے ہیں اور رجوع الی اللہ کرتے ہیں۔ پھر گناہ ہو جاتا ہے، پھر بے چین ہوتے ہیں اور یہ معاملہ ان کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ گویا کہ یہ درمیانی کیفیت میں ہوتے ہیں۔
نفسِ مطمئنّہ: جسے عبادت سے سکون حاصل ہوتا ہے، اللہ کی یاد سے سکون ملتا ہے، اسے نفسِ مطمئنہ مل جاتا ہے۔ اس کی زندگی نیکیوں بھری زندگی ہوتی ہے۔ یہ بیعت کرنے کا مقصد اور بیعت کروانے کا مقصد اور اَذکار کروانے کا مقصد نفسِ مطمئنہ کا حاصل کرلینا ہے تاکہ قیامت کے دن جنت میں جانا آسان ہوجائے۔
ایک شخص کا چار مرتبہ ایک ہی سوال
جب انسان بیعت ہوتا ہے اور ذکر و فکر کی زندگی گزارتا ہے، آہستہ آہستہ اس کے اخلاق بہتر ہوجاتے ہیں۔ نبیﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے نبیﷺ سے سوال کیا کہ دین کیا ہے؟ نبی نے ارشاد فرمایا: حُسنِ اخلاق۔ وہ وہاں سے اُٹھے اور پھر نبی کے دائیں طرف آکے بیٹھ گئے اور پھر سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! دین کیا ہے؟ فرمایا: حُسنِ اخلاق۔ پھر وہاں سے اُٹھے اور بائیں طرف دوبارہ آئے اور تیسری مرتبہ پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! دین کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: حُسنِ اخلاق۔ پھر وہ وہاں سے بھی اُٹھے اور پیچھے جاکر پوچھا کہ اے اللہ کے نبی! دین کیا ہے؟ آپﷺ نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے نہیں دین یہ ہے کہ آپ غصہ نہ کریں۔ (إحياء علوم الدين: 50/3)
نبی نے سائل کے بار بار پوچھنے پر یہی فرمایا کہ حُسنِ اخلاق ہی دین ہے۔ اس سے ہمیں محسوس کرنا چاہیے کہ اخلاق کی کتنی اہمیت ہے اور اسے حاصل کرنے کی کتنی فکر کرنی چاہیے۔
جہنم کی آگ سے حفاظت
ایک صحابی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! افضل الایمان کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: حُسنِ اخلاق۔ (مجمع الزوائد: 66/1)
حُسنِ اخلاق خیر کا باعث ہے، اور بدخلقی بُری شئ ہے۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ جہنم کی آگ کس پر حرام ہے؟ جہنم کی آگ ہر اس شخص پر حرام ہے جو نرم زبان، نرم دل اور سخت نہیں ہے۔
(ترمذی: رقم 2488)
نیکی کی اپنی خاصیت ہے اور گناہ کی اپنی خاصیت ہے۔ جس طرح آگ کی اپنی خاصیت ہے اور پانی کی اپنی خاصیت ہے۔ اسی طرح تمام اعمال کی چاہے وہ نیکی کے ہوں، گناہ کے ہوں، سب کی اپنی خاصیت ہے۔ تو نبیd نے بتایا کہ حُسنِ اخلاق کی خاصیت یہ ہے کہ جہنم کی آگ چھونے کی بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہمیں نیک اعمال کی توفیق بھی فرمائے اور اچھے اخلاق بھی عطا فرمائے۔ اس کے لیے فکر مند ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ابو بردہ کا سوال
ایک حدیث میں ابو بردہ نے نبی سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! کیا اللہ تعالیٰ مکارمِ اخلاق یعنی اچھے اخلاق کو پسند فرماتے ہیں؟ نبی نے فرمایا: خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! بغیر حُسنِ اخلاق کے کوئی آدمی جنت میں داخل ہوہی نہیں سکتا۔ (شعب الایمان للبیہقی: 241/6)
اللہ اکبر! کیسی بات ارشاد فرمائی کہ اخلاق کے بغیر جنت میں داخلہ ہی نہیں۔
دو عورتوں کی حکایت
ایک روایت میں آتا ہے کہ مدینہ طیبہ کے اندر دو عورتیں تھیں۔ ایک بہت عبادت گزار، سارا دن روزہ رکھتی، رات کو تہجد پڑھتی، خوب عبادت کرتی، لیکن زبان کی بہت تیز تھی اور اپنی زبان سے لوگوں کو تکلیف پہنچاتی تھی۔ (آپ نے سنا ہوگا کہ بعض عورتیں کہتی ہیں کہ میں نے اس سے ایسی بات کہی ہے کہ گھر جا کر جلتی، سڑتی رہے گی۔ فرمایا کہ وہ دن بھر نیکی کرتی، رات کو تہجد پڑھتی، لیکن زبان کی بُری اور بداخلاق تھی) رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اس میں کوئی خیر نہیں، وہ جہنم میں جائے گی۔ ایک اور عورت کا حال بیان ہوا کہ وہ بس فرائض، واجبات پورے کرلیتی ہے۔ زیادہ تہجد، نفلوں وغیرہ کی طرف اس کی رغبت نہیں ہے۔ فرمایا کہ یہ جنت میں جائے گی۔ (مسند احمد: رقم 9673 )
لوگوں کا دل دُکھاتے رہنا، لوگوں کو تکلیف پہنچاتے رہنا، اور اپنی زبان کا غلط استعمال کرنا، زبان کی یہ آفات جہنم میں لے جانے والی ہیں۔
حسنِ اخلاق اپنائیے
ایک حدیث میں ارشادِ نبویﷺ ہے کہ ایمان کے اعتبار سے کامل وہ ہے جو اخلاق کے اعتبار سے بہتر ہے۔ (مسند احمد: رقم 10829)
اور فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ قیامت کے دن تم میں سے مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ اور میرے قریب وہ ہوگا جس کے اخلاق بہت اچھے ہوں گے۔ (ترمذی: 22/2)
نبی صحابہکو مکارمِ اخلاق کی تلقین کیا کرتے تھے۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ آپﷺ حکم دیا کرتے تھے کہ لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ (مسند احمد: 22337)
حضرت جریر کو نصیحت
ایک صحابی تھے حضرت جریر بن عبداللہ۔ نبی نے ان سے فرمایا کہ تم خوبصورت ہو (حضرت جریر بن عبداللہ کو اس اُمت کا یوسف کہا گیا ہے، بہت خوبصورت تھے) نبی نے ان سے فرمایا کہ جب خدا نے تمہیں ظاہری حُسن سے نوازا ہے، اب تمہیں چاہیے کہ تم اخلاق کے اعتبار سے بھی اچھے ہوجاؤ۔
(شمائلِ کبریٰ:527/1)
جب اللہ نے اتنی نعمتیں دی ہیں اور بات کھل کر بھی سامنے آگئی، اب ہم اپنے اخلاق کو بہتر کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ سے مانگیں کہ اللہ تعالیٰ! ہمیں یہ نعمت عطا فرما دیجیے۔ یقیناً جس کے ساتھ اللہ رحمت کا معاملہ فرماتے ہیں اچھے اخلاق اُسی کو عطا فرماتے ہیں۔ بداخلاقی سے ہم توبہ کریں، نیکی تقوٰی کی زندگی گزاریں۔ لوگوں کے دل دُکھانا اور لوگوں کے دل جلا دینا اس سے ہم اپنے آپ کو بچائیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنی رحمتِ کا معاملہ فرما دیں گے۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں


Notice: Undefined index: HTTP_CLIENT_IP in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 296

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 298

Notice: Undefined index: HTTP_X_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 300

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED_FOR in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 302

Notice: Undefined index: HTTP_FORWARDED in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/functions.php on line 304

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 73

Notice: Undefined variable: aria_req in /home/ibrahim/public_html/wp-content/themes/upaper/comments.php on line 79

اپنا تبصرہ بھیجیں