97

خطبہ اسلام

تمام تعریفیں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہی کے لئے ہیں ، ہم سب اسی کی تعریف بیان کرتے ہیں اوراسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جس کو اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہدایت دیں تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہےاور جس کو گمراہ کردیں تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔

امابعد!

سب سے زیادہ سچی بات اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی کتاب ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، وہ پہلے لوگوں اور بعد والے لوگوں کا بھی معبود ہے۔((اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور سیدھی سچی بات کہا کرو۔ اللہ تمہارے فائدے کے لیے تمہارےکام سنوار دے گا، اور تمہارے گناہوں کی مغفرت کردے گا۔ اور جوشخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے وہ کامیابی حاصل کرلی جو زبردست کامیابی ہے۔))

مؤمنو! اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اپنے سے تقویٰ اختیار کرنے، سیدھی، درست اور انصاف کے مطابق بات کہنے کا حکم دیا ہے۔ اس پر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے تم سے تمہارے کاموں کی اصلاح اور تمہارے گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا ہے۔ ۔

اے مؤمنو! اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمتوں اور اس کی ایجاد کی کاریگری میں سے نازک نعمت یہ زبان ہےجس سے تم کلام اور بات کرتے ہو یا جو کچھ دلوں اور جی میں ہے اسے تعبیر کرتےہو۔

آدمی کی زبان اس کے دل کی کنجی ہے

جو وہ اس وقت ظاہر کرتا ہے جب وہ اپنے منہ سے بات کررہا ہوتا ہے

مؤمنو!

زبان اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی بہت بڑی نعمتوں میں سے ہے جس کے ذریعہ اس نے تم پر اس وجہ سے احسان کیا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ((کیا ہم نے اسے دوآنکھیں نہیں دیں؟ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟)) اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں: ((وہ رحمٰن ہی ہے۔(۱) جس نے قرآن کی تعلیم دی۔(۲) اسی نے انسان کو پیدا کیا۔(۳)اسی نے اس کو واضح کرنا سکھایا۔(۴))

اسی کی وجہ سے کفر ایمان سے ممتاز ہوتاہے، رحمٰن کے اولیاء شیطان کے اولیاء سے جدا ہوتےہیں، اسی کی وجہ سے بندہ جنتوں کے سایے میں پہنچتا ہےاور اسی کی وجہ سے جہنم کی گہرائیوں میں گر پڑتا ہے۔ صحیحین کی حدیث حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی ہنسانےکے لئے ایک بات کرتا ہے، لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنّم کی اتنی گہرائیوں میں گرجاتا ہے جن کا فاصلہ مشرق اور مغرب کے فاصلہ بھی زیادہ ہے ۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں