خواب

خواب

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِoبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِo
﴿ اِنِّيْۤ اَرٰى فِي الْمَنَامِ اَنِّيْۤ اَذْبَحُكَ ﴾ (الصَّافّات:102)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

لاہور میں ہمارے مدرسے میں کچھ تربیتی بیانات چل رہے تھے اور چل رہے ہیں۔ ان کا تعلق نبی پاکﷺ کی مبارک سنتوں سے ہے۔ چلنے پھرنے، اُٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور زندگی کے مختلف امور میں نبیﷺ کی مبارک سنتیں اپنانا ہمارے لیے کتنی ضروری ہیں، اس کی ایک ترتیب چل رہی ہے۔ اُسی ترتیب کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم بات کریں گے ان شاء اللہ!
کامیاب کون؟
آج انسان دنیا میں سمجھ رہا ہے کہ مال ہوگا تو میں کامیاب ہوجاؤں گا۔ بینک بیلنس ہوگا تو کامیاب ہوجاؤں گا۔ ڈگری ہوگی، عہدہ ہوگا،نام ہوگا تو میں اُونچا ہوجاؤں گا۔ یہ دنیا کی باتیں ہیں حالانکہ دنیا کےحاصل ہوجانے میں کامیابی نہیں ہے، لیکن پھر بھی دنیا کی باتیں ہیں۔ محشر کے میدان میں کامیاب کون ہوگا؟ جو حضورﷺ کے طریقے کے مطابق زندگی گزارے گا۔ جس کا اُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، بیوی بچوں کے ساتھ معاملات، جس کے اندر باہر کے سارے معاملات نبیﷺ کے طریقے کے مطابق ہوں گے وہ کامیاب ہوگا اور اللہ اُس سے راضی ہوں گے۔
سونے کی دعا:
نبی پاکﷺ جب رات کو سونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
اَللّٰہُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیٰی. (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی)
’’اے اللہ! تیرے نام پر میں مرتا ہوں اور تیرے نام پر جیتا ہوں‘‘۔
بن تیرے جینا بھی کیا جینا۔ جس کی زندگی میں اللہ نہیں اس کی زندگی بے کار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی سچی محبت اپنی رحمت سے عطا فرمائے۔ آمین
امی عائشہ کا عمل:
امی عائشہ جب رات کو سونے لگتی تو اس دعا کو پڑھ لیتیں:
(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رُوْیًا صَالِحَۃً صَادِقَۃً غَیْرَکَاذِبَۃٍ نَافِعَۃً غَیْرَ ضَارَّۃٍ )) (الاذکار صفحہ79)
’’اے اللہ! میں آپ سے سچے خواب کا سوال کرتی ہوں جو سچا ہو جھوٹا نہ ہو، نافع ہو نقصان دہ نہ ہو‘‘۔
یعنی جو سچے ہوں، اچھے ہوں اور نفع دینے والے ہوں، میں ایسے خواب کی تمنا کرتی ہوں کہ آپ سوتے ہوئے بھی مجھے سچی اور نافع چیز دیکھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
حضرت علی کا عمل:
سیدنا علی فرمایا کرتے تھے کہ جب تم بستر پر جاؤ تو یہ دعا کیا کرو:
(( بِسْمِ اللہِ وَفِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ )) (نسائی صفحہ769)
’’ میں سورہا ہوں اللہ کے نام سے اور اللہ کے راستے میں اور ملّتِ رسول اللہﷺ پر‘‘۔
یہ مسنون دعائیں ہیں۔ اللہ تعالیٰہمیں ان کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
سو کر اُٹھنے کی دعا:
جب سو کر اُٹھ جائیں تو کیا دعا کیا کریں؟
حدیث پاک میں آتا ہے کہ صبح اُٹھ کر یہ دعا پڑھی جائے:
(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ)) (ابوداؤد: 688)
’’ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے نیند یعنی موت کے بعد زندہ کیا اور اُسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے‘‘۔
یہ نیند موت کی بہن ہے۔ اُس کی طرف یاد دلوائی جارہی ہے کہ آج تم تھوڑی دیر کے لیے سورہے ہومگر اُٹھنے کی اُمید ہے، لیکن ایک وقت ہوگا جب تم قبر میں سو رہوگے، یعنی نیند کے ساتھ موت کو یاد دلوایا گیا۔
ایک جامع دعا:
ایک اور جگہ یہ دعا منقول ہے۔
(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ عَافَانِیْ فِیْ جَسَدِیْ وَرَدَّ عَلَیَّ رُوْحِیْ وَاَذِنَ لِیْ بِذِکْرِہٖ )) (عمل الیوم واللیلۃ لنسائی صفحہ866، ترمذی صفحہ176)
’’تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میرے جسم میں عافیت دی، اور میری روح واپس فرمائی اور اپنی یاد کی توفیق دی‘‘۔
کسی جانور نے نہیں کاٹا، کوئی اور پرابلم نہیں ہوئی تویہ اللہ نے میرے سارے جسم کو ٹھیک رکھا صحیح سلامت رکھا۔ یعنی تعریف اس اللہ کی کہ جس نے مجھے میرے جسم میں عافیت دی اور مجھے میری روح واپس لوٹا دی اور مجھے اپنی یاد کی توفیق عطا فرمادی۔
یہ جو آخری بات ہے:
(( وَاَذِنَ لِیْ بِذِکْرِہٖ))
مجھے اپنی یاد کی توفیق عطا کردی۔ تو یہاں سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ جو دن گزارنا ہے وہ اللہ کی یاد میں گزارنا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اچھے اور برے خواب سے متعلق آپﷺ کے ارشادات:
انسان سوتے میں خواب بھی دیکھ لیتا ہے تو خواب کے بارے میں کچھ تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت ابو سعید خدری روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اچھا خواب دیکھے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، پس الحمدللہ کہے اور اُس کا (دوسروں سے) ذکر کرے۔ (بخاری صفحہ1034)
دوسری جگہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں جانب تین بارتھو تھو کردے اور تین بار تعّوذ پڑھے یعنی
(( اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ )) (اذکار صفحہ83، مسلم صفحہ241)
تین بار پڑھ لے۔ تو ان شاء اللہ یہ ناپسندیدہ خواب اس کو کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ پریشان ہونے کی ضرورت کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔
خواب سے متعلق آپﷺ کی عادتِ مبارکہ:
خواب کے بارے میں آپﷺ کی عادتِ طیبہ یہ تھی کہ صحابہ کرامj سے اکثر پوچھتے تھے کہ بتاؤ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا۔ اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو آقاﷺ کے سامنے بیان کرتا اور آپﷺ اُس کی اچھی سی تعبیر بیان فرماتے۔
(بخاری جلد2صفحہ1043)
مومن کا خواب مبشراتِ الٰہی میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بشارتوں میں سے ایک بشارت ہے اور نبوت کا ایک حصہ اس کو قرار دیا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانیm سے روایت ہے کہ آپﷺ خواب کی بہت عمدہ تعبیر دیا کرتے تھے اس لیے آپﷺ صحابہ کرام سے پوچھا بھی کرتے تھے۔
(فتح الباری جلد 12صفحہ440)
اور آپﷺ کا یہ پوچھنا عام طور سے نمازِ فجر کے بعد ہوا کرتا تھا۔
(بخاری جلد2صفحہ1043)
حضرت ابن عمر کی تمنا:
حضرت عبداللہ بن عمرi فرماتے ہیں: جو بھی شخص خواب دیکھتا وہ آپﷺ کو بتاتا کہ آپﷺ اچھی سی تعبیر بتائیں۔ چنانچہ میرے دل میں بھی آیا کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں اور آپﷺ سے تعبیر پوچھوں۔ چنانچہ ایک دن میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ! کوئی خیر ہو تو مجھے بھی کوئی خواب دکھا دیں کہ میں اُس کی تعبیر نبیﷺ سے پوچھوں۔ چنانچہ (دعائیں کرکر کے میں نے) اُس رات خواب دیکھا۔
(بخاری جلد2صفحہ1041)
یعنی صحابہ دعا کرتے تھے کہ ہمیں خواب آئے تو ہمیں آقاﷺ سے بات کرنے کا موقع ملے۔ عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ میں نکاح (شادی) سے پہلے مسجد میں سوتا اور اپنے دل سے کہتا کہ اگر تجھ میں بھی کوئی بھلائی ہوتی تو تجھے بھی اللہ خواب دکھادیتے۔ ایک رات دعا مانگ کر میں سویا کہا: اے اللہ! اگر آپ جانتے ہیں کہ مجھ میں کوئی اچھائی ہے تو مجھے بھی خواب دکھائیے۔ (بخاری جلد2صفحہ 1041)
ایک صحابی حضرت ابوبکر ثقفیh فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کو اچھے خواب بہت پسند تھے اور آپﷺ لوگوں سے خواب کے متعلق پوچھا کرتے تھے۔ (ابو داؤد)
آپﷺ کا فجر کے بعد خواب کا پوچھنا:
ابوہریرہh فرماتے ہیں کہ نبیﷺ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوتے تو (لوگوں سے) پوچھتے کہ تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟ فرماتے کہ میرے بعد نبوت نہیں رہے گی، مگر اچھے خواب باقی رہیں گے۔ (ابو داؤد صفحہ584)
نبی کریمﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ صبح کی نماز کے بعد خواب پوچھتے اور اُسی وقت تعبیر بھی بیان فرماتے۔ اُس کی وجہ علماء نے یہ لکھی ہے کہ فجر کے بعد انسان نے جو رات کو خواب دیکھا ہوتا ہے وہ نسبتاً اُسے یاد رہتا ہے۔ ٹائم گزرنے کے بعد وہ بھول جاتے ہیں، یا مکسنگ ہوجاتی ہے، توفجر کے بعد معاملہ ذرا تازہ تازہ ہوتا ہے۔
تعبیر پوچھنے سے متعلق اہم بات:
کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ہر ایک سے تعبیر پوچھتے ہیں، تو اس تعبیر کا اعتبار ہوگا جس سے سب سے پہلے پوچھا گیا ہو وہی تعبیر نافذ ہوجائے گی اور باقیوں کی پیچھے رہ جائے گی۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ جو پہلے تعبیر دے دیں اُسی کا اعتبار ہے۔ (ابن ماجہ صفحہ279)
اور اسی لیے حکم ہے کہ خواب ہر ایک سے بیان نہ کریں۔
خواب سننے کی دعا:
حضرت ضحاک جہنی سے مروی ہے کہ آپﷺ نے خواب سننے کے وقت یہ دعا پڑھی:
خَیْرٌ تَلْقَاہُ شَرٌّ تَوَقَّاہٗ خَیْرٌ لَّنَا وَشَرٌّ لِّاَ عْدَائِنَا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
’’تم کو بھلائی حاصل ہو تم برائی سے محفوظ رہو بھلائی تمہارے لیے اور برائی دشمنوں کے لیے تعریف اُس خدا کی جو تمام عالمین کا رب ہے‘‘ ۔ (سیرۃ جلد7صفحہ411)
اچھا خواب نبوت کا حصہ ہے:
بخاری شریف کی روایت ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا کہ اچھے خواب نبوت کا چھیالیسواں (46) حصہ ہے۔ اب یہ چھیالیسواں حصہ کیوں کہا گیا؟ نبوت کا عرصہ 23 سال رہا ویسے تو نبیﷺ شروع سے نبی ہیں لیکن نبوت کا اظہار 40 سال کی عمر میں کیا۔ 63 سال میں پردہ فرمالیا تو 23 سال کا عرصہ نبوت کا عرصہ کہلایا اور اظہار نبوت سے پہلے 6 ماہ کا عرصہ اچھے اور سچے خوابوں کا رہا۔ تو 23 کو اگر 2 پر Multiply کرلیں46 ہو جائے گا۔ ایک سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں اور نبوت کے سال 23ہیں، ان کو چھ چھ ماہ کر لیا جائےتو 46 چھ ماہ بنتے ہیں، اس لیے علماء نے کہا کہ خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ اور نبوت سے قبل چھ ماہ نبی کریمﷺ کو سچے خواب آیا کرتے تھے۔
علماء نے فرمایا ہے کہ شاید اس کا مطلب یہ ہو باقی اللہ بہتر جانتے ہیں۔اور بعض علماء نے کہا ہے کہ اس کی مراد اللہ اور اس کے رسولﷺہی بہتر جانتے ہیں ہمیں معلوم نہیں۔
(فتح الباری جلد12صفحہ364)
اچھے خواب بشارت ہیں:
حضرت عبادہ بن ثابت سے روایت ہے کہ انہوں نے آپﷺ سے پوچھا کہ یہ جو اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا:
لَھُمُ الْبُشْرٰی فِیْ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا
’’ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بشارت ہے‘‘۔
اس کا کیا مطلب ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ وہ اچھے خواب ہیں جن کو مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھادیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ صفحہ278)
بعض اوقات خود اچھا خواب دیکھ لیتا ہے اور اُسے تسلی مل جاتی ہے، بعض اوقات کوئی اور اچھا نیک آدمی اُس کے بارے میں دیکھ لیتا ہے تو خواب مؤمن مرد اور مؤمن عورت دونوں کے حق میں بشارت ہے۔
حافظ ابن حجر کا قول:
وحی کے ختم ہونے اور خواب کے باقی رہنے کا مطلب حافظ ابن حجر کے مطابق یہ ہے کہ حضورﷺ کے جانے کے بعد وحی اور نبوت کا سلسلہ تو ختم ہوگیا لیکن خواب کے ذریعے انسان کو کچھ علم اور بشارتیں یا آگے آنے والی کسی چیز کا اللہ کی طرف سے انسان کو علم ہوتا رہے گا۔
خواب کی نوعیتیں:
اب خواب کی کچھ نوعیتیں بھی ہوتی ہیں:
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ آپﷺ سے سنا کہ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں:
پہلی نوعیت:
ایک تو وہ جو نفس اور ذہن کی باتیں ہوتی ہیں۔ جو سارا دن انسان سوچتا ہے، کررہا ہے وہ رات کو نظر آگیا تو اسے لوگ خواب سمجھ لیتے ہیں۔ یہ خواب نہیں بلکہ خیالات ہیں۔
دوسری نوعیت:
دوسری شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں۔ اگر کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو شیطان سے پناہ مانگے۔ بائیں طرف تھتھکاردے تو ان شاءاللہ کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
تیسری نوعیت:
وہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے بشارت ہوتی ہے۔ اور یہ خواب نبوت کا 46واں حصہ ہے۔ اور اسے بھی صاحب خیر آدمی کے سامنے بیان کریں تاکہ وہ اچھی تعبیر بتائے اور اچھی بات بتائے۔ (ابواسحٰق، سیرۃ جلد7صفحہ407)
خواب کس کو بتایا جائے؟ جو دین کا علم رکھتا ہو اور خیر خواہ بھی ہو۔
خواب کی اقسام:
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: خواب تین قسم کے ہوتے ہیں:
(1)اللہ کی طرف سے بشارت
(2)خیالی باتیں
(3)شیطان کا خوفزدہ کرنا۔ (ابن ماجہ صفحہ279)
بعض اوقات انسان جو بیداری میں کرتا اور سوچتا ہے وہ اس کے دماغ میں بات چل رہی ہوتی ہے وہی رات کو دیکھ لیتے ہیں۔ اور شیطان بھی پریشان کرنے کے لیے ڈراؤنے خواب دکھاتا ہے۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین
حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ جب تم کوئی پسندیدہ خواب دیکھو تو اپنے دوستوں کے علاوہ کسی سے بیان نہ کرو (جو تم سے محبت کرنے والا ہے تم سے مخلص ہے اسی سے بیان کرو، اور جب ناپسندیدہ خواب دیکھو تو کسی سے بیان نہ کرو (نہ دوست سے،نہ دشمن سے کرے) تو ان شاء اللہ کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ (ابن ماجہ صفحہ279)
کوئی پریشانی کی بات نہیں۔
اور ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: اگر کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھو تو یہ شیطان کی جانب سے ہے۔ اس کی برائی سے پناہ مانگ لو، اور کسی سے بیان نہ کرو تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ (بخاری جلد2صفحہ1043)
خواب کا اثر:
بعض اوقات خواب سے انسان بیمار بھی ہوجاتا ہے۔ یعنی خواب اثر بھی ڈال لیتا ہے۔
حضرت انس بن مالک  فرماتے ہیں کہ ایک بندہ آپﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی! میں ایسا ڈراؤنا خواب دیکھ لیتا ہوں کہ دیکھنے کے بعد میں بیمار ہی پڑ جاتا ہوں۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ دیکھو! اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور بُرے شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔ پس تم میں سے جو بُرا خواب دیکھے تو اسے چاہیے کہ اپنی بائیں جانب تین دفعہ تھوک دے اور
اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھے۔ اس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
(مجمع جلد7صفحہ176)
پھر نہ بیمار ہوگا، نہ پریشان ہوگا۔ اس طرح اگر عمل کرلیا جائے تو ان شاء اللہ نقصان نہیں ہوگا۔
امام بخاری نے ابن سیرین کی روایت میں بیان کیا ہے کہ اگر انسان ناپسندیدہ خواب دیکھ لے تو اُٹھ جائے اور نماز پڑھے۔ (رات کو خواب دیکھا بُرا خواب تھا مثلاً کوئی سانپ، کوئی بیل اچانک دوڑتا ہوا آرہا ہے، تو اس کو چاہیے کہ یہ اُٹھ جائے وضو کرے اور دورکعت نماز پڑھ لے) اور خواب کو کسی سے بھی بیان نہ کرے۔
(بخاری جلد2صفحہ1043)
بُرے خواب کے آداب کیا ہوئے؟ حافظ ابن حجر نے بیان کیا ہے کہ اگر بُرے خواب دیکھے تو اس کے یہ آداب ہیں کہ اللہ سے پناہ مانگے، اعوذباللہ پڑھ لے، تین دفعہ بائیں طرف تھتھکا ردے، اُٹھ کے بیٹھ جائے اور وضو کرکے نماز پڑھ لے، اور کسی سے بھی بیان نہ کرے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ بُرا خواب دیکھے تو آیۃ الکرسی بھی پڑھ لے۔ (فتح الباری جلد12صفحہ370)
سچا خواب:
ابو سعید فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ زیادہ سچا خواب صبح کے وقت کا ہوتا ہے۔ (ترمذی صفحہ397)
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ جو خواب سحری کے وقت انسان دیکھتا ہے، اس کی تعبیر جلدی واقع ہوجاتی ہے اور خواب کے اندر احکامات مردوں اور عورتوں کے لیے ایک جیسے ہیں۔ (فتح الباری)
اور یہ بات ذرا دل کے کانوں سے سنیے! نبیﷺ نے فرمایا کہ سچ بولنے والے کا خواب سچا ہوتا ہے۔ (فتح الباری جلد12صفحہ390)
ایک غلط سوچ کی اصلاح:
آج ہم میں سے اکثر خواب دیکھ لیتے ہیں۔ کسی بزرگ کو دیکھ لیا، کوئی اچھی چیز دیکھ لی، کوئی گریینری (Greenery) دیکھ لی تو اپنے اوپر ناز کرنے لگتےہیں اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ میرے بھائی خواب سے درجے نہیں ملا کرتے۔ خواب کی حقیقت ایک حد ایک درجے تک ہے بس! اگر کوئی شخص رات خواب میں اپنے آپ کو وزیراعظم یا صدر بنا ہوا دیکھے اور صبح اُٹھ کے فلائٹ لے اور (Prasident House) پہنچ جائے کہ بھئی! میں نے رات خواب میں اپنے آپ کو وزیراعظم یا صدر بنا ہوا دیکھا ہے تو میں اب پاکستان کا صدر ہوں تو لوگ اس کو جوتے ماریں گے۔ جس طرح صدر اور وزیراعظم کا خواب دیکھنے سے کوئی صدر اور وزیراعظم نہیں بنتا اسی طرح ولایت کے خواب دیکھنے سے کوئی ولایت نہیں مل جاتی۔ بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں زندگی شریعت کے خلاف گزر رہی ہوتی ہے، نمازیں قضا کررہے ہیں، جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، نامحرموں سے تعلقات ہیں۔ اس میں کوئی اچھا خواب دیکھ لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں میں تو اللہ کا بڑا مقرب ہوں۔ یاد رکھیے! اللہ کا تقرب تقوی سے معلوم ہوگا، نیکی سے معلوم ہوگا۔ اگر ہماری زبان جھوٹی ہے تو ہمارے خواب بھی جھوٹے ہیں۔ سچے آدمی کا خواب سچا، جھوٹے کا خواب بھی جھوٹا۔
کافر کا خواب بھی سچا ہوسکتا ہے:
لیکن یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ بعض اوقات انسان خواب دیکھ لیتا ہے اور وہ سچا ہوتا ہے۔ زندگی شریعت کے مطابق نہیں ہوتی لیکن اپنے آپ کو شیخ عبدالقادر جیلانی سمجھنے لگتا ہے کہ سمجھتا ہے کہ میں پتہ نہیں کیا ہوگیا، تو خواب تو کافر کا بھی سچا ہوسکتا ہے۔ دلیل قرآن عظیم الشان سے:
وَقَالَ الْمَلِكُ اِنِّيْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ يَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّاُخَرَ يٰبِسٰتٍ١ؕ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِيْ فِيْ رُءْيَايَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْيَا تَعْبُرُوْنَ۰۰۴۳
(یوسف:43)
مصر کے بادشاہ نے جو خواب دیکھا تھا کہ سات گائیں ہیں وغیرہ پوری تفصیل ہے، جس کی حضرت یوسفd نے تعبیر دی تھی۔ پہلے سات سال خوب اچھی فصل ہوگی، اس کے بعد سات سال قحط سالی کے ہوں گے۔ تو یہ جس بادشاہ نے دیکھا تھا وہ مسلمان نہیں تھا اس سے معلوم ہوا کہ سچا خواب تو کافر کو بھی آسکتا ہے تو یہ ولایت کی دلیل نہیں۔ پھر جب حضرت یوسف جیل میں تھے تو دو قیدیوں نے خواب بیان کیے تو اچھے خواب دیکھنے کے لیے مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں۔
تو بھائی! اپنے آپ کو صرف شریعت کے دائرے میں رکھیں، کہیں پہنچے نہیں کہ میں ولی بن گیا وغیرہ۔ تو جو آدمی جھوٹ بولتا ہے، اس کا خواب بھی جھوٹا۔ اس سے اندازہ لگالیں کہ ہمارا خواب کیسا ہوگا۔
دوسیکنڈ دو منٹ:
آج کل جھوٹ کی بیماری بہت عام ہے۔ بلاوجہ جھوٹ بول لیتے ہیں پرواہ ہی نہیں کرتے۔ جیسے کوئی بات کررہے ہیں۔ فون پر تو کہتے ہیںکہ میں ایک سیکنڈ بعد فون کرتا ہوں، یا امی! ایک سیکنڈ میں آیا۔ اب معلوم ہے کہ جو کام کررہے ہیں، اس کو ختم ہوتے ہوتے ایک دومنٹ لگ جائیں گے، تو یہ جو سیکنڈ کا لفظ بلاساختہ، بلاسوچے سمجھے نکلا تو یہ تو جھوٹ ہوا۔ فرشتوں نے تو وہی لکھنا ہے جو منہ سے نکلا ہوگا۔ کتنی دفعہ ہم ایسا کرتے ہیں۔ بس! ایک منٹ کے لیے، حضرت! آپ دومنٹ کے لیے آجائیںمیرے گھر میں اور وہ دومنٹ 20 منٹ بعد بھی پورے نہیں ہوتے۔
خواب کس سے بیان کیا جائے؟
نبیﷺ نے فرمایا کہ خواب کسی عالم اور خیر خواہ کے علاوہ کسی سے بیان نہ کرو۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی خواب دیکھے تو حبیب کو بتائے یا لبیب کو بتائے۔ حبیب وہ جو آپ سے محبت کرنے والا ہے اور لبیب وہ جو دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والا ہو۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ خواب نبوّت کا 46چھیالیسواں حصہ ہے۔ جب تک کسی سے بیان نہ کیا جائے معلق رہتا ہے اور جب آپ کسی عام دوست سے بیان کردیتے ہیں اور وہ تعبیر دے دیں چاہے غلط ہی کیوں نہ ہو تو وہ خواب اس کی تعبیر کے موافق واقع ہوجاتا ہے۔ اسی لیے علماء نے فرمایا کہ اپنے مخلص دوست کے علاوہ کسی سے بیان نہ کرو۔ اگر تمہارے ساتھ کوئی حسد، بغض رکھتا ہے تو ویسے آدمی کو خواب بیان نہ کرو کیونکہ وہ بُرا مطلب نکالے گا اور خواب کی تعبیر نافذ ہوجائے گی اور تمہارے ساتھ نقصان والا معاملہ ہوجائے گا۔ اگر کسی خیرخواہ سے بیان کرو گےتو وہ اچھی تعبیر دے گا اور تمہارے ساتھ معاملہ آسان ہوجائے گا۔
اچھے خواب کے آداب:
جب اچھا خواب دیکھے تو اللہ کا شکر ادا کرے اور الحمدللہ پڑھے۔ اس کو بیان کرے۔ اُس کی تعبیر کسی نیک اور خیرخواہ دوست سے نکلوائے یا لے۔
نبیﷺ نے امی عائشہ سے فرمایا کہ جب تم تعبیر دیا کرو تو اچھی تعبیر دیا کرو، خواب کی تعبیر اس کے دینے والے کے موافق واقع ہوجاتی ہے۔
(فتح الباری جلد12صفحہ 432)
تو خواب کی تعبیر انسان کوشش کرکے اچھی سی اچھی دیا کرے۔
عجیب خواب بہترین تعبیر:
ایک دفعہ ایک خاتون نے خواب دیکھا کہ اُس کے ساتھ ہر قسم کے لوگ جانور، چرند، پرند اور درندے محبت کا عمل کررہے ہیں تو وہ بہت پریشان ہوئی کہ یہ کیا معاملہ ہوا کہ انسان بھی اور جانور بھی۔ وہ شرم وحیا کا زمانہ تھا۔ اُس نے اپنی کنیز کو بلا کر کہا: ابن سیرین سے جا کر اس کی تعبیر پتہ کرکے آؤ۔ کنیز گئی اور خواب سنایا تو انہوں نے کہا کہ یہ تمہارا خواب نہیں ہے۔ تم اس قابل ہی نہیں کہ تم اتنا اچھا خواب دیکھو۔ یہ تو کسی بڑے بندے کا خواب ہے۔ ملکہ زبیدہ جو ہارون رشید کی بیوی تھی۔ اُس نے خواب دیکھا تھا اور اُس نے کہا تھا کہ میرا نام نہ لینا کہ ملکہ وقت کا خواب ہے، لوگوں میں مشہور ہوا تو پتہ نہیں لوگ کیا گمان کریں گے۔ اب کنیز نے کہا: یہ میرا خواب ہے۔ انہوں نے کہا: یہ تمہارا ہو ہی نہیں سکتا۔ بعد میں جب پتہ چلا کہ زبیدہ خاتون کا ہے تو غالباً ابن سیرین نے تعبیر دی تھی کہ تم سے اللہ تعالیٰ ایسا کام لیں گے کہ لوگ جانور، چرند، پرند سب کو اُس سے فائدہ ملے گا۔ اب ظاہر میں خواب دیکھا کہ انسان کو عزت کے لالے پڑے ہوئے ہیں، لیکن تعبیر دینے والے نے ایسی تعبیر دی کہ اللہ ایسا کام لیں گے جس سے سب کو فائدہ ہوگا۔ اس کے بعد اُس نے نہر زبیدہ بنوائی جس سے کافی عرصہ تک حجاج کرام اور دوسرے قافلے اور سب چرند پرند فائدہ حاصل کرتے رہے اور سیراب ہوتے رہے۔
خواب دیکھنے والے کی حالت کا اعتبار :
خواب دیکھنے والا فاسق ہے، فاجر ہے تو یہ حالت بھی خواب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے خواب دیکھا کہ اذان دے رہا ہوں تو کسی سے تعبیر پوچھنے آیا۔ تو اُس نے تعبیر دی کہ تم حج پر جاؤ گے یا عزت ملے گی یعنی اچھی تعبیر دی۔ تھوڑی بعد ایک اور آدمی نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تو تعبیر دی کہ تم پر چوری کا الزام لگے گا۔ تو طالب علم نے پوچھا کہ حضرت! ایک جیسے خواب کی دونوں کو آپ نے مختلف تعبیر دی تو فرمایا کہ پہلا والا شخص متقی تھا، اُس نے خواب سنایا تو مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آئی:
وَ اَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍۙ۰۰۲۷ (الحج:27)
’’تم لوگوں کو حج کے لیے اذان دو اُن کو بلاؤ‘‘۔
تو میں نے اُس نیک بندے کی اذان کو اس آیت سے تعبیر دی۔ اور جو دوسرا بندہ آیا، یہ فاسق اور فاجر قسم کا تھا، نیک نہیں تھا۔ جب اس نے اذان کی بات کی تو مجھے قرآن کی ایک اور آیت یاد آگئی:
ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَيَّتُهَا الْعِيْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ۰۰۷۰ (یوسف:70)
تو دونوں نے ایک جیسا خواب دیکھا لیکن اُن کی اپنی کیفیات کی وجہ سے مختلف تعبیر بتائی۔ تو تعبیر میں کوئی حتمی چیز نہیں ہوتی، یہ وقت بندے اور مختلف کیفیات کی وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے۔
موسم کا بھی اعتبار:
ایک دفعہ ایک بندے نے خواب دیکھا کہ آگ جل رہی ہے۔ تعبیر پوچھی تو کہا گیا کہ تمہیں مال ملے گا۔ ایک اور بندے نے خواب دیکھا کہ آگ جل رہی ہے تعبیر بتائی گئی کہ اپنا گھر خالی کرو یہ گرنے والا ہے۔ علماء نے پوچھا کہ حضرت! یہ کیا؟ دونوں نے ایک جیسا خواب دیکھا آپ نے ایک کو کہا کہ مال ملے گا اور دوسرے کو کہا کہ گھر خالی کرو گرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے والے نے سردی میں آگ کو دیکھا تھا تو آگ سردی میں رحمت ہوا کرتی ہے دوسرے نے پھر گرمی کے موسم میں آگ کو دیکھا تھا تو گرمی میں آگ زحمت ہوا کرتی ہے۔ تو اس لیے تعبیر اس طرف چلی گئی۔ معلوم ہوا کہ یہ تمام کیفیات خواب پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
خلاصہ کلام:
یہ تمام بات سمجھانے کا لبِ لباب یہ ہے کہ اگر بندہ اچھا خواب دیکھے تو اللہ کا شکر ادا کرے، اور کسی اچھے دین دار عالم بندے سے اس کی تعبیر پوچھے۔ ہر کسی سے ، ایسے ویسے لوگوں کو نہ بتاتا پھرے، تاکہ عالم اور دین دار بندہ اُس کو اُس کی اچھی تعبیر بتائے اور معاملہ اچھا ہوجائے، کیونکہ اعتبار پہلی تعبیر کا ہے اور جیسے ہی وہ تعبیر بتائے گا معاملہ ویسا ہی ہوگا، اگر وہ غلط بھی دے گا تو وہ غلط بھی ہوجائے گا۔
آپﷺ کی زبانِ مبارک سے تعبیر:
اُم الفضل فرماتی ہیں کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں اپنے گھر میں آپﷺ کے اعضاء میں سے کسی ایک عضو کو دیکھتی ہوں (آپﷺ کو سنایا تو) آپﷺ نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا خواب دیکھا تم میری بیٹی فاطمہ کے بچوں کو دودھ پلاؤ گی۔ (ابن ماجہ صفحہ280)
اولاد جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے، جسم کا ٹکڑا ہوتی ہے۔ اس خواب سے فاطمہ کی اولاد مراد لی گئی۔اس معلوم ہوا کہ تعبیر دینے والے اچھے انداز سے تعبیر دیں تو معاملہ اچھا ہوجاتا ہے۔
نبیﷺ کو خواب میں دیکھنا:
نبیﷺ نے فرمایا کہ پس جس نے خواب میں مجھے دیکھا اُس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ (شمائل کبریٰ صفحہ30)
آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے خواب میں مجھے دیکھا تحقیق اُس نے مجھے بیداری میں دیکھا۔ (دارمی، کنزل العمال جلد19صفحہ274)
ایک روایت میں ہے آپﷺ نے فرمایا کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا۔ (منتخب الکلام ابن سیرین جلد1صفحہ57)
آپﷺ کو خواب میں دیکھنا بہت بڑی سعادت ہے۔ ہر مسلمان کو اس کا اشتیاق رکھنا چاہیے۔
کتنے نیک لوگ ہیں جو یہ خواہش دل میں رکھے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر اُن کو یہ سعادت نصیب نہ ہوئی۔ خیال رہے کہ خواب میں نبیﷺ کا دیدار ہونا یقیناً اچھی بات ہے مگر نہ ہونا دین میں کسی نقص کی وجہ نہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر دیندار آدمی کو خواب میں دیدار بھی ہوجائے۔ لیکن اتنی بات ہے کہ جو نبیﷺ کو خواب میں دیکھتا ہے تو نبیﷺ کو ہی دیکھتا ہے، شیطان کسی بزرگ نیک بندے کے روپ میں آسکتا ہے لیکن شیطان نبیﷺ کا روپ اختیار نہیں کرسکتا۔ اور شیطان کسی نیک یا بزرگ صورت کی میں آکر انسان کو ورغلا بھی سکتا ہے لیکن آپﷺ کی شکل میں نہیں آسکتا۔
علامہ مناوی نے فرمایا کہ شیطان انبیا کی شکلوں میں بھی نہیں آسکتا۔
(جمع صفحہ233)
آپﷺ کو تکلیف پہنچانے والے:
اب سب کی یہ خواہش ہے کہ آپﷺ کی زیارت ہوجائے تو اس معاملے میں ایک دوعمل سن لیجیے۔ لیکن اس سے پہلے ایک خواب سن لیجے جو چند دن پہلے ایک بزرگ نے دیکھا۔ بنگلہ دیش کے بزرگ ہیں۔ روح الامین ان کا نام ہے۔ اُن کو 88 دفعہ آپﷺ کی خواب میں زیارت ہوچکی ہے۔ انہوں نے خواب میں دیکھا آپﷺ فرمارہے ہیں کہ یہ جو میرے روضئہ اقدس میں میرے قریب آکر کیمرے سے تصویریں کھینچتے ہیں، مجھے بڑی تکلیف پہنچاتے ہیں۔
اور یہ خواب بیان کرنے والے ہیں
حضرت مولانا عبداللہ برنی صاحب زیدمجدہ یہ انوارالبیان تفسیر کے لکھنے والے مولانا عاشق الٰہی کے بیٹے ہیں۔ ابھی یہ حیات ہیں اور خواب دیکھنے والے بھی حیات ہیں اور خواب بیان کرنے والے بھی حیات ہیں۔ آپﷺ کو اس بات سے بڑی تکلیف پہنچتی ہے کہ مسجد نبویﷺ میں آکر تصویریں کھینچتے ہیں۔ ہمارے اکابر کی روضئہ رسولﷺ پر جاتے ہی جان جاتی تھی، ڈر لگ رہا ہوتا تھا۔ اپنے اعمال کی وجہ سے ڈرتے تھے نہ معلوم کیا معاملہ ہو۔ اور آج ہم اتنے بڑے اور بہادر ہوگئے کہ جاکر تصویریں کھینچواتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویریں بنانے والوں کو ہوگا۔ آج اگر ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی لیکن قیامت کے دن اچھی طرح سمجھ آجائے گی کہ آقاﷺ کی بات سچی تھی۔ آپ کو سارا واقعہ خواب روایت کے ساتھ پہنچادیا یہ سب علمائے حق ہیں جنہوں نے یہ خواب دیکھا اور نبیﷺ کی بات ہم تک پہنچائی۔ وہاں جاکر کچھ ایسے بدنصیب ہیں کہ ادھر آکر تصویریں دکھانی ہوتی ہیں کہ میں روضہ رسولﷺ پہ گیا اپنی پیٹھ نبیﷺ کی طرف کرکے چہرہ کیمرے کی طرف کردیتے ہیں اور تصویر کھینچتے ہیں کہ میری تصویر جالی کے ساتھ آجائے۔
لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔
خواب میں زیارتِ نبوی کے لیے اعمال:
بات چل رہی تھی نبیﷺ کی خواب میں زیارت کی ۔ جان لیجیے کہ نبیﷺ کی زیارت خواب میں بڑی نعمت ہے۔ اس کے بارے میں شاہ عبدالحق صاحب محدث دہلوی نے ترغیب اہل السعادۃ میں لکھا کہ شب جمعہ میں جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات میں دو رکعت نفل پڑھے اور ہر رکعت میں 11 بار آیۃ الکرسی اور 11بار
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ۰۰۱ پوری سورت اخلاص پڑھے۔
اور سلام پھیرنے کے بعد سو بار 100 درود شریف پڑھے۔ تین شبِ جمعے گزرنے نہ پائیں گےکہ ان شاء اللہ اگر اللہ کو منظور ہوا تو دیدار ہوجائے گا۔ (شمائل کبریٰ جلد1صفحہ277)
دوسرا عمل:
اسی طرح علماء نے یہ بھی لکھا کہ انسان دو رکعت نفل پڑھے اور ہر رکعت میں الحمدللہ کے بعد 25دفعہ سورہ اخلاص پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد یہ والا درود شریف 1000 مرتبہ پڑھے:
صَلَّی اللہُ عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ (فضائل درود شریف صفحہ53)
اگر کوئی ایسا بھی کرے گا تو ان شاء اللہ نبیﷺ کی خواب میں زیارت ہوجائےگی۔ ہم عمل کرلیں ہونا یا نہ ہونا اللہ کی طرف سے ہے۔ کم ازکم ہم نام لکھواسکتے ہیں کہ ان کے دل میں نبیﷺ کی محبت تھی۔
زیارت کن کو ہوئی ہے؟
لیکن میرے بھائیو! یہ خوابوں میں زیارت اکثر اُن کو ہوتی ہے جن کی زندگی سنت کے مطابق ہوتی ہے۔ ہمارے بہت سے بزرگ اور علماء ایسے بھی تھے کہ جو یہ عمل بھی نہیں کرتے تھے کہ ہم نبیﷺ کو اپنا چہرہ کیسے دکھائیں گے۔ خوب ڈرتے تھے۔ تو بھائیو! اپنے چہروں کو داڑھی سے سجا ئیں۔ لباس کو سنت کے مطابق بنائیں۔ اپنے 24گھنٹے کے اعمال کو سنت کے مطابق بنائیں۔ اپنی زبان کو جھوٹ سے خالی کریں۔ نامحرموں سے تعلقات کو ختم کریں۔ موبائل فون کے غلط استعمال سے بچیں۔ نگاہوں کی بدپرہیزی سے بچیں۔ جو نگاہیں نامحرموں پر بے حیائی اور غلط طریقے سے پڑتی ہیں یہ غلیظ نگاہیں نبیﷺ کے چہرہ پر کیسے پڑیں گی۔ ایک غیرت مند شوہر کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کی بیوی کو لوگ دیکھیں، اس کو پردے میں رکھتا ہے۔ نہیں پسند کرتا کہ کوئی غیر اس کو دیکھے۔ اللہ تعالیٰ بھی بڑے غیرت والے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی بڑے غیرت والے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ میں اولاد آدم میں سب سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیور ہیں۔ اگر اللہ نے قیامت کے دن یہ فیصلہ کردیا کہ یہ میرا محبوب تو اتنا خوبصورت ہے حسنِ بے مثال ہے۔ جن لوگوں نے دنیا میں اپنی نگاہیں غلیظ اور ناپاک کردی ہیں نامحرموں کو، موبائل فونوں پہ گلی کوچوں اور بازاروں میں انہوں نے اپنی نگاہیں ناپاک کردی ہیں، وہ میرے حبیبﷺ کے خوبصورت چہرے کو نہیں دیکھ سکتیں۔
اصل محرومی:
اگر یہ فیصلہ اللہ نے سنادیا تو ہم دنیا میں بھی محروم ہیں نبیﷺ کے چہرہ اقدس کو دیکھنے سے۔اس لیے کہ ہم ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب آپﷺ دنیا سے پردہ فرماچکے۔ تو اگر ہمیں قیامت کے دن بھی اندھا کھڑا کردیا گیا ان موبائل فونوں،Whatsapp اور اس طرح کی دوسری چیزوں کے غلط استعمال کی وجہ سے تو میرے بھائیو! ہم قیامت کے دن بھی نبیﷺ کے دیدار سے محروم ہوجائیں گے۔
ہرچیز کی کوئی قیمت ہوتی ہے:
بازار میں چاکلیٹ لینے جائیں تو قیمت مانگتے ہیں، تو نبیﷺ کی زیارت کی کوئی قیمت نہیں؟ یہاں جس کی چاہیں ماں بہن کو دیکھتے جائیں، عزتیں لوٹتے جائیں، گناہوں کی زندگی گزاریں اور قیامت کے دن جا کر نبیﷺ کا دیدار کرلیں۔ ارے میرے بھائیو! اگر اللہ نے فیصلہ سنادیا کہ پاک نگاہیں میرے پاک پیغمبرﷺ کو دیکھیں گی تو بتائیں اس دن کیا ہوگا؟ یہ قرآن کا کہنا ہے:
قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۰۰۱۲۵ (طہٰ:125)
’’وہ کہے گا اے رب! کیوں اُٹھالایا تو مجھ کو اندھا اور میں تو دیکھنے والا تھا‘‘۔
انسان کہے گا: اے اللہ! میں تو بڑی آنکھوں والا تھا۔ میری نظر ایسی تھی کہ Ultrasound والے بھی بعد میں بتاتے تھے میں تو پہلے بتادیا کرتا تھا۔ اتنی تیز نگاہیں تھیں۔ مجھ سے کوئی بچ کے نہیں جاسکتا تھا۔ آج آپ نے مجھے اندھا کھڑا کردیا۔ یہ کیا معاملہ ہوگیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اے میرے بندے! دنیا میں تو نے میرے احکامات کو بھلادیا آج ہم نے تجھے بھلادیا۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
نگاہوں کو جھکالینا:
میرے بھائیو! اگر آقاﷺ کا دیدار خواب میں چاہتے ہیں اور محشر کے میدان میں شفاعت چاہتے ہیں، تو اتنی بڑی بڑی نعمتوں کی کوئی قیمت دینی پڑے گی۔ وہ قیمت کیا ہے؟ نگاہوں کو نامحرم سے جھکالیجیے۔ نگاہوں کو نامحرم سے جھکالیجیے۔ نگاہوں کو نامحرم سے جھکالیجیے۔ پھر دنیا میں بھی اللہ ایمان کی حلاوت عطا فرمائیں گے۔ دلوں میں بھی سکون عطا فرمائیں گے۔ اور جنت میں بھی نبیﷺ کا ساتھ عطا فرمائیں گے۔ اپنا دیدار بھی عطا فرمائیں گے۔ آقاﷺ کا دیدار بھی عطا فرمائیں گے۔ جو آج یہ قیمت دینے کو تیار ہوجائیں گے تو دنیا میں اگر دیدار نصیب نہ بھی ہوا تو جنت میں اللہ تعالیٰ آقاﷺ کا دیدار عطا فرمائیں گے اگر آقاﷺ کا دیدار چاہتے ہیں۔ بات2+2 = 4 ہے۔ زیادہ لمبی چوڑی بات نہیں ہے۔ امید ہے سمجھ میں آگئی ہوگی کہ اللہ نبیﷺ کے دیدار کی قیمت دینی پڑے گی۔ اللہ کے محبوبﷺ کا دیدار بڑی قیمتی چیز ہے، بہت بڑی نعمت ہے، جس نے آج یہ قیمت ادا کی وہ اللہ اور آقاﷺ کا دیدار کرے گا۔ جو بندہ اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے ایمان کی حلاوت عطا کرے گا۔
مختصر جائزہ:
خواب کے سلسلے میں جو آداب بیان ہوئے۔ اُن کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ انسان اچھے خوابوں کو پسند کرے اور اُس سے خوش ہو۔ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو بڑے لوگ ہیں وہ چھوٹوں سے خواب معلوم کریں۔ مسجد میں خواب معلوم کریں۔ مسجد میں خواب سُنیں۔ تعبیر بیان کرتے ہوئے دعا کریں۔ خواب دیکھنے والا کسی نیک بندے سے خواب کی تعبیر پوچھے ہرنیک آدمی بھی تعبیر نہیں دے سکتا۔ یہ فن بھی اللہ اپنے کچھ مخصوص لوگوں کو عطا فرماتے ہیں۔ اور خواب صرف نیک لوگوں سے اور محبت کرنے والوں سے بیان کریں۔ اور بُرے خواب کے اوپر
اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
پڑھیں۔ اُٹھ کر نماز پڑھیںاور بُرے خواب کا کسی سے تذکرہ نہ کریں۔ ایک اور بات بھی ہے کہ جو بندہ سنت کے مطابق دائیں کروٹ سوتا ہے اُس کو بُرے خواب نہیں آتے، اور جو بائیں کروٹ خلافِ سنت سوتا ہے اُس کو خواب بھی بُرے آتے ہیں۔ اگر ہم دائیں کروٹ سوئیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمیں بُرے خوابوں سے بچائیں گے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply