دن کے اوّل حصے کے نوافل

دن کے اوّل حصے کے نوافل

ضحیٰ کے معنی ہیں
دن کا چڑھنا

اور اشراق کا معنی ہے طلوع آفتاب

پس جب سورج طلوع ہو کر ایک نیزے کے برابر ہو جائے تو اس وقت نوافل کا پڑھنا
نماز اشراق کہلاتا ہے

1⃣ نمازِ اشراق

صلاة الضحی یعنی اشراق کا وقت طلوعِ آفتاب سے چند منٹ بعد شروع ہوتا ہے۔ اسے نمازِ فجر اور صبح کے وظائف پڑھ کر اٹھنے سے پہلے اسی مقام پر ادا کرنا چاہیے

1⃣🕢

🌹 حضورﷺ نے فرمایا

“جس آدمی نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھی, پھر سورج طلوع ہونے تک بیٹھ کر الله تعالیٰ کا ذکر کرتا رہا اور 2 رکعت نماز ادا کی اسے ایک حج اورایک عمرہ کا ثواب ملےگا

پورےایک حج اور ایک عمرہ کا

پورے ایک حج اور ایک عمرہکا ثواب ملے گا”

📘 صحیح سنن الترمذی للالبانی الجزء الاول رقم الحدیث 480

2⃣ چاشت کا وقت
آفتاب کے خوب طلوع ہو جانے پر شروع ہوتا ہے۔ جب طلوعِ آفتاب اور آغازِ ظہرکے درمیان کل وقت کا آدھا حصہ گزر جائے تو یہ چاشت کے لیے افضل وقت ہے۔
2⃣🕙
🌹 رسولﷺ نے فرمایا:

“الله تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں دن کے شروع میں میرے لئے 4⃣ رکعت نماز ادا کر میں تیرے سارے کاموں کے لئے کافی ہو جاوں گا”.

📘 رواہ الترمزی
الجزء الاول (395)

3⃣ نمازِ اوّابین

صلاۃ اوّابين
يعنى صلاۃ ضحىٰہی ہے، جو سورج اونچا ہونے اور زوال سے پہلےدو ، چار يا چھ يا آٹھ ركعت پڑھى جاتى ہے

⏰ وقت بدلنے کی وجہ سے اس کا نام بھی بدل گیا

اور ايک قول يہ ہے كہ:
“اطاعت كى طرف پلٹنے والے”
اگرچہ يہ طلوع شمس سے ليكر زوال سے پہلے تک ادا كی جا سکتی ہے

3⃣🕚
نماز اوّابین
حضرت زید بن ارقمؓ نے کچھ لوگوں کو نماز چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا تو کہا “کیا تم لوگوں کو علم نہیں کہ اس وقت کے علاوہ دوسرا وقت اس نماز اوّابین کے لئے افضل ہے اور یہ وہ وقت ہے جس کے بارے میں رسولﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ “اوّابین کا وقت تب ہی ہوتاہے جب اونٹ کے بچوں کے پاوٴں جلنے لگیں “

📘[صحیح مسلم للالبانی ،رقم الحدیث 368]

وضاحت
🌒 اگر سورج طلوع ہونے کے پندرہ بیس منٹ بعد یہ نوافل ادا کیے جائیں تو نماز اشراق کہلات ہیں ,
🌔 اگر طلوع آفتاب کے تقریباً گھنٹہ بعد ادا کیے جائیں تو نماز چاشت کہتے ہیں,
🌕اور اگر طلوع آفتاب کے دو ڈھائی گھنٹے بعد ادا کیے جائیں تو نماز اوّابین کہلاتے ہیں

⏰ ایک ہی نفل نماز ہےاوقات کی تبدیلی کے ساتھ ہی نام بھی بدل گیا اور فضیلت بھی ،،،، جسے جو وقت میسر آئے پڑھ لیں

Leave a Reply