50

دونوں خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا

کیا جمعہ کے دونوں خطبہ کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟
المستفتی:ابوالقیس ابن کبیر احمد سیتامڑھی بہار
اَلْجَوَابُ حَامِدًاوَّمُصَلِّیًاوَّمُسَلِّمًا:
دونوں خطبوں کے درمیان اگر دعا مانگے تو دل سے مانگے ، زبان سے اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا اس حالت میں درست نہیں ہے ۔
اذا خرج الا مام فلا صلاۃولا کلام الی تما مھا الخ (الدر المَختار علی ہامش ردالمحتار ج ۱ ص ۷۶۷۔ط۔س۔ج۲ص۱۵۸)
فتاوی رحیمیہ جلد ۷/ ۱۲۹ دارالاشاعت کراچی، نظام الفتاوی جلد ۶/ ۲۷،فتاوی حقانیہ جلد ۲ /۹۱ اکوڑہ خٹک،فتاوی دارالعلوم دیوبند جلد۵/ ۵۸، رقم الفتوی:۵۴۴۲۷ +۷۴۰، فتاوی علامہ یوسف بنوری ٹاؤن کراچی، رقم الفتوی:۱۴۴۱۰۲۲۰۰۱۵۱)
فقط واللہ اعلم وعلمہ اتم ۔

کَتَبَہُ الْعَبْدُمُنَوَّرُبْنُ مُصْلِح الدِّیْنْ شیخ بھاٹاباری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں