رزقِ حلال2

رزقِ حلال2

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ o (الجمعۃ: 10)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

معاشرتی حقوق کی ادائیگی
اس دنیا میں ایک مسلمان کی زندگی مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ کبھی راتوں کو جاگنا اور دن کو روزہ رکھنا ہوتا ہے، اور کبھی دن میں کھانا پینا ہوتا ہے۔ کبھی گھر والوں کے ساتھ زندگی گزارنی ہوتی ہے اور کبھی اہلِ قرابت کے ساتھ، اور کبھی اجنبیوں سے معاملات ہو رہے ہوتے ہیں۔ معاشرتی حقوق میں جو سب سے زیادہ اہم بات ہے، وہ تجارت کرنا ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰﷺ نے تجارت کے متعلق اپنی اُمت کو واضح رہنمائی فرمائی ہے۔ بعض اعمال خود کر کے دکھلائے تو وہ عمل سنت بن گیا۔ اہلِ ایمان کو فضائل سنائے گئے کہ اگر تم شریعت کے مطابق تجارت کرو گے تو اللہ ربّ العزّت قیامت کے دن تمہیں انبیاء اور شہدا کے ساتھ کھڑا کر دیں گے۔ درحقیقت تاجر کا بہت بڑا مقام ہے، لیکن اس سے مراد وہ تاجر ہے جو اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے طریقوں کو پورا کرتا ہو۔ یعنی مسلمان تاجر، ایمان والا تاجر، اللہ کے احکامات کو سامنے رکھنے والے تاجر کو اتنی بڑی عظمت دی گئی ہے۔ اور جس تاجر نے ان احکامات کا خیال نہ رکھا، من مرضی پر چلتا رہا۔ جدھر کو ہوا چل رہی ہے اُدھر کو چلتا رہا اور اللہ کے احکامات کو نہ دیکھا، نبی کے طریقوں کو نہ دیکھا تو یہی تجارت اس کو جہنم کی آگ کا ایندھن بنا دے گی۔ اس لیے تجارت اگر نبی کے طریقے پر ہے تو باعثِ جنت ہے، اور چوبیس گھنٹے کی عبادت ہے۔ اور اگر اپنی من مرضی کے مطابق ہے، بازار کے رسوم ورواج کے مطابق ہے تو یہی تجارت جہنم کا ایندھن ہے۔
رزقِ حلال کمانا کب فرض ہے؟
ہم سب جانتے ہیں کہ رزقِ حلال فرضِ عین ہے۔ نبی نے ارشاد فرمایا:
طَلَبُ کَسْبِ الْحَلَالِ فَرِیْضَۃٌ بَعْدَ الْفَرِیْضَۃِ. (مشکاۃ المصابیح: 2781)
ترجمہ: ’’فرائض کے بعد حلال کمائی کا حاصل کرنا فرض ہے‘‘۔
ہم اتنی بات تو یاد رکھتے ہیں کہ رزقِ حلال کمانا فرض ہے، لیکن ایک اہم بات بھول جاتے ہیں کہ دیگر فرائض کو ادا کر لینے کے بعد رزقِ حلال کمانا فرض ہے۔ فریضۂ عبادت جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ۔ ان تمام چیزوں کے بعد رزقِ حلال کی باری آتی ہے۔ رزقِ حلال کمانا فرض ہے تاکہ انسان دوسرے کا محتاج نہ ہو۔ سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اس کے اپنے نفس کا اور اس کے ماتحتوں کا حق ضائع نہ ہو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے عبادت کا حکم اپنے بندوں کو دیا، اسی طرح دنیا کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے بندوں کو تجارت کا حکم دیا۔
غفلت سے بچا جائے
مال کو صحیح طریقے سے حاصل کرنا اللہ کا حکم ہے۔ اگر مال شریعت کے مطابق حاصل کیا جائے تو یہ عبادت ہے، لیکن اس کی کمائی میں اتنا نہ لگے کہ اللہ کی یاد بھول جائے، آخرت بھول جائے۔ اللہ ربّ العزّت فرماتے ہیں:
وَ ابْتَغِ فِيْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَ لَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا
(القصص: 77)
ترجمہ: ’’اور اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کے ذریعے آخرت والا گھر بنانے کی کوشش کرو، اور دنیا میں سے بھی اپنے حصے کو نظر انداز نہ کرو‘‘۔
یعنی اس مال کے ذریعہ آخرت کو کمانا ہے، جب اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرکے کمائیں گے تو اس کے نتیجے میں آخرت کا ثواب ملے گا۔ اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ آخرت بنانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کو بالکل نظر انداز کر دو، بلکہ ضرورت کے مطابق دنیا کا سامان رکھنے میں اور کمانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بس اتنا منہمک نہیں ہونا کہ آخرت میں نقصان اُٹھانا پڑے۔
کسبِ حلال میں دو چیزوں کی رعایت
کسبِ حلال میں دو چیزوں کی بہت زیادہ رعایت رکھنی چاہیے:
(۱) حلال طریقے سے، سمجھ کر، علماء سے پوچھ کر وہ طریقے اختیار کیے جائیں جو حرام سے انسان کو بچائیں اور حلال تک محدود رکھیں۔ حلال بہت واضح، کھلا اور وسیع ہے۔ کیوںکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو کمانے کا کہا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حلال ختم ہوجائے اور بندہ لاچار ہو کر حرام کمائے۔ ہاں! اس کے لیے تھوڑا صبر کرنا پڑتا ہے۔ آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ رزقِ حلال کو حاصل کرنے میں اتنا مشغول نہ ہوجائے کہ اللہ کی یاد سے غافل ہوجائے۔ نماز کا وقت ہے تو نماز کی پروا نہیں۔ سامنے نامحرم عورت آگئی اس کو دیکھنے میں لگ گیا۔ مال بیچنے کے لیے جھوٹ بول رہا ہے۔ حلال کمانے میں  اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
رزقِ حلال کے لیے کوشش کرنا
سیدنا علی سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے کہ بندے پر حلال کمائی کی وجہ سے جو تھکن، پریشانی اور جو اُلجھنیں آتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ انسان کے بہت سارے گناہ ایسے ہیں جو فقط رزقِ حلال کی کوشش میں پہنچنے والی تکلیف پر معاف ہو جاتے ہیں۔ (مجمع الزوائد: باب شدّۃ البلاء)
انسان رزقِ حلال کے لیے کوشش کرے۔ معاش کے لیے فکر کرے۔ اس فکر میں تھوڑی بہت جو پریشانی آتی ہے، اس کی وجہ سےبہت سارے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ وہ گناہ ایسے ہیں جو کسی اور ذریعہ سے معاف نہیں ہوتے۔ جیسا کہ ایک حدیث شریف میں اس کا ذکر آتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ نہ نماز ہے، نہ روزہ، نہ حج ہے، نہ عمرہ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! پھر ان کا کفارہ کیا چیز ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ غم جو رزقِ حلال کے حصول میں پیش آئے۔ (معجم اوسط: 134/1)
حلال کمائی جہاد ہے
حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کیا گیا ہے کہ حلال کمائی جہاد ہے۔
(تخریج أحادیث علوم الدّین: 583/2)
اور واقعتاً آج کے زمانے میں تو بہت بڑا جہاد ہے۔ حلال تک اپنے آپ کو محدود رکھنے کے لیے بڑی محنت ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (النّساء:29)
ترجمہ: ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ‘‘۔
تجارت اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے انعامات میں سے ایک انعام ہے۔ رزقِ حلال کے ذریعے بھلائی، اور بھلائی کے ذریعے رزقِ حلال کو تلاش کرو۔
اپنے ہاتھ سے کمانا
حضرت مقدام بن معدیکرب سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا: کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا نہیں کھایا۔ اللہ کے نبی حضرت داؤدd اپنے ہاتھ سے کماکر کھایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: 1966)
چناںچہ حضرت داؤد زرہ بناتے اور اس سے حاصل کمائی کو استعمال کرتے تھے۔ علماء نے اس حدیث سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ ملازمت سے بہتر ہے کہ انسان اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرے۔ کیوںکہ نبی نے فرمایا ہے: کسی نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا نہیں کھایا۔یعنی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھانا پسندیدہ ہے۔ ایک صحابی حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ نبی سے پوچھا گیا کہ کونسی کمائی بہتر ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے ہاتھ سے کماکر کھانا اور بیعِ مبرور۔ (التلخیص الحبیر: باب ما یصحّ بہ البیع)
یعنی ہاتھ میں کوئی ہنر ہو، اور انسان اس ہنر کی مدد سے مال کمائے۔ جیسے کپڑا بننا، برتن بنانا، سلائی کرنا وغیرہ۔ الغرض جس میں محنت شامل ہو اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ اور اس کے بعد جس کا درجہ ہے، وہ ہے بیعِ مبرور۔ ایسی تجارت جو مبرور ہو۔
بیعِ مبرور
ایسی تجارت جو اللہ کےحکم اور نبی کے طریقے کے مطابق ہو۔ یعنی شریعت کے مطابق خریدنا بھی ہو اور بیچنا بھی ہو۔ شریعت کے لحاظ سے جو چیزیں منع ہیں انسان اس سے اپنے آپ کو بچائے۔ دھوکہ نہیں دینا، سودی طریقہ اختیار نہیں کرنا، فاسد معاملہ نہیں کرنا، مشتبہ اُمور سے بچنا۔ اس طرح سے انسان جب معاملات کرے گا تو اسے بیعِ مبرور کہیں گے۔
خاتون کا سوت کاتنے کا واقعہ
پرانے زمانے کی بات ہے ایک خاتون مفتی صاحب سے مسئلہ پوچھنے آئیں۔ حضرت! میں سوت کاتتی ہوں کپڑے کا۔ جیسے کہ بعضی عورتیں سویٹر بُنتی ہیں۔ کہنے لگی کہ رات کو چاند کی روشنی میں بھی میں اس کو کرلیتی ہوں۔ کبھی اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ دِیا جلایا جاسکے اور گھر میں روشنی کی جاسکے تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ سرکاری سواری گزر رہی ہوتی ہے۔ اس زمانے میں جب رات کے وقت بادشاہ کی سواری گزرتی تو اس کے سپاہی آگے روشنی کیا کرتے تھے۔ اس عورت نے کہا کہ سواری کے گزرتے وقت میں میں سرکاری روشنی میں بعض اوقات سوت کاٹ لیتی ہوں۔ کیا اس روشنی کا استعمال کرنا میرے لیے جائز ہے؟ چاند کی روشنی تو سب کے لیے ٹھیک ہے، لیکن یہ سرکاری روشنی جس کے تیل میں عام طور پر سرکاری مال شامل ہوتا ہے، کیا اس کا استعمال جائز ہے؟ فتویٰ دینے والے نے کہا کہ تیرے لیے جائز نہیں، تم اُتنی کمائی صدقہ کر دیا کرو۔
خیر! عورت یہ جواب سن کر چلی گئی۔ کوئی صاحب بیٹھے تھے، کہنے لگے: اتنی سخت بات آپ نے اس سے کر دی۔ مفتی صاحب نے جواب میں کہا: جس معیار کے تقویٰ کے ساتھ اس نے بات پوچھی تھی، اس کو یہی جواب دینا ضروری تھا۔
کمائی کے اَثرات
ایک زمانہ تو وہ تھا کہ عورتیں بھی خدا خوفی کے ساتھ زندگی گزارا کرتی تھیں کہ ہم نے اپنی کمائی کو حلال کرنا ہے، اولاد کو حلال کھلانا ہے تاکہ وہ پاک دامنی کی زندگی گزاریں۔ جب ہم حرام کھائیں گے اور کھلائیں گے تو اولاد نے بے حیائی دکھانی ہے۔ جسم کا جو ٹشو، جسم کا جو حصہ حرام کمائی سے بنے گا وہ حرام کام کیے بغیر رہ نہیں سکے گا۔ اگر اولاد کو حلال کھلائیں گے تو پھر کوئی پریشانی کی بات نہیں، اِن شاء اللہ وہ بے حیائی کی طرف نہیں جائے گی۔ ہاں! اگر حرام کھلائیں گے تو جو یہ معاملات پیش آرہے ہیں، ہم روز دیکھ رہے ہیں، دن رات دیکھ رہے ہیں تو یہ اسی طرح ہوں گے۔
سچے تاجروں کا مقام
حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے نبی نے فرمایا: سچے، امانت دار مسلمان تاجر کا حشر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 2187)
اسی کے قریب قریب ایک اور روایت بھی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ آپﷺ نے اِرشاد فرمایا: سچا، امانت دار تاجر (قیامت کے دن) حضراتِ انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (سننِ ترمذی: رقم 1209)
ایک اور روایت میں حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے اِرشاد فرمایا: سچا تاجر قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سایہ میں ہوگا۔ (ترغیب وترہیب: ص 204)
اللہ اکبر! اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ جس دن کوئی اور سایہ نہ ہوگا۔ یہ سچائی کے ساتھ تجارت کرنے والا اللہ کے عرش کے سایہ میں ہوگا۔ حلال اور شریعت کے مطابق تجارت کرنا یہ ایک مشکل ترین کام ہے۔ مال اور اس کے نفع کے مقابلے میں اکثر اوقات انسان شریعت کی حدود کو کراس کر جاتا ہے، اور بعض اوقات اَخلاقی حدود کو بھی کراس کرجاتا ہے۔ اور آج کل کے دور میں تو اس پر عمل کرنا اور بھی زیادہ باعثِ فضلیت ہوگا۔ کیوںکہ حدیث شریف میں آتا ہے جس نے اُمت کے بگاڑ کے وقت سنت کو زندہ کیا تو اسے سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (کامل ابنِ عدی: 327/2)
یہ وقت اُمت کے بگاڑ کا ہے، جو سچائی کے ساتھ تجارت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو بہت زیادہ برکتیں عطا فرمائیں گے۔
سچا تاجر اور جنت
حضرت ابو ذرّ اور حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والا سچا تاجر ہوگا۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ: رقم 311, 312)
حضرت ابن عباس سے نقل کیا گیا ہے کہ سچے تاجر کو جنت سے روکنے والی کوئی چیز نہ ہوگی۔ (تحفۃ الاحوذی: رقم 1209)
پاکیزہ کمائی کے لیے صفات
کمائی کے پاکیزہ ہونے کے لیے کیا صفات ہونی چاہییں؟ کیا اَوصاف ہونے چاہییں؟اس میں بھی نبی کی ذاتِ اقدس نمونہ ہے۔ اُمت کے لیے چار بنیادی باتیں ارشاد فرمائیں۔ ان کو دل کے کانوں سے سنیے! حضرت ابو اُمامہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کسی تاجر میں یہ چار باتیں ہوں گی تو اس کی کمائی پاکیزہ (حلال) ہوگی:
(۱) جب خریدے تو برائی نہ کرے۔
(۲) جب فروخت کرے تو تعریف نہ کرے۔
(۳) اگر کوئی کمی نقص عیب ہو تو اس کو نہ چھپائے۔
(۴) درمیان میں قسمیں نہ کھائے۔ (عمدۃ القارئ شرح صحیح البخاری: 197/12)
حضرت معاذ بن جبل کی حدیثِ مبارک میں ہے کہ تاجروں کی کمائی میں پاکیزہ کمائی وہ ہے جس میں یہ بات ہو کہ جب وہ بات کرے تو جھوٹ نہ بولے، امانت رکھی جائے تو خیانت نہ کرے، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی نہ کرے، چیز خریدے تو برائی بیان نہ کرے، جب بیچنے لگے تو تعریف بیان نہ کرے، اگر اُن کے ذمے دینا ہو تو ٹال مٹول نہ کرے، اور اگر کسی سے لینا ہو تو سختی نہ کرے (دوسرے کے پاس دینے کے لیے نہیں ہے تو لینے میں اسے تنگ نہ کرے)۔ (شعب الایمان للبیہقی: رقم 4506)
عمومی اَحوال
یہ چند ایسی باتیں ہیں جس کے اندر آگئیں اس کی کمائی حلال اور پاکیزہ ہوگی۔ اس کی تھوڑی سی تفصیل بیان کرلیتے ہیں۔ خریدتے وقت برائی نکالنے کا کیا مطلب ہے؟ عام طور سے دیکھا گیا کہ کوئی چیز بیچنے آجائے، اب اس کے اندر اس کے نقص اور عیب بیان اس لیے کرتے ہیں کہ اگلا بندہ پریشان ہوکر گھاٹے سے دے کر چلا جائے اور یہ کم پیسوں میں خریدلے۔ فرمایا کہ ایسا نہ کیا جائے۔ ہاں! اگر واقعتاً اس کے اندر کوئی عیب ہے تو عیب اس کو بتا دیا جائے لیکن کم پیسوں پر نہیں۔ اس کی جو صحیح پوزیشن ہے اس کے حساب سے خریدا جائے۔ عیب دار چیز کو عیب کے حساب سے خریدا جائے، صحیح چیز کو صحیح چیز کے حساب سے خریدا جائے۔ صحیح چیز کے عیب کو کھول کر بیان کرنا غلط ہے، اور اس کو سستا خریدنا یہ آپ کی تجارت کو حرام کرسکتا ہے۔ یہ تجارت کے اندر خرابی پیدا کر دے گا۔
اور اسی طرح یہ جو فرمایا کہ ’’جب فروخت کرے تو تعریف نہ کرے‘‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان تعریف کے اندرمبالغہ آرائی نہ کرے۔ اتنی زیادہ تعریف نہ کرے کہ اگلا بندہ اس کی چرب زبانی (Salesmanship) سے متاثر ہوکر چیز خرید لے اور بعد میں افسوس کرے کہ یہ میں کیا لے آیا ہوں۔ ہاں! اگر اس کے اندر کچھ اَوصاف ہیں تو بیان کر دے۔
چوںکہ خود (میرا) بھی تجارت سے تعلق ہے۔ یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ اللہ ربّ العزّت نے میرے شیخ حضرت جی مولانا ذو الفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم کی صحبت کی برکت سے مجھے دوکان کی سیٹ سے اُٹھاکر مسجد کے منبر پر بٹھا دیا۔ یہ محض اللہ کا انعام ہے الحمدللہ! ورنہ 1990 سے دوکانداری ہی کر رہا تھا۔ 2003 میں حضرت جی سے تعلق ہوا اور اس کے بعد محبتیں بڑھتی چلی گئیں۔ دعائیں، شفقتیں بے پناہ بڑھتی چلی گئیں الحمدللہ! 2008 اکتوبر میں حضرت جی نے سلسلہ کے کام کے لیے ذمہ دار بنا دیا۔ بھئی! یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے۔ حضرت کی دعائیں ہیں۔ کہاں دوکان کی سیٹ تھی، کہاں مسجد کا منبر۔ ابھی بھی دوکان پے بیٹھتا ہوں، کاروبار کرتا ہوں۔ نماز کا وقت ہوتا ہے تو مسجد چلا جاتا ہوں اور بیان کے لیے منبر پر بیٹھ جاتا ہوں۔ یہ اللہ کا انعام ہے الحمدللہ!
بازار والے لوگ اپنی چیز کی جب تعریف بیان کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت کسی دوسرے کی چیز کی برائی بھی بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ تو بھائی! اس کی کیا ضرورت ہے؟ آپ نے کسی چیز کی تعریف بیان کرنی ہے تو کیجیے، لیکن اس میں مبالغہ نہ کریں۔ کسی دوسرے کی چیز کی برائی بیان نہ کریں۔ بلکہ علماء نے فرمایا ہے کہ اس میں محتاط رہیں۔ اگر محتاط رہیں گے تو قیامت کے دن پکڑ نہیں ہوگی۔ کیوںکہ قرآن پاک میں آتا ہے:
مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌo (قٓ: 18)
ترجمہ: ’’انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار‘‘۔
جو جملہ تاجر ہو یا کوئی بھی ہو زبان سے نکالتا ہے، وہ لکھ لیا جاتا ہے۔ اگر مبالغہ کیا اور چرب زبانی سے کام لیا تو یہ چیز قیامت کے دن گھاٹے کا سبب بن جائے گی۔
دھوکہ دینے والے کے لیے وعید
تیسری بات کسی بھی چیز میں اگر کوئی عیب ہے، نقص ہے، خرابی ہے تو اسے بیان کرے۔ ایسا نہ ہو کہ بغیر بیان کیے چھپا کر دے۔ ہمارے بازاروں میں کتنے ہی دوکاندار ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ نیا خریدتے نہیں پرانا بیچتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ نیا خریدتے نہیں پرانا بیچتے ہیں۔ یعنی پرانا خریدتے ہیں اور اسی کو ٹھیک کرکے، رنگ کرکے نیا بنا کر بیچ دیتے ہیں۔ یہ مسلمان کو دھوکہ دینا ہے۔ اور جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 146)
قسم کھا کر مال بیچنا
چوتھی بات بیان فرمائی کہ سودا ہوتے وقت قسم نہ کھائے۔ قسم کھانے سے سودا تو بِک جاتا ہے، لیکن برکت اُٹھالی جاتی ہے۔ قسم کس کی کھاتے ہیں؟ اللہ ربّ العزّت کی۔ اللہ تعالیٰ کے نام کو اتنا حقیر کر دیتے ہیں کہ دو سو روپے کی چیز کو بیچ رہے ہوتے ہیں اور درمیان میں اللہ کا نام لے آتے ہیں۔ کتنے شرم کا مقام ہے کہ چھوٹا موٹا کوئی سودا کرنا ہے، سو دو سو کی بات ہے اور درمیان میں اللہ کے نام کی قسم کھالی۔ فرمایا کہ قسمیں اُٹھانے والے تاجر سے برکتیں اُٹھالی جاتی ہیں۔
قرض بر وقت ادا کرنا
ایک اور اہم بات یہ بھی ارشاد فرمائی کہ اگر تاجر کے ذمہ کسی کا قرضہ ہے، کسی پارٹی سے مال لیا ہوا ہے اور Payment کرنی ہے۔ اب ٹال مٹول سے کام نہ لے۔ ادائیگی وقت پر کرنے کی کوشش کرے۔ ہاں! اگر کسی کو کوئی پریشانی ہے تو محبت کے ساتھ، عاجزی کے ساتھ بتادے کہ غلطی ہوگئی، مجھے معاف کردیجیے! میں کوشش میں ہوں۔ اپنی طرف سے کوشش میں بالکل کمی نہ کرے۔ نیت پر معاملہ ہے۔ آپ کی نیت پوری ہے سیل نہ ہوئی تو بچت کی گنجایش نکل آئے گی، لیکن اگر نیت کے اندر ہی کھوٹ ہے تو پھر معاملہ بہت مشکل ہے۔ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ. (صحیح البخاري: رقم 1)
ترجمہ: ’’اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے‘‘۔
آج ہمارے بعض دوکاندار ایسے ہوتے ہیں جو اپنے سپلائر سے مال ایک دفعہ خریدتے ہیں۔ چیک سپلائر کو دو دفعہ آتا ہے۔ آرڈر دے دیا اور پچاس ہزار کا مال آگیا۔ دوکاندار نے چیک کاٹ کر دے دیا جس میں مثلاً نوے دن بعد کی تاریخ لکھی ہوئی تھی۔ یہ چیک تو دوکاندار نے سپلائر کو تھما دیا۔ نوے دن بعد سپلائر نے کہا کہ چلو! بینک سے چیک کیش کراتے ہیں۔ جب وہ چیک بینک میں ڈالتا ہے تو بینک چیک واپس بھیج دیتا ہے کہ جناب! اس کے اکاؤنٹ میں پیسے نہیں ہیں۔ تو سپلائر کے پاس دو دفعہ چیک آتا ہے۔ یہ بات بہت غلط ہے۔ ٹال مٹول سے کام نہ لینا چاہیے۔ اگر پیسے موجود ہیں اور خریدنے والا ٹال مٹول کر رہا ہے تو یہ ظلم کر رہا ہے۔
مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ. (سنن أبي داود: رقم 3345)
ترجمہ: ’’مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے‘‘۔
ہم نے دیکھا کہ جس دوکاندار نے اپنے سپلائر کو وقت پر پیسے دے دیے تو اس دوکاندار کو مال کی کبھی کمی نہیں ہوئی۔ یہ اُصول یاد رکھیے! 25سال ہوگئے ہیں تجارت کرتے ہوئے الحمدللہ! جب آپ Payment میں ماسٹر بن جائیں، اور وقت پر ادا کر دیں تو آپ کو مال کی کوئی کمی نہیں ہوگی اِن شاء اللہ۔ سپلائر زیادہ ہو جائیں گے اور آپ کہیں گے کہ مجھے ابھی مال نہیں چاہیے۔ جب آپ Payment میں سپلائر کو تنگ کریں گے، اس کے بعد پھر آپ کو پریشانی ہی پریشانی ہو گی۔ ہربندہ کہے گا کہ یار! اس کے پاس نہیں جانا، اس کو مال نہیں دینا۔ عزت بھی ختم، کاروبار بھی ختم۔
اور چھٹی بات جو آقاﷺ نے ارشاد فرمائی کہ اگر لینا ہو کسی سے تو اس کے اندر سختی نہ کرے۔ گالی گلوچ نہ کرے۔ محبت کے ساتھ حکمت کے ساتھ بات کرے۔
یہ چھ چیزیں جس تاجر میں ہوں گی، نبی نے ارشاد فرمایا کہ اس تاجر کی کمائی حلال، پاکیزہ ہے۔
رزق کے ذرائع
حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے آپ نے فرمایا: رزق کے بیس دروازے ہیں۔اُنّیس اس میں سے تجارت کے لیے ہیں۔ (کنز العمال: رقم 9358)
اللہ تعالیٰ نے تجارت میں بہت وُسعت رکھی ہے۔ تاجر کو اس کی اہمیت معلوم ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کتنی اہمیت ہے اور اس کی تجارت میں کتنی برکت رکھی ہے۔ علامہ عینی نے بیان کیا ہے کہ مال کمانے کے عام طور سے 3 ذرائع زیادہ ہوتے ہیں: ایک زراعت، دوسرا تجارت، تیسرا صنعت۔ فرمایا: ان تینوں میں سے کون سا بہتر ہے؟ علماء کے اندر بات چلی تو مختلف اقوال آئے۔ امام شافعی تجارت کو افضل قرار دیتے ہیں۔ کسی کے ہاں زراعت افضل ہے، کیوں کہ اس میں توکل زیادہ ہے۔ اس لیے کہ انسان بیج ڈال کر محنت کرکے اس کا خیال کرتا رہتا ہے۔ باقی ٹوٹل دارومدار اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے۔ کسان توکل کرتا رہتا ہے کہ اللہ! مہربانی فرما دیجیے۔ امام نووی نے فرمایا کہ زراعت اور صنعت یعنی ہاتھ سے کام کرنا۔ جس کام کا تعلق ہاتھ سے ہے وہ افضل ہے۔ جیسا کہ نبی سے پوچھا گیا: کون سی کمائی افضل ہے؟ فرمایا: ہاتھ کی کمائی۔ (التلخیص الحبیر: باب ما یصحّ بہ البیع)
بہرحال جس کو اللہ ربّ العزّت جو عطا فرما دے، وہ ایمان داری کے ساتھ، شریعت کے امور کے مطابق لگا رہے۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا رہے اور ذمہ داری پوری کرے۔
بہترین تجارت
حضرت ابنِ عمر سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر اہلِ جنت کو تجارت کی اجازت دی جاتی تو وہ کپڑے اور عطر کی تجارت کرتے۔ (کنز العمال: رقم 9349)
اگر جنت میں تجارت کا معاملہ ہوتا تو کپڑے اور عطر کی تجارت کی جاتی۔ معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں تجارت کے لیے زیادہ محبوب ہیں۔ ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ کپڑوں کی تجارت کیا کرتے تھے۔ اس سے بھی آگے چلیں تو سیدنا حضرت صدیقِ اکبر جب اسلام لے کر آئے تو اُن کی کپڑے کی چھ دوکانیں تھیں۔ اور جب خلافت کے لیے مقرر کیے گئے تو اگلے دن کپڑا لے کر بیچنے کے لیے نکلے۔ صحابہ نے دیکھ کر کہا کہ اگر آپ کپڑا بیچنے لگیں گے تو اُمت کا خیال کون رکھے گا؟ پھر مشورے کے ساتھ بیت المال میں سے اتنی رقم لینے کی اجازت ملی جو ایک عام مسلمان کی ہوا کرتی۔
بہترین ذکر اور بہترین رزق
ایک روایت میں ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں میں نے نبی کو فرماتے ہوئے سنا کہ بہترین ذکر ذکرِ خفی ہے، اور بہترین رزق وہ ہے جو گزارے کے لیے کافی ہو جائے۔ (العلل لابن أبي حاتم: 1926)
اب بات آگئی ذکرِ خفی کی۔ الحمدللہ! ہمارے سلسلے میں جو مراقبہ ہے یہ ذکرِ خفی ہی ہے۔ اور نبی فرما رہے ہیں کہ ذکرِ خفی بہترین ذکر ہے یعنی جس کی خبر کسی کو نہ ہو اور انسان بس اپنے دل میں اللہ کو یاد کرے ہر طرف سے ہٹ کٹ کے۔ اور بہترین رزق جو انسان کے گزارے کے لیے کافی ہوجائے۔ یقیناً تھوڑا رزق، اتنا تھوڑا جو کفایت کر جائے، اس زیادہ سے بہتر ہے جو انسان کو غفلت میں ڈال دے۔ بعض دفعہ رزق تھوڑا پورا پورا ہوتا ہے۔ Hand to Mouthچل رہا ہے۔ انسان بس زندگی گزار رہا ہوتا ہے، اس کے پاس فضول خرچی کے لیے پیسہ ہی کوئی نہیں۔ اب یہ تھوڑا رزق اس زیادہ سے بہت بہتر ہے جو کثرت سے تو آجائے، لیکن انسان نمائش بینی میں پڑ جائے اور اِدھر اُدھر کے کاموں میں لگ جائے۔ اولاد یا بیوی نافرمان ہوجائے۔ آئے دن بازاروں کے چکر لگنے لگیں اور نافرمانی والی جگہوں پر انسان جانے لگے۔ اس سے بہت بہتر ہے کہ انسان کے پاس تھوڑا ہو جو اس کی ضرورت کو پورا کر دے اور اسے دائیں بائیں نہ ہونے دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا چُنا ہوا بندہ ہے۔ (ابنِ ابی الدنیا: 126/2)
زُہد کیا ہے؟
حضرت عمر بن خطاب سے یمن کے کچھ لوگ ملے۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرنے والے ہیں۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ نہیں، بلکہ آپ لوگوں کے مال پر بھروسا کرنے والے ہیں۔ میں آپ لوگوں کو بتاؤں کہ توکل کرنے والے کون ہیں؟ یہ وہ ہیں جو پہلے زمین میں بیج ڈالتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہیں۔ (شعب الایمان للبیہقی)
ایک آدمی فقط اللہ اللہ کرتا جائے اور مکمل دوسروں پر انحصار کرے کہ فلاں میری مدد کرتا رہے۔ یہ اس درجے کا نہیں گو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، لیکن زیادہ قریب اللہ تعالیٰ کے وہ ہے جو محنت کرے۔ حضرت فاروقِ اعظم رزقِ حلال کی فضیلت کے بارے میں ایک عجیب بات فرماتے تھے: میرا دل کرتا ہے کہ میں ایسی جگہ مروں یعنی مجھے ایسے حال میں موت آئے کہ میں (شریعت کے مطابق) بیوی بچوں کے لیے رزقِ حلال کی کمائی کی فکر میں لگا ہوں۔
بڑھئی کا پیشہ بھی حضراتِ انبیاءf نے کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا حضرت زکریاd بڑھئی تھے۔ (مسلم: 2379)
کاشت کاری کے فضائل
جو لوگ زراعت کرتے ہیں۔ کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبیکریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مسلمان کچھ کاشت کرکے اُگاتا ہے، پھر اسے کوئی کھالے تو (کاشت کرنے والے کے لیے) صدقہ ہے، جس نے (اگر) چوری کرکے کھالیا (پھر بھی) اس کے لیے (کاشت والے کے لیے) صدقہ ہے، کوئی درندہ کھالے (پھر بھی) اس کے لیے صدقہ ہے، کوئی پرندہ کھالے (پھر بھی) اس کے لیے صدقہ ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 3500)
حضرت ابو ایوب انصاری فرماتے ہیں کہ آپنے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کوئی پودا یا درخت بوتا ہے یعنی جس مقدار سے وہ نکلتا ہے یعنی پھلتا ہے پھولتا ہے اس کے اندر پھل پھول آتے ہیں، اسی مقدار سے بونے والے کو اجر ملتا ہے۔ اس کے حق میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (مجمع الزوائد: 70/4)
حضرت ابو رداء دِمشق میں کچھ بَو رہے تھے۔ ایک آدمی اُن کے پاس سے گزرا تو حیرت سے کہنے لگا کہ آپ ایسا کر رہے ہیں حالاںکہ آپ اللہ کے رسولﷺ کے صحابی ہیں؟ حضرت ابو درداء نے اس سے فرمایا کہ دیکھو! میرے متعلق ایسی بات نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی پودا یا درخت لگاتا ہے، پھر اس سے جو بھی انسان یا اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے کوئی بھی مخلوق فائدہ اُٹھائے تو اس کے (کاشت کرنے والے کے) حق میں صدقہ ہے۔ (مسند احمد: 444/6)
اس سے معلوم ہوا زراعت کا پیشہ یا باغبانی کا پیشہ ایسا ہے جو مخلوق کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ زیادہ خیر اور صدقہ کا سبب بن جاتا ہے۔
کاشت کاری کی جائے چاہے قیامت آجائے
اگر کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور قیامت آجائے تو پھر کیا کرے؟ دیکھیے کہ نبی نے شجرکاری کی اہمیت کو کتنا اُجاگر فرمایا ہے۔
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر قیامت قائم ہوجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو، اگر اتنی طاقت ہو کہ اسے بَو سکتا ہے تو بَو دے چھوڑے نہیں۔ (مسند احمد: رقم 12902)
حضرت معاذ بن انس فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کوئی تعمیر کی اس طرح کہ نہ کسی پر ظلم کیا ہو اور نہ حد سے تجاوز کیا ہو (اپنی ملکیت والی جگہ پر جس پر کسی اور کا حق متعلق نہ ہو) یا کوئی آدمی درخت لگائے اس طرح کہ نہ کسی پر ظلم کیا ہو اور نہ حد سے تجاوز کیا ہو (اپنی ملکیت والی جگہ پر جس پر کسی اور کا حق متعلق نہ ہو) جب تک اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس سے فائدہ اُٹھاتی رہے گی، اسے ثواب ملتا رہے گا۔ (مسند احمد: 438/3)
مثلاً کوئی مکان ایسا بنایا جس میں وراثت کے اعتبار سے کسی کا حق نہیں مارا ہوا تھا۔ یا ایسا مکان بنایا جس میں ناحق پیسہ نہیں لگا تھا۔ اب جب تک لوگ اس میں رہیں گے خواہ یہ بنانے والا دنیا میں ہو یا دنیا سے چلا جائے، اس کو ثواب ملتا رہے گا۔ یا اپنی ایسی زمین پر درخت لگایا جس زمین پر باعتبارِ وراثت نہ کسی کا حق تھا اور نہ ہی یہ زمین کسی اور غلط طریقے سے لی تھی۔ تو جب تک وہ درخت لگا رہے گا، اس کے پھل سے لوگ فائدہ اُٹھاتے رہیں گے، اس کے سائے سے لوگ فائدہ اُٹھاتے رہیں گے حتیٰ کہ ایسا موقع بھی آجائے کہ وہ درخت ختم ہوجائے اور اس کی لکڑی جلا دی جائے، استعمال میں آجائے، کسی کے کام آجائے پھر بھی درخت لگانے والے کو ثواب ملتا رہے گا۔ دیکھیے! ان امور میں شرط کیا لگائی؟ ظلم اور ناحق نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی کا حق مار کے کیا گیا ہو۔ پھر یہ ثواب نہیں ملے گا اور بات بدل جائے گی۔
تقسیمِ رزق اور دین
حضرت عبداللہ بن مسعودفرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے تمہارے درمیان اخلاق کو ایسے ہی تقسیم فرمایا ہے جیسا کہ تمہارے درمیان رزق کو تقسیم کیا ہے۔ اللہ پاک دنیا اسے بھی دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں اور اُسے بھی دیتے ہیں جس سے محبت نہیں فرماتے، لیکن دین صرف اس کو دیتے ہیں جس سے اللہ پاک محبت فرماتے ہیں۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 4994)
اللہ تعالیٰ دنیا یاروں کو بھی دیتے ہیں غداروں کو بھی دیتے ہیں، لیکن دین فقط پیاروں کو دیتے ہیں۔ بس! اللہ پاک نے جسے دین دیا یہ دلیل ہے اس بات کی اللہ پاک اس سے محبت فرماتے ہیں۔ یہ بالکل ہمارے مزاج کے برعکس بات ہے۔ ہم کیا سمجھتے ہیں کہ جسے خوب دنیا مل رہی ہے اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے اگرچہ اخلاق کیسے ہی ہوں، معاملات کیسے ہی برے کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو کون پسند ہے اور کون ناپسند ہے؟ اس کا فیصلہ ہم نہیں کر سکتے۔ یہ تو صادق ومصدوقﷺ ہی بتا سکتے ہیں۔
پریشانیوں کا بڑھنا
ایک حدیث میں نبی نے ارشاد فرمایا: جس کا مال زیادہ ہوگا اس کا غم زیادہ ہوگا۔ اور جس کا غم زیادہ ہوگا، اس کا دل اِدھر اُدھر بھٹکتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہ ہوگی کہ کدھر کو چل رہا ہے۔ اور جو اپنا ایک غم بنالے (آخرت کا غم وفکر) اللہ پاک اس کے لیے دنیا کے غموں اور فکروں سے کافی ہوجائیں گے۔ (اصلاح المال لابن ابی الدنیا: رقم 22)
جس کی ساری فکر دنیا ہی کی ہوتی ہے وہ نماز میں بھی دوکان پرہوگا۔ ہمارا کیا حال ہے؟ سارا دن دوکان میں ہوتے ہیں۔ اور جب مسجد آتے ہیں تو دوکان ہمارے اندر آجاتی ہے۔ لین دین بھی زیادہ ہوں گے، پے منٹ بھی زیادہ ہوں گی، سامان رکھنا، گوداموں کے مسئلے، سامان کا آنا جانا، چوری سے حفاظت کا مسئلہ، اکاؤنٹ کا مسئلہ، کتنے لوگ رکھنے پڑیں گے۔ تو جس کے پاس مال زیادہ ہوگا اس کی فکریں زیادہ ہوں گی۔
اِمام غزالی فرماتے ہیں: دنیا کا مال بغیروبال کے نہیں آتا۔ اگر حرام ہے تو وبال واضح ہے۔ اور اگر مال حلال ہے تو کم سے کم وبال یہ ہے کہ مال کی کثرت آدمی کو عبادات کی زیادتی سے روک دیتی ہے۔ عبادت نہیں کرپاتا۔ تہجد نہیں پڑھ پاتا۔ زیادہ بیان میں شریک نہیں ہوپاتا۔ یہ دین کےباقی کاموں میں پیچھے رہتا ہے۔ اس کی دوکان نے اس کو زنجیر ڈالی ہوتی ہے۔ (کیمیائے سعادت)
اگر مال حرام ذرائع سے ہے تو عذاب ہے، اور اگر حلال ذرائع سے ہےتو اس کو سنبھالنے میں، غور وفکر کرنے میں اتنا وقت لگ جائے گا کہ اس بندے کو آخرت کی تیاری کا وقت نہیں مل سکے گا۔ جیسا کہ ابھی حدیث شریف بیان ہوئی کہ جس کا مال زیادہ ہوگا اس کی سوچیں زیادہ ہوں گی، اس کی فکر زیادہ ہوگی۔ اس کا ذہن اِدھر اُدھر بھٹکتا رہے گا۔ ایسے شخص کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہیں کہ کدھر کو جائے، کہاں جائے اللہ کو کوئی پروا نہیں۔ اور جس شخص نے ایک فکر اختیار کرلی اللہ کی فکر، آخرت کی فکر اختیار، اللہ پاک اس کے لیے دنیا کی ساری فکروں سے کافی ہوجائیں گے۔ تو اگر ہم بھی ایک فکر بنالیں اللہ کی، اللہ کے دین کی، پھر اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی فکروں سے کافی ہوجائیں گے۔
کثرتِ مال کے نقصان پر ایک واقعہ
ایک واقعہ سنا کر بات مکمل کرتا ہوں۔ مال اللہ ربّ العزّت جتنا چاہتے ہیں اتنا ہی دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے ہم حلال طریقے سے اس کو حاصل کریں اور حرام سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اور جس کو اللہ تعالیٰ نے جس حال میں دیا ہوا ہے حلال طریقے سے کوشش اور محنت کرتا رہے، حرام کی طرف نہ بڑھے، اپنے آپ کو روک کر رکھے۔
ایک صاحب تھے بظاہر مسلمان ہوئے، مگر اندر نفاق چھپا ہوا تھا۔ نبیکی خدمت میں آتے رہے۔ غریب تھے، تو بار بار آقاﷺ کو کہتے کہ دعاکر دیں کہ مال ہو۔ آقاﷺ سمجھتے تھے کہ اس کے لیے مال کی کثرت ٹھیک نہیں۔ وہ ضد کرتا رہا۔ نبی کے ساتھ نمازیں پڑھا کرتا تھا۔ بہر حال ایک دفعہ نبی نے اس کے بار بار کہنے پر اسے مال میں کثرت کی دعا دے دی۔ پہلے چند بکریاں تھیں اب زیادہ ہوگئیں، اور زیادہ ہوگئیں حتّٰی کہ گھر میں جگہ تنگ ہوگئی۔ نبی کے پاس رہنا اس کے لیے مشکل ہوگیا۔ اب اس نے بڑا گھر تھوڑا سا دور لے لیا۔ یہ آبادی سے ہٹ کر بڑا گھر تھا۔ نماز کے لیے آتا جاتا رہا۔ بکریاں اور بڑھتی چلی گئیں۔ اب اِدھر بھی نہ رہ سکتا تھا، جگہ کم پڑ گئی تھی تو شہر کے کنارے پہ رہنے کے لیے چلا گیا۔ پھر وہاں سے کسی وادی میں چلا گیا۔ اس کی بکریاں بڑھتی چلی جا رہی تھیں۔ پہلے پہل تو ہر نماز آقاکے ساتھ ہوتی تھی، پھر دن میں ایک دو دفعہ آنا ہونے لگا، پھر جمعہ کے دن آنا شروع کر دیا۔ اب بکریوں کو سنبھالنے، دیکھنے میں نماز کی پابندی بھی اس طرح نہ رہی۔ تو نبی کے پاس آنا جانا تقریباً ختم ہوگیا۔
جب زکوٰۃ کا حکم آیا تو رسول اللہﷺ نے صحابہکو مختلف جگہوں پر زکوٰۃ کی وصولی کے لیے بھیجا۔ اس کے پاس بھی ایک قاصد بھیجا۔ قاصد نے اسے بتایا کہ دیکھو! تمہارے پاس اتنا اتنا مال ہے، اتنی تمہاری زکوٰۃ بنتی ہے۔ اس نے زکوٰۃ دینے سے عذر کیا اور کچھ غیر مناسب بھی بات کر دی۔ اس قاصد نے اُس کی بات نبیﷺ سے نقل کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ توبہ دسویں سپارے میں آیات نازل فرما دیں۔ اسے کسی نے جاکر یہ آیات سنائیں تو اپنا مال لے کر حاضرِ خدمت ہوا، مگر نبی نے قبول نہ کیا۔ نبی کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد سیدنا صدیقِ اکبر کے زمانے میں آیا۔ انہوں نے بھی قبول نہیں کیا۔ آپ کے دنیا سے جانے کے بعد حضرت عمر فاروق کے زمانے میں آیا کہ جی! زکوٰۃ لے لیجیے۔ انہوں نے فرمایا: میرے بڑوں نے نہ لیا، میں نہیں لے سکتا۔ پھر حضرت عثمان کے زمانۂ خلافت میں آیا، مگر انہوں نے بھی اس کا مال قبول نہیں کیا۔ پھر حضرت عثمان کے دور ہی میں وہ مرگیا۔
تو کثرتِ مال آدمی کو نفع دینے والا نہیں ہے۔ رزق کی تقسیم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جس کو اللہ نے جتنا دیا اس پر قناعت کرنی چاہیے۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔ آدمی صبر، شکر سے لگا رہے، اللہ تعالیٰ سے مانگتا رہے۔ حلال طریقے سے جتنا بڑھتا رہے اس میں حرج نہیں۔ انسان اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پورا کرتا رہے، نبی کے طریقوں کو پورا کرتا رہے۔ اور جو تجارت کے حقوق ہیں، مال کے حقوق ہیں، زراعت کے حقوق ہیں، زکوٰۃ ادا کرنا، صدقہ دینا۔ تمام چیزوں کی رعایت رکھے تو پھر یہ مال برا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مال کی خیر عطا فرمائے اور اس کے شر سے محفوظ فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply