55

رزقِ حلال3

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
يٰۤاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ (المؤمنون: 51)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

پاکیزہ کمائی کے لیے صفات:
کمائی کے پاکیزہ ہونے کے لیے کیا صفات ہونی چاہییں؟ کیا اَوصاف ہونے چاہییں؟اس میں بھی نبی کی ذاتِ اقدس نمونہ ہے۔ اُمت کے لیے چار بنیادی باتیں ارشاد فرمائیں۔ ان کو دل کے کانوں سے سنیے! حضرت ابو اُمامہ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کسی تاجر میں یہ چار باتیں ہوں گی تو اس کی کمائی پاکیزہ (حلال) ہوگی:
(۱) جب خریدے تو برائی نہ کرے۔
(۲) جب فروخت کرے تو تعریف نہ کرے۔
(۳) اگر کوئی کمی نقص عیب ہو تو اس کو نہ چھپائے۔
(۴) درمیان میں قسمیں نہ کھائے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: 197/12)
حدیث شریف کے مطابق اگر کسی کی تجارت میں یہ چار باتیں پائی جاتی ہیں تو اس کی کمائی حلال بھی ہے اور پاکیزہ بھی ہے۔
حضرت معاذ بن جبل کی حدیثِ مبارک میں ہے کہ تاجروں کی کمائی میں پاکیزہ کمائی وہ ہے جس میں یہ باتیں ہوں:
(۱) جب بات کرے تو جھوٹ نہ بولے۔
(۲) امانت رکھی جائے تو خیانت نہ کرے۔
(۳) وعدہ کرے تو وعدہ خلافی نہ کرے۔
(۴) چیز خریدے تو برائی بیان نہ کرے۔
(۵) جب بیچنے لگے تو تعریف بیان نہ کرے۔
(۶) اگر تاجر کے ذمے دینا ہو تو ٹال مٹول نہ کرے۔
(۷) اور اگر کسی سے لینا ہو تو سختی نہ کرے (دوسرے کے پاس دینے کے لیے نہیں ہے تو لینے میں اسے تنگ نہ کرے)۔ (شعب الایمان للبیہقی: رقم 4506)
احادیث کی وضاحت:
ان دونوں احادیث میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں ان کی مختصر وضاحت سن لیجیے۔
’’خریدے تو برائی بیان نہ کرے‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی سے کوئی چیز مثلاً کپڑا یا کوئی پلاٹ وغیرہ خریدے تو اس وقت اس چیز کی برائی بیان کرنا جس سے بیچنے والا اپنی چیز کو ہلکا سمجھے اور سودا کم پیسوں میں کر دے اور آپ کو فائدہ ہوجائے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے تاجر کو چاہیے کہ خریدتے وقت کسی کے مال کی برائی بیان نہ کرے۔ ہاں! اگر واقعتاً کوئی برائی ہو جو نظر آ رہی ہے تو وہ بیان کرسکتا ہے، لیکن اتنا ہی عیب بتائے جتنا اس میں ہے، مبالغہ آرائی نہیں کرنی چاہیے۔
دوسری بات حدیث میں فرمائی کہ ’’فروخت کریں تو اس چیز کی تعریف نہ کریں‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بے جا تعریف نہ کرے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ دوکان دار کی چرب زبانی میں آکر سامان لے لے اور بعد میں افسوس کرے کہ میں اس کی باتوں میں آگیا وگرنہ میں وہ چیز نہ لیتا۔ تاجر کو خریدنے والے کا خیرخواہ ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بھی اس تاجر کے ساتھ خیرخواہی والا معاملہ فرمائیں گے۔
تیسری بات نبی نے ارشاد فرمائی کہ ’’کسی کمی اور نقص کو نہ چھپائے‘‘۔ مطلب یہ کہ اگر بیچی جانے والی چیز میں کوئی کمی ہے، یا کوئی خرابی ہے، یا Out of Fashion ہوگئی ہے، یا اس میں کوئی نقص ہے تو اس کو نہ چھپائے۔ تاجر اس عیب، خرابی کو بیان کر دے کہ میری اس چیز میں فلاں فلاں خرابی ہے۔
حدیثِ ابی اُمامہ میں چوتھی بات یہ تھی کہ خرید و فروخت میں قسمیں نہ کھائے۔ اس لیے کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا:
الحِلف منفقةٌ للسّلعة، ممحقةٌ للبركة. (صحیح البخاري: 1981)
ترجمہ: ’’قسم کھانے سے سودا بِک جاتا ہے، (لیکن) برکت ختم ہو جاتی ہے‘‘۔
تاجر کا صادق اور امین ہونا:
برکت اور چیز ہوا کرتی ہے اور کثرت اور چیز ہوا کرتی ہے۔ تاجر آدمی معاملات میں جھوٹ نہ بولے، صاف صاف بات کرے۔ تاجر کو سچا بھی ہونا چاہیے اور امانت دار بھی ہونا چاہیے۔ تاجر آدمی کے کمالِ اسلام کی دلیل یہ ہے کہ اپنی بات میں سچا ہو۔ اور اگر لوگ اس کے پاس اپنی امانتیں رکھوائیں تو اس کی حفاظت کرے، اس میں خیانت کرنے والا نہ ہو۔ نبی کو دولقب کافر دیتے تھے:
(۱) صادق (۲) امین
اُن کفار کے نزدیک نبی صادق یعنی سچے بھی تھے اور امین بھی تھے۔ نبی نے صداقت اور امانت داری، دیانت داری کے ساتھ تجارت کی۔ اب وہ تاجر جس کے پاس لوگ اپنا Cash اور اپنی امانتیں نہیں رکھواتے اور ڈرتے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس تاجر کی تجارت سنت سے ہٹ کر ہو رہی ہے۔ جو سنت کے مطابق تجارت کرے گا، اللہ تعالیٰ اس بندے کو خودبخود یہ نعمت عطا فرمائیں گے کہ لوگ اپنی امانتیں آکر رکھوائیں گے۔
معاملات کا ایمان سے گہراتعلق:
اگلی بات حدیثِ معاذ میں ہے کہ ’’جب تاجر وعدہ کرے تو وعدہ خلافی نہ کرے‘‘۔ مثال کے طور پر کسی نے اُدھار لیا ہے جس کی ادائیگی کرنی ہے۔ اب کوشش کرے کہ مقررہ وقت پر اس کی ادائیگی کر دے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ یہ سارے اعمال تھوڑے سے ایمان کے ساتھ ہوجاتے ہیں، لیکن معاملات میں بہت تھوڑے لوگ ایسے ہیں جو معاملات میں اپنے آپ کو پورا کر دکھاتے ہیں۔ معاملات کی صفائی کے لیے بڑے ایمان کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہم لوگوں کا عام طور سے معاملات میں حال بہت خراب ہوتا ہے۔ اور اس میں داڑھی والے یا بغیر داڑھی والے کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ نمازی اور بے نمازی کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ ہم میں سے بہت سارے لوگ غلط معاملات کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور نبی کے طریقے کے خلاف کرتے ہیں۔ ہمارے بعض دوکان دار بھائی ایسے بھی ہیں جب کسی سے مال خریدتے ہیں تو اس کی ادائیگی کے لیے بینک چیک دو مرتبہ پارٹی کو دیتے ہیں۔ یعنی ایک مرتبہ مال خرید لیا اور تین مہینے بعد کا چیک کاٹ کر دے دیا۔ تین مہینے بعد جب وہ بینک میں چیک ڈالتا ہے تو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے چیک واپس ہوجاتا ہے۔ پھر یہ شخص دوبارہ تاجر کے پاس جاتا ہے اور وہ دوبارہ مزید تاخیر کے ساتھ ادائیگی کا چیک دے دیتا ہے۔ اوریہ چیز نبی کی تعلیمات کے خلاف ہے۔
دو فرشتوں کا پہرہ
میرے عزیز بھائیو! ایک غور طلب بات کو سمجھیے کہ اللہ ربّ العزّت نے ہر انسان پر دونگران فرشتے بٹھائے ہیں۔ دو فرشتوں کا پہرہ ہے۔ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں:
مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌo (ق: 18)
ترجمہ: ’’انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگراں مقرر ہوتا ہے ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار‘‘۔
اب سیلز مین کوئی بات کریں، کسٹمر کو چیز بیچیں تب بھی وہ بات نوٹ کی جاتی ہے۔ بیوی سے بات کریں، یاکسی سے بھی بات کر رہے ہوں۔ جونہی زبان سے کوئی لفظ نکلتا ہے تو یہ فرشتے فوراً لکھ لیتے ہیں۔ تاجر حضرات چیز خریدنے اور بیچنے کے وقت بات چیت میں کمی بیشی کر دیتے ہیں۔ اللہ کے نبیﷺ نے اس کے ازالہ کے لیے تاجروں کی جماعت سے بیان کیا:
اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں لغویات اور کثرت سے قسم کھائی جاتی ہے (جھوٹی ہو یا سچی) اپنی خرید و فروخت کو صدقے سے ملا دو۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3326)
یعنی اپنے مال سے کثرت سے صدقہ اور خیرات دو، تا کہ جو لغویات یا سچی جھوٹی قسمیں کھائی ہیں، اس کی کچھ نہ کچھ تلافی ہو جائے اور یہ صدقہ خیرات سے ہی ممکن ہے۔ اس لیے کہ صدقہ اللہ تعالیٰ کے غصے کو دور کرتا ہے۔ نبی رحمۃ اللعالمین ہیں۔ آپ کی خواہش یہ تھی کہ ہر امتی جنت میں چلا جائے اور دنیا میں ہی اپنی بخشش کرواکر رخصت ہو۔ جو اس دنیا میں بخشش نہیں کرواسکیں گے اور رہ جائیں گے تو اِن شاء اللہ ان کو نبی کی شفاعت کام آئے گی۔اسی لیے بات سمجھائی کہ معاملات کے دوران اگر اونچ نیچ ہوجائے تو وہ یہاں پر ہی کثرت کے ساتھ صدقہ نکال لیں تاکہ کمی بیشی پوری ہوجائے۔
مال کا حلال ہونا ضروری ہے:
دوستو! مال کا حلال ہونا بے حد ضروری ہے۔ اگر مال حلال ہوگا تو رات میں نیند اچھی آئے گی اور اولاد بھی آپ کی خدمت کرے گی۔ اور اگر خدانخواستہ مال حلال نہیں ہوگا تو کروڑ پتی بھی ہوں گے، ارب پتی بھی ہوں گے مگر رات کو نیند نہیں آئے گی۔ تکلیف میں ہوں گے، نیند کی دوائیاں لینی پڑیں گی، مگر نیند نہیں آئے گی۔ اسی طرح حرام کھانے والا اولاد کی خوشیوں سے محروم رہے گا۔ اگر ہمیں اولاد کی خوشیاں چاہیے، دنیا کا سکون چاہیے، تو یقیناً ہمیں حلال کی طرف آنا ہوگا۔ جتنی ہم مال کمانے میں ہیرا پھیری کریں گے، یہ سب پلٹ کر ہماری ہی طرف آجانی ہے۔ یہ چرب زبانیاں، زبان سے نکلے ہوئے بول یہ سب واپس پلٹ کر ہمیں آکر پڑتے ہیں۔ اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اور وہ لوگ جو Dealing کرتے ہیں، لینے اور دینے میں بے احتیاطی کرتے ہیں، ان لوگوں کو اپنے اعمال نامے کی زیادہ فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ صبح سے شام تک جو گاہک کے سامنے بول رہا ہے، وہ لکھا جارہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو رہا ہے۔
آپﷺ کی تجارت کے اَحوال:
حضورﷺ نے کئی تجارتی سفر کیے ہیں۔ مختلف روایتوں میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ جب نبی بارہ، تیرہ سال کی عمر کے تھے تو اپنے چچا کے ساتھ شام کی طرف تجارت کی غرض سے سفر پر گئے۔ وہاں بُحیرہ راہب کا تفصیلی واقعہ پیش آیا۔ یہاں اس واقعہ کا تذکرہ کرنا مقصود نہیں، بلکہ یہ بتانا ہے کہ نبی نے بھی مختلف تجارتی سفر کیے ہیں اور تجارت کی غرض سے مختلف ملکوں میں گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں عُکاظ کا میلہ لگتا تھا۔ نبی وہاں تجارت کرتے تھے۔ باقی تمام تاجر عتبہ، شیبہ، ابوجہل، ولید اور دیگر مشرکینِ مکہ بھی تجارت کرتے تھے۔ نبی کی تجارت کی شان یہ تھی کہ کم گوئی اور صاف گوئی سے تجارت کرتے تھے اور چیز کا عیب ساتھ بتاتے تھے۔ سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ نبی کا سودا سب سے پہلے بِک جاتا تھا۔ اور نبی اکثر اس منافع کو غریبوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔
نبی کی حضرت خدیجۃ الکبرٰی سے شادی کی وجہ بھی تجارت ہی بنی۔ پہلے بی بی خدیجہ نے آپ کو شریکِ تجارت بنایا اور آپ کی صاف گوئی کی وجہ سے شریکِ حیات بھی بنا لیا۔نبی مکہ سے سامانِ تجارت کو لے کر شام کی طرف نکلے تو آپ خریدار کے سامنے سامان کے عیب کو کھول کر بتاتے، اور اگر اس میں کوئی اچھی بات ہوتی تو وہ بھی کھول کر بتاتے تھے۔ نبی نے سامان بیچا بھی، اور وہاں سے خریدا بھی۔ جو بڑے بڑے تاجر تھے وہ نبی کا مقابلہ نہ کرسکے، اور آپﷺ ان سے دُگنا منافع لے کر واپس پہنچے۔
نبی معاملات کے اندر اتنے سچے تھے کہ ایک صحابی حضرت عبداللہ بن ابی الحمساء فرماتے ہیں کہ زمانۂ جہالت میں، میں نے نبی کے ساتھ ایک معاملہ کیا۔ ابھی بات چیت ہو ہی رہی تھی، سودا پکا نہیں ہوا تھا کہ میں نے کہا: میں ابھی آتا ہوں، آپﷺ یہیں رکیں۔ وہ صحابی فرماتے ہیں کہ میں اس بات کو بھول گیا۔ جب تین دن بعد مجھے یاد آیا اور میں نبی کی طرف پلٹا تو نبی وہیں موجود تھے۔ صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے اس پر معافی مانگی تو نبی نے فرمایا: اے جوان! تم نے مجھے تکلیف میں ڈال دیا تھا۔ میں تین دن سے تمہارا یہیں پر انتظار کر رہا ہوں۔ (سنن أبي داود: کتاب الأدب، باب في العدّۃ، رقم 4996)
یہ نبی کے وہ تجارتی اُصول ہیں جس کی وجہ سے نبی نے تجارت میں کامیابی حاصل کی۔ اور اپنی امت کے نمونہ بنے۔
آپﷺ کی صداقت اور امانت:
کفارِ مکہ جنہوں نے اعلانِ نبوت کے بعد دشمنی کی وجہ سے آزمائشوں کے پہاڑ توڑ دیے۔ انہوں نے نبی کو جادوگر کہا، کاہن کہا، مجنون کہا۔ لیکن انہوں نے چونکہ نبی کو اتنے قریب سے دیکھا ہوا تھا، لہٰذا دشمنی کے بعد بھی یہ نہ کہہ سکے کہ نبی خائن ہیں، وعدہ خلاف ہیں۔ نبی کو جھوٹا کوئی نہیں کہہ سکا۔ اور نبی کی دو صفات صداقت اور امانت کی خصوصیت لوگوں میں تجارت کی وجہ سے زیادہ ہوئی تھی۔ ہمارے حضرت جی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ جسم کا جو حصہ حلال سے بنے گا وہ حلال کام کرے گا، اور جسم کا جو حصہ حرام سے بنے گا اس کو حرام کام کیے بغیر چین نہیں آئے گا۔ اس لیے حلال کا اہتمام بہت زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے حلال مانگنے سے حلال مل جاتا ہے۔ میرے بھائیو! ابھی زندگی باقی ہے۔ آج اگر ہم توبہ کریں گے توہم سب کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف کر دیں گے۔ اللہ پاک بڑے کریم ہیں، بڑے مہربان ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق کے حالات:
اس کے بعد چند صحابہ کرا کے بھی واقعات سنیے۔ سیدنا صدیقِ اکبر بھی تاجر تھے۔ نبی ان سے عمر میں تقریباً تین سال بڑے تھے۔ جب نبی عکاظ میں اور مختلف علاقوں میں تجارت کرتے تھے تو یہ نبی کے ساتھ تجارت کرتے تھے۔ اور تجارت کے ساتھ ساتھ نبی سے دوستی بھی تھی۔ جیسے ہی نبی نے دعوتِ حق دی تو بغیر کسی دلیل اور اعتراض کے فوراً نبی پر ایمان لے آئے۔ علماء نے لکھا ہے کہ انہوں نے نبی کی تجارت کے معاملات کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اور خود اپنےمعاملات میں بڑے صاف گو انسان تھے۔
صدیقِ اکبر کا قے کرنا
حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب نَوَّرَ اللہُ مَرْقَدَہٗ نے حضرت صدیقِ اکبر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے کچھ غلام رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک غلام کو تجارت کے لیے بھیجتے تھے۔ وہ غلام ان کے لیے کچھ نفع لے کر آتا تھا۔ ایک دن وہ کھانا لے آیا اور آکر حضرت صدیقِ اکبر کو پیش کر دیا۔ حضرت ابو بکر نے وہ کھانا لے کر کھانا شروع کر دیا۔ غلام نے کہا کہ حضرت! آپ ہمیشہ پوچھتے تھے کہ کہاں سے کما کر لائے ہو؟ ساری کارگزاری سنتے تھے، مگر آج آپ نے نہیں پوچھا۔ حضرت صدیقِ اکبر نے کہا کہ ہاں! بتاؤ کہاں سے کما کر لائے ہو؟ تو اس نے بتایا کہ زمانۂ جاہلیت میں ایک مرتبہ ایک مشرک نے مجھ سے فال نکلوایا تھا۔ مجھے فال نکالنا آتا نہیں تھا، میں نے ویسے ہی اسے دھوکہ دیا کہ مجھے فال نکالنا آتا ہے اور اس کا فال نکال دیا۔ آج بڑے عرصے بعد وہ مشرک مجھے ملا اور یہ کہا کہ یہ مال رکھ لو، تم نے میرا فال نکالا تھا اور مجھے فائدہ ہوا۔ یہ وہی کمائی ہے جس کا کھانا میں آپ کے لیے لایا ہوں۔ اللہ اکبر کبیراً! یہ بات بس سنی ہی تھی کہ صدیقِ اکبر نے اپنے حلق میں انگلیاں ڈالیں اور سارا قے کر نکال دیا۔ بڑی مشکل اور تکلیف ہوئی۔ غلام نے کہا کہ حضرت! معمولی لقمے کے لیے اتنی تکلیف! فرمانے لگے کہ میں نے نبی سے سنا ہے کہ جسم کا جو حصہ حرام سے بنتا ہے، جہنم ہی اس کے لیے بہترین ٹھکانہ ہے۔
کیا شان تھی صدیقِ اکبر کی کہ حلال وحرام کا اتنا زیادہ خیال کیا کرتے تھے۔
حضرت عمر فاروق کی بیماری اور شہد
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم اپنے زمانۂ خلافت میں بیمار ہوگئے۔ بہت کمزوری ہوگئی۔ طبیب نے کہا کہ امیر المؤمنین! شہد استعمال فرمائیے۔ کہنے لگے کہ میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں۔ اطلاع ملی کہ بیت المال میں تھوڑا سا شہد موجود ہے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ لاٹھی کے سہارے مشکل سے مسجد میں آئے اور منبر پر بیٹھے اور لوگوں کو جمع کیا۔ جب لوگ قریب آگئے تو کہنے لگے: میں تمہارا امیرالمؤمنین ہوں۔ اس وقت بیمار ہوں۔ طبیب نے مجھے شہد کا کہا ہے اور میرے پاس شہد خریدنے کی طاقت نہیں ہے۔ اور مجھے بیت المال سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں تھوڑا سا شہد موجود ہے۔ اگر تم لوگ مجھے اجازت دیتے ہو تو میں شہد منگوا کے کھا لیتا ہوں اور وہ میرے لیے حلال ہوگا۔ اور اگر تم لوگ مجھے کھانے کی اجازت نہیں دیتے تو میرے لیے حرام ہے۔ جب صحابہ اور تابعین نے اجازت دی، تب منگوا کر کھایا۔ (طبقات ابن سعد: 257/3)
وہ ایک لقمہ کھانے کے لیے بھی کتنی احتیاط اور خیال کیا کرتے تھے۔ کتنی عجیب بات ہے۔ ہمارے بڑے تو حلال سے پیٹ بھرتے تھے اور آج ہم حرام سے پیٹ بھر رہے ہیں۔
خلافتِ فاروقی اور بچی کا خوفِ خدا:
یہی فاروق اعظم رات کی تنہائی میں گشت کر رہے ہیں۔ اسلم جو کہ آپ کے غلام تھے، ساتھ ہیں۔ امیر المؤمنین مدینہ کی گلیوں میں گشت کر رہے ہیں، عوام کے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ چلتے چلتے تھک گئے تو ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگالی۔ اندر سے ایک بوڑھی کی آواز آئی: بیٹی! آج دودھ کم ہے، ذرا پانی ملالے۔ بچی کی آواز آئی: امیرالمؤمنین نے منع کیا ہے، دودھ میں پانی نہیں ملانا۔ بوڑھی کی آواز آئی کہ امیرالمؤمنین کون سا دیکھ رہے ہیں؟ جوان بچی کی آواز آئی کہ اماں! اللہ کی قسم! میں ایسی نہیں ہوں کہ جلوت میں تو ان کی اطاعت کروں، ان کی ہاں میں ہاں ملاؤں، اور خلوت میں ان کی نافرمانی کروں۔ اس وقت امیرالمؤمنین وہ بات سن رہے تھے۔ جب بات پوری ہوگئی تو اپنے غلام اسلم سے کہا کہ جگہ کی نشاندہی کرلو۔ دروازے کو خوب اچھی طرح پہچان لو۔ خیر! یہ دونوں واپس تشریف لے گئے۔
عمرفاروق جب واپس گھر آتے ہیں تو تینوں بیٹوں کو بلایا اور کہا: بیٹو! اگر میں اس وقت چاہتا تو اس بچی سے شادی کرلیتا اور تمہیں نہ دیتا۔لیکن تم میں سے اگر کوئی چاہتا ہے تو اس بچی سے شادی کرلے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ لڑکی میری بہو بنے۔ ایسی نیک بچی میری بہو ہونی چاہیے۔ پہلے دوبھائیوں نے کہا کہ ہماری تو بیوی ہے، شادی شدہ ہیں۔ ایک چھوٹے بیٹے تھے عاصم۔ انہوں نے کہا کہ ابا جان! میری شادی کروادیں۔ اگلے دن امیرالمؤمنین نے وہاں نکاح کا پیغام بھجوا دیا اور اس طرح اپنے بیٹے عاصم کا نکاح کرکے اس لڑکی کو اپنی بہو بنالیا۔ ان دونوں میاں بیوی کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی جس کی شادی عبدالعزیز سے ہوئی۔ عبدالعزیز سے پھر ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عمر رکھا گیا۔ یہی وہ عمر بن عبدالعزیزm ہیں جو پانچویں خلیفۂ راشد ہیں۔
(تاریخِ دمشق لابن عساکر: 6494)
جب والدین حلال اور خدا خوفی کا اہتمام کریں گے تو اولادیں ایسی ہوں گی جو دنیا کے اندر بھی اور آخرت میں بھی والدین کے لیے برکتوں کا ذریعہ بنے گی۔
حضرت عثمان کا مال تقسیم کرنا:
حضرت عثمان بھی تاجر تھے۔ عجیب تجارت کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اُن کا تجارتی مال ایسے وقت میں مدینہ طیبہ پہنچا جب قحط کی حالت تھی۔ لوگوں کو پتا چلا کہ عثمان غنی کا تجارتی مال آیا ہے جس میں اناج، غلہ وغیرہ بھی ہے۔ بڑے بڑے تاجر آپ کے پاس آگئے۔ تاجروں نے حضرت عثمان سے کہا کہ یہ سارا مال ہمیں بیچ دو،سو کے دو سو لے لو۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ نہیں، تھوڑا بتا رہے ہو۔ تاجروں نے کہا کہ سو کےتین سو لے لو۔ حضرت عثمان نے نہیں، تھوڑا بتا رہے ہو۔ انہوں نے پانچ سو کہہ دیے، مگر حضرت عثمان نے فرمایا تھوڑا بتا رہے ہو۔ غرض یہ کہ وہ آپس میں مشورہ کرکے بڑھاتے رہے، مگر عثمان غنی یہی کہتے رہے کہ یہ تھوڑا ہے۔ مدینہ طیبہ میں قحط پڑا ہوا ہے تم سو کے پانچ سو کم دے رہے ہو، اور بڑھاؤ، مجھے تو اس سے زیادہ مل رہا ہے۔ تاجر پریشان ہوکر کہنے لگے کہ کون آپ کو اس سے زیادہ دیتا ہے؟ اس پر عثمان غنی فرمانے لگے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے زیادہ دیتا ہے، 10 کا وعدہ تو عام ہے، لیکن وہ پروردگار فرما رہے ہیں ستّر گنا دوں گا، اور اگر چاہوں گا تو اس سے بھی زیادہ بڑھاؤں گا۔ حضرت عثمان نے اپنی تجارت سے کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اُٹھایا۔ سارا مال اللہ کے بندوں پر، ضرورت مندوں پر تقسیم کر دیا۔
مقدر روزی مل کر رہتی ہے:
ایک بات سمجھنے کی ہے۔ کاش! ہمیں یہ بات سمجھ میں آجائے کہ جو میرے مقدر میں ہے، جس وقت پر ہے مجھے وہی ملنا ہے اور اسی وقت پر ملنا ہے۔ وقت سے پہلے نہیں، مقدر سے زیادہ نہیں، یہ پکی بات ہے۔ اللہ ربّ العزّت نے دانے دانے پر طے کر دیا ہے کہ کس کو ملنا ہے۔ فرشتے اسی کام پر مامور ہیں کہ اُدھر کا رزق اِدھر نہیں ہو سکتا، اور اِدھر کا رزق اُدھر نہیں ہو سکتا۔ اس کو ایک مثال سے سمجھیے! ایک بندہ موٹرسائیکل چلا رہا ہے۔ جاتے جاتے اس کا ایکسیڈینٹ ہوگیا، نیچے گرگیا۔ اب وہ بے ہوش ہے۔ لوگ اسے اُٹھا رہے ہیں، ہلا رہے ہیں۔ اتنے میں ایک آدمی پانی کی بوتل لے کر آتا ہے اور اس کا منہ کھول کر چند قطرے پانی کے زبردستی ڈالتا ہے۔ آپ بتائیں وہ کیوں ڈال رہا ہے؟ وہ تو اس لیے ڈال رہا ہے کہ اسے ہوش آجائے، مگر پروردگارِ عالم کا فیصلہ یہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کا سارا رزق پورا کر چکا ہے۔ اور جو وہ اپنے ہاتھ سے نہ لے سکا تو کسی اور کے ہاتھ سے ڈلوا کر اس کو اپنے پاس بلوالیا۔ معلوم ہوا کہ اگر چند قطرے رہ گئے ہیں تو مرتے وقت وہ بھی ڈال دیے جائیں گے، اس کے بغیر موت آنہیں سکتی۔
ایک حدیث شریف میں ہے کہ رزق انسان کو ایسے تلاش کرتا ہے جیسے اس کی موت اسے تلاش کرتی ہے۔ (مشکوٰۃ شریف: رقم 5312)
دوسری حدیث میں نبی نے فرمایا: بندہ اپنے گناہ کی وجہ سے جس کو وہ کر رہا ہوتا ہے، روزی محروم ہو جاتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 4022)
اللہ کی اطاعت سے رزق میں برکت:
بڑے فرماتے ہیں کہ اللہ ربّ العزّت کے پاس جو کچھ ہے، تم اسے اطاعت کے ذریعے ہی لے سکتے ہو۔یہاں سوچنے کی بات ہے کہ اللہ کی نافرمانی کے باوجود بھی آج ہمارے پاس کروڑوں ہیں۔ اگر ہم نے فرماں برداری کی ہوتی تو شاید اربوں ہوتے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کا رزق اللہ تعالیٰ کو راضی کرکے لینا ہے۔ ایسے بھی اعمال ہیں جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ رزق بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے موسیٰ کی قوم کا ایک واقعہ ہے۔ ایک آدمی تھا جس نے زندگی بھر پریشانی میں گزاری۔ حضرت موسیٰ کوہِ طور پر جا رہے تھے تو وہ بندہ کہنے لگا کہ اللہ سے اگر بات چیت ہو تو اللہ سےکہیے گا کہ جو کچھ میرے مقدر میں ہے وہ آج ہی مل جائے۔ زندگی گزر گئی فاقے گزارتے ہوئے۔ ایک مرتبہ تو پیٹ بھر کر کھالوں۔ یہی بات کی، یا اسی طرح کی کوئی بات کی۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اس کو اس کے مقدر کا مل گیا اور بات ختم ہوگئی۔
کچھ عرصے بعد حضرت موسیٰ وہاں سے گزرے تو دیکھا کہ وہاں لنگر چل رہے ہیں، بڑا سا گھر ہے اور لوگ موجود ہیں جو کھانا کھا رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے تحقیق کی کہ یہ کس کا گھر ہے؟ اور یہ بندہ کون ہے؟ پتا لگا کہ یہ وہی فقیر ہے جس نے اپنے مقدر کا سارا مانگ لیا تھا، صرف اتنا سا آیا تھا جتنا چند دنوں کے لیے ہوجانا تھا، ایک آدھ بکری اور گندم کی بوری وغیرہ۔ لیکن آج تو اس کے پاس اتنا مال ہے، لنگر لگا ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ اے اللہ! یہ کیا معاملہ ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا کہ اے موسیٰ! اس نے تو میرے ساتھ تجارت کی۔ اس کے گھر پر سائل آیا تو اس نے اس سائل کو کھانا کھلا دیا، اور میرا ایک کے بدلے میں دس کا وعدہ ہے۔
کوئی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک نیکی لے کر حاضر ہوگا تو اس پر اللہ ربّ العزّت اس کو دس دیں گے۔ (سورہ اَنعام: آیت 160) معلوم ہوا کہ کچھ اَعمال ایسے ہیں جس سے اللہ ربّ العزّت رزق کو بڑھا دیتے ہیں، ورنہ عام طور پر جو رزق لکھ دیا گیا ہے اتنا ہی ملے گا۔ تو تجارت سے مقصود ہمارا یہی ہونا چاہیے کہ زندگی اس انداز کے ساتھ گزارنی ہے کہ ہمیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں، بیوی بچوں کی اچھے انداز سے پرورش ہوسکے۔
مال کا حق ادا کرنا:
ساتھ ہی ساتھ یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ ہمارے پاس جو مال ہے اس کاحق ادا کرنا ہے۔ حق ادا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مال کی زکوٰۃ ادا کرتے رہنا، کوئی رشتے دار غریب ہے تو جہاں تک ممکن ہو اس کی مدد کرتے رہنا۔ ان چیزوں سے مال کبھی کم نہیں ہوتا۔ آپ لوگوں میں بڑے بڑے تاجر حضرات بھی بیٹھے ہیں۔ آپ لوگوں سے سوال پوچھتا ہوں۔ زندگی میں کبھی اس کا جواب لا کر دے دیجیے۔ کیا کبھی آپ کو ایسا شخص ملا جس نے اللہ کے راستے میں خوب مال خرچ کیا ہو، مدرسے بنائے ہوں، دین کا کام کیا ہو، لوگوں کی، رشتے داروں کی مدد کی ہو اور وہ کنگال ہوگیا ہو؟ یہ ہوہی نہیں سکتا۔ نبی نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، صدقہ دو۔
(مسند احمد: رقم 1677)
نبی قسم نہ بھی کھاتے تب بھی بات پوری تھی، لیکن نبی نے قسم کھا کر بات کو اور زیادہ مؤکد کر دیا۔ اس کے علاوہ آپ کو بے شمار ایسی مثالیں ملیں گی کہ جنہوں نے بینکوں سے لاکھوں کروڑوں نہیں، بلکہ اربوں لیا ہوگا مگر برباد ہوگئے ہوںگے۔ صدقہ دینے میں بظاہر لگتا ہے کہ جا رہا ہے، مگر دوسری طرف سےلگتا ہے کہ آرہا ہے۔ اور سود لینے میں لگتا ہے کہ آرہا ہے، لیکن وہ اصل بھی لے جاتا ہے۔ جو انسان کثرت سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرتا ہے، اس کو کبھی کمی کا معاملہ پیش نہیں آئے گا۔ اور آگے سنیے کہ ہمارے اکابرین رزقِ حلال کا کتنا خیال رکھا کرتے تھے۔
مفلسی سے حفاظت:
ایک ہوتا ہے سچ بولنا، اور ایک ہوتا ہے سچائی والا معاملہ کرنا۔ تاجر میں یہ دونوں صفات ہونی چاہییں۔ علمائے کرام نے کتابوں میں لکھا ہے کہ سچا تاجر کبھی مفلس نہیں ہوتا۔ آج ہمارے مشاہدے میں بھی یہ بات ہے کہ جو بندہ قیمت صحیح لگاتا ہو، اور سودا بھی کھڑا کرتا ہو، تو لوگ اس سے مال خریدنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ کئی لوگوں کو تو میں بھی جانتا ہوں، آدھا آدھا گھنٹہ اُن کی دوکان نماز کے لیے بند ہوتی ہے مگر لوگ اُن کے انتظار میں باہر کھڑے رہتے ہیں کہ سودا انہی سے لینا ہے۔ کوئی پٹرول پمپ والا ہو، لیٹر کے حساب سے پورا پیٹرول دیتا ہو، میٹر صحیح ہو تو لوگ کہتے ہیں کہ اس کا میٹر صحیح ہے، پیٹرول صحیح ہے، وہیں سے لینا ہے۔ اسی طرح ہر شعبہ میں ایسے افراد جن کی سچائی لوگوں کو معلوم ہوجائے، لوگ انہی کے پاس جاتے ہیں۔
امام اعظم کی تجارت:
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ایک بڑے فقیہ ہونے کے علاوہ تاجر بھی تھے۔ آپ امام اعظم کیوں کہلاتے ہیں کہ باقی جتنے بھی آئمہ حضرات ہیں، وہ امام صاحب کے Directیا In Direct شاگرد ہیں۔ امام بخاری سمیت جتنے بھی آئمہ حضرات گزرے ہیں یا تو وہ امام صاحب کے بلاواسطہ شاگرد ہیں، یا بالواسطہ شاگرد ہیں۔ کتابوں میں اس کے پورے دلائل موجود ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ کیسے تجارت کرتے تھے؟ چند ایک واقعات سنیں اور دل کے کانوں سے سنیں!
ایک مرتبہ دوپہر کا وقت تھا۔ امام صاحب دوکان بند کر کے جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا کہ نعمان! (امام اعظم کا اصل نام نعمان بن ثابت ہے) آج دوپہر کو ہی دوکان بند کر دی؟ خیر تو ہے؟ وہ کہنے لگے کہ ہاں! آج بادل زیادہ ہیں، اور میری کپڑے کی دوکان ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اندھیرے کی وجہ سے کوئی گاہک آئے اور ہلکی چیز کو قیمتی سمجھ کر لے جائے، اس لیے میں نے دوکان ہی بند کر دی کہ کسی کو دھوکہ نہ لگ جائے۔ سبحان اللہ! یہ لوگ پیسوں کو اپنے آپ سے دور رکھتے تھے، مگر وہ ان کو چمٹ کر آکے لگتا تھا۔
ایک مرتبہ امام صاحب دوکان پر تھے۔ کپڑوں کا ایک عیب والا تھان تھا۔ جو اُن کا کام کاج کرنے والا ساتھی تھا، اس سے کہا کہ دیکھو! اس تھان میں عیب ہے، اس کو تم نے بغیر عیب بتائے نہیں دینا۔ اس ساتھی نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ کچھ دنوں بعد امام صاحب نے اس ساتھی سے اس عیب والے تھان کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ وہ تو بِک گیا، آج ہی اس کو بیچا ہے۔ ارے بھائی! عیب بتایا تھا؟ اس نے کہا کہ نہیں جی، میں تو بھول گیا۔ اب امام صاحب بڑے پریشان ہوئے کہ اب کیا کیا جائے؟ امام صاحب نے اس دن کی ساری Sale اور بِکری اللہ کی راہ میں دے دی۔ یعنی صدقہ کردی کہ میں اس مال کو اپنے مال میں شامل نہیں کرسکتا۔
سفیان بن زیاد نے فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ احتیاط اور تقویٰ کے بلند مقام پر فائز تھے، اور اس وجہ سے ان کی دوکان پورے کوفہ میں مشہور تھی۔ چناںچہ مدینہ طیبہ سے ایک آدمی کوفہ آیا۔ اسے کچھ مختلف قسم کی چیزیں اور کپڑے خریدنے تھے۔ اس نے لوگوں سے مشورہ کیا کہ کپڑے کہاں سے بہتر ملتے ہیں؟ لوگوں نے پوچھا کہ تمہیں کس قسم کے کپڑے چاہییں؟ اس نے کہا کہ مجھے اعلیٰ اور بَڑھیا قسم کا کپڑا چاہیے۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں بازار میں فلاں فقیہ کی دوکان ہے، وہاں تمہیں تمہارے معیار کا کپڑا مل جائے گا۔ لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ اس دوکان میں اپنا ایک دام رکھنا، بھاؤ تاؤ نہ کرنا، کیوںکہ وہاں سودا بھی کھڑا ہے اور ریٹ بھی کھڑا ہے۔ تم اطمینان سے جاؤ۔ وہ آدمی حضرت امام اعظم کی دوکان پر آگیا۔ جس وقت وہ وہاں آیا، امام صاحب موجود نہیں تھے، ان کا ملازم موجود تھا۔ اس آدمی نے وہاں ایک کپڑا پسند کیا اور اس کی قیمت پوچھی۔ ملازم نے بتایا 1000 روپے۔ اس نے بغیر کسی بھاؤ تاؤ کیے خرید لیااور واپس مدینہ طیبہ چلا گیا۔
کچھ دنوں بعد امام اعظم نے اپنے ملازم سے اس کپڑے کا پوچھا کہ تم نے وہ کپڑا کتنے کا سیل کیا ہے؟ ملازم نے کہا کہ 1000 درہم کا۔ اس پر امام صاحب نے کہا کہ اس کی قیمت تو 600 درہم تھی۔ اب امام صاحب نے اس آدمی کے پیسے لوٹانے کے لیے مدینہ طیبہ کا سفر کیا۔ ذرا غور کریں کہ ایک ایسے شخص کو تلاش کرنے کے لیے سفر کر رہے ہیں، جسے جانتے تک نہیں ہیں۔ یہ ہمارے مقتدا ہیں جو دنیاوی معاملات میں خوفِ خدا رکھتے تھے، اور آخرت کے معاملے میں خوفِ خدا رکھتے تھے۔ غرض اسے تلاش کیا تو مسجد میں دیکھا کہ وہ آدمی وہی کپڑا پہنے مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے۔
خیر! اس سے نماز کے بعد بات چیت ہوئی۔ امام صاحب نے اس سے کہا کہ یہ کپڑا میرا ہے، تم مجھے دے دو۔ اس آدمی نے کہا کہ نہیں! یہ میرا کپڑا ہے، میں نے اسے 1000 درہم میں ابو حنیفہ کی دوکان سے خریدا ہے۔ امام ابو حنیفہ نے بتایا کہ میں ہی ابو حنیفہ ہوں۔ یہ کپڑا جو تم نے پہنا ہے اس کی قیمت 600درہم تھی، تم نے ہزار کا خریدا ہے، چار سو زائد ہے، یا تم زائد رقم واپس لے لو، یا کپڑا واپس کر دو۔ اس آدمی نے کہا: میں آپ حسنِ معاملات سے خوش ہوں۔ لیکن پھر بھی امام صاحب نے اسے 400 درہم واپس لوٹا دیے۔ یہ تھی اُن کے تقوے کی شان! اللہ اکبر کبیراً
حضرت جریر کا گھوڑا خریدنا:
صحابیٔ رسولﷺ حضرت جریر بن عبداللہ نے تین سو درہم میں ایک گھوڑا خریدا۔ پھر اس سے کہا کہ تیر ا یہ گھوڑا تو تین سو درہم سے زیادہ کا ہے، کیا تم اسے پانچ سو درہم کا بیچو گے؟ اس شخص نے کہا کہ آپ کی مرضی۔ چناںچہ آپ نے سو درہم زیادہ کرکے دے دیے۔ اس کے بعد پھر مذکورہ بات کہی اور سو روپے مزید دے دیے۔ اس طرح کرتے کرتے آٹھ سو درہم اس کے حوالے کر دیے اور گھوڑا لے لیا۔ کسی نے اس پر اعتراض کیا۔ حضرت عبداللہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی کے ساتھ اس بات پر بیعت کی ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنی ہے۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ: رقم 4967)
مسلمان تاجر اور اشاعتِ اسلام:
انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ کے لوگ کیسے مسلمان ہوئے؟ ان ممالک میں پہلے پہل کوئی فوجیں یا علماء نہیں پہنچے، بلکہ مسلمان تاجر پہنچے تھے۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ دوسری صدی ہجری کے اختتام اور تیسری صدی ہجری کی ابتدا میں مسلمان تاجروں کا ایک قافلہ مغربی انڈونیشیا کے سب سے بڑے جزیرے سماٹرا کے راستہ پہنچا۔ یہ پہلا قافلہ تھا جو اس راستے سے آیا۔ اس کے بعد پھر دیگر ساحلی علاقوں سے بھی قافلے آتے رہے۔ وہیں پر انہوں نے دوکانیں کھولیں۔ چند ہی دنوں میں ان کی سچائی اور امانت داری کو دیکھتے ہوئے وہاں کے مقامی لوگ مقامی دوکانوں سے سودا خریدنے کی بجائے ان سے خریدنے لگے۔ وہاں کے تاجر پریشان ہوگئے کہ ہم بھی اسی ملک کے ہیں، خریدنے والے بھی اسی ملک کے ہیں، مگر ہمارے پاس گاہک نہیں آ رہے، اور ان باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں کے پاس گاہکوں کی لائن لگی ہوتی ہے۔ تاجر وفد بنا کر مسلمانوں کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تمہارے پاس کیا عمل ہے؟ ایسا کیا کرتے ہو کہ گاہک ہم سے سودا نہیں لیتے بلکہ تم سے لیتے ہیں۔ حالاںکہ تم لوگ دن کے کچھ حصے میں دوکانیں بند بھی کرتے ہو؟
مسلمان تاجروں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں، اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے جو تجارت کے اصول بتائے ہیں اس کے مطابق تجارت کرتے ہیں۔ نہ کم تولتے ہیں، نہ جھوٹ بولتے ہیں، نہ زیادہ بات کرتے ہیں اور مناسب گفتگو کے ذریعے خرید و فروخت کرتے ہیں۔ اور جس وقت ہماری عبادت کا وقت آتا ہے، ہم اس وقت رزق کو چھوڑ کر رزّاق کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اس کے قدموں پر سر رکھ دیتے ہیں، تو وہ رزق ہمارے قدموں میں رکھ دیتا ہے۔جب یہ باتیں انہوں نے سنیں تو کہنے لگے کہ ہمیں بھی وہ اصول بتاؤ، ہم بھی اچھے تاجر بننا چاہتے ہیں۔ لکھا ہے کہ اولاً وہاں کی عوام میں دین آیا۔ اور یہ محنت بڑھتی چلی گئی یہاں تک کہ ان کے بادشاہ نے بھی دینِ اسلام کو قبول کرلیا۔ (اطلس تاریخ اسلام از حسین مؤنس: ص 380)
ایک کتاب میں یہ روایت بھی ہے کہ انڈونیشیا کے کچھ تاجر خلیفہ ہارون رشید (خلافتِ عباسیہ) کے زمانے میں بغداد آئے۔ جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو سب کے سب دینِ اسلام سے جُڑ چکے تھے۔ اور یہی لوگ اپنے ملک میں اشاعتِ اسلام کا ذریعہ بنے ہیں۔ واللہ اعلم! (تاریخِ اسلامی از محمود شاکر: 368/20)
کتنی عجیب بات ہے کہ صحابہ کرام کے بازار میں یہودی ایک طرف سے داخل ہوتے تھے اور دوسری طرف سے نکلتے تھے تو کلمہ پڑھ کر نکلتے تھے۔ صحابہ کرام کے اعمال اور ان کی تجارت کے انداز کو دیکھ کر ان کی زبانوں سے کلمہ جاری ہوجاتا تھا۔ آج ہمارے بازاروں میں کوئی آتا ہے تو جب دوسری طرف سے نکلتا ہے تو بعض اوقات گالیاں دیتے ہوئے نکلتا ہے۔ لوگوں کے اعمال میں کتنا فرق آگیا ہے۔ اگر ہم ان باتوں پر عمل کی نیت سے دھیان دیں گے تو ان شاء اللہ عمل کی توفیق ملے گی۔
تجارت کے مسائل سیکھنا:
حضورِپاکﷺ نے ارشاد فرمایا: سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (سنن ترمذی: رقم 1209)
میرے بھائیو! تاجروں کو کتنی بڑی نعمت مل گئی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے طریقوں کے مطابق تجارت کریں گے تو قیامت کے دن ان کا حشر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے، بلکہ یہ تو بہت بڑا مقام ہے۔ حضرت عمر جب بازار جاتے تو تاجروں سے کہتے تھے: ’’ہمارے بازار میں تجارت نہ کرے، مگر وہی شخص جسے دین کی سمجھ بوجھ ہو‘‘۔ (سنن ترمذی: رقم 487)
یعنی اگر ہمارے بازاروں میں تجارت کرنی ہے تو پہلے بیع و شراء کے اُصول سیکھ کر آؤ، پھر تجارت کرنا، ورنہ ایسا نہ ہو کہ تم تجارت کرتے ہوئے کسی غلطی میں مبتلا ہوجاؤ، یا سودی معاملات کرلو اور جہنم تمہارا ٹھکانہ بن جائے۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کی تجارت
تجارت یہ نہیں کہ اسلام میں نفع کی اجازت نہیں ہے۔ دیکھیے! حضرت عبدالرحمٰن بن عوف صحابی رسولﷺ ہیں۔ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ جب نبی نے ان کی ایک انصاری بھائی کے ساتھ مواخات فرمائی تو ان کے پاس پہنے ہوئے کپڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ انصاری صحابی انہیں اپنے گھر لے آئے اور کہنے لگے کہ اے عبدالرحمٰن! یہ آدھا گھر آپ کا ہے اور آدھا میرا ہے۔ میری دوبیویاں ہیں، آپ جسے پسند کریں اسے طلاق دے دوں گا، عدت کے بعد شادی کرلینا۔ میرے مال بھی آدھا آپ کا، اور آدھا میرا۔ حضرت عبدالرحمٰن کہنے لگے کہ تمہیں تمہارا مال، گھر، بیوی سب مبارک ہو۔ مجھے تو تم منڈی کا راستہ بتاؤ کہ بازار کدھر ہے؟چناںچہ وہ بازار تشریف لے گئے اور پنیر اور مختلف چیزوں کا کاروبار کیا۔
کاروبار کرتے کرتے اس مقام تک پہنچے کہ جس وقت دنیا سے تشریف لے گئے تو مال اتنا زیادہ چھوڑ کر گئے جس کا شمار نہیں ہوسکتا۔ تین اَرب، دس کروڑ سونے کے سکے چھوڑ کرگئے۔ اگر چالیس، پچاس ہزا کا بھی ایک سکہ ہو تو بات کدھر تک جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بے حساب پراپرٹی، دس ہزار بکریاں، ایک ہزار اُونٹ۔ اب اگر ان سب کی قیمت بھی شمار کریں تو حساب کہاں پہنچ جائے گا؟ اولاد میں جو سونے کا ترکہ تقسیم کیا گیا تو اس سونے کو کاٹنے کے لیے کلہاڑا استعمال ہوا۔ وہ کوئی بہت بڑے ٹکڑے ہوں گے جو کلہاڑے سے توڑے گئے۔ 10 تولے کا بسکٹ بھی کلہاڑے سے نہیں توڑا جاتا۔
بہرحال جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو تجارت کے اندر یہ اعلیٰ مقام کیسے ملا؟ تو کہنے لگے کہ میں نے ریٹ بڑھانے کے لیے کبھی مال کو نہیں روکا۔ مثال کے طور پر آج کوئی 100 کی چیز 105 کی مل رہی ہے، کل بیچیں گے تو 110 کی بک جائے گی۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے کبھی اس طرح کی تجارت نہیں کی۔ یعنی آتے ہوئے گاہک کو واپس نہیں موڑا۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اپنا ایک واقعہ سنانے لگے کہ میں نے 1000 اُونٹ خریدے۔ نفع کے ساتھ بیچنا چاہتا تھا نہیں بکے۔ ایک گاہک آیا، اس نے کہا کہ سارے کے سارے خریدتا ہوں، مگر اس کی قیمت وہی لگائی جو میری قیمتِ خرید تھی۔ میں نے ایک ہزار اُونٹ کو Cast to Castسیل کر دیا۔ مجھے نفع میں پھر بھی ایک ہزار رسیاں بچ گئیں۔ میں نے وہ رسیاں ایک ہزار درہم میں بیچ دیں تو یوں مجھے ایک ہزار درہم کا فائدہ ہوگیا۔ یعنی انہوں نے اپنے اس عروج کی وجہ یہ بتائی کہ گاہک کو کبھی قیمت بڑھنے کی وجہ سے یہ نہیں کہا کہ یہ چیز نہیں ہے۔ اس میں تھوڑا بھی نفع ملتا تو اس چیز کو وہ سیل کر دیتے تھے۔
دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ادھار کبھی نہیں کیا۔ تیسری وجہ یہ بتائی کہ 5 فیصد سے زیادہ کبھی نفع نہیں لیا۔ تو یہ ان کی تجارت کرنے کی ترتیب تھی۔ نفع کو 5 فیصدسے زیادہ لے سکتے ہیں، مگر مقصد یہ ہے کہ انسان تجارت کو اللہ کے خوف کے ساتھ کرلے۔
امامِ اعظم کا تقویٰ:
(۱) امام اعظم ابوحنیفہ نے ایک مرتبہ ایک آدمی کو اپنا وکیل بنا کر، سامانِ تجارت دے کر بھیجا اور کہا کہ تم مصر جاؤ اور وہاں یہ سامان سیل کرو۔ اس سامانِ تجارت کی نوعیت یہ تھی کہ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ کا نفع ہونا چاہیے تھا۔ اس وکیل نے مارکیٹ دیکھی اور پھر اس نے اپنے مال کی Values نکالی۔ اور پھر اس نے سامان روک لیا اور نہیں بیچا۔ جب سارے قافلے والوں نے اپنا اپنا مال سیل کر دیا، پھر اس نے اپنا مال سیل کیا اور ڈبل قیمت یعنی 10 کی چیز 20میں بیچی۔ اور آخری مال کو ڈبل سے بھی زیادہ بیچا جیسا کہ ہمارے ہاں بھی آخری مال کو زیادہ قیمت پر خرید لیا جاتا ہے۔جب وہ آدمی واپس آیا تو امام صاحب کے پاس اَڑھائی لاکھ کا نفع لے کر پہنچا جبکہ نفع کا اندازہ ایک لاکھ کا تھا۔ اب جب امام صاحب کے پاس اڑھائی لاکھ نفع میں آیا تو امام صاحب حیران ہوگئے اور اس وکیل سے کہنے لگے کہ یہ تم نے کیا کیا؟ اتنا نفع تمہیں کہاں سے مل گیا؟ اس آدمی نے کہا کہ جناب! میں نے پوری مارکیٹ کو دیکھا، پورا سروے کیا، ایک ایک بات نوٹ کی کہ کب کہاں کس کو میرے مال کی ضرورت پڑے گی۔ اس نے اپنا نفع کمانے کی ساری کہانی سنائی۔ امام صاحب نے اس سے کہا کہ یہ احتکار (ذخیرہ اندوزی) ہے کہ ضرورت کے وقت مال کو روک کر رکھنا اور بعد میں اسے مہنگا کر کے بیچنا۔ اور کہا کہ اب میں کس کس گاہک کو کہاں کہاں تلاش کروں؟ اب انہوں نے Total رقم مع منافع کے صدقہ کردی۔ یہ ان کا تقویٰ تھا۔ اللہ اکبر کبیراً!
آدھی دنیا کے قریب لوگوں کا حنفی مسلک چل رہا ہے۔ بڑے بڑے عرب حضرات بھی حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ان کے اس بلند مرتبے کی وجہ معاملات کی صفائی، علم اور نیکی تو ہے ہی، مگر ان کے تقویٰ کی شان ہی اعلیٰ تھی۔
(۲) ایک مرتبہ کوفہ میں بکریاں چوری ہوگئیں۔ امام صاحب کو اطلاع ملی کہ شہر میں بکریاں چوری ہوگئی ہیں۔ امام صاحب پریشان ہوگئے اور چرواہے کو بلایا اور پوچھا کہ ایک بکری کی اوسط عمر کتنی ہوتی ہے؟ چرواہے نے کہا کہ سات سال۔ اس کے بعد انہوں نے سات سال تک بکری کا گوشت نہیں کھایا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ چوری شدہ گوشت میرے پیٹ میں چلا جائے۔ اللہ اکبر کبیراً!
(۳) بادشاہِ وقت ابو جعفرمنصور امام ابوحنیفہ کو ہدیہ بھیجتا تھا۔ جبکہ امام صاحب بیت المال کا اور بادشاہ کا پیسہ استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے، لیکن اگر اس مال کو واپس کرتے تو لڑائی کا اندیشہ تھا۔ امام صاحب نے ایک عجیب سا معاملہ کیا۔ خلیفۂ وقت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میرے پاس لوگوں کی بہت ساری امانتیں ہیں، اگر آپ کی اجازت ہو تو بیت المال میں رکھ لیں؟ خلیفۂ وقت نے اجازت دے دی۔ امام صاحب نے امانتیں بیت المال میں رکھوانی شروع کر دیں۔ کافی عرصے بعد جب بیت المال کو کھولا گیا اور امام صاحب کی امانتوں کو واپس کیا جانے لگا تو پتا چلا کہ اس میں کئی تھیلیاں وہ بھی ہیں جس میں بادشاہ منصور امام صاحب کو ہدیہ بھجوایا کرتے تھے۔ بادشاہ بھی حیران ہوا کہ کتنی سمجھداری کے ساتھ اس نے میری تھیلیاں مجھے ہی واپس کر دیں۔ جب امام صاحب کا انتقال ہوا اور ان کا ترکہ تقسیم کیا گیا تو صرف لوگوں کی امانتیں ہی پانچ کروڑ درہم سے زیادہ خزانے میں موجود تھیں۔ لوگ اعتماد کرکے اپنی امانتیں رکھوایا کرتے تھے۔
اچھا! دنیا میں کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کوئی انعام یا فضل کر دیتے ہیں، چاہے وہ دنیا کا فضل ہو یا دین کا، تو ساتھ میں حاسدین بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ پکی بات ہے کہ کسی کو کچھ مل جائے تو اس سے حسد کرنےوالا ضرور ہوگا۔ لیکن ہمارے اکابرین کی نظریں بڑی پیاری تھیں۔ ان کو پتا لگتا کہ ہمارے ساتھ کوئی حسد کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اے اللہ! تُونے ایسی نعمت عطا کی تیرا شکر ہے کہ کوئی دوسرا ہم سے حسد کرتا ہے۔ اسے کہتے ہیں Positive Thinking کہ حاسد کے بارے میں بدگمانی نہ کرنا۔
(۴) ایک مرتبہ ایک حاسد نے بہت بڑی رقم امام صاحبm کے پاس رکھوائی اور اس پر اس نے سرکاری مہر لگا دی۔ خاص طریقے کے مطابق مہر لگا کر بہت بڑی اماؤنٹ امام صاحب کے حوالے کر دی۔ پھر جب اس نے اندازہ لگایا کہ امام صاحب کی لاکھوں کے حساب سے چیزیں Import اور Export ہو رہی ہیں، اس کے علاوہ وہ لاکھوں کی تعداد میں دراہم علماء اور مشائخ کو دے رہے ہیں۔ یعنی مدرسہ میں بچوں کو پڑھاتے بھی ہیں، اور ان کو وظیفے بھی دے رہے ہیں، لوگوں کے گھروں کی کفالت کر رہے ہیں۔ اب اس حاسد نے اس بات کا اندازہ لگایا کہ امانت دیے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہے اور کافی بڑی اماؤنٹ امام صاحب کو دی ہوئی ہے اور ان کا بہترین کاروبار چل رہا ہے ہے۔ خوب ریل پیل نظر آرہی ہے تو یقیناً انہوں نے اس تھیلی کو بھی استعمال کیا ہوگا جس پر سرکاری مہر لگی ہوئی تھی، ورنہ اتنے پیسے امام صاحب کے پاس کہاں سے آسکتے ہیں؟ اس نے قاضی کی عدالت میں جا کر مقدمہ دائر کر دیا کہ امام صاحب نے میری اس تھیلی کو کھول لیا ہے جس پر سرکاری مہر تھی۔ وہ امام صاحب کے پاس نہیں گیا، سیدھا قاضی کے پاس ہی مقدمہ لے کر گیا تھا۔ قاضی نے جب امام صاحب کو بلایا تو امام صاحب نے اپنے خزانے میں سے وہ تھیلی لاکر پیش کر دی۔ لوگوں نے اور حاسد نے ان کے معاملات کی صفائی کو دنیا میں آزما بھی لیا۔ چاہیے کہ ہم بھی صداقت کے ساتھ کاروبار کریں، حلال کمائیں، پھر اپنی زندگی میں اور اپنی اولادوں میں برکتیں دیکھیں!
کابل کا اہم واقعہ:
امیرمحمد ولی کابل کا ایک آدمی تھا۔ ان کے دادا دوست محمد خان کی حکایت ہے کہ ایک مرتبہ ان کے ملک پر کسی نے حملہ کر دیا۔ بادشاہ نے اپنے بیٹے کو فوج دے کر بھیجا کہ جاؤ اور مقابلہ کرکے آؤ۔ شہزادہ دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لیے چلاگیا۔ کچھ دنوں بعد بادشاہ کو خبر ملی کہ شہزادہ پیٹھ دکھا کے بھاگ گیا ہے اور ہمیں شکست ہوچکی ہے۔ اور یہ کہ شہزادہ واپس آرہا ہے۔ بادشاہ بڑا پریشان ہوا، بہت غمگین ہوگیا، چہرہ سیاہ ہوگیا۔ اسی غمگین اور بوجھل چہرے کے ساتھ وہ گھر گیا اور اس نے یہ دکھ بھری بات ملکہ کو سنائی۔ ملکہ نے سنا تو کہنے لگی کہ ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا۔ میرا بیٹا جان دے سکتا ہے، سینے پر تلوار کے زخم لگواسکتا ہے، مگر پیٹھ دکھاکر واپس نہیں آسکتا۔ بادشاہ نے بہت کہا کہ یہ جاسوسوں کی رپورٹ ہے جھوٹی نہیں ہوسکتی، مگر وہ یہی تکرار کرتی رہی کہ میرا بیٹا شہید ہوسکتا ہے، مگر یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ پیٹھ دکھا کے بھاگ جائے۔
بادشاہ نے ملکہ کی اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ شاید صدمے سے ایسی باتیں کر رہی ہے، مگر کچھ دنوں بعد خبر آئی کہ پہلی خبر جھوٹی اور غلط تھی، شہزادہ نہیں بلکہ دشمن پیٹھ دکھاکر شکست کھا گیا ہے اور شہزادہ فاتح کی حیثیت سےشہر میں داخل ہونے والا ہے۔ بادشاہ بہت حیران بھی ہوا، اور خوش بھی ہوا۔ سیدھا ملکہ کے پاس آیا اور کہا کہ میرے سارے جاسوس، گورنمنٹ، مشیر سب ناکام ہوگئے۔ تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی کہ تمہارا بیٹا پیٹھ دکھا کے نہیں بھاگا بلکہ فاتح بن کر واپس آیا ہے؟ ملکہ نے جواب دیا کہ وجہ یہ ہے کہ جب سے یہ میرے پیٹ میں آیا ہے، میں نے کبھی اس کو حرام غذا نہیں کھلائی، اور نہ خود کھائی۔ اور جب سے یہ پیدا ہوا ہے میں نے زندگی بھر اسے کبھی حرام نہیں کھلایا، تمہارے خزانے سے کبھی نہیں کھلایا، ہمیشہ حلال ہی کھلایا، اور حلال کھانے والا شہید تو ہو سکتا ہے مگر پیٹھ دکھاکر واپس نہیں آسکتا۔
ہم بھی حلال کھائیں اور اپنے کاروبار کو صاف گوئی سے چلانے کی کوشش کریں۔ کیوںکہ ابھی زندگی میں موقع ہے۔ موت سے پہلے ہم اپنے آپ کو صاف کرنے کی کوشش کریں۔ پھر دیکھیں یہی دوکان ہوگی، مگر موت کے بعد انبیاءf کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہ کوئی چھوٹی بات ہے کہ دوکان، کاروبار اللہ پاک نے ہمیں ایسی نعمت دی ہے، اگر اس نعمت کا حق ادا کریں تو قیامت کے دن یہ ہمیں انبیاf کے جھرمٹ میں کھڑا کر دے گی۔ تاجر لوگ کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار، یا جتنے بھی اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے ہیں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ یہ کوئی چھوٹی نعمت نہیں ہے، بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن اس کے لیے محنت کرنا ہوگی۔ جذبات کی قربانی دینی ہوگی۔ زبان کو کنڑول میں رکھنا ہوگا، پھر دیکھیں اللہ کی رحمتیں کیسے متوجہ ہوں گی۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کا واقعہ:
ایک بہت ہی مشہور ترین واقعہ سن لیجیے۔ چوںکہ بہت سبق آموز واقعہ ہے، اس لیے میں اس کو یہاں پر ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ بہرحال واقعہ یہ ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی بچپن میں علم حاصل کرنے کے لیے کہیں جانا چاہ رہے تھے۔ ماں نے کپڑوں میں کچھ پیسے سی دیے اور بیٹے کو پیسوں کا بتا دیا کہ یہ تمہارے کام آئیں گے۔ تم علم حاصل کرنے جاؤ۔ بیٹا! کبھی جھوٹ نہیں بولنا، ہمیشہ سچ بولنا۔ یہ نصیحتیں سن کر شیخ حصولِ علم کے لیے ایک قافلہ کے ساتھ چل پڑے۔ راستے میں اچانک ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا اور سب قافلے والوں کو لوٹ لیا۔ ایک ڈاکو نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے حوالے کر دو۔ انہوں نے جواب دیا: ہاں! میرے پاس 40 اشرفیاں ہیں۔ وہ بڑا حیران ہوا کہ لوگ تو جھوٹ بولتے ہیں، تم نے سچ کیوں بولا؟
اس نے یہ بات سردار تک بات پہنچا دی۔ ڈاکوؤں کے سردار نے پوچھا تو انہوں نے چھپی ہوئی رقم نکال دی۔ سردار نے کہا کہ ہر آدمی جھوٹ بولتا ہے مال چھپانے کے لیے، تم نے کیوں نہیں چھپایا؟ معصوم بچے نے جواب دیا کہ امی نے کہا تھا کہ سچ بولنا، جھوٹ کبھی نہ بولنا۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ ڈاکوؤں کے سردار پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے توبہ کرلی اور سارا مال لوگوں کو لوٹا دیا۔ اور کہا کہ مجھے بھی میرے پروردگار نے اور میرے نبیﷺ حکم دیا ہے کہ حلال کمانا ہے اور سچ بولنا ہے، تو مجھے بھی ان کی باتوں پر عمل کرنا ہے۔
پیران پیرکے والد کا واقعہ:
شیخ عبدالقادر جیلانی کے والد کا قصہ بھی بڑا عجیب اور ایمان افروز ہے۔ ان کے والد کا نام تھا دوست محمد جنگی۔ بڑے اللہ والے تھے۔ اکثر اوقات عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ ایک مرتبہ دریا کے کنارے عبادت کرتے دو تین دن گزر گئے۔ بھوک بھی لگی ہوئی تھی کہ اچانک نظر پڑی پانی پر ایک سیب تیرتا ہوا آرہا ہے۔ انہیں بھوک لگی ہوئی تھی۔ دریا میں ہاتھ ڈالا، سیب نکالا اور بسم اللہ پڑھ کے کھالیا۔ کھاتے ہی خیال آیا کہ میں نے تو سیب کے مالک سے اس کے کھانے کی اجازت لی ہی نہیں، بغیر اجازت کے سیب کھالیا۔ اب کیا کروں؟ اب وہ سیب جس سمت سے تیرتا ہوا آیا تھا، اس کی مخالف سمت چلنے لگے۔
کافی دیر چلنے کے بعد انہیں ایک باغ نظر آیا۔ معلوم ہوا کہ یہ سیب اسی باغ کا ہے کہ اسی کی کچھ شاخیں دریا میں جھکی ہوئی ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ اس باغ کا مالک کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جیلان کے ایک رئیس ہیں۔ سید عبداللہ سومائی، وہ اس باغ کے مالک ہیں۔ پتا کرکے ان کے پاس پہنچے اور کہا کہ میں نے آپ کے باغ کا سیب کھایا ہے، میں اس کی معافی چاہتا ہوں۔ آپ مجھے معاف کر دیجیے، اور آخرت میں مجھ سے اس کا مواخذہ نہ فرمائیے۔
سید عبداللہ سومائی جوہر شناس آدمی تھے۔ یعنی ہیرا پہچانتے تھے کہ سعادت کے آثار اس نوجوان کی پیشانی پر نظر آرہے ہیں۔ کہنے لگے کہ میں تمہیں معاف نہیں کرسکتا جب تک کہ تم میری ایک بیٹی سے شادی نہیں کرلیتے جو آنکھوں سے اندھی ہے، ہاتھوں سے ٹُنڈی، پاؤں سے لنگڑی ہے، زبان سے گونگھی ہے، کانوں سے بہری ہے۔ اگر تم اس اپاہج سے شادی کرتے ہو تو میں تمہیں سیب معاف کر دیتا ہوں، ورنہ میں تمہیں معاف نہیں کرسکتا اور قیامت کے دن تم سے لوں گا۔ دوست محمد جنگی پہلے پہل تو پریشان ہوگئے، لیکن پھر خیال آیا کہ زندگی بھر اس لاچار اور معذور عورت کی خدمت کرنا پھر بھی آسان ہے کیونکہ موت تو آہی جائے گی، لیکن قیامت کے دن میں سیب کیسے معاف کرواؤں گا۔
میرے بھائیو! وہ ایک سیب کے لیے کتنے بے چین ہوگئے۔ ہمیں بھی اپنے گریبانوں میں جھانک لینا چاہیے۔ وہ مان گئے اس عورت سے شادی کرنے پر اور کہنے لگے کہ آپ مجھے سیب معاف کر دیں، میں زندگی بھر اپنی بیوی کی خدمت کرتا رہوں گا جو لنگڑی ہے، ٹُنڈی ہے، بہری ہے، گونگھی ہے، اندھی بھی ہے۔ ایسی محتاج کی تو خدمت ہی کی جاتی ہے۔ اب نکاح پڑھا دیا۔ نکاح پڑھانے کے بعد کہا کہ جاؤ، فلاںکمرے میں تمہاری بیوی ہے۔ یہ وہاں گئے تو وہاں پر خوبصورت اور نوجوان لڑکی تھی۔ ہرلحاظ سے صحت مند لڑکی موجود تھی۔ وہ گھبرا کر واپس آگئے کہ شاید میں غلط کمرے میں آگیا۔ سسر سے کہا کہ حضرت! میں تو غلط کمرے میں چلا گیا تھا جہاں صحت مند لڑکی موجود ہے۔ سسر نے جواب دیا کہ یہی تمہاری بیوی ہے۔ اندھی اس لحاظ سے کہ اس نے نامحرم کو کبھی نہیں دیکھا۔ گونگی اس لیے ہے کہ اس نے نامحرم سے کبھی بات نہیں کی۔ لنگڑی اس لیے ہے کہ گناہ کی طرف چل کر نہیں گئی۔ بہری اس لیے کہ اس نے کبھی غیبت نہیں سنی۔
میں روز یہ سیب دریا میں پھینکتا تھا کہ کوئی تو اسے معاف کروانے آئے، سوائے تمہارے کوئی نہیں آیا۔ دوست محمد جنگی نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس لڑکی کے ساتھ زندگی بسر کی۔ ان دونوں پاکباز کی رفاقت سے جو بیٹا پیدا ہوا وہ شیخ عبدالقادر جیلانی تھے۔ اسی طرح جب ماں فاطمہ جیسی ہو اور باپ علی المرتضیٰٓ جیسا تو اولاد حسن اور حسین کی طرح ہی ہوا کرتی ہے۔ معلوم ہوا کہ درخت اچھا ہو تو پھل بھی اچھے ہوتے ہی ہیں۔ بہت سے لوگ آتے ہیں کہ حضرت! دعا کر دیں ہماری اولاد فرمانبردار بن جائے۔ ہماری اولاد افلاطون بن گئی ہے۔ بات نہیں سنتی، بات ماننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ کبھی اس کے اسباب سوچیے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
درخت پر محنت کی ضرورت
ٹھیک ہے اولاد کی غلطیاں ہیں ان کو سمجھانا بھی ہے، لیکن اگر درخت کا پھل خراب ہوجائے تو پھل سے زیادہ درخت پر محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ وہ بے وقوف ہوتے ہیں جو پھل کو لے کر بیٹھے رہیں اور درخت کی پرواہ نہ کریں۔ درخت پر محنت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔ Cutting تو درخت کی ہوتی ہے، دوائی بھی اسی کو دی جاتی ہے۔ اس لیے آج میں اور آپ سچے دل سے ارادہ کریں کہ اے اللہ! ہم آج سے نبی کے اصول کے مطابق تجارت کریں گے۔ یقیناً اللہ ربّ العزّت بھی ہم سے رحمت کا معاملہ فرمائیں گے۔ اور ایسے کبھی نہیں ہوسکتا کہ ہم اللہ کی مانیں اور اللہ ہمارے مال کو کم کر دیں۔
تقسیمِ رزق اور دین
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے تمہارے درمیان اخلاق کو ایسے ہی تقسیم فرمایا ہے جیسا کہ تمہارے درمیان رزق کو تقسیم کیا ہے۔ اللہ پاک دنیا اسے بھی دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں اور اُسے بھی دیتے ہیں جس سے محبت نہیں فرماتے، لیکن دین صرف اس کو دیتے ہیں جس سے اللہ پاک محبت فرماتے ہیں۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 4994)
اللہ ربّ العزّت کے پاس جو کچھ بھی ہے اسے اطاعت اور فرمانبرداری کے ذریعے ہی لے سکتے ہیں، اس کے سامنے سرجھکا کر حاصل کرسکتے ہیں، لیکن اس کے سامنے بغاوت کرکے حاصل نہیں کرسکتے۔ اللہ ربّ العزّت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں شریعت کے مطابق کاروبار کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب نبی کے قدموں میں موجود ہوں۔ نبی کے جھنڈے کے نیچے موجود ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے کے نیچے موجود ہوں۔ آمین یارب العالمین۔
اب جسے اللہ تعالیٰ نے دوکان دی ہے، اور جسے نہیں دی۔ سب کو چاہیے کہ حلال کا اہتمام کریں۔ اس حلال میں بڑی برکت ہے۔
ایک عورت کا کمالِ احتیاط
ایک عورت کا واقعہ یاد آیا۔ امام احمد بن حنبل کے پاس ایک عورت مسئلہ پوچھنے آئی۔ اور کہنے لگی کہ حضرت! میں چرخا کاتتی ہوں، دھاگا بُنتی ہوں۔ دن میں تو یہ کام کرلیتی ہوں۔ رات کے وقت چاند کی روشنی میں یہ کام کرتی ہوں، کیوںکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ چراغ جلاسکوں۔ بعض اوقات چاند بھی نہیں ہوتا، لیکن گزارے کے لیے پھر بھی کام کرنا پڑتا ہے، تو ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ بادشاہ کی سواری گزری اور کافی دیر تک وہاں پر روشنی رہی۔ اس سرکاری روشنی میں میں نے ساری رات کام کیا۔ کیا وہ روشنی میرے لیے استعمال کرنا جائز تھی؟ کیوںکہ اس روشنی کی قیمت میں نے ادا نہیں کی۔ امام احمد بن حنبل نے جواب دیا کہ جائز نہیں ہے، تم اتنی رقم صدقہ کردو۔ وہ عورت مسئلہ پوچھ کر چلی گئی۔
اس وقت امام صاحب کے بیٹے بھی موجود تھے۔ کہنے لگے کہ ابا جان! آپ نے ان کو اتنا مشکل فتویٰ کیوں دیا؟ گنجائش تو تھی کہ سرکاری مال استعمال کرسکتے ہیں۔ اس پر امام صاحب نے جواب دیا کہ جس تقویٰ کے معیار سے اس نے یہ بات پوچھی تھی، اس لحاظ سے اس کو یہی جواب دینا چاہیے تھا کہ وہ اس مال کو صدقہ کر دے۔ امام صاحب نے پھر اپنے بیٹے کو بھیجا کہ جاؤ! دیکھو کہ کس گھر سے آئی ہے۔ تفتیش پر معلوم ہوا کہ وہ عورت ایک بہت بڑے اللہ والے کی رشتے دار تھی۔ معلوم ہوا کہ صرف تاجر ہی نہیں، بلکہ تمام شعبے کے لوگ اگر حلال طریقے سے اپنا کاروبار کریں تو زندگی میں برکتیں ہی برکتیں دیکھیں گے۔ آج کتنے ایسے لوگ ہیں، یقین کریں کہ وہ قیمتی سے قیمتی بستر خریدسکتے ہیں، مگر نیند سے محروم رہتے ہیں، سکون سے محروم رہتے ہیں۔
میرے بھائیو! سکون کی گولی حلال ہی میں ہے، اس کے علاوہ سکون کہیں نہیں ہے۔ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھک نہیں جاتے، تب تک ہمیں سکون نہیں آئے گا۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں