رزق میں حلال کی اہمیت

رزق میں حلال کی اہمیت

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًاط(المؤمنون: 51)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

نشہ کی حرمت
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ جب سورۂ بقرہ کی آیات جوشراب کے متعلق ہیں، نازل ہوئیں تو نبی تشریف لائے اور فرمایا کہ شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 2113)
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ انہوں نے (خود) نبی کو فتح مکہ کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی تجارت کو حرام قرار دیا ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 2121)
حدیث پاک میں حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: خدا کی لعنت ہو شراب پر، اُس کے پینے والے پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، خریدنے والےپر، بنانے والے پر، جس کے لیے بنائی گئی اس پر، اُٹھا کر لے جانے والے پر، جس کی طرف اُٹھا کر لے جائی گئی اس پر۔
(سنن ابی داؤد: رقم 3674)
یعنی جتنی بھی چیزیں ہوسکتی تھیں تمام کو منع کردیا گیا۔ یہ صرف شراب ہی کی بات نہیں ہے، جتنے قسم کے نشے ہیں سب کا یہی حکم ہے۔
حلال کا اپنا اَثر ہے
قرآن پاک کی آیت ہے:
کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًاط (المؤمنون: 51)
ترجمہ: ’’پاکیزہ چیزوں میں سے (جو چاہو) کھائو، اور نیک عمل کرو‘‘۔
غذا کا اور انسان کا اعضا وجوارح کا آپس میں بڑا زبردست جوڑ ہے۔ اگر غذا ہماری حرام ہوگی تو اعمال بھی ہمارے گناہوں والے ہوں گے، اور غذا ہماری حلال ہوگی تو اعمال بھی اِن شاء اللہ پاکدامنی والے ہوں گے اور نیک ہوں گے۔ حضرت جیs فرماتے ہیں کہ جسم کا جو Tissue حرام غذا سے بنے گا اُس کو گناہ کیے بغیر چین نہیں آئے گا، گناہ کرکے رہے گا۔ تو اپنی کمائیوں کو حلال کرنے کی ضرورت ہے۔
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی دوسرے کی مجبوری کی وجہ سے اُس سے سستے داموں چیز خرید لیتا ہے۔ مثلاً کوئی مجبور یا پریشان حال تھا، اب وہ اپنی جگہ بیچ رہا ہے۔ عام طور سے زمینوں میں ایسا ہوتا ہے، لیکن اور بھی چیزیں ہیں۔ جیسے بعض دفعہ عورتیں زیورات بیچتی ہیں، گھر کی چیز بیچنے کی نوبت آجاتی ہے۔ اس سلسلے میں نبی نے اپنی امت کو مکمل  رہنمائی دی ہے۔ اگلے کے ساتھ جو مرضی کرو والا معاملہ نہیں ہے۔
پریشان حال سے لین دین کرنا
ابو دائود شریف میں حضرت علی سے روایت ہے کہ نبی نے مجبور اور پریشان حال کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3382)
کیا مطلب؟ علماء نے اس حدیث کی شرح میں دو باتیں ارشاد فرمائی ہیں:
ایک یہ کہ کسی کو مجبور کیا جائے کہ تمہارے پاس یہ چیز ہے، اسے تم مجھے اتنے داموں بیچو۔ اور اس سے زبردستی کرکے خریدا جائے۔ یہ غصب کہلائے گا جو کہ ناجائز ہے۔
دوسرا مطلب یہ کہ کوئی آدمی کسی بھی مصیبت کی وجہ سے مجبور اور پریشان ہوجائے اور اپنا سامان کم داموں فروخت کرنے لگے۔ ایسا آدمی عام طور سے رعایت کرکے بیچتا ہے تو حدیث شریف میں رعایت سے لینا منع کیا گیا۔ فرمایا کہ جو عرفاً مارکیٹ کی قیمت ہے، اس پر لیا جائے، اس کی مجبوری کو Cash نہ کیا جائے۔ بلکہ علماء نے تویہاں تک لکھا کہ اگر تمہارے پاس گنجائش ہو تو تم اسے نقد ادا کردو، یا اُدھار کے طور پر دے دو کہ وہ اپنی پریشانی دور کرلے اور تمہارے لیے اجر کا ذریعہ بن جائے۔
ایک سودے پر دوسرے سودے کی ممانعت
قربان جائیے کہ نبی نے اپنی اُمت کو تجارت کے مزید اُصول بھی بتائے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: کوئی مسلمان اپنے بھائی کی تجارت پر تجارت نہ کرے۔ (صحیح مسلم: رقم 1515)
اس کے بھاؤتاؤ پر اپنا بھاؤتاؤ نہ کرے۔یہ بات بہت زیادہ سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مطلب یہ کہ ایک جگہ Sale ہو رہی تھی۔ دو آدمیوں کے درمیان بات چیت چل رہی تھی۔ بیچنے والے نے مثلاً پچاس لاکھ کا مطالبہ کیا اور دینے والے نے چالیس لاکھ پر رضامندی ظاہر کی۔ اور دونوں کی بات کرتے کرتے پینتالیس لاکھ پر طے ہوگئی۔ اب تیسرا شخص آکر چھیالیس لاکھ دینے کی بات نہ کرے۔ حدیث شریف میں اسی کو منع کیا گیا ہے۔ ہاں! اگر دونوں طرف سے بات نہ بنے اور معاملہ ختم، بات چیت ختم تو اب تیسرے شخص کو اس چیز کو خریدنے کے لیے اپنی آفر دینے میں مضائقہ نہیں ہے۔ بس اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ جب دو آدمیوں کی بات چل رہی ہو تو ان کے بیچ میں نہیں پڑنا چاہیے۔ یہ بات اخلاقیات کے بھی خلاف ہے۔
سودے بازی میں قسم کھانے کی ممانعت
اسی طرح خرید وفروخت میں قسم کھانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ نبی نے ارشاد فرمایا کہ خرید و فروخت میں قسم کھانے سے سے سوداتو بِک جاتا ہے، لیکن برکت چلی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 1981)
آج زندگیوں میں برکتیں نہ رہیں۔ گھروں میں برکتیں نہ رہیں، نمازوں میں برکتیں نہ رہیں، اعمال میں برکتیں نہ رہیں۔ اس کی بہت بڑی وجہ ہماری کمائی کا صاف نہ ہونا ہے۔ ایک اور حدیث سنیں اور جو تاجر حضرات ہیں وہ دل کے کانوں سے سنیں!
حضرت ابو ذرغفاری سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا:
اللہ ربّ العزّت قیامت کے دن تین آدمیوں سے گفتگو نہ فرمائیں گے، نہ اُن کی طرف نظرِ رحمت کریں گے، اور نہ اُنہیں پاک وصاف فرمائیں گے، اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ یہ بات رحمۃٌ للعالمینﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ (حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: خَابُوْا وَخَسِرُوْا (بڑے گھاٹے والے ہیں، بڑے خسارے والے ہیں) اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ (ہمیں بتائیں تاکہ ہم تو بچیں) نبی نے ارشاد فرمایا:
(۱) ٹخنوں سے نیچے پاجامہ لٹکانے والا (۲) احسان کرکے جتلانے والا
(۳) جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا۔ (صحیح مسلم: رقم 106)
تیسرے کو تو سن لیا، اب باقی دو سے متعلق بھی تفصیل سن لیجیے!
(۱) ٹخنوں سے نیچے پاجامہ لٹکانے والا
وہ مرد جس کے ٹخنے ڈھکے رہیں، پاجامے سے ڈھکے رہیں، پینٹ سے ڈھکے رہیں، کسی بھی طریقے سے ڈھکے رہیں، تو پکی روایت ہے کہ وہ جہنم میں جلیں گے۔
مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ. (صحیح البخاري: رقم 5787)
ترجمہ: ’’تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں جائےگا‘‘۔
دوسری روایت میں ہے:
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ ﷺ قَالَ : اَلْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، لَا خَيْرَ فِيْ أَسْفَلَ مِنْ ذٰلِكَ. (مسند أحمد: 415/19)
ترجمہ: ’’حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تہبند کی حد نصف پنڈلی اور ٹخنوں تک ہے، اس سے نیچے کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے‘‘۔
اور آج کل سارا معاملہ ہی اُلٹا ہوگیا۔ عورتوں کے ٹخنے ننگے ہو رہے ہیں، بلکہ پنڈلیاں بھی ننگی ہو رہی ہیں، اور مرد حضرات پائوں بھی چھپا رہے ہیں۔ بسااوقات مردوں کی شلواریں یا یہ انگریزی پینٹ زمین کو لگ رہی ہوتی ہیں، اور ذرا اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ کوئی گناہ مجھ سے ہو رہا ہے۔
(۲) احسان کرکے جتلانے والا
اب ہم دیکھیں کہ جب کسی کی ہم کوئی مدد کرتے ہیں تو زندگی بھر اس پر احسان ہی جتلاتے رہتے ہیں۔ کیا میں نے تمہارے ساتھ یہ بھلائی نہیں کی تھی؟ فلاں موقع پر میں نے تمہاری مدد نہیں کی تھی۔ علامہ ابنِ سیرین نے ایک شخص کو دیکھا کہ دوسرے پر احسان جتلاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں نے تو تمہارے ساتھ یہ یہ بھلائیاں کی ہیں۔ (اپنے احسانات گِن رہا تھا) تو ابنِ سیرین نے اس سے فرمایا: خاموش ہوجا! اس نیکی میں جسے گِنا جائے، کوئی بھلائی نہیں ہے۔
فرمایا پیارے رسولﷺ نے کہ ان تینوں شخصوں کو قیامت کے دن دردناک عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت کے مستحق نہیں بنیں گے۔ اللہ ان کو پاک نہیں کرے گا۔
بس عجیب ہمارے حالات چل رہے ہوتے ہیں۔ جتنی باتیں عرض کی جاتی ہیں، اسے اپنی زندگی میں دیکھیں اور پھر سنت طریقے کو اختیار کریں۔
چوری کا مال بیچنا
اسی طرح تاجر حضرات بعض مرتبہ کمپنی سے یا صحیح بندے سے جو اصل مالک ہوتا ہے، اس سے مال خریدتے ہیں وہ تو ٹھیک ہے۔ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن بعض مرتبہ ان کے پاس چوری کا مال بھی آجاتا ہے۔ اس کی مثال موبائل فون سے سمجھ لیجیے۔ یہ چیز بہت زیادہ عام ہے۔ بہت زیادہ موبائل فونز چوری ہوتے ہیں، اور پھر مارکیٹوں میں جاتے ہیں اور دوکاندار فوراً اس کو خرید لیتے ہیں۔ اگر وہ نہ خریدیں تو چوری یا بالکل ختم ہوجائے، یا پھر کم از کم بہت کم ہوجائے گی۔ اس کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے سنیے! اور دل کے کانوں سے سنیے!
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چوری کا مال خریدلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو وہ اس کی برائی اور گناہ میں برابر کا شریک ہے۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 2300)
معلوم ہوجانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پوری تفصیلات اسے معلوم ہو جائے۔ اندازے سے پتا لگ گیا، غالب گمان ہوگیا کہ یہ اس کا نہیں ہے، کسی کا لایا ہے، تو اب احتیاط کرنا ضروری ہے۔ چور نے تو چوری کی لیکن دوکاندار اپنی دوکان پر بیٹھے ہوئے اس سے چوری کے بھائو جب چوری کا مال خرید رہا ہے، تو پھر وہ بھی گناہ میں شریک ہے۔ اس لیے چاہیے کہ بہت احتیاط کے ساتھ ہم کمائی کا معاملہ رکھیں۔
کمائی میں مشتبہ چیزوں سے بچنا
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، ان کے درمیان کچھ چیزیں ایسی ہیں جو مشتبہات میں سے ہیں جس سے بیشتر لوگ واقف نہیں (کہ آیا یہ حلال ہے یا حرام) جو آدمی ایسے مشتبہات کو چھوڑدے گا یہ اپنے دین کو اور اپنی عزّت کو بچا لے گا۔ اور جو ایسی چیزوں کو اختیار کرے گا، تو وہ قریب ہے کہ حرام میں گرفتار ہوجائے گا۔
(صحیح البخاري: رقم 1946، باب الحلال بیّن والحرام بیّن و بینھما مشتبھات)
انسان آہستہ آہستہ ہی برائی کی طرف جاتا ہے۔اس لیے اس کی کوشش کرنی چاہیے کہ حلال تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھا جائے، مشتبہ چیزوں کی طرف جائے ہی نہیں۔ جب انسان کچھ غلط کام کرنے لگتا ہے تو دل کے اندر کھٹکا پیدا ہونے لگتا ہے۔ دوکان پہ بالکل ٹھیک بیٹھا ہوتا ہے، دل مطمئن ہوتا ہے۔ اور پھر کوئی معاملہ غلط ہوگیا تو بعض مرتبہ دل کھٹکنے لگتا ہے۔ جب یہ دل کھٹکنے لگے ،تو بس اُس معاملہ کو چھوڑ دیں۔ اسے ویسا نہ کریں جیسا کر رہے ہیں۔ رُک جائیے۔ ایمان والے کا دل جب گواہی دیتا ہے، بولتا ہے، کھٹکنے لگتا ہے تو کوئی بات ہوتی ہے۔ بس اُس چیز کو چھوڑ دیں، احتیاط والی تجارت یہی ہے۔ یہ اصل لوگ ہیں جو اپنی اولاد کا نفع دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم انہیں کیا دے رہے ہیں۔
ورنہ آج کل جوکمائی حرام ہوتی چلی جا رہی ہے، تو آپ چند سالوں کے بعد دیکھیے گا کہ ہمارے ملک میں آپ کو Old House بنے نظر آئیں گے۔ اور 20,10 سال کے بعد آپ دیکھیے گا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیوںکہ ہم نے جس راستے کو پکڑا ہے وہ کفار کا راستہ ہے، یہود و نصاریٰ کا راستہ ہے۔ وہاں چوںکہ اولڈ ہومز بن چکے ہیں، اب (اللہ نہ کرے) یہاں آنے ہیں۔ یہ کس وجہ سے ہو سکتا ہے؟ وجہ بالکل دو اور دو چار کے حساب کی طرح واضح ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے دین کو چھوڑ دیا، اور نبی کے مبارک طریقوں کو چھوڑدیا۔ اب جو آج یورپ میں ہو رہا ہے، وہ 20،25 سال بعد یہاں دیکھ لیں۔ میرے بھائیو! بات تو غلط ہے، کہنی نہیں چاہیے، لیکن کیا کریں کہ ہم نے حالات ہی ایسے پیدا کر دیے ہیں۔ وہاں کئی ملکوں میں قانون ہے کہ والد کا نام نہ پوچھا جائے۔ تو کچھ ایسا ہی راستہ ہم نے بھی وہیں سے لے لیا ہے۔
اس کے علاوہ تجارت میں بعض مرتبہ سود کا معاملہ بھی شامل ہوجاتا ہے، اس کے لیے بھی سمجھنے کی چند باتیں ہیں۔
سود کی برائی
نبی کا ارشاد ہے: سود کے ستر درجے گناہ ہیں، اور سب سے کم ترین درجہ ایسا ہے جیسا کوئی اپنی ماں کے ساتھ گناہ کرلے۔ (مشکاۃ المصابیح: رقم 2826)
ایک بالکل صحیح حدیث میں حضرت عبداللہ بن عباس حضورﷺ سے نقل فرماتے ہیں: جس بستی میں سود اور زنا عام ہو جائے، وہاں کے لوگ اللہ کا عذاب اپنے اوپر حلال کر لیتے ہیں۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 2308)
اور آج یہ دونوں چیزیں ہمارے معاشرے میں بہ کثرت موجود ہیں۔
ایک اور حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا: چار قسم لوگ ایسے ہیں کہ اللہ پاک انہیں جنت میں داخل نہیں کریں گے، اور نہ انہیں جنت کی نعمتوں کا مزا چکھائیں گے:
(۱) شراب کا عادی
(۲) سود کھانے والا
(۳) یتیم کا مال نا حق کھانے والا
(۴) والدین کا نافرمان۔ (مستدرکِ حاکم: رقم 2197)

اور آج ہم اس زمانے میں آچکے ہیں کہ جو لوگ سود سے بچنا چاہتے ہیں، پھر بھی کہیں نہ کہیں سے اُن کو پریشانی آہی جاتی ہے۔
دوسری جگہ حضرت ابوہریرہ نبی سے روایت فرماتے ہیں: ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ (بہ کثرت) سود کھائیں گے، اور جو اس سے بچنا بھی چاہے گا تو پھر بھی اس (سود) کا دھواں اور غبار اُس کو پہنچ کر رہے گا۔ (سنن ىنسائی صغریٰ: رقم 4403)
یعنی سود سے بچنا مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام ہوگا۔ لوگوں کی اکثریت سود میں مبتلا ہوجائے گی۔ اب جو لوگ تجارت کرتے ہیں بعض مرتبہ واضح اور کھلا سود جس کو ہم Bank Interest کہتے ہیں، وہ نہیں لے ہو رہے ہوتے ہیں، لیکن چوں کہ دین کا علم نہیں، دین کی قدر نہیں، آخرت کی فکر نہیں، قیامت کا ڈر نہیں، کسی عالم سے پوچھنا ہی  گوارا نہیں کرتے، اور اپنے معاملات میں سودلے آتے ہیں۔ اور قربِ قیامت سود اور زنا بالکل عام ہوں گے۔ اور یہ دونوں چیزیں آج عام ہیں جس کی وجہ سے ہم پریشانیوں کو دیکھ رہے ہیں۔
سود کے متعلق جو حکم ہے یہ بھی شراب ہی کی طرح تقریباً معاملہ ہے۔
حضرت جابر روایت کرتے ہیںکہ نبی نے سود کھانے والے، کھلانے والے، لکھنے والے، اور گواہ بننے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ اور فرمایا: یہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔ (صحیح مسلم: رقم 1598)
سودی کاروبار میں جتنے بھی لوگ شریک ہیں، وہ سب مستحقِ لعنت بن جاتے ہیں۔ الحمدللہ! اب غیر سودی بینک بنام اسلامک بینکنگ آگئے ہیں۔ جیسے میزان بینک کے بارے میں دارالعلوم کراچی والوں سے میں نے خود پوچھا، تو انہوں نے فرمایا کہ ہاں! یہ ٹھیک ہے۔ اور ایک ہے سودی بینک۔
شیطان کی چال
سودی بینک میں کام کرنے والے ایک صاحب سے بات چیت ہوئی تو کہنے لگے کہ جی! ہمارے بینک میں دونوں طرح کے اکائونٹ ہیں: (۱) سیونگ اکاؤنٹ اور (۲) کرنٹ اکائونٹ۔ کہنے لگے کہ بینک وہ ویسے سودی ہی ہے، اسلامک بینکنگ نہیں ہے۔ میں اس میں نوکری کرتا ہوں۔ جو کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں، ہمیں اُن کی چیزوں کو لینا اور رکھنا ہوتا ہے۔ باقی میرا کسی سے تعلق نہیں ہے۔ اب غور کریں تو معلوم ہو کہ یہ شیطان کا کیسا بہانہ ہے کہ انسان ایک اُسی نظام کا حصہ بنا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ جی! میں صرف اُن چند لوگوں کے لیے کام کرتا ہوں جو کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں۔ یہ نفس کے دھوکے ہوا کرتے ہیں۔
ایک قریبی ساتھی ہیں، ان کا بینک سے تعلق ہے۔ میں نے ایک دفعہ ویسے ہی ان سے پوچھا کہ آپ بتائیے کہ آپ جس برانچ میں کام کرتے ہیں، وہاں کتنے اکاؤنٹ ہوں گے؟ کہنے لگے کہ اس کا تو مجھے اندازہ نہیں ہے، لیکن خیر 4 ہزار کے قریب ہوں گے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اس کے اندر سودی کتنے ہوں گے اور کرنٹ والے کتنے ہوں گے؟ تو ان کا گمان تھا کہ شاید 500 کے قریب کرنٹ ہوں گے اور باقی 3500 سودی ہوں گے۔ جب اتنی کثرت سے سود رَگ رَگ میں پھنسا ہو پھر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں کیسے مانگیں گے۔ برکتیں کیسے ملیں گی۔
سود کے ایک درہم کا وبال
حضرت عبداللہ بن حنظلہ سے روایت ہے کہ سود کا ایک درہم جو انسان کھالیتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ میں سود کھا رہا ہوں تو یہ اللہ پاک کے ہاں 36 مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ (مسند احمد: 288/36)
اب جب کوئی تجارت کرنے لگے تو معاملات کو پہلے پوچھ لے، سیکھ لے۔ نہیں تو کم سے کم اتنا ہی کرلے کہ ہر معاملہ کرتے ہوئے کسی نہ کسی عالم سے پوچھ لے، مفتی حضرات سے رابطے میں رہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ معاملات میں سود میں شامل ہوجائے۔
بعض چیزوں میں اُدھار کی ممانعت
بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں اُدھار جائز نہیں۔ جیسے سونا آپ نے خریدنا ہے، یا چاندی خریدنی ہے، اس میں اُدھار نہیں کرسکتے۔ اب گھر کی عورتیں جاتی ہیں اور جاکر سونا خرید لیتی ہیں۔ کسی جیولر کے پاس گئیں اور سیٹ بنوالیا اور اس کو آدھے پیسے ابھی دے دیے اور آدھے پیسے بعد میںدیںگی تو یہ ٹھیک نہیں۔ اس میں اُدھار کرنا سود ہو جاتا ہے۔ آپ نے سونا لیا ایک تولہ، اس نے بل بنا دیا کہ جی آپ پینتالیس ہزار یا پچاس ہزار بل ادا کریں۔ آپ نے کہا کہ آدھے آج لے لو، آدھے کل لینا، یہ بھی منع ہے۔ اور یہ بات میں سمجھتا ہوں کہ اکثر لوگوں کے علم میں نہیں ہوگی۔ اس لیے تجارت کرنے والوں کو چاہیے کہ معاملات کو علماء سے سیکھ لیں تاکہ گناہ سے بچ سکیں۔
اہتمام سے صدقہ دینے کی ترتیب بنائی جائے
تاجر حضرات کے لیے خاص طور سے دوباتیں بہت اہم ہیں۔ سب سے پہلی بات جو حدیث شریف میں آتی ہے کہ تاجروں کو خاص طور سے صدقہ وخیرات مستقل کرتے رہنے کا حکم ہے۔ ایک دو دفعہ کی بات نہیں ہے۔ عام آدمی جو نوکری پیشہ ہے وہ تو سال بعد زکوٰۃ ادا کر دے گا اگر صاحبِ نصاب ہے۔ اور کبھی کبھی صدقہ کر دے تو اس کی بخشش ہو جائے گی، اور اِن شاء اللہ آسانی ہوجائے گی۔ البتہ تاجر حضرات دن رات عوامی اختلاط میں ہوتے ہیں، ان کو ایک دفعہ کی چھوٹ نہیں ہے، مستقل بنیادوں پر اپنے پاس صدقے کا باکس بنائے رکھیں اور صدقہ دینے کا ایک مستقل سلسلہ رکھیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ معاملات میں غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ دوسرا بات چیت کرتے ہوئے اپنی چیز بیچتے ہوئے بڑی مبالغہ آرائیوں سے کام لیے جاتے ہیں، اور جب کوئی بیچنے آتا ہے اور اُس سے خریدنی ہوتی ہے تو پینترے بدل رہے ہوتے ہیں۔ منٹ، منٹ میں اس کے ساتھ اور رویہ ہوتا ہے۔ نبی رحمۃٌ للعالمین چاہتے ہیں کہ میرے تاجر اُمتی جب قیامت کے دن آئیں تو اُن کے ساتھ رحمت ہی کا معاملہ ہو۔ اور صدقہ دینا سے گناہ معاف ہوتے ہیں، بلائیں ٹلتی ہیں، بُری موت سے انسان بچتا ہے۔
حضرت قیس بن ابی غرزہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ عہدِ نبوی میں سماسرہ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ نبی ہمارے قریب سے گزرے اور ہمارا اس نام سے بہتر نام مقرر فرما دیا۔ نبی نے ارشاد فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت میں نامناسب باتیں اور قسمیں وغیرہ ہوجاتی ہیں، تم صدقے کے ذریعے اس کی تلافی کرلیا کرو۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3326)
نبیb نے اس کی احتیاط بھی بتا دی ہے۔ اس لیے قبل از پریشانی بہتر ہے کہ انسان روز ہی صدقہ کرے۔ تاجروں کو چاہیے کہ روزانہ صدقے کا معمول رکھیں۔ اس کے لیے ایک ترتیب بنالیں۔ زکوٰۃ تو سال بعد دینی ہی دینی ہے، اُس میں کیا کوئی کمال ہے، وہ تو فرض ہے، لیکن ہم اپنے آپ کو گناہوں سے بچانے کے لیے، کام اور کاروبار کی کمی بیشی کی پکڑ سے اپنے آپ کو قیامت کے دن بچانے کے لیے ایک ترتیب بنالیں۔
اگر کوئی تاجر اپنی کمائی کا% 10 اللہ کو دے دے تو اس کا کیا نقصان ہوجائے گا۔ ایک آدمی سارا دن Saleکرتا ہے اور اس کی Sale چالیس پچاس ہزار ہوتی ہے۔ اور پچاس ہزار میں اسے 2000 روپے کا نفع مل جاتا ہے۔ اُس 2000 میں سے 200 روپے اللہ پاک کے راستے میں روز نکال دیں۔ چلو! زیادہ ہمت نہیں ہے، دل تنگ ہوتا ہے توسو روپے نکال دیں۔ ایک تو مال کبھی کم نہیں ہوگا، آسانی ہوجائے گی۔ اور یہ جو کاروبار میں غلطیاں ہوجاتی ہیں، یہ دور ہو جائیں گی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ License to kill مل گیا کہ اب غلطیاں بھی کرتے جائو، دو نمبری بھی کرتے جائو اور صدقہ بھی نکالے جائو، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر کوئی مالِ حرام سے صدقہ کرے گا تو ویسے ہی اس کے لیے وبال ہے۔ اللہ تعالیٰ پاک ہیں اور پاک چیزوں کو پسند فرماتے ہیں۔ اللہ کے لیے پاک ہی مال ہو تو قبول ہوتا ہے، ناپاک قبول نہیں ہوتا۔
ایک قلبی مثال
ایک مرتبہ کسی صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ اگر کسی کے پاس حرام کی کمائی ہے تو وہ اللہ کے راستے میں کیوں نہیں دے سکتا؟ قدرتاً اللہ ربّ العزّت نے دل میں ایک بات ڈالی۔ میں نے کہا کہ دیکھو بھئی! اللہ ربّ العزّت تو اللہ ربّ العزّت ہیں۔ میں ایک عام سی بات کرتا ہوں۔ بھئی! میں ایک عام سابندہ ہوں۔ آپ مجھے اچھا سمجھتے ہیں۔ نیک سمجھتے ہیں۔ مجھ سے بیعت ہیں۔ آپ کے گھر میں اگر کوئی Pigلے کر آئے اور آپ مجھے فون کرکے کہیں کہ حضرت! Pig آیا ہے، ہم رات کو پکائیں گے، آپ آئیے گا اور کھائیے گا، بڑا لذیذ ہوگا۔ اس کے متعلق کیا خیال ہے؟ کہنے لگے کہ مجھ پر آپ کی اس بات سے سر سے پائوں تک لرزہ طاری ہوگیا۔ میں نے کہا کہ ایک عام بندے کے لیے یہ خیال ہے تو اللہ ربّ العزّت کے لیے کیا گمان رکھنا چاہیے۔
کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جائے
دوسری بات کہ ذکر کی کثرت کریں۔ زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں گزاریں۔
حضرت عبداللہ بن عمرi کی مرفوع حدیث ہے کہ غافلوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو میدانِ جنگ میں بھاگنے والوں سے جم کر لڑتا ہے۔
(فتح الباري شرح صحیح البخاري لابن رجب: رقم 566، کتاب مواقیت الصلوۃ)
غفلت کے میدان میں ذکر کرنے والے کے لیے ایک بزرگ محدّث ابو صالح فرماتے ہیں کہ بازار کے اندر ذکر کرنے والے سے اللہ ربّ العزّت خوش ہوتے ہیں۔ تاجروں کو چاہیے کہ حرام سے بھی اپنے آپ کو بچائیں اور صدقہ و خیرات کی کثرت بھی کرتے رہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے کاروبار کے مقام پر خوب اللہ کو یاد کرتے رہیں تاکہ قیامت کے دن کی آسانیاں بھی ان کو ملیں اور زندگی میں برکتیں بھی نصیب ہوں۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا ٓأَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply