رسول پاک کا بچوں کے ساتھ برتائو

رسول پاک کا بچوں کے ساتھ برتائو

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيْرًاo (الاحزاب: 21)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

پریشانی کا حل:
ہم پریشان ہوتے ہیں اور پریشانی کے عالم میں اس کا حل ڈھونڈتے ہیں۔ پھر کبھی کسی عامل کے پاس جاتے ہیں، کبھی کسی جادوگر کے پاس جاتے ہیں، یا پھر کسی مخلوق کے دروازے پر جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہماری پریشانیاں دور نہیں ہو تیں۔ عاملین کے پاس جانے والے لوگ، در در کے دھکے کھانے والے لوگ، دردر پر جانے والے لوگ، جن کی زندگیاں گزر گئیں، جوانی سے بڑھاپا آگیا، آخری وقت قریب آگیا مگر پریشانیاں ختم نہیں ہوئیں۔ پریشانیوں کا حل صرف و صرف نبی کریم کی مبارک زندگی میں ہے۔ ہم نبی کریم کی مبارک زندگی کو اپنائیں، نبی کریم کی مبارک سنتوں کو اپنائیں۔ اللہ ربّ العزّت پریشانیوں کو خود بہ خود دور کر دیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے حضور پاک کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ انسان اپنی انسانیت پر آجائے اس کے لیے حضور پاک کی مبارک زندگی بہترین نمونہ ہے۔ آپ کے مبارک طریقے میں معاشرتی پہلو بھی چھپے ہوئے ہیں، سائنسی پہلو بھی چھپے ہوئے ہیں، صحت کے اعتبار سے بھی بہت سارے فائدے ہیں، غرض ہر ہر چیز کے اندر انسان کو فائدے ملتے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے سادہ اورSimple سی بات یہ ہے کہ وہ ہر کام نبی کریمa کے طریقے پر کر لے اس کی زندگی آسان ہوجائے گی۔ جب نبی کریم کے طریقوں کو چھوڑتے ہیں شیطان کو پھر نقب لگانے کا موقع مل جاتا ہے۔ بس پھر پریشانیاں شروع، پھر مسائل آتے ہیں۔
تربیتِ اولاد دین ہے:
اولاد کی اچھی تربیت کرنا بھی دین ہے۔ اس کے لیے بھی نبی کریم کی زندگی ہی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ موجودہ دور میں ہمارا بچوں کے ساتھ برتائو سنت کے مطابق نہیں ہے۔ اگر ہمارا برتاؤ، رویہ سنت کے مطابق ہوتا تو بچے ہم سے محبت کرتے، ہم اِن سے محبت کرتے۔ سنت میں کمی کی وجہ سے معاملہ خراب ہے۔ آج کی مبارک مجلس میں نبی کریم کے چند واقعات استفادے کے لیے ذکر کیے جا رہے ہیں۔
یہ بچے کون ہیں؟ یہ بچے وہ ہیں جنہوں نے ہمارے جانے کے بعد دین کو آگے لے کر چلنا ہے۔ ہمیں دین کی محنت، دین کی امانت جو اپنے بڑوں سے ملی وہ ہم نے اپنی آیندہ نسل کو دینی ہے، اور انہوں نے اس کو اور آگے لے کر چلنا ہے۔ یہ جو صرف ایک بچہ نظرآرہا ہے یہ ایک بچہ نہیں ہے، یہ آپ کی قیامت تک آنے والی نسل ہے۔ اس لیے ایک ایک بچے کی تربیت قیامت تک آنے والی نسل کی تربیت ہے۔
اولاد کی تربیت کے تین اُصول:
نبی کریم نے اولاد کی بہترین تربیت کے لیے تین بنیادی اُصول اپنی اُمت سے بیان کیے ہیں۔ حضرت علی روایت کرتے ہیں کہ آقا نے فرمایا:
أدّبوا أولادكم على ثلاث خصال.
’’اپنی اولاد کی تربیت تین عادتوں پر کرو‘‘۔
(1) حُب نبيّكم ’’اپنے نبی کی محبت پر‘‘۔
(2) وحب أهل بيته ’’اہلِ بیت کی محبت پر‘‘۔
(3) وقراءة القرآن ’’قرآن مجید کی تلاوت پر‘‘۔
فإنّ حملة القرآن في ظلّ اللّٰه يوم لا ظلّ إلا ظله مع أنبيائه وأصفيائه.
(الجامع الصغیر للسیوطی: ص14)
’’حاملینِ قرآن اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے اس دن جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا، (اس کے سائے میں) انبیاء اور چنے ہوئے بندوں کے ساتھ (ہوں گے)‘‘۔
یوں کہہ لیجیے کہ جس نے اپنی اولاد کی تربیت ان تین باتوں پر کرلی: نبی کی محبت، اہلِ بیت کی محبت، اور قرآن کی محبت پر، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حاملینِ قرآن یعنی قرآن پاک کے حفاظ کو عرش کا سایہ نصیب فرمائیں گے۔
اولاد کیسے کام آنے والی بنے گی؟
آج ہم نے ان تین بنیادی اصولوں میں سے کون سا اُصول اپنایا ہے۔ بہت سارے لوگوں نے تینوں ہی نہیں اپنائے، اور بہت سارے ایسے بھی ہیں جنہوں نے کچھ حصہ اپنایا ہوا ہے اور کچھ چھوڑا ہوا ہے۔ جس میں اپنی مرضی ہے، مزا ہے وہ اپنا لیا۔ جہاں قربانی ہے، نفس کو چوٹ پڑتی ہے وہ چھوڑ دیا۔ ہم اولاد کی تربیت اس طرح سے نہ کریں کہ صرف بڑھاپے میں کام آئے۔ بہت سارے لوگوں کی یہی سوچ ہوتی ہے کہ اولاد بڑھاپے میں سہارا بنے۔ یہ مکمل سوچ نہیں ہے۔ مکمل سوچ یہ ہے کہ اولاد کی تربیت ہم ایسے کریں کہ بڑھاپے میں بھی کام آئے، مر جائیں تو قبر میں بھی کام آئے اور قیامت کے دن بھی آئے۔ اس بنیاد پر اولاد کی تربیت کریں گے تو پھر معاملہ آسان ہو جائے گا۔
Generation Gap
مقصد ومنزل متعین کرنے کے بعد راستہ منتخب کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی اولاد کی تربیت کا ٹارگٹ ہی طے نہیں کرتا تو راستہ بھی منتخب نہیں کرپاتا۔ بس جس طرف چل پڑے سو چل پڑے۔ نبی کریم اپنے سگے بچوں کے ساتھ، سوتیلے بچوں کے ساتھ، صحابۂ کرام کے بچوں کے ساتھ کیسے رہتے تھے، یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ اس سے اندازہ ہوگا کہ اس جنریشن (نسل) کا تعلق اگلی جنریشن کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے۔ یہ تعلق اگر سنت کی بنیاد پر ہوگا توGeneration Gap پیدا نہیں ہوگا۔ اور اگر بڑوں کی سوچ الگ ہے، آپس میں رابطے نہیں ہیں توGeneration Gap آئے گا۔ بڑوں کی بہت ساری صفات اورQualities ہوتی ہیں جو اُن کی اولاد میں نہیں ہوتیں۔
حضورﷺ کی خوش مزاجی اور پُر مزاجی:
حدیث شریف میں آتا ہے حضرت انس سے روایت ہے کہ حضورِ اقدس بچوں کے ساتھ بڑے خوش مزاج اور پُرمزاج تھے۔ تمام بچوں کے ساتھ آپﷺ کا یہ معاملہ تھا۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ بچوں کے ساتھ رُعب جھاڑ رہے ہوتے ہیں، یہ رویہ نقصان دہ ہے۔ نبی کریم اپنے نواسوں کا بوسہ لیتے، ان سے محبت کرتے تھے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے، دلوں کے اندر دوریاں نہیں محبتیں آتی ہیں۔ نبی کریم خاتم النبیین ہیں ،لیکن آپa نے طریقہ بتا دیا کہ بچوں کے ساتھ محبت سے رہنا ہے، انہیں قریب کرنا ہے تو اُن کی عادات بھی اپنانی ہوں گی۔ حضور پاکﷺ کی سنت سمجھ کر بچوں سے محبت کریں گے، ان کے ساتھ کھیلیں گے تو اِن شاء اللہ اس کا اَجر بھی ملے گا اور بچوں کے اندر بھی سنت کی پیروی کا شوق پیدا ہوگا۔
بچوں کے ساتھ دل لگی کے واقعات:
(۱) حضرت انس کہتے ہیں کہ حضرت ام سلمہ کی ایک بیٹی تھیں زینب۔ نبی کریم ان سے کھیلتے تھے اور یوں فرماتے تھے:
یَا زُوَیْنَبُ، یَا زُوَیْنَبُ. (السلسلۃ الصحیحۃ للألباني: رقم 2141)
’’اے چھوٹی سی زینب، اے چھوٹی سی زینب‘‘۔
جیسے ہم بچیوں کو منی کہتے ہیں، اس طرح سے عربی میں کہنے کا انداز ہے۔
(۲) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت حسین جو آپ کے چھوٹے نواسے تھے۔ آپ ان سے بڑی محبت کرتے تھے۔آپ ان کو اپنی زبان مبارک باہر نکال کر دکھاتے، حضرت حسین بچے تھے، زبان کی سرخی کو دیکھ کر خوش ہوتے اور دوڑ کر نانا کے پاس جاتے۔ (سلسلہ صحیحہ: رقم 70)
(۳) حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میرے اِن دونوں کانوں نے سنا ہے، اور میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم نے ایک دفعہ اپنے دونوں ہاتھوں سے حضرت حسن یا حضرت حسین کے ہاتھ پکڑے۔ (راوی کو شک ہے کہ دونوں بھائیوں میں سے کون سے بھائی تھے) پھر ان کے دونوں پاؤں کو اپنے پاؤں مبارک پر رکھا اور فرمایا: اوپر چڑھو۔ یہ اوپر چڑھ گئے یہاں تک حضور پاکﷺ کے سینہ اَقدس پر کھڑے ہوگئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنا منہ کھولو۔ آپﷺ نے ان کا بوسہ لیا اور فرمایا: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں، آپ بھی اس سے محبت کیجیے۔
(الادب المفرد للبخاری: رقم 241)
(۴) حضرت محمود بن ربیع پانچ سال کے تھے۔ آپ نے برتن میں رکھے پانی سے کلی کرنے والے تھے کہ یہ سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔ اللہ کے نبی نے ان سے دل لگی کرتے ہوئے اپنے منہ مبارک سے پانی کی کلی ان کے چہرے پر کی۔ اس کی برکت یہ ہوئی کہ جب حضرت محمود بڑے ہوئے تو آپﷺ کے ساتھ کا یہ واقعہ وہ کبھی نہیں بھولے۔ وہ لوگوں کو یہ واقعہ سنایا کرتے تھے۔ محدثین اتنے چھوٹے بچوں کو صحابہ کی فہرست میں شمار نہیں کرتے، کیوں کہ ایسے بچے کو عموماً پہچان نہیں ہوتی اور بات جلد بھول جاتی ہے، لیکن حضرت محمود کو صغار صحابہ میں شمار کرتے ہیں۔ امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب باندھا ہے کہ بچے کی سماعت کب ٹھیک ہوتی ہے اور اس میں اسی حدیث کو نقل کیا ہے۔
(۵) بعض مرتبہ آپ اپنے دونوں بازو پھیلاتے اور بچوں سے کہتے کہ آئو بھئی! میرے پاس آئو! جو پہلے آئے گا اس کو انعام دیں گے۔ اب بچے دوڑ کر آتے۔ کوئی آپﷺ کے سینے سے لگتا، کوئی پاؤں مبارک سے لپٹتا۔ آپ ان کو سینے سے بھی لگاتے اور ان کے بوسے لیتے، اور ان کو ساتھ چمٹا بھی لیا کرتے۔ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے، بچوں کو محبت دیا کرتے تھے۔
(۶) حضرت انس فرماتے ہیں کہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جسے ابو عمیر کہتے تھے۔ وہ دودھ پیتا بچہ تھا۔ اس کے پاس ایک چھوٹی سی چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتا تھا۔ (چڑیا کا بچہ مرگیا تو ابوعمیر افسردہ ہوگئے) نبی کریم تشریف لائے تو (دیکھا کہ ابوعمیر غمزدہ ہیں) پوچھا: اے ابوعمیر! تمہارے پرندے نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ کیا تمہیں چھوڑ کر چلا گیا؟ (صحیح بخاری: رقم 3947)
آپ بچوں سے خوش مزاجی کا معاملہ رکھا کرتے تھے۔ چھیڑنے کے لیے نہیں، تھوڑا سا خوش کرنے کے لیے۔
(۷) حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم انصار کے لوگوں سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ انصار کے بچے ملتے تو آپa خود سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔ (صحیح الجامع: رقم 4947)
آج یہ چیز بھی دلوں کے اندر سے ختم ہوگئی ہے۔ بڑے یہ چاہتے ہیں کہ بچے ہمیں سلام کریں، ہمیں نہ پہل کرنی پڑے۔ اگر بچے بھی یہ سوچنے لگ جائیں کہ بڑا مجھے سلام کرے تو وہ اس کے لیے خرابی کی بات ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ وہ سلام میں پہل کرے۔ سلام میں پہل کرنے سے تکبر ختم ہوتا ہے۔
(۸) نبی کریم بہت بےتکلف زندگی گزارتے تھے۔ بناوٹ اور تصنع نہیں تھی۔ بہت سادہ خوبصورت زندگی تھی۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی کریم کے ساتھ کھانے کی دعوت میں جا رہے تھے۔ راستے میں دیکھا کہ حضرت حسین دیگر بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ آپ اپنے ساتھیوں سے آگے بڑھ گئے۔ اور حضرت حسین کو گود میں لینے کے لیے ہاتھ پھیلا دیے۔ بچہ دیکھنے لگا کہ ناناجان مجھے پکڑنے کے لیے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں تو کبھی اِدھر، کبھی اُدھر دوڑنے لگا۔ نبی کریم بچے کو کھلا رہے ہیں۔ صحابہ کرام کی جماعت ساتھ ہے۔ اور یہ گھر کے اندر چاردیواری میں نہیں ہو رہا یہ راستے میں ہو رہا ہے۔ نبی کریم کھلاتے جارہے ہیں، بچپن کی مستی اور بچپن کا مزاج ہے کہ بچہ اِدھر سے اُدھر دوڑ رہا ہے۔
اس کے بعد آپﷺ انہیں پکڑ لیا اور ان کا ایک ہاتھ اپنی ٹھوڑی کے نیچے دبایا اور دوسرا ہاتھ اپنے سر اور کانوں کے درمیان رکھا، اسے سینے سے لگایا، بوسہ لیا اور فرمایا: حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، خدا اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے، حسن و حسین تو میری اولاد میں سے ہے۔ (سنن ترمذی: رقم 3775)
نواسے کی شہادت کی خبر:
نبی کریمa بچوں کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے۔ کبھی بچے کھیلتے کھیلتے نبی کریم کے سینہ مبارک پر یا پیٹ مبارک پر سوجاتے تھے۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضرت حسین گھر کے اندر آئے اس وقت آپﷺ پر وحی اُتر رہی تھی۔ (یہ چھوٹے تھے، انہیں معلوم نہیں تھا اور) یہ آپﷺ کے کندھے پر چڑھ گئے۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ حسین سے محبت کرتے ہیں؟ حضور نبی کریم نے فرمایا: اے جبرائیل! کیوں نہیں، مجھے اس سے محبت ہے۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا: آپ کی اُمت آپ کے بعد اسے شہید کر دے گی۔ پھر حضرت جبرائیل نے اپنے ہاتھ لمبے کیے اور وہ مٹی جس پر حضرت حسین شہید ہوں گے، اللہ کے نبیﷺ کو دکھائی۔ (مجمع الزوائد: رقم 15114)
نبی کریمکو یہ اطلاع پہلے ہی دے دی گئی تھی۔ سوچیے کیسا حال ہوا ہوگا نبی کریمﷺ کا اس بات کو سن کر۔ ہمیں اس کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے!!
بچوں کا پیشاب کرنا:
حضرت اُمّ قیس بنت محصن فرماتی ہیں کہ میں اپنے دودھ پیتے بچے کو اپنے ساتھ رسول اللہ کی مجلس میں لے آئی۔ پھر (برکت کے لیے یا دعا کے لیے) وہ بچہ رسول اللہ کے ہاتھ مبارک میں دیا۔ آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھایاتو اس نے آپ کے کپڑوں پر پیشاب کر دیا۔ (آپ نے نہ ڈانٹا، نہ جھڑکا) پانی منگوایا اور کپڑا صاف کیا۔ (صحیح بخاری: رقم 221)
شرح بخاری میں معجم اوسط کی روایت نقل کی ہے۔ اس میں ہے کہ حضرت حسین یا حضرت حسن (راوی کو شک ہے کہ دونوں بھائیوں میں سے کون سے بھائی تھے) نے آپﷺ کے پیٹ مبارک پر پیشاب کر دیا۔ آپﷺ نے فوراً سے اسے نہیں ہٹایا یہاں تک کہ وہ اطمینان سے فارغ ہوگئے۔ پھر آپﷺ نے پانی منگوایا اور بہا کر جگہ کو پاک کر دیا۔ (فتح الباری تحت باب بول الصبیان)
آپﷺ بچوں کے ساتھ بےتکلف ہوتے تھے۔ یہ ہے محبت۔ اتباعِ سنت کے اندر ہمارے بزرگوں نے عجیب عجیب مثالیں قائم کی ہیں۔
مجدد الفِ ثانی کا شوقِ اتباعِ سنت:
حضرت امامِ ربانی مجدد الفِ ثانی میں اتباعِ سنت کا ایک عجیب ہی شوق تھا۔ بہت مجاہدے کرکے سلوک کے مقامات طے کیے۔ فرماتے تھے کہ جو ترقی اتباعِ سنت سے ملتی ہے وہ کسی اور چیز سے نہیں ملتی۔ حضرت اتباعِ سنت کے سچے عاشق تھے۔ ایک مرتبہ کسی ضرورت کی وجہ سے مرید سے کہا کہ لونگ لے آئو۔ مرید جفت عدد میں لونگ لایا۔ حضرت بڑے ناراض ہوئے۔ کہنے لگے: بڑے صوفی بنے پھرتے ہو، تمہیں یہ نہیں پتا کہ اللہ تعالیٰ کو طاق عدد پسند ہے۔ طاق عدد میں لانا چاہیے تھا۔
امام ربانی مجدد الف ثانی فرماتے تھے کہ سنت قیلولہ کی نیت سے دوپہر میں تھوڑی دیر کا سوجانا ہزاروں سال کی اپنی مرضی کی نوافل اور شب بیداریوں سے افضل ہے۔ اب ایک طرف مختصر وقت کی نیند ہے اور ایک طرف ہزاروں سال کا جاگنا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ جو اپنی مرضی سے ہے، اپنے شوق سے ہے اس کی وہ قیمت نہیں ہے جو اتباعِ سنت سے ملتی ہے۔ اس لیے کہ اس قیلولے کو نبی کریم کے ساتھ نسبت ہے۔ اس نسبت نے اس تھوڑی سی نیند کو وہ مقام عطا کیا کہ وہ مقام کہیں اور سے مل نہیں سکتا۔
ایک مرتبہ حضرت مجدد کہنے لگے کہ میں نے تمام سنتیں پوری کر لیں جو میرے علم میں آئیں۔ جتنا میں نے پڑھا ہر ہر سنت پہ میں نے عمل کیا، مگر ایک سنت رہ گئی وہ میں پوری نہیں کرسکا۔ وہ سنت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹی دی ہے اور میری بیٹی کو بیٹا نہیں دیا۔ یعنی میرا نواسا کوئی نہیں ہے۔ یہ سنت میں نے پوری نہیں کی۔ مجھے اس کا افسوس ہے۔ تاہم میں وصیت کرتا ہوں کہ اگر میرے مرنے کے بعد میری بیٹی کے ہاں بیٹا ہو جائے تو اس کو میری قبر پہ بٹھا دینا وہ وہیں قبر پر ہی پیشاب کر دے۔
یہ ان کی عشقِ نبی میں محبت کی باتیں ہیں۔ اس پر فتوے نہ لگا دیجیے گا کہ بچے کو قبر پہ بٹھانا کیسا ہے؟ پیشاب کرانا کیسا ہے؟ شرعاً ایسی وصیت پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ صاحبِ مقام بزرگ تھے۔ اور انہیں اتباعِ سنت کا اتنا شوق تھا اور غلبہ تھا۔
بچوں کے ساتھ بچیوں کا خیال رکھنا:
رسول اللہﷺ جب مجلس میں بیٹھے ہوتے اور کوئی چیز تقسیم کرنی ہوتی تو حضورa بچوں کا خود خیال کرتے تھے۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ اکیدر بادشاہ نے کھانے کے لائق چیز سے بھرا ہوا مٹکا آپﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ آپﷺ نے نماز کے بعد سب میں تقسیم کرنا شروع کیا۔ حضرت جابر کو اُن کا حصہ دیا۔ پھر دوبارہ بلایا اور ایک حصہ مزید دیا۔ حضرت جابر نے عرض کیا کہ آپ مجھے دے چکے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: یہ (تمہارے والد) عبداللہ کی بیٹیوں کے لیے ہے (یعنی تمہاری بہنوں کے لیے ہے)۔ (مجمع الزوائد: رقم 8038)
یعنی نبی کریم سب کو دےرہے تھے بچوں کو بھی دیا۔ ایک یتیم بچے حضرت جابر کی بہنوں کا خیال آگیا کہ بھائی تو لے جا رہا ہے، اس کی بہنوں کو کچھ نہیں ملا تو بلا کر اور دیا۔ بچوں کو قریب کرنے کے لیے، محبت دینے کے لیے، تعلقات میں بہتری کے لیے بچوں کے ساتھ نبی کریم کا یہ عمل تھا۔ ہمیں چاہیے کہ بچوں سے رعایت والا معاملہ کیا کریں۔ بچوں کے علاوہ بچیوں کے ساتھ الگ شفقت کا معاملہ رکھیں۔
خصوصی شفقت کا معاملہ:
نبی کریم کی ایک عادت مبارکہ اور بھی تھی۔ جب کسی صحابی کے ہاں ولادت ہوتی تو وہ اپنے نومولود کو اُٹھا کر نبی کریم کی خدمت میں لے آتا۔ نبی کریم اسے تحنیک دیتے۔ اسے ہم گھٹی کہتے ہیں۔ آج کل یہ عمل بھی متروک ہوتا جارہا ہے۔ اکثر وبیشتر اب اس کی رعایت نہیں رکھی جارہی حالاںکہ یہ سنت عمل ہے۔ اس قسم کے کئی واقعات ہیں کہ لوگ پیدا ہونے والے بچے کو لے آتے، آپ انہیں تحنیک دیتے، اُن کا نام تجویز فرماتے اور برکت کی دعا دیتے۔اگر بڑے بچے بھی خدمتِ اقدس میں تشریف لاتے تو نبی کریم ان کے لیے بھی دعا کرتے اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ نبی کریمﷺ کی یہ مستقل عادت شریفہ تھی۔
تحنیک سنت ہے اور ہمیں یہ عادت اپنانے کی ضرورت ہے۔ خاندان کے بڑے بزرگ جیسے والد، دادا سے تحنیک کروانے میں اور بھی فائدے ہیں۔ بعض ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کہ گھٹی دینا اسلامک Vaccination ہے۔ جب بزرگ چھوٹے بچے کو گھٹی دیتے ہیں تو اس کی صفات آگے بچے میں منتقل ہوجاتی ہیں۔
جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں ہوتا:
حضرت اقرع بن حابس صحابی رسولﷺ ہیں۔ ایک مرتبہ نبی کریم کی خدمت میں تشریف لائے۔ دیکھا کہ نبی کریم حسن بن علی (یعنی اپنے نواسے) کا بوسہ لے رہے ہیں۔ بڑے حیران ہوئے اور کہنے لگے: یارسول اللہ! (آپ بچوں کے ساتھ اتنی محبت کرتے ہیں، ان کو بوسہ دےرہے ہیں) میرے دس بچے ہیں میں نے تو کبھی کسی کو پیار نہیں کیا۔ پیارے رسولﷺ نے فرمایا:
مَنْ لا يَرْحَمْ لا يُرْحَمْ. (صحیح البخاري: رقم 5651)
ترجمہ: ’’جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں ہوتا‘‘۔
بچے کو ران پربٹھانا:
حضرت اُسامہ بن زید فرماتے ہیں کہ نبی کریم مجھے پکڑکر اپنی ران پر بٹھاتے تھے۔ اور دوسری ران پہ حضرت حسن کو بٹھاتے، پھر دونوں کو آپس میں ملاتے اور فرماتے کہ اللہ! آپ ان پر اپنی رحمت فرمائیے اس لیے کہ میں ان کے ساتھ رحمدلی کا معاملہ کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری: رقم 5657)
ہم بچوں سے محبت کریں، یہ بچے ہم سے محبت کریں گے۔ پھر یہ بات بھی مانیں گے اور فرماں بردار بھی بنیں گے۔
بچوں کو مسجد لے جانا:
موبائل ہاتھوں میں آنے سے پہلے باپ، دادا، چچا وغیرہ بچے کی انگلی پکڑ کے مسجد لے جاتے تھے، اللہ کا گھر دکھاتے تھے۔ لیکن آج الا ما شاء اللہ اپنے بچوں کا ہاتھ پکڑ کر اللہ کا گھر دکھانے والا کوئی نہیں ہے۔ اپنی اولاد کو موبائل دے دیتے ہیں، مگر مسجد نہیں لے جاتے۔ مسجدوں میں چھوٹے بچوں کی تعداد جو تیس چالیس سال پہلے ہوتی تھی وہ آج نہیں ہے۔ جب ہم خود اپنے بچوں کو محبت سے مسجد لے کے نہیں جائیں گے تو پھر Generation gap پیدا ہوگا۔ وہ ہمارے لیے خاک دعا کریں گے۔ آج کل تو رواج چل پڑا ہے کہ ایک منٹ یا دو منٹ کی خاموشی اختیار کرو اور چار موم بتیاں جلائو۔ کیا اس طرح رخصت ہونے والا کا حق ادا ہو جائے گا؟ باقاعدہ اسکولز و کالجز میں ایسا ہورہا ہے۔ اس لیے انگلی پکڑ کر بچے کو مسجد میں لے آئے۔ کل کو یہ بچے صدقہ جاریہ بن جائے۔
بچوں پر سختی کرنے والوں کے نام پیغام:
کئی بچے ایسے بھی ملتے ہیں جو اس لیے مسجد نہیں آتے کہ مسجد کے نمازی ان کے ساتھ سختی کا معاملہ کرتے ہیں۔نبی کریم کا معاملہ بھی دیکھ لیجیے۔ نبی کریم جب سجدے میں ہوتے تو بسااوقات آپ کی نواسی آپ کے اوپر آجاتی۔ کبھی حضرات حسنین پیٹھ پر سوار ہوجاتے تو آپﷺ سجدہ لمبا کردیتے جب تک کہ وہ اُٹھ نہ جاتے، یا آپﷺ ہاتھ سے ان کو ایک جانب نہ کردیتے۔ نبی کریم نماز پڑھ رہے ہوتے اور یہ آپﷺ کے پائوں کے درمیان سے نکل کر آتے جاتے۔ اور ہمارا مزاج یہ ہے کہ جی صوفی کا مراقبہ ہو رہا ہے تو چند منٹ کا کرفیو لگ گیا۔ اب ذرا شور ہوجائے تو مراقبہ کا ستیاناس کر دیا، جو منہ میں آیا کہہ دیتے ہیں۔ جب آپ عبادت کررہے ہوں، قرآن پڑھ رہے ہوں، ذکر ومراقبہ کررہے ہوں، نفلی عبادت کررہے ہوں اس وقت سنت یہ ہے کہ بچوں کو قریب کریں۔ وہ آپ سے قریب ہوں گے، آپ کو دیکھیں گے تو آگے چل کر ایسے بنیں گے اِن شاء اللہ۔ آج اس چیز کی بہت کمی ہے، اس پر بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply