رمضان کی بعض سنتیں

رمضان کی بعض سنتیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo (البقرۃ: 184)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

روزے کی حفاظت
روزے کی حالت میں زبان کی حفاظت کی نبی کریمﷺ تاکید فرماتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ فرمایا کرتے کہ جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو زبان سے گندی باتیں اور جہالت کے کام نہ کرے، اگر کوئی دوسرا شخص اسے گالی دے یا لڑائی کرنے لگے تو یہ (روزے دار اسے) کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔ (صحیح بخاری: رقم 1894)
یعنی اپنے روزے کی حفاظت کرے۔ یہ نہیں کہ کوئی دوسرا اسے گالی دیتا ہے، یا لڑائی کرتا ہے تو یہ آگے بڑھ کر اسے جواب دینے آتا ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔
یہ روایت بھی حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اگر کوئی روزہ دار نہ جھوٹ چھوڑے، اور نہ جہالت کی باتیں اور کام چھوڑے، تو اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کے روزے کی کوئی پروا نہیں ہے۔ (صحیح بخاری: رقم 1903، صحیح مسلم: رقم 6075)
اس لیے روزے کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ روزہ رکھنا ایک کام ہے، اور اس کی حفاظت کرنا دوسرا کام ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: بہت سے روزہ رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو روزے سے سوائے بھوک کے کچھ نہیں ملتا۔
(سنن ابن ماجہ: رقم 1690)
روزے کے مقاصد
روزے سے مقصود کیا ہونا چاہیے؟
(۱) تقویٰ مل جائے۔
(۲) اللہ کی رضا مل جائے۔
(۳) جنت مل جائے اور جہنم سے خلاصی نصیب ہو۔
جو لوگ روزے کی حالت میں جھوٹ میں اور دیگر لغویات میں مبتلا ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو بھوک اور فاقے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہ اپنی زبان سے، اپنے برے اعمال سے اپنے روزے کو برباد کر دیتے ہیں۔
سنن ابنِ ماجہ کی مذکورہ روایت میں آگے ہے کہ بہت سے شب بیدار (رات کو جاگنے والے) ایسے ہیں کہ ان کوجاگنے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ (سنن ابن ماجہ: رقم 1690)
دعائوں کی قبولیت میں حصہ نہیں ملتا، قربِ الٰہی میں سے کچھ نہیں ملتا، نیکی کا اجر نہیں ملتا۔ بس ساری رات جاگنا ہے جس کی آج کل بہت بڑی مثال اِنٹرنیٹ پر جاگنا ہے۔
گناہوں سے بچنے کا نام روزہ
حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، روزہ تو جھوٹ اور تمام غلط کاموں اور لغویات سے رکنے کا نام ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری فرماتے ہیں کہ جب تم نے روزہ رکھا تو ساتھ میں تمہارے کانوں، آنکھوں اور زبان نے بھی جھوٹ، اور گناہ، اور ماتحت کو تکلیف نہ دینے کا روزہ رکھا۔ اب تم روزے والے دن اپنے اندر وقار اور سکون کی کیفیت پیدا کرو۔ تمہارے روزے کے دن اور بغیر روزے کے دن میں فرق رکھو۔ (محلی لابن حزم: 308/4)
اس لیے کہ روزے کا مقصد تقویٰ اور قربِ الٰہی حاصل کرنا ہے۔ چاہیے کہ انسان روزہ رکھنے کے ساتھ روزے کی حفاظت بھی کرے۔
روزے میں بعض چیزوں کی اجازت
آج کل گرمی کا موسم ہے تو گرمی میں روزے کا ثواب اور بڑھ جاتا ہے۔ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ روزہ دار اگر منہ میں پانی لے، پھر کلی کر کے پانی پھینک دے کہ منہ تَر ہو جائے، تو یہ ٹھیک ہے؟ فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
(عمدۃ القاري: تحت باب اغتسال الصائم)
ہاں! منہ میں پانی ڈالے تو احتیاط رکھے اور کلی ایسے کرے کہ حلق کے اندر کوئی قطرہ نہ جائے۔ گرمی دور کرنے کے لیے اس کی اجازت ہے۔ اسی طرح روزے میں مسواک کرنا بھی سنت ہے، اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ یہ بھی اچھی بات ہے۔ پھر سخت گرمی کی وجہ سے اگر سر پر ٹھنڈا پانی ڈال لے تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
سنن ابی دائود کی روایت میں ہے کہ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے عرج نامی جگہ پر نبی کریمﷺ کو دیکھا کہ شدتِ گرمی یا شدتِ پیاس کی وجہ سے سر پر روزے کی حالت میںپانی ڈال رہے تھے۔ (سنن ابی داؤد: 2365)
حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے میں آتا ہے کہ وہ رومال وغیرہ کو گیلا کر کے اپنے سر پر ڈال لیتے تھے۔ (عمدۃ القاري: تحت باب اغتسال الصائم)
آج عصر کی نماز جس مسجد میں پڑھی، وہا ں ایک صاحب کو دیکھا کہ انہوں نے گیلے تولیے سے پورے سر کو ڈھانپا ہوا تھا، صرف چہرہ کھلا ہوا تھا۔ اس تولیے کو انہوں نے اچھی طرح ٹھنڈا کیا ہوا تھا تاکہ اچھی طرح سے گرمی سے بچنے کا انتظام ہو جائے۔
روزہ چھوڑنے کا گناہ
ایک بہت اہم بات ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے بلا عذر اور بغیر کسی بیماری کے محض سستی اور غفلت کی وجہ سے رمضان کا روزہ نہیں رکھا، اس کے بعد وہ ساری زندگی بھی روزے رکھتا رہے اس ایک روزے کے ثواب کو وہ ساری زندگی نہیں پہنچ سکے گا۔ (سنن ترمذی: رقم 723)
رمضان کے روزے کی اتنی برکتیں ہیں۔ ہمت اور کوشش کر کے پورے روزے رکھیں۔ ہمت کی ضرورت ہے۔ گرمی سے نہ گھبرائیے۔ ہمت کرنے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے، پھر بات بن جاتی ہے۔
یہاں دو تین باتیں بہت اہم ہیں۔ سننے اور سمجھنے والی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں لوگوں نے جو مسائل پوچھے، اسی کو دیکھتے ہوئے چند باتیں عرض کرتا ہوں۔
روزہ نہ رکھنے کے حیلے بہانے
ایک صاحب نے کہا کہ مجھے گردے میں مسئلہ ہے۔ ایک نے کچھ کہا، ایک نے کچھ کہا کہ جی روزہ رکھنا مشکل ہے، پورا نہیں ہوگا۔ کیا کریں؟ ایسے لوگ جن کو بیمار ہونے کا خدشہ ہو یا واقعی بیمار ہوں اور روزہ رکھنے میں مسئلہ بنتا ہو، وہ کیا کریں؟ ان کے لیے یہ ہے کہ روزہ رکھنے کی پوری کوشش کریں، ہمت نہ ہاریں۔ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور روزہ رکھیں۔ ہاں! اگر خدانخواستہ روزہ رکھنے کے بعد طبیعت بگڑنے کے خطرات پیش آ جائیں تو روزہ توڑ سکتے ہیں اور اس کا کفارہ نہیں ہے، البتہ قضا آئے گی۔ لیکن اگر کوئی پہلے سے ہی ہمت نہ کرے تو یہ بات بالکل ٹھیک نہیں۔ ایسے ہی اگر کوئی مسافر ہے، تو سفر کی مشقت کی وجہ سے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر مسافر عزیمت پر عمل کرتے ہوئے روزہ رکھتا ہے تو یہ افضل ہے۔ جن کاموں کی شریعت نے اجازت دی ہے الحمدللہ! میں اس کو منع نہیں کر رہا۔ جتنی ہمت کر سکتا ہے اتنی تو کرے، پھر اِن شاء اللہ تعالیٰ آسانی ہو جائے گی۔
ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا
اسی طرح مستورات کی طرف سے کبھی ایسے حساس معاملات ہوتے ہیں کہ روزہ نہ رکھنے کی شریعت نے ان کو اجازت دی ہے۔ مگر آج ہماری مسلمان بہنوں کا حال یہ ہے کہ جو چند روزے شرعی عذر کی وجہ سے رہ جاتے ہیں، وہ بیس بیس سالوں سے نہیں رکھے۔ ذرا اپنی اپنی اہلیہ سے پوچھیں۔ کسی کے دس سال کے باقی ہیں، کسی کے بیس سال کے باقی ہیں، کسی کے پانچ سال کے، اور تو کسی کے تیس سال کے۔ ایسی مستورات بھی ہیں جنہوں نے ہمارے اہلِ خانہ کو بتایا کہ ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا کہ یہ روزے رکھنے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جیسے نماز کا مسئلہ ہے کہ اِن دنوں کی نمازیں نہیں پڑھی جاتیں، ایسے ہی روزے بھی نہیں رکھنے ہوتے۔ تو اِن مستورات کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں پتا ہی نہیں تھا۔
روزے کی قضا کب کرے؟
اگر شرعی عذر کی وجہ سے، کسی مرض کی وجہ سے بندے کو روزہ چھوڑنا پڑ جائے تو وہ قضا روزہ کب رکھے؟ مسئلے کے اعتبار سے تو جلد از جلد ان روزوں کی قضا کرلی جائے کہ یہ فرض روزے ہیں اور اس میں تاخیر کرنا مناسب نہیں کہ زندگی اور موت کا کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ البتہ حضرات صحابۂ ک سے ایک بات یہ ملتی ہے کہ رمضان کے رہے ہوئے روزے عشرہ ذی الحج یعنی بقر عید کے جو پہلے نو دن ہوتے ہیں اُن دنوں میں رکھ لیے جائیں کہ ان دنوں کی اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑی فضیلت ہے۔ بہرحال کوشش یہ کرے کہ جتنی ہمت ہو سکتی ہے روزوں میں ناغہ نہ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت مل جائے۔
بچوں کو روزہ رکھنے کی عادت ڈالنا
اور جی! جو چھوٹے بچے ہوتے ہیں 7,8 سال کے۔ ان کو بھی روزہ رکھوانا چاہیے۔
ایک صحابیہ حضرت رُبیع بنتِ معوّذ فرماتی ہیں کہ رمضان سے قبل جب عاشوراء کا روزہ فرض تھا، ہم لوگ خود بھی رکھتے اور اپنے چھوٹے بچوں کو جسے اللہ چاہتا روزہ رکھواتے تھے۔ ہم انہیں مسجد لے جاتیں اور ان کے لیے کھلونے کا انتظام کرتیں جو اُون سے بنا ہوتا۔ اگر ان میں سے کوئی بھوک کی وجہ سے رونے لگتا، تب بھی ہم ان کو افطاری کے وقت ہی کھانا دیتی تھیں۔ (صحیح مسلم: باب من أكل في عاشوراء فليكف بقية يومه)
مطلب یہ کہ بچوں کو بہلا پھسلا کر کسی شغل میں مصروف کر دیا جاتا تھا۔
امام شافعی نے فرمایا کہ بچوں کو روزے کی عادت ڈالنے کے لیے حکم دیا جائے گا۔ جس طرح کہ نماز کے لیے سات سال کی عمر سے حکم دیا جاتا ہے۔ اسی طرح روزے کا بھی حکم دیا جائے گا۔
افطار کی سنت
افطاری اور سحری کے بارے میں بھی چند سنتیں احادیثِ مبارکہ کی کتابوں میں نقل کی گئی ہیں۔ ان کو ذکر کیا جاتا ہے تاکہ ہم اس پر عمل کر کے متبع سنت بنیں۔
نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ لوگ ہمیشہ بھلائی پر رہیں گے جب تک افطاری میں جلدی کریں گے۔ (صحیح البخاري: رقم 1856، باب تعجيل الإفطار)
جیسے ہی افطاری کا وقت ہو جائے فوراً روزہ کھول لیں، ذرا دیر نہ کریں۔
ابو عطیہ فرماتے ہیں کہ میں اور مسروق(m) اُمّ المؤمنین حضرت امی عائشہ صدیقہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا کہ رسول اللہﷺ کے ایک صحابی تو افطار اور نمازِ مغرب میں جلدی فرماتے ہیں، اور دوسرے صحابی دونوں میں تاخیر کرتے ہیں۔ اماںجان نے پوچھا کہ افطار اور نمازِ مغرب میں تعجیل کون فرماتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود۔ فرمایا کہ نبی کریمﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم: 1099)
ایک تابعی کہتے ہیں کہ رمضان المبارک میں افطاری کے وقت میں حضرت عبداللہ بن عباسi کے پاس بیٹھا تھا۔ ان کے سامنے کھانے پینے کی چیزیں رکھی ہوئی تھیں، دسترخوان لگا ہوا تھا۔ ہمیں کہا کہ ٹھہرو، ابھی انتظار کرو کہ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ جب اطلاع ملی کہ سورج غروب ہو گیا تو فرمایا کہ اب تم افطار کرو۔ پھر ہم لوگوں نے مغرب کی نماز سے قبل افطار کیا۔ (مسند عبدا لرزاق)
ایک نکتہ کی بات
اچھا! افطاری کا وقت نہ ہوا ہو البتہ افطاری سامنے ہو اور انسان نہ کھائے، حالاںکہ ساری ہی حلال چیزیں موجود ہیں۔ اس میں کیا حکمت ہے؟ علماء فرماتے ہیں کہ روزے دار یہ سوچے کہ اللہ! یہ تیری بخشش،تیری عنایت،یہ تیرا دیا ہوارزق ہے۔ اللہ! تیری نعمتیں ہیں، مگر چوںکہ ابھی تیرا حکم نہیں ہے استعمال کرنے کا اس لیے ہم انتظار کر رہے ہیں۔ جب تیرا حکم ہوگا اور سورج غروب ہوگا، تیری نعمتوں سے استفادہ حاصل کریں گے، تیری نعمتوں کو کھائیں گے۔ اس لیے ہر ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
قبل از نماز افطاری
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ مغرب کی نماز نہ پڑھتے جب تک کہ افطاری نہ کر لیتے چاہے پانی کا ایک گھونٹ ہی سہی۔ آپﷺ غروب ہوتے ہی افطاری کر لیا کرتے تھے۔ (صحیح ابن خزیمہ: رقم 1935)
افطاری میں جلدی کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ کہ سات بج کر سات منٹ پر اگر روزہ کھل رہا ہے تو جیسے ہی روزہ کھلے افطار کر لیں۔ اور سحری میں تاخیر کا کیا مطلب ہے؟ یعنی تین بج کر تیس منٹ پر اگر سحری کا وقت ختم ہو رہا ہے تو اٹھائیس منٹ پر سحری کرنا چھوڑ دیں تاکہ احتیاط رہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو دو بجے سحری کر کے سو جاتے ہیں، یہ مناسب نہیں۔ آخر وقت میں سحری کرنی چاہیے اور دو تین منٹ پہلے چھوڑ دینا چاہیے۔ اچھا! یہاں ایک اور احتیاط بھی ہے۔ بعض لوگ یا بہت سارے لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ جب تک اذان نہ ہوگی، سحری کا وقت جاری رہے گا۔ نہیں! جیسے ہی اذان کا وقت شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے سحری کا وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ اگر اذان شروع ہوگئی اور کھاتے رہے تو روزہ ہی نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ یہ مسئلہ کسی کو بتایا تو کہا کہ جی! ہم تو دس سال یا بیس سال سے ایسے ہی کرتے آ رہے ہیں۔ العیاذ باللہ!
افطاری کس چیز سے کریں؟
اب بات کرتے ہیں کہ روزہ کس چیز سے افطار کرنا ہے؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب تازہ کھجور ہوتی تو آپﷺ تازہ کھجور سے افطار کرتے، اگر تازہ کھجور نہ ہوتی تو چھوارے سے افطار کرتے۔ کھجور اگر تازہ ہو تو وہ سنت کے زیادہ قریب ہے وگرنہ تو چھوارہ بھی سنت ہے۔ اور اگر کبھی افطاری میں کھجور نہ ہوتی، اور نہ چھوارہ، پھر نبی کریمﷺ پانی کے چند گھونٹ سے ہی افطار کر لیتے تھے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 2356)
علامہ جلال الدین سیوطینے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے جس میں ہے کہ نبی کریمﷺ دودھ سے روزہ کھولنے کو پسند فرماتے تھے۔
ہم بھی افطار مختلف طرح سے کر لیں کبھی چھوارہ سے کر لیں، کبھی تازہ کھجور سے، کبھی فقط پانی سے اور کبھی دودھ سے۔ اس سے ہر طرح سے سنت پر عمل ہو جائے گا۔
یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اگر انسان بھولے سے روزے میں کچھ کھا پی لے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، اس کا روزہ باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی سچی محبت عطا فرمائے۔
سحری کی سنت
سحری کے کھانے کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔ حضرت عرباض بن ساریہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریمﷺ نے رمضان میں سحری کرنے کے لیے بلایا اور فرمایا کہ آؤ برکت والے کھانے کی طرف۔ (سنن ابی داؤد: رقم 2344)
ایک روایت میں نبی کریمﷺ نے فرمایا: اللہ ربّ العزّت اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے برکت کی دعائیں کرتے ہیں۔ (مسند احمد: رقم 11086)
حضرت سلمان فارسی سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ فرماتے تھے کہ برکت تین میں ہے: (۱) اجتماعیت میں (۲) ثرید میں (۳) سحری میں۔
(معجم کبیر للطبرانی: رقم 6127)
سحری اور افطاری اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں، اس کا شکر ادا کریں۔ اللہ اس کو بے حساب کر دیتے ہیں۔ یہ برکت والی چیزیں ہیں، اس کی برکتیں ضرور حاصل کرنی چاہئیں۔
حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزے میں سحری کا فرق ہے۔ (صحیح مسلم: رقم 1096)
وہ لوگ سحری نہیں کرتے مسلمان سحری کر کے روزہ رکھتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ سحری کی پابندی کریں اور اس وقت دعائیں بھی مانگیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتباعِ سنت کی پابندی کی توفیق عطا فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply