روزمرہ کی چار سنتیں

روزمرہ کی چار سنتیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ (النّسآء: 64)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اتباعِ سنت کی کسوٹی
اللہ ربّ العزّت قرآن کریم میں فرماتے ہیں:
وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ (النِّسَآء:64)

ترجمہ: ’’ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لیے نہیں بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے‘‘۔
دیکھیں! آج ہم لوگ یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہمیں حضورِ پاکﷺ سے محبت ہے۔ محبت ایک چھپی ہوئی چیز ہے، مخفی چیز ہے، یہ نظر نہیں آتی۔ یہ نظر کیسے آئے گی؟ آثار اور علامات سے اس کا اندازہ ہوگا۔ دیکھا جائے گا کہ جس کو جس سے محبت ہے اُس کے ساتھ اس کا رابطہ اور تعلق کتنا ہے۔ جو لوگ بھی رسول اللہﷺ سے محبت کے دعویدار ہیں تو اُن کو اتباعِ سنت کی کسوٹی پر دیکھ لیا جائے، سب سچا اور جھوٹا معلوم ہوجائے گا۔ جو شخص جتنا اپنی محبت میں سچا ہوگا اُتنا حضور پاک ﷺکی اتباع میں آگے بڑھا ہوگا۔ ایک ایک سنت کو شوق سے تلاش کرنا اور اس کو عمل میں لانا یہ سعادت کی بات ہے۔ دونوں جہانوں کی سعادت ہے۔
اتباعِ سنت کی فضیلت
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:
جو شخص سنتوں کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہے گا وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ (دارقطنی)
مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ اہتمام اور پابندی کے ساتھ عمل کرے۔ کبھی کیا اور کبھی نہ کیا، ایسا نہیں ہے۔ اہتمام بھی ہو، پابندی بھی ہو اور شوق کے ساتھ عمل کرے۔ دوسرا مطلب اس میں یہ ہے کہ جستجو اور تلاش کر کے اپنی زندگی میں سنتوں کو لے آئے۔ اللہ رب العزت ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
نبیﷺ کی سنتوں کو سیکھنا
اللہ کا شکر ہے! جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ گلدستۂ سنت کے بیانات چل رہے ہیں، اور ہم جستجو میں ہیں کہ ہمیں سنتوں کا علم ہوجائے۔ اور جہاں تک ہمارے لیے ممکن ہو ہم نبیﷺ کی سنتوں کو سیکھیں اور اسے اپنائیں۔ یاد رکھیں! آج یہ موقع ہے۔ مرنے کے بعد، قبر میں جانے کے بعد یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔ آج جو انسان اپنے آپ کو نبیﷺ کی سنتوں میں ڈھال لے گا، وہ نبیﷺ کے فرمان کے مطابق نبیﷺ کے ساتھ جنت میں ہوگا۔ اگر جنت میں آپﷺ کا ساتھ چاہتے ہیں تو دنیا میں سنتوں کو محبت کے ساتھ اپنا لیجیے ۔ جب یہ وقت ہاتھ سے نکل جائے گا، مہلت نکل جائے گی پھر افسوس ہوگا۔
جمعہ کی مبارک باد دینا خلافِ سنت ہے
جمعہ کے دن کے بارے میں ایک بات اور بھی کرنی ہے۔ آج کل ایک نیا Trend نکلا ہوا ہے۔ آج صبح بھی مجھے کئی میسیجز آئے کہ جمعہ مبارک ہو۔ میں نے مفتی حضرات سے رابطہ کیا تو یہ بات معلوم ہوئی۔ آپ بھی مفتی صاحبان سے معلوم کرسکتے ہیں، اور اس میں کوئی غلطی ہو یا بہتری ہو تو مجھے بھی ضرور بتائیں۔ جمعہ یقیناً برکت والا دن ہے، مبارک دن ہے۔ لیکن یہ مبارک دن اس کے لیے ہے جو اس دن کو سنت کے مطابق بنائے۔ مثلاً درود شریف کی کثرت، نمازِ جمعہ کے لیے جلدی جانا، سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا اور سنت کے مطابق لباس پہننا، عصر سے مغرب تک دعاؤں میں لگے رہنا۔ یہ جمعہ کے دن کے احکامات ہیں، جو اس پہ لگا ہوا ہے اس کے لیے تو مبارک ہے۔ لیکن اگر کوئی جمعہ کی نماز ہی نہیں پڑھ رہا، یا اخیر وقت میں جا رہا ہے، سارا دن ٹی وی دیکھنے میں گزار دیا، گانے سننے میں گزار دیا، گپوں میں گزار دیا تو بتلائیے کہ اس نے جمعہ کی برکتوں سے کیا حصہ پایا؟ قرآن مجید مبارک کتاب ہے۔ گھر میں رکھا ہے، مگر مہینوں نہیں کھولا۔ بتلائیے کہ اس کی برکتوں سے کیا حصہ ملے گا؟ ایسے ہی جمعہ ایک مبارک دن ضرور ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ دنوں کا سردار ہے، لیکن یہ مبارک اس کے لیے ہوگا جو اس کی برکتوں کو لینے والا ہو۔
اب جہاں تک جمعہ مبارک کے پیغامات کی بات ہے تو صحابۂ کرام ایسا نہیں کرتے تھے۔ جمعہ اُن کی زندگی میں بھی آتا تھا، مگر اِن پیغامات کا اُن سے ثبوت نہیں ملتا۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ جمعہ کی مبارک دینے کی روایت تو نہیں ہے، البتہ آخرت کی یاد دلانا، سورۂ عصر پڑھ کر سنانا یہ ان کے تذکرے ہوا کرتے تھے۔ اور یہ جمعہ کے ساتھ خاص نہیں ہے، یہ تو اُن کا عام معمول تھا۔لہٰذا جمعہ مبارک کہنا خلافِ سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سمجھ عطا فرمائے اور سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ثواب سنت پر عمل کرنے پر ہے، اپنے شوق پر،یا اپنے خیال پر عمل کرنے پر نہیں ہے۔
تکیہ استعمال کرنا
لباس سے متعلق جو احکامات تھے، اُن کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے۔ اب تکیے کے متعلق نبیﷺ کے ارشادات کو بیان کیا جا رہا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک تکیہ استعمال کرتا ہی ہے۔ اس کا استعمال سنت ہے بشرطیکہ ہم تکیے کو سنت سمجھ کر استعمال کریں۔
حضرت جابربن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺکوایک تکیے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دیکھا جو بائیں جانب تھا۔ کبھی نبیﷺ تکیےسے دائیں جانب ٹیک لگالیتے اور کبھی بائیں جانب۔ (ترمذی: صفحہ101)
ٹیک لگانے کی دونوں صورتیں (دائیں/ بائیں) جائز ہیں۔
ایک دوسری حدیث میں حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے گھر میں آیا تو میں نے دیکھا کہ آپﷺ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔
(شعب الایمان: صفحہ 195)
یعنی کوئی اپنے گھر میں تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھتا ہے تو اس میں اتباعِ سنت کی نیت کرلے، اسے سنت کا ثواب مل جائے گا اِن شاء اللہ۔
تین چیزوں سے انکار نہیں کرنا چاہیے
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
تین چیزوں سے انکار نہیں کیا جاتا:
(۱) تکیہ (۲) تیل (۳) دودھ۔ (ترمذی: رقم 2785)
اگر آپ کہیں مہمان بن کر جائیں اور کسی ساتھی نے آپ کو تکیہ پیش کردیا تو اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ بعض علماء نے تیل سے مراد خوشبو لی ہے۔ بہرحال یہ تین چیزیں ایسی ہیں جو بہت Commonہیں۔ اگر کوئی کسی کو دے رہا ہو تو اس کا انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اور ذرا بات کو کھولیں تو یہاں دودھ کا ذکر آتا ہے، چائے اور پیپسی کا ذکر نہیں آتا۔ ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جب بھی ہمارے ہاں مہمان آئیں ہم اپنے گھروں میں اس رواج کو شروع کریں، یعنی انہیں دودھ پیش کریں۔ نبیﷺ دودھ پیتے تھے اور بہت شوق سے پیتے تھے۔ صحابۂ کرام کے زمانے میں یہ چیز بہت رائج تھی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی دودھ سے بنی ہوئی چیزوں کا اپنے بچوں کو عادی بنائیں۔ گھروں میں اس کا اہتمام کریں۔ آج کل کی چیزوں میں کیمیکلز ہوتے ہیں اور نہ جانے کیا کچھ !!! دودھ کی برکت سے اتباعِ سنت بھی نصیب ہوگی اور صحت بھی ہوگی۔
نبیﷺ کے تکیوں کی کیفیت
نبیﷺ نے مختلف قسم کے تکیے استعمال فرمائے ہیں۔
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے بالوں والے تکیے پر ٹیک لگائی تھی جس کا بھراؤ کھجور کی چھال سے تھا۔ (مسند احمد: 373/3)
جیسے اگر چمڑے کا تکیہ ہوتا تو اس پر سے جانور کے بالوں کو صاف کرلیا جاتا تھا۔
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کا تکیہ چمڑے کا تھا جس پر آپ آرام فرماتے، اس کا بھراؤ کھجور کی چھال سے تھا۔ (صحیح مسلم: 193/1)
عرب میں کھجور کی چھال آسانی سے مل جاتی تھی اور کم قیمت بھی ہوتی تھی۔ اگر کسی کو اللہ توفیق دے تو ایک لیدر کا تکیہ بنائے۔ لوگ لیدر کی جیکٹ تو بڑے شوق سے پہنتے ہیں، پرس بھی لے آتے ہیں، جوتے بھی لیدر کے پہننے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو بھئی! اگر لیدر کا تکیہ بھی ہم بنالیں گے اتباعِ سنت کی نیت سے تو یقیناً اس کا اجر ہمیں ضرور ملے گا۔ حضورِ پاکﷺ نے اپنی بیٹی کو بھی رخصتی کے وقت تکیہ دیا تھا اللہ اکبر!
بیٹی کی رخصتی کا سامان
حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نےبی بی فاطمہ کو چمڑے کا دیا تھا۔ (ترمذی: صفحہ101)
بیٹیوں کی رخصتی کے وقت سامان دیتے ہیں، اگر ایک چمڑے کا تکیہ بھی اتباعِ سنت کی نیت سے رکھ دیں، اس کو ذرا اچھا سا بنالیں، عمدہ غلاف چڑھا لیں تو بہت بہتر ہے۔ آپﷺ نے تو چمڑے کا تکیہ دیا تھا جس میں اِذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔
اب یہاں ایک بات سمجھ لیجیے! حضرت علی اور حضرت عثمان غنی دونوں دامادِ رسولﷺہیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے اپنی بیٹی کو جہیز میں جو تکیہ دیا تھا وہ چمڑے کا تھا اور اس کا بھراؤ اِذخر گھاس سے تھا، کھجور کی چھال سے بھی نہیں تھا۔ یعنی رخصتی میں بیٹی کو خود سے ضرورت کے درجے میں چیز دی ہے۔ بیٹی کو یہ نہیں کہا کہ تم نے دنیا کی عیش وآرام میں پڑنا ہے۔ آج کل تو بیٹیاں بھی اور مائیں بھی اور خود سُسرال والے بھی جہیز کی بڑی بڑی Demandکرتے ہیں۔
دیکھیں! ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ اگر کوئی والد اپنی خوشی سے، اپنی استطاعت سے کوئی چیز اپنی بیٹی کو دے دے پھر تو جواز بنتا ہے، لیکن اگر لڑکے والے جیسے کہ دولہا والے ڈیمانڈ کریں کہ ہمیں یہ چاہیے اور وہ چاہیے، تو اُن کے لیے یہ مانگنا شرعاً جائز نہیں گناہ ہوگا۔ آج ہم میں سے ہر آدمی اس فکر میں تو ہے کہ حرام غذا کے بارے میں پتا لگے کیوں کہ حلال بسکٹ کھانا ہے، حلال چاکلیٹ کھانی ہے۔ چیزیں حلال کھانی ہیں تو کمائی بھی تو حلال ہو۔ آج کل حلال کمائی کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ اب جہیز کا مطالبہ کرنا کس نے کہہ دیا کہ حلال ہے؟ اسی طرح بہنوں کو حصہ نہ دینا، عورتوں کو حصہ نہ دینا، یہ بھی تو حلال نہیں ہے۔ ہم ہر چیز کو سنت کی طرف لانے کی کوشش کریں۔ نبیﷺ اپنی لاڈلی بیٹی کے لیے اگر چاہتے تو اللہ سے دعا کرتے اور حضرت جبرائیل جنت سے تکیے لاسکتے تھے۔ دنیا بھرکا جہیز نبیﷺ دے سکتے تھے، لیکن نبی کریمﷺ نے جو کچھ اپنی بیٹی کو دیا وہ اُن کی ضرورت کے تحت دیا۔
اب اگر باپ محبت سے، ضرورت کے مطابق کوئی چیز دے تو بہت مناسب ہے، لیکن اُس کے اندر دکھاوا کہ جی آج سب کو بلانا ہے، سب کو دکھلانا ہے کہ میں اپنی بیٹی کو کیا کچھ دے رہا ہوں تو یہ سب ریاکاری ہے۔ اور اس ریاکاری کی وجہ سے باپ کو لاکھوں روپیہ خرچ کرکے بھی گناہ ہوتا ہے۔ بچی کو بھی چاہیے کہ ضرورت کی چیز سے زیادہ نہ مانگے۔ باپ کو بھی چاہیے کہ ضرورت کی چیزوں کا اہتمام کرے۔ بعض لوگ ٹی وی دے دیتے ہیں کہ یہ ضرورت کی چیز ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! ٹی وی دینے کا مطلب تو گناہ کا راستہ کھولنا ہے۔ خلاصہ یہ کہ سُسرال والوں کو ڈیمانڈ کرنا، مانگنا یہ نبیﷺ کے دین میں جائز نہیں ہے۔
دنیا ایک گزرگاہ ہے
نبیﷺ نےاپنی بیٹی کو جو تکیہ دیا تھا اس کے اندر روئی نہیں بھروائی، سادہ اِذخر نامی گھاس بھروادی۔ اس میں اُمت کے لیے پیغام ہے کہ دنیا ایک گزرگاہ ہے۔ اس پیغام کے ساتھ بیٹی کو رخصت کیا۔ عمدہ اور قیمتی سامان تو آخرت کے بعد والی زندگی میں ملے گا۔ جتنا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے دن رات خود کو تھکایا ہوگا، اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے سے ویسا معاملہ فرمائیں گے اور اسے اَبدی راحتیں، چین وسکون عطا فرمائیں گے۔
عمومی حالت میں ٹیک لگا کر بیٹھنا
بہرحال نبیﷺ نے بیٹھتے وقت بھی تکیے کا استعمال فرمایا اور آرام کے وقت بھی۔
حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نےعشاء کی نماز پڑھی، پھر اُمّ المؤمنین حضرت میمونہ کے گھر تشریف لے گئے (غالباً اس دن اُن کی باری تھی)، پھر اپنے سرمبارک کو تکیے کی لمبائی والی جگہ پر رکھ کر آرام فرمایا۔
(فتح المنعم: 547/3)
یعنی سوتے وقت سرکے نیچے تکیہ رکھنا بھی سنت ہے، اور بیٹھتے ہوئے تکیے سے ٹیک لگا لینا بھی سنت ہے۔ اب یہ کام تو ہم کرتے ہی ہیں، اگر اس کو کرتے ہوئے اتباعِ سنت کا خیال کریں گے تو ثواب ملنا شروع ہوجائے گا۔
مجلس میں ٹیک لگا کر بیٹھنا
شہاب بن عباد فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کے پاس عبد القیس قبیلے کا وفد آیا۔ میں نے اس وفد کے بعض حاضرین سے سنا کہ جب یہ لوگ نبیﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو حضورﷺ تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے مجلس میں تشریف فرماتھے، بات چیت ہوتی رہی اور نبیﷺ اُسی طرح ٹیک لگائے بیٹھے رہے۔ (مسند احمد)
یہاں سے علماء نے لکھا کہ کوئی بڑے عالم ہوں یا شیخ ہوں جن کے متبعین ہوں، اُن کے لیے گنجایش ہے کہ وہ اپنی مجلس میں ٹیک لگا کر بیٹھ سکتے ہیں۔ اس بات کا بے حد خیال رکھے کہ تکبر اور دکھلاوا نہیں ہونا چاہیے۔
مہمان کو تکیہ پیش کرنا
الحمدللہ! کبھی گھر میں مہمان بھی آتے ہیں۔ ہم اِکرام میں بہت ساری چیزیں پیش کرتے ہیں اور تکیہ بھی پیش کرتے ہیں۔ کل رات ایک جگہ جانا ہوا تو انہوں نے تکیہ پیش کیا۔ مہمان کو تکیہ پیش کرنا ایک رواج ہے، لیکن سنت کیا ہے؟ اگر یہ معلوم ہوجائے، اور تکیہ پیش کرنے کا اجر کیا ہے؟ یہ معلوم ہوجائے تو بس معمولی عمل پر بہت نیکیاں کمائی جاسکتی ہیں۔
ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی حضرت عمر فاروق کی خدمت میں آئے۔ اس وقت عمرفاروق اپنے گھر میں تکیے کا سہارا لیے بیٹھے تھے۔ جب سلمان فارسی آئے تو فاروق اعظم نے تکیہ اُن کی خدمت میں پیش کردیا۔ سلمان فارسی نے تکیے کو جب دیکھا تو کہا:
اَللہُ أَکْبَرُ، صَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ.
ترجمہ: ’’اللہ بہت بڑا ہے، اُس کے رسولﷺ نے سچ کہا‘‘۔
فاروق اعظم نے سنا تو تڑپ اُٹھے۔ کہا کہ اے ابو عبداللہ! مجھے اپنے حبیب نبیﷺ کا فرمان تو سناؤ۔ حضرت سلمان فارسی فرمانے لگے: ایک مرتبہ میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ تکیےکا سہارا لیے تشریف فرما تھے۔ آپﷺ نے وہ تکیہ میری طرف کر دیا اور فرمایا کہ اے سلمان! جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے پاس آئے اور میزبان اُس کے اِکرام میں تکیہ پیش کرے تو اُس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (کتاب الاخلاق للطّبرانی: رقم 151)
سبحان اللہ! اللہ ربّ العزّت تکیہ پیش کرنے والے کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔
چادر کا تکیہ بنانا
بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ تکیہ پاس نہیں ہے اور چادر ہے۔ اب ضرورت کی وجہ سے چادر یا کوئی بھی چیز کمبل وغیرہ کو بطورِ تکیہ استعمال کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قبیلہ مراد کے ایک صحابی حضرت صفوان بن عسال آپﷺ کے پاس تشریف لائے، تو دیکھاکہ نبیﷺ اپنی لال دھاری دار چادر کا تکیہ بنائے ہوئے اس سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ اصل تکیہ موجود نہیں تھا تو آپﷺ نے جو چیز موجود تھی اُس کا تکیہ بنا کر استعمال کرلیا۔
اسی طرح حضرت خَبَّاب فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے دیکھا کہ آپﷺ بیت اللہ شریف کے سائے میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ (مصنف ابنِ ابی شیبہ، سیرۃ: 214/2)
یہاں سے دوباتیں سمجھ میں آتی ہیں:
ایک تو یہ کہ جو چیز موجود ہے اُس کا آپﷺ نے تکیہ بنالیا۔
دوسری بات بڑی پیاری ہے۔ وہ یہ کہ نبی کریمﷺ کعبہ کے سائے میں بڑی محبت سے، کثرت سے، شوق سے بیٹھتے تھے۔ اور نبیﷺ کے جدّ ِامجد، دادا اور دیگر سردارانِ قریش کی مجلسیں بیت اللہ شریف کی دیوار کے ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ تو یہ بات ثابت ہے کہ آپﷺ کعبہ کے سائے میں بیٹھتے تھے۔
رِقّت آمیز باتیں
اب اگر کوئی آدمی حج کے لیے یا عمرہ کے لیے جائے تو کیا کرے؟ یہ دل کی بات ہے جو اللہ نے دل میں ڈالی۔ انسان وہاں جائے تو کچھ وقت کعبہ شریف کے سائے میں چلا جائے۔ خواہ ایک منٹ کے لیے چلا جائے، آدھے منٹ کے لیے چلا جائے، طواف کے دوران جائے یا طواف کے علاوہ جائے۔ بس سنت کی نیت کرلے کہ نبیﷺ بیت اللہ کے سائے میں آتے تھے۔ اور ساتھ میں اللہ سے مانگے کہ اے اللہ! اس دنیا کے اندر سب سے زیادہ معزّزو مکرّم اور محترم سایہ تیرے اس گھر (بیت اللہ)کا ہے۔ اللہ! آپ نے میرے گناہوں کے باوجود اپنی رحمت سے اس دنیا میں مجھے اپنے گھر کا سایہ عطا کر دیا۔ اللہ! قیامت کے دن تیرے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اپنی رحمت سے مجھے وہ سایہ بھی عطا کر دینا۔
اور یہ دعا بھی مانگ لے کہ اے اللہ! باوجود آپ نے میرے گناہوں کے، میری غلطیوں کے مجھے اپنے گھر کا دیدار کروایا۔اللہ! جب آپ نے مجھے اپنے گھر کا دیدار اس دنیا میں کروا ہی دیا، اللہ! قیامت کے دن بھی میں آپ کا دیدار کرنا چاہتا ہوں، اس روز بھی مجھے اپنا دیدار کروا دینا۔ یہ چند دعائیں ہیں جو اللہ سے مانگی جا سکتی ہیں۔
بہرحال اگر نبیﷺ کے پاس تکیہ ہوتا تو اس سے ٹیک لگاتے، تکیہ نہ ہوتا تو جو چیز بھی موجود ہوتی اُسے تکیہ بنا کر ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔
تکلیف کی وجہ سے سہارا لینا
ایک اور بھی کتنی عجیب بات لکھی ہے کہ بعض اوقات انسان تکلیف کی وجہ سے کسی کا سہارا لے کر چلتا ہے۔ رسول اللہﷺ سے اس کا بھی ثبوت ملتا ہے۔
حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپﷺ بیمار کے عالَم میں حضرت اُسامہ کے سہارے اپنےگھر سے باہر تشریف لائے۔ (شمائل: صفحہ10)
کوئی بیمار ہو جسے سہارے کی ضرورت ہے اور وہ سہارا لیتا ہے تو نبیﷺ کی سنت کی نیت کر سکتا ہے۔ اور جو سہارا بن رہا ہے تو وہ سہارا دینے کی نیت کرسکتا ہے۔ نبیﷺ تکلیف اور نقاہت کی وجہ سے تنہا چلنے سے قاصر تھے، اس لیے نبیﷺ نے حضرت اُسامہ کا سہارا لیا۔ عذر کی وجہ سے، بیماری یا تکلیف کی وجہ سے سہارا لیا جا سکتا ہے۔
رات میں سُرمہ لگانا
اس کے بعد اگلے موضوع سے متعلق بات کرتے ہیں، وہ ہے سُرمہ لگانا۔
حضرت عبداللہ بن عباسi فرماتے ہیں کہ نبیﷺ رات کو سونے سے پہلے، بستر پر جانے سے قبل (اِثمد) سُرمہ تین تین مرتبہ ہر آنکھ میں لگاتے تھے۔ (شمائل: صفحہ5)
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبیﷺ کے پاس سُرمہ دانی تھی جس سے رات میں آپﷺ سونے سے پہلے تین تین سلائیاں ہر آنکھ میں لگاتے تھے۔ (مجمع: 99/5)
ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوا کہ سرمہ رات کو سونے سے پہلے لگانا سنت ہے۔ صبح کے وقت لگانا سنت نہیں ہے، بلکہ جائز ہے۔ Reason کیا ہے؟ سُرمہ رات کو کیوں لگایا جاتا ہے؟ علماء نے فرماتے ہیں کہ سُرمہ آنکھ کی حفاظت کے لیے ہے، یہ آرائش کے لیے نہیں ہے۔ چوںکہ یہ حفاظت کے لیے ہے، اس وجہ سے رات کو لگانا سنت ہے۔
طاق عدد کا لحاظ رکھنا
سرمہ کے بارے میں ایک اور چیز یہ ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا: ’’جو آدمی سُرمہ لگائے وہ طاق عدد میں لگائے، ایسا کرے تو بہتر ورنہ کوئی حرج نہیں‘‘۔ (مشکوٰۃ شریف)
نبیﷺ جب سُرمہ لگاتے تو لگانے کے دو انداز منقول ہیں:
ایک یہ کہ دائیں آنکھ میں تین سلائیاں لگائیں، اور بائیں آنکھ میں دو سلائیاں لگائیں۔ (سنن نسائی: رقم 5113)
دوسرا یہ کہ بائیں آنکھ میں بھی تین سلائیاں لگائیں تو دونوں آنکھوں میں طاق عدد پورا ہو گیا۔ (سنن ترمذی: رقم 1757)
یعنی کبھی آپﷺ ایسا فرماتے کہ دائیں آنکھ میں تین دفعہ سُرمہ لگاتے تو یہ طاق پورا ہوگیا اور بائیں آنکھ میں دو دفعہ لگاتے، اس طرح تین اور دو کو ملا کرکتنا ہوگیا؟ پانچ۔ تو یہ جمع کے اندر طاق عدد پورا ہوگیا۔ واضح رہے کہ طاق عدد میں لگانا بہتر ہے، ورنہ اگر کسی نے اپنی طرف سے کم زیادہ لگالیا تو کوئی حرج نہیں۔
طاق عدد کی پسندیدگی
حدیث شریف میں اللہ کے نبیﷺ نے بتایا:
اِنَّ اللہَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ. (متفق علیہ)
ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ طاق ہیں اور طاق کو پسند فرماتے ہیں‘‘۔
ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ یہ اَعداد طاق کہلاتے ہیں۔ اس مقدار کے مطابق ہم اپنی زندگی کے کاموں کو لانے کی کوشش کریں۔ یہ کوئی ضروری بات نہیں ہے، اس کے لیے انسان اپنے آپ کو تکلیف اور مشقت میں نہ ڈالے، لیکن محبت کی بات یہ ہے کہ جو بات اللہ کو پسند ہے وہ کریں۔ کتنی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ بیٹیاں کوئی کام نہیں کرتیں حالانکہ وہ جائز ہوتا ہے۔ پوچھا جائے تو کہتی ہیں کہ میرے ابو کو اچھا نہیں لگتا۔ اور کچھ کام اپنے طور سے کرتی ہیں کہ ابو کو اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح بیٹے بھی کرتے ہیں۔ تو جب ہم اپنے ماں باپ کے لیے ایسے عمل کرلیتے ہیں، یا بیوی اپنے خاوند کے لیے کرلیتی ہے تو اللہ کے لیے کرنے میں کتنی نسبت بڑھ جائے گی۔ آج سے ہم یہ کوشش کریں کہ اپنے کاموں کو طاق اَعداد میں کرنے کی کوشش کریں۔ اب اس کی چند مثالیں لے لیجیے۔
مثال کے طور پر سودا لینا ہے، پانچ کلو لکھ دیں۔ کوئی چیز جیسے چاول منگوانے ہیں تو بجائے چار کلو کے تین کلو لکھ دیں یا پانچ کلو لکھ دیں۔ طاق عدد کے اندر رکھنے کی کوشش کریں۔ اچھا اگر کوئی ایسی چیز ہے جو چار ہی لینی ہے، اس کو طاق میں کیسے کریںگے؟ تین کلو ایک دفعہ لے لیں اور ایک کلو ایک دفعہ لے لیں، چاہے دومنٹ بعد ہی لے لیں۔ دکان دار سے کہیں کہ 3کلو الگ پیک کردو، ایک کلو الگ پیک کردو۔ اس طرح بھی طاق ہوگیا۔
اگر مثال کے طور پر AC گھر میں ہے،  اُسے 26پر رکھتے ہیں تو 25پر رکھ لیں، طاق عدد میں آگیا۔ 21پر رکھ لیں وغیرہ۔ کپڑے سلوانے ہیں بجائے چار کے تین سلوالیں، دو کے بجائے ایک سلوا لیں۔ الغرض تمام چیزوں میں اگر ہم اس کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں گے تو یقیناً اس کی برکتیں ہمیں ملیں گی۔ اور جب نیت ہماری یہ ہوگی کہ میرے اللہ کو پسند ہے تو یقیناً اس کا فائدہ ہوگا۔
نبیﷺ کا سامانِ سفر
سفر میں سُرمہ اور سُرمہ دانی آپﷺ کے ساتھ رہتا تھا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ پانچ چیزیں نبیﷺ اپنے ساتھ رکھتے تھے، سفر میں بھی اور حضر میں بھی: (۱) آئینہ (۲) سُرمہ دانی (۳) کنگھی (۴) تیل (۵) مسواک۔ یہ پانچ چیزیں نبیﷺ کے ساتھ سفر میں ہوتی تھیں۔ (صحیح بخاری)
ایک روایت میں قینچی کا بھی ذکر ہے۔ اور ایک روایت میں کمر وغیرہ کھجانے کے لیے خاص لکڑی کا بھی ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں پیش آنے والی چیزوں کو ساتھ رکھنا مسنون عمل ہے۔ اس سے آدمی خود بھی تکلیف سے بچتا ہے اور دوسروں سے مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی تو ان کو بھی تکلیف نہیں ہوتی۔
اس کے بعد کچھ بات انگوٹھی سے متعلق عرض کرتے ہیں۔ انگوٹھی نبیﷺ نے پہنی ہے۔ اب ہمارے لیے اس میں کیا حکم ہے؟ چند باتیں سُن لیں۔
نبی کریمﷺ کی انگوٹھی
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اُس پر تین سطروں میں ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ نقش کروایا۔ (صحیح بخاری: رقم 3106)
ایک حدیث میں ہے کہ آقاﷺ کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اُس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ دوسری روایت کے مطابق انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی تھا۔
(صحیح بخاری بروایت ابن عمرi)
ملا علی قاریm نے شرح شمائل میں لکھا ہے کہ آپﷺ کی مختلف انگوٹھیاں تھی یعنی ایک چاندی کی بھی تھی جس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا، اور ایک چاندی کی تھی اور جس کا نگینہ حبشی تھا۔ (نسائی: 277/2)
علماء نے لکھا ہے کہ حبشی نگینے کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ پتھر ایسا ہو جو حبشہ سے آیا ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کو بنانے والا حبشی ہو۔ بہرحال چاندی کی انگوٹھی تھی۔
ایک ممانعت
آپﷺ نے صحابۂ کرام کو انگوٹھی پر ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ نقش کروانے سے منع فرمایا تھا۔ اُس کی وجہ کیا تھی؟ آپﷺ جو خطوط بادشاہوں کو بھیجتے یا سرداروں کو بھیجتے، اسی انگوٹھی سے اس پر مہر ثبت فرماتے تھے۔ اس لیے کہیں اشتباہ نہ ہو جائے۔ صحابہ تو کمالِ اتباع والے تھے، ایک ایک چیز میں آپﷺ کی اتباع کیا کرتے تھے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق نبیﷺ نے انگوٹھی جو پہنی وہ اس وجہ سے کہ جب غیر عرب بادشاہوں مثلاً قیصرِ روم، شاہِ ایران کسریٰ اور دیگر عجمی بادشاہوں کو دعوت اِلی اللہ کے لیے خطوط لکھنے کا ارادہ کیا اور انہیں لکھا کہ میں اللہ کا نبی ہوں، اسلام کو قبول کرو سلامتی پاؤ گے۔ نبیﷺ کو بتلایا گیا کہ عجمی بادشاہ کسی ایسے خط کو قبول نہیں کرتے جس پر مہر نہ ہو۔ اس وجہ سے نبیﷺ نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس پر ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ نقش کروایا۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ گویا اُس کی چمک میں آج بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبیﷺ کی انگلی میں جو انگوٹھی ہے وہ چمک رہی ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4226)
انگوٹھی پہننے کے آداب
سوال یہ ہے کہ انگوٹھی کس ہاتھ میں پہننا سنت ہے؟ دونوں باتیں ہیں، بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں یا دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں۔ دونوں کے بارے میں روایات مشہور ہیں۔ اسی طرح پیتل، اسٹیل، لوہے کی انگوٹھی کے بارے میں بات سن لیجیے جیسے کہ آج کل آرہی ہے۔ جیولری ایک تو سونا اور چاندی کی ہوتی ہے،اور دوسر ی دھات کی بھی ہوتی ہیں۔ اس بارے میں ذرا عورتیں خاص طور سے اس مسئلے کو سمجھیں۔
حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اُس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی، آپﷺ نےارشاد فرمایا: کیا بات ہے کہ میں بت کی بو تم میں پاتا ہوں۔ چناںچہ اس نے اسے پھینک دیا۔ اس کے بعد دوبارہ آیا تو اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے میں تم پر جہنمیوں کا زیور پاتا ہوں۔ (ابو دائود:صفحہ 580)
حضرت عبداللہ بن عمر ایک دفعہ سونے کی انگوٹھی پہن کر آئے، نبیﷺ نے دیکھا تو کراہت محسوس کی۔ انہوں نے ہاتھ سے نکال دی اور لوہے کی انگوٹھی پہنی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ تو اور بھی بُری ہے‘‘۔ چناںچہ انہوں نے اُسے بھی اُتار ڈالا اور پھر چاندی کی پہنی تو نبیﷺ خاموش رہے۔ (عمدۃ القاری: 32/22)
علماء نے لکھا ہے کہ چاندی کے علاوہ کوئی اور انگوٹھی پہننا مردوں کے لیے منع ہے۔ اسٹیل اور لوہے کی انگوٹھی بھی مکروہ ہے کہ وہ دوزخیوں کا زیور ہے۔ بعض لوگ اسٹیل کی Ring پہن لیتے ہیں تو یہ بتایا کہ یہ اہلِ جہنم کا زیور ہے، اس کو مت پہنو۔
انگوٹھی پر نقش کروانا
بعض صحابہ نے انگوٹھیاں پہنی ہیں، اور اس پر مختلف کلمات نقش بھی کروائے ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ کی انگوٹھی پر الحمدللہ لکھا ہوا تھا۔ اگر اللہ سبحانہٗ کا نام لکھا ہو اور بیت الخلاء جانا ہے تو انگوٹھی اتار کر جائے۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ نبیﷺ جب بیت الخلاء تشریف لے جاتے تو انگوٹھی اُتار دیا کرتے تھے۔ (نسائی: 289/2)
ایک اور بات اس کے متعلق یہ ہے کہ اگر انگوٹھی پر کچھ لکھا ہوا ہے تو اس میں نبیﷺ کی سنت یہ ہے کہ آپﷺ اپنی انگوٹھی کا نگینہ اپنی ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے، کیوںکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لکھا ہوتا تھا۔ یہ اسمِ جلالہ کا احترام ہے اور آپﷺ کا یہ عمل تھا۔
سونے کی انگوٹھی پہننے کی ممانعت
سونے کی انگوٹھی مردوں کے لیے حرام ہے۔ سیدنا علی سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے سونے کی انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ہے۔ (ابن ماجہ: صفحہ256)
انگوٹھی کا عجیب واقعہ
حضرت اَنس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی مبارک انگوٹھی آپﷺ کی زندگی تک تو آپﷺ کے پاس ہی رہی۔ نبیﷺ کے پردہ فرمانے کے بعد سیدنا صدیقِ اکبر کے پاس رہی اور وہ اسے استعمال فرماتے رہے۔ اُن کے بعد سیدنا عمر فاروق کے ہاتھ میں رہی۔ جب وہ بھی اس دنیا سے تشریف لے گئے اور سیدنا عثمان غنی کا زمانہ آگیا تو وہ انگوٹھی حضرت عثمان غنی کے پاس آگئی۔ چھ سال تک اُن کے پاس رہی۔ ایک مرتبہ حضرت عثمان غنی بیرِ اَریس (کنویں کا نام) جو مسجدِ قبا کے مغربی جانب بالکل قریب ہی تھا، وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور محبت سے انگوٹھی کبھی پہن رہے تھے اور کبھی اُتار رہے تھے کہ اسی دوران وہ انگوٹھی ہاتھ سے گری اور کنویں میں چلی گئی۔ (بیرِ اَریس مسجدِ قبا کے پاس کنواں تھا، اب نہیں ہے شاید مسجد کی حدود میں شامل ہوگیا ہے) بہرحال بہت تلاش کیا مگر نہیں ملی۔ تین دن تک مسلسل تلاش کیا گیا، سارا پانی نکال لیا گیا مگر نہیں ملی۔ (بخاری: رقم 5879)
انگوٹھی کیوں تلاش کروائی؟
سوال یہ ہے کہ تین دن تک انگوٹھی کو تلاش کیوں کیا گیا؟ اس کے لیے اتنے خرچے کیے گئے۔ اتنے خرچہ میں تو نئی انگوٹھی بن سکتی تھی۔ سارا کنواں پانی سے خالی کرا گیا۔ راوی حدیث حضرت انس فرماتے ہیں کہ ہم نے تین دن تک امیر المؤمنین کے ساتھ اس کنویں پر آ کر انگوٹھی کو تلاش کیا، مگر نہیں ملی۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں مذکورہ حدیث کی شرح میں ہے کہ یہ صرف اس لیے تھا کہ وہ برکت والی انگوٹھی تھی اور نبیﷺ کی یادگار تھی، اگر یہ بات نہ ہوتی تو اپنی انگوٹھی کے لیے یہ سب نہ کرتے۔ چناںچہ علماء نے لکھا ہے کہ اس انگوٹھی کی برکات بہت زیادہ تھیں۔ جب تک یہ انگوٹھی موجود رہی اُمت کے اندر کوئی فتنہ کھڑا نہیں ہوا، اگر کھڑا ہوا بھی تو وقتی طور پر پھر ختم ہوگیا۔ حضرت عثمان غنی کے ابتدائی چھ سال بہت عمدہ چلے، جب یہ انگوٹھی گری تو اگلے چھ سال زمانہ خلافت میں فتنے کھڑے ہوگئے اور خوارج کا فتنہ ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ اس فتنے میں خود حضرت عثمان غنی شہید ہوگئے۔ (فتح الباری:375/13)
بہرحال اس واقعہ سے ایک بات یہ ملتی ہے کہ جو بڑوں کی یادگار چیزیں ہیں، اُنہیں برکت کے طور پر اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ مذکورہ واقعے سے اس کی گنجایش نکلتی ہے۔
اس کے بعد ایک بہت ہی اہم موضوع شروع ہو رہا ہے اور وہ ہے حضور پاکﷺ کے مبارک بالوں کی کیفیت۔ آپﷺ کے بال مبارک کیسے ہوتے تھے؟ اس کے بارے میں بھی چند باتیں ملاحظہ فرما لیں۔
کفار سے مشابہت پر وعید
حدیث مبارک میں آتا ہے:
مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ. (سنن أبي داود: رقم 3512)
ترجمہ: ’’جو جس قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا، قیامت کے دن اُنہی کے ساتھ اُٹھایا جائے گا‘‘۔
اب آج کل ہم اپنے بال کس طرح رکھتے ہیں؟ عجیب عجیب بال ہوگئے ہیں۔ کھڑے ہوئے بال اور پتا نہیں کون کون سے بال رکھتے ہیں، حالاںکہ اس طرح کے بال جن کی نسبت سے رکھ رہے ہیں، اگر حدیث کو سامنے رکھیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ  انگریزوں کی طرح بال رکھنے پر قیامت کے دن اُنہی کے ساتھ کھڑا کر دیا جائے۔ اور صرف بالوں کو انگریز اور کفار کے طریقے پر رکھنے کی وجہ سے ہم قیامت کے دن نبیﷺ سے دور ہوجائیں۔ یہ بہت ہی غور کرنے کی باتیں ہیں۔
نبی کریمﷺ کے بال مبارک
حضرت اَنس فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کے بال مبارک نصف کانوں تک ہوتے تھے یعنی آدھے کانوں تک۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ کان کی لَوتک ہوتے تھے۔ ایک حدیث میں یہ ہے کہ نبیﷺ کے بال بہت زیادہ یعنی کثرت سے تھے اور بہت زیادہ خوش نما تھے۔ (صحیح بخاری: 768/1)
حضرت علی آپﷺ کا حلیۂ مبارکہ بیان فرماتے ہیں کہ آپﷺ بڑے سر والے اور بڑی آنکھوں والے تھے۔ (مسند احمد: 101,89/1)
علماء نے فرمایا کہ جب نبیﷺ بال تراش لیتے تو کان کی لَو تک ہوتے تھے، اور جب چھوڑ دیتے تو گردن تک آجاتے تھے۔ جس صحابی نے جس طرح دیکھا اُسی طرح روایت فرما دی۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ جو حضرات پٹے رکھتے ہیں، اُن کو بالوں کی مسنون مقدار رکھنی ضروری ہے:
(۱) کان کی لَو
(۲) کان کے قریب
(۳) کندھے سے قریب ، لیکن اس سے نیچے نہ آئیں۔
کندھے سے نیچے آجانا یہ نبیﷺ کی سنت کے خلاف ہے۔ آپﷺ کے بال مبارک بہت کرلی (گھنگریالے) دار نہ تھے۔ ان میں ہلکا ساگھنگریالہ پن تھا اور پیچیدار تھے۔ نبیﷺ کی عادتِ طیبہ بال رکھنے کی تھی، حلق کرانے کی نہیں تھی۔
بال منڈوانا
ابن القیم نے زاد المعاد میں ذکر فرمایا ہے کہ نبیﷺ صرف حج اور عمرے کے موقع پر حلق کروایا کرتے تھے۔ حلق جس کو ہم گنجا ہونا کہتے ہیں۔
علامہ سخاوی نے بیان کیا ہے کہ ہجرت کے بعد نبیﷺ نے صرف چار مرتبہ حلق کروایا یعنی سر منڈوایا جس کو گنجا ہونا کہتے ہیں:
(۱) حدیبیہ کے موقع پر جب اِحرام باندھ کرگئے تھے، اور کفارِ قریش نے عمرہ نہیں کرنے دیا۔ چناںچہ اللہ کے حکم سے جانور قربان کرکے حلق کروایا اور اِحرام کھول دیا تھا۔
(۲) عمرۃ القضاء کے موقع پر۔
(۳) جِعِرَّانہ مقام سے آپﷺ نے اِحرام باندھا اور عمرہ کے لیے تشریف لے گئے اور حلق کروایا۔
(۴) حج کے موقع پر حلق کروایا۔
اس کے علاوہ میں نبیﷺ سے سر منڈوانا ثابت نہیں ہے۔ اور عام طور سے یہی عادت صحابہ کی رہی اور یہی عادت تابعین کی بھی رہی۔
بالوں کا خیال رکھنا
حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ آقاﷺ نے فرمایا:
مَنْ کَانَ لَہٗ شَعْرٌ فَلْیُکْرِمْہٗ. (سنن أبي داود: رقم 3632)
ترجمہ: ’’جسے اللہ تعالیٰ بال عطا فرمائے، اسے چاہیے کہ اپنے بالوں کا اِکرام کرے‘‘۔
ابتدا میں نبیﷺ بالوں سے مانگ نکالا کرتے تھے، بعد میں اگر خود سے نکل جاتی تو رہنے دیتے، نہ نکلتی تو اپنی حالت پر درست کرکے چھوڑ دیتے، زبردستی نہ نکالتے تھے۔ دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی مبارک پر کوئی نظر ڈالتا تو بالکل Center سے مانگ نکلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ (شرح السنّہ للبغوی: رقم 3705)
تو درمیان سے مانگ نکال سکتے ہیں، لیکن دائیں طرف سے، اور بائیں طرف سے مانگ نکالنا یہ خلافِ سنت ہے۔
بال کیسے منڈوائے جائیں؟
اگر انسان عمرہ کرنے کے بعد حلق کروائے تو اُس کے بارے میں سنت کیا ہے؟ مرد حضرات نظر ڈال لیں کہ الحمدللہ! حج پر جاتے ہیں، عمرہ پر جاتے ہیں۔ اب یہ کیسے کروانا ہے؟
حضرت اَنس سے روایت ہے کہ آپﷺ حج کے موقع پر جب رمی جمار سے فارغ ہوئے، قربانی سے فارغ ہوئے، اور ضرورت کی چیزوں سے فارغ ہوئے تو آپﷺ نے حلق کروایا یعنی سر منڈوایا۔ حجام کو بلوایا تو آپﷺ نے اپنے سر مبارک کا پہلے دایاں حصہ پیش کیا یعنی دائیں طرف سے شروع کیا۔
آج کل بہت سے لوگ بائیں طرف سے شروع کردیتے ہیں، کوئی بیچ سے شروع کر دیتا ہے تو سنت دائیں طرف سے کروانا ہے۔ یہ کروانے والے کے لیے اور کرنے والے نائی یعنی دونوں کے لیے ہے۔
جب حجام نے حضورﷺ کے دائیں طرف سے بال مونڈے تو آپ نے یہ بال حضرت ابو طلحہ انصاری کو عطا فرمائے۔ پھر آپﷺ نے اپنا بائیاں رُخ پیش کیا یعنی بائیں جانب سے کہا۔ حجام نے بائیں جانب کے بال مونڈے تو نبیﷺ نے وہ بال بھی حضرت ابو طلحہ انصاری کو دیے اور فرمایا کہ لوگوں میں تقسیم کر دو۔ چناںچہ لوگوں میں ایک ایک دو دو بال تقسیم کردیے گئے اور آج بھی اُمت میں الحمدللہ! یہ بال مبارک مختلف جگہوں میں، ملکوں میں، بلکہ پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ (مسلم: 491/1)
بالوں میں کنگھی کرنا
حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے پوچھا کہ کیا میں اپنے بالوں میں کنگھی کروں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں! ان کا خیال رکھو اور ان میں روزانہ کنگھی کرو۔ (سنن نسائی)
ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ بالوں کے اِکرام کا مطلب یہ ہے کہ انہیں صاف رکھے، دھوئے، تیل لگا کر رکھے، خشک اور گندا نہ رکھے۔ حسبِ ضرورت کنگھی کرنا جائز ہے۔
حضرت عطاء بن یسار کی مرسل روایت میں ہے کہ نبیﷺ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی پرا گندہ بال اور داڑھی کے ساتھ آیا۔ نبیﷺ نے اُ سے اشارہ کیا کہ اپنی حالت درست کرکے آؤ۔ چناںچہ وہ کچھ ہی دیر میں اپنی حالت درست کرکے آیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا یہ اس سے بہتر نہیں ہے کہ تم میں سے کوئی آئے اور اُس کے بال بکھرے ہوئے ہوں گویا دیکھنے میں شیطان ہے۔
(موطأ مالک: رقم 1494)
اسی وجہ سے بالوں کو صاف رکھنا سنت ہے۔ بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ گندا رہنا سنت ہے۔ بڑے بڑے بال رکھے ہوتے ہیں اور تیل بھی نہیں لگاتے اور اپنے آپ کو اللہ کا ولی سمجھ رہے ہوتے ہیں، انہیں نبیﷺ کی بات سمجھ لینی چاہیے۔
بالوں میں تیل لگانا
حضرت جابر بن عبداللہi فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے ایک گندے بالوں والے شخص کو دیکھا تو فرمایا کہ ’’کیا اس کے پاس کوئی ایسی چیز (تیل) نہیں کہ اپنے بالوں کو سنوار لے، انہیں سیدھا کرلے‘‘۔ (سنن ابی داؤد: رقم 3540)
حضرت اَنس سے مروی ہے کہ آپﷺ کثرت سے تیل لگاتے اور پانی سے داڑھی کو سنوارتے تھے۔ (شعب الایمان: 226/5)
ایک صحابی سے یہ منقول ہے کہ وہ بسااوقات دن میں دومرتبہ بھی تیل لگالیتے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیل کی کثرت خلافِ سنت نہیں، البتہ بالوں کو ہروقت سنوارتے رہنا اور Styleدِکھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ جو علمیمشغلے والے لوگ ہیں اُن کے لیے بہت ضروری ہے کہ دماغ میں خشکی پیدا نہ ہو۔ تیل لگانے سے دماغ تر وتازہ رہتا ہے اور قوی رہتا ہے۔ تو اہلِ علم اور اہلِ فکر کے لیے تیل کا استعمال بہت اہم ہے۔
ختمِ نبوّت کی دلیل
حیرت ہوتی ہے کہ صحابۂ کرام نبیﷺ کو کتنا دیکھتے تھے۔ ایک ایک بات نبیﷺ کی کتابوں میں موجود ہے۔ دیکھیں! آخری نبیﷺ ہیں، کوئی نبی ان کے بعد قیامت تک نہیں آنا۔ اللہ تعالیٰ نے صحابۂ کرامj کے دلوں میں ایسی محبت اور ایسی اتباع دے دی کہ آپﷺ کی ایک ایک بات کو انہوں نے محسوس کیا، سمجھا، یاد کیا، اپنی زندگی میں عمل میں لائے اور کتابوں میں لکھ کر آگے چلے، آگے روایت کیا۔ ایک کے بعد دوسرے کو بتایا۔ صحابہ نے تابعین کو بتایا، تابعین نے تبع تابعین کو بتایا اور آگے یہ سلسلہ چلتے چلتے ہم تک پہنچا، اور اِن شاء اللہ اسی طرح قیامت تک چلتا رہے گا، کیوںکہ نبیﷺ کی نبوت قیامت تک کے لیے ہے، اسی لیے نبیﷺ کی پوری زندگی کو قیامت تک کے لیے اللہ نے محفوظ فرمادیا۔ اللہ اکبر کبیرا!
بھئی! تیل تو لگانا ہی ہے۔ اگر ہم تھوڑا سا سیکھ کر سنت کے مطابق لگالیں تو بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی۔ سبحان اللہ!
تیل لگانے کا مسنون طریقہ
اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپﷺ تیل لگاتے تو اُس کو پہلے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھتے، پھر دونوں بھنوؤں پر لگاتے، پھر آنکھوں پر لگاتے، پھر سر پر لگاتے۔ (کنز: 74/7)
حضرت ابنِ عباسi سے روایت ہے کہ آپﷺ جبتیل لگاتے تو اُسے ہاتھ پر رکھ دیتے، پھر داڑھی اور سر پر لگاتے۔ (مجمع: 165/5)
ایک روایت میں ہے کہ تم میں سے جو تیل لگائے تو بھنوؤں سے شروع کرے، اس سے سر کا درد دُور ہوجاتا ہے۔
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ نبیﷺ فرماتے ہیں کہ تیل کی ابتدا پیشانی سے کرو۔ (سیرۃ: 574/7)
یہاں چند باتیں جمع ہوگئی ہیں:
(۱) بائیں ہاتھ پر تیل رکھنا
(۲) ابتدا بھنوؤں سے کرنا۔ پہلے دائیں طرف، پھر بائیں طرف۔
(۳) داڑھی پر لگانا۔
(۴) سر پر لگانا۔
سر پر لگانا ہو تو پیشانی سے شروع کیا جائے۔ سر کے کئی اَطراف ہیں جہاں سے شروع کیا جاسکتا ہے۔ پیچھے سے، کانوں سے، گردن کی طرف سے، بائیں طرف سے وغیرہ، لیکن نبیﷺ جب تیل لگاتے تو سامنے پیشانی مبارک پر سے لگانا شروع کرتے۔
چند باتیں اور بھی ہیں تیل لگانے کے بارے میں، وہ بھی ساتھ ہی یاد کر لیجیے۔
(۱) تیل لگاتے وقت بسم اللہ پڑھنا۔ حضرت مَسْلمہ بن نافع قرشی فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے بھائی حضرت دوید بن نافع قرشی نےبیان کیا کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی تیل لگائے اور بسم اللہ نہ پڑھے تو 70 شیطان اُس کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں۔(عمل الیوم واللیلۃ لابن السني: باب التسمیۃ إذا دھن)
اس لیے انسان جب تیل لگائے تو بسم اللہ ساتھ میں پڑھ لے۔
(۲) بیوی کو چاہیے کہ اپنے خاوند کو تیل لگائے۔ اُمّ المؤمنین امی عائشہ فرماتی ہیں کہ میں حضورِ پاکﷺ کے بالوں میں کنگھی کرتی تھی جبکہ میں حالتِ حیض میں ہوتی تھی۔ (صحیح بخاری: رقم 291)
بیوی کا شوہر کی خدمت کرنا
یہاں سے علماء نے مسئلہ ثابت کیا کہ حائضہ عورت بھی مرد کی خدمت کرسکتی ہے۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کی شان اور خوبی ہے کہ وہ خاوند کی خدمت کرے، اُس کے لیے بستر بچھائے، وضو اور غسل کے لیے پانی رکھے۔ نبیﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ جب آپﷺ تہجد کے لیے اُٹھتے تو اُمہات المؤمنین جن چیزوں کی آپﷺ کو ضرورت ہوتی اُن کا اہتمام رات ہی کو کر لیا کرتی تھیں۔ پینے کے پانی کی، وضو کے پانی کی ، مصلّٰی یہ سب رات ہی کو جمع کیا جاتا۔ مسواک کی ضرورت ہوتی وہ قریب رکھ دی جاتی۔ چناںچہ جس جس چیز کی ضرورت ہوتی وہ رات کو ہی رکھ دی جاتی تھی تاکہ جس وقت نبیﷺ رات میں اُٹھیں تو ضرورت کی ہر چیز موجود ہو۔ یہ عورتوں کے وہ اَعمال ہیں جو انہیں جنت میں لے جائیں گے۔
حضرت اَنس فرماتے ہیں کہ نبیﷺ کے لیے مسواک، وضو کا پانی، کنگھی رکھ دی جاتی تھی۔ پھر جب اللہ آپﷺ کو بیدار فرماتا تو آپﷺ مسواک فرماتے، وضو فرماتے اور کنگھی فرماتے۔ کنگھی کی بات اِن شاء اللہ اگلے جمعہ کو ہوگی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حضورِ پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو شوق اور محبت سے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اور ہماری اولادوں کو اتباعِ سنت کی توفیق عطا فرمائے، اور سنتوں کو سیکھ کر عمل کرنے اور آگے پہنچانے کی بھی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا أَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply