45

روزہ اور جدید میڈیکل مسائل

روزہ اور جدید میڈیکل مسائل

برائے ڈاکٹر حکیم ، میڈیکل اسٹور اور مریض حضرات وائمہ کرام کے لئے )

روزہ کے حوالے سے یہ چند جدید میڈیکل مسائل ہیں جو آپ کی خدمت میں پیش ہیں تاکہ آپ کے علم میں رہے کہ کن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ہے اور کن چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتاتاکہ ہم مریض حضرات کو گائیڈ کرسکیں یہ یاد رہے کہ رمضان کے روزے کے بدلے اگر کوئی پوری زندگی روزے رکھے تو رمضان کے روزے کےثواب کے برابرنہیں ہوسکتا

(1) آنکھ میں دوا ڈالنا

آنکھ میں دواڈالنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا اگرچہ اس کا مزہ گلے میں محسوس ہو۔ البتہ

ناک میں دواڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

(2) انجکشن لگوانا , خون لگوانا

روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے یا گلوکوز کی بوتل ایمرجنسی کی صورت(ڈرپ ) لگوانے یا خون لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگرچہ وہ انجکشن i/V ( رگ میں ) یا I.M ( گوشت میں ) لگوایا جائے ۔

(3) انہیلر, آکسیجن , کا استعمال,

روزے کی حالت میں دمہ کا مریض انہیلر کا استعمال کرے یا پھیپھڑوں کی تکلیف میں نیبولائزر استعمال کرے یا c,cu.,میں مریض کو آکسیجن دواسمیت کےا ستعمال سے روزٹوٹ جاتا ہے لیکن آکسیجن بغیر دواکےا ستعمال کی جائے تو روزہ نہیں ٹوٹتا ۔

(4)مسواک کا استعمال,

مسواک کا استعمال روزے کی حالت میں جائز ہے ۔

(5) ٹوٹھ پیسٹ وغیرہ,

لیکن ٹوتھ پیسٹ ، موتھ واش، لسڑین ، گلے کے ڈراپس ، گلیسرین استعمال کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے ۔ بہتریہ ہے کہ یہ چیزیں افطاری کے بعدا ستعمال کروائی جائیں ۔

(6) نسوار, پان وغیرہ

نسوار، گٹکا ،س پاری ، زبان کے نیچے دل کی تقویت کی گولی یازبان کے نیچے سپرے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

(7) روزے میں دانت نکلوانا

روزے میں دانت نکلوانا یا دانت پر دوا لگوانے میں غالب گمان ہے کہ وہ دوائی گلے میں جائے گی تو ا س سے روزہ ٹوٹ جائے گا بہتر یہ ہے کہ یہ کام مغرب کے بعد کیاجائے ۔

(8) انڈوسکوپی یا انجیوگرافی ,

انڈوسکوپی یا انجیو گرافی جس میں صرف کیمرہ ڈال کر پیٹ ، آنتوں ، دل کا معائنہ کیاجاتاہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن اگر اس کے ساتھ دوا بھی داخل کی جائے توروزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

(9) ٹیسٹ کے لئے سیمپل لینا ,یاخون نکالنے کے لئے کینولا لگوانا

ٹیسٹ وغیرہ کے لیے جو خون کا سیمپل لیاجاتا ہے یا کینولا پاس کرنے کے لیے جو خون نکالاجاتاہے یا شوگر چیک کرنے کے لیے جو خون نکالاجاتاہے یاکسی کو خون کا عطیہ کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن خون عطیہ کرنےسےا گر کمزوری ہونے کا خطرہ ہوتو جس سے روزہ رکھنے کی طاقت نہ رہے تویہ مکروہ ہے لیکن ان سب صورتوں میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ,

( 10) نکسیر

روزے کی حالت میں نکسیر پھوٹنے سے یا رگ پھٹ جانے سے جوخون بہتا ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن اگر وہ بہتا ہوا خون ہے تو وضوٹوٹ جاتا ہے اگر جماہوا خون ہے تو وضونہیں ٹوٹتا

(11) قے (الٹی ) کا ہونا

روزے میں قے ( الٹی ) ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگر چہ منہ بھر کرہولیکن اگر اس کو دبارہ نگل لیاتوروزہ ٹوٹ جائے گا اور صرف قضا ( ایک دن کا روزہ رکھنا پڑےگا ) کفارہ نہیں لیکن اگر وہ خودبخود واپس چلی گئی توروزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ا گر خود قے کی یا کروائی توروزہ ٹوٹ جائے گا۔

(12) الٹرا ساونڈ ,ایکسرے, سیمین ٹیسٹ وغیرہ

الٹراساؤنڈ کروانے سےا یکسرے ،ا یم ، آئی ،آر ، سٹی اسکین ،ا ی سی جی ، ای ٹی ٹی وغیرہ کروانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
نیز
روزے کی حالت میں سیمین ٹیسٹ کروانے سے روزہ ٹوٹ جاتاہے

(13) مردوعورت کو خواب میں احتلام ہوجانے کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹتاہے۔

(14)

پیشاب بند ہونے کی وجہ سے پیشاب کے راستے سے نلکی داخل کرکے پیشاب نکالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

بعض عورتیں اپنی مختلف بیماریوں کیو جہ سے شرم گاہ میں دوایا گولی رکھتی ہیں جس سےروزہ ٹوٹ جاتاہے ۔ا گر کسی وجہ سے ضرورت ہوتومغرب کے بعد ا س کو استعمال کریں ۔

(14) زہریلی چیز جیسے ( سابنپ ، بچھو، بھڑ ) وغیرہ کے ڈس لینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

(15) مرگی کادورہ

مرگی کے مریض کوروزے کی حالت میں دورہ پڑجائے یا روزہ دار بے ہوش ہوجائے یاروزہ دار پاگل ہوجائے توروزہ نہیں ٹوٹتا۔

(16)ڈائلیسز

ڈائیلیسز ( گردے کی صفائی سے روزہ نہیں ٹوٹتا

(17) وکس کا استعمال

جسم پر وکس ، وینٹوجینواور ڈکلوران جل سے مالش کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

(18 ) شوگر

شوگر کے مریض جن کی شوگر لواور ہائی ہوتی ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتایہ دونوں مریض بھی روزہ رکھ سکتے ہیں ۔ا س کا طریقہ یہ ہے کہ یہ حضرات رات کو بیدار رہ کر کھاپی لیں اور دن کو سوجائیں ۔ ظہر کے وقت بیدار وہوکر غسل کریں اور نماز ظہر اداکریں پھر تلاوت کریں ۔ اپنا زیادہ وقت ائیرکولر اور ائیر کنڈیشن کے سامنے گزاریں ۔ عصر کے وقت پھر غسل کرلیں پھر افطاری کے معاملات میں مصروف ہوجائیں ان شاء اللہ آپ آسانی کے ساتھ روزہ رکھ سکیں گے۔ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دودھ سپرائیٹ یا ستواور دودھ کا استعمال انتہائی مفید ہے ۔

(19) روزہ کن حالات میں توڑا جاسکتا یے

روزہ توڑنااس حالت میں جائز ہے جب اپنی ہلاکت کایا کسی عضو کے ضائع ہونے کا خطرہ ہویاحاملہ عورت کواپنا یااپنے بچے کونقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتوروزہ توڑدینا جائز ہے۔ چاہے مریض کا خود تجربہ ہویااس کو مسلمان ماہر ڈاکٹر بتائے کہ روزے کونہ توڑنے کی صورت میں نقصان کاخطرہ ہےتوروزےکوتوڑدیناجائزہے، صرف قضاء لازم ہوگی ،عقل مند وہ آدمی ہے جو کسی کی دنیا کی بہتری کے لیے اپنی آخرت خراب نہ کرے ، کسی انسان کی معمولی خوشی کے لیے الہ تعالیٰ کو ہرگز ناراض نہ کریں ،اللہ ہم سب کوآسانیاں بانٹنے والا بنادے ۔

چند مزید وضاحتیں

(20)آنکھ میں دواڈالنے سے توروزہ نہیں ٹوٹتا ۔
لیکن روزے کے دوران کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ، ہمارے جامعہ کا فتوی اب بھی یہی ہے، نیز کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ اسی طرح لکھا ہے۔ چناں چہ ”فتاوی ہندیہ” میں ہے:

الفتاوى الهندية (1/ 204)

”ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنه دهناً أفطر، ولا كفارة عليه، هكذا في الهداية”۔فقط واللہ اعلم

(21) مسواک کا استعمال ,

روزے کی حالت میں مسواک کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے، جہاں تک روزے کی حالت میں توتھ پیسٹ ، ماوتھ واش، لسٹرین ،بنجیلا، گلے کے ڈراپس اور گلسرین استعمال کرنے کا تعلق ہے تو اگر ان چیزوں کے استعمال سے ان کے کچھ اجزاء لعاب میں شامل ہوکر حلق میں چلے جائیں توروزہ ٹوٹ جائے گا ، لیکن اگر ان چیزوں کے
اجزاء حلق میں نہیں گئے تو روزہ اگرچہ نہیں ٹوٹے گا ، تاہم بلاضرورت روزے میں ان چیزوں کا استعمال مکروہ ہے اس لئےان سے اجتناب کیاجائے اور رات کو ان کا استعمال کیاجائے ( جواہر الفقہ 3/518)

(22) انڈوسکوپی سے متعلق تفصیل ,

انڈوسکوپی میں ہماری معلومات کے مطابق پیٹ ، آنتوں اور دل وغیرہ کے معائنہ کے لیے کیمرہ استعمال کرتےوقت عام طور پر کیمرے پر منہ کے راستے سے پانی وغیرہ ڈالاجاتا ہے تاکہ کیمرہ کے گلے سے گزر کر بدن کے متعلقہ حصے پر پہنچنے تک کیمرے پر بدن کی جواندرونی رطوبات لگ گئی ہوں وہ صاف ہوجائیں ۔ا س تفصیل کی روشنی میں روزے کی حالت میں انڈوسکوپی کرانے سے روزہ ٹوٹ جائیگا اورا س روزے کی قضاء لازم ہوگی ۔ا س لیے بوقت ضرورت یہ عمل رات کو کیاجائے ۔

(23) انجیو گرافی

انجیوگرافی ہماری معلومات کے مطابق چونکہ ران کی رگ میں تار ڈال کر کی جاتی ہے ،ا ور رگ کے ذریعے جسم میں دواڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا لہذا انجیوگرافی میں دوااستعمال کرنے کی صورت میں بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

قے سے متعلق تفصیل

” اگر خود قے کی یا کروائی توروزہ ٹوٹ جائے گا”توا س میں روزہ اس وقت ٹوٹے گا جب قے منہ بھر کر ہو۔

(24)ای ٹی ٹی ,سے متعلق تفصیل

ای ٹی ٹی

ETT , کے حکم میں تفصیل یہ ہے کیوں کہ ہماری معلومات کے مطابق یہ ایک ٹیوب ہوتی ہے جوآکسیجن دینے کے لیے منہ کے ذریعے سانس کی نالی میں ڈالی جاتی ہے ،ا س میں کبھی دواڈالی جاتی ہے اور کبھی نہیں ڈالی جاتی ، لہذا اس کے استعمال کے وقت اگر اس میں دوا یاپانی وغیرہ ڈالاجائے توروزہ توٹ جائے اگ لیکن اگر اس کے ذریعے صرف آکسیجن دی جائے جس میں کوئی دوا شامل نہ ہو اور کوئی دوایاپانی وغیرہ نہ دیاجائے توایسی صورت میں ETTکے استعمال سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔

25)

مرد کی پیشاب کی جگہ میں نلکی ڈالنےسے مطلقاً روزہ نہیں ٹوٹتا ۔
البتہ عورت کی پیشاب کی جگہ میں اگر خشک نلکی ڈالی جاتی ہے تو اس سےروزہ نہیں ٹوٹے گا ،ا ور اگر نلکی پر کوئی دوائی لگائی جاتی ہےتو اس سے روزہ ٹوٹنے کا مدار اس پر ہے کہ عورت کی اندام نہانی (فرج داخل ) اور معدہ یا آنتوں کے درمیان راستہ ہے یا نہیں ؟ اور اس مسئلہ کا تعلق علم طب اور تشریح الابدان سے ہے ۔
مشائخ حنفیہ ؒ کے نزدیک چونکہ عورت کی اندام نہانی اور معدہ یا آنتوں کے درمیان راستہ ہے اس لیے وہ مذکورہ صورت میں دوائی کے فرج داخل تک پہنچ جانے کی وجہ سے روزہ ٹوٹنے کے قائل ہیں ۔ لیکن چونکہ یہ مسئلہ طبی ہے اورطبی تحقیقی میں تبدیلی آنے کی وجہ سے مذکورہ مسئلے کے حکم کی تبدیلی آسکتی ،ا س لیے اگر عصر حاضر کے ڈاکٹروں کا اس پر اتفاق ہوکہ عورت کی اندام نہانی اور معدہ یا آنتوں کے درمیان راستہ نہیں ہے اور اندام نہانی میں داخل ہونے والی دوایا کوئی اورچیز یقینا ً معدہ یاآنتوں تک نہیں پہنچتی ہے تو ایسی صورت میں عورت کی شرمگاہ میں تر نلکی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔ لیکن کتب فقہ میں انگلی کے گیلا ہونے کی صورت میں(یعنی اگر کسی عورت نے تر انگلی اپنی شرمگاہ میں داخل کی یا کروائی تو) قضا کو واجب قراردیاگیاہے لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ ایک روزے کی قضا کرلی جائے ۔نیز روزے کی حالت میں سخت مجبوری کے علاوہ یہ عمل نہ کیاجائے ۔

( ماخذہ التبویب بتصرف : 825/62)
الفتاوی الھندیہ (1/204)

جدید طبی تحقیق کے مطابق چونکہ عورت کی شرمگاہ اور معدہ اور آنتوں کے درمیان راستہ نہیں ہے اس لیے خواتین کے شرمگاہ میں دوائی رکھنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا تاہم عورت دوا دن میں نہ رکھے ،رات کو رکھے تو زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگر دن میں رکھ لے تو گنجائش ہے ۔

ضابطۃ المطرات ص 95)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب وعلمہ واحکم/

بشکریہ دا رالافتاء , جامعہ دارالعلوم کراچی,

تسھیل وتنقیح,

مفتی محمدعلی قریشی ,

وماعلینا الا البلاغ,

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں