روزے میں تین اہم کام

روزے میں تین اہم کام

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰى مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۱۸۵ (البقرۃ: 185)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

رمضان المبارک اور سورۂ اِخلاص
حضرت علی ارشاد فرماتے تھے کہ اگر اللہ ربّ العزّت نے اس اُمت کو عذاب دینا ہوتا تو اس کو رمضان کا مہینہ اور سورۂ اِخلاص عطا نہ فرماتے۔ اللہ تعالیٰ کا اِرادہ تو خیر اور مغفرت کا ہے۔ اب معاملہ ہم پر ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ ہم مغفرت خداوندی اور رحمتِ الٰہی کے طالب ہیں یا نہیں؟
بہانۂ مغفرت
رمضان المبارک کا مہینہ اس لیے بھی آتا ہے کہ ایمان والوں کے سارے گناہوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دینا چاہتے ہیں۔ اور اس مہینے میں اللہ تعالیٰ بندے کا کوئی بہانہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میرا بندہ کوئی بہانہ ایسا کر دے کہ میں اسے وجہ بنا کر اس کی مغفرت کا فیصلہ کر دوں۔ اور اللہ تعالیٰ کی اتنی مدد انسان کے ساتھ شامل ہوجاتی ہے کہ انسان حیران ہو جاتا ہے۔ ایک طرف تو یہ ہے کہ نفل کا ثواب فرض کے برابر، اور ایک فرض کا ثواب ستر فرائض کے برابر کر دیا جاتا ہے۔ اعمال کا وزن بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف ترغیب دی کہ دیکھو! تراویح پورا مہینہ بیس رکعت پڑھتے رہو گے تو سارے گناہ معاف۔ روزے پورے مہینے کے رکھو گے تو سارے گناہ معاف۔ اور اس کے علاوہ ایک رات ایسی مرحمت فرما دی جس کے بارے میں کہا کہ اگر اس ایک رات میں تم اللہ کی رضا کے لیے عبادت کرلو تو ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ثواب مل جائے گا۔ پھر سحری کے وقت کی دعائیں قبول، افطاری کے وقت کی دعائیں قبول۔ غرض اتنی ساری نعمتیں انسان کو عطا کر دیں کہ وہ اپنی مغفرت کروا لے۔ رات کو آوازیں لگ رہی ہوتی ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا اس کو معاف کر دوں۔ سبحان اللہ! اتنی ساری چیزیں دے دیں۔
شیطان پر پابندی
ایک بات رہ جاتی تھی کہ پیچھے دشمن شیطان لگا ہوا ہے جو انسان کو نیکی پہ آنے نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی پکڑ کے بند کر دیا کہ میرا بندہ اس مغفرت کے موقع سے بھرپور فائدہ اُٹھا لے، کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو یہ معاملہ ہے۔ اتنی برکتوں اور رحمتوں والا معاملہ ہے۔ لیکن ایک بات اور بھی ساتھ میں بتا دی کہ اتنی رعایتوں کے باوجود اب جو کوئی اس سے اِعراض کرتا ہے، ناقدری کرتا ہے تو وہ سن لیں کہ حضرت محمدﷺ نے فرمایا ہے کہ اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جائے جس کے سامنے رمضان کا گزر گیا اور وہ اپنی مغفرت نہ کروا سکا۔ (سنن ترمذی: رقم 3496)
ہمارے لیے یہی بات ہے کہ ہم نے اس کی برکتیں حاصل کرنی ہیں۔ یہ کوئی optional نہیں ہے۔ مغفرت کو حاصل کرنا لازمی ہے۔ مغفرت نہ کروائی تو بربادی کے فیصلے ہو سکتے ہیں۔اللہ ہماری حفاظت فرمائے۔
تین اَعمال میں زیادہ محنت
مختصر یہ کہ ہمیں رمضان میں کیا کرنا چاہیے؟ اس مہینے کی آج پہلی شب، پہلی رات ہے۔ اس میں اعمالِ رمضان کا مختصر سا خاکہ پیش کیا جائے گا۔ حضراتِ صحابۂ کرام فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ رمضان کے مہینے میں تین باتوں میں اضافہ فرما دیتے تھے۔ تین اعمال میں اِضافہ ہو جاتا تھا۔ ان اعمال کی ترتیب تو مجھے یاد نہیں، البتہ وہ تین بڑے اعمال ہیں: (۱) دعا (۲) سخاوت (۳) عبادات۔
دعائیں مانگنا
آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگنے میں بہت اہتمام فرماتے تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ عام حالات میں آپﷺ دعائیں کس طرح مانگتے تھے اور کتنی مانگتے تھے؟ صبح اُٹھتے تو بیت الخلاء جانے کی دعا، گھر سے باہر جانا ہے تو اس کی دعا، گھر واپس آنا ہے تو اس کی دعا، آئینے کو دیکھنا ہے تو اس کی دعا، مسجد میں داخل ہونا ہے تو اس کی دعا، مسجد سے باہر آنا ہے تو اس کی دعا، صبح کی دعائیں الگ، شام کی دعائیں الگ، کسی کو آفت زدہ دیکھا تو دعا، کسی کو خوشی میں دیکھا تو دعا، دن میں اندھیرا آ گیا تو دعا، بارش آگئی تو دعا، کوئی نعمت مل گئی تو دعا، قیامت کا خیال آ گیا تو دعا، اُمت کا خیال آ گیا تو دعا۔ ہر وقت کی اور موقع کے مناسبت سے ہی دعائیں تھیں۔ ماشاء اللہ! یہ تو عام حالات کی دعائیں ہیں اور رمضان میں ان میں اور اضافہ ہو جاتا تھا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ دعاؤں میں، اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں اضافہ کریں۔
دعائیں کیسے مانگیں؟
دعائیں مانگنا بہت آسان سی بات ہے۔ اَذانِ فجر سے پہلے اور اَذانِ مغرب سے پہلے۔ سحری کے وقت اور افطاری کے وقت ٹائم دیکھیں، گھڑی دیکھیں یا اَلارم لگا کے دس منٹ دعائیں مانگیں۔ دس منٹ صبح مانگیں، دس منٹ افطاری کے وقت مانگیں۔ یہ کام اگر ہم کر لیں تو اپنی زبان سے نکلی ہوئی دعاؤں کی قبولیت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ کسی وظیفے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارے پاس اس بات کی گارنٹی ہے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی کہ ان اوقات میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے اِدھر اُدھر جانے کی۔ ہم دونوں ہاتھ اُٹھائیں اور مانگیں اللہ سے۔ سنت بھی یہی ہے۔ آج آدھا گھنٹہ مخلوق کے آگے رونا ہمیں آسان ہے۔ یہ نہیں ہوا، وہ نہیں ہوا، بیٹی کو رشتہ نہیں ملا، بیٹے کی نوکری نہیں لگی، فلاں مسئلہ، یہ مسئلہ وہ مسئلہ۔
دیکھیں! مخلوق کے آگے رونے سے کچھ نہیں ہوتا، وہ خود محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے روز دس منٹ سحری کے وقت فجر کی اذان سے پہلے، روز دس منٹ افطاری کے وقت۔ ایسے کئی مواقع ہمارے پاس ہیں۔ ان تیس دنوں میں جو چاہیں اللہ سے منوا لیں، وہ دے گا۔ بس دس منٹ ہاتھ اُٹھانے ہیں۔ کوئی مشکل نہیں ہے، ہمت کر کے دیکھیں، اللہ آسانی فرما دے گا۔ دعا کا عمل بہت اہم عمل ہے جیسا کہ بات سامنے آئی۔
سخاوت کرنا
نبی کریمﷺ کا وہ عمل جو رمضان المبارک میں بڑھ جاتا تھا، وہ ہے اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنا۔ سخاوت، فیاضی۔ صحابۂ کرام فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی فیاضی اور سخاوت رمضان کے مہینے میں تیز ہوا کے مانند ہو جاتی تھی۔ (زاد المعاد: 32/2)
گویا کہ تیز ہوا چل رہی ہے۔ یہ رمضان المبارک کی برکتیں تھیں جس میں اہتمام بہت زیادہ ہوتا تھا۔ اب غیر رمضان میں کیا کیفیت ہوا کرتی تھی؟ ایک واقعہ ذرا تفصیلی ہے، لیکن بہت نصیحت کا ہے، اس لیے سن لیجیے۔
حضرت بلال اور قرض خواہ مشرک
ایک تابعی عبداللہ ہوزنیفرماتے ہیں کہ میں حضرت بلال خادمِ رسول اللہﷺ سے حلب میں ملا۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ نبی کریمﷺ کی گزر بسر اور اخراجات کی کیا کیفیت تھی؟ کیسے گزارا ہوتا تھا؟ فرمایا کہ وہاں تو کچھ ہوتا ہی نہیں تھا، اور بعثت کے بعد سے نبی کریمﷺ کے آخری وقت تک میں ہی سارا نظام دیکھتا رہا۔ نبی کریمﷺ کے پاس جو مسلمان حاضر ہوتا اور اسے لباس کی ضرورت ہوتی تو آپﷺ مجھے حکم فرما دیا کرتے، میں کہیں سے قرض لے کر اس رقم سے کپڑا خریدتا اور ضرورت مند کو پہنا دیتا۔ کوئی بھوکا آتا، مجھے حکم ہوتا کھلانے کا، میں اس کے کھانے کا بندوبست کرتا۔ الغرض نبی کریمﷺ کے پاس کوئی حاجت مند آتا، اس کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اپنے پاس ہوتا تو اپنے پاس سے دیتے، ورنہ اِدھر اُدھر سے اُدھار لے کر اس کی ضرورت کو پورا فرماتے تھے۔
حضرت بلال فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک مشرک، کافر میرے پاس آیا۔ اسے پتا تھا کہ میں مختلف لوگوں سے قرضے لیتا ہوں اور نبی کریمﷺ کے لیے لیتا ہوں۔ کہنے لگا کہ اے بلال! آپ جو اِدھر اُدھر سے قرضے لیتے ہیں تو سب کو چھوڑو، مجھ سے لے لیا کرو۔ میرے پاس مال کی فراوانی ہے، آپ مجھ سے لے لیا کرو۔ حضرت بلال فرماتے ہیں کہ مجھے بھی آسانی ہوگئی اور میں نے اس سے شروع کر دیا۔ ایک دن میں وضو کرکے اَذان دینے کے لیے کھڑا ہی ہوا تھا کہ وہ مشرک اپنے تاجر دوستوں کے ساتھ آیا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا: او حبشی! میں نے جواب میں کہا کہ جی کہیے، حاضر ہوں۔ پھر اس نے مجھے جھنجھوڑا اور سخت باتیں سنائیں اور کہا کہ مہینہ ختم ہونے میں کتنے دن باقی ہیں؟ میں نے کہا کہ قریب ختم کے ہے۔ کہنے لگا کہ 4 دن باقی ہیں، اگر تم نے اس سے پہلے میرے پیسے ادا نہیں کیے تو تمہیں پھر سے غلام بنا لوں گا، اور پھر اسی طرح بکریاں چراتے پھروگے جیسے کہ پہلے تم بکریاں چراتے تھے۔
یعنی اس نے misbehave کیا بات کی اور چلا گیا۔ حضرت بلال فرماتے ہیں کہ میں پریشان ہو گیا اور طرح طرح کی باتیں میرے دل میں آنے لگیں جیسا کہ ایسے موقع پر لوگوں کے دلوں میں آتی ہیں۔ خیر! عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد میں آقاﷺ کی خدمت میں اجازت لے کر حاضر ہوا۔ عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا، وہ تو مجھے ایسے ایسے کہہ رہا ہے۔ اب آپ کے پاس ابھی فی الفور دینے کے لیے کچھ ہے اور نہ میرے پاس ادا کرنے کا بندوبست ہے۔ اور وہ مجھے رسوا کرے گا، اس لیے آپ مجھے اجازت دے دیں کہ میں مسلمان قبائل میں سے کسی قبیلے والے کے پاس چلا جاتا ہوں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو رزق عطا فرما دیں، اور قرض ادا کرکے مجھے خلاصی مل جائے۔
یہ باتیں عرض کرکے میں اپنے گھر آگیا۔ اپنی تلوار، جرابیں، جوتے اور ڈھال سرہانے رکھ کر لیٹ گیا۔ جب صبح کی پہلی کرن آسمان میں نمودار ہوئی تو میں نے نکلنے کے لیے کمر کَس لی کہ اچانک ایک شخص تیزی کے ساتھ آتا دکھائی دیا جو کہہ رہا تھا کہ اے بلال! تجھے رسول اللہﷺ بلاتے ہیں۔ آقاﷺ کا بلاوا بھلا حضرت بلال کہاں ٹال سکتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ میں حاضرِ خدمت ہوا تو باہر دیکھا کہ چار اُونٹنیاں مال و زر، سامان سے لدی ہوئیں کھڑی ہیں۔ میں نے اندر آنے کی اجازت مانگی، اجازت مل گئی۔ نبی کریمﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم خوش ہوجاؤ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے قرضے کی ادائیگی کا بندوبست کر دیا۔ کیا تم نے آتے ہوئے چار اُونٹنیاں باہر کھڑی نہیں دیکھیں؟ میں نے عرض کیا کہ جی! میں نے دیکھی تھیں۔ فرمایا جنابِ رسول اللہﷺ نے کہ یہ اونٹنیاں اور ان پر رکھا ہوا سارا سامان تمہارے حوالے ہے۔ ان پر کھانے پینے کا سامان اور کپڑے ہیں جوفدک کے حاکم نے بھیجے ہیں۔ یہ سب اب تمہارے حوالے، اس سے قرضہ ادا کرو۔ چناںچہ میں نے سارا قرضہ ادا کر دیا۔
حضرت بلال کہتے ہیں کہ قرضہ ادا کرنے کے بعد میں مسجد آیا تو رسول اللہﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ رسول اللہﷺ نے مجھ سے احوال پوچھے تو میں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کا سارا قرضہ ادا کروا دیا ہے۔ اب کوئی قرضہ ذمہ میں نہیں ہے۔ آپﷺ نے پوچھا کہ کیا اس مال میں سے کچھ بچا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں! کچھ بچا ہے۔ فرمایا: ضرورت مندوں کو دیکھو، اور اسے خرچ کر کے مجھے راحت پہنچاؤ، میں اس وقت تک اپنے گھر نہیں جاؤں گا جب تک تم اس بچے ہوئے کو خرچ کر کے مجھے راحت نہیں پہنچا دیتے۔ یہ بات دن میں ہوئی، عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد آپﷺ نے مجھے بلایا اور احوال پوچھے تو میں نے عرض کیا کہ ابھی بھی کچھ ہے۔ ضرورت مند نہیں آئے۔ چناںچہ آپﷺ نے وہ رات مسجد میں گزاری۔
اگلے دن عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہﷺ نے مجھے پھر بلایا اور احوال دریافت کیے تو میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس مال سے راحت دے دی ہے۔ یعنی سب تقسیم ہوگیا ہے، اب کچھ نہیں بچا۔ یہ سن کر اللہ کے نبیﷺ نے اللہ اکبر کہا اور اس خوشی سے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ہمیں روح مبارک کا پرواز کر جانے کا ڈر لگا۔ انتہائی خوش ہوئے۔ پھر آپﷺ اپنی ازواجِ مطہراتl کے پاس فرداً فرداً تشریف لے گئے۔ حضرت بلال نے یہ واقعہ سنا کر اس پوچھنے والے (عبداللہ ہوزنی) سے کہا کہ یہ وہ قصہ ہے، جو آپ نے مجھ سے دریافت کیا۔
(سنن ابی داؤد: رقم 3055)
یہ عام حالات کی بات تھی۔ پھر رمضان المبارک میں تو رسول اللہﷺ جُود و سخا اور بھی زیادہ کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ رمضان میں اللہ کی راہ میں خوب خرچ کریں۔ رشتہ داروں کو بھی دیں، غریبوں کو بھی دیں، دین کی محنت کرنے والوں کو تلاش کر کر کے دیں۔ دین کے کئی شعبے اس وقت دین کا کام کر رہے ہیں۔ کوئی بھی دین کا شعبہ ہو، ان کی مدد کریں۔ تو دو اعمال آپ کے سامنے آگئے: (۱) دعا (۲) سخاوت۔
تیسرا عمل جس میں رمضان میں اضافہ ہوتا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔
حضور پاکﷺ کی عبادت
آنحضرتﷺ کی عام دنوں کی عبادت ایسی تھی کہ نماز میں زیادہ کھڑے رہنے کی وجہ سے آپﷺ کے پاؤں مبارک متورّم ہو جاتے تھے۔ حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات نبی کریمﷺ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ آپﷺ نے سورۃ البقرۃ کی تلاوت شروع فرما دی۔ کہتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ جب سو آیتیں پوری ہو جائیں گی تو رکوع ہو جائے گا۔ آپﷺ پڑھتے رہے سو پوری ہو گئیں رکوع نہیں ہوا، پھر آگے چلتے رہے تو میں نے سوچا کہ جب دوسو پوری ہو جائیں گی تب پہلی رکعت کا رکوع کریں گے۔ (آج ہم نے سوا پارے میں دوسو آیتیں نہیں پڑھیں۔ بیس رکعتوں میں سواپارہ ہوتا ہے لیکن دو سو آیات پوری نہیں ہوتیں) آپﷺ نے دوسو آیات پوری کرلیں، لیکن رکوع نہ ہوا آگے چلتے رہے یہاں تک کہ سورۃ البقرۃ پوری ہو گئی۔ مجھے خیال ہوا کہ اب رکوع ہو جائے گا، لیکن آپﷺ نے سورہ نساء شروع کر دی (اس وقت ترتیب شاید یہی ہو کہ سورہ بقرہ کے بعد سورہ نساء پڑھی جاتی ہو) سورہ نساء پوری کرنے کے بعد آپﷺ نے سورہ آل عمران شروع کر دی۔ آپﷺ ٹھہر ٹھہر کر پوری پڑھتے چلے جاتے تھے۔ جس جگہ تسبیح کا ذکر ہوتا تو آپﷺ تسبیح کرتے، جس جگہ مانگنے کا ذکر ہوتا تو آپﷺ اللہ تعالیٰ سے مانگتے، جس جگہ پناہ مانگنے کا ذکر آتا تو آپﷺ پناہ مانگتے۔ پھر آپﷺ نے رکوع کیا اور اس میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیْمْ پڑھتے رہے۔ اور اتنا ہی لمبا رکوع کیا جتنا قیام کیا تھا، پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہْ کہا اور اتنی دیر کھڑے رہے جتنی دیر رکوع میں تھے۔ پھر قیام کے برابر سجدہ کیا اور سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی پڑھتے رہے۔ (صحیح مسلم: رقم 772)
تراویح اور دیگر عبادات کا اہتمام
جب آپﷺ کے عام حالات کی عبادت یہ ہے تو رمضان میں کیا معاملہ ہوتا ہوگا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ رمضان المبارک میں بیس رکعات تراویح احتیاط کے ساتھ اور گن کر پوری پڑھیں۔ تمام صحابۂ کرام بیس تراویح مکمل پڑھتے تھے۔ حضراتِ خلفائے راشدین بیس رکعات تراویح پڑھتے تھے۔ ہمیں بھی بیس تراویح پوری پڑھنی ہے۔ ایک بات تو یہ تراویح سے متعلق ہے۔ دوسری بات یہ کہ روزے پابندی سے پورے رکھیں۔ تیسری بات کہ تلاوتِ قرآن پاک خوب کثرت سے کریں۔ اور دعا اور سخاوت تو کرنی ہی ہے۔ ان اعمال میں اپنے آپ کو لگائیں۔ اب عبادت کا صحیح مفہوم کیا ہے، اس کو بھی ہم سمجھ لیں۔
گناہوں سے بچنا
عبادت کا اصل مفہوم کیا ہے؟ آج ہمارے نزدیک عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی پر نیکی کرتے چلے جائیں، اور ساتھ میں گناہ ہو رہے ہیں اس کی فکر نہیں۔ ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ باتیں ارشاد فرمائیں جس میں سے ایک یہ تھی: گناہوں سے بچو، سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے۔ (سنن ترمذی: رقم 2305)
آپﷺ نے سادی سی بات بتائی کہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچا لو سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے۔ عبادت کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ ہم گناہوں سے اپنے آپ کو بچا لیں۔ جیسا کہ تاجر لوگ کہتے ہیں ناں کہ کوئی چیز سیل ہو رہی ہے اور نفع چاہے تھوڑا ہی ہو، بس نقصان نہ ہو۔ اگر نقصان نہیں ہو رہا تو کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے۔ گناہ نقصان کے مانند ہے۔ آپ سارا دن طاقت کی دوائیاں کھاتے رہیں، کُشتے کھاتے رہیں اور خمیرے کھاتے رہیں، شام کے وقت تھوڑا سا زہر کھالیں تو کوئی فائدہ ہونا ہے؟ اسی طرح نفلی عبادت کی کثرت کے ذریعے ہم روحانی قوت حاصل کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی گناہ کے ذریعے اس کو ختم بھی کر دیتے ہیں۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پھر ہم کیا کریں؟ آج سے رمضان کی رات شروع ہو گئی ہے۔ آج کی رات سے عید کی نماز پڑھنے تک ایک مہینہ اور ایک دن تک ہم اللہ کی کوئی نافرمانی نہ کریں۔
کچھ قابلِ غور باتیں
اب کچھ چیزوں کے بارے میں میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ گناہ ہیں یا نہیں؟ آپ اس کے بارے میں بتائیں تاکہ ایکا ہو جائے کہ ہم نے یہ نہیں کرنا۔ جی بتائیں! نامحرم کودیکھنا گناہ ہے یا ثواب ہے؟ گناہ ہے۔ پکی بات ہے۔خود دیکھنا گناہ ہے یا سامنے آ جائے تو بھی گناہ ہے؟ ہر دو صورت گناہ ہے۔ اچھا! اسکرین پر آ جائے تو دیکھنا گناہ ہے یا ثواب؟ جب اسکرین پر نامحرم آئے گی تو نامحرم ہی رہے گی یا پھر اس کا اسٹیٹس بدل جائے گا؟ جب سامنے دیکھنا گناہ ہے تو اسکرین پر دیکھنا بھی گناہ ہی ہوگا۔ تو ہم نے یہ مان لیا کہ نامحرم کو دیکھنا گناہ ہے۔
دوسری بات میوزک سننا گناہ ہے یا ثواب ہے؟ گناہ ہے۔ سحری اور افطاری کے وقت جو ٹی۔وی پہ پروگرام لگتے ہیں، اس میں میوزک ہوتا ہے تو اس بات کو ہم کس معنیٰ سے لیں گے؟ اور اس میں عورتیں بیٹھ کر جو دین کے مسائل بتاتی ہیں، میں نے تو نہیں دیکھا البتہ مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ ان کے سروں پر نہ دوپٹہ ہوتا ہے اور نہ جانے کیا کیا تماش بینیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔ ان سب چیزوں کو دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ آپ بھی متفق ہیں کہ جائز نہیں۔
اچھا جی! اس کے علاوہ جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، نماز قضا کرنا یہ موٹی موٹی وہ باتیں ہیں جن کا ہمیں پتا ہے کہ یہ گناہ ہیں، تو ایک مہینے کے لیے ان گناہوں کو چھوڑ دیں۔ ایک مہینے کے لیے آج سے ہم اِرادہ کریں کہ اے اللہ! اس مہینے میں تیری نافرمانی کوئی نہیں کرنی، نہ میوزک سننا ہے، نہ ٹی۔وی دیکھنا ہے۔ جس گھر میں ٹی۔وی ہے شیطان کو اس گھر میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پوری فوج اس کی گھر میںموجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو تو قید کر دیا ہے، لیکن وہ ہمارے گھروں میں اتنے اتنے شیطان چھوڑ گیا ہے۔ جو کھلے ہیں اور آزاد ہیں ہمارے گھروں میں۔ جس آدمی نے اپنے ایمان کو بچانا ہے اور رمضان میں کچھ کمانا ہے اسے ٹی۔وی چھوڑنا پڑے گا، نہیں تو قیامت کے دن رونا پڑے گا۔
ایک غلط فہمی کا اِزالہ
یہاں شاید آپ ایک اختلاف کریں۔ کوئی کہتا ہے کہ جی ٹی۔وی دیکھنے میں کیا گناہ ہے؟ اس میں نیک باتیں بھی ہوتی ہیں۔ ہم اس بحث میں نہیں جانا چاہتے، بس اتنی بات کرتے ہیں کہ ٹی۔وی ایک مہینہ بند کر دیں تو کونسا نقصان ہو جانا ہے۔
بس ہمیں اس ماہِ مبارک میں تین کاموں میں لگنا ہے: دعاؤں میں اضافہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنا ہے، دل کھول کے خرچ کرنا ہے لوگوں کو پتا لگے کہ فرق آیا ہے۔ تیسری بات کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کوئی نہیں کرنی۔ ان تین اعمال میں ہم نے اس مہینے کو گزار لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی برکتیں ہمیں عطا فرمائیں گے اور مغفرت بھی ہو جائے گی۔ اپنی مغفرت کے فیصلے بھی ہم کروائیں اور قیامت تک آنے والی نسلوں کی بھی مغفرت کے فیصلے بھی کروائیں۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply