31

روزے کی حالت میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا


سوال
روزے کے اندر کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانا چاہیے یا نہیں؟

جواب
کرونا وائرس  کے ٹیسٹ کے بہت سے طریقے  رائج ہیں،  ہمیں جو معلومات دست یاب ہوئی ہیں، اس کے مطابق روزے کی حالت میں اگر مذکورہ ٹیسٹ کرانے کی ضرورت ہو تو اس کا شرعی حکم درج ذیل ہے:

(1) ایک طریقہ  ” پی سی آر “  ٹیسٹ ہے جس میں ڈاکٹر روئی کا ٹکڑا مریض کی ناک کے پچھلے حصے میں ڈالتا ہے جس سے ناک میں موجود رطوبت روئی میں لپٹ جاتی ہے جس کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

شرعی حکم: اگر روئی میں کوئی دوائی وغیرہ لگا کر مذکورہ ٹیسٹ کیا جائے تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا، اور اگر روئی میں کوئی دوا وغیرہ نہ لگائی جائے، بلکہ صاف روئی ہو (جیساکہ عموماً اس ٹیسٹ میں ہوتا ہے)تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

(2)دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے مریض کے  منہ اور حلق سے لعاب حاصل کرکے اس کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔

شرعی حکم:  مریض کے منہ سے لعاب حاصل کرنے میں اگر منہ کے اندر  کوئی دوا نہ دالی جائے، اور روئی ڈالنے کی صورت میں روئی پر بھی کوئی دوا نہ لگی ہوئی تو لعاب کے ٹیسٹ کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

نیز مذکورہ دونوں صورتوں میں اگر (بالفرض) روئی الگ ہو کر حلق سے نیچے اتر جائے تو اس صورت میں روزہ فاسد ہوجائے گا، صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

(3) تیسرا طریقہ ” اینٹی باڈی ٹیسٹ“  کا ہے جس میں مریض کا بلڈ ٹیسٹ ہوتا ہے۔

شرعی حکم:  روزہ کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانا جائز ہے، اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 396):
“وكذا لو ابتلع خشبةً أو خيطًا ولو فيه لقمة مربوطة إلا أن ينفصل منها شيء. ومفاده أن استقرار الداخل في الجوف شرط للفساد، بدائع”. فقط والله أعلم

فتوی نمبر : 144109200168

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں