روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر خواتین کس طرح سلام پیش کریں؟

سوال

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پیش کرنے خواتین کس طرح جائیں؟ اور دعا کس طرح مانگیں؟

جواب

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری اور سلام پیش کرنا مستحب ہے، اور یہ استحباب مرد و خواتین سب کے لیے ہے، سلام پیش کرنے کے آداب میں سے ہے کہ پورے اہتمام کے ساتھ خالص سلام پیش کرنے کی نیت سے صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرکے جایا جائے، راستہ میں درود شریف کی کثرت رکھی جائے، اور اپنی استطاعت کے بقدر کچھ نہ کچھ صدقہ کردیا جائے، مسجد نبوی میں داخل ہوتے وقت سیدھا پیر مسجد میں رکھتے ہوئے درج ذیل الفاظ پڑھے جائیں:

’’بسم الله و الصلوة و السلام على رسول الله، اللهم افتح لي أبواب رحمتك‘‘.

اس کے بعد اگر بسہولت ریاض الجنۃ میں تحیة المسجد ادا کرنے کا موقع میسر ہو تو ریاض الجنہ میں، ورنہ مسجد نبوی کے کسی بھی حصہ میں ادا کرنے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اس حاضری کا موقع عنایت فرمایا، اس کے بعد پورے ادب کے ساتھ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنی نگاہیں نیچے رکھتے ہوئے جایا جائے، راستہ میں کسی کو نہ تکلیف دی جائے، نہ ہی دھکا دیا جائے، مواجہ شریف کی جانب سے سلام پیش کرنے کی خواتین کو انتظامیہ کی طرف سے چوں کہ عموماً اجازت نہیں ہوتی، لہذا ریاض الجنہ، یا صفہ کی جانب یا قدمین مبارک کے رخ سے ہی پست آواز میں درج ذیل الفاظ کے ساتھ سلام پیش کیا جائے:

“السلامُ عليك يا رسول الله، السلامُ عليك يا نبي الله، السلامُ عليك يا خِيرة الله، السلامُ عليك يا خَيْر خلقِ الله، السلامُ عليك يا حبيبَ الله، السلامُ عليك يا نذير، السلامُ عليك يا بشير، السلامُ عليك يا طاهر، السلامُ عليك يا نبيَّ الرحمة، السلامُ عليك يا نبيَّ الأمة، السلامُ عليك يا أبا القاسم، السلامُ عليك يا رسولَ ربّ العالمين، السلامُ عليكَ يا سيدَ المرسلين وخاتمَ النبيين، السلامُ عليك يا خَيْرَ الخلائق أجمعين، السلامُ عليك يا قائد الغُرّ المُحَجَّلِينَ، السلامُ عليك وعلى ءالك وأهلِ بيتك وأزواجِك وذريتِك وأصحابِك أجمعين، السلامُ عليك وعلى سائر الأنبياءِ وجميع عبادِ الله الصالحين، جزاك الله يا رسولَ الله عنا أفضلَ ما جزى نبيًّا ورسولا عن أمتهِ وصلى الله عليكَ كلما ذكركَ ذاكر وغفلَ عن ذكرك غافلٌ أفضلَ وأكملَ وأطيبَ ما صلى على أحد من الخلق أجمعين، أشهد أن لا إله إِلا الله وحده لا شريك له وأشهد أنك عبده ورسولُهُ وخِيرتُهُ من خلقهِ، وأشهدُ أنك قد بلّغتَ الرسالةَ وأدّيتَ الأمانةَ ونصحتَ الأمةَ وجاهدتَ في الله حقَّ جهاده، اللهم وءاته الوسيلةَ والفضيلةَ وابعثْه مقامًا محمودًا الذي وعدته” “اللهمَّ صلّ على محمّد عبدِك ورسولِك النبيّ الأُمّي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريته كما صليتَ على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيم، وباركْ على محمد النبيّ الأُمي وعلى ءال محمد وأزواجِه وذريتِهِ كما باركت على إبراهيمَ وعلى ءال إبراهيمَ في العالمين إنكَ حميدٌ مجيد”.

البتہ اگر مذکورہ الفاظ یاد نہ ہوں یا وقت کی تنگی یا رش کی وجہ سے ممکن نہ ہو تو کم از کم درج ذیل الفاظ سے سلام پیش کرے:

“السلام عليك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم”.

سلام پیش کرنے کے بعد قبلہ رخ ہو کر دعا کی جائے، یہ مقام بھی قبولیت کا ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ نظم کے مطابق روضۂ رسول اللہ ﷺ پر حاضری کے لیے خواتین کو چوں کہ مسجدِ نبوی کی حدود کے اندر جانا پڑتاہے، اس لیے ایام کے دوران وہ سلام پیش کرنے مسجد کے اندر نہ جائیں، باہر سے ہی سلام پیش کرسکتی ہیں، نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے روضے پر سلام کا حکم خواتین کے عام قبرستان کی زیارت کے حکم سے مختلف ہے۔
فتوی نمبر : 143908200564

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Leave a Reply