101

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر روزانہ اور بار بار حاضری دینے نیز الوداعی سلام پیش کرنے کا حکم

روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر روزانہ اور بار بار حاضری دینے نیز الوداعی سلام پیش کرنے کا حکم

مدینہ منورہ حاضری کے موقع پر روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہونا اور سلام پیش کرنا ہر امتی پر رسول اللہ ﷺ کا حق ہے اور امتی کے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہے، باقی فقہاءِ امت نے مدینہ منورہ حاضری کے وقت روضہ رسول ﷺ پر حاضری اور سلام پیش کرنے کی کوئی تحدید ذکر نہیں کی ہے کہ ایک دن میں یا ایک سفر میں زیادہ سے زیادہ کتنی مرتبہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی جاسکتی ہے۔

روضہ رسول ﷺ پر سلام پیش کرنے کے لیے حاضر ہونے کا تعلق بابِ عشق سے ہے، لہٰذا ہر امتی کا اپنے نبی ﷺ سے تعلق اور محبت کی بات ہے جس کا جتنی مرتبہ دل چاہے اپنے محبوب کے در پر حاضر ہوکر سلام پیش کرے، اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، خاص کر آج کل حج اور عمرہ پر جانا ویسے ہی جتنا مشکل ہوچکا ہے تو آدمی سوچتا ہے کہ پتا نہیں آئندہ کب مدینہ منورہ حاضری کی توفیق ہوسکے، اس لیے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آدمی جتنی مرتبہ بھی اپنے محبوب نبیﷺ کے در پر حاضری دینا چاہے، اس کو منع نہیں کرنا چاہیے, البتہ اتنا خیال رکھنا چاہیے کہ روضہ رسول ﷺ پر کثرت سے حاضری کی وجہ سے اس دربار میں حاضری کے جو آداب ہیں اس کی رعایت میں کمی نہیں آنی چاہیے، بلکہ جتنی بار بھی حاضری ہو ہر بار آداب کی ایسی ہی رعایت کرنی چاہیے جیسی پہلی بار حاضری کے وقت کی جاتی ہے۔

مدینہ منورہ سے واپسی کے وقت روضہ رسول ﷺ پر حاضر ہوکر الوداعی سلام پیش کرنا طواف وداع کی طرح باقاعدہ واجب یا سنت تو نہیں ہے، لیکن اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے شہر سے جدائی کے وقت نبی کریم ﷺ کی محبت میں (لازم سمجھے بغیر) الوداع کی نیت سے سلام پیش کر کے مدینہ منورہ سے واپسی کرے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ ایک اچھا اور مستحسن عمل کہلائے گا، لہٰذا اس عمل سے اجتناب کرنے کی تاکید کرنا درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
✒✒✒✒
فتوی نمبر : 144010201113

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں