49

زکاۃ کا نصاب

سوال

70000

میری تنخواہ ہے ، گھر میں سونا، چاندی فرنیچر ہے، زکاۃ کتنی ہوگی؟

جواب

زکاۃ ہر اس عاقل، بالغ مسلمان مرد وعورت کے ذمہ لازم ہے جو صاحبِ نصاب ہو،صاحبِ نصاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے مساوی نقد رقم یا مال تجارت ہو یا ان چاروں چیزوں کی یا ان میں سے بعض کی تھوڑی تھوڑی مقدار ہو جو ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے اور اس پر سال گزرجائے۔سال پورا ہونے پر نصاب موجود ہو تو اس کی کل مالیت کا ڈھائی فیصد زکاۃ میں ادا کرنا ضروری ہے۔اس میں ماہانہ تنخواہ کا اعتبار نہیں، بلکہ بنیادی ضرورت سے زائد رقم کا ہے۔ نیز استعمال کے فرنیچر پر زکاۃ نہیں ۔
اب آپ دیکھ لیجیے کہ آپ کے پاس موجود سونے اور چاندی اوربچت میں موجود نقد رقم کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد ہے (بظاہر زائد ہی ہوگی) تو مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد سالانہ آپ زکاۃ کی مد میں ادا کردیجیے۔ فقط واللہ اعلم

ماخذ: دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن
فتوی نمبر: 144012200676

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں