17

زیر ناف بالوں کے احکام

مردوں کے زیر ناف بالوں کے احکامات!!!!

سوال: زیر ناف بال کہاں تک کاٹے جائیں انکی حد کیا ہے ؟
کیونکہ کچھ لوگ ناف سے شروع ہو کر اور آدھی آدھی رانوں تک بال صاف کرتے ہیں اور کچھ مکمل رانیں یعنی گھٹنوں تک بال صاف کر دیتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ صرف تھوڑی سی جگہ سے بالوں کی صفائی کرتے ہیں ۔
اور بعض لوگ سرین (دبر) کے بال بھی صاف کرتے ہیں , کیا یہ بھی زیر ناف بالوں میں شامل ہیں ؟
نیز کتنے دنوں کے اندر اندر کاٹنے ضروری ہیں؟
اور آخری بات کہ ان بالوں کو صاف کرنے کے لیے بلیڈ , سیفٹی , استرا , ہیئر ریمور کریم / صابن / پاؤڈر وغیرہ میں سے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے ؟

جواب: اولاً حدیث ملاحظہ فرمائیں:
” عن انس قال وقت لنافی قص الشَّارِبِ وَتَقْلِیْمِ الاَظْفَارِ وَنَتْفِ الابِطِ وَحَلقِ العَانۃ اَن لاَّ نَتْرکَ اَکْثَر مِنْ اَرْبعِینَ لیلَۃً” (مسلم باب خصال الفطرۃ)

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مونچھیں کترنے اور ناخن کاٹنے اور بغلوں کے بال صاف کرنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کا حکم دیا، اور ہمارے لیے(رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے یہ ) مدت مقرر کی گئی کہ ہم ان بالوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں (یعنی ان چیزوں کی صفائی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے)

لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ زیر ناف بالوں کی صفائی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اس عرصے میں ضرور صفائی کرلینی چاہیے،

اب رہی یہ بات کہ زیر ناف بال کہاں تک کاٹنے چاہیے تو اس سلسلے میں یاد رہے کہ:
“زیر ناف” کا لفظ کنایہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، حدیث میں زیر ناف بالوں کے لئے عانہ” کا لفظ استعمال ہوا ہے جسکا اہل لغت نے ترجمہ کیا ہے ” شرمگاہ کے گرد اگنے والے بال”
مطلب یہ ہوا کہ
کہ ناف کے نیچے دائیں بائیں جو بال ہو نیز خصیتین (انڈوں) اور ذَکر(عضو مخصوص) پر جو بال ہوں اس کے اردگرد اور اس کے مقابل رانوں کا وہ حصہ جہاں نجاست لگنے کا خطرہ ہو سب کو صاف کرنا چاہیے۔

نیز مقعد(دُبُر، پاخانہ نکلنے کی جگہ) کے اردگرد کے بالوں کو صاف کرنا چاہیے، بلکہ بعض فقہاء نے مقعد کے اردگرد بالوں کے بارے میں زیادہ تاکید کی ہے۔
الغرض سبیلین(دونوں راستوں ) کے آس پاس موجود تمام بالوں کا تلف کرنا ضروری ہے تاکہ صفائی برقرار رکھ سکے،
فتاویٰ عالمگیریہ اور دیگر کتب فقہ میں لکھا ہے :
“و يبتدی فی حلق العانة من تحت السرة. (عالمگيری، 5 : 358)
کہ ناف کے نیچے سے کاٹنا شروع کرے،

(٢) مردوں کے لیے استرہ وغیرہ استعمال کرنا اور عورتوں کے لیے اکھاڑنا مستحب ہے، البتہ کریم پاوٴڈر کا استعمال دونوں کے لیے جائزہے ..
واللہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں