53

سر کے بالوں کی وِگ جو گلو / سلو شن کےساتھ لگائی جاتی ہے ، کیا اس سے مسح اور غسل ہوجاتا ہے؟

سوال
سر کے بالوں  کی وِگ جو گلو / سلو شن کےساتھ لگائی جاتی ہے ، کیا اس سے مسح اور غسل ہوجاتا ہے؟

جواب
کسی کو دھوکا دینے یا خلافِ حقیقت صورت کے اظہار کے قصد سے سر پر وگ لگانا جائز نہیں ہے، کسی ضرورت  کی وجہ سے وگ لگانے کی صورت میں اگر انسانی بالوں یا خنزیر بالوں کے علاوہ وگ ہو تو اس کی گنجائش ہوگی، اور  اگر یہ بال انسان کے ہوں تو ان کا لگانا گناہِ کبیرہ ہے، اور انسانی بال لگوانے والوں  پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے۔

اب اگر وگ سر پر اس طرح لگی ہو   کہ اگر اس کو الگ کرنا چاہیں تو الگ نہیں کرسکتے تو یہ بال اصلی بال کے حکم میں ہوجائیں گے اور ان کے اوپر پانی ڈالنے سے غسل ہوجائے گا اور مسح کرنے سے وضو بھی ہوجائے گا،  اور اگر مصنوعی بال  اس طرح نہیں ہیں، بلکہ ان کو سر سے الگ کیا جاسکتا ہو تو  اس صورت میں اگر اس میں پانی گزر کر سرکے اندر  نہیں پہنچ سکتا تو  غسل اور وضو دونوں نہیں ہوگا، اور اگر وگ لگے ہونے کی صورت میں  ان مصنوعی بالوں (وگ)  کے درمیان سے پانی گزر کر سر تک پہنچ جاتا ہے تو غسلِ واجب  ادا ہو جائے گا، لیکن وضو کے دوران ان مصنوعی بالوں پر مسح کرنے سے مسح نہیں ہوگا، کیوں کہ ان مصنوعی بالوں کو آسانی سے ہٹایا جا سکتا ہے، البتہ اگر کسی نے سر پر اتنا پانی ڈالا کہ وگ کے اندر کم از کم چوتھائی سر تک پانی پہنچ گیا تو وضو  ہوجائے گا۔ اور فرض غسل میں اسے اتارکر پانی پہنچانے میں ہی احتیاط ہے۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 60):

“فلايصح مسح أعلى الذوائب المشدودة على الرأس”.

قوله: “المشدودة على الرأس” أي التي أديرت ملفوفةً على الرأس بحيث لو أرخاها لكانت مسترسلةً، أما لو كان تحته رأس فلا شك في الجواز”.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 154):
فقط واللہ تعالیٰ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں