سفر کی سنتیں

سفر کی سنتیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰى وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ (النساء: 64)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰى سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

اتباعِ نبوی بعثتِ نبوی کا مقصد
جو آیتِ مبارکہ ابھی تلاوت کی گئی اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے نبیﷺ کو بھیجا ہی اس لیے ہے کہ ان کی اتباع کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ نبیﷺ کی اتباع سے کیا ملے گا؟ اس کے متعلق حضرت انس کی روایت میں خود نبی نے ارشاد فرمایا:
’’جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا‘‘۔ (جامع ترمذی)
تو اتباع سنت سے کیا ملتا ہے؟ نبی کا ساتھ جنت میں جو ہمیشہ ہمیشہ ہوگا، اور اگر ہم اتباع نہ کریں تو کیا ہوگا؟ حسرت اور افسوس۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ کام اپنے بندوں کو ایسے دیے ہیں جو اختیاری ہیں اور بروز قیامت جب اس کی جواب طلبی ہوگی تو انسان صرف افسوس ہی کر سکے گا، اس لیے کہ اب حشر میں پہنچنے کے بعد بچا تو کچھ نہیں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔ دل کے کانوں سے اسے سن لیجیے!
يٰلَيْتَنَا اَطَعْنَا اللّٰهَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا o (الاحزاب:66)
’’اے کاش! ہم نے اللہ کی اطاعت کرلی ہوتی، اور رسول کا کہنا مان لیا ہوتا‘‘۔
آج اگر ہم نے اپنے نبی کی اتباع نہ کی تو قیامت کے دن افسوس ہوگا، لیکن اس دن کا افسوس کوئی کام نہیں آئے گا۔ اور اگر ہم نے اتباع کی تو پھر سیدھا سیدھا جنت کا معاملہ ہے، درمیان میں بات ہی کوئی نہیں۔
زندگی کو کسوٹی پر پرکھنا
حدیث شریف میں رسول اللہﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:
الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ . (متفق علیہ من حدیث ابن مسعود ؓ)
’’آدمی (قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت ہوگی‘‘۔
اب یہاں معاملہ کیا ہے ہم اپنے آپ کو دیکھیں۔ ایک کسوٹی پر ہمیں اپنے آپ کو تولنا ہے۔ وہ کسوٹی کون سی ہے؟ وہ اتباعِ نبی کی کسوٹی ہے۔ دیکھیں! ہر بندہ جو کسی سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اس کے پاس کوئی دلیل ہوتی ہےکہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں، اس کے آثار، اس کی باتیں بتاتی ہیں کہ واقعتًا یہ کرتا بھی ہے یا نہیں کرتا۔ تو جو لوگ اللہ سے محبت کے دعوے دار ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے اور اس کے رسولﷺ سے محبت کرتے ہیں تو انہیں کس پیمانے پہ تولا جائے؟ اس کے لیے ایک ہی پیمانہ ہے۔ دیکھا جائے کہ یہ کتنا محمدی ہے اور کتنا رسم ورواج کا پابند ہے۔ جس کے دل کے اندر نبی کی محبت جتنی زیادہ ہوگی، اس کے اعمال میں نبی کی سنتوں کی اتباع ہوگی۔
اللہ تعالیٰ کی منشا معلوم کرنا
ایک بات ایسی ہے جس میں بہت سارے لوگ پریشان ہوتے ہیں۔ وہ یہ کہ پتا نہیں اللہ راضی ہے یا ناراض ہے؟ بیماری آتی ہے تو سمجھتے ہیں اللہ ناراض ہوگیا۔ بڑی بیماری آگئی تو سمجھتے ہیں کہ اللہ بہت ہی ناراض ہوگیا۔ پریشانی آگئی تو سمجھتے ہیں کہ اللہ ناراض ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کا پیمانہ خوشی کا مل جانا یا خوشی کا ختم ہوجانا نہیں ہے۔ بلکہ صرف اور صرف اتباعِ سنت ہے، یہ اصول ہے۔ جس شخص نے دیکھنا ہو کہ اللہ مجھ سے راضی ہیں یا ناراض؟ وہ یہ دیکھے کہ میری زندگی کس کے طریقے پر ہے۔ اگر اس کی زندگی رسول اللہﷺ کے مبارک طریقوں پر ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اس سے راضی ہے، کیوںکہ جن سے اللہ ناراض ہوتے ہیں ان کو اپنے محبوب کے طریقوں پر چلنے ہی نہیں دیتے، ان کو یہود ونصاریٰ کے طریقوں پر، قوم کی رسومات ورواج کو پورا کرنے پر لگا دیتے ہیں کہ جناب! ہمارے علاقے کا، ہماری قوم کا یہ Calture ہے ۔ ایسے لوگ اسی میں زندگی گزاردیتے ہیں۔ اور جن سے اللہ راضی ہوتے ہیں اس کو وہ طریقہ دیتے ہیں جو محمدی طریقہ ہو۔ یہ پکا اُصول ہے۔ اب ہم دیکھیں کہ ہماری زندگی میں اتباعِ سنت کتنی ہے۔ اس کسوٹی پر دیکھ لیں سارا معاملہ طے ہوجائے گا۔ تو آخرت کی کامیابی کے لیے نبی کی ایک ایک سنت پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔
قربِ قیامت کی ایک نشانی
اور واقعتًا ایسا وقت آچکا ہے جس کے متعلق نبی نے فرمایا تھا کہ آخری زمانے میں ہاتھ پر انگارہ رکھنا آسان ہوگا جبکہ دین پر عمل کرنا مشکل ہوگا۔ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے فرمایا کہ رات کی تاریکی جیسے فتنے ہوں گے (لمبی روایت ہے، اس کے آخر میں ہے) اور میری اُمت پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ دینِ اسلام پر عمل کرنے والا ایسا ہوگا جیسا ہاتھ میں چنگاری لینے والا۔
(مسند احمد، جامع ترمذی)
یعنی ہاتھ پر انگارہ رکھنا جتنی تکلیف کا ذریعہ ہوتا ہے، ایسی تکلیف دین پر شریعت پر عمل کرنے میں دی جائے گی۔ اور آج کل کے ماحول میں بہ کثرت دیکھنے میں آتا ہے کہ سنتوں پر عمل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔
سفر میں آرام کرنے کی سنت
بہرحال سفر کی سنتوں کی بات چل رہی تھی۔ سفر میں جب رات آجاتی اور آرام کرنے کا وقت آجاتا تو نبی حسبِ معمول اپنی عادتِ شریفہ کے مطابق دائیں کروٹ پہ سویا کرتے تھے یعنی Right سائیڈ پر۔ اب جن لوگوں کو نیند صحیح نہیں آتی، یا رات سوتے ہوئے کبھی دیکھتے ہیں کہ شیر دوڑ ا آرہا ہے، کبھی بھیڑیا آرہا ہے، کبھی کوئی کتا آرہا ہے۔ لوگ اس قسم کی باتیں سناتے رہتے ہیں۔ جب Left سائیڈ پہ سوتے ہیں تو یہ مسائل آتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم Right سائیڈ پہ سوئیں گے، آیۃ الکرسی پڑھ کر سوئیں گے، سنت کے مطابق سوئیں گے تو ان شاء الله کم وقت میں نیند بھی پوری ہوجائے گی، اور مناسب بھی ہوگی، اور یہ پریشانیاں بھی نہیں آئیں گی۔ بہرحال نبی سفر میں حسبِ معمول دائیں کروٹ پہ سویا کرتے تھے۔
اگر صبح صادق کا وقت قریب ہوتا، یا فجر کی نماز کا وقت قریب ہوتا۔ سمجھانے کے لیے بتارہا ہوں کہ آج کل جیسے فجر کا وقت تقریبًا 4 بجے شروع ہو رہا ہے اور 2:30 بجے آرام کرنا ہے۔ سفر کرتے کرتے 2 بجے گئے، 2:30 بج گئے۔ اب وقت تھوڑا ہے اور تھکن بھی ہے۔ ایسی صورت میں نبی اپنا دایاں بازو کھڑا کردیتے اور سر کو دائیں ہاتھ پر رکھ دیتے کہ نماز کے لیے جاگنا آسان رہے۔ یہ امت کو طریقہ سکھایا گیا ہے۔ نبی کے لیے تو ویسے ہی بہت آسانیاں تھیں، اُمت کو بتایا جارہا ہے کہ اگر رات کو دیر ہو جائے تو اب اس طریقے سے وقت گزارو کہ فجر قضا نہ ہو۔ اور اگر کسی آدمی کو یقین ہو کہ میں ویسے ہی دیر سے سوؤں گا اور فجر بھی مل جائے گی تو بات یہ ہے کہ رات کو ویسے ہی جاگنا مناسب نہیں ہے۔ اور اگر کوئی Facebook پہ، انٹرنیٹ پر بیٹھا ہوا ہے اور فجر قضا ہونے کا خطرہ ہے تو وہ جو کر رہا ہے وہ تو بعد کی بات ہے کہ حلال کر رہا ہے یا حرام، نماز قضا ہونے کے خوف سے اس پہ بیٹھنا ہی جائز نہیں چاہے اس پہ بیٹھ کر وہ اللہ کا قرآن ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو۔ اگر کوئی غلیظ کام کررہا ہے وہ تو بہت ہی دور کی بات ہوگی۔ اگر آپ کو یہ خوف ہو کہ ساری رات میں قرآن پڑھوں گا تو فجر قضا ہوجائے گی، تو ساری رات قرآن پڑھنا بھی جائز نہیں۔ فجر پڑھنا فرض ہے اور اس کے اہتمام کی ضرورت ہے۔
سفر میں نماز کی کیفیت
نبی سفر میں جو نمازیں پڑھتے تھے اس میں مختصر قرأت ہوا کرتی تھی۔ ایسا بھی ہوا کہ فجر کی نماز میں ’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ‘‘ اور ’’قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ‘‘ کی تلاوت آپ نے کی۔ سفر میں چوںکہ مسافروں کا بھی خیال کرنا ہوتا ہے، اپنی تھکن اور اپنے آرام کو بھی دیکھنا پڑتا ہے ، اسی لیے ساری چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے کوئی سفر کے اندر نماز پڑھائے تو چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرے۔
ایک مرتبہ سفر میں صحابی الرسول حضرت انس کے بیٹے ان کے ساتھ تھے۔ صاحبزادے نے نماز پڑھائی اور ایک ہی رکعت میں سورۃ الملک پوری پڑھ لی۔ نماز مکمل ہوئی تو فرمایا کہ آپ نے تو نماز بڑی لمبی کردی، ہمیں تو سفر میں نماز مختصر کرنے کا حکم ہے۔ نماز تو پڑھنی ہے مگر قرأت کو طول نہیں دینا، چھوٹی سورتیں پڑھنی ہیں۔
اَذان و اِقامت کا اہتمام کرنا
الحمد للہ! ہم نے دیکھا کہ جب دین دار لوگ سفر کرتے ہیں تو نماز میں جماعت کا اہتمام بھی کرتے ہیں، لیکن اذان اور اقامت کا اہتمام ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ سفر کے اندر اذان دینا بھی سنت ہے، اور اقامت پڑھنا بھی سنت ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ چند دین دار لوگ سفر کر رہے ہیں تو نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں اور پیچھے اقامت بھی ہوجاتی ہے، مگر اَذان نہیں ہوتی۔ ماحول کی وجہ سے، شرم کی وجہ سے اذان کو نہ چھوڑنا چاہیے۔ نبی نے ہمیشہ سفر کے اندر اذان اور اقامت کا اہتمام رکھا ہے۔
حضرت مالک بن حویرث فرماتے ہیں کہ میں اور میرا چچازاد بھائی نبی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سفر کرو تو اذان دو، اور اقامت پڑھو، اور جو تم میں بڑا ہو وہ نماز پڑھا دے۔ (ترمذی، نسائی) سفر میں نماز پڑھنی ہے، موقوف کرنا کہ گھر جاکر ادا کرلیں گے، یہ درست نہیں ہے۔ جماعت کے ساتھ اذان اور اقامت کا بھی اہتمام کرنا ہے۔ یہ سنت عمل ہے جو کہ آج ختم ہوتی جارہی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس زمانے میں جو سنت مٹ جائے اس کے زندہ کرنے والوں کو سو شہیدوں کے برابر ثواب ملتا ہے۔ (الکامل لابن عدی ۲/۳۲۷) آپ کہیں بھی جا رہے ہیں اور نماز کا وقت ہے تو اب نماز پڑھنی ہے۔ دو منٹ لگیں گے اذان دے دیجیے اور اقامت کہہ دیجیے چاہے آہستہ آواز سے دے دیں۔ عمل پورا ہوگیا اور سو شہیدوں کا ثواب مل گیا۔ اگر اونچی آواز سے دے سکتے ہیں، موقع کے مناسب ہو تو اونچی آواز سے دے دیں۔ بہرحال اذان کو کسی طریقے سے دیا جائے، ترک نہ کیا جائے۔
جنابِ رسول اللہﷺ سفر کے دوران نفلی نماز بھی ادا فرمایا کرتے تھے، اس کے بارے میں نبی کا طریقہ مبارکہ بھی سن لیجیے۔
سفر میں نفلی نماز کی ادائیگی
یاد رکھیے کہ نبی سے دونوں باتیں ثابت ہیں۔ بعض دفعہ سفر کے اندر نبی نفلی نماز نہیں بھی پڑھتے تھے، چھوڑدیا کرتے تھے۔ لیکن کبھی کبھی آپ نے پڑھی بھی ہے۔ سفر کے دوران قبلہ رخ کا خیال کیا جائے۔ قبلہ رخ کا تعین کرنا ضروری ہے، نماز کی شرائط میں سے ہے۔ اگر عشاء کی نماز قبلہ رخ ہو کر آپ نے پڑھ لی، اس کے بعد آپ کے پاس موقع ہے اور تہجد کی نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو دوگانہ (دو رکعت) پڑھ لیں۔ سفر میں آپ کے پاس بڑی آسانیاں ہیں۔ آپ بس میں بیٹھے ہوں یا ٹرین میں، اپنی گاڑی میں بیٹھے ہوں یا جہاز میں۔ ایک مرتبہ قبلہ متعین کرکے نماز شروع کرلیں، پھر گاڑی یا جہاز جس طرف بھی مڑے اور آپ کو صحیح جہت مڑنے کی معلوم نہ ہوئی تو بھی آپ کی نماز ہو جائے گی۔ اگر کسی نے دورانِ نماز بتا دیا ، یا کسی طرح پتا چل گیا کہ قبلہ یوں ٹرن لے چکا ہے تو آپ بھی اسی قبلہ رخ پر ٹرن لے سکتے ہیں۔ بیٹھے بیٹھے قبلہ رخ پر تہجد بھی ادا کرلی تو ہو جائے گی۔ اگر وضو ہے تو معاملہ آسان ہے۔ الحمدللہ! ایسے مشایخ کے ساتھ سفر کا موقع اللہ نے دیا جن کو سفر میں اس طرح نماز پڑھتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سفر کی حالت میں سواری پر ہی نمازِ شب یعنی تہجد ادا کرتے دیکھا۔ (صحیح مسلم)
مسئلہ یاد رکھیے کہ فرض نماز میں قیام کرنا فرض ہے، یعنی فرض نماز کھڑے ہوکر ہی ادا کرنی ہے، البتہ نفل نماز بیٹھ کر بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ قبلہ کی سمت معلوم کرنا بھی اب مشکل نہیں رہا۔ آج تو موبائل کے اندر ایسی ایسی چیزیں آگئی ہیں کہ قبلہ کی سمت معلوم ہو جاتی ہے، لہٰذا اب کوئی حجت باقی نہیں رہی کہ جی قبلے کا پتا نہیں چلتا۔ تو نفل نماز بعض روایات میں سفر کے دوران پڑھنا ثابت ہے، اور بعض میں نہ پڑھنا بھی ثابت ہے۔ موقع کے حساب سے دیکھ لیا جائے کہ کیا کریں۔
دورانِ سفر سنتیں پڑھنا
ایک مرتبہ مدینہ طیبہ کا سفر تھا۔ ہوٹل پہنچے اور عشاء کی نماز پڑھی، کیوںکہ دیر ہوچکی تھی اور مسجدِ نبوی کی جماعت بھی ہوگئی تھی۔ بہرحال نماز پڑھ کر سلام پھیرا تو میں آگے اور نماز پڑھنے لگ گیا۔ پیچھے ایک صاحب کہنے لگے کہ دو رکعات پوری ہوگئیں، بس کافی ہے سنتوں کو کیا پڑھنا۔ اللہ کی شان سلام پھیرنے کے بعد اللہ نے دل میں ایک بات ڈالی۔ میں نے کہا کہ بھائی! مدینہ آکر سنتیں نہیں پڑھو گے تو پھر دنیا میں کدھر جاکر پڑھو گے؟ مدینہ میں آئے ہو تو سنتیں تو پڑھو۔
اب اس کی ترتیب کیا ہو؟ دیکھیں! اگر سفر ایسا ہے جو چل رہا ہے۔ آپ لاہور سے بیٹھے ہیں آپ نے پشاور جانا ہے، یا کراچی جانا ہے تو جو سفر فراق چل رہا ہے Runing میں ہے، آپ  سنتیں اور نفل نہ پڑھیں، چلتے جائیں فرض پڑھتے جائیں۔ یہ ٹھیک ہے۔ لیکن اگر آپ کہیں تین دن کا، سات دن کا قیام کرتے ہیں جیسے ہم مری جاتے ہیں گھومنے پھرنے ، مال روڈ گھوم رہے ہیں اور ویسے سیر کر رہے ہیں تھوڑا ٹائم ہے تو اس ٹائم میں چاہیے کہ سنتیں پڑھیں۔ ایسے ہی عمرے کے سفر میں بھی عام طور سے 10 15, دن کا وقت چل رہا ہوتا ہے۔ ہوتے تو مسافر ہی ہیں کیونکہ درمیان میں مدینہ طیبہ بھی جانا ہے پھر مکہ مکرمہ واپس آنا ہے۔ اس مبارک سفر میں بھی ہمیں سنتوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اگر ٹائم ہو، سہولت ہو تو سنتوں کا اہتمام کریں۔ اور اگر مجبوری ہو بالکل وقت نہ ہو تب سنتوں کو چھوڑدیں، یہ طریقہ زیادہ مناسب ہے۔ اور تہجد کی نماز نبی نے سفر میں پڑھی ہے ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اس کی اتباع کریں۔
تین اشخاص کی دعا رد نہیں ہوتی
حدیث شریف میں آتا ہے نبی نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمیوں کی دعائیں بلاشک وشبہ قبول ہوتی ہیں۔ وہ کون ہیں؟
(۱) والد کی دعا اولاد کے لیے
(۲) مسافر کی دعا
(۳) مظلوم کی دعا۔ (سنن ابی داود، مسند احمد، سنن ترمذی)

اب یہاں الفاظ کو دیکھیں۔ فرمایا کہ مسافر کی دعا جو اَڑتالیس میل سے زیادہ کے سفر پر روانہ ہوگیا وہ مسافر ہے۔ اب اس میں یہ نہیں کہا کہ نیک مسافر کی دعا یا گناہ گار مسافر کی دعا، متقی کی یافاسق کی، بلکہ بتایا کہ مسافر کی۔ تو جب ہم سفر پر چلے گئے اور مسافر بن گئے ، اب اللہ ہماری دعاؤں کو اپنی رحمت سے قبول فرمائے گا۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ سب سے زیادہ جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہوتی ہے جو غائب کے حق میں ہو۔ (سنن ابی داؤد بروایت حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص)
دیکھیں! میں یہاں موجود ہوں آپ یہاں موجود ہیں، میں آپ کے لیے دعا کروں آپ میرے لیے دعا کریں یہ بھی قبول ہوگی اِن شاء اللہ۔ لیکن تیسرا بندہ کوئی ایسا ہے جو موجود ہی نہیں، دُور ہے، اس کو اطلاع بھی نہیں ہے، اور آپ اس کے لیے دعا کر رہے ہیں۔ یہ جو غائب کے حق میں دعا ہے فرمایا کہ سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ یہاں سے یہ نکتہ ملا کہ جب ہم سفر میں جارہے ہیں تو پیچھے گھر والے ہیں، رشتہ دار، متعلقین، اَحباب ہیں وہ سارے غائبین ہیں۔ اب سب کے لیے دعا کریں۔ اس مسافر کی دعا ان سب کے حق میں قبول ہوگی۔ سبحان اللہ! ہمیں یہ خبر دینے والے وہ ہیں جن کی زبان سے ہمیشہ سچ نکلا۔ کافر بھی کہتے تھے کہ آپﷺ صادق وامین ہیں۔ ہم تو مسلمان ہیں اس لیے جب کبھی سفر میں جائیں یقین کے ساتھ خوب دعاؤں کا اہتمام کریں۔
سفر میں روزہ رکھنا
اسی طرح سفر کی حالت میں صاحبِ طاقت روزہ بھی رکھ سکتا ہے۔ حج یا عمرے کا سفر ہو تب بھی روزہ رکھا جا سکتا ہے۔ حرم شریف میں ہر پیر اور جمعرات کو باقاعدہ دسترخوان لگتا ہے اور روزے دار افطار کر رہے ہوتے ہیں۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ہم نبی کے ساتھ سفر میں تھے۔ ہم میں سے بعض روزے سے تھے اور بعض بنا روزے کے تھے۔ اور کسی نے بھی کسی دوسرے کو برا نہیں کہا۔ جس کو سہولت ہوئی اس نے رکھ لیا، جس کو سہولت نہ ہوئی اس نے نہیں رکھا۔ دونوں طرح سے اختیار ہے۔ بخاری شریف میں کئی روایات ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے اور نہیں بھی رکھا۔ چناںچہ جو چاہے رکھے اور جو نہیں رکھنا چاہتا نہ رکھے اختیار ہے، آسانی ہے۔ (صحیح بخاری، باب وجوب صوم رمضان/ باب فضل الصوم)
سفر میں قربانی کرنا
نبی نے سفر کی حالت میں قربانی فرمائی ہے۔ اور اس قربانی کے گوشت کو بچا کر بھی رکھا ہے، اور سفر میں کئی دفعہ اسے استعمال بھی کیا ہے۔ اگر کوئی شرعی مسافر ہے تو شرعاً پر قربانی تو نہیں، کیوںکہ وہ مسافر ہے، لیکن اگر گنجایش ہے اور اللہ نے مال دیا ہے تو قربانی کرنی چاہیے۔
ساتھیوں کی خدمت کرنا
سفر کے موقع پر ایک عظیم کام اور بھی ہے۔ جب انسان سفر شروع کرے تو چاہیے کہ ساتھیوں کی، رفقائے سفر کی خدمت کرنے کی نیت کرے۔ ایک یہ کہ میری کوئی خدمت کرے، میری ضروریات کو پورا کرے، مجھے تکلیف نہ ہو۔ اور ایک یہ کہ ان شاء اللہ میں دوسروں کے کام آؤں گا، کسی کو میری وجہ سے تکلیف نہ ہوگی۔ یہ دوسری بات ہی بڑی اونچی ہے، اسی سے محبتیں جنم لیتی ہیں۔
حضرت جریر بن عبداللہ کا جذبہ
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میں حضرت جریر بن عبداللہ کے ساتھ سفر پہ نکلا، باوجود یکہ وہ عمر میں مجھ سے بڑے تھے اور میں چھوٹا تھا لیکن وہ سفر میں میری خدمت کرتے تھے۔ میں ان سے عرض کرتا کہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، آپ ایسا نہ کریں۔ وہ فرماتے کہ میں نے انصار کو دیکھا ہے کہ وہ جنابِ رسول اللہﷺ کی خدمت کرتے تھے، اس لیے میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک ایک بھی انصاری صحابی ہے، میں اس کی خدمت کروں گا۔ (صحیح مسلم)
سفر میں کسی کی خدمت کرنا بہت عظیم ثواب ہے۔ امام بخاری نے خدمت اور سفر کا باقاعدہ باب قائم کیا ہے۔
خدمت سے کیا مراد ہے؟ جس چیز کی دوسرے بندے کو حاجت ہو، اسے دل کی خوشی سے پورا کرنا۔ اس کے اندر کوئی خاص چیز نہیں ہے، مثلاً کسی کا سامان اٹھا کر اپنے اوپر لاد لیا، بازار سے کوئی چیز لا کر دے دی، بستر لگادیا، وضو وغیرہ کا اہتمام کردیا۔ غرض جس چیز کی ضرورت پڑی وقت کے مطابق اس چیز کا اہتمام ہم نے کردیا تو یہ خدمت ہوگئی۔
خدمت والے اجر میں بڑھ گئے
ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک سفر میں چند صحابہ ساتھ تھے۔ کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہ رکھا جیسا کہ پہلے بات آئی۔ اب اس زمانے کا سفر آج کے زمانے کے سفر سے زیادہ محنت طلب ہوا کرتا تھا۔ جب یہ اپنے مقام پہ پہنچے جہاں پڑاؤ ڈالنا تھا تو جن لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ زیادہ تھک گئے تھے، لہٰذا وہ تو وہاں جاکر لیٹ گئے کیوںکہ اب ان میں ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اور جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے پہلے تو سامان رکھا، اس کے بعد خیمے نصب کیے۔ اور جو لوگ روزے سے تھے، ان کا سامان بھی ترتیب سے رکھا۔ اس کے علاوہ اپنی اور ان کی سواریوں کو باندھا۔ ان کی اس خدمت کو دیکھ کر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
ذَھَبَ الْمُفْطِرُوْنَ الْیَوْمَ بِالْأَجْرِ. (متفق علیہ)
ترجمہ: آج (خدمت کی وجہ سے) روزہ نہ رکھنے والے اَجر میں آگے بڑھ گئے۔
ہم نے بڑوں سے سنا ہے کہ عبادت سے جنت ملتی ہے اور خدمت سے خدا ملتا ہے۔ لیکن آج افسوس کی بات یہ ہے کہ اس عظیم ثواب سے ہم سب محروم ہیں، حتیٰ کہ استاذ کے ساتھ شاگرد یا شیخ کے ساتھ مرید اس لیے نہیں جاتا کہ خدمت کرنی پڑے گی۔ یاد رکھیے کہ خدمت کرنا بڑی سعادت ہے، اس سے اللہ کا قرب ملا کرتا ہے۔
سفر میں شادی کرنا
نبی نے سفر میں شادی بھی کی ہے۔ تو سفر میں رشتہ طے ہونا یا شادی کرلینا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔ خیبر سے فارغ ہو کر نبی مکہ مکرمہ عمرے کے لیے تشریف لائے۔ یہ 7 ہجری کا واقعہ ہے۔ اسی حالتِ سفر میں حضرت میمونہ سے نکاح کیا۔ چناںچہ نبی اِحرام ہی کی حالت میں تھے۔ حضرت عباس نے نکاح کا خطبہ پڑھا اور نکاح ہوگیا۔ اس کے بعد جب نبی عمرے سے فارغ ہو کر واپس آئے تو مقامِ سَرِفْ میں آپ کی رخصتی ہوئی اور وہیں رات گزاری۔ (متفق علیہ)
یہاں سے دو باتیں نکلتی ہیں:ـ
(۱) سفر کے اندر نکاح کی ممانعت نہیں ہے۔
(۲) اس میں ایک نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ سفر میں کتنی سادگی ہوگی، وہ اہتمام جو مقام پہ کیا جا سکتا ہے، وہ سفر میں نہیں ہو سکتا۔ معلوم ہوا کہ شادی کو سادہ ہی رہنے دیا جائے۔ آپﷺ خیبر تشریف لے گئے تو وہاں حضرت صفیہ سے آپ کا نکاح ہوا اور ولیمہ بھی ہوا۔ شادی کو عبادت سمجھیں گے تو مسئلہ آسان ہوگا، کیوںکہ عبادت کے اندر سادگی ہوا کرتی ہے، آسانی ہوا کرتی ہے۔ اس کے اندر ڈھول ڈھماکے کرنا جائز نہیں ہے ۔ نبی نے سفر کی حالت میں جو شادی کی ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ سادہ چیز تھی، آسان تھی۔ جس طرح سفر میں نماز پڑھنا ہے، ایسے ہی نکاح کرنا بھی آسان ہے کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ اس کو ہم نے مشکل بنادیا ہے۔ جب سے ہم نے نکاح کو مشکل بنایا ہے زنا عام ہوگیا ہے۔ جتنا ہم نکاح کو آسان، سستا اور سادہ رکھیں گے سنت کے مطابق، اتنی بے حیائی کم ہوتی جائے گی۔ یہ اُصول کی بات ہے اور آج کل کے دور میں تو تصور بھی نہیں ہے کہ سفر کے درمیان میں شادی کی جائے۔
سفر سے واپس ہونا
اس کے بعد بات کرتے ہیں کہ جب انسان سفر پہ گیا اور واپس اس نے اپنے گھر پہنچنا ہے تو کون سا وقت واپسی کے لیے بہتر ہے؟ اس میں مختلف روایات ہیں۔
حضرت اَنس کی وایت ہے کہ نبی رات کو سفر سے واپس تشریف نہ لاتے، آپ صبح کے وقت یا شام کے وقت تشریف لاتے۔ (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ)
یعنی Late Night نہ آتے، یا تو مغرب سے پہلے آگئے،یا صبح اِشراق کے بعد آگئے۔ اس ترتیب سے آپﷺ گھر والوں کے آرام اور باقی چیزوں کا خیال رکھا کرتے تھے۔ سفر میں بھی ان کا خیال فرماتے تھے ہم تو گھر میں رہتے ہوئے بھی خبر نہیں رکھتے ہیں۔ ذرا غور تو کریں اس پر کہ Situation یہ ہےکہ ایک آدمی مہینے کا سفر، 15 دن کا سفر، مشقت بھرا سفر کرکے رات میں اپنے شہر پہنچ گیا۔ اب گھر سامنے ہے 15 دن باہر نکلے ہوئے ہوگئے ہیں، یا 20 دن ہوگئے ہیں،اب بھی اپنے گھر میں داخل نہیں ہو رہے کہ اہل خانہ کو پریشانی نہ ہو۔ ہم میں سے کوئی ایسا سوچ بھی سکتا ہے؟ تھکن بھی ہے، گھر بھی سامنے موجود ہے، 20,15 منٹ کا یا آدھا گھنٹے کا سفر رہ گیا اور اب گھر نہیں جانا۔ آپﷺ صحابۂ کرامj کو باہر روک لیتے، گھروں میں اطلاع کرواتے کہ سب کو اطلاع ہوجائے۔ اس کے بعد اگلے دن یا اس وقت کے بعد تشریف لاتے، بغیر اطلاع دیے فوراً نہ آتے تھے۔ البتہ اگر آپ سفر سے واپس آرہے ہیں اور موبائل فون کے ذریعے، یا کسی مواصلاتی رابطے کے ذریعے پہلے سے اطلاع دے دی ہے کہ رات کو 2 بجے پہنچوں گا تو اجازت ہے۔ پہلے سے گھر والوں کو علم ہے کہ آپ نے اس ٹائم پہ آنا ہے تو اجازت ہے، منع نہیں ہے۔
نبی گھر والوںکا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔ ہمارا کیا عالم ہے کہ بیل دیں، اب بیوی کی کیا مجال کہ ایک منٹ کے اندر دروازہ نہ کھولے۔ اگر وہ 15 منٹ تاخیر کرلے، اور صاحبِ خانہ کو کھڑا رکھے اور عذر پیش کرے کہ جی! میری آنکھ لگ گئی تھی۔ پھر دیکھیں الامان والحفیظ کہ اَخلاق کدھر جاتے ہیں۔ غصہ بھی شروع ہوجائے گا اور جھوٹ بھی شروع ہوجائے گا۔ ایسی چیزوں سے بچنا چاہیے اور نبیﷺ کی سنت کے مطابق گھر والوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
سفر میں خرچ کرنا
اسی طرح کسی کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حج وعمرے کے سفر کی بھی سعادت ملتی ہے۔ تو حج کے سفر میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کی مانند ہے، اور ایک درہم کا خرچ کرنے کا بدلہ سات سو درہم ہے، ایک روپے کی جگہ سات سو روپے کا ثواب ملے گا۔ (مسند احمد، مصنف ابن ابی شیبہ) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ حج وعمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں جو دعا کرتے ہیں قبول ہوتی ہے، جو خرچ کرتے ہیں اس کا بدل پاتے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ)  اور امی عائشہ نے عمرے کے بارے میں نبی کی حدیث روایت کی۔ فرمایا: تمہاری مشقت اور خرچ کے برابر تم کو عمرے کا ثواب ملے گا۔ (متفق علیہ) تو حج وعمرے کے سفر میں خرچ زیادہ ہو ساتھیوں پر، ناداروں پر تو ثواب بڑھ جاتا ہے بشرط یہ کہ اِسراف نہ ہو۔ اور اگر تکلیف آئی تو اس پر بھی اتنا ثواب بڑھ جائے گا۔
اہلِ خانہ کے لیے تحفہ لینا
جب انسان سفر پہ جاتا ہے، چاہے وہ حج و عمرے کا سفر ہو یا کوئی اور سفر ہو۔ نبی کی مبارک سنت سفر سے واپسی پر یہ ہے کہ گھر والوں کے لیے کچھ نہ کچھ ہدیہ لے کر آتے تھے۔ بچوں کے لیے کھانے پینے کی کوئی چیز لے آئے، بیوی کے لیے لے آئے، گھر والوں کے لیے کوئی نہ کوئی چیز ہدیہ کے طور پر لاتے تھے۔ تو جس کی جتنی گنجایش ہو اس حساب سے وہ کچھ نہ کچھ ہدیہ لے آئے۔
حضرت جابر بن سمرہ کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ فرماتے تھے: جب اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو کچھ خیر عطا فرمائے (مال یا کوئی برتنے کا سامان) تو اپنی ذات سے اور اپنے گھر والوں سے شروع کرےـ (پہلے ان پر خرچ کرے)۔ (صحیح مسلم)
حج وعمرے کے سفر میں میرے نزدیک سب سے بہترین تحفہ کھجور اور پانی ہے۔ وہاں تھوڑے دنوں کے لیے جانا ہوتا ہے تو اگر ہم بازاروں کا رخ کرتے رہے تو بہت نقصان ہوگا۔ بیت اللہ کا طواف کریں یہ زیادہ مناسب ہے بازار کے طواف سے۔ باقی اگر کوئی جائے نماز وغیرہ کسی کو دینی ہو تو یہاں سے پہلے سے خرید کر رکھ لیں، اور واپسی پر آسانی کے ساتھ دے دیں تا کہ بات بھی پوری ہوجائے۔ کھجور اور پانی بہترین تحفہ ہے، اس سے بہتر چیز وہاں سے یہاں لانے کے لیے کچھ اور نہیں ہے۔
مسافر کو رخصت کرنا
اسی طرح سفر کے لیے جب کوئی مسافر روانہ ہوتا ہے تو اس کو رخصت کرنا بھی سنت ہے۔ صحابہ کرا کو نبیd سے کتنی محبت تھی کہ آپ کی ایک ایک بات کو نوٹ کیا کرتے تھے۔اللہ اکبر کبیرا! صحابہ کرام دیکھ رہے ہیں کہ نبی مسافر کو چھوڑنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کر رہے ہیں۔ ذرا یہ واقعات سن لیجیے!
(۱) معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ جب نبی نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو میرے ساتھ پیدل چلتے ہوئے مجھے نصیحت فرماتے رہے اور میں سواری پر تھا۔ اخیر میں آپﷺ نے فرمایا تھا کہ اے معاذ! اب جب تم آؤ گے تو تمہارا گزر میری قبر سے ہوگا۔ یہ سن کر شدتِ غم سے حضرت معاذ بہت روئے تھے۔ (مسند احمد)
(۲) انس بن مالک کی روایت ہے کہ ایک شخص نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں سفر پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں، مجھے توشہ دیجیے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کو توشہ بنانے کا حکم دیا ہے۔ نبی نے اسے دعا دیتے ہوئے فرمایا:
زَوَّدَکَ اللّٰهُ بِالتَّقْوٰى.
’’خدا تجھے تقویٰ کا توشہ عطا فرمائے‘‘۔
وہ شخص بہت خوش ہوا اور اس نے عرض کیا کہ مزید فرمائیے۔ آپﷺ نے فرمایا:
وَغَفَرَ ذَنْبَکَ.
’’اللہ تعالیٰ تیرے گناہوں کو معاف کرے‘‘۔
اس نے مزید کی درخواست کی تو آپﷺ نے فرمایا:
وَیَسَّرَ لَکَ الْخَیْرَ حَیْثُمَا کُنْتَ.
’’اور جہاں کہیں بھی تم ہو، تمہارے لیے خیر (بھلائی) کو آسان کر دے‘‘۔ (سنن ترمذی)
اس لیے جب گھر پہ مہمان آیا اور پھر اس نے رخصت ہونا ہے، یا گھر کے کسی بندے نے رخصت ہونا ہے تو بہتر یہ ہے کہ کم سے کم ہم گھر کے دروازے تک چلے جائیں، یا باہر گاڑی تک چلے جائیں۔ اور اگر کسی کے لیے ممکن ہو تو اسٹیشن یا ایئر پورٹ تک چلا جائے۔ یہ اولیٰ درجے کی بات ہے، سب سے کم درجہ یہی ہے کہ گھر کی دہلیز تک ساتھ چلا جائے۔ اور بے ادبی کی بات کیا ہے؟ اس کو یہ کہہ دیا جائے کہ کال کرلو ٹیکسی آجائے گی اور چلے جانا۔ نہیں جی، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مہمان کو یا سفر پر جانے والے کو بہترین طریقے سے رخصت کریں، اس سے اس کی ہمت بھی بندھے گی۔
اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں جیسا کہ حدیث شریف میں دعا ہے:
أَسْتَوْدِعُ اللّٰهَ دِيْنَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِکَ. (سنن الترمذي)
’’میں آپ کا دین ،آپ کی ایمانداری اور اعمال کا اچھا انجام اللہ تعالیٰ کے سپر د کرتا ہوں‘‘۔
سفر کی متفرق سنتیں
نبی کی ایک اور مبارک عادت یہ تھی کہ سفر کے دوران جہاں جہاں رکنا ہے آدھ گھنٹے، 1گھنٹے کے لیے تو وہاں دوگانہ نماز ادا فرماتے تھے۔ اس لیے اگر ممکن ہو تو کم از کم دو رکعات نفل پڑھ لی جائیں، سنت پوری ہوجائے گی۔ اسی طرح نبی جب سفر سے واپس گھر تشریف لاتے تو گھر آنے کے بعد سب سے پہلا کام دورکعت نفل پڑھنا ہوتا۔ جہاں جاتے وہاں بھی نماز پڑھتے، واپسی اپنی مسجد میں فرماتے اور یہاں دو رکعت نماز پڑھ کر گھر تشریف لے جاتے اور وہاں بھی دو رکعت نماز پڑھتے۔ ایک حدیث میں آتا ہے نبی نے ارشاد فرمایا کہ جب تم سفر کا ارادہ کرو تو اپنے بھائیوں کو، ملنے جلنے والوں کو سلام کیا کرو، ان کی دعاؤں کے ساتھ تمہاری دعائیں خیر کا سبب بنیں گی۔تو لمبے سفر پر جانے سے پہلے سب لوگوں، عزیز واقارب سے مل کر جایا جائے۔
ایسے ہی جب ہم کسی کام کے سلسلے میں سفر پر گئے۔ مثلاً اندازہ یہ تھا کہ 5 دن کا کام ہے اور اللہ کی شان کہ وہی کام تین دن میں پورا ہوگیا، چار دن میں پورا ہوگیا، یا پانچویں دن ہی پورا ہوگیا، تو اَب کیا کرنا چاہیے؟
حج کے سفر میں نبیﷺ نے صحابہ کرام سےارشاد فرمایا: ’’تم میں سے جو اپنا حج ادا کرچکا ہے، وہ اپنے گھر جانے میں جلدی کرے، یہ بڑی نیکی ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی نے ارشاد فرمایا: ’’سفر مشقت اور تکلیف کا ایک حصہ ہے جو آدمی کو کھانے پینے سے، آرام سے روکتا ہے۔ جب تم میں سے کسی کی ضرورت پوری ہوجائے تو گھر کی طرف واپسی میں جلدی کرے‘‘۔ (صحیح بخاری)
جیسا کہ ابھی بات آئی کہ نبیواپسی پر سب سے پہلے مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے۔ اس کے متعلق حدیث شریف سن لیجیے!
حضرت ابوثعلبہ فرماتے ہیں کہ جب نبی سفر سے واپس تشریف لاتے اولاً دورکعت نماز پڑھتے اپنی مسجد میں، پھر بی بی فاطمہ کے گھر تشریف لے جاتے، اور پھر ازواجِ مطہرات کے گھروں پر تشریف لے جاتے۔ (معجم طبرانی، فتح الباری)
کئی روایات کے اندر یہ بات ہے کہ جب نبی واپس اپنے شہر پہنچ جاتے تو پہلے مسجد نبوی تشریف لے جاتے نماز پڑھتے، آنے والوں سے ملتے، اس کے بعد گھر جاتے تھے۔ آج اس سنت پر عمل تو بہت دور کی بات، اس کا علم بھی شاید بہت سے لوگوں کو نہ ہو۔ اگر ہر دفعہ ہمارے لیے مشکل ہو تو کبھی کبھی ایسا کرلیا کریں۔ بجائے سیدھا گھر جانے کے راستے میں ہی کسی مسجد میں دو رکعت نفل پڑھ لیں اور پھر گھر آجائیں۔ کتنی دیر لگے گی؟ پانچ منٹ یا دس منٹ۔ چلیں جی! اس سے رسول اللہﷺ کی سنت تو زندہ ہو جائے گی۔ برکتوں کو لے کر ہم گھر آئیں گے تو فائدہ ہوگا۔ نبی کا یہ معمول تھا، ہم بھی اس کو اپنا معمول بنانے کی کوشش کرلیں۔ دیکھیں! واجب نہیں ہے، اور نہ ہی اس کے چھوڑنے سے گناہ ہوگا، لیکن بہرحال محبت کا تقاضا ہے۔ اپنی زندگی میں تھوڑا تھوڑا لانے کی کوشش کریں اِن شاءاللہ اللہ تعالیٰ آسانی فرمادیں گے۔
نبی کی ایک اور بہت ہی پیاری عادتِ طیبہ یہ تھی کہ نبی جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو گھر کے بچوں سے ملاقات فرماتے۔ مدینہ طیبہ کے بچے آپﷺ سے بہت محبت کرتے تھے اور آپ بھی ان بچوں پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ بچے دوڑ کر آپ کے پاس آتے تھے۔ کبھی نبی ان کو اپنی سواری پر بھی بٹھالیا کرتے تھے۔ (متفق علیہ) غرض یہ کہ گھر واپس آنے کے بعد بچوں کو ٹائم دینا، محبت دینا سنت ہے۔ اب آپ ائیرپورٹ سے آرہے ہیں، اسٹیشن سے آرہے ہیں اور بچے بھی لینے آگئے ہیں تو چھوٹے بچوں کو اپنی گود میں بٹھالیں، سنت بھی پوری ہوجائے گی۔ بچہ بھی آپ کا اپنا ہے، خوشی بھی آپ کو ہوگی اور سنت کا ثواب بھی آپ کو مل جائے گا۔ اس نیت سے کریں کہ یہ عمل میرے محبوبﷺ کو بڑا پسند تھا۔
نبی کریمﷺ کی بیٹیوں سے محبت
نبی کی ایک اور بھی بڑی پیاری عجیب عادت تھی۔ وہ یہ کہ آپﷺ جب سفر شروع فرماتے تو اپنے اہلِ خانہ میں سے سب سے آخر میں اپنی بیٹی فاطمہ سے ملاقات فرماتے، اور جب واپس آتے تو سب سے پہلے بی بی فاطمہکے گھر جاتے ان سے ملتے پھر اپنے گھر آتے۔ بیٹیوں سے محبت نبی کریمﷺ نے اپنی امت کو سکھائی ہے۔
نبی کی چار صاحبزادیاں تھیں۔ چوتھی صاحبزادی حضرت فاطمہ ہیں۔ ان کا گھر امی عائشہ کے گھر سے بالکل جڑا ہوا تھا۔ جہاں آج تین حضرات کی قبورِ مبارک ہیں، وہ امی عائشہ کا گھر ہے۔ اور اس سے پچھلی والی جو جگہ ہے جہاں محرابِ تہجد بھی ہے وہ بی بی فاطمہ کا گھر تھا۔ یہ دونوں گھر جڑے ہوئے تھے۔ چھوٹے چھوٹے گھر تھے تو بیٹی سے جاتے ہوئے بھی ملتے، اور واپسی پہ بھی ملتے۔
مصافحہ؍ معانقہ کرنا
ایسے ہی جب کوئی سفر سے واپس آئے تو اپنے متعلقین سے مصافحہ کرے اور معانقہ کرے، یہ دونوں چیزیں سنت ہیں۔
حضرت ابو ذر غفاری فرماتے ہیں کہ میں نے جب بھی نبی سے ملاقات کی آپ نے مصافحہ کیا۔ (سنن ابی داؤد)
ایک حدیث میں آتا ہے رسولِ پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں اور مصافحہ کریں تو دونوں کے جدا ہونے سے قبل ان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد،معجم کبیر للطبرانی)
حضرت انس روایت فرماتے ہیں کہ نبی کے صحابہ کرام جب ملتے مصافحہ کرتے، اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے۔ (معجم اوسط للطبرانی)
مصافحہ دونوں ہاتھوں سے کرنا ہے، یہ نبی کی سنت ہے۔ (متفق علیہ)
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ جب میں حبشہ سے واپس آیا اور مدینہ طیبہ حاضر ہوا اور میری آپd سے ملاقات ہوئی تو آپ نے مجھ سے معانقہ کیا یعنی گلے لگایا۔
(سیرت ہشام)
بعض کتبِ تفاسیر میں ہے کہ معانقہ سب سے پہلے حضرت ابراہیم نے کیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے تو ذوالقرنین بادشاہ مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ انہیں خبردی گئی کہ ابراہیم مکہ مکرمہ میں تشریف فرماہیں تو وہ ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوا ، حضرت ابراہیم نے ان سے معانقہ کیا یعنی گلے لگایا۔
عام طور سے ہم ایسا کرتے بھی ہیں، لیکن اگر اس میں ہم سنت کی اتباع کی نیت کرلیں تو یہ عمل برکت والا ہوجائے گا۔ اور بغیر نیت کے یہ رواج ہوسکتا ہے، مگر صحیح نیت کے ساتھ اس کا معاملہ بدل جائے گا۔
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ . (صحیح البخاري)
’’اعمال کا تعلق نیت کے ساتھ ہے‘‘۔
حضرت جی کا ایک قیمتی ملفوظ
حضرت جی دامت برکاتہم ایک عجیب بات ارشاد فرماتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اس امت کو بدنیتی سے، بری نیت سے اتنا نقصان نہیں پہنچا جتنا بلا نیتی سے پہنچا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ بدنیت سے کوئی نقصان ہی نہیں ہوا، بلکہ اس سے بڑے بڑے نقصانات ہوئے ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ جو نقصانات ہوئے ہیںوہ بلانیتی سے ہوئے ہیں کہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کی نیت سنت کی نہیں ہوگی، علم بھی نہیں ہوتا اور کر رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر چیزیں ایسی ہیں جو کوئی نئی بات نہیں ہے، ہم سب روز ہی دیکھتے رہتے ہیں۔ جیسے سفر سے واپس آئے ہیں رشتہ داروں سے ملاقات ہو رہی ہے، دوستوں سے مل رہے ہیں، گلے لگ رہے ہیں، اس میں سنت کی نیت کرلیں تو کیفیت بدل جائے گی۔ عمل وہی ہے لیکن صحیح نیت سے قیمت بڑھ جائے گی۔
صحیح نیت سے چپل سیدھی کرنا
اس کی ایک اور مثال آپ کو دیتا ہوں۔ چپل سیدھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ الٹی ہوجاتی ہے۔ اب بعض لوگ کہتے ہیں جی! چپل اُلٹی ہوگئی ہے، پتا نہیں کچھ ہوجائے گا۔ یہ محض لوگوں کا وہم ہے، اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ بہرحال جو بات سنانا چاہ رہا تھا وہ یہ ہے۔ ایک جگہ میں ایک اللہ والے کے ساتھ تھا جو کہ عالمِ دین بھی ہیں۔ راستے میں چپل اُلٹی پڑی ہوئی تھی تو چلتے چلتے اپنے راستے سے ہٹے اور جاکر چپل کو اپنے پاؤں سے سیدھا کر دیا اور آگے چل پڑے۔ میں نے کہا کہ حضرت! اس میں ایسی کون سی بات تھی، عوام ان چیزوں کو دیکھ کر حجت بناتے ہیں۔ خیر! اس قسم کی کوئی میں نے بات کہی تو فرمانے لگے کہ بڑوں کی بڑی باتیں۔ دیکھو بھئی! مجھے یہ گوارا نہیں کہ جوتی کا اُلٹا حصہ میرے والد کی طرف ہو، تو مجھے کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ میرے پروردگار کی طرف اس کا رخ ہو۔ اب جوتی کو اس نیت کےساتھ سیدھا کرنے سے معاملہ بدل گیا۔
سفر سے واپس آنے والوں کا استقبال کرنا
اسی طرح سفر سے واپس آنے پر حاضرین مسافروں کا استقبال کریں۔ حضرت سائب بن یزید کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو لوگوں نے ثنیۃ الوداع (جگہ کا نام) پر ان کا استقبال کیا۔ میں اس وقت چھوٹا تھا، لیکن اللہ کے حبیبﷺ کے استقبال کے لیے لوگوں کے ساتھ نکلا۔ (صحیح بخاری) آج کے زمانے میں یوں سمجھ لیں کہ اسٹیشن ریسیو کرنے چلے گئے،ایئرپورٹ چلے گئے بس اسٹاپ چلے گئے۔ سمجھانے کے لیے ایسی بات کہہ رہا ہوں۔ علماء نے لکھا ہے کہ سفر سے واپسی پر آنے والے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ سب سے ملنے جائے، بلکہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ ملنے آئیں۔ جب یہ سفر پہ جائے تو یہ لوگوں سے ملے اور جب واپس آیا ہے تو لوگ اس سے ملیں، اس چیز کا اہتمام کیا جائے تو فائدہ ہوگا۔
واپسی پر کھانا کھلانا
حضرت جابر بن عبداللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی سفر سے واپس مدینہ طیبہ تشریف لائے تو ایک گائے یا ایک اونٹ ذبح کیا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، جو آپ کے حکم سے ذبح کی گئی اور سب نے پکا کر کھانا کھایا۔ اور حضرت عبداللہ بن عم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو کھانا کھلانے کی نیت سے روزہ نہ رکھتے، دعوت کا اہتمام کرتے، ساتھیوں کو بلاتے ملاقات بھی ہوجاتی اور کھانا پینا بھی ہوجاتا۔ یہ تینوں روایات صحیح بخاری میں ’’بَابُ الطَّعَامِ عِنْدَ الْقُدُوْمِ‘‘ میں ہیں۔
آسان عمل کا مشکل بن جانا
اُس زمانے کی دعوت ہمارے زمانے کی دعوتوں سے بڑی مختلف تھی۔ دعوت اصل میں ایک ملاقات ہوتی تھی۔ اس میں چند کھجوریں رکھ دیں تو وہ دعوت ہوگئی۔ کھجور گھر میں نہیں ہے روٹی کا سوکھا ٹکڑا موجود ہے وہ رکھ دیا، دعوت ہوگئی۔ اور اگر صرف پانی موجود ہے وہ پلا دیا، دعوت ہوگئی۔ آج ہی گھروالوں کو کہہ کر دیکھ لیں کہ جی! کل میں نے 15 لوگوں کو گھر پر دی ہے، پھر دیکھیں اہلیہ صاحبہ کا موڈ اور باقی گھر والوں کا رویہ۔ ہم نے دعوت کو مشکل اور مصیبت بنا لیا ہے۔ آنے والے کا بھی معاملہ یہی ہے کہ جب تک چار چیزیں سامنے نہ ہوں تو سمجھے گا کہ میرا اِکرام ہی نہیں ہوا۔ ہر آدمی اپنی سہولت اور آسانی کے مطابق دعوت کرے تو کافی ہے۔ اصل ملاقات مقصود ہوا کرتی ہے، دین کی بات مقصود ہوا کرتی ہے، طعام مقصود نہیں ہوتا۔ ایک دوسرے کی خیر خیریت دریافت کی جاتی ہے۔ دعائیں لی اور دی جاتی ہیں۔ اور بقول کسی کے یہ تو پکی بات ہے کہ صحابہ کرام جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو آخرت کی یاد دلایا کرتے تھے، تلقین کرتے تھے، وصیت کیا کرتے تھے، سورۃ العصر سنایا کرتے تھے، ایک دوسرے سے ملتے تو خیر خیریت پوچھتے۔ بلکہ اب سے تیس چالیس سال پہلے جب لوگ ملاقات کرتے تھے تو بیوی بچوں کا حال احوال، کاروبار کا پوچھا کرتے تھے۔ اور آج گھر میں آتے ہیں تو سب سے پہلے وائی فائی کا پاس ورڈ پوچھتے ہیں۔
اگر ہم اپنی شادیوں اور دعوتوں کا تصور کریں تو پریشانی پیدا ہوتی ہے کہ جی! دعوت کے نام پر چھ گھنٹے کھڑے رہنا ہے۔ پھر پہلے اس کے لیے تیاری کرنی ہے، اس کے بعد کسی کو پسند آئے نہ آئے وہ الگ مسئلہ۔ اور عورتوں نے دو تین گھنٹے آگے اور کام سنبھالنا ہے۔ تو دعوت ہم کریں لیکن آسانی کو سامنے رکھیں۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ مہمان نوازی کے ہم آداب بھول جائیں۔ اس کی ایک الگ ترتیب ہے۔ مہمان نوازی تو حق ہے کرنے کا، لیکن ساری چیزوں کو اعتدال میں رکھتے ہوئے ہم چلیں گے، اور سمجھ کر چلیں گے تو آسانی ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام چیزوں کے اعتدال کی توفیق عطا فرمائے۔
سفر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا
اچھا! حالتِ سفر میں اللہ کی یاد یعنیذکرِ الٰہی ضروری ہے۔ اس کے بغیر گزارا ہی کوئی نہیں۔ انسان دعوت وتبلیغ کے لیے سفر کرے، کاروبار کے لیے، عزیز واقارب سے ملنے کے لیے سفر کرے، ہر سفر میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جب حضرت موسیٰ و حضرت ہارون فرعون کے پاس گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تھا:
اِذْهَبْ اَنْتَ وَاَخُوْکَ بِاٰيٰتِیْ وَلَا تَنِيَا فِیْ ذِكْرِیْ o (طہ: ۴۲)
تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ، اور میرا ذکر کرنے میں سستی نہ کرنا‘‘۔
اسی طرح جہاد کے موقع پر ارشاد فرمایا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَo
(الأنفال: 45)

اے ایمان والو! جب تمہارا کسی گروہ سے مقابلہ ہوجائے تو ثابت قدم رہو، اور اللہ کا کثرت سے ذکر کرو، تاکہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔
غرض ہر موقعے پر اللہ کی یاد ضروری ہے، جہاد میں، عام سفر میں، حضر میں۔
حضرات صحابہ کرام سفر میں اللہ کے ذکر کا بہت خیال فرماتے تھے۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جب ہم چڑھائی پر چڑھتے تو اَلله اَکْبَر کہتے، اور جب ڈھلان سے اترتے تو سُبْحَانَ الله کہتے۔ (صحیح بخاری) ایک روایت میں ہے کہ تین مرتبہ کہتے، جبکہ دوسری روایات میں عموم ہے کوئی تعداد مقرر نہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کثرت سے کہتے تھے۔
جب ہم سفر پہ جاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ کچھ احباب ہوتے ہیں جو حضرت جی کا بیان لگالیتے ہیں اور سنتے رہتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو میوزک لگالیتے ہیں اب بتائیں کیا بنے گا۔ کہاں چڑھائی آئی، کہاں ڈھلان سے اترے، کچھ پتا ہی نہیں ہوتا۔ یاد رکھیے! جو سفر کی حالت میں خدا کے ذکر میں لگ جاتے ہیں تو فرشتے اس کے ہم سفر ہوتے ہیں۔ اور جو شعروشاعری، میوزک، گانے بجانے میں، FM لگانے میں لگے رہتے ہیں تو ان کا رقیبِ سفر پھر شیطان ہوتا ہے۔ اب خدانخواستہ ایکسیڈنٹ ہوجائے اور موت آجائے تو جو ذکر میں لگا ہوا تھا ذکر کی حالت میں قیامت کے دن اُٹھے گا، اور جو گانے بجانے میں لگا ہوا تھا تو وہ پھر قیامت کے دن شیطانوں کے ساتھ ہی اُٹھ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے آمین۔
علماء نے لکھا ہے کہ سفر کے اندر تین کام کرنے بہت ضروری ہیں:
(۱) اپنے مال سے غریب ساتھیوں پر خرچ کرنا۔
(۲) حسنِ خلق سے پیش آنا۔
(۳) رفقائے سفر کے ساتھ ہنسی خوشی، تفریح اور خوش طبعی کا عمل رکھنا۔
لمبے سفر کا ایک دلچسپ واقعہ
شیر شاہ ٹول پلازے پہ راستہ بند تھا۔ کسی نے بتایا کہ یہاں روزانہ ہڑتال ہو رہی ہے۔ روز روڈ بند کر دیتے ہیں اور شام کو پانچ بجے کھولتے ہیں۔ وہاں کوئی لوڈ شیڈنگ کا بہت بڑا مسئلہ چل رہا تھا۔ سب ہی کو بڑی پریشانی ہوئی۔ ہماری منزل آگے تھی اور اڑھائی گھنٹے کا سفر تقریباً باقی تھا۔ کسی نے کہا کہ فلاں ٹریک سے گاڑی لے لیں تو آگے جاکر آپ پھر اسی راستے پر آجائیں گے۔ اسی طرح کا کچھ واقعہ ہے، مجھے ابھی سو فیصد یاد نہیں۔ خیر! گاڑی اپنی تھی۔ اب ہم اس شخص کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑے۔ چلے تو چلتے ہی چلے گئے اور تین چار گھنٹے ویسے ہی لگ گئے۔ تین چار گھنٹے بعد ہم واپس جب اس ٹریک پہ آئے جس پر آنا تھا۔ الحمدللہ! واپسی پہ ایک ساتھی کہنے لگے کہ جی سفر کا پتا نہیں لگا۔ ہوا کیا تھا؟ شروع میں جب ساتھی پریشان ہونے لگے تو آپس میں تھوڑا بہت ہنسی مذاق کرلیا۔ بھئی! یہ دیکھو یہ باغ اچھا لگ رہا ہے۔ دیکھو! اس میں آم لگے ہوئے ہیں۔ آپس میں کچھ اس قسم کی باتیں شروع ہوئیں۔ واقعات یا کوئی مناسب سے لطائف سنائے گئے تو وہ تین چار گھنٹے پتا ہی نہیں چلے اور سفر آسانی سے طے ہوگیا۔
سفر کے اندر بسا اوقات کوئی ایسی بات آجاتی ہے تو ان چیزوں کی ضرورت پڑھتی ہے۔ اور بندے کے اندر خود حوصلہ ہوگا تو ہی یہ باتیں کرے گا، خود ہی پریشان ہوگا تو پھر معاملہ خراب ہوجائے گا اور دوسروں کو بھی پریشان کرے گا۔
ہنسی مذاق ایسی ہو جو گناہ نہ ہو۔ جائز انٹرٹینمنٹ بہت بڑی نعمت ہوا کرتی ہے۔
قبل از سفر حقوق کی ادائیگی
علماء نے سفر کے چند آداب لکھے ہیں۔ ترتیب وار ملاحظہ کرلیں:
(۱) پہلا ادب یہ لکھا کہ جب سفر کا ارادہ ہو تو اہلِ حق کے حقوق، قرض خواہوں کے قرض، لوگوں کی امانتیں واپس کر دی جائیں۔
(۲) دوسرا ادب یہ لکھا کہ اہل وعیال کے کھانے پینے، نان نفقہ کا معقول اور مناسب انتظام کرکے جائے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کے جانے کے بعد وہ تکلیف میں آجائیں۔
(۳) تیسرا ادب یہ لکھا کہ اپنے لیے سفر کا خرچہ معقول رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ ساتھیوں کی طرف دیکھتا رہے کہ یہ میرا خیال رکھیں۔
(۴) چوتھا ادب یہ لکھا کہ سفر کے اندر خوش اخلاق رہے، نرم طبیعت رہے، تحمل رکھے اور مزاج کے اندر وسعت رکھے۔ تیز مزاج، یا تند مزاج نہ بنے کہ ذرا ذرا سی بات پر غصہ آجائے کیوںکہ سفر کے اندر تو تکلیفیں آتی ہیں اس لیے اپنے آپ کو پہلے سے تیار رکھے۔
(۵) پانچواں ادب یہ لکھا کہ رفقائے سفر کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ رکھے۔ ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد کرے۔ خود دوسروں کی مددکا خواہش مند نہ ہو، ہاں اگر کوئی مدد کرے تو ان کا بھی شکر ادا کرے اور اللہ کا بھی شکر ادا کرے۔
(۶) چھٹا ادب بہت اہم ہے۔ لکھتے ہیں کہ رفیقِ سفر پہلے سے تلاش کرے کہ کس کے ساتھ جانا ہے؟ خاص طور سے حج عمرے کا سفر ہو یا ایسا سفر ہو جس میں کئی دن انسان نے رہنا ہے، تو رفیقِ سفر دین دار تلاش کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا رفیق ہو جس سے Attachment ہو، ورنہ سفر کے اندر پریشانی ہوتی ہے۔ جب رفیقِ سفر دین دار ہو، خوش اخلاق ہو، اور دین کے معاملے میں اس کا مدد گار ہو تویہ بہترین سفر ہوتا ہے۔
علماء فرماتے ہیں کہ بے دین لوگوں کے ساتھ چند دن بھی گزارے گا تو اس کی وجہ سے اس کی نماز، روزےپر غلط اَثر پڑے گا۔
(۷) ساتواں ادب یہ لکھا کہ متعدد افراد ہوں تو چاہیے کہ ایک کو اپنا امیر بنالیں۔ مثلاً ہم نے ایک دن کے لیے یہاں لاہور سے فیصل آباد جانا ہے۔ تین آدمی، چار آدمی ساتھ ہیں تو کسی ایک کو اپنا امیر بنالیں۔ آنا جانا تو ہو ہی جائے گا، لیکن اس طریقے سے سنت پوری ہوجائے گی اور معاملات کے اندر آسانیاں ہوں گی۔ جو اُمور بھی پیش آئیں اسے مشورہ کرکے طے کریں، اور امیر کی اطاعت کریں۔
(۸) آٹھواں ادب یہ لکھا ہے کہ اگر بڑا سفر ہو، اَہم سفر ہو تو اس سے پہلے استخارہ کی نماز ادا کرلیں۔ نبی سفر سے قبل کبھی دو رکعتیں اور کبھی چار کعتیں پڑھا کرتے تھے۔ حدیث شریف میں اس کی بڑی اہمیت بتائی گئی ہے۔
(۹) نواں ادب یہ ہے کہ سفر ویسے تو کسی بھی دن شروع کیا جاسکتا ہے، لیکن جمعرات والے دن نبی کو سفر کرنا محبوب اور پسندیدہ تھا۔ جس طرح سے آسانی ہو، سفر شروع کیا جاسکتا ہے، اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ اور نہ ہی کوئی بدفالی کسی دن سے لینے کی ضرورت ہے۔ کسی دن بھی سفر کرنا منع نہیں ہے۔ جمعہ والے دن یہ ہے کہ نمازِ جمعہ کا وقت داخل نہ ہوجائے۔ ویسے عام ترتیب جو نبی نے زیادہ پسند فرمائی وہ ہے صبح کے وقت جلدی شروع کرے کہ اس کے اندر خوب برکت ہے۔ اور دوپہر میں سفر ہے تو ظہر کی نماز باجماعت پڑھ لے پھر سفر کرے، اور جمعہ کا وقت قریب آگیا تو اب جمعہ پڑھ کے ہی چلے۔
(۱۰) اسی طرح سفر کے درمیان مسنون دعائوں کا اہتمام رکھے، کسی وقت بھی غافل نہ رہے، ہر دم ذکر فکر میں لگا رہے، اللہ کی یاد میں لگا رہے۔ جب بلندی پہ چڑھے تو اللہ اکبر، نیچے آئے تو سبحان اللہ کہے۔
(۱۱) جہاں قیام کر رہا ہے، جس شہر میں جانے کا ارادہ ہے وہاں کے مشایخ سے، وہاں کے بزرگوں سے، وہاں کے صاحبِ نسبت لوگوں سے ملاقات کی نیت بھی کرے اور ان سے ملاقات بھی کرے۔ وقت اور فرصت ہو تو اُن کی مجلس اور نصائح سے فائدہ اُٹھائے۔
(۱۲) سفر کی حالت میں عبادت اور اطاعت کی کچھ کمی محسوس کرے، دین کا نقصان نظر آنے لگے تو اس سفر کو چھوڑدے۔ اور یہ سمجھ لے کہ یہ سفر جو اس کے دین کا نقصان کر رہا ہے، یہ اس کے لیے مناسب نہیں۔ یعنی سفر ایسا ہو جس میں نمازوں پر اثر نہ پڑے، ایسا نہ ہو کہ سفر میں نمازیں ہی قضا ہوجائیں۔
(۱۳) سفر کا مقصد جب پورا ہوجائے تو واپسی میں جلدی کرے، اور گھر والوں کے لیے کوئی تحفہ کوئی ہدیہ لے کر آئے۔
(۱۴) واپسی پر پہلے مسجد میں دوگانہ ادا کرے، پھر گھر جائے۔
(۱۵) گھر میں داخل ہونے کے بعد جو مسنون دعائیں ہیں وہ پڑھے۔ اور گھر والوں کی، اہل واعیال کی اور متعلقین کی خیریت دریافت کرے۔ بچے گھر پہنچنے سے قبل استقبال کے لیے پہنچ جائیں، اگر سواری پاس ہے تو ان بچوں کو اپنی سواری پہ ساتھ بٹھالیں یہ مسنون ہے، اگر سواری نہیں ہے تو کوئی بات نہیں۔
(۱۶) سفر کے اندر سامان گم ہوجانا، گاڑی وغیرہ کا چیزوں کاغائب ہوجانا یہ سب کچھ ہوجاتا ہے، چیزیں گم ہوجاتی ہیں تو ان تمام چیزوں کے اندر صبر کا معاملہ رکھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرi سے گم شدہ سواری وغیرہ کے لیے دعا منقول ہے کہ اے اللہ! گم شدہ چیزوں کے لوٹانے والے! راستہ دکھانے والے! اے گم شدہ کو راستہ دکھانے والے! میرا گم شدہ لوٹا دیجیے۔ اپنی قدرت اور طاقت سے، یہ آپ ہی کی عطا اور آپ کا کرم ہے۔ یہ دعا علماء نے لکھی ہے، صحابہ نے اللہ سے دعا مانگی ہے۔ جب نبی حج کے سفر میں تھے آپ کا سامان غائب ہوگیا تھا، بعد میں مل گیا۔ تو سفر کے اندر یہ چیزیں اور چھوٹی موٹی پریشانیاں آتی ہیں، دل بہت کھلا رکھ کے چلے گا تو اِن شاء اللہ آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام چیزوں میں نبی کی سنت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ اپنی بار گارہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ ایک ایک چیز کو سیکھ کر، سمجھ کر عمل کرنے والا بنائے آمین۔
سفر کے بارے میں چند باتیں پوری ہوگئیں اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
وَاٰخِرُ دَعَوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

Leave a Reply