19

سلام کرنا حصہ اول

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. أَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِيْمِ o بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِo
وَاِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِيَّۃٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَاط (النساء: 86)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَ سَلٰمٌ عَلَى الْمُرْسَلِیْنَo
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

قوموں کے کلماتِ ابتدائیہ
ہر قوم میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب لوگ آپس میں ملتے ہیں تو کچھ ابتدائی کلمات ادا کرتے ہیں۔ انگریز جب ملتے ہیں گڈ مارننگ اور گڈ ایوننگ کے الفاظ بولتے ہیں۔ ہندو جب ملتے ہیں تو نمستے اور اس طرح کے الفاظ ادا کرتے ہیں۔ اور عربوں میں نبی کریمﷺ کی تشریف آوری سے پہلے عرب حضرات حُیِّیْتَ صَبَاحًا وَ حُیِّیْتَ مَسَاءًا (تم صبح و شام جیتے رہو) کہتے تھے، یا یوں کہتے تھے أَنْعِمْ صَبَاحًا (تمہاری صبح اچھی ہو)۔ لیکن جتنے بھی کلمات ہیں، کسی بھی قوم کے ہیں، سب نامکمل ہیں۔ سب جزوی طور پر ہیں، کامل نہیں ہیں۔ جنابِ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسانوں میں انسانیت کی روح پھونکی ہے، اور انسانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا ہے کہ کس طرح ایک دوسرے سے ملنا ہے۔ وہ الفاظ اور کلمات سکھائے ہیں جو انسانوں کی دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔ فرمایا کہ جب آپس میں ملو تو السلام علیکم کہو، دوسرا وعلیکم السلام کہے۔ یہ ملاقات کے بہترین بول ہیں۔ اسے کہتے ہیں سلام کرنا۔ آج سلام کرنے کے بارے میں چند باتیں بیان کی جا رہی ہیں ان کو توجہ سے سنیں، اپنانے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ رحمت فرمائیں گے۔
سب سے پہلے سلام کرنے والے صحابی
اس اُمت میں سب سے پہلے کس نے نبیﷺ کو سلام کیا تھا؟ حضرت ابو ذر غفاری فرماتے ہیں:
فَكُنْتُ أوّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ. (صحیح مسلم: باب فضائل أبي ذرh)
ترجمہ: ’’سب سے پہلے میں نے حضور پاکﷺ کو اسلام کی ہدایت کے مطابق سلام کیا تھا‘‘۔
چلیں!ایک سوال یہ کیا جا سکتا ہے کہ اس اُمت میں سب سے پہلے نبی کریمﷺ کو سلام کرنے والے صحابی کا نام بتائیے؟ حضرت ابو ذر غفاری۔ یہ وہ پہلے صحابی ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کو سلام کیا تھا۔
حضرت آدم کو سلام کی تعلیم
جب حضرت آدم کو اللہ نے پیدا کیا اور ان کے اندر روح ڈالی تو انہیں چھینک آئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں الحمدللہ کہنا سکھایا، اور خود جواب میں اُن سے فرمایا: تیرا رب تجھ پر رحم کرے۔ (چھینک پر الحمدللہ کہنا اور اس کے جواب میں یرحمک اللہ کی سنت بنی آدم میں اللہ تعالیٰ نے جاری فرما دی۔ نبی کریمﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے پر کچھ حقوق ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چھینکنے والے مسلمان کے جواب میں یرحمک اللہ کہو۔ (صحیح بخاری: رقم 1240، صحیح مسلم: رقم 2162) اور کتنی پیاری بات ہے کہ یہ وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے لیے کیا)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا کہ آپ فرشتوں کی اُس جماعت کے پاس جائیں اور ان کو جا کر کہیں: السلام علیکم۔ حضرت آدم گئے اور جا کر ملائکہ کو سلام کیا، فرشتوں نے جواب دیا: وعلیک السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ حضرت آدم واپس اللہ تعالیٰ کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! یہ آپ کا اور آپ کی اولاد کا ملنے جلنے کا طریقہ ہے یعنی سلام کرنا۔ (البدایۃ والنہایۃ: ص 200)
سلام کا معنیٰ
لفظِ سلام اللہ تعالیٰ کے مشہور 99 ناموں میں سے ایک ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ کے بےشمار نام ہیں، یہ 99 نام ایک جگہ ہیں اس لیے مشہور ہیں ورنہ اللہ پاک کے صفاتی نام تو بہت ہیں جن کی گنتی بھی نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی ہر چیز بے حساب ہے سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ بڑے کریم ہیں۔ اُس کے پیارے پیارے ناموں میں سے ایک نام ہے اَلسَّلَامُ۔ اس کا مطلب ہے ’’اَمن‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں میں سے ایک نام ہمیں عطا کیا اور فرمایا کہ دیکھو! آپس میں اس کو اختیار کرو، تم بھی امن میں، حفاظت میںآجائو گے۔ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دیا کرو۔ مختلف قوموں کے مختلف انداز ہیں، مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے الگ تشخّص عطا فرمایا ہے السلام علیکم، وعلیکم السلام۔ اس کے اندر کیا حکمتیں ہیں؟ ہم تو اتنا سمجھتے ہیں کہ یہ دعائیہ کلمات ہیں۔ بہت تھوڑے لوگ اس کی حکمتوں کو جاننے والے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہتمامِ عمل نصیب فرمائے۔
سلام کی حکمتیں
سلام میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ ’’معارف القرآن‘‘ میں مفتی شفیع صاحب نے لکھا ہے کہ السلام علیکم کے اندر (۱) ذکرِ خدا بھی آجاتا ہے۔ (۲) تذکیر یعنی یاددہانی بھی آجاتی ہے۔ اور (۳) اپنے مسلمان بھائی کے لیے اظہارِ تعلق کا طریقہ ہے۔ (۴) اپنے مسلمان بھائی کے لیے دعا ہے۔ (۶) سلام ایک معاہدہ ہے کہ میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائوں گا۔ تم مجھ سے امن میں آگئے، میں تمہارا برا نہیں چاہوں گا، کیوں کہ تم مجھ سے امن میں آگئے ہو۔ سلام کرنا چھوٹی چیز نہیں ہے۔
انسان کسی کو قول دے دے کہ دیکھو! تم اطمینان رکھو تم مجھ سے اَمن میں آگئے۔ اس معنی کو ذہن میں رکھتے ہوئے پہلے لوگوں کی ایسی کیفیت ہوگئی تھی کہ جب کوئی اجنبی ملتا اور سلام نہ کرتا تو خوف کی حالت ہو جاتی کہ یہ میرے ساتھ کوئی دشمنی نہ کرے۔ اور جب کوئی اس سے سلام ودعا کر لیتا تو خوش ہو جاتے، اطمینان میں آجاتے کہ اب میںاس سے اَمن میں ہوں، یہ میری غیبت نہیں کرے گا، یہ میرا برا نہیں چاہے گا، میرے جانے کے بعد میری پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپے گا۔ یہ سلام کا واضح مفہوم ہے۔
تمام اقوام کے جو بھی کلمات ہیں وہ جزوی معنیٰ رکھتے ہیں۔ گڈمارننگ صبح کی بات ہو گئی۔ گڈایوننگ شام کی بات ہو گئی۔ لیکن سلام کامل معنیٰ رکھتا ہے۔ دینِ اسلام کی تعلیمات بہت خوبصورت ہیں۔
السلام قبل الکلام
ملاقات کی ابتدا سلام سے کرنی چاہیے۔ اس کا اُصول کیا ہے؟ اس کا اُصول یہ ہے کہ سلام پہلے، کلام بعد میں چاہے جب بھی کسی سے ملاقات ہو۔ ترمذی شریف میں ہے حضرت جابر بن عبداللہi سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
اَلسَّلَامُ قَبْلَ الْکَلَامِ. (سنن الترمذي: باب ما جاء في السلام قبل الکلام، رقم 2699)
ترجمہ: ’’گفتگو سے قبل سلام ہے‘‘۔
جو سلام کثرت سے کرتا ہے اس کی نیکیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ محنت کوئی نہیں، خرچہ کوئی نہیں، کوئی نقصان نہیں ہوتا کہ جی! پیسے کم ہو جائیں گے۔ بس اہتمامِ عمل چاہیے۔
جیسے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ فرمایا: اپنے گھروں میں (نفل) نماز پڑھا کرو، اور گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔ (صحیح بخاری: رقم 422)
نفل نماز گھر میں ادا کرنے سے گھر میں بھلائیاں زندہ ہوں گی۔ اس لیے نفل نماز کا اہتمام ہو۔ فرض نماز مسجد میں اور نفل نماز گھر میں ادا کریں۔ تہجد، اوّابین، چاشت، صلاۃ الحاجات وغیرہ۔ اِن کے اہتمام سے گھروں میں بھلائیاں آئیں گی۔ میوزک اور ٹی وی سے بھلائیاں نہیں آئیں گی۔ کوئی مان لے تو ٹھیک ہے، نہ مانے تو قبر میں جاکر ہی مان ہی لے گا اِن شاء اللہ تعالیٰ۔ وہاں جاتے ہی کہے گا کہ اللہ! مجھے ایک دن کے لیے واپس بھیج دیجیے، میں گھر کو پاک کرتا ہوں، مگر پھر موقع نہیں ملے گا۔ یہ بات اہتمامِ عمل پر ضمنی طور پر آ گئی۔
سلام کے فضائل
حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے انس! میری اُمت کے جس فرد سے بھی ملاقات ہو اسے سلام کرنا (چاہے تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے ہو) اس سے تمہاری نیکیاں بڑھیں گی۔ (مسند ابی یعلیٰ: رقم 4231)
حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت ہے کہ سب سے پہلی بات جو میں نے نبی کریمﷺ سے سنی، وہ یہ ہے: اے لوگو! سلام کو رائج کرو، لوگوں کو کھانا کھلائو، رات کو نماز پڑھو جبکہ لوگ سو رہے ہوں، اور جنت میں سہولت اور آرام سے داخل ہو جائو۔
(سنن ترمذی: رقم 2485)
سلام کو عام کرنا، لوگوں کو کھانا کھلانا، تہجد کی نماز پڑھنا فرمایا کہ یہ تین کام کرلو اور مزے مزے سے جنت میں داخل ہو جائو۔
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتلا دیجیے کہ اگر میں اسے کر لوں تو (براہِ راست) جنت میں چلا جاؤں (یعنی جنت اور میرے بیچ کوئی رکاوٹ نہ ہو)۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، اور خوش کلامی اختیار کرو، اور صلہ رحمی کرو، اور رات کو نماز پڑھو جبکہ لوگ سو رہے ہوں، سلامتی کے ساتھ جنت میں چلے جاؤ گے۔ (مسند احمد: رقم 10399، 252/16)
خوش کلامی کسے کہتے ہیں؟ ہماری زبان پر گالی نہ ہو، نرم کلام ہو، محبت والا کلام ہو۔ اپنی زبان کو ہم خود چیک کریں۔ بہت سے نوجوان بتاتے ہیں کہ گھر میں آتے ہی بیوی کو دیکھ کر پاڑہ چڑھ جاتا ہے۔ خوش کلامی ہر ایک سے ہو۔ بہت سارے لوگ گھر سے باہر خوش کلام ہیں، لیکن گھر میں ان کا ماحول بہت خراب ہے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ۔ اس لیے خوش کلامی ہر ایک سے ہو۔ اور کھانا کھلانا بھی سب کے لیے ہو، مطلب کے لیے نہ ہو کہ یہاں سے مجھے نفع کی اُمید ہے چلو! یہاں کھلا دو۔ اور یہ غریب ہے یہاں سے مجھے فائدہ کوئی نہیں اس کو چھوڑ دو۔ اور سلام بھی سب ہی کو کرنا ہے۔ اور کوشش کر کے رات کے آخری حصے میں اُٹھ کر تہجد پڑھیے، اُٹھنا مشکل ہے تو پڑھ کر سو جائیں پھر فجر کے لیے تو اٹھنا ہی ہے۔ اِن شاء اللہ اِن چار باتوں پر عمل کرنے سے سیدھا جنت میں پہنچنا آسان ہو جائے گا۔ کسی عمل پر کوئی خرچ بھی نہیں آئے گا، ہاں کھلانے پلانے پر خرچ ضرور آتا ہے، مگر حدیث شریف میں یہ نہیں کہا جا رہا کہ کسی کارنر پر جا کر برگر کھلائیں، بلکہ جو گھر میں حاضر ہے وہ کھلا دیں۔ تھوڑا سا پانی زیادہ ڈال دیں، شوربہ زیادہ بنالیں۔ اس لیے جنت میں جانا بہت آسان ہے اگر ہم ان باتوں پر عمل کر لیں۔
آپس کی محبت ایمان کا حصہ ہے
پھر جنت میں جانے کے لیے ایک چیز نبی کریمﷺ نے بتائی ہے، وہ ہے آپس کی محبت۔ جن کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے غصہ ہو، بغض ہو، کینہ ہو، انتقام کے جذبات ہوں، یہ نہ اللہ کو پسند ہیں اور نہ نبی کریمﷺ کو پسند ہیں۔ ایک حدیث سنیے اور دل کے کانوں سے سنیے۔ اِسلام محبتوں کا درس دیتا ہے، اور نفرتوں کو مٹاتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم جنت میں اس وقت تک نہیں داخل ہو گے جب تک کہ تم ایمان نہ لے آئو، اور ایمان والے تم اس وقت تک نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتائوں کہ اگر تم ایسا کرلو تو آپس میں محبت کرنے لگو گے؟ پھر نبی کریمﷺ نے فرمایا: آپس میں سلام کو رائج کرو۔ (صحیح مسلم: رقم 54، باب لا یدخل الجنّۃ إلا المؤمنون)
معلوم یہ ہو اکہ مؤمن رَف اینڈ ٹَف نہیں ہوتا، بلکہ سب سے محبت کرتا ہے اور اللہ کے لیے کرتا ہے۔ یہ سب نفسانی شہوات اور انٹرنیٹ کی محبتیں یہاں مراد نہیں ہے۔ یہ محبتیں تو براہِ راست جہنم میں جانے کا ذریعہ ہیں۔ اپنے والدین سے محبت، چچا سے محبت، تایا سے محبت، خالہ سے محبت، قریبی تمام رشتہ داروں سے محبت، ایمان والوں سے محبت، محرم رشتےداروں سے محبت اور تعلق ہونا یہ اسلام نے ہمیں سبق دیا ہے۔ آپ تجربہ کر کے دیکھ لیں کہ آپ کا کسی سے تعلق نہیں ہے۔ تعلقات میں کوئی خرابی ہے، کوئی گڑبڑ ہے۔ بس آپ اسے سلام کرنا شروع کر دیجیے ایک مہینہ، دو مہینے، تین مہینے۔ آپ سلام کرتے رہیں، کرتے رہیں اِن شاء اللہ دلوں کے اندر جو کینہ ہے، کمیاں ہیں وہ ختم ہو جائیں گی اور محبتیں بڑھ جائیں گی۔ اور محبت کے بغیر کوئی کامل ایمان والا ہو نہیں سکتا، اور بغیر ایمان کے جنت میں داخلہ ممکن نہیں۔ تو سلام کو اپنانا ہے اور ہر ایک کو سلام کرنا ہے جس سے تعلقات میں خرابی ہے اسے بھی، اور جس سے اچھے ہیں اسے بھی۔
تکبر کا توڑ
سلام کرنے سے ایک اور بہت بڑا فائدہ حاصل ہے۔ حدیثِ نبویﷺ ہے:
اَلْبَادِئُ بِالسَّلَامِ بَرِيْءٌ مِّنَ الْکِبْرِ. (مشکاۃ المصابیح: رقم 4666)
ترجمہ: ’’سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے بری ہے‘‘۔
یہ تکبر کیا ہے؟ جس میں انانیت ہو۔ اچھا! انانیت کیا ہے؟ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آپ جتنے بھی یہاں بیٹھے ہیں، یا اسپیکر کے ذریعہ، یا اِنٹرنیٹ پر آن لائن جہاں تک میری آواز جا رہی ہے تقریباً الّا ما شاء اللہ سب کے دل کی آواز ہے کہ میں اپنے بھائی سے، فلاں فلاں سے تو بہتر ہوں۔ بیوی کہتی ہے میں شوہر سے بہتر ہوں، شوہر کہتا ہے میں بیوی سے بہتر ہوں۔ ہر آدمی اپنی جگہ یہی لے کر بیٹھا ہوا ہے، یہ تکبر ہے۔ اور اس کا علاج سلام کرنا ہے۔ جو سلام میں پہل کرتا ہے، سبقت کرتا ہے وہ تکبر سے بری ہے۔ جب تک دلوں میں تکبر ہوگا، وہ جنت میں نہیں جائے گا۔
ایک حدیث میں ہے نبی پاکﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے سینے میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ (سنن ابی داؤد: رقم 4091)
اور ہم سب کہتے رہتے ہیں کہ تم مجھے جانتے نہیں ہو، دیکھ لوں گا اسے، کیا سمجھتا ہے مجھے۔ یہ تکبر ہے۔ اور تکبر کو ختم کرنے کے لیے کیا طریقہ کار ہے؟ نبی نے فرما دیا کہ مسلمان کو چاہیے کہ سلام میں پہل کرے کہ سلام میں پہل کرنے والا تکبر سے پاک ہو جاتا ہے۔ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ مجھے سلام کریں، جیسے خاوند گھر آئے تو اس کے دل کی تمنا یہ ہے کہ بیوی مجھ سے چھوٹی ہے وہ مجھے سلام کرے۔ میں کیوں کروں؟ دوکاندار ہے، مالک ہے۔ اپنی دکان اور کارخانے میں جاتا ہے تو یہ خیال کرتا ہے کہ ملازمین مجھے سلام کریں، میں کیوں کروں؟ میں تو بڑا ہوں۔ یہ تکبر کی علامت ہے۔ ہر ایک کو سلام کرنا ہے۔ اس معاملے میں چھوٹے بڑے کو نہیں دیکھنا۔ جنابِ رسول اللہﷺ تو گھر میں مسکراتے چہرے کے ساتھ داخل ہوتے، اور پھر گھر والوں کو سلام کیا کرتے تھے۔ اس انتظار میں نہیں ہوتے تھے کہ گھر والے مجھے سلام کریں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ نبی کریمﷺ کی سنت کو اپنائیں۔ گھروں میں محبتیں بڑھ جائیں گی۔
بلندیٔ درجات
اگر ہم نجات کا طریقہ چاہتے ہیں تو سلام میں پہل کریں، دنیا و آخرت میں ہر آفت اور مصیبت سے نجات مل جائے گی۔ حضرت ابودرداء کی روایت ہے کہ جنابِ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: سلام کو عام کرو تا کہ تم بلند رہو۔
(صحیح الترغیب والترھیب للألباني: رقم 2701)
یعنی تمہارا ذکر بلند ہو جائے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کو ہر ملاقات کے وقت سلام کریں۔ اور کتنا سلام کریں؟ نبی کریمﷺ نے اس کی بڑی ترغیب دی ہے۔ توجہ کے ساتھ اس بات کو سنیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر جنابِ رسول اللہﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جس نے ایک دن میں بیس مسلمانوں کو سلام کیا، پوری جماعت کو کیا یا تنہا لوگوں کو کیا، اور اس دن میں یا رات میں اس کا انتقال ہو گیا تو اس پر جنت واجب ہے۔ (مجمع الزوائد: 12734)
ذرا سوچیں تو سہی کہ جنت میں داخلہ کتنا آسان ہے۔ اور بیس دفعہ سلام کا مطلب یہ نہیں کہ اکیس مرتبہ کسی کو سلام نہیں کرنا۔ مطلب ہر ایک کو سلام کرتے رہیں چاہے جاننے والا ہو یا نہ ہو، ہم سلام کرنے کی عادت بنائیں۔ آج ہماری کمزوری ہے کہ جاننے والوں کو تو سلام کرتے ہیں اور نہ جاننے والوں کو نہیں کرتے۔ ہم سلام کی عادت ڈالیں تو اِن شاء اللہ العزیز جس دن موت آئی جنت واجب ہو جائے گی۔
شیخ یعقوب صاحب
میں نے اپنے دادا شیخ یعقوب کو دیکھا کہ وہ ہمیشہ سلام میں پہل کرتے۔ اور ہر ایک کو سلام کرتے تھے۔ 88 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے مرض الوفات کے وقت جو بھی ان کے پاس عیادت کے لیے آتا یہ انہیں سلام کرتے تھے۔ حتّٰی کہ چھوٹے بچے بھی آتے تو ان کو سلام میں پہل کرتے۔ بہت مشکل سے ایسا ہوا ہو کہ کوئی ان کو سلام کرنے میں آگے ہو گیا ہو۔ ان کو تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کی یہ عادت تھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس عادت کو اپنائیں اور ہر ایک کو سلام کریں۔ جو روزانہ ہر ایک کو سلام کرے گا اور عادت بن جائے گی تو مرنا تو ہے ہی، جب سلام کی عادت کے ساتھ مریں گے تو اِن شاء اللہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ درجات بھی بلند فرمائیں گے۔
بہترین شخص
اچھا! لوگوں میں افضل کون ہے؟ آیا جس کا مال زیادہ ہے؟ یا بینک بیلنس زیادہ ہے؟ یا خوبصورت زیادہ ہے؟ یا اس کی گاڑی بڑی اچھی ہے؟ افضلیت اور بہترین ہونے کا معیار کیا ہے؟
حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: جو سلام میں پہل کرے وہ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بہتر ہے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 5197)
سلام میں پہل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بہتر ہے۔
سلام کا جواب دینا
اچھا! سلام کرنا تو سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے۔ علامہ ابن عبد البرّ مالکی کی تحقیق کے مطابق سلام کا جواب دینا فرض ہے۔ اور احناف یعنی ہمارے نزدیک جواب دینا واجب ہے، اور واجب کا چھوڑنے والا گنہگار ہوتا ہے۔ اگر کوئی ہمیں سلام کرے ہم اس سے ناراض ہیں۔ مثلاً بیوی ہے، بھائی ہے، کوئی اور کارخانےدار ہے، کوئی لین دین والا ہے، کوئی بھی کسی طرح کا ہمارا اس سے معاملہ ہے اور آج کل ناچاقی ہے، ساس بہو ہیں آپس میں ناچاقی ہے، اگر ہمیں کوئی آدمی سلام کر لے اور ہم جواب نہ دیں تو گنہگار ہوں گے چاہے ہماری اس سے ناراضگی ہے یا نہیں ہے۔ دیکھیں! سلام کرنے والے نے سلام کر لیا جواب دینا ہمارے اوپر واجب ہے۔ کبھی لوگ ناراضگی یا کسی اور وجہ سے جواب نہیں دیتے۔ جان لیجیے کہ سلام کا جواب نہ دینے والا متکبر ہے اور متکبر جنت میں نہیں جائے گا۔ دوسرا یہ کہ جواب نہ دینے والا قطع رحمی کر رہا ہے، اور قطع رحمی کرنے والا بھی جنت میں نہیں جائے گا۔ اور تیسرا یہ کہ سلام کا جواب نہ دے کر گناہ کر رہا ہے اور گناہ سے توبہ ضروری ہے۔ تو کوئی ہمیں سلام کرے اس کا جواب دینا ضروری ہے چاہے اس سے کوئی ناراضگی ہے یا نہیں۔
خط کی سنت
اب انسان خط لکھتا ہے۔ خط لکھنا مسنون عمل ہے۔ اور آج کل بیشتر یہ سنت چھوٹی ہوئی ہے۔ بہرحال ہم ایس ایم ایس لکھتے ہیں، یا شادی کارڈ بنواتے ہیں جو کہ ایک خط کی مانند ہے، یا ویسے کوئی تحریر لکھتے ہیں تو اس میں کیا سنت ہے؟ اس کو سمجھ لیں۔
ابو نُعَیم نے ایک روایت ذکر کی ہے کہ حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ سرکارِ دوعالمﷺ نے حضرت معاذ کو اُن کے بیٹے کی وفات پر ایک تعزیت نامہ بھیجا۔ ساتھ میں یہ لکھا ہے کہ یہاں راوی کو ایک سہو ہوا ہے (یعنی اس سے بھول ہوئی ہے) کیوںکہ حضرت معاذ کے بیٹے کا انتقال حضورﷺ کے وصال کے دو سال بعد ہوا ہے۔ تویہ خط آپﷺ نے نہیں، بلکہ کسی اور صحابی نے حضرت معاذ کو لکھا تھا۔ بہرحال اس کی ابتدا ﷽ سے ہوئی۔ پھر سلام سے بات شروع کی۔ الفاظ یہ ہیں:
من محمد رسول اللہ إلى معاذ بن جبل (راوی کا سہو)
سَلَامٌ عَلَیْكَ، فَإِنِّيْ أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ. أَمَّا بَعْدُ : فَعَظَّمَ اللّٰهُ لَكَ الْأَجْرَ ، وَأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ ، إِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَهْلِيْنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَوْلَادَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللّٰهِ الْهَنِيئَةِ وَعَوَارِيْهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ ، يُمَتِّعُ بِهَا إِلٰى أَجَلٍ مَّعْلُوْمٍ ، وَيَقْبِضُ لِوَقْتٍ مَّحْدُوْدٍ ، افْتَرَضَ عَلَيْنَا الشُّكْرَ إِذَا أَعْطٰى ، وَالصَّبْرَ إِذَا ابْتَلٰى ، وَكَانَ ابْنُكَ مِنْ مَوَاهِبِ اللّٰهِ الْهَنِيئَةِ وَعَوَارِيْهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ ، مَتَّعَكَ بِهِ فِيْ غِبْطَةٍ وَّسُرُوْرٍ ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَبِيْرٍ ، اَلصَّلاةُ وَالرَّحْمَةُ وَالْهُدَى ، إِنْ صَبَرْتَ احْتَسَبْتَ فَلا تَجْمَعَنَّ عَلَيْكَ يَا مُعَاذُ خَصْلَتَيْنِ ، فَيُحْبِطُ لَكَ أَجْرَكَ فَتَنْدَمَ عَلٰى مَا فَاتَكَ ، فَلَوْ قَدِمْتَ عَلٰى ثَوَابِ مُصِيبَتِكَ عَلِمْتَ أَنَّ الْمُصِيْبَةَ قَدْ قُصِرَتْ فِيْ جَنْبِ الثَّوَابِ ، فَتُنْجِزَ مِنَ اللّٰهِ تَعَالٰى مَوْعُوْدَهُ ، وَلْيُذْهِبْ أَسَفَكَ مَا هُوَ نَازِلٌ بِكَ ، فَكَأنٌ قَدْ . وَالسَّلَامُ .
یہ وہ تفصیلی تعزیتی خط ہے جو کسی صحابی نے حضرت معاذ کو لکھا تھا۔
شارٹ کٹ کا رجحان
عام حالات میں جو چھوٹے چھوٹے ایس ایم ایس چل رہے ہوتے ہیں، اِن کے شروع میں پہلی مرتبہ میں تو السلام علیکم پورا لکھنا چاہیے۔ اور جیسا کہ آج کل یہ رجحان چل پڑا ہے کہ ہم ہر چیز میں شارٹ کٹ چاہتے ہیں۔ یہ فاسٹ فوڈ بھی اس لیے اتنا بڑھا ہے کہ گھروں میں محنت کی عادت نہیں رہی۔ اب السلام علیکم کی جگہ (ASA) لکھ دیتے ہیں۔ جزاک اللہ خیراً کی جگہ (JZ) لکھ دیتے ہیں۔ بھئی! یہ مناسب نہیں ہے۔ مفتی صاحبان فرماتے ہیں کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ باقی پورا مضمون لکھ دیا، اپنی ساری باتیں لکھ رہے ہیں بس السلام علیکم کو لکھتے ہوئے شارٹ کٹ کر دیتے ہیں۔ مفتیانِ کرام سب یہی فرماتے ہیں کہ یہ مناسب نہیں ہے۔ آپ نے السلام علیکم اردو میں لکھنا ہے تو پورا لکھیں، انگریزی میں لکھنا ہے تو پورا لکھیں۔ اے ایس اے لکھنا بہت بڑی بے ادبی ہے۔ اور جزاک اللہ خیرًا میں تو اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام بھی شامل ہے، اسے جے زیڈ لکھ دینے سے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ یہ بھی بہت بڑی بے ادبی ہے۔ جزاک اللہ خیرًا پورا لکھا کریں۔ یہ دعا ہے اس میں کیوں بخل کریں؟ ہم جس کو محبت سے بہت کچھ لکھ رہے ہیں تو اس کو دعا دینے میں بخیل کیوں ہوتے ہیں۔ پوری دعا دیں تاکہ سلامتی نازل ہو۔ غرض یہ کہ دعاؤں میں اور اسلامی تشخصّات میں شارٹ کٹ سے اجتناب کیا جائے۔
بسم اللہ یا 786
اسی طرح ﷽ کی جگہ 786 لکھتے ہیں۔ اب یہ جائز ہے یا ناجائز اس بحث میں ہم نہیں جاتے۔ آپ سے اتنی بات پوچھ لیتے ہیں، اپنے دل سے پوچھیں کہ ایک آدمی پڑھتا ہے ﷽ اور ایک آدمی پڑھتا ہے786 تو آیا دونوں اَجر و ثواب میں برابر ہوں گے؟ اگر ہم 786 کو رواج دیں اور جو بچے مدارس میں حفظ کرتے ہیں انہیں مخصوص نمبر یاد کرائیں پورا قرآن پاک، کلمات در کلمات نہ پڑھائیں، صرف ہندسے یاد کرا دیجیے جائیں تو حافظ بننا دو منٹ کی بات ہے۔ سارے ہی حافظ بن جائیں گے۔ غور کیجیے کہ ہم کر کیا رہے ہیں۔ میں نے پہلے عرض کیا کہ جائز ناجائز کا علما و مفتیان کرام سے پوچھیں۔ یہاں ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک آدمی نے ﷽ پڑھی اور ایک نے 786 کہا تو کیا بہتر ہے؟ ﷽ ہر لحاظ سے بہتر ہے۔
اب یہ خیال آتا ہے کہ جی! اگر ہم نے ﷽ پوری لکھ دی تو اگلا بندہ اِحترام نہیں کرے گا۔ اب اگلے مسلمان بندے کے احترام نہ کرنے پر ہم یہ نہ لکھیں، یہ تو عجیب بات ہے۔ ہاں! اگر کسی غیر مسلم کو بھیج رہے ہوں تب یہ سوچیں۔ لیکن اگر کسی مسلمان بھائی کو بھیج رہے ہیں پھر اس بات کا ہم خود بھی خیال رکھیں گے اور اس کو بھی تلقین کر دیں کہ اللہ کا نام ہے اس کا خیال رکھو۔ تلقین کرنا، ترغیب دینا یہ بہتر ہے عمل کے چھوڑ دینے سے۔ اگر اسی طرح ہر کوئی کرتا رہے کہ بسم اللہ نہ لکھے تو قیامت تک اسلام کا کیا بنے گا؟ باقی معاملات کا کیا بنے گا؟ ہم دوسروں کی اتنی فکر نہ کریں، اپنی فکر میں آئیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ہم اپنے عمل سے ترغیب کیا دے رہے ہیں۔
ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق
مسلمانوں کے آپس میں کیا حقوق ہیں؟ مختلف حدیثوں کے اندر مختلف تعداد آئی ہے کہیں پانچ، اور کہیں چھ ہیں۔
حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ وہ کیا ہیں اے اللہ کے رسول؟ آپﷺ نے فرمایا:
(۱) جب تم کسی مسلمان سے ملو تو ایک حق یہ ہے کہ ملاقات کے وقت تم اسے سلام کرو۔ (بعض حضرات ایسے ہی شروع ہو جاتے ہیں کہ جی! آپ خیریت سے ہیں؟ اور سنائو جی! بچوں کا کیا حال ہے؟ اِدھر اُدھر کی باتیں بہت کرتے ہیں اور سلام نہیں کرتے۔ سب سے پہلے سلام، پھر باقی بعد کی باتیں)
(۲) اگر وہ دعوت دے، تمہیں بلائے تو اس کی دعوت کو قبول کرو۔
(۳) اگر وہ تم سے نصیحت چاہے تو تم اسے نصیحت کرو۔
(۴) اگر کوئی مسلمان چھینکے اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو تم یَرْحَمُکَ اللہُ کہو۔
(۵) جب کوئی مسلمان بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو۔
(۶) جب کوئی مسلمان انتقال کر جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو۔
(صحیح مسلم: باب من حقّ المسلم ردّ السلام، رقم 2162)
یہ مسلمان کے حقوق ہیں۔ ان باتوں کا خیال کریں، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کو بھلا بنا دیں گے۔ اور یہ سلام کرنا مکارمِ اخلاق میں سے ہے، ہم اس کو اپنانے کی کوشش کریں۔
کون کسے سلام کرے
بخاری شریف میں ہے حضرت ابوہریرہ نبی سے نقل فرماتے ہیں کہ سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھنے والے کو سلام کرے، اور قلیل جماعت کثیر جماعت کو سلام کرے۔ (صحیح بخاری: رقم 6232)
آپﷺ نے اُمت کو جو طریقہ سکھایا ہے اُس میں ہر اعتبار سے خیر ہے۔ روحانی بیماریوں کا علاج نبی کریمﷺ کی سنت کی پیروی کرنے میں ہے۔ جب گاڑی سوار شخص پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا تو اس کی اندر کی انانیت ٹوٹے گی۔ عموماً سوار شخص کیا سمجھتا ہے کہ لوگ مجھے سلام کریں، لیکن یہاں نبیﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ عام پیدل چلنے والوں کو سلام کرے۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ ترتیب وجوبی ترتیب نہیں ہے۔ یعنی اگر پیدل چلنے والے نے پہلے سلام کر لیا تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ بس آدمی کے دل میں یہ نہیں ہونی چاہیے کہ دوسرا مجھے سلام کرے، میں کیوں کروں؟
گھر والوں کا خیال رکھنا
نبی کریمﷺ کا اپنے گھر والوں سے بہت محبت کا معاملہ ہوتا اور بہت خیال کرتے تھے۔ جب سب گھر والے جاگ رہے ہوتے یعنی نبی کریمﷺ جب ان اوقات میں آتے جب سب جاگ رہے ہوتے تو آپﷺ مناسب آواز میں سلام کہتے تا کہ سب لوگ سن لیں۔ لیکن کبھی انسان لیٹ ہو جاتا ہے مصروفیات میں، کام کاج میں۔ یا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت گھر والوں کے سونے کا ٹائم ہے، بیوی کے سونے کا ٹائم ہے، یا والدین یا بچے سو رہے ہیں۔ اس وقت گھر میں داخل ہو کر سلام کس طریقے سے کریں؟ کیا سونے والے کو جگائیں؟ بیوی سو رہی ہے تو اس کو جگائیں؟ کیا کریں؟ اس حدیث کے اندر آپ کو اس کی تلقین ملتی ہے۔
حضرت مقداد بن اَسود سے روایت ہے کہ جب حضور پاکﷺ رات میں اپنے گھر تشریف لاتے تو اس طرح سے سلام کرتے کہ سوئے ہوئے کو جگاتے نہیں تھے اور جاگے ہوئے کو آواز سنا دیتے تھے۔ (صحیح مسلم: رقم 2055، باب إكرام الضيف)
یعنی اس طرح آپﷺ کرتے کہ جو سو رہا ہے اس کو آواز نہ پہنچے، اور جو جاگ رہا ہے وہ سن لے۔ ہم بھی اس کا خیال رکھیں۔ نبی پاکﷺ کو جب رات میں تہجد کے لیے اُٹھنا ہوتا تو آپﷺ دبے پائوں اُٹھتے اور جوتے بھی نہیں پہنتے تھے کہ امی عائشہk یا ازواجِ مطہرات میں سے کسی بھی زوجہ مطہّرہ کی آنکھ نہ کھل جائے۔ تو گھر والوں کا خیال کرنا بھی نبی کریمﷺ کی مبارک سنت ہے۔
سب سے بڑا بخیل
ہمارے ہاں ایک محاورہ مشہور ہے کنجوس مکھی چوس۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل یعنی کنجوس وہ ہے جو سلام میں بخل کرے۔ (معجم اوسط للطبرانی: 361/5)
اس سے زیادہ کنجوس کوئی بھی نہیں ہوگا کہ سلام کرنے میں بخل کرے۔ حالاںکہ سلام کرنے میں پیسہ بھی کوئی نہیں لگ رہا، مال بھی کم نہیں ہو رہا، گھاٹا بھی نہیں پڑ رہا، لیکن سلام نہیں کرتا، اسے کنجوس اور بخیل کہا گیا۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس سے حفاظت فرمائے۔
دس، بیس اور تیس نیکیاں
سلام کے فضائل میں سے ایک فضیلت اس کے کلمات کی نیکیاں ہیں۔ حضرت عمران بن حُصَین سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریمﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم۔ آپﷺ نے جواب دیا۔ وہ شخص بیٹھ گیا تو رسول اللہﷺ فرمایا: اس کو دس نیکیاں ملیں گی۔ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ نبی کریمﷺ نے اسے بھی سلام کا جواب دیا، وہ بھی بیٹھ گیا۔ آپﷺ نے فرمایا: اس کو بیس نیکیاں ملیں گی۔ تھوڑی دیر بعد تیسرا شخص آیا اور اس نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ نبی کریمﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ اس کو تیس نیکیاں ملیں گی۔ (سنن أبي داود: رقم 5195، باب کیف السّلام)
سلام کرنے میں ایک کلمے پر دس، دوسرے پر پھر دس، پھر تیسرے پر مزید دس۔ نقصان ہے ہی کوئی نہیں اور نیکیاں بھی زیادہ ملیں گی۔
سلام کے کلمات کو سیکھنا
سلام کرنے کا طریقہ بھی ہمیں سیکھنا ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ السلام علیکم کا مطلب ہے ’’تم پر سلامتی ہو‘‘۔ یہ دعائیہ کلمہ ہے۔ اگر ہم لفظِ سلام کا لام نہیں بولتے جیسے کہ بعض دفعہ لوگ بولتے ہیں سام علیکم۔ العیاذ باللہ! اس وقت بولنے والا شخص دوسرے کو تباہی و بربادی کی بد دعا دے رہا ہوتا ہے۔ عجیب عجیب قسم کے معاملات ہیں۔ السلام علیکم کا مطلب ہے تم پر سلامتی ہو، اگر کوئی لام کی ادائیگی نہیں کر رہا اور کسی عالم یا تجوید کے قواعد سے واقف بندے کو بتا کر ٹھیک نہیں کیا تو وہ دوسرے کو اس کی موت کی، تباہی کی بددعا دے رہا ہے۔ معاملہ اتنابدل جاتا ہے۔ الفاظ کو صحیح ادا کرنا، قرآن کے الفاظ کو صحیح ادا کرنا بہت اہم ترین ہے۔ اس کو جب بھی ادا کریں مکمل اور صحیح طریقے سے کریں۔ جب ہم اس طرح سے کریں گے تو ہمیں نیکیاں ملیں گی اور دوسرے کو دعائیں ہم دے رہے ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو رہا ہوگا۔
سلام کا جواب
ایک آدمی نے آ کر سلام کیا: السلام علیکم۔ اب ہم اسے جواب کیسے دیں؟ جواب دینے کے یہاں پر دو طریقے ہیں:
وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّۃٍ فَحَيُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَاط (النساء: 86)
ترجمہ: ’’اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بہتر طریقے پر سلام کرو، یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو‘‘۔
یہ اللہ کا قرآن کہہ رہا ہے۔ اب معاملہ یہ بنا کہ ایک آدمی نے کہا: السلام علیکم، ہم اس کو کہیں: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اگر دو لفظ بولتے ہوئے مشکل ہو رہی ہے تو صرف وعلیکم السلام ہی بول دیں۔ یہ ٹھیک ہو گیا۔ لیکن آنے والے نے کہا کہ السلام علیکم ورحمۃاللہ۔ اب ہم کیا کریں؟ صرف وعلیکم السلام پر اکتفا کر لیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سے بہتر کہو یعنی وعلیکم السلام کے ساتھ ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ کہو، یا پھر کم سے کم وعلیکم السلام ہی کہہ دو۔ اور اگر آنے والے نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ تو بس سلام مکمل ہوگیا۔ اب ہم یا توپورا اسے جواب دیں، یا صرف وعلیکم السلام کہہ دیں۔ان کلمات کے ساتھ سلام مکمل ہو جائے گا۔
ایک حدیث میں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے، اور اگر درخت کی آڑ آجائے یا دیوار حائل ہو جائے یا کوئی چٹان حائل ہو جائے اور پھر سے سامنا ہو جائے تو پھر سے سلام کرے۔ (سنن ابی داؤد: رقم 5200)
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کے صحابہ ساتھ چلتے رہتے، درمیان میں درخت حائل ہو جاتا یا کوئی اونچی رکاوٹ آ جاتی جس کی وجہ سے کچھ لوگ دائیں جانب، اور کچھ لوگ بائیں جانب ہو جاتے، پھر جب واپس ملتے تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ (ریاض الصالحین: رقم 258)
دینی علم میں کمی کی وجہ سے ہماری سوسائٹی میں یہ اخلاق اور حسنِ سلوک نظر نہیں آتا۔ پھر اپنی بات کو دہراتا ہوں کہ صحابۂ کرام کی ترتیب یہ تھی کہ دو لوگ چل رہے ہیں، چلتے چلتے راستے میں کوئی درخت آگیا، کوئی پہاڑی آگئی، کوئی رکاوٹ آگئی اور یہ چلنے والے جدا ہو گئے اور واپس آ کر ملے تو پھر سلام کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ سلام کا مطلب کیا ہے۔ ایک دوسرے کو دعائیں دینا تاکہ رحمتوں کا نزول سب پر ہوتا رہے۔ ہم کیا کرتے ہیں؟ صبح دکان پر پہنچ گئے دس، گیارہ بجے جو ہمارا ٹائم ہے اور سب کو سلام کر لیا۔ اب ہم سمجھتے ہیں کہ رات کو آٹھ بجے، دس بجے دکان بند کرنی ہے اس وقت تک وہی صبح والا سلام چلتا رہے گا۔ یہ درمیان میں ایکسپائر ہی نہیں ہوگا۔ اس کی ترتیب یوں ہونی چاہیے کہ ہم صبح دکان پر گئے، سب کو سلام کیا۔ اس کے بعد نماز کے وقت میںوضو کے لیے باہر گئے، یا کسی کام سے پڑوسی دکان والے کے پاس گئے، تھوڑی دیر کے لیے گئے یا زیادہ دیر کے لیے گئے اور پھر واپس اپنی دکان پر آرہے ہیں تو السلام علیکم کہیں۔ گھر پر آرہے ہیں تو السلام علیکم کہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں