سنت اور سائنس

سنت اور سائنس

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَ عُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِo
﴿وَ مَنْ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہ‘ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْماً﴾ (سورۃ الاحزاب:71)
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَo وَسَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَo
وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ o
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

محبوبِ کل جہاں ﷺ کی زندگی :
حضرت محمد ﷺ ہمارے پیارے نبی محبوبِ کل جہاں رحمۃٌ لِّلعالَمِین کی مبارک زندگی ہم سب کے لیے کامل نمونہ ہے۔ اگر انسان دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہو تو اس کو چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو زندگی میں لائے، آپﷺ کے اخلاق، اور عادات کو اپنائے اور اس طرح اپنائے کہ اس کا ظاہر بھی آقا کے مطابق بھی ہو جائے اور باطن بھی نبیu کی تعلیمات کے مطابق ہو جائے۔ حضور پاکﷺ کی زندگی ہر لحاظ سے کامل اور اکمل زندگی ہے۔ سیرت کے عنوان پر امت کے علماء نے بہت کام کیابلکہ چودہ سو سالوں سے ہو رہا ہے اور قیامت تک ہوتا رہے گا۔یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کا کنارہ کوئی نہیںہے۔
میرا قائد ہے وہ زندگی پیغام تھا جس کا
محمد ﷺ نام تھا جس کا محبت کام تھا جس کا
وہ رفتہ رفتہ جس نے قوم کو منزل عطا کر دی
کلی آغاز تھا جس کا چمن انجام تھا جس کا

ایک اٹل حقیقت:
جب ہم تاریخ عالم پر نظر ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا کے اندر جتنے بھی مشاہیر آئے، کوئی فاتح آئے، کوئی سائنس دان بنا، کسی نے چیزوں کو ایجاد کیا، زندگی میں بڑے بڑے کام کیے لیکن ان تمام کی زندگیوں میں ایک بات کامن (Common) ملتی ہے کہ انہوں نے خود اقرار کیا یا بعد والوں نے کہا کہ اگر اس کو اور زندگی مل جاتی تو یہ اور کام کر لیتا یعنی ادھوری زندگیاں اور حسرتیں لے کے قبر میں چلے گئے۔ مثال کے طور پر نیوٹن (Newton) نے لاز آف نیوٹن (Laws Of Newton) پر اس قدر ٹھوس کام کیا کہ سائنس کی دنیا میں اس کی بہت عرصے تک اس کی وجہ سے عزت ہوتی رہی لیکن پھر بھی لوگوں نے کہا کہ نیوٹن کو کچھ اور مہلت مل جاتی تو مزید چیزیں دریافت ہوتیں۔ اور آئن سٹائن (Einstein )کی تو یورپ میں بے پنا ہ عزت ہے اور اس نے بھی ایسی تھیوری پیش کی جس کی وجہ سے آج انسان چاند پہ قدم رکھ رہا ہے۔ اس کے بارے میں بھی یہی کہاگیا کہ اس کو اگر اور وقت ملتا تو مزید بھی راز کھولتا ۔تیمور لنگ ایک بادشاہ کا نام ہے جس کا مزار سمر قند میں ہے ، چونکہ اس نے بہت سی جگہوں اور ملکوں کو فتح کیا اس لیے اسے فاتح عالم بھی کہا جاتا ہے اور یہی لفظ اس کے مزار پر بھی لکھا ہوا ہے ، لیکن اس کے مرنے کے بعد بھی یہی کہا گیاکہ اگر اس کو اور موقع مل جاتاتو اور بھی دنیا کے علاقے فتح کر لیتا۔ شیکسپئر (Shakespeare) نے اپنی زبان میں کتابیں لکھیںاور اپنی زبان کے حساب سے بہت کچھ لکھا ،لیکن اس کے مرنے کے بعد بھی یہ کہا گیاکہ دیکھو! اس کو اور زندگی مل جاتی تو یہ اور کام کرتا۔ مطلب یہ کہ تمام مشاہیرِ عالم کی زندگیاں نامکمل ہیں ادھوری ہیں مشن پورا نہیں کر سکے ۔
صرف ایک ہستی:
تاریخِ عالم میں ایک ہی ہستی آپ کو ملے گی جس نے اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کیا، وہ صرف رسول اللہ ﷺ کی مبارک ہستی ہے کہ جنہوں نے اپنی آمد کے مقصد کو پورا کیا اور رات کے اندھیرے میں نہیں ،دن کے اُجالے میں، جنگل کے ویرانے میں نہیں ،سوا لاکھ صحابہ کرام کی موجودگی میں۔ اور پھر نبی نے سب سے پوچھا کہ کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا؟ تو صحابہ نے یک زبان ہو کر عرض کیا: اللہ کے نبیﷺ! پہنچا ہی نہیں دیا بلکہ پہنچانے کا حق ادا کر دیا۔ پھر اللہ کے نبی حضورِ پاک ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے عرض کی: اے اللہ! تو گواہ رہنا ۔اللہ! تو گواہ رہنا۔ تو ہمیں اگر کسی کو آئیڈیل بنانا ہے تو ادھوری زندگی والے کو کیوں آئیڈیل بنائیں، ایسی زندگی والے کو آئیڈیل کیوں نہ بنائیں کہ جس کی زندگی ہر لحاظ اور ہر زاویے سے مکمل ہے تا کہ ہمارا مقصد بھی زندگی کا پورا ہو جائے ۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت اور سائنس:
اب امّت کے علماء نے بہت سے انداز سے سیرت کو کھولا۔ حضرت جی دامت برکاتہم(محبوب العلما ء والصلحاء حضرت مولانا پیر ذو الفقار احمد نقشبندی صاحب دامت برکاتہم) نے بھی سیرت کو ایک الگ انداز سے کھولا ہے۔ آج کل سائنس کا زمانہ ہے، گھر گھر میں کمپیوٹرموجود ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے بھی انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ تو سُپر کمپیوٹر کے اس دور میں تو لوگوں کی سوچ ہی سائنسی ہو گئی ہے اوروہ ہر بات کو سائنسی نکتہ نظر سے سوچتے اور جانچتے ہیں۔ ایمان والوں کے دلوں میں اب وہ محبت نہیں رہی کہ وہ اس لیے عمل کریںکہ یہ میرے محبوبﷺ کا عمل ہے۔ آج کوئی سائنسی بات آجائے تو بس اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ حضرت جی دامت برکاتہم نے اس سلسلے میں ایک بیان فرمایاتھا توآج وہی آپ کو سنایا جائے گا۔
نبی پاک ﷺ کی مبارک زندگی اور آپ کی مبارک سنتیں سائنسی نکتہ نظر سے ہمیں کیسے معلوم ہوتی ہیں اس کے بارے میں حضرت جی کا ایک نقطہ نظر ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر دل کے کانوں سے ان باتوں کو سنیں گے تو ان شا اللہ دل پر ضرور اثر ہو گا ۔اور اگر سینوں میں سِل ہو اور دل نہ ہو تو پھر اس کا آپ کو فائدہ نہیں ہو گا۔طلب لے کے بیٹھیں گے تو ان شا اللہ العزیز فائدہ ہو گا۔ حضرت فرماتے ہیں کہ یہ باتیں ہم لوگوں کے لیے فکر انگیز (Food Of Thought)ہوں گی۔ یہ باتیں سائنس کے طلبا کو اور پڑھے لکھے لوگوں کو فائدہ دیں گی۔ بلکہ حضرت کے لحاظ سے یہ ایک ایسا عنوان اور مضمون ہے اگر اس پہ اسٹوڈنٹس کام کریں تو اسلامک اسٹڈیز کے اندر پی ایچ ڈی(PHD) بھی کر سکتے ہیں۔
دو درخشاں باب:
حضرت جی نے لکھا کہ نبی پاک ﷺ کی سنتوں کے بارے میں دوفیز (Phase)ہیں ۔
فیزOne 1 تو یہ کہ جو انسان نبیu کی مبارک سنتوں پر عمل کرے گا، اللہ رب العزت کی طرف سے اس کی زندگی میں برکتیں آئیں گی۔وہ دنیا میں بھی کامیاب ہو گا اورآخرت میں بھی کامیاب ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گابے شک وہ بہت بڑی کامیابی پانے والا بن جائے گا:
﴿وَ مَنْ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْفَازَفَوْزًا عَظِیْمًا﴾ (سورۃ الاحزاب: 71)
’’جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا تحقیق وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا‘‘۔
تو نبیu کے طریقوں پر عمل کرنا ،آپﷺ کے اخلاق اور عادات کو اپنانا اس کو سنت کی پیروی کہتے ہیں۔ اب سنت کی پیروی عبادات میں ہو،معاشرت میں ہو، معیشت میں ہو، انفرادی یا اجتماعی سطح پر ہو، تمام حالات میں یہ انسان کے لیے نفع بخش ہے اور اس میں انسان کے لیے کامیابی ہے۔ تو پہلا فیز کیا ہے کہ اگر ہم سنت پر عمل کریں گے تو دنیا میں بھی سکون اور آخرت میں بھی سکون اور انسان قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پیارے بندوں میں شامل ہو جائے گا۔ اور یہ با ت سو فیصد پکی اور سچی ہے اس موضوع پر تو ہم لوگ باتیں سنتے ہی رہتے ہیں۔
آج کی بات سنت کے سیکنڈ فیز کے متعلق ہوگی۔ اس کو ذرا دل کے کانوں سے سنیں۔ وہ کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ جس کام کونبی کریمﷺ نے جس طریقے سے کیا اس کا م کو اس سے بہتر کرنے کا انداز ہو ہی نہیں سکتا۔ جس کام کورسول اللہﷺ نے جس طریقے سے، جس انداز سے کیا وہ کام اس سے بہتر طریقے سے قیامت تک کوئی کر ہی نہیں سکتا، ہو ہی نہیں سکتا، یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ اب اس کے بارے میں ہمارا دعویٰ سمجھ لیجئے یا نتیجہ سمجھ لیجئے لیکن یہ اتنا ٹھوس ہے کہ اس بات کو کرتے ہوئے ہمارے پاؤں کے نیچے چٹان ہے۔ جس طرح کسی انجینئر کے سامنے کہا جائے کہ دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں کہے گا چار ہوتے ہیں۔ اس کو یقین ہے کہ اِس کے علاوہ کوئی (Answer) ہے ہی نہیں تو ہمیں بھی یقین ہے کہ جس کام کو نبی کریم ﷺ نے جس انداز سے کر لیا اس سے بہتر اس کام کو کرنے کا کوئی دوسرا انداز ہو ہی نہیں سکتا۔ اگر ہوتا تو نبیu کو اللہ تعالیٰ عطا فرما دیتے۔ سب انبیا سے افضل نبیﷺ ہیں اور افضل نبی ﷺ کے لیے اللہ تعالیٰ نے وہ نعمتیں عطا فرمائیں جو کسی کو نہیں دی گئیں ۔
سونے کا مسنون طریقہ اور میڈیکل سائنس:
اب رات کو سونے کی چارممکن صورتیں ہو سکتی ہیں اس کے بارے میں ذرا تفصیل سے سنیں۔ انسان روزانہ سوتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیکلی (Medically) سونے کا انداز کو نسا زیادہ بہتر ہے۔
پہلا انداز:
ایک انداز یہ ہے کہ انسان لیٹ جائے کمر نیچے ہو اورسینہ اوپر ہویعنی یہ سیدھا لیٹنا ہو گیا۔
دوسرا انداز:
یہ ہو سکتا ہے کہ انسان اوندھا لیٹ جائے کہ چہرہ اور پیٹ بستر کی طرف ہو کمر آسمان کی طرف ہو۔
تیسرا انداز :
یہ ہے کہ انسان بائیں طرف لیٹ جائے کہ دل نیچے ہو اور باقی جسم کا حصہ اوپر ہو۔
چوتھا انداز :
یہ ہے کہ انسان دائیں کروٹ، سیدھے ہاتھ پر لیٹ جائے۔ تو یہ چار صورتیں ہوسکتی ہیں۔
سونے کی پہلی صورت:
اگر ہم سب سے پہلی صورت پر آئیں یعنی سیدھا سونا کہ انسان کا سینہ اور چہرہ آسمان کی طرف ہو اور کمر بستر کی طرف، تو میڈیکلی یہ صورت انسان کے لیے نقصان دہ ہے ۔ وہ کیسے ؟ اگر آپ انسان کی ریڑھ کی ہڈی کی بناوٹ کے بارے میں سوچیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ بالکل سیدھی نہیں بلکہ خم دار ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معدہ کے اندر وزن ہوتا ہے اور اس وزن نے بالآخر کسی جگہ اپنا زورڈالنا ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے کسی نہ کسی ہڈی نے تو اس وزن کو برداشت کرنا تھا، تو اس کے لیے اللہ رب العزت نے اسپائنل کوڈ (Spinal Cord) ریڑھ کی ہڈی بنا دی اور معدہ کا وزن اس کے اوپر ڈالا گیا، اس کو سنبھا لنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے اندر تھوڑا سا خم بنا دیا گیا۔ چنانچہ کندھے سے پیچھے سیدھی آتی ہے اور جہاں ہمارا پیٹ ہے وہا ں تھوڑا آگے کو خم کھا کے واپس پیچھے سیدھی ہونے لگتی ہے اور ہم کمر کو ہاتھ لگا کر اس کو محسوس بھی کر سکتے ہیں۔ تو جب آدمی سیدھا سویا ہوتا ہے تو ریڑھ کی ہڈی کا خم اوپر کی طرف ہوتا ہے اور اس خم کے اوپر معدہ کا سارا بوجھ آ جاتا ہے۔ اور ماشا ء اللہ کسی کے معدہ پیٹ کا وزن دس کلو کسی کا پچاس کلو تو اب اتنے وزن نے اس کے اوپر اثر توکرنا ہے، تو سائنس کا اصول ہے کہ جب بھی کسی خم دار چیز کے اوپر وزن ڈال دیا جائے تو وہ سیدھا ہونے کی کوشش کرے گی۔اور وہ بوجھ اس کے دونوں سروں کے اوپر پڑے گا۔ تو جب ریڑھ کی ہڈی کے اوپر پچاس کلوکا وزن پڑے گا تو تو ایسی صورت میں نتیجہ کیا ہو گا؟ یہی ہو گا کہ گردن کے مہرے درمیان سے دباؤ میں آجاتے ہیں اور گردن کے پیچھے انجائینا کا پین ہونا شروع ہو جاتا ہے،یا کمر کے نچلے مہرے درمیان میں سے دباؤ میں آجاتے ہیں اور لو ربیک پین (Lower Back Pain) شروع ہو جاتی ہے۔لہذا جو لوگ سیدھا سوتے ہیں انکو گردن کے پیچھے انجائینا کا درد بھی ہوتا ہے یا پھر لور بیک پین بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔اس سے پتا چلا کہ سیدھا سونا انسان کے لیے فائدہ مند نہیں نقصان دہ ہے۔
سونے کی دوسری صورت :
یہ ہے کہ انسان الٹا سوئے کہ پیٹ نیچے ہو جائے کمر آسمان کی طرف ہو جائے، اس کو اوندھے منہ سونا بھی کہتے ہیں۔ یہ بھی انسان کے لیے میڈیکلی (Medically) نقصان دہ ہے کیونکہ انسان کے معدہ کیساتھ آنتیں ہوتی ہیں جہاں سے اس کی غذا گزر رہی ہوتی ہے. وہا ں اس کو جسم سے مختلف وائیٹامنز (Vitamins) اور کیمیکلز (chemicals) ملتے ہیں۔ وہ آنتیں دائیں اور بائیں سائیڈ پر ہوتی ہیں اور ان آنتوں میں خوراک بھری ہوتی ہے اور ہر آنت ایک دوسرے کیساتھ چربی کی باریک سی جھلی کے ذریعہ جڑی ہوتی ہے۔ اگر کسی بکری کو ذبح کریں اور آپ اس کی آنتوں کو دیکھیں تو آپ کو اس کی آنتیں ایک دوسرے کیساتھ باریک سی جھلی سے جڑی ہوئی نظر آئیں گی۔ تو جب انسان الٹا سوتا ہے یعنی پیٹ کے بل تو اس کی آنتیں اوپر ہو جاتی ہیں اور وہ دونوں طرف معلق پوزیشن میں لٹک رہی ہوتی ہیں۔ اس کے اندر وزن بھی ہوتا ہے، اس کا اپنا وزن بھی ہوتا ہے آنت کا اور دوسرا ماشا ء اللہ ہم نے بھی مرغے اور چرغے کھائے ہوتے ہیں، تو ان کا بھی اچھا خاصا وزن ہو جاتا ہے۔ اب ایسی صورت میں یہ امکان ہوتا ہے اگر کسی جگہ سے آنتوں کی چربی کمزور ہو اور وہ آنت اوپر سے نیچے گرے گی اور اس میں بل آجائے گا گرہ لگ جائے گی، اور یہ بات چودہ سو سال پہلے نبی کریمﷺ نے بتا دی تھی۔ فرمایا: الٹا مت سویا کرو، اس طرح الٹا سونے سے ممکن ہے آنتوں میں کوئی گانٹھ پڑ جائے۔ جب یہ گرہ لگ جاتی ہے تو ہسپتالوں میں پہنچ کر لمبے لمبے آپریشن کروانے پڑتے ہیں ۔آج ڈاکٹر اس بات کو مانتے ہیں کہ الٹا سونے سے گرہ لگ جاتی ہے اور انسان کو پھر آپریشن کروانا پڑتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ الٹا سونا بھی میڈیکلی (Medically) ٹھیک نہیں ۔
سونے کی تیسری صورت:
یہ ہے کہ انسان بائیں کروٹ پر سو جائے۔ جب انسان بائیں کروٹ پر سوتا ہے تو اسکا دل اس وقت نیچے کی طرف ہو جاتا ہے باقی سارا سسٹم اوپر ہوتا ہے۔ اب دیکھیں بھئی! گھروں میں جو پانی کی مشین لگی ہوتی ہے، اگر اس نے دوسری منزل پر پانی پہنچانا ہو اور موٹر نیچے ہے تو اس کو زیادہ پریشر ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اگر مشین اوپر ہو اور پانی نیچے پہنچانا ہو تو پھر مسئلہ ہی کوئی نہیں، جیسے دو منزلہ عمارت ہے اور پمپ نیچے لگا ہوا ہے جب سپلائی کرنے کا سسٹم اوپر ہوتا ہے تو پمپ انڈر پریشر ہوجاتا ہے اور اگر نیچے سپلائی کرنا ہو تو اس کا کوئی ہیڈ ہی نہیں ہوتا۔ اس کے پاس جتنا بھی پانی ہوتا ہے وہ سارا کا ساراخود بخود نیچے چلا جاتا ہے اور جب اس کو کشش ثقل گریوٹی (Gravity) کے مخالف پمپ کرنا ہوتا ہے تو اسکے او پر لوڈ پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر انسان الٹی طرف بائیں کروٹ پہ سو گیا تو اب ساری رات اس کا سسٹم اوپر ہوتا ہے اور پمپ جو دل ہے وہ نیچے ہوتا ہے تواس طرح دل انڈر پریشر دباؤ میں کام کر رہا ہوتا ہے۔ اس طریقے میں دو خرابیاں بتائی گئیں ہیں۔
پہلا نقصان:
انسان کا دل دباؤ میں ہو تا ہے اس کی وجہ سے اس کی نیند بہت زیادہ گہری ہوتی ہے اس کو الارم بھی نہیں اٹھاتے ۔اس کو گھر میں اگراماں اٹھائے کہ بیٹا! فجر کا وقت ہو گیا ہے تو اس کو پتا ہی نہیں چلے گا، اور صبح نو بجے کہے گا کہ مجھے اٹھایا کیوں نہیں۔ بھئی! تمھیں اٹھایا تو تھا، اچھا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔ تو اس کی نیند بہت زیادہ گہری ہوتی ہے۔ اور بعض دفع ایسا بھی ہوتا ہے جب یہ سو کے اٹھتا ہے تو ایک دومنٹ تین منٹ تک کہتا ہے: نہیں ابھی ذرا میں پہلے سیٹ ہو جاؤں پھر کھڑا ہوؤں گااور واش روم جاؤں گا۔ تو فوری طور پر فریش (Fresh) ہو کر نہیں اٹھ پاتا بلکہ اسے ویٹ (Wait)کرنا پڑتا ہے۔
دوسرا نقصان:
ایسے لوگ جو الٹی طرف بائیں کروٹ پر سوتے ہیں ،یہ لوگ ڈراؤنے خواب بہت دیکھتے ہیں ،کیونکہ دل پہ دباؤ ہوتا ہے، اس لیے خواب میں دیکھتے ہیں کہ بھینس پیچھے چلی آرہی ہے، سانپ آ کے ان کو کھا رہا ہے، ڈس رہا ہے یا کبھی کوئی کتا آرہا ہے یا کوئی اور چیز۔ تو یہ بائیں کروٹ پر لیٹنے والے ڈراؤنے برے خواب بہت دیکھتے ہیں اور ہڑبڑا کر اٹھتے ہیں۔ حضرت جی کا یہ مضمون پڑھا اور ذہن میں بٹھا لیا ۔ چند دن پہلے ایک عالمہ کا فون آیا انہوں نے دو باتیں مجھے کہیں: پہلی یہ کہ بارہ(12)گھنٹے سے پہلے تو میری آنکھ ہی نہیں کھلتی ۔ اور دوسر ی یہ کہ فجر کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ الحمد للہ! حضرت جی کی بات پڑھی ہوئی تھی تو ان کو یہ عمل بتایا کہ آپ پوری ہمت کوشش کریں کہ دائیں کروٹ پر سوئیں اور کسی طریقہ پر نہیں سونا۔ الحمد للہ! چند ہی دنوں کے بعد بمشکل چھٹا ساتواں دن ہو گا فون آیا کہ اب میری نیند بھی کم ہو گئی ہے اور نماز کے لیے بھی اللہ نے اٹھانا شروع کر دیا۔
سونے کی چوتھی صورت :
یہی مسنون ہے کہ انسان اپنی دائیں کروٹ پہ سوئے۔ اس صورت میں اس کا پورا سسٹم نیچے ہوتا ہے اور دل اوپر ہوتا ہے گویا اس صورت میں مین پمپ اوپر ہے اور پمپ کو نیچے سپلائی کرنے کے لیے کسی پریشر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اچھا یہ بھی ایک مزے کی بات ہے کہ جب آدمی جاگ رہا ہوتو اس وقت دل کی جو نبض کی رفتار ہوتی ہے، جس کا براہِ راست دل سے تعلق ہوتا ہے، یہ ستّر سے پچھتر ہوتی ہے لیکن سونے کی حالت میں نبض کی رفتار کم سے کم ہونی شروع ہو جاتی ہے گویاگاڑی کی سپیڈ کم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر اس کے اوپر لوڈ ڈال دیا جائے تو وہ بند ہی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر بائیں کروٹ سوئے گا تو یہی حال ہو گا کہ گاڑی کی سپیڈ کمتر ہو گئی اور اوپر لوڈ پڑ گیا اور یوں انڈر پریشر رہ کر خون کی سپلائی اوپر کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اگر ہم دائیں کروٹ پر سوئیں گے تو ایسے میں انسان کی جیسے ہی نبض کی رفتار کم ہوئی اسی حساب سے اس کے اوپر لوڈ بھی کم ہو گیا۔ یوں سمجھیے کہ نیند کی حالت میں انسان کا دل تقریباً آف لوڈ کنڈیشن میں چل رہا ہوتا ہے اور پورے جسم کو خون کی مطلوبہ مقدار پہنچا رہا ہوتا ہے۔
دائیں طرف سونے کے تین فائد ے:
اب دائیں طرف سونے سے تین فائدے حاصل ہوتے ہیں:
پہلی بات :
ایسے بندے کی نیند بہت گہری نہیں ہوتی، الارم ہو یا کوئی بندہ اس کو فجر کے لیے اٹھا دے تو اس کے لیے اٹھنا آسان ہوجا تا ہے۔
دوسری بات :
ایسے بندے کو ڈراؤنے خواب بھی نہیں آتے۔
تیسری بات :
یہ بندہ جب دائیں کروٹ پر سونا شروع کرتا ہے، تھوڑی دیر کے لیے بھی سوتا ہے تو اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ اگر یہ دس منٹ بھی دائیں کروٹ پر سو جائے تو محسوس ہو گا کہ ایک گھنٹا سو گیا ۔تو وقت میں بھی اللہ رب العزت برکت عطا فرما دیتے ہیں۔ لہذا میڈیکلی (Medically) بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کے لیے سونے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ وہ دائیں کروٹ پر سوئے اور یہی ہمارے محبو ب حضرت محمدﷺ کی مبارک سنت ہے۔ آج سائنس بڑی گھوم پھر کے اس بات کو ثابت کر چکی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ سائنس بھی منزل کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے اور جب کبھی اس کو منزل ملتی ہے تو وہ جگہ وہی ہوتی ہے جہاں ہمارے محبوب ﷺ کے قدموں کے نشان ہوتے ہیں۔ سائنس بالآخر وہیں پہنچتی ہے تو اس سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس کام کو نبیu نے جس طریقے سے کیا، اس کام کو اس سے بہتر کرنے کا کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ہر چیز کے اند ایک رول (Rule) ہے ۔
سورج کی شعاؤں سے متعلق آپﷺ کا ارشاد اور سائنس:
اور دیکھئے! کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ یورپین لوگ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے کہ تم کیسے دقیانوسی لوگ ہو تم سن باتھ (Sun Bath) لینے کیوں نہیں جاتے۔ جب وہ لوگ چھٹیوں میں سن باتھ لینے جاتے تو مسلمانوں سے کہتے کہ تم بھی چلو! تو مسلمان کہتے کہ ہم کیوں جائیں ۔ وہ کہتے کہ بھئی! سائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سن باتھ لینے سے جسم کے مسام کھل جاتے ہیں اور انسان کو بے حد فائدے ہوتے ہیں، تو مسلمان نہیں جاتے تھے تو انکا مذاق اڑاتے تھے۔ اس کے کچھ عرصے کے بعد پوری دنیا میں تحقیق کی گئی کہ مختلف بیماریاں دنیا کے کن کن ممالک میں کہاں کہاں کیا کیا ہیں۔ اس تحقیق سے یہ ثابت ہوا کہ جلد کا جو کینسر ہے(Skin Cancer) یہ یورپ کے اندر سب سے زیادہ ہے۔ تو جب یہ تحقیق سامنے آئی تو ان کو پریشانی لاحق ہوئی کہ آخر یورپ میں جلد کا کینسر کیوں زیادہ ہے۔ اس پر ریسرچ شروع کی، ریسرچ کر کے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سن باتھ کی وجہ سے یہ بیماری ہو رہی ہے۔ سورج کے اندر جو الٹرا وائلٹ ریز (Ultraviolet Rays) ہوتی ہیں وہ جسم کے اوپر ڈائریکٹ پڑتی ہیں اور اسکین کے اندر کینسر کے اثرات کو چھوڑ جاتی ہیں۔ کہرام مچ گیا کہ بھئی! یہ طریقہ تو غلط ہے۔ تو بہت سی کمپنیا ں میدان میں آئیں کہنے لگیں کہ ہم ایسی چھتریاں بنائیں گے جو انسان سن باتھ لینا چاہے،ان چھتریوں کے نیچے آجائے تو اس کو وہ الٹرا وائلٹ ریز نقصان نہیں پہنچائیں گی ۔لہذا اب ڈاکٹر کہتے ہیں کہ جس بندے نے سن باتھ لینا ہو وہ چھتری استعمال کرے۔
اب ذرا یہ تو دیکھیں کون کون آدمی ہو گا، کس کس کے ہاتھ میں چھتری پکڑا سکتے ہیں۔ تو اس تحقیق کے بعد ان لوگوں کا ساحل پر جانا مہنگا بھی ہو گیا اور مشکل بھی ہو گیا کہ اپنی جان تو بچانی ہے۔ تو اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو ایک پوائنٹ دے دیا۔ ہم ان سے بات کرتے ہیں کہ دیکھو بھئی! جب تم کہتے تھے کہ تم ساحل پرجاتے ہو اور ہم نہیں جاتے تھے تو تم ہمارا مذاق اڑاتے تھے۔ اب جب سائنس نے تمہیں بتا دیا کہ اس سے تمھیں بیماریاں لاحق ہو تی ہیں تو اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے بجائے سن باتھ لینے کے اب تم کہیں اور جانے کے پروگرام کیوں بناتے ہو؟ تونتیجہ کیا ہو ا کہ بات پھر وہیں گھوم پھر کر آگئی کہ نبی کے طریقوں کے اندر ہی برکت ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے کہ جو پانی سورج کی دھوپ سے گرم ہو تم اس سے وضو مت کرو، جو پانی سورج کی شعائوں سے دھوپ کی وجہ سے گرم ہو جائے تم اس سے وضو مت کرو ۔انسان حیران ہوتا ہے کہ آگ کے اوپر پانی گرم کیا جائے تو وضو کرنا منع نہیں۔ نبی نے گرم پانی سے وضوکرنا منع نہیں کیا ، تو سورج کی شعاؤں سے جو پانی گرم ہو اس سے کیوںمنع کیا؟ سائنس نے تو آج بتایاہے کہ الٹرا وائلٹ ریز (Ultraviolet Rays) آتی ہیں جو نقصان پہنچاتی ہیں۔ نبی چودہ سو سال پہلے بتا گئے کہ تم ایسے پانی سے وضو نہ کیا کرو یہ جسم کے لیے نقصان دہ ہو گا ۔تو پھر وہی بات آگئی کہ بالآخر سائنس اسی درخت کے نیچے پہنچتی ہے جس درخت پر محبوب ﷺ کی سنتوں کا سایہ ہوتا ہے ۔
موٹاپے کا علاج بذریعہ سنّت:
دیکھیے! حضرت جی نے بتایا کہ نیویارک میںان کے ایک ہارٹ اسپیشلسٹ (Heart Specialist) جاننے والے تھے، دوست تھے۔ فرمایا: ایک دفعہ میں ان کے آفس میں بیٹھا ہوا تھا تو وہا ں کچھ لٹریچر پڑا ہوا تھا۔ میں نے اس لٹریچر کو اٹھا یا اس پر لکھا ہوا تھا کہ یہ میڈیکل ایسوسی ایشن آف امریکہ کی طرف سے ہے ۔ میں نے اس کو پڑھنا شروع کیا تو اس کا عنوان بڑا دلچسپ تھا۔ اس میں لکھا ہوا تھا کہ آپ اپنے وزن کو آسانی کے ساتھ کنٹرول کیجئے ۔ جو بندہ اپنے اضافی وزن کو کنٹرل کرنا چاہے اور وہ ورزش بھی نہیں کرسکتا، سلمنگ سنٹر(SlimmingCentre) بھی نہیں جا سکتا، زیادہ کھانے کی عادت پہ قابو بھی نہیں پا سکتا، اور وہ دوائیاں بھی استعمال نہیں کر سکتا تو ایسے بندے کے لیے وزن کم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ آدمی خوب چبا چبا کر کھانا کھائے۔
حضرت جی فرماتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات پڑھی کہ وزن کم کرنے کے لیے کھانے کو خوب چبا چبا کے کھایا کرو تو فرماتے ہیں کہ مجھے یاد آیا کہ یہ تو نبی کریمﷺ کی مبارک سنت ہے ۔حدیث پاک میں آیا ہے کہ نبیu جو لقمہ منہ میں لیتے تھے تو اس کو خوب اچھی طرح چبا چبا کر نگلتے تھے ۔اس کے بعد دوسرا لقمہ لیتے تھے ۔ پھر اسی لٹریچر کے انداس کی تفصیل بھی لکھی ہوئی تھی ۔انہوں نے بتایا اس کی سائنسی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کھانا کھاتا ہے تو اس کو پتا چل جاتا ہے کہ میرا پیٹ بھر گیا لیکن یہ پیٹ بھرنے کا فیصلہ پیٹ نہیں کرتا انسان کا دماغ کرتا ہے۔ اب انسانی دماغ کو دو طریقوں سے اطلاعات ملتی ہیں۔ ایک سگنل تو اس کو منہ کی طرف سے آتا ہے۔ منہ کو اللہ تعالیٰ نے غذا کو چبانے کے لیے بنایا ہے، دانتوں کا یہ کرشنگ یونٹ (Crushing Unit) ہے۔ جتنی مرتبہ بھی انسان غذا کو چبانے کے لیے منہ چلاتا ہے یہ گنتی گنی جا رہی ہوتی ہے اور یہ گنتی دماغ کو پہنچائی جا رہی ہو تی ہے، اور دماغ اس گنتی سے فیصلہ کر لیتا ہے کہ پیٹ بھر گیا یا نہیں ۔ایک تو یہ طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ کیا ہے؟ دوسرا سگنل انسان کے دماغ کو پیٹ کی طرف سے ملتا ہے۔ وہ کیسے ؟ اس طرح کے پیٹ کے اوپر والی سطح کے اوپر کچھ ٹرانس ڈیوسر (Transducer) ہوتے ہیں جو سگنلز کو ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ چنانچہ جب ہمارے پیٹ میں خوراک جاتی ہے تو پیٹ پھیلتا ہے۔ جب پیٹ پھیلتا ہے تووہ ٹرانس ڈیوسر (Transducer) اس کے پھیلاؤ کا سگنل دماغ کو دیتا ہے، یہ لونگ ایکٹو ٹرانسڈکشن (Long Active transduction) کہلاتا ہے، یعنی یہ فوراً سگنل نہیں دیتا اس کو پراسس (Process) کرنا پڑتا ہے تو ٹائم لگتا ہے، اور وہ ٹائم بتایا گیا کہ پیٹ کا سگنل دماغ تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی آپ نے کوئی چیز منہ میں ڈالی اور ایک دم ہی ساری کھا لی تو آپ کو جو محسوس ہو گا کہ پیٹ کتنا بھرا ہوا ہے وہ آٹھ منٹ بعد محسوس ہوگا فوراً نہیں ملے گا، کیونکہ یہاں سے جو سگنل جا رہا ہے وہ آٹھ منٹ بعد پہنچے گا۔
اب ہم کیا کرتے ہیں کہ جب دستر خوان پر بیٹھتے ہیں تو سوچ لیتے ہیں کہ یا کھانا نہیں یا ہم نہیں۔ تو چند ہی منٹوں میں ہم اتنا کھا لیتے ہیں کہ ہماری اپنی ضرورت سے زیا دہ ہو تا ہے تو آٹھ منٹ بعد جب دماغ کو سگنلز پہنچنے شروع ہو تے ہیں تو ہم اپنی ضرورت سے زیادہ کھا چکے ہوتے ہیں، پھر ہم کہتے ہیں کہ آج تو ہم نے زیادہ کھا لیا اوور ایٹنگ (Over Eating)کر لی ۔اس کو سمجھنے کے لیے ایک آسان سی مثال دیکھیں! آپ نے کھانا کھانا شروع کیا تھوڑا سا ہی کھایا تھا، چند لقمے آدھی روٹی کھائی کہ فون آگیا ، کسی کا ضروری فون تھا۔ آپ نے کھانے کو چھوڑا بات کرنے چلے گئے۔ دس منٹ بعد جب آپ واپس آئے تو اب آپ کہتے ہیں کہ میری بھوک ہی ختم ہو چکی ہے ۔وہ بھوک نہیں ختم ہوتی بلکہ آٹھ، نو منٹ بعد وہ دماغ کو صحیح سگنل پہنچ چکا ہوتا ہے۔ تو اگر ہم آہستہ آہستہ، آرام آرام سے چبا چبا کر کھانا شروع کر دیں اور مناسب کھانا کھائیں تو ہمارے دماغ میں صحیح سگنل پہنچے گا اور ہمیں محسوس ہو جائے گا کہ ہمارا پیٹ بھر گیا ہے۔ اس طرح ہم زیادہ کھانے کی عادت سے بچ جائیں گے اور درمیا ن سے موٹے نہیں ہو ں گے۔ زیادہ کھانے کی وجہ سے ہی جسم میں چربی بڑھتی ہے ۔دراصل جتنی ہمیں ضرورت ہوتی ہے وہ ہم اپنی جلد بازی کی وجہ سے اس ٹائم کے اندر اس سے زیادہ کھانا کھا چکے ہوتے ہیں ۔
اس میں ایک اور پوائنٹ بھی غور کرنے والا ہے۔ ہمارا منہ غذا کو چبانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ ان دانتوںکا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ غذا کو چباتے ہیں۔ دانت جب لقمے کو چباتے ہیں کرش کرتے ہیں تو یہ کرشنگ کا جو سگنل ہے دماغ کو ملتا ہے۔ اب آپ ایک لقمے کو بار بار چبائیں یا دس لقموں کو چبائیں، یا ایک ہی لقمہ دیر تک چباتے رہیں اس نے تو کاؤنٹنگ کرنی ہے کہ کتنی دفعہ چبایا گیا۔ تو معلوم ہوا اگر لقمہ منہ میں ڈالیں اور اچھی طرح چبائیں اوراس کے بعد نگلیں، پھر دوسرا لقمہ منہ میں ڈالیں اور چبائیں اور اس کو بھی مکمل ٹائم دیں تو اس طرح آہستہ آہستہ کھاتے ہوئے ہم دس منٹ میں اتنا کھا لیں گے کہ ہمارا دماغ مکمل فیصلہ کر سکے گا کہ ہم نے ضرورت کے مطابق کھا لیا ہے۔ لہٰذا دو چپاتی کھانے والے سنت کے مطابق اگر ایک چپاتی آسانی سے چبا چبا کرکھا لیں تو ان کا دماغ فیصلہ دے دے گا کہ بھئی! اب پیٹ بھر چکا۔ تو اب گولیاں کھانے کی، ڈائٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اسی طرح اس میں ایک بات اور بھی یاد رکھیں کہ جب ہم نوالہ منہ میں چباتے ہیں اور اندر ڈالتے ہیں تو ہمارے معدہ کا کام ہوتا ہے خوراک کو ہضم کرنا، دانتوںکا کا م ہے خوراک کو چبانا معدہ کا کام کیا ہے؟ خوراک کو ہضم کرنا۔ اب اگر ہم اپنی عادت کے مطابق جلدی جلدی کھا رہے ہیں تو معدہ کو ہم دو کا م دے رہے ہیں، ایک اس کا اپنا کام خوراک کو ہضم کرنے کا اور جو دانتوں کا کام ہم نے دانتوں سے نہیں لیا ، وہ کام بھی ہم نے معدہ پر ڈال دیا۔ اب معدہ میںغذا اندر پہنچتی ہے تو اس کو ڈبل ڈیوٹی دینی پڑتی ہے اور اس پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ اس کی اپنی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بوجھل ہونے کی وجہ سے وہ خوراک کو مکمل طور پر کرش نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے صحیح وٹامنز نہیں بنتے اور معدہ ہر چیز کو چربی میں تبدیل کرتا چلا جاتا ہے، اور ایسا بندہ عام طور سے درمیان سے موٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اصل میں پیٹ پر چربی چڑھ جاتی ہے، پھر وہ بندہ کہتا ہے: پتا نہیں کیا ہوا ذرا سا کھا لوں تو پیٹ بڑھ جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ آپ نے سسٹم کو مکمل طور پر استعمال ہی نہیں کیا۔ تو ہم کرشنگ یعنی خوراک کو چبانے کا کام دانتوں سے لیں اور ہاضمے کا کام اپنے معدے سے لیں تو یہ پورا سسٹم ٹھیک رہے گا۔ اوور ایٹنگ سے بھی انسان بچے گا ، اور یہ غذا انسان کو صحیح وٹامنز بھی بنا کر دے سکے گی چربی نہیں بنے گی۔
ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ جو بندہ اپنا وزن کنٹرول کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی طرح چبا چبا کر تسلّی سے کھانا کھائے تا کہ کھانا کھانے میں کچھ وقت لگے اور اس کے پیٹ میں جو خوراک جا چکی ہے اس کا مناسب سگنل دماغ کو پہنچے۔ اس طرح اگر وہ کھائے گا تو اس کے پیٹ میں فالتو چربی نہیں بنے گی ورنہ پیٹ بڑھ جانے کی صورت میں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اب آپ کو ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے، فلاں فلاں بیماریا ں بھی ہو سکتی ہیں۔ تو پھر کیا معلوم ہوا کہ جہاں ہم نبیu کی سنّت کو چھوڑتے ہیں ، وہیں کوئی تکلیف ہمارے پاس آجاتی ہے، تو کتنا اچھا ہو کہ ہم ہر کام نبیu کی سنّت کے مطابق کریں ۔اس میں دنیا کا بھی فائدہ اور دین کا بھی فائدہ ہے ۔ا ور آج یورپ والے اس معاملے میں کیا کرتے ہیں کہ جب وہ لوگ کھانے کے لیے بیٹھتے ہیں تو تقریباً ایک گھنٹے کا کھانے کا پروگرام بناتے ہیں، ڈیڑھ گھنٹے پروگرام بناتے ہیں کہ جی ہم آہستہ آہستہ کھائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ٹائم ضائع کررہے ہیں یا انجوائے کرنے بیٹھے ہیں۔ نہیں، وہ غذا کو انجوائے بھی کرتے ہیں اورصحت کا خیال بھی رکھ رہے ہوتے ہیں۔ تووہ کھانے کا جو پروگرام بناتے ہیں گھنٹے کا ڈیڑھ گھنٹے کا بناتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سنّت کو تسلیم تو نہیں کیا لیکن تسلیم کیے بغیر نبیu کی چبا چبا کر کھانا کھانے کی سنّت کو اپنا لیا۔
سونے سے اُٹھتے ہی نماز کا ایک فائدہ:
سونے سے اٹھتے ہی نماز کے ایک فائدے پر غور کریں۔ ایک آدمی جب صبح اٹھتا ہے تو فجر کی نماز پڑھنے کے لیے اس کو وضو کرنا پڑتا ہے تو وضو کے لیے وہ اپنے منہ پر پانی ڈالتا ہے۔ آج ڈاکٹرز یہ کہتے ہیں کہ آنکھوں کے اندر کالا موتیا اور سفید موتیا بینائی کو متاثر کر دیتا ہے۔ اب اس کو کنٹرول کرنے کے لیے کہ یہ بیماری نہ لگے، تو اس کے لیے کیا کریں؟ ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ صبح کے وقت اپنی آنکھوں میں پانی کے چھینٹے ڈالیں، کیونکہ اس وقت اوزون (Ozone) ہوتی ہے جو کہ پانی کے ساتھ مل کر انسان کی آنکھوں میں جاتی ہے اور انسان کی بینائی کو ٹھیک رکھتی ہے۔ اب دیکھیں جن لوگوں کو فجر کی نماز پڑھنے کی عادت ہوتی ہے اور وہ صبح اٹھ کر وضو کرتے ہیں تو (Autometically) یہ فائدہ ان کو مل جاتا ہے۔
رات کو سوتے ہوئے مسواک کا ایک فائدہ:
پھر اسی طرح انسان وضو کے دوران مسواک بھی کرتا ہے یہ سنّت ہے۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے یورپ کے ڈاکٹرزکہتے تھے کہ ہر آدمی صبح اُٹھے اور صبح اُٹھتے ہی اپنے دانت صاف کرے۔ کچھ عرصے کے بعد ان کی تحقیق آئی کہ بھئی صبح کرے نہ کرے ٹھیک ہے تمھاری مرضی لیکن رات کو سونے سے پہلے ضرور کرے۔ وجہ کیا ہے ؟کہتے ہیں کہ انسان کے دانتو ں کے اندر کی جو جگہیں ہیں وہاں بیکٹیریا آجاتے ہیں اور ان کی بہت بڑی تعداد آجاتی ہے۔ دن کے وقت تو انسان بولتا رہتا ہے کام کرتا رہتا ہے، کوئی نہ کوئی حرکت میں رہتا ہے کھاتا پیتا رہتا ہے، تو اس بیکٹیریا کو اپنا کام کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ رات کو جب انسان کھانا کھا کے سو جاتا ہے تواب کئی گھنٹوں کے لیے منہ بند ،اب بیکٹیریا کو پورا ٹائم مل جاتا ہے کہ انسان کو بیماری کی طرف لے جائے۔انسان اگر منہ صاف نہیں کرتا تو دانتوں کے اندر کچھ خوراک کے ریزے رہ جاتے ہیں وہ بھی ملین آف بیکٹیریاز میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو وہ بھی انسان کو بیماریوں کا شکار کر دیتے ہیں۔ اس لیے آج ڈاکٹرزکہتے ہیں کہ رات کو مسواک کر کے برش کر کے سویا کرو۔ حضرت فرماتے ہیں کہ جب ہم نے یہ ریسرچ پڑھی تو امّی عائشہ صدّیقہk کی بات یاد آگئی کہ وہ فرماتی ہیں کہ نبیu رات کو سونے سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے گویا منہ کو اچھی طرح صاف کر لیا کرتے تھے۔ (شرح مواہب جلد5صفحہ68،کنزالعمال جلد7صفحہ69)
ایک اور نکتہ بھی ہے جو خاوند حضرات کے لیے بے حد قابل عمل ہے کہ رات کو جب یہ سوئیں تو ان کے منہ سے کوئی بو (Smell) نہیں آنی چاہئے، نہ سگریٹ کی، نہ نسوار کی نہ اور کسی ایسی چیز کی۔ منہ کو صاف کر کے سوئیں۔ ایک تو صحت کے لیے ٹھیک ہے انکی اپنی اور دوسرا جو میاں بیوی کے تعلقات ہیں اسکے لیے بھی یہ ٹھیک ہے۔ آج مرد اس بات کو محسوس نہیں کرتے۔ بیوی کے منہ سے بدبو آنے لگے تو اسکو کہتے ہیں۔ کئی عورتوں نے بتایا کہ جی! ہمارے منہ سے بدبو آتی ہے اور شوہر کہتا ہے کہ تم اچھی نہیں لگتی، تو کیا خیال ہے جب ہمارے منہ سے بدبو آئے گی تو ہم کون سے بڑے اچھے لگ رہے ہوں گے۔ یہ سمجھنے کی بات ہے اور نبیu کی سنّت ہے، ہر ہر اینگل سے اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ تو رات کو جب سونے لگیں تو منہ سے کسی قسم کی بد بو نہیں آنی چاہیے۔ صحت کے لیے بھی ٹھیک اور ازدواجی زندگی کے لیے بھی یہ بہترین نکتہ ہے ۔اگر کوئی اس بات کو بغیر تحقیق کے ماننا چاہے تو ٹھیک ورنہ اس کی تحقیق پھر دوبارہ پیش کر دینگے ان شاء اللہ تعالیٰ۔ آج ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ انسان کی پیٹ کی بیماریاں زیادہ تر اس کے گندے دانتوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ واقعی جو لوگ مسواک کرنے کے عادی نہیں ہوتے ان کو پیٹ کی کوئی نہ کوئی بیماری ضرور مل جاتی ہے، لہٰذا جو بندہ بیماریوں سے بچنا چاہے اسے چاہئے کہ منہ صاف رکھے ، یہ میرے پیاری نبی ﷺ کی مبارک سنّت ہے ۔ خلاصہ یہ کہ پہلے تو کہتے تھے کہ صبح دانت صاف کرو، اب کہتے ہیں کہ صبح کرو یا نہ کرو رات کو ضرور کرو۔ نتییجہ کیا نکلا؟ کہ سائنس بالآخر پھر جس منزل پر پہنچی وہ وہی منزل تھی جہاں ہمارے محبوبﷺ کے قدموںکے نشان ہیں۔
وضو کے ہماری صحت پر بہترین اثرات:
بندہ جب وضو کرتا ہے تومسواک ہی نہیں کرتا بلکہ وہ چہرہ بھی دھو رہا ہوتا ہے۔ ناک میں بھی پانی ڈال رہا ہوتا ہے، کلّی بھی کرتا ہے، کانوں کا مسح بھی کرتا ہے۔ اور دن میں کتنی مرتبہ کرتا ہے ؟پانچ مرتبہ۔ تو وضو میں یہ سارے کام دن میں کم از کم پانچ مرتبہ کر رہا ہوتا ہے۔ اب ذرا غور کریں! میڈیکل سائنس نے بتایا کہ انسان کی گردن والے حصے میں سارے الیکٹرون(Electron) ہیں ۔انسان کے دماغ کی ساری نروز (Nerves) ایک بنڈل کی شکل میں گردن کے پچھلے حصے سے گزر کر ریڑھ کی ہڈی میں اور وہاں سے پورے جسم میں پھیل رہی ہیں، اس لیے یہ گردن کا پچھلا حصہ بہت ہی اہم اور حسّاس ہوتا ہے۔ اگر کوئی بندہ اس حصے کو مسلسل خشک رکھے اس خشکی کی وجہ سے بعض اوقات ان پٹھوں میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے، پھر اس تناؤ کی وجہ سے اس کی نروز کے اوپر اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ دن میں ایک دفعہ دو دفعہ نہا لیا کرو ۔ اللہ اکبر! انہوں نے پانی لگانے کا طریقہ تو اب سوچااور وضو میں نبی کریم ﷺ نے مسح کرنے کاچودہ سو سال پہلے بتا دیا۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ اس جگہ کو خشک نہ ہونے دو۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ سائنس ترقی کر کے جہاں پہنچتی ہے وہاں آقا ﷺکے قدموں کے نشان پہلے سے ہوتے ہیں۔
اچھا یہ بتائیں! ایک آدمی بہت ہی پڑھا لکھا ہو ، اس کی لائف بہت ہی (sophisticated) ہو، وہ دن میں کتنی مرتبہ نہا سکتا ہے؟ زیادہ سے زیادہ آفس جاتے ہوئے ایک ہی دفعہ نہا لے گا بار بار تو نہیںنہا سکتا ، لیکن دیکھیے انسان کے جسم کے کچھ اعضا ایسے ہوتے ہیں جو کام کرتے ہوئے عا م طور سے سارا دن ننگے رہ جاتے ہیں یا رہ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر چہرہ ننگا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کے ہاتھ کہنیوں تک بھی ننگے رہ سکتے ہیں، جیسے مستری لوگ ہوتے ہیں کام کرنا ہوتا ہے مزدور ہوتے ہیں ، ٹخنوں تک ننگے رہ سکتے ہیں۔ عورت ہے تو پائینچے ٹخنوں سے نیچے نیچے تک رکھے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کسی وقت کسی مجبوری کی وجہ سے انسان کا سر بھی کام کے دوران ننگا ہو جائے۔ تو ذرا غور کریں! یہ وہ جگہیں ہیں جن کو عام طور سے کام کے دوران ننگا رکھنا پڑ سکتا ہے۔ اب نماز پڑھتے ہوئے انہی کھلی رہنے والی جگہوں کودن میں پانچ مرتبہ دھونے کا حکم دیا کہ فضا میں جتنا پلازمااور جتنے جراثیم ہوتے ہیں وہ ننگے بدن پر ہی لگ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ وضو کے وقت ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا اور کئی جگہ سے آلودگی آرہی ہوتی ہے اور وہ صاف ہو رہی ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ کام کرنے والوں میں کوئی ٹی بی کا مریض ہو سکتا ہے، کوئی السر کا ہو سکتا ہے، کسی کے منہ سے بیکٹیریا کی وجہ سے اثرات نکل سکتے ہیںہمیں پتا بھی نہیں ہوتا اور وہ ہمارے جسم کے ساتھ لگ جاتے ہیں۔ اگر اپنی جلد کو ہم دن میں ایک مرتبہ دھوئیںسائنس کے مطابق تو اتنا محفوظ طریقہ نہیں ہے۔ اور اگر سنّت کے مطابق پانچ مرتبہ وضو کر لیں تو یہ موسٹ ہائی جائیجانک وے آف لِوِنگ (Most hygienic way of living) ) ہو گا۔ یہ حفظانِ صحت کا بہترین طریقہ ہو گا کہ ہم اپنے ان ننگے رہنے والے اعضا کو دن میں پانچ مرتبہ دھوئیں۔ تو فائدہ کس کو ہوا؟ انسان کو اور سنّت کس کی پوری ہوئی؟ آقا ﷺ کی۔
وضو میں پاؤں دھونے کا ایک طبّی فائدہ:
حضرت جی فرماتے ہیں کہ حضرت کے ایک دوست شوگر کے مریض تھے۔ ان کو ڈاکٹرز نے ہدایت دی تھی کہ آپ اپنے پاؤں کو دن میں چند مرتبہ مساج کیا کریں، اور وجہ یہ بتائی کہ پاؤں کے اندر جو خون کی نالیاں جا رہی ہوتی ہیں وہ شوگر کی وجہ سے قدرے تنگ ہو جاتی ہیں اور باریک ٹشوز کے اندر خون نہیں پہنچ پاتا، اسی وجہ سے شوگر کے مریض کے پاؤں سن ہو جاتے ہیں۔ اور ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اس بات کا خیال رکھے کہ پاؤں کے اندر کوئی زخم نہ ہو اور دن میں کئی دفعہ پاؤں کا مساج کیا کریں ۔اب پاؤں کو بار بار دیکھنا دن میں، اور مساج کرنا کروانا یہ کچھ ایکسٹرا چیز نظر آتی ہے آسان نہیں ہے، لیکن جو نمازی بندہ ہے اور جو نبی کریم ﷺ کی سنتوں کا عاشق ہے اس کو روزانہ پانچ دفعہ یہ کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔وہ پاؤں بھی دھوتا ہے مل مل کے دھوتا ہے اور انگلیوں کا خلال بھی کرتا ہے، تو یہ سارے فائدے اس کو (Automatically) اللہ ربّ العزّت کی طرف سے مل رہے ہوتے ہیں ۔اگر خون کی کوئی بندش وغیرہ ہو تو خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے ۔
ذرا سوچیے! اگر ایک کافر شوگر کا مریض ہو یا کوئی بے نمازی ہو اور شوگر کا مریض ہو اس کو بعض اوقات کئی کئی دن تک نہیں پتا چل پاتا کہ میرے پاؤں میں کچھ نقصان یا کوئی زخم شروع ہو چکا، لیکن اگر جو نمازی بندہ ہو گا اگروہ شوگر کا مریض بھی ہے دن میں پانچ مرتبہ اپنے پاؤں کو دیکھے گا تو جیسے ہی زخم ہونا شروع ہو گا تو فوری طور سے اسے اطلاع مل جائے گی اور ڈاکٹر کی طرف رجوع کر سکے گا۔ تو سنّت کے فائدے ہی فائدے ہیں۔ اللہ اکبر کبیرا !
حضرت جی فرماتے ہیںکہ اس بندے نے جب یہ بتایا اور ڈاکٹرزنے جب ہدایات دیں تو حضرت نے اس سے کہا: اللہ کے بندے! کتنی پیاری بات ہے کہ تم بجائے اس کے کہ اپنے پاؤں کو دن میں پانچ مرتبہ ٹٹولا کرو دیکھا کرو تو تم سنّت کے مطابق وضو کیا کرو۔ پانچ مرتبہ نمازپڑھ لیا کرو اور تمھارے پاؤں کا (Automatically) مساج ہوتا رہے گا۔ انگلیوں کو مل مل کے دھویا کرو اور خلال بھی کرو۔ پھر حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ تم جا کر ڈاکٹر کو کہہ دینا کہ تم مریضوں کو سیدھا سیدھا کیوں نہیں کہہ دیتے کہ تم دن میں پانچ مرتبہ وضو کیا کرو تو تمہیں یہ سارے فائدے خود بخود حاصل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کروں گا۔ قدرتاً وہ ڈاکٹر ہندو تھا۔ جب حضرت کے دوست نے ڈاکٹر کو وضاحت سے بتایا کہ ہم لوگ یوں وضو کرتے ہیں اور اس کے یہ یہ فائدے ہیں تو حیران ہو گیا اور کہنے لگا: اچھا! تمھارا بچہ بھی وضو کرتا ہے اور بوڑھا بھی وضو کرتا ہے؟اس نے کہا: ہاں۔ کہنے لگا: بہت خوب درحقیقت یہی بات ہے کہ جو بندہ عملی طور پر مسلمان ہوتا ہے وہ کتنی بیماریوں سے خودبہ خود بچ رہا ہوتا ہے۔ آج کفر کی دنیا ان سے دنیاوی فائدے اٹھا کر عمل کر رہی ہوتی ہے۔
اطمینان سے سجدہ کرنے کا ایک طبّی فائدہ:
حضرت جی نے ایک اور بات بھی سنائی۔ فرمایا کہ ایک نوبل پرائز ونر تھا۔ اس سے انٹرویو لیا گیا تو انٹرویو لینے والوںنے اس سے پوچھا: آپ نوبل پرائز ونر کیسے بنے؟ اس نے کہا کہ میں ایک اسپیشل ورزش کرتا ہو ںجس کی وجہ سے میرا دماغ زیادہ تیز کام کرتاہے اور میں نوبل پرائز ونر بن گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ بھئی! وہ اسپیشل ایکسر سائز آپ کیا روزانہ کرتے ہیں؟ اس نے کہا: میں روزانہ تقریباًپندرہ منٹ الٹا کھڑا ہو تا ہوں۔ میرا سر نیچے ہو جاتا ہے اور ٹانگیں اوپر، یہ میری اسپیشل ورزش ہے۔ پوچھا گیا کہ بھئی! ایسا کیوں؟ اس نے کہا کہ عام حالات میں دل نیچے ہوتا ہے اور سر اوپرہوتا ہے، اس صورت میں دل سے نیچے والے اعضا کو تو خون آسانی سے پہنچ جاتا ہے دماغ گویا اوپر کی منزل ہے لہٰذا اس تک خون کا پہنچنا ذرا مشکل ہے، تو دونوں صورتوں میں اوپر والی سمت اور نیچے والی سمتوں میں خون کا پریشر مختلف ہو تا ہے۔ دماغ کو جتنے خون کے پریشر کی ضرورت ہوتی ہے اتنا اس کو نہیں مل پاتا۔ اور جب میں الٹا کھڑا ہو جاتا ہوں میرا سر نیچے ہو جاتا ہے اور پاؤں اوپر ہو جاتے ہیں تو دل خون کو دماغ کی طرف بھیج دیتا ہے اور میرے دماغ کے بلین اور ٹرلین خلیوں کے اندر میرا خون پہنچ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے میرا دماغ بہت اچھا کام کرتا ہے اور میں نوبل پرائز ونر بن گیا۔
اب ذرا غور کریں! پورے دن میںاور توکوئی صورت نہیں ہوتی کہ انسان سر نیچے کرے اور دل اوپر ہو جائے، لیکن نماز میںانسان جب سجدے میں چلا جاتا ہے تو انسان کا سر نیچے اوراسکا دل اوپر ہو جاتا ہے اس لیے اگر تھوڑا سا لمبا سجدہ کیا جائے تو آدمی کو اپنے کانوں میں چہرے میں اور دماغ میں فراوانی کے ساتھ خون پہنچنا محسوس ہوتا ہے جیسے خون کا فلڈ (Flood)آچکا ہو ۔ یہ ہے سجدے کی حالت جس میں انسان کا زیادہ سے زیادہ خون سر اور چہرے میں جا رہا ہوتا ہے اور ایک ایک خلیے کو جا کے تازگی دے رہا ہوتا ہے۔ اس لیے لمبے سجدے کرنے والوں کو اللہ ربّ العزّت ایک خاص کیفیّت عطا فرما دیتے ہیں۔ ایک رونق عطا فرما دیتے ہیں۔
حضرت جی فرماتے ہیں کہ مجھے ایک ڈاکٹر ملا وہ کہنے لگا کہ دینِ اسلام نے کہاہے کہ صلحاء کے چہرے پر نور ہو تا ہے۔ میں نے کہا کہ بالکل پکّی بات ہے۔ کہنے لگا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ نور کیسے ہو تا ہے؟ پھر کہنے لگا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں اور میں نے یہاں امریکہ سے میڈیکل کی ڈگری لی ہے اور ریسرچ کی ہے ۔اور میری ریسرچ یہ کہتی ہے کہ اصل میں یہ لوگ لمبے لمبے سجدے کرتے ہیں اور ان لمبے سجدوں کی وجہ سے انکے چہرے، دماغ میں اور اوپر باقی اعضا میں خون وافر مقدار میں چلا جاتا ہے اسکی وجہ سے انکے چہرے دوسروں کی بنسبت زیادہ تازہ نظر آتے ہیں۔ بڑھاپے میں بھی پرُ رونق چہرہ لگتا ہے ۔ اس کے بعد وہ ہنسا اور کہنے لگا کہ ایک بات آپ کو اور بتاؤں؟ ہاں بھئی! بتاؤ کہنے لگا کہ اگر عورتوں کو پتا چل جائے کہ لمبے سجدے کرنے سے ہمارے چہرے کتنے تازہ نظر آئیں گے تو یہ بیچاریاں کئی کئی گھنٹے روزانہ سجدے میں ہی گزار دیں اور کریموں سے ان کی جان چھوٹ جائے ۔
سِرکے کا استعمال سنّت بھی صحت بھی:
حضرت جی فرماتے ہیں کہ حضرت نے ایک مرتبہ نیویارک ٹائمز میں پڑھا اس میں تین کالم کی ایک خبر لگی ہوئی تھی کہ سرکہ استعمال کر کے اپنی اضافی چربی کو ختم کر لیں (Burn your Extra Fat with the use of vinegar) سرکہ استعمال کر کے اپنی اضافی چربی کو ختم کر لیں۔ فرماتے ہیں کہ مجھے حیرت ہوئی کہ سرکہ استعمال کرنا تو حضور پاک ﷺ کی سنّت ہے اور نبی پاک ﷺ کے دور میں کوئی دعوت ایسی نہیں ہوتی تھی کہ جس میں سرکہ موجود نہ ہو۔ نبیu نے ارشاد فرمایا کہ جس گھر میں سرکہ موجود ہو تا ہے اس گھر میں سالن موجود ہوتا ہے یعنی سرکہ ایک سالن بتایا۔ حضرت فرماتے ہیں کہ پھر میںنے پورا مضمون پڑھا اس میں لکھا ہوا تھا کہ اگر انسان روزانہ چائے کے ایک چمچ کی مقدار سرکہ استعمال کر لے تو وہ موٹا نہیں ہو گا۔ اس کے استعمال کے کئی طریقے ہیں، مثلاً پانی میں ڈال کر یا سالن میں ڈال کر یا سلاد میں ڈال کر، لیکن اگر سلاد میں ڈال کر کھائیں گے تو لوگوں کے گلے اس کو برداشت نہیں کر پائیں گے۔ اس لیے سرکہ استعمال کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ آدھا گلاس پانی لیں اور اس میں ایک چمچ سرکہ ملا کرروزانہ پی لیں۔ چوبیس گھنٹوں میں جتنی بھی اضافی چربی ہو گی، یہ اس چربی کو ختم کر دے گا۔ تو جن لوگوں کو ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ اپنا وزن کم کریں وہ بیچارے ورزش بھی کرتے ہیں مگر پھر بھی وزن نہیں کم کر پاتے، ڈائیٹنگ بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی وزن نہیں کم کر پاتے۔ ان کے لیے آسان اور قدرتی علاج یہ ہے کہ وہ سرکہ استعمال کرنا شروع کر دیں۔ آج مسلمان اس سرکے کا استعمال اتنا زیادہ نہیں کرتا، اہتمام نہیں کرتا۔
حضرت فرماتے ہیں کہ اس خبر کے چھپنے کے بعد امریکن اسٹورز کے اندر سِرکے کی قیمت زیادہ ہو گئی اور امریکی لوگ سرکے کا استعمال کثرت سے کرنے لگے اور یہ ان کے ہر کھانے میں رہنے لگا۔ حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے ایک امریکی سے پوچھا کہ جی آپ سِرکہ کیوں استعمال کرتے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ اس میں بہت سارے فائدے ہیں اور اس لیے اس کو ہم نے اپنی غذا کا حصہ بنا لیا۔ میں نے کہا: دیکھو کہ میں مسلمان ہو ںیہ میرے پیارے نبی ﷺ کی پیاری سنّت ہے، کیونکہ آپ نے بھی اس پر عمل کیا اور ہماری تحقیقات میں ایک تحقیق کا اضافہ ہو گیا یعنی سِرکہ نبی کے کھانے کا ایک حصہ تھا آپکی غذا کا حصہ تھا ہم نے تو چھوڑ دیا لیکن چودہ سو سال کے بعد سائنس تحقیق کر کے پھر وہاں پہنچی جہاں نبی کے قدموں کے نشان ہیں۔
زیتون اور اسکا تیل:
اسی طرح زیتون کے تیل کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ زیتون کا تیل کھاؤ بھی اور لگاؤ بھی۔ اور اللہ ربّ العزّت نے زیتون کی قسم کھائی ہے:
﴿وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ﴾ (سورۃ التین:1)
تو کچھ تو اس کے اندر حکمتیں ہوں گی۔ تو زیتون کا بتایا کہ کھاؤ بھی اور لگاؤ بھی۔ اب کچھ لوگوں کو ہائی کولیسٹرول کاپرابلم ہوتا ہے تو ڈاکٹرز ان کو کہتے ہیں کہ آپ پراٹھا نہ کھائیں، انڈا نہ کھائیں۔ لاہور میں حضرت کے ایک خلیفہ ہیں ڈاکٹر شاہد اویس صاحب جنہوں نے آس اکیڈمی بنائی۔ وہ پیتھالوجسٹ ہیں۔ انہوں نے حضرت جی کو بتایا کہ حضرت! میں نے سو لوگوں کو جو کولیسٹرول کے مریض تھے، کہا کہ تم ساری دوائیاں چھوڑ دو جو کولیسٹرول کے لیے دوائی لیتے ہو سب چھوڑ دو اور چالیس دن تک اپنا سارا کھانا پینا زیتون کے آئل میں کرو (Olive Oil) میں کرو ۔ فرماتے ہیں کہ حضرت! ان لوگوں نے میری بات کو مانا عمل کیا، میرا تجربہ یہ ہے کہ چالیس دنوں کے بعد جب وہ دوبارہ ٹیسٹ کروانے میرے پاس آئے تو ان سب کا کولیسٹرول لیول 200سے کم تھا۔ ان پر پابندی یہ لگائی تھی کہ کولیسٹرول کی دوائی کوئی نہ کھاؤ، تم سلاد کھاؤ تو اس میں زیتون ڈالو، کھانا کھاؤ تو اس میں زیتون ڈالو اور زیتون کا استعمال کثرت سے چالیس دن تک کر لو۔ فرماتے ہیں کہ میں نے سو لوگوں پر تجربہ کیا اور سو کےسو میں(100 Percent) مجھے رزلٹ ملا کہ انکا 200سے نیچے کولیسٹرول ہوگیا۔ حضرت جی فرماتے ہیں کہ مجھے جب حضرت ڈاکٹر صاحب نے یہ بات بتائی تو میں حیران ہوا کہ زیتون کے تیل میں ایسی خاص بات کیا تھی کہ جو اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے تو یقیناً اس میں کوئی راز ہو گا۔
پھر بہرحال حضر ت نے فرمایا کہ ہم نے ایک ریسرچ پیپر پڑھا۔ اس میں اس بات کی وضاحت تھی۔ اس ریسرچ کو آسان الفاظ میں یوں فرمایا کہ اس ریسرچ رپورٹ میں لکھا ہوا تھا کہ زیتون کے تیل کے سائنسی فارمولے میں ایک کرسی خالی ہے اور اس کرسی کی جگہ بالکل ایسی ہے جیسی بیڈ کولیسٹرول کی ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ بیڈ کولیسٹرول اس کرسی کی پوزیشن میں جا کر فٹ ہو جاتا ہے اور یہ زیتون کا تیل اس بیڈ کولیسٹرول کو جسم سے باہر نکال دیتا ہے۔ اس سے پتا چلا کہ زیتون کا تیل کولیسٹرول لیول کو فقط کم ہی نہیں کرتا بلکہ بند شریانوں کو کھولنے کا کا م بھی کرتا ہے، لہٰذا باہر کے ملکوں میں دل کے مریضوں کو زیتون کا تیل استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کینیڈا میں ایک ریسرچ ہوئی کہ کون سا آئل کتنا استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے رپورٹ میں لکھا کہ اس وقت زیتون کا تیل پورے کینیڈا میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، وہ اس لیے کہ زیتون کا تیل استعمال کریں گے تو دل کی بند شریانیں بھی کھل جائیں گی۔
اب ذرا غور کریںکہ زیتون کا تیل کھانا بھی سنّت اور لگانا بھی سنّت، تو سائنس ریسرچ کر کر کے، ساری محنتیں کر کے کہاں پہنچتی ہے جہاں نبیuکی ٹھنڈی سنّتوں کا سایہ موجود ہو تا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کا عمل یہ ہے کہ جب یہ بیچارے سنّت پر عمل کرتے ہیں تو چونکہ انکو سائنسی فوائد کا معلوم نہیں ہوتا تو یہ ڈاؤن فیل کر رہے ہوتے ہیں، یہ شرم محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ حبیبﷺ کے طریقے پر چلنے میں حضورِ پاک ﷺ کے طریقے کواپنانے میں شرم محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تودقیانوسی نظر آئیں گے۔ او خدا کے بندو! یہ تو ہماری کمزوری ہے کہ ہم نے ریسرچ ورک نہیں کیا، اگر ہمارے اسکالرز اس پر ریسرچ کرتے اور دنیا کو بتاتے کہ نبیu کی سنّتوں میں تمھارے دنیا کے بھی کتنے بڑے بڑے فائدے ہیں، تو کفر کی دنیا ہو سکتا ہے بہت پہلے اسلام قبول کر چکی ہوتی۔ قصور ہمارا ہے کہ ہم نے اسلام کے حسن کو اور نبیu کی پیاری سنّتوں کو دنیا کے آگے نہیں کھولا۔ ہم نے ایسے سائنس دان پیدا کرنے بند کر دئیے جو ایک طرف عالم بھی ہوتے مسلمان بھی ہوتے اور دوسری طرف سائنس کی باریکیوں کو سمجھ کر نبیu کی سنّتوں کے فائدے دنیا کو بتاتے، یہ ہماری کمزوری ہے۔ آج ہمارے مذہب کے نوجوان جب کسی سنّت پر عمل کر رہے ہوتے ہیں تو شرم محسوس کر رہے ہوتے ہیں جیسے معاذ اللہ! انہوں نے کوئی جرم کر لیا ہو۔ پھر جب ان کو سائنسی طور پر سمجھایا جائے اس کے اندر یہ فائدے ہیں تو اللہ ربّ العزّت ان کو ہمّت عطا فرما دیتے ہیں۔
دل کا علاج عجوہ کجھور سے حدیث کی روشنی میں:
اسی طرح عجوہ کجھور کے بارے میں بھی چند باتیں سن لیجیے!حضرت فرماتے ہیں کہ میرے ایک دوست کا کولیسٹرول لیول ہائی ہو گیا۔ ڈاکٹر نے ان سے کہا کہ آپ اس کو کنٹرول کریں ۔وہ مریض حضرت کے قریبی جاننے والے تھے، انہوں نے حضرت کو فون کر کے کہا کہ حضرت! ہو سکتا ہے مجھے ہارٹ اٹیک ہو جائے، اب میں کیا کروں؟ توحضرت فرماتے ہیں کہ میں نے پھر نبی کی زندگی پرآپکی سنّت پر غور کرنا شروع کیا تو روشنی کا مینار مجھے نظر آگیا اور مبارک زندگی میں ایک واقعہ ملا۔ حضرت سعد ایک صحابی ہیں، وہ نبیu کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! مجھے سینے کے اندر درد اور گھٹن ہوتی ہے۔ نبیu نے فرمایا کہ یہ تو دل کی بیماری ہے۔ اس حدیث کو پڑھ کے پتا چلا کہ دنیا میں سب سے پہلے ہارٹ اٹیک کو (diagnose) حضورِ پاکﷺ نے کیا۔ہار ٹ کی بیماری کو، دل کی بیماری کو نبیu نے محسوس کیا حالانکہ سینے کی گھٹن کا دل کے ساتھ کیا تعلق؟ چودہ سو سال پہلے کس کو پتا تھا؟لیکن نبیu نے فرمایا کہ یہ تمھیں دل کی بیماری ہے۔ پھر انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میں کیا کروں؟ نبیu نے ارشاد فرمایا: تم عجوہ کھجوریں استعمال کرو۔ چنانچہ انہوں نے وہ کھجوریں استعمال کیں اور ان کی وہ تکلیف دور ہو گئی۔
حضرت جی فرماتے ہیں کہ جب ہم نے یہ حدیث پڑھی تو سوچا کہ یقیناً اس کے اندر کوئی نہ کوئی راز ہو گا۔ چنانچہ گٹھلی کے اوپر ریسرچ کی کہ یقیناً گٹھلی کے اندر کوئی خاص نعمت موجود ہے۔ ہمیں اس میں راز کی بات یہ ملی کہ کجھوروں کی گٹھلیوں کو پیس کر خود کھانا اور اونٹوں کو کھلانا یہ عربوں کا طریقہ رہا ہے۔ امّ سلمہr کے بارے میںآتا ہے کہ وہ کجھوروں کی گٹھلیوں کو پیستی تھیں اور اپنے اونٹوں کو کھلایا کرتی تھیں۔ اگر لوگوں کے پاس بھی کھانے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو وہ لوگ بھی گٹھلیوں کو پیس کر کھالیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت جی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے اس دوست کو حاجی صاحب کو فون کر کے کہا کہ ہم آپ کو ایک دوائی بھیج رہے ہیں، آپ اسے استعمال کیجئے۔ حضرت فرماتے ہیں کہ ہم نے عجوہ کجھور کی چالیس گٹھلیا ں لیں اور ایک ہائیڈرولک پریس (Hydraulic Press) کے ذریعے ان کو پیس لیا، انکا پاؤڈر بنا لیا پسوا لیا، بعد میں ان کو کیپسولز میں بھر لیا۔ پھر یہ کیپسول حاجی صاحب کو بھیج دیے اور کہا: ان کو ہر کھانے کے بعد صبح دوپہر شام استعمال کریں۔ اور بعد میں پھر حضرت نے ان کو اور بھی کیپسول بھیجے۔ اللہ کی شان جب چالیس دن کے بعد دوبارہ چیک اپ کروانے گئے تو کولیسٹرول لیول جو انکا 300سے بھی زیادہ تھا اب اس کی ریڈنگ جو آئی وہ 185آئی۔ ڈاکٹرنے جب اس کو چیک کیا تو کہنے لگا کہ اس میں کوئی پرابلم ہے رپورٹ ٹھیک نہیں دوبارہ کرواؤ۔ دوبارہ رپورٹ کروائی تو دوبارہ رپورٹ 185ہی آئی۔ حضرت فرماتے ہیں کہ پھر ہم نے کئی درجن لوگوں کے اوپر اس دوائی کا تجربہ کیا اوراس کو تیر بہ ہدف پایا کہ اللہ تعالیٰ نے عجوہ کجھور کی گٹھلیوں میں شفا رکھی ہے۔
پھر حضرت صاحب فرمانے لگے کہ ایک آدمی کراچی کے تھے، وہ ڈاکٹر تھے۔ وہ ایک دن میرے پاس آئے کہنے لگے کہ میں جسمانی ڈاکٹر تو ہوں، اب میں روحانی دنیا کا ڈاکٹر بھی بننا چاہتا ہوں۔ اور کہنے لگے کہ میں ہارٹ اسپیشلسٹ ہوں،لوگوںکے دلوں کا علاج کرتا ہوں۔ تو خیر ان سے بات چیت ہوئی تو بات چیت کے بعد حضرت جی دامت برکاتہم نے یہی کیپسول اور یہ دوائی ان کو بھی دی اور کہا: جناب! آپ ذرا دل کے مریضوں کے اوپر اس کو استعمال کر کے دیکھیں۔ تو وہ ڈاکٹر صاحب لے کر چلے گئے ایک ہفتے کے بعد آکر کہنے لگے: حضرت! یہ دوائی کیا آپ نے رجسٹرڈ کروائی ہوئی ہے؟ہم نے جواب دیا کہ ہم نے تو رجسٹرڈ نہیں کروائی۔ کہنے لگا کہ حضرت! فوراً آپ اسے رجسٹرڈ کروا لیں کیونکہ انسان اس دوائی کو دنیا میں اگرسپلائی کرے تو کروڑوں ڈالر کما سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ بھئی! مجھے ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ چودہ سو سال پہلے میرے آقا اور سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مبارک نام پر رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ ہمیں یہ نعمت نبی کریمﷺ کی مبارک حدیث سے ملی ہے، اور میں چاہوں گا کہ ہمیں یہ ڈالر ملنے کے بجائے میرے محبوب ﷺکی نسبت سے یہ بات پوری دنیا تک پہنچے کہ محبوبﷺ کے اس فرمان کیوجہ سے میرے اللہ نے اس گٹھلی کے اندر اس درد کی شفا رکھ دی ہے۔ تو ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سائنس ایک مرتبہ پھر اپنی منزل پراگر پہنچی ہے تو وہی منزل ہے جہاں نبی کے قدموں کے نشان ہیں۔
اب گٹھلی کو پیسنا یہ بھی ایک بڑا کام ہے۔ وہ عورتیں تو کتنی ہمّت والی تھیں کہ گٹھلیا ں پیس کے اونٹوں کو کھلاتی تھیں۔ آج اگر چالیس گٹھلیاں پیسنا پڑ جائیں ہماری عورتیں تو دور کی بات مرد بھی نہیں کر سکتے، مذاق نہیں ہے۔ یہ عجوہ کھجور کی گٹھلی پیسنے کے لیے اگر آپ بیگم صاحبہ کو دیں تو گٹھلیاں آپ کے سر پہ پڑیں گی، پِس کے نہیں ملیں گی۔ اور خود کرنے لگیں تب بھی نہیں ہوں گی۔ تو کیا کریں؟ حضرت جی نے تو ہائیڈرولک پریس سے کروا لیا تواب کون کون بھائی یہ اہتمام کرے؟ تو اس کا حل بھی حضر ت جی دامت برکاتہم نے خود ہی بتا یا کیونکہ انجینئر بھی ہیں اور ساتھ ایگریکلچر سے بھی تعلق ہے۔ فرمایا کہ سوچتے رہے کہ اس کو کیسے پیسیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت کے دل میں ایک خیال ڈالاکہ کھجور کی گٹھلیوں کو گملے کے اندر ڈال دیا۔ آٹھ دن دس دن وہ مٹّی کے اندر رہیں۔ اب گٹھلی کا نارمل ایک پروسس ہوتا ہے، جب وہ مٹّی کے اندر چلی جائے تووہ باہر نکلنے کے لیے کھلنا شروع ہو جاتی ہے پھٹنا شروع ہو جاتی ہے۔ فرمایا کہ آٹھ دس دن اس کو اندر رکھیں اور جب وہ اس پوزیشن پر آجائے کہ وہ خود بخود پھٹنا شروع ہو جائے پھر اس کو نکال لیں، دھو لیں، سکھا لیں، اس کے بعد پیس لیں تو اب آپ کو محنت اس طرح سے نہیں کرنا پڑے گی اور آسانی سے پس جائیں گی۔ اور استعمال کاطریقہ اسی طرح ہے کہ اس کو پھر کثرت سے استعمال کریں صبح شام کھائیں، جیسے بھی آسانی ہو اسکو استعمال کریں اور اپنی صحت کو ٹھیک کریں ۔
چلنے میں نبی کی سنّت اور موجودہ سائنس:
ایک بات اور بھی دیکھیے! کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ ڈاکٹر تجویز کیا کرتے تھے کہ جوگنگ کیا کرو۔ تو کیا ہوا کہ ہر گھر میں جوگرز پہنچ گئے، مرد بھی عورت بھی، بچہ بھی بوڑھا بھی، سب جوگرز۔ اور جوگرز کی نئی دوکانیں بھی کھل گئیں اور نئی ورائٹی بھی آگئی۔ اب یہ جوگنگ کیا ہے کہ صبح صبح اٹھ کے دوڑا کرو تو ان لوگوں نے دھوڑنا شروع کر دیا۔ پھر چند سالوں کے بعد ڈاکٹروں کے پاس ایسے مریض آنے لگے کہ جن کو بڑی عمر میں پاؤں کی ہڈیوں میں مستقل دردیں رہنے لگیں اور دوسرے جوڑوں میں بھی دردیں رہنے لگیں، تو پھر انہوں نے تحقیق کی تو پتا چلا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو صبح صبح جوگنگ کرنے کے عادی ہیں، کیونکہ دوڑنے کے دوران انسان کا سارا وزن پاؤں کی ہڈیوں پر پڑتا ہے اس لیے ان کے اوپر سب سے زیادہ اثر پڑتا ہے۔ جوانی میں تو پتا نہیں چلتا لیکن جیسے ہی آدمی بڑھاپے میں قدم رکھنے لگتا ہے پھر وہ دردیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس وقت پتا چلتا ہے کہ یہ ہڈیاں زیادہ گھس گئی تھیں۔
اصل میں کیا ہوتا ہے کہ ہڈیو ں کے درمیان لبریکیٹنگ (Lubricating) کے لیے جو آئل کا موادموجود ہوتا ہے وہ ضرورت سے زیادہ استعمال ہو چکا ہوتا ہے۔ لہٰذا اب ڈاکٹروں نے کہنا شروع کر دیا کہ جاگنگ نہ کرو برسک (Brisk) واک کیا کرو ۔ اور یہ برسک واک کیا ہوتا ہے ؟برسک واک ذرا تیز چلنے کو کہتے ہیں۔ نہ انسان بہت بھاگے، نہ انسان بہت آہستہ سے چلے، ذرا اچھے اور تیز انداز سے چلنا برسک واک کہلاتا ہے۔ اور ڈاکٹروں کی ریسرچ کے مطابق یہ برسک واک انسان کے لیے سب سے بہتر ورزش ہے، اور نبی کی سنّت کیا ہے؟ نبی کے بارے میں آتا ہے کہ جب چلتے تھے تو اتنا تیز چلتے تھے، یوں لگتا تھا جیسے پانی اونچی جگہ سے نیچی جگہ کی طرف آرہا ہے، جیسے آدمی اونچائی سے نیچے کی طرف آئے تو ذرا تیزی سے چلتا ہے تو نبی اس طرح تیز چلتے تھے۔ آج سائنس کی دنیا اس کو برسک واک کا نام دیتی ہے تو پھر وہی بات آگئی کہ سائنس اپنی محنت کر کے ساری ریسرچ کر کے جہاں پہنچتی ہے وہاں نبی کے قدموں کے نشان ہوتے ہیں۔
نمازوں کا مختلف اوقات میں فرض ہونے کا ہماری صحت پر اثر:
ایک وقت تھا جب ڈاکٹر حضرات یہ کہتے تھے کہ انسان کو صبح سویرے اٹھ کر ورزش کرنی چاہیے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے لوگوں نے گھروں کے اندر جاگنگ مشینیں ٹریڈمل (Treadmill) رکھنی شروع کر دیں۔ اب روز دوڑنا شروع کر دیا لیکن سائنس نے اب کچھ اور کہنا شروع کیا۔ سائنس کہتی ہے کہ چوبیس گھنٹوں میں ایک مرتبہ آپ اپنے جسم کو زیادہ ورزش کروا لیں گے اس سے زیادہ توانائی ضائع ہو جاتی ہے، اس زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ وقفے وقفے سے ہلکی پھلکی ورزش کر لیا کریں، کیونکہ ورزش کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان کے دل کی دھڑکن جو عام طور پر70 ہوتی ہے، وہ ورزش کی وجہ سے بڑھ جائے اور اس کو بڑھا کر 120ایک سو بیس تک پہنچا دیا جائے۔ 120تک جو رفتار ہوتی ہے یہ محفوظ ہوتی ہے سکیور ہوتی ہے۔ اگر 120سے بھی اوپر چلی جائے پھر انسان کے اوپر اس کا برا اثر پڑ سکتا ہے۔ اگر 150سے بھی اوپر چلی جائے تو اور زیادہ برا اثر ہو سکتا ہے۔ 160اور 170کے اوپر ہارٹ پرابلم شروع ہو سکتا ہے، تو ڈاکٹر کہتے ہیں کہ انسان بس اتنی ورزش کر لے کہ ہارٹ بیٹ70سے اٹھے اور 120تک چلی جائے۔
اب ہمارا دل ایک پمپ کی مانند ہے یہ پمپ خون کو سپلائی کرتا ہے، جب اس کی قوّت بڑھ جائے گی سپلائی کی قوّت بڑھ جائے گی، اور ستّر کے بجائے ایک سو بیس ہو جائے گی تو خون کا بہاؤ بڑھ جائے گا، اور خون کا بہاؤ بڑھے گا تو ہمارے جسم کی شریانوں کے اندر اگر کوئی رکاوٹ ہے تو یہ تیزبہاؤاس رکاوٹ کو دور کر دے گا، اور ہمارا سسٹم ٹھیک کام کرے گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کوئی پائپ وغیرہ اگر بند ہو جائیں تو پیچھے ذرا پریشر سے پانی ڈالتے ہیں تو وہ بلاکنگ کلیئر ہو جاتی ہے، اسی طرح یہی میکانیزم ہے جو یہاں پہ بھی کام کر رہا ہے۔ ہمارے جسم میں تو شریانوں میں جہاں جہاں رکاوٹ ہوتی ہے جب ہمارے دل کی دھڑکن ایک سو بیس ہو جاتی ہے تو خون کا بہاؤ اتنا ہو جاتا ہے کہ وہ بہاؤ خود ہی ساری رکاوٹ کو دور کر دیتا ہے۔ تو اب سائنس دان یہ کہتے ہیں کہ اتنی ہلکی ورزش کرنی چاہیے کہ آدمی کے دل کی دھڑکن ستّر سے ایک سو بیس تک چلی جائے۔ اور یہ بات بھی کہ ایک سو بیس تک تو معمولی سی ورزش سے بھی چلی جاتی ہے۔ اسی لیے ڈاکٹرز نے کہا کہ ایک وقت میں بھاری ورزش کے بجائے مختلف اوقات میں ہلکی پھلکی ورزش کر لیں۔
حضرت فرماتے ہیں کہ حضرت کے ایک دوست جاپان گئے کسی میٹنگ میں، سارا دن میٹنگ رہنی تھی۔ اب یہ تو مسلمان تھے نمازی تھے۔ اب یہ میٹنگ میں بیٹھے ہوئے ہیں تو میٹنگ کے دوران پورے دن میں کئی مرتبہ چار یا پانچ مرتبہ انہوں نے کیا دیکھا؟ جب دو ڈھائی گھنٹے گزرتے، اس کے بعد وہ میٹنگ کو بند کر دیتے اور تھوڑی سی ورزش کرتے پانچ سات منٹ کی پھر دوبارہ آکر بیٹھ جاتے، پھر دو ڈھائی گھنٹے گزرتے، پھر پانچ سات منٹ کی ورزش کرتے، تھوڑی ورزش کرتے پھر واپس آکے بیٹھ جاتے۔ کہتے ہیں: میں ان کو دیکھتا رہا پھر میں نے ان سے پوچھا کہ یہ تم کیا کرتے ہو؟ تو کہنے لگے کہ ماڈرن ریسرچ یہ ہے کہ دن میں ایک مرتبہ بھاری ایکسرسائز کرنے کے بجائے دن میں کئی مرتبہ ہلکی پھلکی ورزش کر لی جائے تو انسان کا جسم زیاہ صحت مند رہتا ہے اور اس کی زندگی لمبی ہو جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ بیچارے ایکسر سائز کرنے کے بجائے اگر کلمہ پڑھ کر دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھ لیتے تو ان کی ایکسر سائز خود بخود ہی ہو جاتی۔ واقعی ہم دن میںجو نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ہمارے کتنے ہی مسلز ایسے ہوتے ہیں جن کی ایکسر سائز ہو رہی ہوتی ہے۔ اور یہ نعمت ہمیں اللہ کا حکم مان لینے کی وجہ سے خود بخود مل رہی ہوتی ہے۔ اللہ اکبر کبیرا! تو سائنس جہاں پہنچتی ہے وہاں نبی کی سنّت پہلے سے موجود ہوتی ہے۔
رؤیت ہلال کے بارے میں نبی کے فرمان کی سائنسی تصدیق:
ایک اور معاملہ رؤیتِ ہلال کے بارے میں، رمضان میں چاند دیکھنے کے بارے میں ہے۔ اس کے بارے میں حضرت جی نے بڑی تفصیل سے بتایا۔ رمضان شریف کے روزوں کے بارے میں نبی کی ایک حدیث ِ مبارکہ ہے، ارشاد فرمایا:
صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ (متفق علیہ)
’’تم چاند کو دیکھو تو روزہ رکھواور جب تم چاند کودیکھو تو افطار کرو ‘‘۔
اور آج کل چاند کودیکھنے کا بڑا اہم مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں دو گروہ بن گئے ہیں۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ جی! جب ہم چاند دیکھیں گے تو روزہ رکھیں گے، اور چاند دیکھیں گے تو عید کریں گے۔ اور ایک نیا گروہ بھی ہے جو نئی روشنی اسکول کا پڑھا ہوا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ جی! آج انسان سائنس تک پہنچ چکا ہے، لہٰذا ہمیں پورے سال کا شیڈیول بنا لینا چاہیے کہ کس دن چاند نظر آئے گا، پھر اس کے مطابق ہمیں عمل کر لینا چاہیے۔ چنانچہ آج کے دور میں چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں یعنی آج کے دور میں سنّت پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور بعض ملکوں میں اس کام پر عمل بھی شروع ہو چکا ۔رمضان شروع ہونے سے کئی دن پہلے بتا دیتے ہیں کہ فلاں دن تراویح ہو گی، اور عید سے کئی دن پہلے بتا دیتے ہیں کہ جی فلاں دن عید ہو گی۔ تو باہر ملکوں میں بعض دفعہ دو عیدیں ہوتی ہیں کچھ لوگ کہتے ہیں کہ چاند کو دیکھ کر پڑھیں گے، اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جی! ہم نے سائنس پڑھی ہوئی ہے تو بس (Computer Engineering)ہم نے کر لی ہے فلاں ڈگری حاصل کر لی ہے تو ہمیں اعداد و شمار سے ہی پتا چل جاتا ہے۔ ہم پہلے ہی پیشین گوئی کر لیتے ہیں۔
چنانچہ ایک مرتبہ حضرت جی ایسی جگہ پر پہنچے کہ جہاںستائیس میڈیکل ڈاکٹرز موجود تھے۔ انکے درمیان حضرت جی نے بیان فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ایسی مہربانی کی کہ وہ سارے ڈاکٹرز بعد میں بیعت ہو گئے، اور وہاں یہی رؤیتِ ہلال کی بحث چل پڑی۔ پھر وہ ڈاکٹرز کہنے لگے: اچھا ہم حضرت سے ہی پوچھ لیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ حضرت! آج کے اس سائنسی دور میں اس چاند کو دیکھنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ ہم اعداد و شمار بھی کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا: بھئی! نبیu نے ارشاد فرمایا:
صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ وَاَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ
کہ تم چاند کو دیکھو تو روزہ رکھواور جب تم چاند کودیکھو تو افطار کرو۔ اس لیے ہمارے سامنے تو ایک سیدھا سادا سا اصول ہے کہ ہم حدیث پر عمل کیا کریں۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر صاحب جو قرانِ مجید کی زیادہ ہی فہم رکھتے تھے، وہ کہنے لگے کہ جناب! آپ آج کے دور میں بھی یہ بات کر رہے ہیں حالانکہ آپ نے انجینئرنگ (Engineering) بھی کی ہوئی ہے۔ کیا آج بھی انسان کو چاند دیکھنے کی ضرورت ہے؟ آج تو بندہ پہلے سے ہی کہہ سکتا ہے۔ انسان چاند پر پہنچ چکا تو کیا یہاں اس کو پہلے سے پتا نہیں چل سکتا؟ پھر حضرت جی نے اس کو تفصیل سمجھائی۔
حضرت نے فرمایا کہ دیکھو! جب چاند کے دن پورے ہو جاتے ہیں، تو ایک آخری دن ایسا آتا ہے کہ جب چاند نظر سے اوجھل ہو جاتاہے اور ان دنوں میں وہ سیاہ ہو چکا ہوتا ہے، نظر ہی نہیں آتا۔ سائنس کی (terminology) میں اسے برتھ آف نیو مون(Birth of new Moon) کہتے ہیں۔ نئے چاند کی پیدائش کو سمجھنے میں ہمارے کئی دوست غلطی کر جاتے ہیں، وہ کریسنٹ کو نیا چاند کہہ دیتے ہیں۔ سائنس کی زبان میں وہ نیا چاند نہیں۔ ہلال اور نئے چاند میں فرق ہے۔ جب چاند گھٹتے گھٹتے نظر آنا بند ہو جاتا ہے تو اس کو برتھ آف نیو مون کہتے ہیں، پھر اس کے سترہ یا بیس گھنٹوں کے بعد وہاں چاند نظر آسکتا ہے اس کو ہلال کہتے ہیں۔ ہم اس کریسنٹ کو دیکھ کر عید مناتے ہیں، ہلال کو دیکھ کر عید مناتے ہیں، نیو مون نئے چاند کو دیکھ کر عید نہیں مناتے۔ یہ ایک سائنسی مغالطہ ہے جو ہمارے پڑھے لکھے حضرات کو لگ جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جی! سائنس دانوں نے کہہ دیا ہے کہ اب برتھ آف نیو مون ہو چکی لہٰذ ا نظر آجائے تو بھی عید پڑھو، اور نہ نظر آئے تو بھی عید پڑھو۔ او خدا کے بندو !سمجھنے کی کوشش کرو کہ سائنس دان برتھ آف نیو مون کس کو کہہ رہے ہیں، جب چاند بالکل نظر آنا بند ہو جائے۔ کبھی کبھی چاند کی پیدائش کے بیس گھنٹے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی بارہ چودہ بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ چانس بھی ہوتا ہے کہ چاند نظر آجائے اور یہ چانس بھی ہوتا ہے کہ نہ نظر آئے، ایسی صورت کے اندر سائنس دان پھنس جاتے ہیں۔
حضرت فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایسی ہی صورت ِ حال تھی اور حضرت جی دامت برکاتہم اس وقت امریکہ میں تھے تو وہاں بار بارلوگ فون کر کے پوچھ رہے تھے کہ حضرت! بتا ئیں چاند نظر آئے گا یا نہیں؟ اگر چاند نظر آگیا تو ہم روزہ رکھیں گے اور نہ نظر آیا تو ہم نہیں رکھیں گے۔ تو ہم ان کو یہی جواب دیتے تھے کہ دیکھو بھئی! ہم چاند کو دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، آپ بھی کوشش جاری رکھیں تاکہ سنّت پر بھی عمل ہو جائے۔ حضرت نے فرمایا کہ ہم اسپیس میوزیم سے بھی معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ واشنگٹن کے اندر بہت سے عجائب گھر ہیں، دنیا ان کو دیکھنے کے لیے جاتی ہے، ان کے اندر ایک اسپیس میوزیم بھی ہے۔ وہاں ایک ایسا ڈیپارٹمنٹ ہے جو خلا کے اندر چوبیس گھنٹوں کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔
حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے وہاں اسپیس میوزیم میں فون کیا اور وہا ں پر بیٹھے ہوئے بندے سے میں نے خود بات کی۔ میں نے اس سے کہا کہ میں امریکہ میں فلاں جگہ پر ہوں، کیا اس وقت مجھے ہلال چاند نظر آسکتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نظر آنے کے چانسز ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی ہوسکتے۔ میں نے کہا: کیا مطلب؟ اس نے مجھے ایک موٹی سی بات سمجھائی کہ چاند اپنے جس مدار کے اندر چل رہا ہے اس کا وہ مدار ایک لائن کی طرح نہیں بلکہ یوں سمجھیں کہ وہ پانچ سو کلو میٹر کا موٹا ٹائر ہے، اس کے اندر چاند کہیں سے بھی گزر سکتا ہے۔ یعنی قریب سے بھی گزر سکتا ہے، دور سے بھی گزر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو یوں سمجھیں کہ وہ مدار کسی دھاگے کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ مدار کئی کلو میٹر موٹا ہے اور اس میں چاند بالکل ایک دائرے کی شکل میں نہیں چل رہا، لہٰذا قریب سے بھی گزر سکتا ہے اور دور سے بھی۔ اور چاند کے اندر اپنے زلزلے بھی آتے ہیں۔ چاند کے اپنے اندر کئی پراسز (Process) ہو رہے ہوتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ چاند کے اندر ایٹم بم چل رہے ہوتے ہیں، لہٰذا چاند کی پوزیشن مختلف ہوتی رہتی ہے۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ چاند نظر آئے گا یا نہیں۔
انکا ایک بحریہ کا ادارہ بھی ہے، بحریہ والوں کو چاند کی گردش کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ چاند کی چودہ تاریخ کو ہائی ٹائڈ(High Tide) آتی ہیں۔ اور ہائی ٹائڈ کیا ہوتی ہیں؟ کہ سمندر کے اندر لہریں بہت زیادہ ہو جاتی ہیں اس لیے بحری جہاز والوں کو پتا ہو نا چاہیے کہ ہائی ٹائڈ کب ہو گی اور لو ٹائڈ(Low Tide) کب ہو گی، لہٰذا وہ چاند کی گردش کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہتے ہیں۔ آج دنیا کہتی ہے کہ ہم چاند کے راستے کے ایک ایک انچ کو ٹریس کرتے ہیں، اس لیے ہمارے پاس چاند کے بارے میں ہر وقت صحیح اور تازہ ترین معلومات ہوتی ہیں۔ حضرت فرماتے ہیں کہ میں نے بحریہ کے تحقیقاتی ادارے میں خود فون ملایا اور وہاں پر ایک خاتون تھیں، اس نے کہا: ہمارے کمپیوٹر سیکشن میں آپ کو اپنے سوال کا جواب مل سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت جی نے کمپیوٹر سیکشن میں رابطہ کیا وہاں بھی ایک خاتون انجینئر بیٹھی ہوئیں تھیں۔ میں نے اس سے کہا کہ میں امریکہ میں فلاں جگہ سے بول رہا ہوں اور میں چاہتا ہو کہ آج میں اپنی آنکھوں سے چاند کو دیکھوں، اب آپ بتائیں کہ سپر کمپیوٹر کے مطابق اس کے کتنے چانسز ہیں؟ اس نے کہا کہ ہم نہیں بتا سکتے، کیونکہ آج اس مہینے میں ایسا معاملہ ہے کہ چاند نظر آبھی سکتا ہے اور نظر نہیں بھی آسکتا۔ میںنے کہا کہ بھئی! وہ کیوں؟ تو اس نے مجھے اور بھی تفصیل (Detail) میں بات کو سمجھایا۔ کہنے لگی کہ جب ہم چاند کے (Trajectory) راستے کو ناپتے ہیں تو ہمارے پاس بظاہر کوئی چیز نہیں ہوتی ایک (mathematical module) ہوتا ہے۔ اس کو ماڈل ہم نے بنایا ہے اس کو ہی ہم دیکھتے ہیں اور اس کے اندر (mathematical equations) ہیں اور مساوات کتنی ہیں، وہ دس ہزار ایکوشنز (equations) ہیں، اور ہم ان کو (Calculate)کر کے بتا سکتے ہیں کہ اس وقت چاند کہاں ہو گا، لیکن ان دس ہزار میں سے6000(variables) متغیّرات ہوتے ہیں۔ جو لوگ (Mathematics) کو سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کچھ تو مستقل مقداریں ہوتی ہیں اور کچھ ویری ایبلز ہوتے ہیں یعنی غیر متعیّن مقداریں۔ اس خاتون نے کہا: ان ایکویشنز کے اندر چھ ہزار متغیّر مقداریں ہیں اور کسی ایک ویرایبل کی وجہ سے اس چاند کی لوکیشن میں فرق ہو سکتا ہے۔ وہ پھرکہنے لگی کہ جب چاند کے راستے میں چھ ہزار ویری ایبلز ہیں تو کون گارنٹی سے کہہ سکتا ہے کہ چاند اس وقت یہاں ہو گا، لہٰذا ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے باوجود اس کے کہ ہم چاند پر پہنچ چکے ہیں، لیکن یہ فیصلہ کہ چاند نظر آئے گا یہ ہم دیکھ کر ہی کر سکتے ہیں سائنسی آلات سے نہیں کر سکتے۔
حضرت نے فرمایا: قربان جاؤں اپنے آقا ﷺ کی سنّت پر! جو لوگ سائنس دان بن کر چاند پر پہنچ بھی چکے ہیں، وہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ چھ ہزار متغیّر مقداروں میں سے کسی ایک میں بھی فرق آجائے تو چاند کی لوکیشن میں فرق پڑھ سکتا ہے۔ اگر فیصلہ کرنا ہو تو ہمارے پاس اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ظاہر میں دیکھ کر ہی ہم فیصلہ کر سکتے ہیں اور نبیu نے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا:
صُوْمُوْا لِرُؤْیَتِہٖ وَ اَفْطِرُوْا لِرُؤْیَتِہٖ
’’تم چاند کو دیکھو تو روزہ رکھواور جب تم چاند کودیکھو تو افطار کرو‘‘۔
تو معلوم ہوا کہ اتنی ریسرچ کے بعد بھی بحریہ والوں نے یہ کہہ دیا کہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے، فیصلہ تو پھر دیکھ کر ہو گا۔ تو بالآخر ہمارے آقاﷺ کی بات پھر سچی نکلی۔ پتا چلا کہ ہم سائنس میں جتنا بھی آگے چلے جائیں، بالآخر ہمارے آقا اور سردار کی ہی باتیں پکی اور سچی ہوں گی اور بالآخر ہمیں سنّت کے سامنے گھٹنوں کو ٹیکنا پڑے گا اور سنّت کو قبول کرنا پڑے گا۔
عزیز نوجوانو! اگر ہم سائنس پڑھنے والے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم سنّت پر سائنس کے نقطہ نظر سے سوچا کریں، اور نبیu کی مبارک سنتوں کے فائدے ہم لوگوں کے سامنے کھولیں تا کہ لوگ سنّت کو چھوڑنے کے بجائے سنّت کو اپنانے والے بنیں، اور دنیا کے نقصان سے بھی بچیں آخرت کے نقصان سے بھی بچیں ۔جو آدمی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہے سائنس کی روشنی اس تک تو نہیں پہنچ سکتی، شہروں میں تو چلو ریسرچ سنٹر ہیں، آپ کو اطلاعات مل جائیں گی لیکن جو کہیں دور جگہ پر رہتا ہے، اس کو سائنس کی یہ اطلاعات تو نہیں پہنچ سکتیں لیکن اگر وہ پہاڑ کی چوٹی پر رہ کر سنّت پر عمل کر رہا ہے تو گویا یہ تمام فائدے اس کو وہاں بھی مل رہے ہیں۔ سنّت کے اندر یہ سارے سائنسی فائدے انسان کو مل رہے ہیں۔ لہٰذا محسنِ انسانیت کے طریقوں میں انسانیت کے لیے فائدے ہی فائدے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے محبوب ﷺ کی ایک ایک سنّت پر عمل کریں تا کہ اللہ کے یہاں بھی سرخرو ہو جائیں اور دنیا کے فائدے بھی حاصل کر لیں۔
مختلف اوقات کی نمازوں کی رکعات کی تعداد میں فرق کا ایک فائدہ:
اس کے بعد حضرت جی دامت برکاتہم نے نماز کی رکعتیں اور ان کے متعلق بھی کچھ سائنسی باتیں بتائیں۔ فرمایا کہ جب انسان رات کو سوتا ہے تو اسکی نبض کی رفتار کم ہو جاتی ہے، اور صبح اٹھتا ہے تو اس کے جسم کا شوگرلیول کم ہوتا ہے اور بلڈ پریشر بھی کچھ ڈاؤن ہوتا ہے۔ تو اس لیے چونکہ صبح شوگر لیول ڈاؤن تھا اللہ تعالیٰ نے آدمی کو ایکسرسائز کرنے کا حکم دیا۔ اس ایکسر سائز کا نام کیا ہے؟ نماز ِ فجر۔ اس نماز کی رکعتیں کتنی بنائی گئیں ؟چار یعنی مختصر سی، کیونکہ لیول تو پہلے ہی ڈاؤن ہے لہٰذا زیادہ ایکسر سائز کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ لیکن جب دن ہوا اور ہم نے ناشتہ بھی کر لیا اور دوپہر کے وقت ہم نے خوب ٹکا کے کھانا بھی کھایا تو دوپہر کے وقت شوگر بھی بڑھ گئی اور کولیسٹرول لیول بھی بڑھ گیا تو دوپہر کے کھانے کے بعد کتنی رکعتیں بتائیں ؟بارہ، کیونکہ اب اس کو زیادہ ایکسرسائز کی ضرورت ہے ۔اسکے تھوڑی دیر بعد ہم نے جناب! آئسکریم بھی کھا لی، فانٹا بھی پی لی تو اب دوبارہ پھر نماز کا وقت آگیا تو اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز رکھ دی تو کتنی رکعات بتائیں؟ بتایا کہ چار تو کمپلسری ہیں یہ تو کرنی ہی کرنی ہیں، لیکن اگر آٹھ پڑھ لو گے تو تمھارا ہی زیادہ فائدہ ہے۔ تو بارہ رکعات کی اب ضرورت نہیں چار سے بھی گزارا ہو سکتا ہے، آٹھ پڑھ لو تو چلو اچھی بات ہے اوپشنل(Optional) ہے۔ پھر عصر کے بعد ہم لوگوں نے عصرانہ بھی کھانا ہوتا ہے کوئی بسکٹ اور چائے لینی ہوتی ہے، پھر شوگر لیول بڑھ جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے مغرب میں سات رکعتیں پڑھنے کاحکم دیا۔ اب اتنی رکعتیں کیوں پڑھائی گئیں کہ تم نے چائے بھی پی تھی انگلش بسکٹ بھی کھائے تھے تو تمھارا لیول پھر اونچا ہو گیا شوگر اور کولیسٹرول کا، تو بھئی تم ایکسرسائز کرو نماز پڑھو۔ پھر مغرب کے بعد رات کے کھانے کا وقت ہوگیا کیونکہ مغرب پڑھ چکے ہیں، اور رات کا کھانا مغرب کے بعد ہی سنت ہے عشاء کے بعد نہیں۔ تو مغرب کے بعد ہم نے ڈنر کیا اس میں دوستوںکو بھی بلایا، خوب ٹکا کے ہم نے کھانا کھایا، لہٰذا پروردگار عالم نے ہماری صحت کو دیکھتے ہوئے کتنی رکعتیں رکھیں عشاء کی نماز میں؟ سترہ رکعتیں کہ بھئی! اس کے بعد تم نے آرام کرنا ہے سونا ہے تو تم زیادہ ایکسر سائز کر لو، جو تم نے کھایا ہوا ہے وہ سارا ہضم ہو جائے اور تمھارا ہی فائدہ ہے۔ دوپہر کو بھی ہم نے کھانا کھایا ہوتا ہے لیکن وہاں بارہ رکعتیں رکھیں کہ ابھی کچھ دن باقی ہے کچھ کام بھی کرنا ہے کچھ کھانا پینا بھی ہے، پھر انسان نے کچھ محنت بھی کرنی ہوتی ہے۔ اب رات کو سترہ رکعتیں اس لیے رکھ دیں کہ تم سترہ پوری کر لو تو تمھاری یہ ایکسرسائز خود بخود ہو جائے گی اور تمھیں اس کے فائدے مل جائیں گے۔
اور رمضان مبارک میں کیا ہوتا ہے جی؟ ہم سارا دن تو روزے سے رہتے ہیں۔ سحری کر لی روزے میں آگئے، سارا دن ہم نے کچھ نہیں کھایا اور جب مغرب کا وقت آیا افطاری کے وقت جناب! خوب کھجوریں کھائیں، اور روح افزا بھی خوب پیا، خوب کباب کھائے، خوب پیٹ بھر کے کھانا کھایا تو لہٰذا پیٹ بھرنے کے بعد پروردگار عالم نے کیا فرمایا: دیکھو! تم نے سارا دن کی کسر تو نکال لی ہے اب عشاء کی سترہ رکعتوں سے تمھارا گزارا نہیں ہو گا تو عشاء کی سترہ الگ پڑھو اور تم تراویح کی بیس لمبی لمبی رکعتیں پھر پڑھو تاکہ تمھارا شوگر لیول اور کولیسٹرول دوبارہ ٹھیک ہو جائے۔ تو کیا معلوم ہوا کہ جو آدمی فقط یہ ذہن میں بٹھالے گا کہ نبی کی سنّتوں پر عمل کرنا ہے اور ہرحال میں کرنا ہے تو یہ انسان (Automatically) یہ صحت کے، میڈیکلی فائدے لیتا چلا جاتا ہے۔
حدیث پر عمل کرنے کا واقعہ:
ایک میں اپنی ذاتی تجربہ بھی بتا دوں۔ مجھے ایک مرتبہ مسئلہ ہو گیا، مسئلہ تو بچپن سے تھا۔ (Diagnose) کب ہوا؟ جب میں شادی کے بعد 1999 میں پہلی مرتبہ اپنے کزن عادل بھائی کے ساتھ بارہ تیرہ دن کے لیے دبئی گیا۔ وہ ٹوائلٹ جاتا تو آدھا گھنٹہ کبھی پندرہ منٹ کبھی پانچ منٹ ، میں جاتا دو منٹ میں باہر آجاتا۔ ایک دن مجھے کہنے لگا کہ آپ اتنی جلدی کیسے آجاتے ہیں؟ تو میں نے کہا کہ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہو تا میں جاتا ہوں، خالی پیشاب کرناہوتا ہے واپس آجاتا ہوں۔ اس نے کہا کہ یہ توآپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ لاہور واپس آکر ڈاکٹر کو چیک اپ کروایا تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے کہ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ چند دن ہی گزرے تھے کہ مجھے قبض کاشدید مسئلہ کھڑا ہو گیا تو پتا چلا کہ میری قبض کا معاملہ 8سے9دن تک رہتا تھاکہ دو تین دن نہیں آٹھ دن یا نو دن میری قبض ہوتی تھی۔ آٹھ دن اور نو دن تک مجھے قضائے حاجت کی ضرورت ہی نہیں ہوتی تھی، بس خالی پیشاب، پھر بالآخر اس نے بگڑنا تو تھا۔ یہ بگڑا تو مجھے بہت سارے مسائل پیش آنا شروع ہوگئے۔ پھر یہ پوزیشن بواسیر اور پائلز کی طرف چلی گئی۔ پھر کیا ہوتا تھا کہ جب میں فلش پر بیٹھتا تو اسٹول پاس (Stool Pass)ہونے کے ساتھ، قضائے حاجت کے ساتھ خون بھی نکلتا، اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے کئی مرتبہ دیکھا کہ پورا فلش خون سے بھرا ہوتا تھا۔ خون اتنا نہیں ہوتا تھا خون تھوڑا ہی ہوتا تھا لیکن وہ پھیل کر اتنا ہوجاتا تھا کہ نیچے سفیدی کی جگہ پورا لال نظر آتا تھا۔ اس کو خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاپھر اس کے علاج کروائے۔ ایلوپیتھی کا علاج بھی کروایا۔ حضرت جی دامت برکاتہم کے خلیفہ ہیں حضرت ڈاکٹر شہزاد اویس صاحب سرجن بھی ہیں، ان کے پاس بھی گیا انہوں نے اس کام کے لیے ایک مائنر سا آپریشن بھی کیا اور دوائیاں بھی دیں تو وہ بھی پورا علاج کیا۔ پھر ہومیو پیتھی علاج بھی خوب کیا، اس کے علاوہ حکمت کا علاج جو گھریلو ٹوٹکے ہوتے ہیں وہ بھی سارے کیے اور کئی مہینے میں بستر پر رہا۔
حضرت ڈاکٹر شہزاد اویس صاحب دامت برکاتہم (یہ سرجن ہیں اور ڈاکٹر شاہد اویس صاحب کے بھائی ہیں جو پیتھالوجسٹ ہیں) انہوں نے جب میرا آپریشن کیا تواس آپریشن کے بعد میرا مسئلہ اور بڑھ گیا، تین چار مہینے میں بستر پر رہا اور پراسٹیٹ (Prostate)جو ہے میرا (Enlarge) ہو گیا۔ اب الٹرا ساؤنڈ کروایا تو اس میں یہ پراسٹیٹ انلارج ہو گیاتھا۔ اتفاق ہاسپٹل میں ڈاکٹر کے پاس گیا وہ کہتا ہے: جی! یہ آپکی رپورٹ ہی نہیں ہے، سنتیس اڑتیس سال کی عمر میں پراسٹیٹ بڑھ ہی نہیں سکتا۔ میں نے کہا کہ یہ رپورٹ میری ہے۔ دوبارہ بھی کروایا تو بہرحال علاج کیا کئی مہینے اس میں لگے لیکن تمام علاج کے بعد کیا ہوتا رہا کہ ہر علاج سے مجھے وقتی فائدہ ہوتا پانچ دن کا آٹھ دن کا یا ایک مہینے کا یا ڈیڑھ مہینے کا، دوائی چلتی رہتی۔ پھر عادت ہے کہ بیگم صاحبہ دوائی نہ کھلائیں تو مجھے دوائی کھانے کا شوق ہی نہیں، بھول جاتا ہوں تو کچھ دنوں کے بعد دوبارہ وہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ کافی حدتک معاملہ اسی طرح رہا۔
پھر ایک دن حدیث پڑھی کہ حضور ﷺ کی تھالی میں ایک انجیر بطور ہدیہ پیش کی گئی۔ آپ نے اہلِ مجلس کو کہا کہ کھاؤ اور آپ نے خود کھایا اور یہ فرمایا کہ یہ کہوں کہ جنت سے کوئی پھل اترا ہے تو یہی وہ پھل ہو سکتا ہے، کیونکہ جنّت کے پھلوں میں گٹھلی نہیں ہوتی۔ ایک اور حدیث میں تھا کہ انجیر میں پیٹ اور قبض وغیرہ کا علاج ہے تو میں نے یہ کھانی شروع کر دی۔ الحمد للّٰہ ثمّ الحمد للّٰہ کوئی ایک مہینہ ڈیڑھ مہینہ اس کو پابندی سے کھایا وہ دن اور آج کا دن مجھے قبض نہیں ہے اورکوئی پریشانی نہیں ہے۔ اس بات کو تقریباً دواڑھائی سال ہو گئے ہیں۔ اللہ کی شان پچھلے رمضان میں کیا ہوا کہ میں بیت الخلاء گیا تو پھر بلڈ آیا اور اچھا خاصا آیا، میں حیران ہو گیا کہ یہ دوبارہ کیسے آگیا۔ پھر خیال آیا کہ جی ڈیڑھ مہینہ ہو گیا ہے کہ انجیر نہیں کھائی۔ پھر فوری طور سے پتا چلا کہ انجیر ختم ہو گئی تھی یا کیا ہوا تھا پھر انجیر کا انتظام کیاانجیر منگوائی اور کھانی شروع کردی۔ اسی دوران حضرت جی کے خلیفہ حضرت شیخ ظفر السلام دامت برکاتہم جو سب لوگوں کو حضرت جی کے ساتھ حج عمرے پہ لے کے جاتے ہیں۔ یہاں کثرت سے ان دنوں آتے تھے، موجود تھے رمضان میں میں نے ان کو بتایا تو انکو بھی یہی معاملا تھا قبض کا تو انہوں نے مجھے ہومیو پیتھی کی دو دوائیاں نکال کے دیں اور کہا: بیٹا! یہ کھاؤاور یہ بہت اچھی اور بہت زود اثر ہیں اور اس کا تمھیں فائدہ بہت ہو گا۔ میں نے کہا کہ حضرت! میں ڈیڑھ دو سال سے انجیر کھا رہا ہوں آپ کی پیشکش بہت اچھی ہے لیکن میں معذرت چاہتا ہوں میں انجیر کو ہی استعمال کروں گا چند دن میں ان شاء اللہ ٹھیک ہو جاؤں گا۔ میرا گزشتہ تجربہ بہت اچھا رہا تو انکی دوائی میں نے نہ کھائی بلکہ انجیر انکو بھی پیش کی کہ حضرت! آپ بھی یہ کھائیں تو انہوں نے بھی انجیر کھائی اور میں نے بھی اس رمضان میں سات آٹھ دن دوبارہ جب انجیر کھائی الحمد للہ! تووہ مسئلہ ٹھیک ہو گیا۔ اور اب کوئی مسئلہ نہیں انجیر کھالیتا ہوں ایک دانہ دو دانہ تین دانہ بغیر کسی خاص ترتیب کے۔ اب اگر کسی ڈاکٹر یا حکیم نے اس کی ترتیب بنائی ہو تو وہ میرے علم میں نہیںہے، میں نے ایسی کوئی ترتیب کہیں نہیں پڑھی۔ حدیث کے اندر اس کا فائدہ پیٹ کے لیے پڑھا تھا تو انجیر کو پابندی سے کھانا شروع کیا اور میرا قبض کا یہ مسئلہ اللہ ربّ العزّت نے ایسا حل کیا الحمدللہ! اب طبیعت بہت ہلکی پھلکی رہتی ہے۔ اس کے بعد بہت سارے لوگوں کو بتایا الحمدللہ! ان میں سے جن لوگوں نے کیا تو فیڈ بیک بھی دیا کہ ہمارا یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ چھوٹے بچوں کو بھی بچیوں کو بھی انجیر استعمال کروائی تو ان کا بھی یہ مسئلہ حل ہو گیا۔ اور اس کی قرآن مجید میں اللہ نے قسم کھائی ہے انجیر کی بھی، زیتون کی بھی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی غذا کو سنّت کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

Leave a Reply