151

سنت برتن اور مسنون دعائیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ کَفٰی وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَا دِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. اَمَّا بَعْدُ:
فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّ جِیْمِ o
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ o
﴿وَ مَآ اَ رْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ ﴾ (سورۃ النّساء: 64 )
سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ o وَ سَلٰمٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ o
وَ الْحَـمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَo
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ
الَلّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ سَیِّدِ نَامُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَ سَلِّمْ

قرآن مجید میں اللہ رب العزّت نے ارشاد فرمایا :
﴿وَ مَآ اَ رْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ﴾(سورۃ النّساء: 64 )
’’اور ہم نے رسولﷺ کو نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ ان کی اتباع کی جائے‘‘۔
(سورۃ النّساء: 64 )
نبی کریمﷺ کی تشریف آوری کا مقصد:
قرآن مجید کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو بھیجا ہی اس لیے تھا کہ لوگ میرے محبوب کے طریقوں پرعمل کریں، ان کی زندگی کا اتباع کریں۔ آپﷺ کے تمام احوال میں آپﷺ کے اتباع کی جائے بے شک وہ آپﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ ہوں یا آپﷺ کے بدن مبارک سے کیا ہوا کوئی عمل ہو۔ یہ قرآن مجید میں اللہ نے حکم دیا ۔لوگ کہتے ہیں کہ سنت پر عمل کرنا کون سا ضروری ہے؟ اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرمارہے ہیں کہ ہم نے بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ لوگ سنت پر عمل کریں۔
ذریعہ نجات:
﴿مَنْ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَا زَ فَوْزًا عَظِیْماً ﴾ (الاحزاب: 71)
جو شخص اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔ اللہ کی بات بھی ماننی ہے رسول اللہ ﷺ کی بات بھی ماننی ہے کامیابی تب ملے گی اس کے علاوہ نہیں ملے گی۔ صحابہ کرام jفرماتے ہیںکہ سنّتوں کو مضبوط پکڑ لینا ہی نجات کا ذریعہ ہے۔
سنتوں کے چھوڑنے کا بڑا نقصان:
بخاری شریف کی روایت ہے نبی uنے فرمایا کہ جس نے میری سنت سے اعراض کیا، چھوڑ دیا، غفلت برتی وہ ہم میں سے نہیں۔ آج لوگ کہتے ہیںکہ جی سنّت ہی تو ہے۔ پھر نبیu نے ایک جگہ فرمایا: جو شخص مجھ سے محبت کرے گا وہ میرے ساتھ جنّت میں ہوگا۔ اور ایک جگہ فرمایا: جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہو گا۔ نبیu کی محبت کا کیسے پتا چلے گا؟ صرف اور صرف اتباع ِسنت کے ذریعے ہی پتا چل سکتا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں پتا نہیں اللہ ہم سے راضی ہیںکہ نہیں؟یہ جانچنا بہت آسان ہے۔ ہم یہ دیکھیں کہ ہماری زندگی سنت کے مطابق ہے یا سنت کے مخالف، اگر سنت کے مطابق ہے، تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ راضی ہیں اور اگر ہماری زندگی سنت کے خلاف ہے تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ تعالی ہم سے ناراض ہیں۔ توبہ کر کے، اتباع سنت پر دوبارہ واپس آکے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر نبی u نے ارشاد فرمایا کہ دیکھو! تمھارے اندر میں دو چیزوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں جس کی وجہ سے تم میرے بعد گمراہ نہیں ہو گے۔ ایک فرمایاکہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن مجید اور دوسرا فرمایا میری سنت۔ سنت کے بغیر انسان کامیاب ہو ہی نہیں سکتا۔
موجودہ حالات اور راہِ سنت:
اور آجکل جو حالات ہیں اس کے مطابق بھی نبی u نے بات فرما دی ۔ عبداللہ بن مسعود tسے روایت ہے کہ امّت میں اختلافات کے وقت میری سنتوں پر عمل کرنے والا ایسے ہو گا جیسا کہ کوئی ہاتھ میں چنگاری لینے والا ہو۔ یہ وہ حالات ہیں کہ لوگ دینی امور میں اختلاف پیدا کر رہے ہیں، اپنی اپنی خواہشات کے تابع ہیں۔ اور سنّت کو چھوڑ کر، دینی امور کو چھوڑ کر نفسانی خواہشات ، رواج اور رسموں کو پورا کر رہے ہیں، تو ایسے وقت میں سنتوں پر عمل کرنے میں مشکل تو ہوگی۔ بہرحال جس گھر میں آج پردے کا ماحول نہیں بے پردگی رائج ہے وہاں کسی بچی کا پردہ اختیار کرلینا ایساہی ہے جیسا ہاتھ میں انگارہ لے لینا، لیکن جو آج یہ محنت کرلے گا کل قیامت کے دن جہنم کی آگ کے انگاروں سے بچ جائے گا۔
غلط فہمی کا ازالہ:
اَلْحَمْدُلِلّٰہ یہ گلدستۂ سنت کا سلسلہ چل رہاہے جس میں کھانے پینے کی بات چل رہی تھی۔ اور اَلْحَمْدُلِلّٰہ یہ بیانات (www.ishqeilahi.com) web site پر بھی جارہے ہیں۔اس کے علاوہ یہ فیس بک پر بھی (Upload) کیے جا رہے ہیںاور Whatssappپر بھی جارہے ہیں۔ رات کو مجھے ایک خاتون کا پیغام آیا کہ Facebook تو اچھی چیز نہیں ہے وہاں تو اچھی چیز بھی اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ساتھ بہت سی خراب غلیظ چیزیں بھی ساتھ ساتھ آتی رہتی ہیں۔ تو میں نے انکو کہا کہ جی آپ نے بالکل بجا فرمایا اور ایک دفعہ نہیںکتنی ہی دفعہ یہ وضاحت کرچکا ہوں کہ یہ Facebookاور یہ باقی چیزیں فقط ان لوگوں کے لیے ہیں جو امت کے بیچارے، بیچارا اس لیے کہہ رہا ہوں اپنے حال سے مجبور ہیں وہ بیچارے Facebook پر اوران چیزوںکے او پراپنا وقت لگا رہے ہیں ان کو بھی یہ بات پہنچ جائے ۔باقی یہ بات وضاحت سے کئی دفعہ کی کہ جن کے گھرمیں Internet نہیں ہے تو اللہ تعالی کا شکر ادا کریں اور انکو میرے بیانات کی وجہ سے گھرمیں Internet لگانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ جی حضرت کا بیان آتا ہے Internet سے سننا ہے۔ ایسا نہ کریں۔ بیان تو آئے گا ہفتے میں دو دفعہ تو باقی پانچ دن روز چوبیس گھنٹے ہر وقت کا Internet،میں تو اس بات سے خوش نہیں ہونگا۔
آپﷺ کے پینے کے برتن:
بہرحال ہمارا پانیپینے کا موضوع چل رہا تھا، اس میں ایک اوربڑی پیاری بات آج کرنی ہے کہ نبی کریمﷺ کن چیزوں میں پانی پیا کرتے تھے؟ پانی تو میں بھی پیتا ہوں آپ بھی پیتے ہیں سب پیتے ہیں تو کون سی چیز سنت کے قریب ہے۔
ایک تابعی عاصم بن احول فرماتے ہیں:
’’میں نے رسول اللہ ﷺ کا پیالہ حضرت انس tکے پاس دیکھا وہ لکڑی کا پیالہ تھا۔ ابن سیرینmنے بیان کیا کہ اس میں لوہے کا پترا لگا ہوا تھا۔ حضرت انسt نے چاہا کہ لوہے کی جگہ اس کوسونے یا چاندی کا پترا لگا دیں تو حضرت ابو طلحہt نے ان سے فرمایا کہ اس پیالے کو بدلو نہیں جیسا نبی u کے زمانے میں تھاویسا ہی رہنے دو‘‘۔
(بخاری جلد2صفحہ 842)
اورامی عائشہ صدّیقہr سے ایک الگ روایت میں موجود ہے کہ نبی uکے پاس ایک پیالہ تھاجس میں چاندی کے پترے لگے ہوئے تھے۔
(سیرت الشامی جلد7صفحہ 574)
اور یہ پیالہ خالص لکڑی کا تھا ، پیلے رنگ کا تھا اور درخت کا نام شمشاد تھا۔
(حاشیہ بخاری صفحہ 842)
صحابہ کرام jکو آقا سے کتنی محبت تھی کہ نبیu کی ایک ایک بات کو نقل کرکے دکھایا۔ اگرلکڑی کا پیالہ ہم بھی استعمال کر لیں یا گھر میں لے آئیں تو یقینا ہمارے لیے باعثِ نجات بن سکتا ہے۔ تو لکڑی کا پیالہ نبی u نے استعمال کیا، اس کے علاوہ آپﷺ نے شیشے کا پیالہ بھی استعمال کیا۔ عبداللہ بن عباس tفرماتے ہیں کہ آپﷺ کے پاس شیشے کا پیالہ تھا اور آپﷺ اس سے پانی پیتے تھے۔
(ابن ماجہ جلد 2صفحہ 264)
اور ایک بادشاہ گزرا تھا مقوقس ،اس نے آپﷺ کو شیشے کا پیالہ بطور ہدیہ بھیجا تھا۔
(ابن ماجہ،سیرت صفحہ 362)
اور آپﷺ اس میں پانی پیا کرتے تھے توشیشے کا پیالہ بھی سنّت ہو گیا۔ اسی طرح شیشے کے گلاس میں بھی پینے کی اجازت ہے لیکن لکڑی کا پیالہ ہے ہی سنّت کے قریب ترین ہے۔
وائن گلاس کا حکم:
ایک چیز آج کل متعارف ہوئی ہے اس کو کہتے ہیں وائن گلاس(Wine glassٌ)۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ وائن شراب کو کہتے ہیں،تومشابہت بالکفار(کفار کی مشابہت)اور مشابہت بالفساق(گنہگاروں کی مشابہت) کی وجہ سے وائن گلاس میںپانی پینا گناہ ہوگا۔ اس میں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کسی شادی ہال میں چلے جائیں، کلب میں چلے جائیںیا شادی کے فنکشن میں چلے جائیں وہاںوائن گلاس رکھے ہوتے ہیںاب اس کو زیادہ تر لوگ اسٹیٹس سمبل (Status Symbol)سمجھتے ہیں، زیادہ اچھی چیز سمجھتے ہیںحالانکہ یہ سنت کے خلاف ہے اس میں پانی پینا مناسب نہیں۔ اگر ہم غور کریں تو کفارکے ساتھ مشابہت کی وجہ سے یہ منع بھی ہوسکتا ہے، باقی فتویٰ تو مفتی حضرات ہی بتا سکتے ہیں میں نہیں بتا سکتا۔ لیکن ہم سادہ گلاس استعمال کریں اور پیالہ اگرپانی پینے کے لیے استعمال کریں تواتباع سنت کی وجہ سے یقینا ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔ لکڑی اور شیشے کے علاوہ تانبے کا پیالہ بھی آپﷺ نے استعمال فرمایا۔ ایک صحابی ابو امامہ t فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل tکے پاس ایک تانبے کا پیالہ تھا جس پر چاندی کا پانی چڑھاہوا تھا، یعنی چاندی کی قلعی کی ہوئی تھی اورآپﷺ اس میں پانی پیتے بھی تھے اور وضو بھی فرماتے تھے۔ (مجمع الزوائد جلد 5صفحہ 80)
تانبے یاپیتل کا پیالہ ہو تو بغیر قلعی کے استعمال کرنا مشکل ہے، صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ برتن پر چاندی کا پانی چڑھا کر استعمال کرنا سنت ہے، ہاں سونا اور چاندی کا برتن استعمال کرنا حرام ہے اور منع ہے۔ اس کے علاوہ نبی uکے پاس ایک پیالہ مٹی کا بھی تھا ایک صحابی خباب tفرماتے ہیں کہ میں نے نبی uکو شوربہ دار گوشت پیالے میں نوش فرماتے ہوئے دیکھا اور وہ پکّی مٹّی سے بنا ہوا تھاتو پیالے کتنے ہو گئے ایک لکڑی کا، ایک شیشے کا، ایک تانبے کا اور ایک مٹی کا۔
چار قسم کے پیالوں کا ثبوت:
ہم میں سے بھی جس کو اللہ نے وسعت دی ہو،چار قسم کے پیالے رکھ لے تو اتباع سنت کی وجہ سے تو نورٌ علیٰ نور ہوگا اور نبی uسے محبت کی ایک دلیل بھی ہوگی۔ایک پیالہ آپﷺ کے پاس بہت بڑا تھا، چار آدمی مل کر اس کو اٹھاتے تھے۔
(سیرت خیر العباد جلد 7صفحہ264)
امی عائشہr یا باقی ازواج مطہرات کا ایک ہو دج ہوتا تھا جب وہ سفر پر جاتی تھیں تو اسے اُونٹنی پہ رکھتے تھے جسے نوجوان اٹھاتے تھے، تو وہ پیالہ کتنا بڑا ہوگا جسے چار آدمی مل کر اٹھاتے ہوں۔ آپﷺ کے پاس ایک اور اتنا بڑا پیالہ تھاکہ آپﷺ پورا اُونٹ ذبح کرواتے تو پکوا کے اس میں ڈال دیتے تھے اور صحابہ آتے اور اس میں باجماعت کھانا کھاتے۔ اب وہ کتنا گہرا ہوگا ؟ روایت میں آتا ہے کہ پیالہ خاصا اُونچا بھی تھا اس لیے صحابہj گھٹنوں کے بل بیٹھا کرتے تھے۔ اب اس قسم کے بڑے پیالے کو آپ گھر میں لے آئیںیہ تو میں نہیں کہتا کیونکہ اس کے لیے تو پورا کمرہ وقف کرنا ہوگا، لیکن کم از کم باقی چار قسم کے پیالے تو ہم گھر میں رکھ ہی سکتے ہیں ۔ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے آپﷺ کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ دیکھا آپﷺ اس سے پانی بھی پیتے تھے اور وضو بھی فرماتے تھے۔ (مطالب العالیہ جلد 1صفحہ 12)
ایک صحابی حضرت خباب tنقل فرماتے ہیں کہ آپﷺ مٹی کے پیالے میں پانی پیتے تھے اور آپﷺ کے پاس پتھر کا بنا ہوا ایک تسلہ بھی تھا ۔ایک پیتل کا برتن ایسا بھی تھا جس سے آپﷺ غسل فرماتے تھے۔ (سیرت الشامی جلد 7صفحہ 574)
اب اگر کوئی اتباع سنت کی نیت سے اپنے باتھ روم میںپیتل کی بالٹی رکھ لے تو اس کو سنت کامزہ آئے گا۔ اور یہ سب محبت کی باتیں ہیں محبت کرنے والے ہی اس کو سمجھ سکتے ہیں ویسے سمجھنا مشکل ہے۔ حضرت سہل بن سعد tفرماتے ہیں کہ آپﷺ کا ایک پیالہ تھا جسے خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز hنے ان سے مانگ لیا تھا، یہ پیالہ اس پیالہ کے علاوہ ہے جو حضرت انس t کے پاس تھا۔ تبرکاً جس کے وارث آپ کے صاحبزادے حضرت نضر بن انس ہوئے اور یہ ان کی اولاد میں چلتا رہا، پھر ایک عاشق رسول آیا اور اس نے ان کی اولادوں سے 8ہزار دینار کے عوض خرید لیا۔ پھر یہ پیالہ سفرکرتا ہوا بصرہ پہنچا اور بصرہ میں امام بخاری نے اس پیالے میں پانی نوش فرمایا۔
(شرح مواہب جلد4صفحہ 355)
اللہ کی شان ہے کہ جس گھر میں آپﷺ کی نسبت کی کوئی چیز ہو تو اس گھر کی برکتیں کیا ہوں گی تو آٹھ ہزار دینار کے عوض جو یہ پیالہ خریدا ہوگا تو وہ کتنی ہی برکتوں کو گھر میں لے آئے ہوں گے۔
پیالوں کے نام:
نبیﷺ کا ایک پیالہ تھا جس کا نام رمال تھا۔ ایک پیالے کا نام مغیث تھا۔
(شرح مناوی صفحہ 238)
اور ایک پیالہ قمر تھا۔ (سیرت الشامی جلد7صفحہ 363)
ایک پیالہ ریان تھا۔ (سیرت الشامی جلد7صفحہ 574)
علامہ قسطلانی نے لکھا ہے کہ آپﷺ کے پیالے کا رنگ زردی مائل تھا۔ اور ایک اور کتاب (شرح مواہب )میں لکھا کہ زرد لکڑی کا تھا جس کا رنگ سنہرا تھا۔ اللہ اکبر
تو لکڑی کا پیالہ سنت ہے، آپﷺ کی عادت طیّبہ اسی لکڑی کے پیالے میں پینے کی تھی گو مٹّی اور شیشے کا استعمال بھی کیا ہے لیکن لکڑی کا عام طور سے استعمال ہوتا تھا۔ تو اگرایک ایک لکڑی کاپیالہ اہتمام سے اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیں تو ہمیں اتباعِ سنت کا ثواب ہوگا۔ اتنی تو محبت ہونی چاہیے کہ آقاﷺ کے پیالے کے قریب ہمارا پیالہ پہنچ جائے۔
دعاؤں کا بیان:
اس کے علاوہ نبی uکی مبارک عادت تھی کہ ہر موقع پہ دعائیں مانگتے تھے اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے، سفر پہ جاتے آتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہتا تھا۔ ہمارے سلسلہ میں ایک عمل بتایا جاتا ہے وقوفِ قلبی یہ جو موقع محل کی دعائیں ہیں یہ بھی وقوف قلبی میں شامل ہیں اور وقوف قلبی کے اندر معاون بھی ہیں مدد دیتی ہیں۔
جب کھانا پیش کیا جائے تو کیا پڑھے؟
نبی کے سامنے جب کھانا پیش کیا جا تا تو نبی کریمﷺ یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْمَارَزَقْتَنَا وَقِنَا عَذَ ابَ النَّارِ بِسْمِ اللہِ (الدعاء :888)
’’اے اللہ! جو آپ نے ہمیں نوازا ہے اس میں ہمیں برکت عطا فرما، اور جہنم کے عذاب سے بچا میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے‘‘۔
جب کھانا کھاناشروع کرے تو کیا پڑھے؟ نبیu نے فرمایا: جب تم کھانا کھانا شروع کرو تو یہ دعا پڑھا کرو:
بِسْمِ اللہِ وَعَلٰی بَرَکَۃِ اللہِ (حاکم،حصن صفحہ255)
’’شروع اللہ کے نام سے اور اس کی برکت کے ساتھ ‘‘۔
ایک اور صحابی حضرت عمر بن ابی سلمہ tفرماتے ہیں کہ نبی uنے مجھ سے فرمایا: اے لڑکے! جب تم کھاؤتو بسم اللہ کہو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے قریب سے کھاؤ۔
(صحیحین،الدعاء صفحہ886)
اگر کوئی کسی کو کھانے پر بلائے جیسے گھر میں ماں ہے دستر خوان پہ بیٹھی بچوں کو بلائے بھئی آجاؤ آجاؤ سب بیٹھ جاؤ، یا کوئی گھر میں بڑا بیٹھا وہ سب کو بلا رہا ہے کہ آؤ بیٹھومیرے ساتھ کھانا کھاؤ، اب یہ کیا کرے؟ اس سلسلے میں نبی uکا سنت طریقہ سمجھ لیجئے گھر میں مائیں آسانی سے کر سکتی ہیںیاکوئی بھی مرد ہے کہ جب گھر والے بیٹھ کے کھانا کھا رہے ہیں شاگرد موجود ہیں اس وقت اس کے لیے یہ سنّت ہو گا۔ حضرت عمر بن ابی سلمہh فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپﷺ کے پاس کھانا رکھا تھا۔ آپﷺنے مجھ سے فرمایا: قریب ہوجاؤ، پھر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اُونچی آواز سے پڑھی جوانہوں نے سنی اور خود بھی بِسْمِ اللہِ پڑھی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور قریب سے کھاؤ۔ یعنی ماں اگر گھر میں بیٹھتی ہے اگر وہ یہ کام کرلے تو اتباع سنت بھی ہوجائے گی اور کوئی مشکل بھی نہیں ہے، پیسے بھی نہیںلگتے، ٹائم بھی نہیں لگتا، مختصر سی بات ہے اورسنّت کا ثواب بھی ملے گا۔ یہی کہنا ہے کہ بھئی آ کے بیٹھ جاؤ میں ادھر بیٹھ گئی ہوں تم بھی آ کے بیٹھ جاؤ، پھر بسم اللہ ذرا اونچی آواز سے پڑھ دے کہ ان کو یاد آجائے، اور تیسرا ان کو کہے کہ بھئی دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور قریب سے کھاؤ۔ ٹھیک ہے ہر دفعہ ہر کھانے پر کہنا بھی ضروری نہیں لیکن گاہے گاہے اتباع سنت کی نیت سے انسان کہتا رہے۔
پہلے لقمہ کی دعا:
پہلا لقمہ لیتے ہوئے نبی یہ دعا مانگتے تھے:
یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ ِ (سیرت الشامی جلد7صفحہ 261)
’’اے وسیع مغفرت والے‘‘
تو کبھی ہم یہ بھی کہہ لیں جب پہلا لقمہ لینے لگیں۔ تو اتنی سی بات پر الگ سے سنت کا ثواب ہوگا۔
یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَ ۃِ
اور اس زمانے میں ایک سنت پر عمل کرنا 100 شہیدوں کے اجر کے برابراجر ملے گا۔
اللہ تعالیٰ کو زیادہ خوش کرنے والا عمل:
ایک تو ہے شروع میں بسم اللہ پڑھنا اور آخر میں الحمدللہ کہنا جس نے یہ عمل کر لیا یہ بھی ٹھیک ہے اور مسنون ہے۔ ایک عمل اور بھی ہے حضرت انس tسے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس بندے سے خوش ہوجاتے ہیں جو ایک لقمہ کھائے تو
اَلْحَمْدُللّٰہ
کہے اور ایک گھونٹ پیے تو
اَلْحَمْدُللّٰہ کہے۔ (مسلم،زاد المعاد جلد2صفحہ25)
یعنی ہر ہر لقمہ پہ اگر کوئی
اَلْحَمْدُللّٰہ کہے اور اللہ کا زیادہ شکر ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ خوش ہوجاتے ہیں۔
شروع میں بسم اللہ بھول جائے تو کیا پڑھے؟
اب انسان کھانا کھا رہا ہے شروع میں بِسْمِ اللہ پڑھنا بھول گیا تو اب شیطان اس کے ساتھ شریک ہوگیا، اب کیا کرے؟ درمیان میںاگریاد آئے تو بِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ
پڑھ لے شیطان چلا جائے گا اور اسکی جوپہلے غلطی ہو گئی وہ ٹھیک ہوجائے گی۔
(ابوداؤد،ترمذی،حاکم جلد4صفحہ108،ابن سنی نمبر459)
کھانے کے بعد کی دعائیں:
جب کھانا کھالے تو بہت ساری دعائیںنبیu سے اس موقع پر مسنون کہی جاتی ہیں۔ ایک دعا جو مشہور ہے جو سب کو یاد بھی ہوتی ہے وہ دعا یہ ہے:
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ
تو ہر بات میں اللہ ربّ العزّت کی تعریف کرنا یہ نبیu کا طریقہ تھا۔ ایک اور دعا ہے۔ نبیu نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی کھانا کھا چکے تو یہ پڑھے:
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَ اَبْدِلْنَاخَیْرًا مِّنْہُ
’’اے اللہ! ہمیں اس میں برکت عطا فرما اور اس سے بہتر بدل عطا فرما‘‘۔
(کنز العمال جلد9صفحہ 174)
اب اس سے بہتر تو جنت کے کھانے ہی ہوسکتے ہیں۔ تو انسان جب یہاں کھانا کھائے یہ بھی مانگے کہ اللہ! دنیا میں بھی اس سے بہتراور بھی زیادہ عطا فرما اور اصل تو بہتری جنت میں ہوگی اللہ! وہاں بھی عطا فرما۔
ایک اور بہت ہی پیاری دعا ہے نبی uنے فرمایا: کھانا کھانے کے بعدجو شخص اس دعا کو پڑھے گا اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ کھانا بھی کھائیں، پیٹ بھی اپنا بھریں اور اس کے بعد یہ چھوٹے سے کلمات پڑھ لیں، فرمایا: اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ دعا تو بہت ہی آسان ہے:
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھٰذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرحَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ
’’تعریف اس پروردگار کی جس نے مجھے کھانا کھلایا اور مجھے رزق عطا فرمایابغیر میری قوت اور طاقت کے۔ (الدعاء نمبر 900)
جس نے کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھ لی اس کے اگلے پچھلے سارے ہی گناہ معاف ہو گئے ۔ انسان جب کھانا کھاتا ہے دستر خوان لگا ہوتا ہے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں تو پھر وہ وقت آتا ہے کہ جب دستر خوان اُٹھایا جاتا ہے تو وہاں سنت کیاہے کہ انسان خود بعد میں اُٹھے اور کھانا پہلے اُٹھنا شروع ہو جائے۔
مغفرت کروانے والا عمل:
حضرت انس بن مالک tفرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا کہ آدمی کے سامنے جب کھانا رکھا جاتا ہے تو اُٹھایا نہیں جاتا اور اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ پوچھا: اے اللہ کے نبی! کیسے؟ توآپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ جس وقت کھانا رکھا جارہا ہو اس وقت
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھے، اور جب کھانااٹھایا جارہا ہو اس وقت
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا
پڑھ لے۔ جو دستر خوان سے اُٹھنے سے پہلے پڑھنا ہے وہ الگ ہے اور ختم کرنے پہ جو
اَلْحَمْدُلِلّٰہ
پڑھنا ہے وہ الگ ہے۔ دسترخوان لگتے ہوئے انسان پڑھ لے:
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اور اٹھتے ہوئے پڑھ لے:
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کَثِیْرًا
تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی مغفرت فرمادیتے ہیں۔ دیکھیں چھوٹی چھوٹی سی باتیں ہیں اگر ہم اپنی زندگی میں لے آئیں تو ہمارے لیے آسانیاں ہوجائیں ۔
کوئی اور کھلائے تو کیا دعا پڑھے؟
پھر بعض دفعہ انسان کسی کے گھر مہمان بن کے کھاناکھانے جاتا ہے۔ اب مہمان کو بھی چاہیے کہ کھانا تو کھائے لیکن صاحب خانہ کو کچھ دعائیں بھی دے، ان میں سے دو دعائیں سن لیجئے۔ ایک دعا تو بہت مشہور بھی ہے اور آسان بھی ہے۔ حضرت مقداد t فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دعوت کے موقع پہ کہیں کھانا کھایا تو یہ دعا پڑھی:
اَللّٰھُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِیْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِیْ
’’اے اللہ! جس نے مجھے کھلایاآپ اسے کھلائیے جس نے مجھے پلایا آپ اُسے پلائیے‘‘۔
(مسلم جلد2صفحہ 184)
ایک مرتبہ نبیu سعد بن عبادہ tکے یہاں تشریف لے گئے اوروہاں آپ کو روٹی اور زیتون پیش کیاگیا، آپﷺ نے نوش فرمایا اوریہ دعا پڑھی:
اَفْطَرَ عِنْدَکُمُ الصَّائِمُوْنَ وَاَکَلَ طَعَامَکُمُ الْاَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَیْکُمُ الْمَلَائِکَۃ
(ابوداؤد)
اِس میں تین باتیں ہیں کہ روزہ دار تمھارے پاس افطار کریں، تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں اور فرشتے تم پر دعائے مغفرت کرتے رہیں ۔
کسی بیمار کے ساتھ کھانا کھائے تو کیا پڑھے؟
بعض دفعہ انسان کہیںجاتا ہے یا گھر میں کوئی ایسا مریض ہوتا ہے جس کا مرض دوسروں کو لگ سکتا ہے تو انسان اس کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے ڈر رہا ہوتا ہے کہ جی میں نے ان کے ساتھ کھانا کھایا تو میرے ساتھ بھی یہی کچھ ہو جائے گا، یاکچھ نرسیں ہوتی ہیں، انہوں نے ہوسپٹل میں کام کرنا ہوتا ہے اور چیزیں بھی دیکھنی ہیں ڈرتی ہیں کہ کیا کریں۔ دیکھیں نبی نے اس کے بارے میںبھی واضح رہنمائی فرمائی ہے۔ حضرت جابربن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک مجذوم کو اپنے ساتھ برتن میں شریک ِ طعام کیا اور یہ دعا پڑھی:
بِسْمِ اللہِ ثِقَۃً بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ
آسان ہے ۔
بِسْمِ اللہ تو سب کو یاد ہے صرف ایک لفظ ہے چھوٹا سا ثِقَۃً آگے پھر وہی:
ثِقَۃً بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ بِسْمِ اللہِ ثِقَۃً بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ
’’ اللہ عزّوجل پر بھروسہ کرتے ہوئے اللہ کے نام سے میں شروع کرتا ہو ں‘‘۔
(ابن ماجہ جلد 2نمبر3587)
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان کواسکا وہ مرض نہیں لگے گااورانسان کو اس کا نقصان نہیں پہنچے گا، لیکن اگر کبھی طبعًاایسی کراہت ہو اور انسان وہاں کھانا نہ کھائے تو اس کی گنجائش ہے اس کو شریعت نے منع نہیں فرمایا، لیکن اگر کہیںایسے انسان کر لے تو اس دعا کو پڑھ لے آسان ہے:
بِسْمِ اللہِ ثِقَۃً بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ
اور اگر انسان کہیں کھانا کھائے اور اس کو کوئی وہاں پر یا خود کھانے سے نقصان پہنچنے کا خطرہ یا خدشہ ہو تو یہ دعا پڑھ لے۔ وہ دعا کون سی ہے؟
خطرات ونقصان سے بچنے کی دعا:
حضرت انسtسے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم کھانا کھاؤ یا پانی پیو تو یہ دعا پڑھ لو تو تمہیں کوئی ضرر اور نقصان نہیں ہو گا اگرچہ اس میںزہر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ حرام کے لیے نہیں ہے کہ انسان سود کی کمائی یا حرام کی کمائی کھائے اور یہ پڑھ لے کہ نقصان نہیں ہو گا۔ بات حلال کی ہو رہی ہے کہ باقی نقصانات نہیں ہوں گے۔ کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں رشتے داروں کے گھر جاتے ہوئے ڈر لگتاہے، ایسی ہی ایک خاتون آئیں کہ جی بارہ سال ہو گئے ہیں کہ میں اپنے بھائی کے گھر میں نہیں گئی۔ ان کو ڈر ہوتا ہے کچھ کر دیں گے۔ ایک تو یہ وہم ہوتا ہے، ہوتا کچھ بھی نہیں لیکن بہر حال یہ ایک دعا بتائی کہ دیکھو جب تم کھانا کھاؤ یا پانی پیو تو یہ دعا پڑھ لو تو تمھیں کوئی نقصان نہیں ہو گا اگرچہ زہر کیوں نہ ہو، وہ دعا کیا ہے وہ بھی بہت آسان:
بِسْمِ اللہِ وَبِاللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْ ءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ
’’اللہ کے نام سے اس اللہ کے نام سے جس کے نام کی برکت سے زمیں و آسمان میں کوئی چیزہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی، اے زندہ رہنے والے! اے قائم رہنے والے‘‘۔
ایک ہی دفعہ پڑھنی ہے۔ (کنز العمال جلد19صفحہ 181)
دودھ پینے کی دعا:
دودھ کے بارے میں فرمایا کہ جسے اللہ تعالیٰ دودھ پلائے تو دودھ پینے والا یہ دعا کرے:
اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہُ
’’اے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت عطا فرما اور اس سے زیادہ عطا فرما‘‘۔
(ترمذی نمبر3455،ابن ماجہ)
نکتہ کی بات :
باقی چیزوں کے بارے میں جو دعا پہلے گزری وہاں فرمایا تھاکہ اے اللہ! اس میں برکت عطا فرمااور اس سے بہتر عطا فرما۔ دودھ کے بارے میں بہتر کا لفظ نہیں فرمایا زیادہ کا لفظ فرمایا۔ کل رات کو ایک جگہ کھانے پہ گیا کسی نے دعوت پہ بلایا ،ما شاء اللہ خوب کھانا کھایا ، تووہاں ان کے والد صاحب بتانے لگے کہ وہ کھاناکھانے کے بعد بھی چار سے ساڑھے چار لیٹر دودھ پی لیتے ہیں ، تو میں حیران ہوا اللہ اکبر۔ پھرمیرے سامنے وہ دودھ کا پیالہ لے آئے۔ اب ہم تو تھوڑا پینے والے تھے دو سوڈھائی سو گرام، ماشاء اللہ وہ جو پیالہ آیاوہ بھی میرا خیال ہے 3 پاؤ یعنی ساڑھے سات سو سےیادہ کا ہو گا تو میں تو اس پیالے کو دیکھ کے ڈر گیا۔ کہنے لگے: جی کوئی بات نہیںمیں تو چار لیٹر پیتا ہوں۔ پھر اگر کوئی پانی وغیرہ لایا ہے اور آپ پینا چاہتے ہیں لیکن اس میں کچھ تنکا وغیرہ ہے، اب کیا کریں۔
حضرت عمر کا عمل :
حضرت عمربن خطاب tفرماتے ہیں کہ آپﷺ نے پانی مانگا، میں پیالے میں پانی لے کر حاضر ہوا۔ اس میں مجھے بال معلوم ہوا میں نے بال نکال دیا، میرے بال نکالنے کے عمل کو دیکھ کر آپ ﷺنے مجھے یہ دعا دی:
اَللّٰھُمَّ جَمِّلْہُ (ابن سنی:477)
’’اے اللہ!اسے اچھا رکھیے! ‘‘
تو یہ دعا انسان پڑھ سکتا ہے اگر کوئی اس کے لیے خیر کا معاملہ کرے۔
الحمدللہ!  کھانے پینے کی کافی تفصیلات بیان ہوئیں، اب ایکover view یعنی کھانے کی سنت اور آداب پر ہم ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ اتنی تفصیلات جو ہم نے سنیں جو کئی گھنٹوں پر محیط ہیںتو اب ہمیںایک over viewبھی کر لینا چاہیے۔
کھانے کے آداب پر طائرانہ نظر:
امام غزالی hاور شاہ عبدالحق محدث دہلوی hاور دوسرے علماء حضرات نے مختلف آداب مختلف کتابوں میں نقل کیے ہیں یہ ان سب کا خلاصہ پیش کیا جارہا ہے۔ انفرادی طور پر سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کھاناکھانے میں ہماری نیت کیا ہونی چاہیے؟
عبادات واطاعت:
اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ (بخاری)
ہم کھانا کھانے میں نیت عبادت اور اطاعت کی کریں۔ لذتوں کی نہ کریں، ٹیسٹ Tasteکی نہ کریں کہ جی Tastyکھانا ہے۔ نیّت کو ہم دیکھیں کہ یہ کھانا عبادت کرنے کے لیے ہے کیونکہ انسان جب کھانا کھائے گا تو طاقت آئے گی تو ہی عبادت کرسکے گا۔ کچھ ایسے بھی ہیں ایک رات کھانا کھالیتے ہیں پھر 24,24گھنٹے نہیں کھاتے اور اپنے آپ کو بھوکا رکھتے ہیں اس کو بھی اللہ نے نہیں پسندفرمایا۔ تو انسان کھانا کھائے اچھا کھائے اور شکر ادا کرے اور اس نیت کے ساتھ کھانا کھائے کہ میں نے عبادت کرنی ہے، اطاعت کرنی ہے۔ جسم میں جان ہوگی، صحت ہوگی تو میں عبادت صحیح کر پاؤں گا۔ تواب Over view میں جو پہلی بات آئی کھانا کھانے میں عبادت اور اطاعت کی نیت کرناکہ جو مجھے طاقت ملے گی، میں نیکی پہ استعمال کروں گا۔
حلال اور پاک صاف:
کھانا حلال بھی ہو، پاک بھی ہو اور صاف بھی۔ کیونکہ اللہ نے حلال کھانے کا حکم دیا، اور کھانا کھانے سے پہلے انسان ہاتھ دھوئے اور کھانا کھانے کے بعد بھی ہاتھ دھوئے۔ اور ہاتھ کہاں تک دھوئے؟ دونوںگٹوں تک دھوئے۔ جب کھانا شروع کرنے لگے تو ہاتھ دھونے کے بعد پونچھے نہیں۔ کھانا کھانے کے بعد جب ہاتھ دھوئے تو پھر انسان پونچھ لے۔ اب کھانے کے لیے جب بیٹھنا ہے تو مسنون حالت پر بیٹھنے کی کوشش کرے۔ یعنی جس طرح التحیات میں بیٹھتے ہیں اس طرح بیٹھیں یا ایک پاؤں بچھالیں ایک کھڑا کرلیں دونوں میں سے کوئی بھی یا پھر اُکڑوں بیٹھ جائیں۔ یہ مسنون طریقہ ہے۔ البتہ چار زانوں جس طرح ہم آج کل بیٹھتے ہیں یہ خلاف سنت ہے گوکہ جائز ہے اس میں گناہ تو نہیں ہو گا لیکن سنت کا ثواب نہیں ملے گا۔ اور ایک اور ادب بھی بتایا کہ جس طرح سے انسان کھانا کھاناشروع کرے کوشش کرے اسی پوزیشن پہ بیٹھا رہے زیادہ پہلو نہ بدلے، لیکن یہ اپنی اپنی حالت کے اوپر Dependکرتا ہے۔ اور بار بار نشست بھی نہ بدلے کہ ابھی یہاں بیٹھے اور تھوڑی دیر بعد جگہ بدل کے وہاں بیٹھ گئے۔
اسی طرح کھانا کھاتے ہوئے نہ ٹیک لگائے، نہ تکیہ لگائے، نہ کمر کرسی کی پشت کے ساتھ لگائے۔ ویسے تو کرسی پر بیٹھ کر کھانا سنت تونہیں ہے لیکن اگر کہیں مجبوری میںکھانا پڑبھی گیا تواب کرسی کی پشت کے ساتھ ٹیک نہ لگائے۔ اور جب کھانا کھائے تو ذرا سا کھانے کی طرف جھک جائے، تواضع اور عاجزی اختیار کرے۔ اور دستر خوان بچھا کے اور زمین پر بیٹھ کر کھانا کھائے، اور بالکل پیٹ بھر کر کھانانہ کھائے، اور جو کھانا وقت پر میسر آجائے اُسی کو رغبت سے کھالے، اور صرف روٹی بھی اگر ہو تو صبر اور شکر کے ساتھ جو اللہ نے دیا ہے کھالے دال یا سالن کا انتظار نہ کرے۔ اور فرمایا کہ عمدہ اور لذیذ غذاؤں کے اہتمام میں نہ پڑیں ہاں مہمان کے لیے کرنا ہو تو یہ ایک الگ بات ہے، اپنے لیے عادتاً ہروقت عمدہ اور لذیذ کھانے کھانا یہ ناپسندیدہ بات ہے گو اللہ نے خوب دیا ہے لیکن ساری نعمتوں کو کھائے۔ کبھی پچھلے دن کاسالن بچا ہوا ہوتا ہے، کبھی کوئی چیز۔ ہر وقت ہی اپنی پسند کے کھانے والی عادت کو اختیار نہ کرے۔ جو گھر میں بن جائے شکر کرکے کھائے۔
نماز سے قبل کھانے سے فارغ ہوجائیں تاکہ اچھے انداز سے نماز پڑھ سکیں۔ ہم کیا کہتے ہیں کہ جلدی جلدی نماز پڑھ لو پھر تسلی سے کھانا کھائیں گے۔ نہیں، جلدی جلدی کھانا کھالو پھر تسلی سے عبادت کریں گے۔ کوشش کریں کہ کھانا اکیلے نہ کھائیں کسی کو شامل کرلیں۔ کھانے کی ابتدا نمکین اشیاء سے اگر ہوجائے تو اچھی بات ہے ۔نوالہ چھوٹا بھی لے اور صحیح چبائے بڑے بڑے نوالے نہیں لینے چاہئیں۔ یہ بچوں کو بھی سمجھانے کی ضرورت ہے اور ماؤں کی ڈیوٹی ہوتی ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کو شروع سے ہی سمجھائیں کہ چھوٹے نوالے لیں اور چبا چبا کے کھائیں۔ جب ماں کو سنت معلوم ہو گی اور اپنے بچے کو چھوٹی عمر سے بتائے گی اور اس کو چبا چبا کے کھانے کی عادت پڑ گئی تو سنت بھی پوری ہوگئی معدہ بھی ٹھیک رہے گا۔
اور کھانے کی برائی بیان نہ کرے۔ اب خاوند حضرات کو کھانا پسند نہ آئے تو صرف کھانے کی ہی برائی نہیںکرتے بلکہ بیوی کی بھی کردیتے ہیں اور بیوی کے میکے والوں کی بھی کردیتے ہیں۔ ساس سسر سب کو رگڑ دیتے ہیں یہ بہت بڑا گناہ ہے تو کھانے کی انسان برائی بیان نہ کرے۔ رغبت ہوتو کھائے پسند ہو تو کھائے، نا پسند ہو رغبت نہ ہو تو عیب بیان نہ کرے خاموشی سے چھوڑ دے۔ سنت سمجھ کے چھوڑے کیونکہ نبی uکو کوئی چیز اگر پسند نہ ہوتی تو خاموش ہو جاتے، کبھی آپ نے کھانے میںعیب نہیں نکالا، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ہماری ماں (امہات المؤ منین)نے کھاناپکایا ہو اور نبی uنے ان کو برا کہا ہو یا ان کے ماں باپ کو برا بھلا کہا ہویا اپنے سسرال والوں کو بیوی کے میکے والوں کو براکہا ہو نبیuنے ایساکبھی نہیں کیا۔
کھانا اپنے سامنے سے اور قریب سے کھائے۔ روٹی کے بارے میں فرمایا کہ روٹی اس طرح نہ کھائے کہ بیچ میں سے کھالے اورکنارہ چھوڑ دے صحیح انداز سے کھائے ۔ تیز گرم کھانا نہ کھائے۔ گرم کھانے میںپھونکیں بھی نہ مارے، ٹھہر جائے انتظار کرے کہ کھانااس قابل ہو جائے کہ انسان کھا سکے۔ تیز گرم کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اورکھانا کھانے میںاگر پھل یامیوہ پہلے آجائے تو اس سے شروع کردے، کیونکہ قران مجید میں سورہ واقعہ کے اندر جو جنت کے کھانوں کی ترتیب ہے اس میں سب سے پہلے
وَفَاکِھَۃٍ مِّمَّا یتَخَیَّرُوْنَ (الواقعہ:20)
پہلے پھل میوہ جات کا ذکر ہے:
وَلَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ (الواقعہ:21)
اس کے بعد لحم یعنی گوشت کا ذکر ہے۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ پھل یا میوہ یا کھجور اس قسم کی چیز کھائے تو کوشش کرے کہ طاق عدد کی رعایت کرلے ایک تین پانچ اسکی رعایت کرلے۔ اور کھانے میںمختلف چیزیں آ تی ہیں بعض چیزیں عمدہ ہوتی ہیں بعض چیزیں ذرا اس کی پسند سے مختلف ہوتی ہیں تو اس میں اجازت ہے کہ اپنی پسند کی عمدہ چیز پہلے کھالے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور کھجوراگر انسان کھا رہا ہے تو گٹھلیاں اسی جگہ نہ ڈالیں الگ برتن میں رکھیں۔ عام طور سے ہم نے دیکھاکہ بعض دفعہ عورتیں بھی کرلیتی ہیں کہ ایک ہی پلیٹ میں پھل لا کے رکھ دیا اور چھری ہاتھ میں پکڑ لی اسی میں ہی پھل کاٹ کے اور اسی میں ہی چھلکے رکھے جارہے ہوتے ہیں اور کھانے کے بعد گٹھلی وغیرہ بھی اسی میں ڈالی جا رہی ہے یہ ٹھیک نہیں۔ کچرے کے لیے الگ برتن ہو اور فروٹ کے لیے الگ برتن ہو۔ تو دویاتین برتن استعمال کرلیں اس میں نظافت بھی ہے سنت بھی ہے اور صحت بھی ہے۔ تو ہرہر سنت کے اندر صحت کا خیال رکھا گیاہے۔ اسی طرح جب کھجور کھائے تو سیدھے ہاتھ سے کھائے اور کھجور کی گٹھلی الٹے ہاتھ کی دو انگلیوں سبابہ اور وسطیٰ کے ساتھ پکڑ لے۔ (مسلم جلد2صفحہ180)
یعنی شہادت کی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی سے پکڑکے باہر نکال دے یہ سنّت ہے۔
اسی طرح انسان کھانا کھاتا ہے تو کھاناکھانے کے دوران اب ہڈی آرہی ہے، گوشت تو اس نے کھالیا ہڈی کو چوس کے واپس اپنی ہی پلیٹ میں سائڈ پہ ڈال دیا۔ مثلاً بریانی کھاتے جا رہے ہیںاور جو ہڈیاں ہیں وہ اپنی پلیٹ میں سائڈ پہ جمع کرتے چلے جا رہے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے، الگ پلیٹ میں رکھیں۔ اور کھانا کھا تے وقت بالکل خاموش اور ساقط نہ رہے بلکہ حسب ضرورت چھوٹی موٹی گفتگو کرتا رہے۔ اور اگر مہمان آیا ہے تو میزبان کو چاہیے کہ مہمان کے ساتھ تھوڑی بہت گفتگو کرے کیونکہ جب وہ گفتگو کرے گا تو مہما ن کی وحشت ختم ہوجائے گی،Franknessبڑھ جائے گی، بے تکلف ہوکر تسلّی سے زیادہ کھانا کھا سکے گا تو بالکل خاموش ہو کے نہ بیٹھے۔ روٹی کے اوپر سالن کا برتن نہ رکھے۔ روٹی کے اوپر سالن اگر رکھ لیتا ہے یا دال ڈال دیتا ہے تو وہ اور بات ہے برتن نہ رکھے۔ اور روٹیوں سے انگلیوں کا سالن صاف نہ کرے کہ کھانا کھا لیا اور انگلیوں کے اندر سالن لگا ہوا ہے تو اب اسے اب روٹی سے صاف کر رہاہے دستر خوان سے صاف کررہا ہے یہ ٹھیک نہیں ہے، انگلیوں کو چاٹ لے ۔
پانی پینے لگے تو دائیں ہاتھ سے پیے۔ اگر کھانا کھاتے ہوئے گلاس پکڑنا ہے تواب کچھ لوگ کیا کرتے ہیںالٹے ہاتھ سے گلاس پکڑلیتے ہیں اور سیدھے ہاتھ کی ٹیک دے دیتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اصل طریقہ یہ ہے کہ پہلے انگلیوں کو چاٹ لیں اور اس کے بعد سیدھے ہاتھ سے ہی گلاس پکڑ ے اور پھر پانی پیے ۔اُلٹے ہاتھ سے پکڑ لینا اور سیدھے ہاتھ سے ٹیک دے دینا یہ ہمارا عام رواج ہے اور یہ خلافِ سنت ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔ پانی جب بھی پیے ٹھہرٹھہر کے پیے ، چوس چوس کہ پیے، تین سانس میں پیے ، پانی پینے سے قبل ذرا سا دیکھ لے اس کے اندر کوئی تنکا وغیرہ تو نہیں۔ اور کھانے سے جب فارغ ہوجائے تو انگلیاں چاٹ لے۔ انگلیاں چاٹنے کی ترتیب بھی لکھی پہلے بیچ کی انگلی، پھر شہادت کی انگلی پھر انگوٹھا یہ سنت ہے۔ توتین انگلیوں سے کھانا کھانا زیادہ بہتر ہے، اگرچار سے کھائے پانچ سے کھا ئے تو ان کو بھی بعد میں چاٹ لے ، یعنی پہلے درمیان کی اسکے بعد شہادت کی تیسرے نمبر پہ انگوٹھا چوتھے نمبر پر پھران دو اُنگلیوں سے چاٹ لے اگر استعمال کی ہیں۔
کھانا کھانے کے بعد خلال کرے، جب انسان کھانا کھاتا ہے تو کچھ چیزیں، ذرّے، اجزا منہ میں بچ جاتے ہیں، رہ جاتے ہیں۔ اگر انسان دانتوں کو زبان کی مدد سے صاف کرتا ہے اور اندر ہی اندر اس کے مونھ میں کوئی ٹکڑا آ جاتا ہے تو وہ کھا سکتا ہے اور اسکو کھا بھی لینا چاہیے، لیکن اگراس نے خلال سے نکالا انگلی سے نکالا اس کو نہیں کھانا چاہیے، بلکہ باہر پھینک دے، لیکن کھانا کھانے کے بعدجو ریزے دستر خوان پر پڑے رہ جاتے ہیں ان کو اٹھا کر چن چن کے کھالے۔ اور جب خلال کرے تو خلال کرنے کے بعد کلی بھی کرے۔ اوردستر خوان کی ہڈیاں وغیرہ راستے یا ایسی جگہ نہ ڈالیں کہ کسی کو تکلیف ہو، کوشش اور ہمت کرکے ایسی جگہ ڈالیں جہاں جانور وغیرہ کھالیں۔ الحمدللہ! ہمارے گھروںمیں یہ رواج ہے کہ دستر خوان جب لگتا ہے تو نیچے چادر بچھائی جاتی ہے اس چادر کے بورے اور دستر خوان کو کسی کیاری میں کسی ایسی ہی جگہ جھاڑ لیا جاتا ہے۔ اور یہ جو چھوٹے چھوٹے ذرے ہوتے ہیں اور نظر بھی نہیں آتے وہ بھی چیونٹیاں اور اس قسم کی چیزیں کھالیتی ہیں۔ اور بعض گھروں میں یہ اہتمام ہوتا ہے کہ وہ ہڈیاں وغیرہ بھی ایک جگہ ڈال دیتے ہیں تو کوئی بلی یا کوئی اور چیز آکر کھالیتی ہے، توانسان اپنی طرف سے کوشش کرے جتنی وہ کر سکتا ہے۔
اور دستر خوان جب لگا ہوا ہو تو بہتر اور سنت یہ ہے کہ دستر خوان پہلے اُٹھائے، انسان بعد میں اٹھے ۔دوپہرکو جب انسان کھانا کھائے تو قیلولہ کرلے فرمایا، کہ شیطان قیلولہ نہیں کرتادوپہر کو انسان کھانا کھائے تو قیلولہ کر لے۔جب رات کا کھانا کھائے تورات کا کھانا کھانے کے فوراً بعدلیٹنا بھی ٹھیک نہیں، چہل قدمی کرلے، تھوڑا سا چل لے۔ اور کھانے سے جب فارغ ہو جائے تو کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی نہ پیے۔ اور پانی نہ کھڑے ہو کر پیے، نہ لیٹ کر پیے۔ اور دعاؤں کا اہتمام کرے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے ہمیں ان تمام سنتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور حضور پاکﷺ کی ایک ایک سنت کو شوق اور محبت سے عمل میں لانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے اس گلدستۂ سنت کو بھی اللہ پاک اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیں اور محبت رسولﷺ ہمیں عطا فرمادیں، تاکہ قیامت کے دن جو نبیu نے ارشاد فرمایا کہ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنت میں ہوگا اللہ تعالیٰ یہ نعمت ہمیں عطا فرمائے اور جنت میں نبی کریمﷺ کا ساتھ اور پڑوس نصیب فرمائے ہر چیز کی کوئی دلیل ہوتی ہے محبت رسولﷺ کی دلیل اتباع رسولﷺ ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں